Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 59

Episode 59
وہ بنا شرٹ کے چھت پر بچھی یوگا میٹ پر سیدھا لیٹے دونوں ہاتھ آپس میں جوڑ کر سر کے نیچے رکھے بے دھیانی سے سٹ اپس کرتے ہوئے مسلسل نین کو سوچ رہا تھا۔ اپنی سوچوں میں اُلجھا۔۔۔۔۔
الجھنوں سے گھرا ۔۔ اپنی بے بسی سے سخت پریشان۔۔۔۔
اپنی ایکسرسائز پر بھی اُس کا بلکل دھیان نہیں تھا زمین سے سر اٹھا کرگھٹنوں تک آنے کے بعد وہ اچانک رک گیا ۔۔۔اور ہاتھ سر سے ہٹا کر زمین پر ٹیکے یونہی بیٹھے بیٹھے سامنے دیکھنے لگا
ہو کیا گیا ہے مجھے اتنا چائلڈش کیوں بی ہیو کر رہا ہوں۔۔کیوں خود پر کنٹرول کھو رہا ہے میرا۔۔وہ اپنی بےبسی پر جھنجھلا کر بڑبڑایا
چند دن ہی تو ہوئے ہے اس کے ساتھ رہتے پھر چھوڑنے میں اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔کیوں ایسا۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کو محسوس کرکے کہتا رک گیا اور پیر آگے کرتے ہوئے
خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔خاموش نظروں سے سامنے دیکھنے لگا ۔۔۔۔تصور میں بس نین تھی۔۔۔۔
بہُت خوبصورت ہے۔۔۔۔ ساتھ رہتی ہے۔۔۔نکاح۔میں ہے بس اس لیےدماغ لگ گیا اس کی طرف۔۔۔اس سے زیادہ نہیں ہے کچھ۔۔۔۔۔۔۔فالتو سوچ رہا ہوں میں۔۔۔۔
اور کروں گا بھی کیا دل کی مان کر۔۔۔۔اپنے ساتھ اُس کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دوں گا
اُس نے گہرا سانس بھر کے ہاتھ بالوں میں پھنسائے خود کو تسلی دی۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھا اور بینچ پر پڑی
ٹی شرٹ اٹھا کے پہنتے ہوئے روم میں آیا۔۔
نین ابھی سو کر اٹھی تھی ۔۔۔
ہاتھ انگڑائی لینے اوپر اٹھے تھے
اُسے دیکھ کر آہستہ سے نیچے کیے ۔۔
وہ ٹی شرٹ کو سینے سے نیچے
کھینچتے ہوئے نین کو اگنور کرکے
آگے بڑھا ۔۔۔۔جو نین کو بے حد
محسوس ہوا۔۔۔
Good morning۔۔۔۔
اُس سے اپنا یوں نظر انداز کیے جانا
برداشت نہیں ہوا تو بھاری دل کے
ساتھ لبوں کو پھیلائے خود ہی
اُسے متوجہ کیا۔۔۔۔
ساحل نے اپنے کپڑے نکالتے ہوئے
ایک نظر آئینے۔میں اُسے دیکھا۔
اور نظریں پھیریں۔۔اپنی کل کی
بے اختیاری اُسے نین سے نظریں
نہیں ملانے دے رہی تھی۔۔۔
جس طرح وہ اُن لمحوں میں
بہک رہا تھا یقیناً نین نے بھی
محسوس کیا تھا
کیا سوچا پھر تو نے۔۔۔۔۔۔
اُسے جواب دینے کی بجائے
مصروف سے انداز میں سنجیدگی
سے پوچھا
کِس بارے میں۔۔۔۔۔۔
نین نا سمجھی سے پوچھتی بیڈ
سے اُتر کر اُس کی طرف آئی
واپس جانے کے بارے میں۔۔۔۔۔
کب کی ٹکٹ بک کروں۔۔
وہ وارڈ روب میں لگی شرٹیں
آگے پیچھے کرتے ہوئے نہایت
اطمنان سے بولا۔۔
نین کا اپنے بال ٹھیک کرتا ہاتھ
وہیں رک گیا۔۔وہ بے یقین سی ہو کر
اُس کی ہے رخی دیکھنے لگی
مجھے لگا کل وہ بات ختم ہو گئی ۔۔۔۔۔
وہ اُسے دکھ سے دیکھتی ہوئی بولی
جب تک ہمارا میٹر ختم نہیں ہوتا
بات کیسے ختم ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی طرف دیکھ کر
جتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔اور وارڈروب
کا ڈور آگے کرکے اُسے بند کیا
میں گھر نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔۔
نین نے اُسے دیکھتے ہوئے بے بسی
سے کہا۔۔۔۔۔یہ کہہ نہیں پائی کے
اُس کے پاپا اُس کے نا ہونے سے
پر سکون ہے اس لیے وہ وہاں
جا ہی نہیں سکتی۔۔۔
تو یہاں رہ تیری مرضی۔۔۔۔۔
میرے کو کوئی غرض نہیں۔۔
بس تیرا میرا سب ختم کر۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں
میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
نین نے نظریں جھکائی
میں ایسا بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے آہستہ سے کہا۔۔۔لیکن
اتنے نہیں کے وہ سن نا سکے۔۔
وہ ہاتھ میں موجود کپڑے بیڈ
پر ڈالتے ہوئے اُس کے قریب آیا
دیکھ لڑ جھگڑ کر بھی الگ ہونا ہے
اور اچھے سے بھی تو اچھے سے
ہو جاتے نا۔۔۔۔۔کیوں تماشا دکھانا
دنیا کو۔۔۔۔
وہ اُسے سمجھانے والے انداز میں
بولا حالانکہ وہ خود کو کس طرح سمجھائے یہ سوچ کر وہ پاگل
ہو رہا تھا۔نین نے ناراض نظروں
سے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔کِتنی جلدی
اپنا ہو کر کتنی آسانی سے
بیگانہ ہو گیا تھا وہ۔۔۔۔
وہ اتنی بے بس تھی کے اُسے اپنی
اُداسی اور درد کی وجہ خود
نہیں معلوم تھی جو اُسے بتا کر
کوئی دلیل دیتی
شام تک آرام سے ریڈی کرلے اپنے
مائنڈ کو ۔۔۔۔ پیپر لے آؤں گا۔۔۔
سائن کر دینا۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے بازو پر ہلکے سے
ہاتھ رکھے اپنائیت سے کہا۔۔۔
اُس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے
کچھ کہنے کے لیے لب کھولے
تو ساحل نے فورًا اُنگلی رکھ کر
اُنہیں کچھ کہنے سے روک دیا
بس اب کوئی اور بات نہیں۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے
ہوئے بہُت دھیرے سے بولا
نین کی بے چین اُداس نظریں
دیکھ کر اُس کا دل بے قابو ہو کر
اُسے سینے سے لگانے کو مجبور
کرتا اُس کے پہلے ہی ہاتھ لبوں
سے پیچھے کرکے نظریں اُس سے
ہٹائی اور کپڑے لے کر اندر چلا گیا۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے خاموشی سے
زمین کو گھورنے لگی۔۔۔جانے اُس
کی قسمت میں آگے کیا لکھا تھا
∆∆∆∆∆
سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے۔۔۔
نین خاموش سی بیٹھی تھی
اور عشرت شیرین اُس کی خاموشی
کو سمجھ کر کوئ نتیجہ نکالنے
کی کوشش کر رہی تھی۔۔ویسے
اُنہیں اپنے پلان پر پورا بھروسہ
تھا لیکِن نین کی خاموشی سے
سمجھ نہیں پا رہیں تھیں کے وہ
خوشی سے خاموش ہے یہ غم میں۔۔۔
اب اُنہیں ساحل کا اِنتظار تھا کے
وہ آئیگا تو اُسکا بدلا رویہ دیکھ
کر اُن کے ارمان پورے ہوں گے
نین اتنی چُپ کیوں ہو سب ٹھیک
ہے نہ۔۔۔۔۔
عشرت نے اُس کی کرسی کی
طرف جھک کر سرگوشی میں
پوچھا تو اُس نے چونک کر
اُس کی جانب دیکھا
رات کو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔سب اچھا رہا نا
وہ اُس کے دیکھنے پر رازداری سے
پوچھتی مسکرائی۔۔۔۔نین نے ایکدم
سے خود کو اُس کے مضبوط حصار
میں محسوس کیا۔۔۔۔۔اُس کی سانسوں کی حرارت گردن پر محسوس ہُوئی
تو اسکا دل دھڑکنے لگا۔۔۔۔
بھابھی پلیز۔۔۔۔۔۔ابھی۔مجھے
بات نہیں کرنی۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بیزاری سے
بولی۔۔۔عشرت پریشان ہو گئی۔۔۔
پیچھے ہو کر نین کو دیکھنے لگی
اُس کا ری ایکشن بلکل اُن کی
امیدوں پر نہیں اترتا تھا۔۔۔۔
تبھی اُس نے ساحل کو سیڑھیوں
سے اُتر آتے دیکھا۔۔۔۔
دونوں کی آنکھیں چمک اٹھی کے
اب تو انہیں اپنے سوال کا جواب
مل ہی جائے گا۔۔
وہ سفید شرٹ کی آستین کو اوپر
تک فولڈ کرتا ہوا نیچے اترنے لگا
تو نظروں کا مرکز وہی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی گہری نظریں خود پر
محسوس کرکے بھی پلیٹ پر
نظریں جمائے بیٹھی تھی
آجاؤ شہزادے۔۔۔۔ناشتا کرکے جاؤ۔۔۔۔
وہ اپنی دھن میں اُسے دیکھتا باہر
جانے لگا تو دادی نے اُسے پکار کر روکا
دادی۔۔۔۔ لیٹ ہو رہا اپن کو۔۔۔۔۔
وہ موبائل میں ٹائم دیکھ کر انکار
کرتا ہوا بولا۔۔۔۔آج اُسے کالج جانا تھا
اپنی ڈیوٹی جوائن کرنی تھی اور
اصل میں اکیڈمی جانا تھا کیوں کے
چھٹیاں کرتے کافی دن ہو چکے تھے
دس منٹ زیادہ لیٹ ہوجانا ۔۔۔۔
آجاؤ بیٹھو۔۔۔
داؤد نے زور دیتے ہوئے کہا تو
وہ آگے سے کچھ کہہ نہیں پایا۔۔۔
اور خاموشی سے آگے بڑھ کر دادی
کے پاس والی کرسی پیچھے کھینچی۔۔۔
نانو اگر یہ یہاں بیٹھا تو میں
یہاں نہیں رکوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے بیٹھنے سے پہلے ہی وہ
بول پڑی تو سب نے اُسے حیرت سے
دیکھا۔۔۔اُس کے۔لہجے میں کوئی لچک
نہیں تھی۔۔۔بے نیازی سے ناشتا کر رہی
تھی۔۔۔۔نظریں اٹھا کر دیکھنا اُس نے
ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ ساحل
سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
نین کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔ایسے کیوں
کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
نانو نے حیرت سے پوچھا۔اُس نے
جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔۔۔
رابعہ بیگم مسکرائیں جب کے
باقی سب پریشان تھے
وہ دادی کے پریشانی سے خود
کی۔طرف دیکھنے پر جلدی سے
مسکرایا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے
اُنہیں تسلی دے کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
اُس کا وہاں سے جانا محسوس کرنے
کی دیر تھی کے آنسو روکنے کے
چکر میں نین کے گلے میں
سانسیں پھنسنے لگی۔۔
وہ فوراً وہاں سے اٹھی اور
اپنے روم۔میں جانے لگی
شیرین اور عشرت کا دل تو بری
طرح ٹوٹ چکا تھا اپنی ایک اور
کوشش کو ناکام ہوتے دیکھ کیوں
کے آج تو اُن کی لڑائی بھی بہت
سنجیدہ لگ رہی تھی۔۔
دونوں سب کے جانے کے بعد ٹیبل
اور بیٹھی سوگ منا رہی تھی
بھابھی آپ دونوں کو چائے دوں۔۔۔
فلک نے وہاں آکر اُن دونو سے پوچھا
جو ہاتھ چہرے کے نیچے رکھ کر
بیٹھیں تھیں۔۔تینوں سب کے آخر
میں ناشتا کیا کرتیں تھیں
فلک چوہے مارنے کا زہر ہے۔۔۔۔۔
عشرت نے اُس کی طرف دیکھ
کر پوچھا
زہر۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں بھابھی لیکِن چوہے
تو نظر نہیں آرہے اس لیے
ایسے ہی رکھا ہے
فلک نے سادگی سے جواب دیا
تھوڑا سا میری چائے میں ڈال کر
لے آؤ
عشرت رو ہانسی ہو کر بولی
اور تھوڑا سا میری چائے میں۔۔۔
وہ عشرت کی بات پر صدمہ کرتی
کے شیرین بھی بول اٹھی ٹرانس
کی سی کیفیت میں۔۔۔
یا اللہ۔۔۔۔۔۔یہ آپ دونوں کیا کہہ
رہیں ہے۔۔۔۔۔۔
فلک نے دل پر ہاتھ رکھ لیا
اتنی محنت کی پھر بھی کچھ نہیں
ہوا۔۔۔پتہ نہیں کس پتھر سے بنے ہے
یہ دونوں۔۔۔
شیرین نے اتنی زور سے ٹیبل پر
ہاتھ مارے کہ ٹیبل دہل اٹھا
میرا تو اب وشواس اٹھ گیا ہے
محنت اور کوشش سے۔۔۔۔۔دل کر رہا
ہے خود کو گولی مار لوں۔۔۔۔
عشرت نے بھی مٹھیاں سختی
سے بھنچیں۔
۔
اللہ نا کرے بھابھی۔۔۔۔آپ دونوں
اتنا پریشان کیوں ہو رہیں ہے۔۔۔۔
سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔
فلک دونوں کی باتیں سن کر
بری طرح گھبرا گئی۔۔۔۔اور دونوں
کے کندھے پر ہاتھ رکھا
دونوں بھی اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس
سے چہرہ لگائے رونی صورت بنائے
بیٹھ گئیں۔۔ جب کے فلک بے بس
کھڑی اُنہیں دیکھ رہی تھی
∆∆∆∆∆∆
اپنی کلاسز ختم ہونے کے بعد اُسے
آدھا گھنٹہ کالج میں ہونا ہوتا
تھا۔۔۔دکھاوے کی پیون والی ڈیوٹی
نبھانے کے طور پر۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں موجود بہُت ساری کتابوں
کو سنبھالتا اسٹاف روم میں داخل ہوا
تو دروازے پر ہی اُس کے قدم رک گئے
صوفے پر نین کو بیٹھے دیکھ۔۔۔
سفید شرٹ ٹاپ اور بلیو جینس میں
ہمیشہ کی طرح بلکل سادے سے حلیے
میں بالوں کو سمیٹ کر ہیئر کلپ میں
قید کیے۔۔۔۔موبائل پر نظریں جمائے
بیٹھی تھی
اُس کا وہاں ہونا ساحل کو اپنا وہم ہی
لگا ویسے بھی وہ اُس کے حواسوں پر
اتنی سوار ہونے لگی تھی کے وہ ہر جگہ
اُسے محسوس کرتا تھا۔۔۔۔یقیناً یہ بھی
بس اُس کا خیال ہو گا
بلکل دِماغ خراب ہو گیا ہے اس بھوتنی
کے چکر میں۔۔۔اب تو یہاں بھی دکھ
رہی ہے۔۔۔
اُس نے پریشانی سے سوچا اور بکس
وہاں رکھے ٹیبل پر پٹخ دی۔۔۔
نین کا دھیان اُس کی طرف گیا۔۔۔اُسے
ایک نظر دیکھ کر وہ لا پرواہی ظاہر
کرتی موبائل میں دیکھنے لگی۔۔۔اُسے
اہمیت نہیں دینا چاہتی تھی
ساحل نے ہاتھوں سے دھول جھاڑ کر
دوبارہ اُس کی جانب دیکھا ۔۔تو وہ
پھر نظر آئی
وہ اُس کے دماغ سے نکل ہی نہیں
رہی تھی۔۔۔۔ اُس نے بے بسی سے سر
تھام کر آنکھیں بند کی اور تھکے
تھکے قدموں سے چلتا صوفے پر
گر گیا ٹھیک نین کے اوپر۔۔۔۔۔۔۔کیوں
کے اس کے حساب سے تو وہ
وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔۔
آ آ آ آ آ۔۔۔۔۔
نین کی فلک شگاف چینخ پر اُس
کی جان کیا روح تک لرز اٹھی۔۔۔۔۔
وہ اپنے بھاری وجود سے اُس کے
پیروں پر بہت خطر ناک ظلم کر
چکا تھا۔۔۔۔
نین کی چینخ پر وہ ہڑبڑا کر اٹھتے
اٹھتے صوفے پر اُس کے بلکل پاس گر
گیا۔۔پیر اس کے پیروں کے اوپر ہی
تھےوہ صدمے سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
نین خود سمجھ نہیں پا رہی تھی کے
اُس نے ایسے کیوں کیا ایکدم دھپ
سے اُس کی گود میں کیوں آکر بیٹھ گیا۔۔۔اس چکر میں نین کے پیر
ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گئے تھے
ماما کے بیٹے۔۔۔یہ کیا ہے ہودگی ہے۔۔
اُس نے ساحل کی ٹانگیں خود پر سے
دور پھینکی اور اپنے درد کرتے پیر
پکڑ لیے وہ فوراً سیدھا ہوا
تو تو۔۔۔تو۔۔۔۔تو سچ میں۔۔۔۔۔۔
سچ میں ہے یہاں۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے اُسے دیکھتا
پوچھنے لگا
نہیں۔میں کہاں ہوں یہ تو میرا ہولو
گرام ہے۔۔۔اندھے کہیں کے۔۔۔۔۔۔پیر توڑ
دیے میرے۔۔۔۔۔۔ممی ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس پر چینخ کر اپنے پیروں کی
تکلیف کو رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔اٹھنے کی
کوشش کی تو اٹھ بھی نہیں پائی
ایکدم سے لڑکھڑا کر گرنے کو ہوئی
ساحل نے فورًا سنبھال کر اُسے صوفے
پر بٹھایا
۔۔۔۔۔سوری۔۔۔میرے کو۔تو دکھی
نہیں۔۔۔۔۔۔میں کچھ سوچنے میں۔لگا
تھا۔۔بہُت درد ہو رہا ہے کیا۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب کھسک کر ہاتھ سے
اُس کے پیر کو سہلانے لگا۔۔۔اُس کی
بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی
سے بولا تو اُس کے اپنائیت بھرے انداز
سے جہاں نین کو سکون ملا وہیں بے
تحاشا آنسو بھی آنے لگے
بہت۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی
شکوہ کرنے لگی ساحل کو سمجھنے
میں وقت نہیں لگا کے وہ کیا کہنا چاہ
رہی ہے
ڈاکٹر کے پاس چلوں۔۔۔۔
اُس نے دوسرے پیر کو ہلکے ہاتھ سے
سہلاتے ہوئے پوچھا ۔۔نین کو ایکدم سے
احساس ہوا تو اُس کا دل دھک دھک
کرنے لگا اُس نے آہستہ سے اُس کا
ہاتھ ہٹا کے پیچھے کیا۔۔۔
ساحل نے دوسرے ہاتھ سے چھونے
کی کوشش کی لیکن اُس نے روک دیا
ہمدردی مت جتاؤ میرے ساتھ۔۔۔
وہ اُس کا دوسرا ہاتھ جھٹکتے ہوئے
بولی۔۔۔۔ اور اپنے آنسُو صاف کیے
میرے وجہ سے ہوا اس لیے جتا رہا
ورنہ نہیں جتاتا۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں کیا
کر رہی ہے تو۔۔۔
وہ اُس کی حرکت پر برہم ہوتا
پوچھنے کے ساتھ پھر اُس کے گھٹنے
سے اوپر ہاتھ سے سہلانے لگا۔۔
فورم سبمٹ کرنے آئی تھی۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیا۔۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولی اُس کے سہلانے سے پیروں کو آرام بھی مل رہا تھا لیکِن
عجیب سی گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی
تو کسی کو ساتھ لاتی۔۔۔اکیلے کیوں
آئی۔۔۔۔ نئی جگہ ہے۔۔۔۔ یہاں کسی کو
جانتی نہیں اور اکیلی نکل آی۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔۔
کسی کو۔میرا ساتھ پسند نہیں۔۔۔۔۔
میں اکیلی ہی ہوں۔۔۔۔
وہ طنز کرتے ہوئے بولی۔۔۔جو ساحل کو
بہُت چبھا۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے تم یہ دے دینا ۔۔۔۔
وہ سائیڈ میں رکھے کاغذات اُس کی
طرف بڑھا کر بیگ کی سٹرپ شولڈر پر ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔
چل چھوڑ آتا ہوں تیرے کو۔۔۔۔
ساحل۔نے پیپرز لے کر ٹیبل پر رکھے
اور اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا۔۔۔
تُم چھوڑ آئے ہو۔۔۔
نین نے۔ سر اٹھا کر اُس کی آنکھوں میں
دیکھتے ہوئے کہا ساحل نے سختی سے۔
لب بھینچے۔۔۔
اُسے ہاتھ پکڑ کر صوفے سے اٹھایا۔۔
نین کو بے تحاشا درد محسوس ہوا
جس کی وجہ سے اُس نے ساحل کا
بازو تھامتے ہوئے آنکھیں سختی سے
میچ لیں۔۔۔
لیکن اگلے ہی پل اُسے کچھ بہتر
محسوس ہوا تو اُس سے دور ہوئی۔۔۔
اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا ۔۔۔
ساحل نے غصے سے اُسے دیکھا اور
ایکدم سے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا وہ
بری طرح بوکھلا گئی۔۔۔ گھبرا کر اُس
کی شرٹ تھام گئی حیرت سے اُسے
دیکھنے لگی۔۔۔
وہ جتاتی نظروں سے دیکھتا اُسے لیے
باہر نکلا بنا پرواہ کیے کے کون کیا
سوچے گا۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تمہارے ساتھ نہیں جانا
ساحل۔۔۔چھوڑو مجھے
وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔ ساحل نے
اُسے اپنی بائیک کے پاس آکر ہی اُتارا
منہ بند کرکے چل تیرے کو نہیں
پتہ یہاں کا۔۔۔۔اِدھر اُدھر ہو جائے
گی۔۔۔اوپر سے حالت دیکھ۔۔۔چل بھی
نہیں پا رہی ہے۔۔۔۔کوئی اٹھا نا لے
راستے میں
وہ آنکھوں پر بلیک گلاسز چڑھا کر گاڑی میں چابی لگاتے ہوئے بولا
تمھیں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔میرے
ساتھ کچھ بھی ہوجائے ۔۔۔۔کیوں
پرواہ کر رہے ہو اتنی۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی خفگی سے اُسے
دیکھتے ہوئے۔۔۔ساحل نے سنجیدگی
سے اُس کی طرف دیکھا دل۔سے
آواز آئی کی بتا دے کیوں ہے اتنی
پرواہ۔۔۔۔کیوں پڑتا ہے فرق
تیری نہیں اپنی پرواہ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
تیرے نام۔کے ساتھ جو میرا نام لگا ہے
نہ اُس پر۔آنچ نہ آئے بس اس لیے۔۔۔۔۔۔
ایک بار یہ نام تُجھ سے الگ ہو گیا تو
کدھر بھی جا میری بلا سے۔۔۔۔۔بیٹھ
ابھی
وہ دل کے مخالف جا کر سرد مہری
سے جواب دیتا نین کے دل کے ٹکڑے
کرتے ہوئے بائیک پر بیٹھ کر اُسے
سٹارٹ کرنے لگا نین اُسے دیکھتی
خاموشی سے بائیک پر بیٹھ گئی
۔۔۔بحث کا کوئی فائدہ بھی نہیں تھا
∆∆∆ھ