Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 88
No Download Link
Rate this Novel
Episode 88
چند لمحوں کے سکوت کے بعد ساحل نے اُسے دھیرے سے خود سے جدا کرنا چاہا لیکن وہ پیچھے سے اُس کی شرٹ کو سختی سے دبوچ گئی جس کر مطلب تھا وہ اُس سے الگ نہیں ہونا چاہتی۔۔
اُس کی بے باک نظروں کے لمس سے بچنے کے لیے اُسی کے سینے میں چھپنے کے علاوہ اُسے اور کوئی راستہ نہیں سوجھا۔۔۔۔تو وہ اس پر اپنی گرفت سخت کرتی گئی۔۔۔
لیکن اُسے کرنٹ لگا جب ساحل نے اُس کے شولڈر سے شرٹ ہٹا کر وہاں اپنا گال رب کیا۔۔۔
اُس کے شیو کی چبھن کندھے پر محسوس کرکے وہ پوری جان سے کانپ گئی اور گھبرا کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔
بوکھلائے انداز میں اپنی شرٹ درست کرنے کو ہاتھ بڑھایا تو وہ درمیان میں ہی تھام کر اُسے روک گیا۔۔۔۔
اس کی سہمی سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُس کے ہاتھ کو اپنے چہرے کے قریب کرکے ہتھیلی کو لبوں سے چھوا تو وہ مُٹھی بند کرگئی۔۔۔۔
پلکیں جھپک کر نظریں نیچے کی اور لب کھول کر منہ سے سانس لی۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ لبوں سے ہٹا کر اپنے دل کے مقام پر رکھتا اُس کے شولڈر پر جھکا اور جب اپنے لب اُس کے کندھے سے مس کیے تو بھی نظریں نین کے چہرے پر تھی جیسے وہ اپنے ہر لمس سے اُس کے اندر منتقل ہوتے احساس کو اپنی نظروں سے دیکھ کر ذہن میں حفظ کرنا چاہتا ہو۔۔۔
جیسے خوبصورتی میں گھلتے حیاء کے رنگوں کو آنکھوں کے راستے دل میں اُتار لینا چاہتا ہو۔۔۔
وہ اُس کے سینے پر رکھا ہاتھ سخت کر گئی تو ساحل کی دھڑکنیں اُس کی کلائی کی نبض پر محسوس ہونے لگی۔۔۔۔
ساحل کے لبوں نے آہستہ شولڈر سے بازو تک سفر کیا اور بازو سے واپس کندھے تک آئے ۔۔
وہ اُس کے جان لیوا انداز پر دوسرا ہاتھ بھی اُس کے کندھے پر رکھ کر اُسے تھام گئی ۔۔۔
نظریں زمین سے لگی ہوئے تھی۔۔۔۔
دھڑکنیں حد سے باہر ہو رہی تھی,۔۔
بنا رکے وہ آنکھیں بند کرتا اُس کی خوشبو اور نرمی کو خود میں محسوس کرتا کالر بون کوچھو رہا تھا اور اُس کے گھنے بال نین کی ٹھوڑی پر سرسرا رہے تھے جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔۔اور بند دروازے کو دیکھنے لگی,جیسے وہ کوئی چوری کرتی پکڑے جانے والی ہو۔۔۔۔۔اور بھاگنے کا کوئی راستہ نہ سوجھ رہا ہو
وہ اُس کی حیرت اور پریشانی اُس کی آنکھوں میں محسوس کرتا زیرِ لب مسکرایا تو دونوں ڈمپل ہلکے سے واضح ہوئے۔۔۔ کیوں کے وہ نین تارا تھی جو اپنی حرکتوں سے لوگوں کو تارے دکھا دیتی تھی۔۔۔
لیکن اس وقت خوف و گھبراہٹ سے اڑا چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کے اُس کے حواسوں میں تارے جگمگا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
نین۔۔۔۔۔۔۔
دستک کے بعد چند پل خاموش گزرنے پر شیرین کے پکارنے کی آواز آئی۔۔۔
وہ جواب دینے ہی والی تھی کے ساحل نے اُس کے لبوں پر دھیرے سے اُنگلی رکھ کر اُسے بولنے سے روکا ۔۔
اُس نے سانس روک کر آنکھیں مزید پھیلائے اُسے دیکھا تو وہ سر کو ہلکے سے نفی میں جنبش دے کر اُسے جواب دینے سے منع کر گیا۔۔۔
نین کیا کر رہی ہو دروازہ کھولو نا جلدی۔۔۔۔مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے
وہاں جواب نا ملنے پر شیرین کی آواز تیز ہوئی تھی۔۔۔
دادی نے صبح سے دونوں کو یہ کہہ کر لٹکایا ہوا تھا کے نین کے آنے کے بعد اُنہیں سرپرائز دیں گی ۔۔۔
اور تب سے ہی وہ دونوں اُس کے انتظار میں بے حال ہو رہی تھی کے کب وہ آئے اور کب سرپرائز ملے۔۔۔
لیکن جب وہ آئی تب دونوں اپنے کمرے میں تھیں اور اب ملازموں سے معلوم ہوتے ہی شرین اُسے بلانے دوڑی چلی آئی تھی۔۔۔
شیرین کی آواز پر وہ محض نظریں موڈ کر دروازے کو دیکھنے لگی جو اندر سے لاک تھا ۔۔۔اور وہ کب اور کیسے لاک ہوا اُسے سمجھ نہیں آیا۔۔۔
وہ دوبارہ اُس کی طرف دیکھ اُس کے بدلے بدلے تیوروں سے اُس کے ارادوں کا اندازا لگاتی اپنے دل کی دھڑکنیں مدھم اور گلا خشک محسوس کرنے لگی۔۔۔
اچانک سے اُس کا یہ رویہ نا قابلِ قبول تھا اور وہ نارمل رہنے کی لاکھ کوشش کے باوجود ہمت نہیں جٹا پا رہی تھی کے اپنی گھبراہٹ کو ہی کنٹرول کر لے۔۔۔۔
دماغ میں خیال آیا کہ ابھی وہاں سے بھاگ کر دروازہ کھول دے یا اُس کی بات نہ مان کے جواب ہی دے دے لیکن وہ اُس کے تپش دیتے جزباتوں کی حرارت میں سلگتے اپنے دل کی پر زور مذمت پر یہ بھی نہ کرسکی۔۔۔۔۔
یہ دروازہ کیوں نہیں کھول رہی ہے۔۔۔کہیں اُس چندا کی بچی نے مجھ سے جھوٹ تو نہیں بولا۔۔۔۔
لیکن دروازہ تو اندر سے لاک ہے۔۔۔۔
شاید نیند لگ گئی ہوگی۔۔۔
یہاں ہم سرپرائز کے لیے مر رہے ہیں اور یہ میڈم سکون سے سو رہی ہے
روم کی گہری خاموشی میں شیرین کی مدھم بڑبڑا ہٹ بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ بے بس کھڑی اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔کے وہ شاید کچھ کہے۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے لبوں پر اُنگلی کو آہستہ سے حرکت دی تو اُس کی گھنی پلکیں لرز کر جھکی۔۔
وہ ہاتھ لبوں سے ہٹا کر آگے سے اُس کی کمر کو چھوتے بالوں کو مُٹھی میں بھر کر اپنے چہرے کے قریب کرتا ایک گہره سانس بھر کر اُنہیں لبوں سے لگا گیا ۔۔۔
اب بھی نظروں سے اُس کے چہرے کو پڑھتے ہوئے کے کیسے بنا محسوس کیے بھی وہ اُس کے عمل پر دھڑکتے دل کے زیرِ اثر لب بھینچ گئی تھی۔۔۔
سانس روک گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بالوں کو مُٹھی سے آزاد کرکے دونوں ہاتھوں سے اُس کی کمر کو تھامے اُسے دھیرے سے اپنے قریب کر گیا اور پیشانی اُس کی پیشانی سے لگائی۔۔۔۔
نین کی نظریں اُس کے بند لبوں پر تھی۔۔۔دل سمٹ گیا تھا ۔۔۔۔
پیشانی سلگنے لگی تھی
اُس کی گرم سانسیں نین کے سرد چہرے کو دہکانے لگی تھی۔۔
دروازے پر پھر سے دستک ہوئی لیکن اُس پرسوز لمحے کو چھو کر بنا اثر کیے گزر گئی ۔۔۔
وہ اتنے قریب سے اُس کی پلکوں کو اپنی نگاہوں میں بھڑکتے جذبات کے الاؤ کی آنچ سے جلا رہا تھا۔۔۔۔
اور وہی آنچ اُس کے اندر بھی اثر کر رہی تھی۔۔۔۔گلا خشک ہو رہا تھا۔۔۔۔
سانسیں جل رہی تھی ۔۔۔۔۔
دھڑکنیں تنگ پڑ رہی تھی۔۔۔
اُس نے بنا دوری بنائے نین کو بازؤں میں لیا تو پیشانی بس ایک لمحے کو جدا ہو کر بالوں سے لگی ۔۔۔
اور سانسیں کان پر چبھی۔۔۔۔
اُس نے قدم دھیرے سے آگے بڑھائے اور نین کا دل پوری قوت سے دھڑکا۔۔۔
اُس نے خود میں سمٹ جانے کی کوشش میں پیروں کی اُنگلیاں تک آپس میں بھینچ لی۔۔۔۔
ساحل نے اُسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے بھی پیشانی اُس سے جدا نہیں کی بلکہ اُس کے اتنے ہی قریب جھکا رہا کے نین کی لیے سننے کو بس اُس کی سانسوں کی آواز اور محسوس کرنے کے لیے بس اُس کے جذبات کی تپش بچی رہ گئی
باہر سے آتی آوازیں۔۔۔دروازے پر دستک۔۔۔۔۔ہوا کی سرسراہٹ۔۔۔۔۔سب کچھ سانسوں کی سرگوشی میں مدمل ہو کر بے معنی ہوگئیں۔۔۔
وہ دھڑکنیں روکے۔۔۔۔سانسوں کو سمیٹے ۔۔۔۔مٹھیوں کو بھینچے۔۔۔۔اپنی سب حسوں کو جکڑے اس اِنتظار میں تھی کے کب وہ دور ہو کر اُسے سنبھلنے کا ایک موقع دے ۔۔
لیکن وہ دور ہونے کے بجائے مزید قریب ہوا۔۔۔۔ ہاتھ اُس کے قریب بیڈ پر رکھ کر اُس کی راہیں روکے چہرہ بالوں سے لگایا۔۔۔
لب بالوں کو چھو کر اُن کی نمی کو خود میں جذب کرنے لگے۔۔۔۔
سانسیں گردن پر سرسراتی بدن میں سنسنی بھرنے لگی۔۔۔۔
نین نے آنکھوں کو سختی سے میچا۔۔۔۔۔ انگ انگ دل بن کر دھڑکنے لگا۔۔
سانسیں تیز ہونے لگی۔۔۔
اُس نے سر پیچھے کرکے بے خود بے سود۔۔بہکی نظروں سے نین کے چہرے کو دیکھا اور ہلکے سے اُنگلیاں اُس کے ایک ایک نقش کو چھونے لگی۔۔۔۔
اُس کی سانسیں سینے میں اُلجھنے لگی۔۔۔۔اُس کی اُنگلیوں کا لمس ایسا تھا جیسے چہرے کو جلتے ستاروں نے چھوا ہو۔۔۔۔۔
گالوں سے گزرتی اُنگلیاں گلے پر آکر بار بار اُبھر کر مٹتی رگوں کو چھو کر خون کی رفتار سست کرنے لگی۔۔۔
وہ اُس کی نم پیشانی پر پڑتی سلوٹوں کو دیکھتا۔۔اُس کے گلے پر جھکا
اُس کے لبوں کے ساتھ سلکی بالوں کی گلے اور گردن پر سرسراہٹ نین کے لیے نا قابل برداشت تھی۔۔
وہ اُس کا بازو تھام کر چند پل اُس کے پر شدت عمل کو سہتی رہی لیکن جب اُس کی بیباکی میں اضافہ ہوا۔۔۔لبوں کی حرکت بھٹکنے لگی تو تیزی سے رخ موڈ کر کروٹ بدل لی۔۔۔۔
دل پر ہاتھ رکھ کر سانسیں لیتے ہوئے پیر سمیٹ کر آپس میں رگڑے۔۔
ذہن پوری طرح الرٹ تھا۔۔۔دل سمٹا ہوا تھا کے جانے اگلا عمل کیا ہوگا۔۔۔۔
جب کے یہ طلسماتی لمحے اپنے زور سے ساحل کی بنائی ہر حد ۔۔ہر دیوار۔۔۔ہر ارادہ توڑ کر اُسے بے خودی میں ڈبو چکے تھے۔۔
ہار ماننے پر مجبور کر چکے تھے۔۔۔
I gave up۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے کان اور گردن سے بال ہٹاتے ہوئے بھیگی سی سرگوشی کی تو لبوں نے کان کو لو کو چھوا۔۔
وہ سمجھ نہیں پائی کے وہ کس چیز سے ہار ماننے کی بات کر رہا ہے لیکن اُس کی دل سوز مدھم آواز اور سانسوں کی یک جا سرگوشی نے اُس کی رگوں میں خون کی گردش تیز کردی
۔۔۔
ساحل نے ہاتھ سے اُس کے چہرے کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔
نین نے اتنے عرصے میں پہلی دفعہ اُسے دیکھا اُس کی سوز نہاں آنکھوں میں اپنا عکس اور بے پناہ چاہت بھی اُسے اس لمحے کسی آگ کے جھونکے جیسے لگے جس کی لپٹیں دل کو جلا رہی تھیں۔۔۔
نظریں کبھی کبھی اُس مقام کو چھو لیتی ہی جہاں ہاتھوں کا چھونا ممکن نہیں ہوتا اور اس لمحے نین کو محسوس ہوا جیسے اُس کی آنکھوں کو یہ فن آتا ہے کے وہ اپنے زور سے کسی کی روح کو چھو لے۔۔۔۔۔
آنکھوں میں کسی کو جذب کرکے خود کو اور ساری دنیا کو بھول جانے پر مجبور کردے۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں سے آنکھیں کے راستے کسی کی رگ رگ میں اُتر جائے۔۔۔۔۔
اُس کے ادھورے اظہار کے بعد جو کسر رہ گئی تھی اُس کی آنکھیں دل کھول کر سب واضح کر چکی تھی ۔۔۔۔
بہت سی باتوں کے ساتھ اس لمحے ایک اور حقیقت اُس پر واضح ہوئی تھی کے وہ بلکل بھی بہادر نہیں ہے۔۔۔
ورنہ اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا کے وہ کسی لمحے میں آکر اس طرح بے سود ہوجائے گی کے ایک لفظ بولنے کی بھی ہمت نا ہوگی
آنکھوں کا آنکھوں کو چھونا سوہان روح تھا پر پُر سکون تھا۔۔پُر جذب تھا۔۔۔فضا بدل گئی تھی۔۔۔وقت ٹہر گیا تھا۔۔۔ ۔۔اُس کی اُنگلیاں بالوں میں اُلجھ کر سخت ہوئی تو نین کی پلکوں پر بوجھ بڑھنے لگا ۔۔۔۔
ساحل نے خشک گلے کو تر کرتے ہوئے اُس کے بازو پھر شولڈر اور پھر جھکی پلکوں کو لبوں سے چھوا۔۔۔۔۔۔۔۔
پلکیں بوجھل ہوئی۔۔۔ مُٹھی اپنے دل پر مضبوط ہونے لگی۔۔۔
جب اُس کی تیز سانسیں اور مدھوش نظریں اپنے لبوں پر محسوس کرکے اُسے آنکھیں بند کرکے جھکتے دیکھا تو وہ چند لمحوں پہلے کی شدت یاد کرکے گھبرا کر اُس کے لبوں پر اُنگلیاں رکھے اُسے روک گئی۔۔۔۔۔
لیکن یہ کوشش بھی اُس کے لیے بڑی خطرناک ثابت ہو رہی تھی کیوں کے اُس کے لبوں کا لمس اور دہکتی سانسوں سے اُنگلیاں بےجان ہو کر لرز رہی تھی۔۔۔
جب کے وہ اُس کے روکنے پر آنکھیں کھول کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
نین اُس کے آنکھیں کھولنے پر جھجھکتے ہوئے سر دھیرے سے نفی میں ہلا گئی تو اُس کی آنکھیں سنجیدہ ہوئی۔۔۔
لب آپس میں جڑے۔۔۔۔۔
بالوں میں اُنگلیاں ڈھیلی پڑی۔۔۔
اُس کے بدلتے تاثرات پر وہ گھبرائی کے شاید وہ اُس کے روکنے پر برا مان کر ناراض نا ہو جاے۔۔
دل زوروں سے دھڑک کر اپنی غلطی کا احساس دلانے لگا۔۔۔
بھلے وہ اس لمحے کی شدت سے بچنا چاہتی تھی لیکن اُس پر یہ ثابت کرکے ہرگز نہیں کے وہ اُسے قریب آنے نہیں دینا چاہتی۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو سنجیدگی سے دیکھ کر اُس کی سوچ کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے پیچھے ہونے لگا تو وہ ہڑبڑا کر اُس کی شرٹ تھام کر اُسے پیچھے ہونے سے روک گئی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بس تھوڑا فاصلے پر ہوا تھا۔۔۔۔اُس کی اچانک حرکت پر نظریں نیچے کرکے اُس کے شرٹ پکڑے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اُس کے چہرے کو
وہ اُس کی شرٹ کو یونہی جکڑے اُس کے دیکھنے پر آنکھیں بند کرگئی ۔۔۔
اور اس کا یہ چھوٹا سا عمل اُس کی خود سپردگی کو ظاہر کرتا ساحل کو مسکرانے پر مجبور کرگیا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بند آنکھوں کو دیکھتا ہاتھ کو اپنی شرٹ سے ہٹا کر ہاتھ میں لیے اُنگلیوں کو آپس میں الجھائے اُس کے سر کے قریب رکھتا اُس کے لبوں پر جھکا تو نین اُس کی اُنگلیاں اُس کے ہاتھ کو سختی جکڑ گئی۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
گہری مسلسل خاموشی میں مسیج کے وائبھریشن کی ہلکی سی ہلچل بھی واضح تھی۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں کھولیں اور سر بیڈ کراؤن سے ہٹا کر سیدھا ہوا۔۔۔۔۔بنا ہاتھ میں لیے ہی موبائل کی سکرین پر ایک نظر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ سات گھنٹے بے حد تیزی سے گزر کر اپنے اختمام پر ہے۔۔۔۔
سرد آہ لبوں سے آزاد کیے اپنے سینے پر رکھے نین کے سر کو دیکھا اور بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے اُسے اپنی طرف متوجہ کیا تو نین نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔
میں جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گرد بندھے ہاتھ کی گرفت کمر پر سخت کرتے ہوئے کان کی لو کو چھیڑتا اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا
جانا ضروری ہے۔۔۔۔
نین اُس کی کان پر حرکت کرتی اُنگلیوں کے لمس سے پگھلتی دھیرے سے بولی ایک طویل خاموشی کے بعد لب کھلے تھے
جواب میں ساحل نے بس سر کو ہلکی سی جنبش دی
اور اگر میں پھر ناراض ہو جاؤں تو۔۔
وہ اُس کے ماتھے پر بکھر کے چہرے کو مزید دلکش بناتے بالوں کو دیکھتی معصومیت سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
تو میں تمہیں منانے میں جو کسر رہ گئی ہے اُسے پوری کرنے کی ایک اور کوشش کروں گا۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں اور لبوں کو شوخ نگاہوں سے چھوتا بے حد سنجیدگی سے بولا تو وہ ہڑبڑا کر پلکیں جھکاتی اُس کا ہاتھ۔ اپنے کان کے قریب سے ہٹا گئی۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔ میں ناراض نہیں ہوں بس تم مجھے بتا کر جاؤ کے کہاں جا رہے ہو اور پورا ٹائم مجھ سے ٹچ میں رہنا۔۔۔۔
وہ اپنی غلطی سدھار کے جلدی سے بولتی اُس سے دور ہونے لگی تو ساحل نے اُس کے گرد بازو تنگ کرکے اُسے روکا۔۔۔
اور ایسا کیوں۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کے رنگوں کو نظروں سے حفظ کرتے ہوئے بے ارادا پوچھنے لگا
اگر تم نے مجھے چیٹ کیا۔۔۔۔۔واپس نہیں آئے تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولی تو ساحل کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔
تو سمجھنا میں مر گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک پل کو خاموش اُسے دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
کیوں کے وہ خود نہیں جانتا تھا کے اُس کے راستے کتنے مشکل ہوگے اور اُسے واپس لوٹنے کا موقع بھی ملےگا یا نہیں۔ ۔۔۔
لیکن اپنی بے مطلب سی بات پر اُس کا ایسا جواب سن کر نین نے گھبرا کے اُس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا
Are you made۔ ۔ ۔۔۔
اُسے غصے ناراضگی اور حیرت سے دیکھتی ہوئی بولی تو اُس کی آنکھیں مسکرائی اور لبوں نے نین کی ہتھیلی پر حرکت کی تو وہ ہاتھ پیچھے کر گئی۔۔۔
دور جاتے وقت ایسی بات نہیں کرتے۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے خفگی سے بولی۔۔حالانکہ اُسے ہمیشہ ہر بات پر رُعب اور حکم کی عادت تھی۔ ۔لیکن فلهال جیسے وہ بلکل بدل گئی تھی۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔
وہ بے خود سا اُس کے نازک لبوں کو دیکھتا بے مقصد پوچھنے لگا۔۔۔اُنگلیاں اُس کے بازو کو چھونے لگی
پیچھے رہنے والوں کا دل بے سکون رہتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بازو پر اُس کی اُنگلیوں کی حرکت محسوس کرکے سانس روک کر اُنہیں دور ہٹاتے ہوئے بولی
اگر تمہارا دل کبھی بے سکون ہوجائے تو خود کو آئینے میں دیکھ لینا۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ کو تھام کو لبوں سے لگاتے ہوئے بولا
اور اُس سے کیا ہوگا۔۔۔
نین نے اُس کو طرف دیکھا تو اُس نے دوبارہ سے اُس کا ہاتھ لبوں کے قریب کیا۔۔۔
جیسے مجھے ساری دنیا بھول جاتی ہے ویسے تمہیں بھی ہر بے سکونی بھول جائے گی۔۔۔۔
وہ دھیرے سے جواب دیتا اُس کے ہاتھ کو اپنے لبوں پر رب کرنے لگا تو وہ تیزی سے ہاتھ کھینچ گئی۔۔۔
نظریں جھکا کر بلیک شرٹ سے جھلکتے مضبوط سینے پر جما دی
تمہیں جانا ہے نہ۔۔۔۔۔۔
اُس کی بدلتی نظروں اور انداز پر اپنی بڑھتی دھڑکنوں کو محسوس کر کے وہ اُسے بہکنے سے بعض رکھنے لگی تو ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھ کر پیشانی اُس کی پیشانی سے لگا کر آنکھیں بند کی۔۔۔
کتنے ہی بے خبر لمحے اُس احساسِ دروں میں پگھلتے گئے جب فون پر پھر میسیج ٹیون بجی تو وہ پیچھے ہوا۔۔۔۔
اُس کی پیشانی کو لبوں سے چھو کر اُس سے دور ہوتا بیڈ سے اترتے ہوئے فون اٹھا کے میسیج ٹائپ کرنے لگا۔۔۔۔۔
اور نین خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی اُس کے دل و دماغ میں کوئی فکر و پریشانی نہیں تھی کیوں کے یہ دوری کا عرصہ کتنا طویل ہونا تھا وہ اُس کے اندازے سے بھی انجان تھی۔
