Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
بتاؤ نا کیا کرنا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔پھر مجھے گھر بھی جانا ہے
جیا بیزار سی ہو کر بولی ۔۔۔۔اُس کے پیروں ہاتھوں میں ہلکی ہلکی چوٹ تھی لیکن بہُت جلن محسوس ہو رہی تھی
دشا نے اپنی الماری کھول کر کچھ کپڑے اُس کی طرف بڑھائے
تجھے نا یہ ڈریس پہن کر دلبر سانگ پر ڈانس کرنا ہے۔۔
ہادیہ نے چہک کے کہا۔۔۔۔جیا نے وہ ڈریس ہاتھ میں۔لے کر منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
بلیک کلر کی ڈائمنڈ سے جھلمل کرتی منی سکرٹ۔۔۔۔
اور بلیک ہی چھوٹا سا سٹرپ لیس ٹاپ
یہ۔۔۔یہ ڈریس۔۔۔۔چھی۔۔۔۔یہ میں نہیں پہنوں گی۔۔۔۔
اُس نے ناگواری سے وہ کپڑے دور اچھالے۔۔۔۔۔
جیا تم۔نے شرط لگائی تھی کے ہم جو کہیں گے مانو گی۔۔
اُن میں سے ایک نے اُسے یاد دلایا
ہاں لیکِن یہ کیا فضول سا ٹاسک ہے۔۔۔۔۔مجھے نہیں پسند میں گھر جا رہی ہوں
وہ غصے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
جیا بات تو سنو۔۔۔۔۔۔صرف ہم چاروں لڑکیاں ہی تو ہے یہاں۔۔۔۔اتنا کیوں شرما رہی ہو یار ہم کونسا تمہیں پبلک میں ڈانس کرنے کی کہہ رہے ہے
ہادیہ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے کہا وہ غصے سے اُسے گھورنے لگی
دیکھو جیا اگر تم میں ہمت نہیں ہے تو تمہیں چیلج لینا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔۔اور اب جب لے لیا ہے تو پورا کرو۔۔۔۔۔ ورنہ کہہ دو سب کے سامنے کے تم لوزر ہو۔۔۔۔۔
دشا ہاتھ باندھے اُسے اکسانے کی کوشش کر رہی تھی اور اُس کی یہ کوشش کامیاب ہوئی۔۔۔۔وہ خود کو لوزر تو نہیں کہلوانا چاہتی تھی۔۔
اُن سب پر ایک تاسف زدہ نظر ڈال کر وہ کپڑے لیے چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
حالانکہ اُسے ویسٹرن کپڑے پہننے کی عادت تھی لیکن وہ ڈریس حد سے زیادہ بولڈ تھی۔۔۔
وہ کپڑے چینج کرکے باہر نکلی تو چاروں اُسے سر سے پیر تک دیکھتی رہ گئیں۔۔۔۔۔
سکرٹ گھٹنوں سے خاصا اوپر تک تھا۔۔۔۔۔۔
اور اوپر کا ٹاپ کندھوں پر تو تھا ہی نہیں درمیاں میں پیٹ بھی مکمل نظر آرہا تھا۔۔۔۔میدے جیسی رنگت کالے رنگ میں چمک رہی تھی۔۔۔اور اُس پر چوٹ کے نشان بھی واضح تھے
وہ خود میں سکڑنے کی تگ ودو میں لگی سکرٹ کو نیچے کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
ہادیہ نے آگے بڑھ کر اُس کے بالوں سے کلچر نکال کے میوزک آن کرتے ہوئے اُسے ڈانس کرنے کا اشارہ کیا اور وہ سب پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئیں۔۔۔
کمرے کی مدھم روشنی میں بنا میک اپ کے بھی اُس کا حسن قیامت خیز نظر آرہا تھا
دلبر دلبر۔۔۔۔۔۔۔۔
دلبر دلبر۔۔۔۔۔۔۔
گانا شروع ہونے کے بعد بھی وہ یونہی کھڑی خشک گلے کو تر کرتی اُن چاروں کو دیکھنے لگی۔۔۔دشا نے اُسے پھر سے اشارہ کیا تو اُس نے پیروں کو آہستہ آہستہ سے حرکت دینی شروع کی۔۔۔
ایک سوچ یہ بھی تھی کے وہاں صرف اُس کی فرینڈز ہی تو ہے۔۔۔اس لیے اسے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں
ہوش نہ خبر ہے
یہ کیسا اثر ہے۔۔
ہوش نہ خبر ہے
یہ کیسا اثر ہے۔۔۔
تم سے ملنے کے بعد دلبر۔۔۔
تم سے ملنے کے بعد دلبر۔۔
وہ باقاعدہ ٹھیک ٹھاک اسٹیپ لے کر ڈانس کرنے لگی اور اُس کی چاروں دوست انجوئے کرتی تالیاں بجا رہی تھیں
دِلبر۔دلبر
دلبر دلبر۔۔
اُس کے۔کھلے۔بال شانو پر بکھرے اُس کے ہر اسٹیپ پر ساتھ دے رہے تھے کمر پورے جوش میں حرکت کر رہی تھی۔۔۔۔۔ اُس کے چہرے پر اب گھبراہٹ نہیں بلکہ اسمائیل تھی۔۔۔و خود اب انجوئے کر رہی تھی
تُو میرا خواب ہے۔۔۔۔
تُو میرے دل کا قرار۔۔۔
وہ پوری پیچھے کو جھکی
دیکھ لے جان من۔۔۔
دیکھ لے۔۔۔۔۔بس ایک بار۔۔۔۔
اُس نےسیدھے ہو کر دل پر ہاتھ رکھے بولڈ انداز میں آگے کو دیکھتے ہوئے سینے کو حرکت دی۔۔۔
چین کھو گیا ہے۔۔۔۔۔
کچھ تو ہو گیا ہے۔۔۔۔۔
چین کھو گیا ہے۔۔
کچھ تو ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔
تم سے ملنے کے بعد دلبر۔۔۔۔
تم سے ملنے کے بعد دلبر۔۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ کمر پر رکھے جھومنے۔لگی کے اچانک ہی اُس کا پیر مڑا اور و لڑکھڑا کر گر پڑی۔۔۔
چاروں ہڑبڑا کر اُس کی طرف بھاگی لائٹ آن کرکے اُسے زمین سے اٹھایا۔۔۔
جیا تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔۔
ہادیہ نے اُس کے چہرے پر رونے والے تاثرات دیکھ کر پریشانی سے کہا
آب تو چیلنج پورا ہو گیا نا۔۔۔۔۔۔اب جان چھوڑو میری۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ جھٹک کر وہاں سے اٹھتی چینجینگ روم کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
اُسے پہلی دفعہ اُن سب سے دوستی کرنے پر۔پچھتاوا ہو رہا تھا۔۔۔
اُس نے اپنی منٹلیٹی کے اُسے ڈاؤن مارکیٹ لوگوں سے دور رہنا ہے۔۔ کے چلتے اپنی اچھی خاصی سہیلیوں کوچھوڑ کر یہ گروپ جوائن کیا تھا۔۔۔۔تاکہ اُس کی ریپو ٹشن بنی رہی
لیکِن اُن لوگوں نے ہمیشہ اُسے یوز ہی کیا تھا
∆∆∆∆∆∆\∆∆∆
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
داؤد کو ضروری کام کی بنا پر گھر سے باہر جانا پڑا تھا حالانکہ فلک کو اکیلا چھوڑنے کا اس کا بلکل دل نہیں تھا۔۔۔
اس بیچ فلک نے رابعہ بیگم کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔۔
وہ تب سے بس کام کیے جا رہی تھیں
عشرت اور شیرین کے ہاتھوں میں تو لاٹری لگ گئی تھی۔۔۔۔
وہ اُسے آرڈر پر آرڈر دیے جا رہیں تھی اور فلک خاموشی سے سر جھکائے عمل کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
رات سب کا۔کھانہ ہونے کے بعد اب وہ کچن سمیٹ رہی تھی جب رابعہ بیگم اُسے نخوت سے دیکھتی اُس کے پاس آئیں
اُمید ہے تمہیں تمہاری اوقات کہ اندازہ ہو گیا ہوگا۔۔
جب تک اس گھر میں ہو۔۔ یہی تمہاری جگہ ہے
خبر دار جو میرے بیٹے کے آس پاس بھی نظر آئی۔۔
رابعہ بیگم نے اُسے ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا وہ سر جھکائے سننے لگی
میں تم جیسی لڑکیوں کو اچھے سے جانتی ہوں۔۔
پتہ نہیں کس لیے پھنسایا ہے میرے بیٹے کو۔۔۔۔
یاد رکھنا میں تمہارے کوئی ارادے پورے نہیں ہونے دوں گا
ایک بار نین سے شادی ہونے دو اُس کے بعد وہ خود تمہیں یہاں سے دفع کر دیگا
بس اللہ کرے یہ شادی خیریت سے ہو جائے
اُنہوں نے غصے سے اُسے نیچا دکھاتے ہوئے آخر میں دھیمے لہجے میں کہا
آمین۔۔۔۔۔۔
اُس نے آہستہ آواز میں کہا تو رابعہ بیگم حیرت سے اُسے دیکھنے لگیں
بڑی ماں ۔۔۔۔۔ ثریا آنٹی کا فون آیا ہے
عشرت نے اندر آئے ہوئے فون اُن کی طرف بڑھایا تو وہ فلک پر ایک ناگوار نظر ڈال کر فون لیے باہر نکل گئی
تم کھڑی کیا ہو یہ جھوٹے برتن سمیٹو جلدی جلدی ۔۔اور کچن صاف کرکے ہی سونا۔۔۔۔۔۔۔
عشرت نے گردن اکڑا کر اُس پر۔رعب دکھایا وہ سر ہلا کر واپس کام میں لگ گئی۔۔
وہاں رکھے جھوٹے برتن صاف کرکے اپنی جگہ پر رکھنے لگی
داؤد گھر آکر اُسے اپنے روم میں نا پاکر سیدھے کچن میں آیا اور وہاں اکیلے کام کرتے دیکھ اُس کا دماغ گھوم گیا۔۔۔
فلک رکھو اسے۔۔۔۔۔۔
تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
اُس کے ہاتھ سے گلاس چھین کر زور سے سلیپ پر رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
کیا کر رہے ہیں ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر بولی۔۔۔اور اُس گلاس کو اٹھا کر دیکھنے لگی
میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں نہ چلو یہاں سے
تم یہ سب نہیں کروگی۔۔۔۔۔۔
اُس نے دوبارہ سے گلاس چھینا اور اُس کی کلائی تھام کر اُسے کھینچتا ہوا کچن سے باہر لایا۔۔۔۔۔۔۔فلک نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو وہ رک کر اُسے دیکھنے لگا
آپ اتنا غصّہ کیوں ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔
مجھے اس سب سے کوئی پریشانی نہیں ہے ۔
مجھے اچھا لگتا ہے کام کرنا۔۔۔۔۔
وہ اپنی کلائی سے اُس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی
لیکن مجھے نہیں اچھا لگتا۔۔۔۔۔
مام تمہیں اس طرح ٹریٹ نہیں کر سکتی۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا اُسے اندازہ تھا کہ اُس کے پیچھے رابعہ بیگم کا سلوک کیسا رہا ہوگا
آپ اپنی امی کے لیے کوئی گلا مت رکھیے وہ بہت اچھی ہے۔۔
مجھے اُن سے کوئی شکائت نہیں ہے۔۔۔۔وہ جو چاہتی ہے مان لیجئے۔۔۔۔۔
اُس نے نرمی سے داؤد کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
مجھے غصّہ مت دلاؤ۔فلک۔۔۔۔
وہ اسے گھورتا ہوا بولا۔۔۔بیوی ہو کر وہ اُسے کسی اور سے شادی کرنے کی کہہ رہی تھی
آپ چاہتے تھے نا میں آپ سے دور نا جاؤں ۔۔میں نے آپ کی بات مان لی
میں چاہتی ہوں آپ بھی اپنی امی کی بات مان کر اُس لڑکی سے شادی کر لیں۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
فلک پلیز۔۔۔۔۔ میں الریڈی بہُت پریشان ہوں۔۔۔۔
اس طرح کی باتیں مت کرو۔۔۔
وہ بے چارگی سے بولا۔۔۔۔مزید کہتا کے مین دروازے سے ساحل کو آتے دیکھ خاموش ہو گیا۔۔۔فلک بھی اُس کے پاس سے ہٹ کر واپس کچن میں جانے لگی
اتنے رات تک کہاں تھے ۔۔۔کالج والے اوور ٹائم کروا رہے ہےکیا اپنے پیون سے۔۔۔۔
اُس نے گہرا طنز کیا ساحل نے بیزاری سے منہ بنایا
بس یار اب تو شروع مت ہوجا۔۔۔۔پہلے ہی اپن کی کھوپڑی میں آگ لگی وی ہے
داؤد اُسے گھور کر رہ گیا
یہ کون ہے۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے دیکھتے ہوئے کچن کی طرف اشارہ کیا جس پر وہ لاجواب سا کھڑا اُسے دیکھنے لگا
یہ۔۔۔۔۔یہ ہماری مہمان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے اُس پل۔جو سوجھا وہی کہہ دیا رابعہ بیگم۔نے اُسے اِس مُشکل میں پھنسا دیا تھا وہ خود کو بہُت بے بس محسوس کے رہا رہا تھا
اچھا۔۔
۔ہائے بھابھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر ہلا کر کچن کے دروازے کی طرف دیکھتا فلک کو ہائے کرنے لگا۔۔۔۔داؤد نے حیرت سے اُسے دیکھا اور ساحل نے جتاتی نظروں سے
غیروں کی بھی خبر رکھتا ہوں۔۔۔۔تو تو پھر جان پہچان کا ہے۔۔
۔۔۔۔شرم نہیں آتی تُجھے اتنا بڑا كانڈ کر دیا ۔۔۔۔۔۔اور یہاں شان سے کھڑا بیوی کو مہمان بتا رہا ہے سالے
پہلے تو بس ڈرپوک تھا اب لگتا ہے بے غیرت بھی ہو گیا تو۔
وہ سرد لہجے میں دھیمی آواز میں بولا داؤد لب بھینچ کر رہ گیا وہ کڑوے الفاظ تھے لیکِن سچ تھے
بھابھی سے شادی کرکے اُس لڑکی کو پہلا دھوکہ دیا اب اُس سے شادی کرکے اُس کو دوسرا دھوکہ دے رہا ہے
وہ غصے سے بولا
جب سب جان گئے ہو تو یہ بھی جان گئے ہوں گے کے میں نے کس سچویشن میں یہ شادی کی تھی۔۔۔۔اُس وقت کسی کو بتانے یا سمجھانے کا وقت نہیں تھا۔۔۔۔۔اور اب جب میں سب کو بتانا چاہتا ہوں تو مام سمجھنے کو تیار نہیں۔۔
اور تم میری ہیلپ کرنے کی بجاۓ طعنے دے رہے ہی
داؤد نے بھی غصے سے جواب دیا
تیری ہیلپ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہلکا سا ہنسا اور داؤد نے نظریں چرائی
اپن کی تو اکھی۔زندگی تیری ہیلپ کے چکّر میں لگی پڑی ہے۔۔چل ایک ایڈوائس دیتا ہوں۔۔۔۔۔
تُو نا ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لے
اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کر سکتا
وہ مسکرا کر بولا اور اُسے گھورتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا داؤد نے پریشانی سے سر تھام لیا کوئی ایک بھی اُسے نا سمجھ رہا تھا نہ اُس کا ساتھ دے رہا تھا۔۔
شاید حد سے زیادہ سیدھے ہونے کا یہی انجام ہوتا ہے
وہ غصے سے کچن کی طرف بڑھا
فلک۔ سارا کام ختم کرکے وہیں اپنے لیے چٹائی ڈال رہی تھی
فلک روم میں چلو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سر پر پہنچ کر غصے سے بولا
مجھے یہیں رہنے دیجئے۔۔۔۔۔اگر کسی نے مجھے آپ کے کمرے میں دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔
وہ انکار کرتی ہوئی بولی اور داؤد نے ضبط نے آنکھیں بند کرکے کھولتے ہوئے ایکدم سے اُسے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا
اُس نے بمشکل اپنی چینخ روکی۔۔۔۔حیرت سے آنکھیں پھاڑے داؤد کو دیکھنے لگی ۔جو اُسے کسی سامان کی طرح اُٹھائے سیڑھیاں عبور کر رہا تھا۔۔۔
روم کا دروازہ لات مار کر کھولا اور اُسے سیدھے لے جا کر بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔
اب آئندہ میں۔تمہیں کچن میں سونے کی کوشش کرتے نا دیکھو۔۔۔آئی سمجھ۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہونے کی بجائے اُس کے چہرے پر جھکا دھیمی آواز میں بولا۔۔۔۔فلک نظریں جھکائے سانس روک گئی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی گھنی پلکوں سے نظر ہٹا کر پیچھے ہوا تو فلک کی جان میں جان آئی۔۔۔وہ فوراً اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔
داؤد نے ٹیبل پر رکھا فون اُس کی طرف بڑھایا
اور یہ تمہارے لیے فون لے کر آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔جب بھی گھر سے باہر جاؤں تم پورا ٹائم مجھ سے فون پر کنیکٹیڈ رہوگی۔۔۔۔۔
وہ اُسے جتاتا ہوا بولا۔۔۔۔فلک نے سر جھکائے فون تھام لیا یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کے مجھے فون چلانا نہیں آتا۔۔
داؤد نے ہاتھ سے اُس کا چہرہ اوپر کیا
اور اگر آئندہ تم نے کہا نا کے اُس سے شادی کر لو تو بہت برا کروں گا۔۔۔۔۔مائے لوو۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا جذباتیت سے بولا۔۔۔۔اُس کی گمبھیر آواز سے ۔۔۔فلک کی دھڑکنیں تیز ہونی لگیں۔۔
بتاؤ۔۔۔۔۔کہوگی اب ایسا۔۔۔۔
وہ اُس کے سرخ لبوں کو فوکس کرتا ہوا بولا۔۔۔فلک نے پورے جوش سے گردن نفی میں ہلائی۔۔۔۔اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کے چہرے سے ہاتھ ہٹایا اور وہاں سے اٹھ کر اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گیا۔۔۔۔
فلک اپنے دل پر ہاتھ رکھے لمبی لمبی سانسیں لینے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کیا ۔۔۔۔۔تم لوگوں نے کیسے سوچ لیا کے میں یہ گھٹیا کام کروں گی۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت و غصے کی زیادتی سے چینخ کر بولی۔۔۔۔۔۔
وہ سب اس وقت کینٹین میں اپنی مخصوص جگہ بیٹھے تھے اُس کے آتے ہی اُسے ایسا پلان بتایا گیا کے وہ صدمے سے اُنہیں دیکھنے لگی اور جب پتہ چلا کے و پلان اسے پورا کرنا ہے تو اُس کا خون کھول اٹھا
جیا کیا تم بھول گئی شاد سر نے پوری کلاس کے سامنے ہماری کیسے انسلٹ کی تھی ۔۔سب ہنس رہے تھے ہم پر۔۔۔۔
بس ہمیں اُس انسلٹ کا بدلہ لینا ہے۔۔۔۔۔
اور تمہارے پاپا اس کالج کے ٹرسٹی ہے۔۔۔۔۔۔تمہیں تو کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا۔۔۔۔۔۔۔تم آرام سے یہ کام کر سکتی ہو
اُن میں سے ایک نے کہا
تم سب کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔چھوٹے موٹے پرینکس کی بات الگ ہے لیکِن اتنا بڑا الزام وہ بھی شاد سر پر۔۔۔یہ غلط ہے میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی
شاد سر نے ہماری انسلٹ کی تم لوگوں کی وجہ سے۔۔۔۔
نہ تم لوگ اُنہیں موقع دیتیں نا وہ ہمیں سب کے سامنے مذاق بناتے۔۔۔۔۔۔
اُسے شاد سر پر غصّہ تھا لیکن اتنا نہیں کے وہ اُن سے بدلہ لینے کے لیے کچھ بھی کر لیتی۔۔۔ ایک طرح سے اُن کے کالج میں سگریٹ پینے پر شاد سر کا غصّہ لازمی تھا
اور تم ۔۔۔۔۔تم نے تو کچھ نہیں کیا تھا نہ۔۔۔اُنہوں نے تمہیں کیوں انسلٹ کیا پھر۔۔۔۔۔
دشا نے هنکارا بھرتے ہوئے کہا
۔کیوں کے تم لوگوں کی بدولت میں بھی وہیں موجود تھی۔۔۔۔۔۔اور ہمیں ساتھ دیکھ کر کسی کو بھی یہی لگنا تھا۔۔۔شاد سر اپنی جگہ صحیح ہے۔۔۔
ہم سب کو وہ بات بھول جانی چاہیے اب۔۔۔۔۔
اُس نے بیزاری سے جواب دیا۔۔۔۔اُن لوگوں کی سوچ پر شدید افسوس کرتے ہوئے
تم بھول سکتی ہوگی جیا ہم نہیں بھول سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔اُنہیں ہمارے پرسنل میٹر میں انٹرفیر نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ہم تو اُنہیں اس انسلٹ کا جواب دے کر رہیں گے۔۔۔۔
اور تمہیں جو کہا ہے وہ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔ورنہ بہُت برا ہوگا جیا۔
دشا نے غصے سے کہتے ہوئے دھمکی دی وہ بھی غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی
Shame on you disha۔۔۔۔۔۔
مجھے یقین نہ آرہا تم۔لوگ اتنا گر سکتیں ہو۔۔۔
میں تم لوگوں کی کوئی بات نہیں ماننے والی
نا آج کے بعد تم میں سے کسی کی شکل دیکھنا چاہتی ہوں
وہ غصے سے ایک ایک کو دیکھتے ہوئے وہاں سے جانے لگی
ایک۔منٹ جیا۔۔۔۔۔جانے سے پہلے یہ تو دیکھ لو
دشاں نے اُسے روکتے ہوئے مسکرا کر کہا اُس نے نا سممجھی سے اُس کے ہاتھ میں موبائل کو دیکھا اور غصے سے موبائل لیتے ہوئے اُس اور چلتی ویڈیو دیکھنے لگی۔۔۔
ویڈیو دیکھ کے اُس کے جسم میں ایکدم سے کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔۔۔دل زور سے دھک دھک کرنے لگا۔۔۔۔۔ایسا لگا دماغ کو کِسی نے منوں مٹی تلے دبا دیا ہو
وہ اُس کی کل رات کی ڈانس ویڈیو تھی۔۔۔۔اور صرف ویڈیو دیکھ کر ہی وہ اُن کی دھمکی سمجھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔اور اگر کوئی اُسے اُن کپڑوں میں ایسے ڈانس کرتے دیکھتا تو کچھ بھی سوچ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
اگر عبّاس صاحب اور داؤد وہ ویڈیو دیکھ لیتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔
اگر تم نے ہماری بات نہیں مانی تو ہم اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے۔۔۔۔۔شاد سر سے بہت ہمدردی ہے نہ تمہیں تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔تم ان کے بارےمیں سوچو۔۔۔۔۔
دیشا نے اُس کے ہاتھ سے موبائل جھپٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں آرہا کے میں نے تم لوگوں کو اپنا دوست سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی بڑی غلطی کردی تم سب کو پہچاننے میں۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔اپنی ایک غلطی کے لیے اب اُسے ایک بڑا گناہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا
زیادہ ڈائیلاگ مت مارو جیا۔۔۔۔۔
کل تک کا ٹائم ہے سوچ لو شاد سر کو کالج میں انسلٹ کروانا ہے یا خود کو پوری دنیا میں۔۔۔۔
اُن میں سے ایک نے غصے سے کہا
کم آن جیا۔۔۔چھوٹا سا کام تو ہے ۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔
ہادیہ نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی وہ نفرت نے اُن چاروں کو دیکھتی روتی ہوئی وہاں سے جانے لگی۔۔۔۔
