Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 66

Episode 66
یہ کام صرف ساحل کر سکتا ہے کال کرو اُسے۔۔۔۔۔۔۔
کے کے نے اپنے خاص آدمی کے ساتھ کسی خاص موضوع پر بات کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔تو اُس نے سر ہلا کر پاس کھڑے کچھ لوگوں کو جانے کا اشارہ کیا۔
سر آپکو نہیں لگتا آپ اُس بندے پر حد سے زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں۔۔۔کافی ٹیڑھا لگتا ہے وہ
کے کے کا خاص آدمی ہر کام میں اُسے ساحل کو فوقیت دیتے دیکھ سنجیدگی سے بولا تو کےکے نے مسکرا کر سگار کا دھواں ہوا کے سپرد کیا۔۔
مایا نے بھی سکرین سے نظریں ہٹا کر اُس کا جواب سننے کے لیے نظریں گھمائی
میری آنکھوں کو وفادار اور غدار کی پہچان ہے وراج۔۔۔۔۔۔تمہیں بھی میں نے چنا تھا اُسے بھی میں نے چنا ہے۔۔۔۔اورمیرا انتخاب کبھی غلط نہیں ہوتا۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر بولا ورا ج ہلکا سا مسکرا کر سر ہلاتا اٹھ کر باہر چلا گیا
وراج کی بات غلط نہیں ہے کےکے مجھے بھی محسوس ہو رہا ہے کے تم آجکل کچھ زیادہ ہی امپریس ہو رہے ہو اُس سے۔۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد مایا نے سامنے رکھے فروٹس سے انگور اٹھا کے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اُس کا جوش اور جذبہ مجھے اپنی یاد دلاتا ہے۔۔۔۔۔ایسا ہی جنون تھا میری رگوں میں ہر طاقت کو مات دے کر اس بلندی کو حاصل کرنے کا جو کسی کی سوچ سے بھی پرے ہو۔۔۔۔
اسی جوش نے مجھے کچھ نہیں سے کےکے بنایا ہے۔۔۔۔۔انڈر ورلڈ کا بے تاج بادشاہ جس کا نام ہی دھشت کی پہچان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کےکے نے سگار ایش ٹرے میں رگڑتے ہوئے گرور سے کہہ کر مایا کی جانب دیکھا
وہی آگ اُس لڑکے کی آنکھوں میں بھی ہے۔۔۔۔۔میں نے اُسے دیکھا ہے کے وہ موت کو چھو کر بھی ہار نہیں مانتا جب تک سامنے والے کو زمین سے نا لگا دے لڑتا رہتا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے پر سوچ نظریں اُس پر ٹکائے ساحل کی تعریف کی تو مایا ہلکا سا ہنسی
کہیں تمہیں اُس میں اپنا کھویا ہوا بیٹا تو نظر نہیں آرہا نا ۔۔۔پلیز ڈونٹ ٹیل می کے تم ابھی تک اُس کے ملنے کے خواب دیکھ رہے ہو۔۔۔
وہ ہنس کر اپنے بال شولڈر پر درست کرتے ہوئی بولی کےکے نے درشتگی سے اُس کا سفید بازو پکڑ کے اپنی طرف کھینچا
مجھے خواب دیکھنے کی ضروت نہیں ڈارلنگ ۔۔۔۔۔میں جو چاہو اُسے حاصل کرنا جانتا ہوں۔۔۔۔
اپنے بیٹے کو ڈھونڈھنے میں میں بہُت جلد کامیاب ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔
وہی تو ہوگا میرے اس عالیشان ایمپائر کا مالک۔۔۔کےکے ورلڈ کا اصلی وارث دار
وہ مسکراتے لہجے میں بولا تو مایا نے کندھے اچکائے اور اُس کے قریب ہو کر گلے میں باہیں ڈال دیں۔۔۔
اسی وقت سامنے سے ساحل اندر داخل ہوا وہ کےکے کے شولڈر پر۔سر رکھے شوخ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
بلیک شرٹ پینٹ میں ہمیشہ کی طرح چہرے پر سنجیدگی لیئے بھاری قدم بڑھاتا اندر آرہا تھا۔۔۔
آگ تو واقعی بہت ہے۔۔۔۔
وہ اُسے سر تا پیر ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بڑبڑا ئی اور نچلا لب کاٹتے ہوئے کے کے کے گرد اپنے بازؤں کی گرفت سخت کر دی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
داؤد کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل کے جانے کے کچھ دیر بعد جب اُسے پچھلی رات کا واقعہ یاد آیا تو اُس نے فوراً اپنے ارادے پر عمل کرتے ہوئے داؤد کے نمبر پر فون کیا
میں گھر پر ہوں۔۔۔۔کچھ کام تھا تمہیں۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔
داؤد نے فکرمندی سے پوچھا۔
ہاں بس مجھے بات کرنی تھی تم سے۔۔۔۔بہُت ضروری ہے
پر فون پر نہیں ملنا ہے مجھے تم سے
وہ ناخن درخت کی کھال پر ہلکے ہلکے سے رگڑتے ہوئے بولی
میں تمہاری طرف ہی آرہا ہوں۔۔۔دادی نے کہا ہے تمہارے کپڑے وغیرہ دینے تو وہیں بات ہوگی پھر ۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے جواب دے کر فون بند کر دیا۔۔۔۔۔
اور دوبارہ سے آنکھیں بند کرکے سر صوفے سے ٹکا دیا۔۔۔۔
فلک دھیرے سے دروازہ کھول کر اندر آئی۔۔۔و محسوس کرکے بھی اُسی طرح بیٹھا رہا۔۔۔۔۔۔
فلک نے اُس کے قریب بیٹھ کر جھجھکتے ہوئے ہاتھ اُس کے بازو پر رکھا لیکن اُس نے کوئی حرکت نہیں کی
فلک ماڈل ڈوبنے لگا۔۔۔
وہ کبھی اُس سے اس قدر غصّہ نہیں ہوا تھا کے اُسے روتے دیکھ بھی نظر انداز کرے اور آج ہوا تو فلک سے سہا نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔
مائے لوو۔۔۔۔
اُس نے داؤد کے بازو پر چہرہ رکھتے ہوئے آسودگی سے اُسے پکارا داؤد نے بند آنکھوں کو مزید میچا
فلک کو ہمت کرنی پڑی اُس کے چہرے کو ہاتھ سے چھو کر اپنی جانب کیا تو داؤد نے زبردستی آنکھیں کھول کر ناراض نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔
آپ ناراض ہے مجھ سے۔۔۔۔۔
اُس نے بھیگی آواز میں پوچھا۔۔۔۔
کیا مجھے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔
کیا میں یہی ڈزرو کرتا ہوں کے تم اس طرح میرا ہاتھ چھوڑ دو۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے تاثر لہجے میں بولا
اگر میں کبھی اُس راستے جانا چاہوں جہاں مجھے نہیں جانا چاہیئے اور آپ سے کہوں آپ بھی میرا ساتھ دیں تو کیا آپ مجھے نہیں روکے گے۔۔۔۔
اُس نے ہمت کرکے اُس سے سوال کیا
میں کم سے کم سب کے سامنے تمہارا مان توڑ کر تمہیں منہ کے بل نہیں گرا دیتا
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا اور اپنا بازو اُس کے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا فلک اُسے جاتے دیکھتی رہ گئی۔۔
♦♦♦♦♦♦
وہ پہلی دفع اُس گھر میں بے حد بوریت محسوس کر رہی تھی۔۔۔ساحل تھا نا کوئی اور۔۔۔۔۔۔وہ اکیلی تھی اور چاروں اور صرف ہریالی۔۔۔۔۔۔
داؤد کی کار گھر کے ٹھیک پاس آکر رکی وہ جو پیڑ کی نچلی ٹہنی پر بیٹھی تھی جلدی سے اُتر کر اپنے کپڑے جھٹک کر درست کرتے ہوئے اُس کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔۔وہ اب بھی بنا دوپٹے کے ہی تھی۔۔۔اُسے اس میں کوئی خرابی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
ڈرائیور دو بڑے بڑے بیگز لے کر اندر آیا۔۔۔ اور داؤد کی ہدایت پر وہ بیگز لے جا کر اندر گھر میں رکھے۔۔۔۔
نین کیا ہوا سب ٹھیک۔۔۔۔۔ تمہیں کچھ بات کرنی تھی
ڈرائیور کے باہر جاتے ہی اُس نے نین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
تم بیٹھو نا ۔۔۔۔۔سوری میں چائے نہیں پوچھ سکتی۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کے مجھے چولہا جلانا نہیں آتا اور چائے بھی بنانی نہیں آتی
وہ اُسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بنا شرمندہ ہوئے سکون سے بولی تو داؤد ہنستے ہوئے آنگن میں بچھی چار پائی پر بیٹھ گیا
سمجھ نہیں آرہا کیسے پوچھوں۔۔۔۔۔۔پر میرے ذہن میں نا بہُت سوال اٹھتے ہیں ساحل کو لے کر۔۔۔۔
میں اُس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔بس ادھُوری ادھُوری باتیں سنی ہے وہ بھی سچ نہیں لگتی۔۔۔۔۔
ساحل سے پوچھوں گی تو وہ بتائے گا نہیں ۔۔۔۔۔۔ بس اب تم ہی میری اُلجھن دور کر سکتے ہو داؤد۔۔۔۔
وہ سیریس ہو کر اُس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی تو داؤد بھی سنجیدہ ہوا اور اُلجھ کر اُسے دیکھنے لگا
پلیز ٹیل می کے اُس کے پاسٹ میں ایسا کیا ہے جو اُسے راتوں کو بے چین کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کونسی بات وہ تمہیں اور بڑے ماما کو سب سے چھپانے پر مجبور کرتا ہے۔۔۔۔۔کیوں بڑی مامی اُس سے اتنی نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
مجھے سب کچھ جاننا ہے داؤد۔۔۔۔
وہ بے تابي سے بولی تو داؤد نے اُسے دیکھتے گہری سانس لی۔۔۔
اگر کوئی اور پوچھتا تو وہ ساحل کے منع کرنے کا خیال کرتے ہوئے کبھی نہیں بتاتا لیکِن اُسے لگا کے نین کو جاننے کا پورا حق ہے تو انکار نہیں کر سکا
اُس سے میری پہلی ملاقات گیارہ سال پہلے ہوئی تھی۔۔۔۔اُس وقت میں دسویں کلاس کا اسٹوڈنٹ تھا۔۔۔
اِس نے پر سوچ نظریں دیوار پر جما کر ماضی کو یاد کرتے ہوئے بولنا شروع کیا
دولت عیش و آرام اسٹارڈم ہر چیز میسر تھی۔۔۔۔یہ چیزیں زندگی کو عالیشان تو بنا دیتی ہے لیکِن اکثر ہمارے وجود میں زہر بھی گھول دیتی ہے۔۔۔
میں ٹاپ بزنس مین آف دا ولڈ کا اکلوتا بیٹا داؤد شیرازی تھا
اسٹارڈم کے نشے نے بہت آگے تک پہنچا دیا تھا۔۔۔۔۔۔
عمر بھی ایسی تھی کے قدم غلط راستوں کی اور بڑھتے جاتے تھے۔۔۔اور روکنے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔
اُنہیں راستوں پر چلتے چلتے میں ڈرگز کے شکنجے میں آگیا۔۔۔۔۔
کچھ دوستوں نے ایک دو بار زبرستی کی اور پھر میں خود اپنے ساتھ زبردستی کرنے پر مجبور ہوتا گیا
لوگ غلط کہتے ہیں کے جو ذہنی پریشانی کا شکار ہو وہی اس دلدل میں پھنستا ہے۔۔۔۔میرے پاس تو سب کچھ تھا۔۔۔۔۔۔مام جان سے زیادہ چاہتی تھی۔۔۔۔ڈیڈ سب کچھ کر گزرتے تھے دادا دادی کی آنکھوں کا تارا تھا
پھر بھی میں ڈرگز کے نشے کی لت میں بری طرح پھنس گیا
ایسا کے ایک دن بھی بنا ڈرگز کے گزرتا تو لگتا تھا جان نکل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں کسی کو بھنک بھی نہیں لگنے دی۔۔۔ایک دفعہ مام کو شک ہوا تو میں بری طرح ڈر گیا بھلے کتنا بھی آزاد ماحول ملا ہو لیکِن میں جانتا تھا کے مام ڈیڈ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔۔
میں نے ضد کرکے ہاسٹل جوائن کر لیا۔۔۔
ایک ہی شہر میں ہو کر بھی ہاسٹل میں رہنے پر ڈیڈ راضی نہیں ہوتےتھے پر مام نے میری ضد کی وجہ سے اُنہیں منا لیا۔۔
ہاسٹل میں میرے لیے آسانی ہوتی گئی کھلے عام سب کچھ کرتے ہوئے مجھے کوئی ڈر نہیں رہا۔۔۔۔کِسی کی پرواہ نہیں تھی
کالج بس نام کو ہی رہ گیا تھا اصل جینا تو بس ڈرگز کی خاطر تھا۔۔۔۔
سینئر سٹوڈنٹس میں سے کچھ لڑکے ڈرگز سپلائے کرتے تھے میری پاکٹ منی میری قیمتی چیزیں سب کم پڑنے لگی تھیں۔۔۔۔مام سے پیسے مانگتا تو وہ مجھے ڈیڈ کی چوری سے پیسے بھیج دیتیں۔۔لیکِن پھر اُنہوں میں بھی سوال کرنے شروع کر دیے کے آخر میں اتنے پیسوں کا کرتا کیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اتنی بری طرح دھنس چکا تھا اُس دلدل میں کے ڈرگز کے بدلے خود کو بھی بیچنا پڑے تو بیچ دیتا۔۔۔
داؤد شیرازی اُن لوگوں کے آگے بھیکاریوں کی طرح منتیں کرتا۔۔۔
وہ لوگ جھڑکتے۔۔۔۔دھکیلتے۔۔۔۔مزاق اڑاتے لیکن مجھے کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا سوائے اسکے کے اگر ڈرگز نہیں ملی تو میری سانس نہیں چلے گی
ایسے ہی ایک دن جب مجھے ڈرگز کی سخت ضرورت تھی اور وہ لوگ ایک سنسان جگہ بلا کر مجھے پیسوں کے لیے مار رہےتھے۔۔
اُس وقت ساحل نے مجھے آکر بچایا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس نے خود نے بھی اُن لوگوں سے بہت مار کھائی تھی۔۔۔۔
مجھے تو بہت ڈر لگتا تھا اُن لوگوں سے لیکِن و کسی سے ڈرتا نہیں تھا اپنے سے بڑے اور اُن خطرناک لوگوں سے بھڑ گیا تھا۔۔۔
مجھے وہاں سے بچا کر نکال لایا تھا ۔۔۔۔
لیکن مجھے پتہ تھا اب میرا باہر نکلنا بھی مشکل ہو جائے گا وہ لوگ مجھ سے بدلہ ضرور لیں گے۔۔۔
ڈرگز نا ملنے کی ٹینشن تو تھی ۔
ساتھ اپنی جان کی بھی فکر ہونے لگی
میں بہُت گھبرایا ہوا تھا اُس نے مجھے سمجھایا کے مجھے ڈرنے کی بجائے ہمت سے لڑنا چاہیے ۔۔لیکِن میں لڑنا وڑنا نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔مجھے پتہ تھا میں اُن سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
اُس نے مجھے صلاح دی کے میں پولیس کمپلینٹ کر دوں لیکِن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا ورنہ میرے ڈرگز والی بات گھر تک پہنچ جاتی۔۔۔۔۔۔
اور یہ سوچ کر ہی مجھے ڈر لگتا تھا۔۔۔۔کے اگر مام ڈیڈ کو پتہ چلا تو کیا ہوگا
میں اُس کی بات انسنی کرکے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔میرا ایک ایک لمحہ عذاب کی طرح گزر رہا تھا ایک تو ڈرگز کی طلب نے مجھے پاگل کر دیا تھا اوپر سے اس بات کا ڈر کے میرے ہاسٹل سے نکلتے ہی وہ لوگ مجھے مار دیں گے مجھے قید ہونے پر مجبور کئے ہوئے تھا۔۔۔۔
لیکن جب میری طلب میرے دماغ پر حاوی ہو گئی تو جان کا ڈر بھول گیا اور میں آدھی رات کو اُن لوگوں کے پاس پہنچ گیا ڈرگز کے لیے کیوں کے اُن کے سوا مجھے کسی دوسرے کا پتہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اُن لوگوں نے مجھے مارا تو نہیں لیکِن میری بے بسی کا فائدہ اٹھا کر مجھ سے دوگنی قیمت مانگی میں نے ان لوگوں سے تھوڑا وقت مانگا تو انہوں نے مجھ سے ایک کام کرنے کی شرط رکھی۔۔۔۔۔۔اُن کے دیے مال کو مجھے ایک جگہ پہنچانے کا کام سونپا جس میں بہت رسک تھا۔۔
شاید وہ لوگ اس طرح مجھ سے بدلہ لینا چاہتے تھے
لیکن میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اسلئے میں راضی ہو گیا۔۔۔۔۔پولیس کو شاید پہلے سے شک تھا اسلئے جیسے ہی میں اُس بار میں اُن لڑکوں کے دیے ڈرگز لیے پہنچا اس جگہ کو پولیس نے گھیر لیا میں بہُت بری طرح گھبرا کر افرا تفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے بھاگا لیکن پولیس میرے پیچھے تھی ۔۔۔
اگر میں پکڑا جاتا تو میرا بچنا مشکل تھا۔۔۔۔۔
اُس وقت دوسری دفعہ مجھے ساحل نے بچایا۔۔۔۔۔اتفاق سے قسمت نے پھر اُسے میری مصیبت کے راستے میں بھیج دیا تھا اُس نے مجھے ایک سیف جگہ چھپا لیا جہاں پولیس مجھ تک نہ پہنچ سکے۔۔۔۔۔۔۔
میں نے اُسے ساری بات بتا دی جس پر وہ کافی غصّہ ہوا اورمجھے بہُت سنایا۔۔۔
لیکِن مجھے برا نہیں لگا بلکہ دو بار مجھے مصبیت سے بچانے کے لیے میں اُس کا احسان مند ہو گیا تھا۔۔۔
میں نے اُس سے دوستی کرلی۔۔۔زبردستی کی
(وہ ہنسا)
اُس کے تاثرات بلکل بھی میرے ساتھ دوستی کے حق میں نہیں تھے ۔۔۔۔
اُس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک چور ہے ۔۔۔اُس کا نام ٹونی ہے۔۔۔۔۔ممبئی کے دھاراوی میں رہتا تھا۔۔۔اور ہر ہفتے میں دو بار جیل ضرور جاتا تھا۔۔۔۔۔
دھیرے دھیرے ہی سہی اُس کی اور میری دوستی ہو گئی تھی۔۔۔شروع شروع میں وہ بیزاری سے بات کرتا تھا بعد میں اُس کا رویہ میرے ساتھ اچھا ہو گیا۔۔۔۔۔لائف تھوڑی نارمل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔میں اُس سے روز ملتا رہتا تھا اُسے اپنے ساتھ کلب وغیرہ لیجاتا رہتا تھا۔۔اُس کی چوری میں حصہ بھی لیتا تھا
میری ڈرگز کی عادت کا اُسے پتہ تھا اُس کے سامنے ہی میں سب کرتا تھا وہ مجھے کچھ نہیں کہتا تھا لیکِن خود کبھی میرے کہنے پر بھی نشا نہیں کرتا تھا۔۔۔۔
مجھے میرے دوستوں کے ذریعے دوسرے ڈرگز سپلائر کا راستہ مل گیا تھا
وہ لڑکے کہیں انڈر گراؤنڈ ہو گئے تھے کیوں کے اُنہیں پولیس کا ڈر تھا لیکِن میرے ہاتھوں اُن کا بہت نقصان ہو چکا تھا میں جانتا تھا۔۔۔
لیکن مجھے کوئی ڈر نہیں تھا کیوں کہ اب میرے ساتھ ٹونی تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہُت بعد میں مجھے بتایا تھا کے اُس کا اصل نام ساحل ہے۔۔۔۔اُس کی ماں اُسے پانچ سال کی عمر میں ایک ٹرین میں چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔اُسے کچھ یاد نہیں تھا سوائے اس کے کہ اُس کا نام ساحل ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ممبئی پہنچ کر دوسرے کے رحم پر پلتے پلتے اُن کے راستوں پر چل پڑا تھا۔۔۔چور بن گیا تھا۔۔۔۔۔
دو وقت کی روٹی کے ساتھ اُسے ناجائز اور لا وارث ہونے کے تانے ملتے رہتے تھے لیکن اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔
چودہ سال کی عمر میں بھی وہ بہُت سنجیدہ تھا۔۔۔۔بڑوں کی طرح باتیں ہمت شاید اُس عمر میں کسی میں نہیں ہوتی۔۔۔
ہم بہُت اچھے دوست بن گئے تھے۔۔۔وہ ہاسٹل میں بھی اکثر میرے ساتھ رہتا تھا۔۔۔۔کالج میں بھی ملنے آتا تھا۔۔۔اپنی چوری کی باتیں اور لاک اپ سے بھاگنے کے قصے سناتا تھا
ایک دفعہ ڈیڈ مجھ سے ملنے آئے میں خوش ہو کر اُن سے ملنے لگا لیکن اُنہوں نے ایکدم سے میرے منہ پر تھپڑ مار دیا۔۔۔۔۔پہلی دفعہ شاید ڈیڈ نے ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔۔
میری حیرت کے بدلے اُنہوں نے جواب دیا کے اُنہیں میری ڈرگز کی عادت کے بارے میں پتہ ہے۔۔۔۔
میری روح فنا ہو گئی تھی جان کر۔۔۔۔۔
میں انکار کرتا رہا۔۔۔۔
نہیں ڈیڈ یہ سچ نہیں ہے۔۔۔۔جھوٹ ہے۔۔۔میرے دوست سے پوچھ لیں۔۔۔۔
ساحل میرے ساتھ تھا اُس کا سہارا لینے کی کوشش کی۔۔۔۔اُسے اپنا گواہ بنانے کی کوشش کی
ڈیڈ نے ساحل کی طرف دیکھا اور غصے سے مجھے ایک اور تھپڑ مار کر کہا کے اسی نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔۔۔۔
مجھے پہلے سے بھی زیادہ زور کا جھٹکا لگا وہ ایسے سکون سے کھڑا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔۔۔۔
ڈیڈ نے مجھے بہت سنایا لائف میں سب سے زیادہ بے عزت بس اُسی وقت ہوا تھا میں۔۔۔۔
مجھے زبردستی گھر لے آئے۔۔۔۔۔
پر گھر میں یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔۔
مجھے ساحل پر اتنا غصّہ تھا کے بس نہیں چل رہا تھا اُس کا کیا کروں۔۔۔۔
دوست ہو کر اُس نے میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیا تھا۔۔۔
ڈیڈ کو لگا گھر آنے سے اُن کے ڈرانے سے ڈرگز چھوڑ دوں گا لیکِن چھوڑتا تو تب جب میرے لیے ممکن ہوتا۔۔۔۔
میں چند دن اُنہیں یقین دلا کر کے میں اُن کے سمجھانے سے لائن پر اچکا ہوں چوری چپکے پھر سے اپنا کام جاری کر چکا تھا۔۔۔۔۔رات کواپنے کمرے میں اور دن کو کالج میں ایسے کے کسی کو پتہ نہ چلے۔۔۔
اُس کے چند دن بعد جب ساحل کالج میں مجھ سے ملنے آیا تو میں نے اُسے بہت مارا بہُت دھمکیاں دی۔۔۔کے آخر دوست ہو کے اُس نے میری پیٹھ پر وار کیوں کیا۔۔۔
تو اُس نے اپنے حق میں بس اتنا کہا کے دوست ہو اس لیے کیا ورنہ کبھی نہ کرتا۔۔۔۔
سیدھی سی بات تھی کے وہ مجھے اس دلدل سے نکالنا چاہتا تھا مجھے بچانے کی کوشش کر رہا تھا اسلئے ڈیڈ کو بتایا تاکہ وہ مجھے روک لیں
لیکن مجھے اُس وقت یہ بات اپنے حق میں نہ لگی اور میں نے اُسے صاف لفظوں میں جتا دیا کے اُس سے اب میرا کوئی تعلق نہیں مجھے اُس جیسے دوست کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
اُس کے تاثرات سے لگا نہیں کے اسے کوئی فرق پڑا ہوگا لیکِن میں جانتا تھا اُسے دکھ ضرور ہوا ہے
میرے لیے اُس کا قصہ ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔و ایک بیکار مطلبی دوست بن کر میری لائف کے صفحوں سے مٹ چکا تھا۔۔۔
لیکن قسمت ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔
بلکہ ہونا تو کچھ اور ہی تھا۔۔۔۔۔۔
مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کے وہ میرے لیے نہیں بلکہ میں اُس کے لیے مطلبی ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔
اُس کے کیے احسان پر اپنی ساری زندگی اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہو کر گزارنے والا تھا
اُس نے خشک لبوں پر زبان پھیری اور گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کیا۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦