Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 89

اٹھ گئی تم نانو کی لاڈو تھوڑی دیر اور سوجاتی یار۔۔۔۔
صبح کے گیارہ بجے وہ جاگ کر کالج جانے کی تیاری کیے نیچے آئی تو شیرین نے خطرناک انداز میں اُسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ اُس کے چڑے ہوئے انداز پر اُس پل کو یاد کرکے جب وہ اُسے بارہا آوازیں دے رہی تھی اور ساحل اُسے روکے ہوئے تھا نظریں جھکا کر مسکرائی ۔۔۔
سوری بھابھی میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔۔بس اسلئے پتہ نہیں چلا۔۔۔۔۔۔
وہ خلاف مزاج بے حد دھیمے کمزور لہجے میں بولی۔۔۔۔
ادھوری نیند اور بھوک کے ساتھ اُس کے جانے کی اداسی نے بھی طبیعت کو بوجھل کر دیا تھا
اور دیور جی۔۔۔۔۔اُن کی بھی طبیعت خراب ہے کیا۔۔۔۔
عشرت نے اُس سے شولڈر ٹکراتے ہوئے آہستہ اور زو معنی انداز میں کہا۔۔تو اُس کی دھڑکنیں منتشر ہوئی۔۔۔۔۔
وہ تو کہیں باہر گیا ہوا ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے لاپرواہی برتتے ہوئے کہا لیکن لاکھ چاہ کے بھی اپنے بدلتے احساس کا اثر پوری طرح چھپا نہیں پائی۔۔۔
کہاں گیا ہے ۔۔۔۔۔۔
عشرت نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔آپ بتائیے نا کچھ کام تھا آپ دونوں کو مجھ سے۔۔۔
وہ کندھے اچکا کر کہتی بات کا رخ بدل گئی ۔۔
کل سے ہمارا سرپرائز تمہاری وجہ سے پینڈنگ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔اور تم اپنی ہی دنیا میں گم ہو۔۔۔۔
شیرین کا غصّہ ابھی بھی کم نہیں ہو رہا تھا وہ اُسے گھور کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے ڈرائنگ روم میں لائی جہاں دادی اور باقی سب بھی موجود تھے۔۔۔
عشرت بھی جلدی جلدی دونوں کے پیچھے آئی۔۔۔۔
دادی اب تو نین بھی یہاں ہے اب تو آپ ہمیں گفٹ دیں گی نہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دادی کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے اُن کا پیر دبا کر مسکا لگانے لگی تو عشرت نے بھی جلدی سے اُن کی دوسری سائیڈ جگہ بنا لی ۔۔۔کے کہیں سرپرائز سے محروم نہ رہ جائے۔۔۔۔یا کوئی کمی نہ رہ جائے۔۔
نین مسکرا کر دونوں کو دیکھتی سامنے رابعہ بیگم کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔۔
دادی نے مسکرا کر دونوں کی بیتاب بے چین نظروں کو دیکھا اور فلک کو اشارہ کیا تو وہ ٹیبل پر بڑا چھوٹا سا لیکن خوبصورت باکس اٹھا کر اُن کے پاس لے آئی۔۔۔۔
اور اُس باکس کو دیکھتے ہی عشرت اور شیرین کی آنکھیں چمک اٹھی دھڑکنیں بڑھ گئی۔ ۔۔
دادی نے اُس باکس کو کھولا تو اُس میں ایک ہی جیسے بہت سارے کڑے تھے ۔۔وہی کڑے جو خوابوں میں بھی عشرت اور شرین کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے۔۔۔۔۔۔
دادی نے پہلے اُن دونو کی کلائی میں کڑے پہنائے اور پھر نین اور فلک کو بھی اپنے پاس بلا کر وہی کڑے اُن کے ہاتھوں میں ڈالے۔۔۔۔
اب خوش۔۔۔۔۔
شیرین اور عشرت کے خوشی سے چمکتے چہرے دیکھ اُنہوں نے مسکرا کر پوچھا
بہت خوش دادی۔۔۔۔الٹرا خوش ۔۔۔۔یہ دیکھیں میرے ہاتھ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں۔۔۔۔
شیرین زوروں سے اُن کے ساتھ لپٹ کے اُنہیں اپنا ہاتھ دکھانے لگی۔۔۔
ہاں لیکِن میرے ہاتھ زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔۔۔ہے نہ دادی۔۔۔۔
عشرت کہاں پیچھے رہنے والی تھی وہ بھی خوشی خوشی چہکی تو سب مسکرائے
اچھا نانو میں کالج جا رہی ہوں۔۔۔۔۔
عشرت اور شیرین کو ایک دوسرے کو منہ بناتے دیکھ وہ ہنس کر نانو کے پاس سے اٹھنے لگی تو اُنہوں نے روکا
کیا بات ہے بیٹا۔۔۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اتنی بجھی بجھی سی کیوں لگ رہی ہو۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کے چہرے اور سرخ آنکھوں کو بغور دیکھتے ہوئے اُس کے ماتھے کو چھوا
کچھ نہیں نانو کل بارش میں بھیگ گئی تھی شاید اس لیے تھوڑا ڈل فیل ہو رہا ہے۔۔۔پر میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ تھام کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔
چلو پہلے ناشتا کرلو۔۔۔پھر جاؤ جہاں جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے سر ہلاتے ہوئے اُسے آرڈر دیا اور عشرت اورشیریں کو اپنی سیلفیز لینے میں مگن دیکھ تاسف سے سر ہلا گئیں۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦
یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے اگر تم اپنے پرسنل میٹرز کی وجہ سے مشن پوسپون نہیں کرتے تو اب تک وہ سب ہماری حراست میں ہوتے۔۔۔۔۔
اُمید کی مطابق سب سے پہلے اُس پر بھڑکنے والا شاد ہی تھا۔۔۔
اُسے خود یہ جان کر بہُت غصّہ آرہا تھا کے چوبیس گھنٹے میں سارا پلان برباد ہو گیا تھا۔۔۔اُن لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ باخبر ہو کر نہ صرف فرار ہو گئے تھے بلکہ بہت ضروری ثبوت بھی مٹا چکے تھے۔۔۔۔
اور اس کے پیچھے کِسی اندر کے ہی شخص کا ہاتھ تھا جو اُن کے ساتھ غداری کرکے دشمنوں کو الرٹ کررہا تھا ۔۔۔۔۔لیکن فلحل ساحل کا دیر کرنا اُس کی غلطی بن گیا تھا کے اگر کچھ گھنٹے پہلے وہ لوگ وہاں پہنچے ہوتے تو کم سے کم آگے بڑھنے کی کوئی لیڈ ملنے کا چانس تھا۔۔۔
تمہارے اس چوبیس گھنٹے کے چکر میں مہینوں کی محنت برباد ہوگئی۔۔۔اتنی مشکل سے جن تک پہنچے تھے اُن میں سے ایک مر گیا اور دوسرا غائب ہوگیا۔۔۔۔
ہمارے پاس بس لکیر رہ گئی ہے پیٹنے کو اب پیٹتے رہو۔۔۔۔۔۔
شاد کا غصّہ عروج پر تھا اور اس سب کا ذمےدار اُسے صرف ساحل ہی نظر آتا تھا ۔۔۔
ان سب باتوں سے زیادہ اگر اس بات پر دھیان دیا جائے کے اُن لوگوں کو پتا کیسے لگا تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔
شاد کا غصّہ اُس کی برداشت سے باہر ہونے لگا تو وہ ضبط سے بولا۔۔
بلکل ۔۔۔۔۔۔بہتر تو وہی ہوگا جو آپ کہے گے سر۔۔۔۔کیونکہ یہ ڈیپارٹمنٹ آپکے حساب سے ہی تو چل رہا ہے۔۔۔۔
شاد نے دانت بھینچے چبھتے انداز میں کہا تو اُس کے تاثرات بگڑے
دیکھ تو لمٹ مت کراس کر۔۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھا کر سرد لہجے میں وارن کرنے لگا تو شاد سے بھی برداشت نہیں ہوا۔۔
Shut up you both۔۔۔۔۔
چیف کی سخت آواز پر دونوں کو چُپ ہونا پڑا۔۔۔جب کے دونوں اب بھی ایک دوسرے کو آنکھوں سے وارن کر رہے تھے۔۔۔۔
شرم آنی چاہیے تم دونوں کو یوں آپس میں لڑتے ہوئے۔۔۔۔۔
بجائے یہ سوچنے کے کہ اب آگے کیا کرنا ہے تم لوگ جو ہوچکا اُس پر بحث کر رہے ہوں۔۔۔۔
چیف نے دونوں کے بار بار جھگڑے کو نظر انداز کیا ہوا تھا لیکن ایسی سچویشن میں اُن کا بحث کرنا بری طرح ناگوار گزرا ۔۔۔ایک تو دونوں قابل تھے لیکن ایک دوسرے کے سخت خلاف تھے ایک دوسرے کوبلکل برداشت نہیں کرسکتے تھے۔۔۔
ساحل کو تو ہمیشہ سے یہی لگا کے وہ پوزیشن میں اُس سے کم ہونے کی وجہ سے فرسٹیٹڈ ہے لیکن وجہ بس یہی تھی کے ساحل کا منمعاني کرنا اور رولز توڑنا اُسے پسند نہیں تھا۔۔۔
سر مجھے پتہ ہے کے آگے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔۔۔
میں جو کروں گا اپنی مرضی سے کروں گا۔۔۔۔ میرے کام میں کوئی انٹر فیئر نہیں کرےگا۔۔
کون مجھے جوائن کرےگا کون نہیں یہ بس میں ڈیسائڈ کروں گا۔۔۔
اُس نے شاد کو غصے سے دیکھ کر اپنا رخ چیف کی جانب کرتے ہوئے سنجیدہ سرد لہجے میں کہنے سے زیادہ جتایا
شاد چیف کے سنجیدگی سے اپنی جانب دیکھنے پر مسکرایا
بات ہی ختم۔۔۔۔ باس نے بول دیا۔۔۔۔
ہنس کے طنز اُس پر اچھالتا اُس کمرے سے باہر نکل گیا
تمہیں شاد پر شک۔ہے۔۔۔۔
اُس کے جاتے ہی چیف نے اُلجھ کر پوچھا
نو سر۔۔۔۔لیکن میں فلحال ہر طرح سے احتیاط کرنا چاہتا ہوں کیوں کے یہ کئیں بار ہو چکا ہے اور اب اسے نظر انداز کرنا بیوقوفی ہوگی۔۔۔۔۔
اُس نے سر نفی میں ہلا کر جواب دیا ۔۔۔
وہ اُس آرگنائزیشن تک پہنچنے کے لیے اپنے زہن میں ساری پلاننگ ترتیب دے چکا تھا لیکن اب وہ یہ چیز واضح کرکے دشمنوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دے سکتا تھا۔ ۔۔۔۔۔
کیوں کے پچھلی کئی بار ہوئی غلطیوں کے بعد یہ تو سمجھ آگیا تھا کے دشمن طاقت اور چالاکی میں کِسی طور کم نہیں ہے ۔۔۔
وہ بھی اپنے نزدیک بڑھتے قدم کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتا ہے۔۔
اُس لیے ساحل نے اب اُس تک پہنچنے کے لیے ایک نیا راستہ چنا تھا جو بہُت مشکل اور خطرناک ثابت ہونے والا تھا ۔۔۔۔
لیکن اُسے خود پر اتنا یقین تھا کے اس راستے وہ اپنے مقصد اور ملک کے دشمنوں تک پہنچ جائے گا۔۔۔
وہ دشمن جو اپنے مفاد کے لیے اپنے ہی ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ خود گناہ کرکے عام لوگوں کی زندگی یا تو چھین لیتے ہے یا دشوار کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔
غیر ملکی دشمنوں سے کئیں زیادہ اندر چھپے غداروں کی وجہ سے ملک خطرے میں پڑتا ہے ۔۔۔
اور کرما کا کام اُنہیں غداروں کو ختم کرنا ہے۔۔۔
♦♦♦♦♦
آیا نہیں وہ کمینہ اب تک۔۔۔۔۔۔
وہ لیکچر آف ہونے کے بعد کینٹین آکر تھکے تھکے انداز میں چیئر پر بیٹھی تو صبا نے گیٹ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
نین نے چونک کر اُسے دیکھا
کون کمینہ۔۔۔۔۔۔
نین نے پیشانی پر بل ڈالے اُسے دیکھا
ارے وہی تمہارا ہنسبنڈ
صبا اُس کی طرف دیکھ کر ہنسی نین کے تیور اچانک بگڑ گئے سست طبیعت ایکدم سے چست ہوگئی
اٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خود کھڑی ہو کر سرد لہجے میں بولی صبا نے نا سمجھی سے اُسے دیکھا
اٹھ اُدھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اونچی آواز میں بولی صبا ہڑبڑا کے اٹھ کھڑی ہوئی کینٹین میں موجود سب اُن کی طرف متوجہ ہوئے
تیری ہمت کیسے ہوئی اس کو کمینہ بولنے کی۔۔۔۔۔۔۔
نین نے كمر پر ہاتھ رکھے اُسے کڑے تیوروں سے گھورا۔۔۔
تم بھی تو۔۔۔۔ اُسے ایسے ہی بولتی ہو نہ
صبا اپنی گھبراہٹ مٹاتے ہوئے بولی
ہاں تو وہ میرا ہسبنڈ ہے شوہر ہے گھر والا ہے
میں اُسے کمینہ بولوں کتا بولوں۔۔۔۔۔یا گالی دے کے بلاؤں میری مرضی لیکِن کوئی اور نہیں بلا سکتا سمجھی
Because my gharwala is my gharwala
None of your gharwala۔۔۔۔
وہ لڑاکا طیارہ بن کے صبا پر ٹوٹ پڑی صبا گھبرا کے کرسی پر ٹک گئی۔۔۔
Nonsene۔۔۔۔۔
وہ اُسے سخت گھوری سے نواز کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
پیچھے سب حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے_
♦♦♦♦♦♦♦
وہ دِن بھر بار بار اس کا نمبر ڈائل کرتی رہی لیکن سوئچ آف بتاتا رہا ۔۔۔اتنے دنوں میں پہلی دفعہ تھا جب وہ اُس سے دور گیا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کی کمی کو ایک ایک لمحہ شدت سے محسوس کر رہی تھی شاید بہُت قریب آکر ایکدم دور ہوگیا تھا اسلئے۔۔۔۔۔۔
شاید اپنے لمس سے مہکا کر اپنی صورت دیکھنے سے محروم کردیا تھا اسلئے۔۔۔۔
بہت دیر تک سب کے ساتھ بیٹھی رہی تاکے دل اُس کے خیال سے بھٹک جائے لیکِن کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔سب نے اُس کی خاموشی کو نوٹ کیا اور بار بار وجہ بھی پوچھی۔۔۔لیکِن وہ ٹالتی رہی ۔۔۔۔۔
رات گہری ہونے لگی تو سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تب اُسے بھی مجبوراً اپنے روم میں آنا پڑا۔۔۔
دل کی طرح وہ کمرہ بھی ویران لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہاں کی ہر شے خالی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔دل بری طرح بے چین ہو رہا تھا۔۔۔۔ڈھیروں اندازے۔۔۔ہزاروں تسلیاں وہ اپنے دل کو بخش کر بھی بے سکون تھی۔۔۔
چینج کرکے بیڈ پر آئی تو گزری رات کے خیال سے سانسوں میں اُس کی مہک تازی ہوتی محسوس ہُوئی
بستر میں تپش کے احساس سے بدن تپنے لگا۔۔۔۔۔۔بے چینی بڑھنے لگی۔۔۔دل بھرنے لگا۔۔۔۔
آنکھیں جلنے لگی۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔
اُس نے بے بسی سے لب کاٹے
آنکھوں میں دھیرے سے آنسُو بھرنے لگے۔۔۔
جنہیں بکھرنے سے پہلے ہی وہ پلکوں میں جمع کرتی فون اٹھا کر ایک دفعہ پھر اُس کا نمبر ملانے لگی
شدت سے دعا کی کے اس دفعہ لگ جائے اور بس ایک بار اُس کی آواز سن لے تو دل پرسکون ہو جائے۔۔۔۔
یہ خالی پن بھر جائے
وحشت میں کچھ کمی آۓ ۔۔۔
لیکن اس دفعہ بھی جب آس خالی لوٹی تو نازک سا دل ٹوٹ گیا۔۔۔
بےجان بدن سے بستر پر لیٹ گئی
ضبط مشکل ہوا اور بند آنکھوں سے آنسُو ٹوٹ کر گرنے لگے۔۔۔۔۔۔
بس ایک دن کی دوری نے بتا دیا کے وہ اُس کے دل میں کس حد تک مقام بنا چکا ہے کہ وہ اُس کی کمی کو بلکل برداشت نہیں کر پا رہی۔۔۔۔۔۔
وہ شاید نیند لگنے تک روتی رہتی لیکن فون کی رنگ نے اُس کے ہر احساس سمیت آنسوؤں کو بھی رکنے پر مجبور کیا۔۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کر فون دیکھنے لگی تو کوئی ان نون نمبر تھا لیکن پھر بھی اُس کے زوروں سے دھڑکتے دل نے احساس دلایا کے فون کرنے والا کون ہے۔۔۔۔
اُس نے لرزتی اُنگلیوں سے سکرین کو چھو کر کال اکسیپٹ کی اور سانسوں کو معتدل کیا تاکہ وہ ذرا بھی اُس کی بےچینی بے سکونی نوٹ نا کرسکے۔۔۔
۔۔۔۔کون۔۔۔۔
اُس نے جان کر بھی انجان بننے کی کوشش کی لہجے کو بے تاثر رکھے لا پرواہی ظاہر کرنے کی کوششں کی۔۔۔۔۔
Its me۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے جواب میں دھیرے سے کہا تو اُس کی ہلکی سی آواز بھی نین کے دل میں سکون بن کر اتری۔۔۔۔۔۔۔
کون میں۔۔۔۔ٹھیک سے بتاؤ۔۔۔۔۔
اب کے وہ بلکل اپنے اصل روپ میں تھی۔۔۔۔اور اُس کے لہجے پر وہ مسکرا کر سامنے رکھی فائل بند کرکے پوری طرح اُس کی جانب متوجہ ہوا
میں۔۔۔۔اپنی بیوی کے ماما کا بیٹا۔۔۔
سر صوفے سے ٹکائے مسکراتے لہجے میں بولا ۔۔۔
اچھا تو فرصت مل گئی تمہیں فون کرنے کی۔۔۔۔۔صبح سے کہاں لگے ہوئے تھے اپنا فون سوئچ آف کرکے۔۔۔۔۔۔سچ سچ بتاؤ راؤڈی کس کے ساتھ اتنے ضروری کام پڑ گیے ہیں تمہیں جو اتنا مصروف ہو گئے۔۔۔
باقی سب ٹھیک ہے لیکن اینرجی تھوڑی کم ہے۔۔۔۔روئی تھی نا تم۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر اُس کی آواز اُس کا لہجہ لفظوں کے اُتار چڑھاؤ سب کچھ جانچ کر سنجیدگی سے بولا
تو نین کا دل دھڑکتے دھڑکتے رکا۔۔۔۔۔۔لب سانس لینے کو کھلے۔۔۔
بات کو گھماؤ مت جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو ورنہ تمہاری خیر نہیں۔۔۔۔
وہ اپنے کمزور پڑتے دل اور لہجے پر قابو پاتی زبردستی کی سختی دکھانے لگی۔۔۔۔
خیر تو اب ویسے بھی نہیں رہی۔۔۔
ساحل نے سر پیچھے گرا کر آنکھیں بند کرکے کھولتے ہوئے شدتِ جذب سے مدھم ہوتے لہجے میں کہا تو نین کے لیے اب مزید کچھ کہنا غصّہ کرنا سختی کرنا دھمکانا سب نا ممکن ہوگیا۔۔۔ وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔۔
دھیرے سے پیچھے ہو کر سر تکیے پر رکھے لیٹ گئی اور اُس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی۔۔
بہت غلط کیا ہے تم نے میرے ساتھ۔۔
وہ چند پل اُس کی دھیمی سانسوں کی آہٹ محسوس کرتا رہا اور پھر سلگتے لہجے میں بولا تو جہاں اُس کے لہجے کی تپش سے نین کا حلق خشک ہوا وہیں اُس کی بات پر اُلجھن کی لکیریں پیشانی پر پڑی۔۔۔۔۔
میں نے کیا کیا۔۔۔
وہ اُنگلی سے بستر پر لکیر بناتی بے حد دھیرے سے پوچھنے لگی ۔۔۔ جواب کی راہ میں دل سمٹ گیا۔۔۔
بتا دوں۔۔۔۔۔۔
اُس نے دلسوز لہجے میں کہتے ہوۓ اُس کے دل کو دُگنی قوت سے دھڑکنے پر مجبور کیا۔۔۔
نئ مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔صبح بات کریں گے۔۔۔۔۔۔
اُس کے لہجے کی سنگینی کو محسوس کرکے دھڑکنیں منتشر ہونے لگی تو نین نے تکیے کو مُٹھی میں بھینچا۔۔۔۔۔
ہم کچھ دن ۔۔۔۔۔۔بات نہیں کر پائے گے۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں کھولیں اور بہُت ہمت کرکے کہا کیوں کے یہ بات خود بھی سوچ کر دل پریشان ہو رہا تھا کے کیسے وہ اس دوری کو سہہ پائے گا جس کے چند گھنٹوں نے ہی بہُت کچھ باور کروا دیا تھا۔۔۔
کچھ دن۔۔۔لیکن تم چار پانچ دن میں واپس آجاؤ گے نا۔۔۔۔
اُسے اب تک جو اندازہ تھا اسی کے مطابق بولی تو ساحل کے لب سختی آپس میں جڑے۔۔۔
اگر دیر ہوجائے تو بھی تم پریشان مت ہونا۔۔۔۔
اُس کے چار پانچ دِن کہنے کے بعد وہ ہمت نہیں کرپا یا یہ کہنے کی کے شاید مہینہ بھی گزر جائے شاید اُس سے بھی زیادہ وقت لگ جائے۔۔۔
تمہاری باتیں سن کے ڈر لگ رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔تم ہو کہاں۔۔۔۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔
وہ اُس کے دھیمے لہجے میں ہلکی سی جھجھک محسوس کرکے سیریس ہو کر پوچھنے لگی۔۔۔۔وہ لب بھینچ گیا۔۔۔
ٹینشن ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔چپ مت رہو۔۔
وہ اُس کی خاموشی پر پریشان ہو کر جھجھکتے ہوئے بولی۔۔۔
You Trust me۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گہری سانس خارج کرکے بھاری گمبھیر لہجے میں پوچھا۔۔
ہاں۔۔۔۔
نین نے لمحے میں جواب دیا لیکن آہستہ آواز میں۔۔۔
کچھ بھی ہوجائے تم مجھے غلط مت سمجھنا۔۔۔۔بہُت ساری باتیں ہے جو تم ابھی نہیں جانتی۔۔۔ میں تمہیں واپس آکر سمجھاؤں گا ۔۔۔
بس ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔وقت کتنا بھی بدل جاے میں تمہارے حق میں کبھی نہیں بدلوں گا ۔۔۔آخری سانس تک نہیں بدلوں گا۔۔۔
وہ سنجیدہ جذبات میں بھیگے لہجے میں بولا تو نین کی دھڑکنیں کانوں میں گونجنے لگی۔۔۔
اُس کے لفظوں میں جتنا سکون تھا اتنی ہی جزبیت بھی تھی ۔۔۔
I believe۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔اور دھیرے سے جواب دیا۔۔۔۔
اب سوجاؤ۔۔۔گڈ نائٹ۔۔۔
وہ اپنے بھٹکتے دل اور احساس کے زیرِ اثر۔۔۔۔ لبوں کو تر کیے بولا تو نین ایکدم سے اٹھ بیٹھی
سنو۔۔۔۔۔
فوراً اُسے پکارا اس سے پہلے کے وہ فون بند کردے۔۔۔
بس,۔۔۔۔ دو منٹ اور بات کرلیں ہم۔۔۔۔۔
اُس کے فون بند کرنے کی بات سے ہی نین کا دل پھر بے چینی کی اور بڑھنے لگا۔۔۔۔
کیا بات کریں۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کا بدلتا لہجہ اُس کی لرزش اور تڑپ محسوس کرکے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔
اُسے لگا وہ دو منٹ اور اُسے سنتا رہا تو پھر اُس کی طرف پلٹنے پر مجبور ہوجائے گا۔۔۔
جو دل چاہے۔۔۔۔۔
نین نے بیتابی سے کہا۔۔
جو دل چاہ رہا ہے وہ کال پر نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
اُس نے بلکل۔دھیمی آواز بے بس انداز اور آنچ دیتے لہجے میں کہا تو وہ اُس کی غیر موجودگی میں بھی پلکیں جھکا گئی۔۔۔۔
بے قابو دھڑکنوں نے لفظوں کو بے زور کردیا تو خاموشی نے جگہ بنا لی۔۔۔
لیکِن خاموشی میں بھی عجیب سی تپش تھی جس کے احساس سے نین کا وجود تپنے لگا۔۔
I think ۔۔۔۔۔its too late we have to sleep now۔۔۔
وہ دل پر ہاتھ رکھے کڑے دل سے بولی۔۔۔۔۔اگر اُس کی غیر موجودگی نا قابلِ برداشت تھی تو باتیں بھی پر سوز تھی اور خاموشی بھی ۔۔۔۔۔
Ok good night۔۔۔
اُس کا اپنا دل ڈگمگا رہا تھا ۔۔۔۔اور وہ کچھ بھی غلط ہونے سے پہلے دھیان اُس کی طرف سے ہٹانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
سنو۔۔۔۔
لیکن ایک دفعہ پھر پکار کر نین نے اُس کی دھڑکنوں کو اپنی رو سے بھٹکایا۔۔۔۔اُس نے ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں بند کی اور نچلا لب اندر لیا۔۔۔
I۔۔۔۔۔۔۔
نین نے ساری ہمت جمع کرکے دل کی بات زبان پر لانے کی کوشش کی لیکن جھجھک اور تیز ہوتی سانسیں رکاوٹ بننے لگی۔۔۔۔۔
بس ایک ادھورے لفظ ۔۔سانسوں کی سرگوشی اور خاموشی نے ساحل کو ان کہی بات کا اشارہ دے دیا۔۔۔۔ اُس نے آنکھیں کھولیں اور دل و جان سے اُس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔اُس کے لبوں سے اظہار سننے کو بدن کے ریزے ریزے میں قوتِ سماعت سما گئی۔۔۔
I’ll miss you۔۔۔۔
نین سے ہمت نہ بندھی تو الفاظ اور بات دونوں بدل دیے۔۔۔
لیکن تب بھی اُس کے لرزتے دھیمے لہجے نے ساحل کا دل پوری قوت سے اپنی جانب کھینچا۔۔۔۔
I love you۔۔۔۔۔
اُس نے ایک پل کی خاموشی کے بعد بھاری گمبھیر سرگوشی کی تو اُس کے الفاظ نین کو اپنی رگوں تک سرائیت کرکے خون میں شامل ہو کر پورے بدن میں گردش کرتے محسوس ہوئے ۔۔۔۔دورانِ خون بڑھا تو سانسیں بھی تیز ہوئی جس کی آہٹ دوسری جانب بھی با آسانی سنائی دی۔۔۔
اُس نے فون کان سے ہٹا کر کال بند کی اور جلتے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
اپنے اُس لمحے کی بے اختیاری پر غصّہ آیا جس میں وہ کمزور پڑ کے اپنی ہی بنائی دوری ختم کر گیا تھا۔۔۔۔اُس کے اتنے قریب آگیا تھا کے اب دوری جان لے رہی تھی اور قربت طلب بنتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
اُسے اندازہ تھا کے اگلے دن رات اُس کے لیے بہت مشکل ہونے والے ہے۔۔۔لمحہ بہ لمحہ یہ طلب بڑھنی ہے۔۔۔۔لیکن سوائے صبر و ضبط کے کوئی حل نہیں تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆