Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
Episode 31
شیرازی مینشن میں قدم رکھتے وقت فلک کا دل بہُت زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔رات کے بارہ بجنے والے تھے اور گھر میں بلکل سناٹا تھا۔۔۔۔۔۔
سب لوگ پکنک سے واپس آکر تھکے ہارے اپنے اپنے کمرے میں بے سود پڑے تھے۔۔۔۔
ڈور بیل کی آواز پر رابعہ بیگم نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔
اُنہیں داؤد پہلے ہی اپنے آنے کا بتا چکا تھا اس لیے وہ اب تک جاگ رہیں تھی
سامنے داؤد کو دیکھ کر اُن کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔
وہ فوراً اُس کے گلے سے لگی ۔۔۔۔۔داؤد نے آنکھیں بند کرکے کھولیں اور مسکرایا۔۔۔اس اُمید سے کے شاید و اپنی ماں کو راضی کرلے گا
رابعہ بیگم کی نظر جب فلک پر پڑی تو اُسے حیرت سے دیکھتے ہوئے پیچھے ہوئی
یہ لڑکی کون ہے داؤد۔۔۔۔۔
اُنہوں سے سر سے پیر تک فلک کو دیکھا ۔۔۔۔۔نیلے رنگ کے سوٹ میں دوپٹے کو سر پر لپیٹے۔۔۔خوبصورت لیکِن بہُت ہی سادہ سی فلک سر جھکائے کھڑی تھی۔۔
مام۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گلا تر کرتے ہوئی اُنہیں دیکھا۔۔۔۔۔
یہ فلک ہے۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔مطلب
اُسے اپنی بات بیان کرنے کے لیے لفظ ہی نہیں مل رہے تھے فلک کو مزید گھبراہٹ ہونے لگی
کیا بات ہے داود۔۔۔
رابعہ بیگم نے نا سمجھی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
مام میں نے فلک سے نکاح کر لیا ہے۔۔۔۔ یہ میری بیوی ہے
اُس نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا اور رابعہ بیگم آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھتی رہی۔۔,
وہ اُن کے یوں دیکھنے پر سر جھکا گیا
میرے ساتھ آؤ۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اس خيال سے کے نین یا زینب میں سے کوئی یہ سب نا جان لے اُسے اپنے کمرے میں آنے کو کہا۔۔۔۔اور خود آگے چل دیں۔۔۔
اس نے فلک کی جانب دیکھا اور آنکھوں سے تسلی دیتے ہوئے اُسے ساتھ لیے رابعہ بیگم کے کمرے میں پہنچا ۔۔۔
عبّاس صاحب وہاں موجود نہیں تھے شاید وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے
کیا مذاق کیا ابھی تم نے میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُسے اپنے سامنے کھڑے کرتے ہوئے غصے سے پوچھا
مام یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں میں نے آپ کو بناء بتائے اتنا بڑا فیصلہ لے کر بہُت غلط کیا ہے۔۔۔۔لیکِن سچویشن ہی کچھ ایسی تھی کے مجھے اچانک ہی یہ قدم اٹھانا پڑا۔۔۔ورنہ میں آپ سے چھپا کر فلک سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ تھامے اُنہیں سمجھانے لگا
داؤد تمہیں اندازہ بھی ہے تم کیا بول رہے ہو۔۔۔۔تمہاری منگنی ہوچکی ہے نین سے۔۔۔۔۔شادی ہونے والی ہے تم دونوں کی۔۔۔۔۔اور اچانک تم ایک انجان لڑکی کو میرے سامنے لا کر اپنی بیوی بتا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔دِماغ جگہ پر ہے تمہارا کے اگر کسی کو پتہ چلا تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔ابھی کے ابھی اس لڑکی کو وہاں چھوڑو جہاں سے لائے تھے۔۔۔۔۔
رابعہ نے اُس کا ہاتھ جھٹک کر دور کیے غصے سے فلک کی جانب دیکھا جو ہنوز سر جھکائے کھڑی تھی
جب کے اُن کی آخری بات پر داؤد کی پیشانی پر بل پڑے
شاید آپ نے ٹھیک سے سنا نہیں مام۔۔۔۔
فلک میری بیوی ہے۔۔۔۔
میں نے فلک سے شادی جلد بازی میں کی ہے۔۔۔۔مجبوری میں نہیں۔۔۔۔۔۔
میں اس سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔یہ اب میری زندگی کا حصہ ہے ۔۔۔یہ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔
اُس نے اُنہیں فلک کی اہمیت جتاتے ہوئے کہا
اور نین اُس کا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے بتاؤگے اُسے۔۔۔۔۔۔کیا گزرے گی اس پر۔۔۔۔۔۔۔اور سوچا ہے تمہاری پھُوپھی پر کیا گزرے گی۔۔۔یہ تم نے کیا کر دیا داؤد
رابعہ بیگم پریشانی سے سر تھام گئیں اُنہیں کُچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے اچانک سے یہ کیا ہو گیا
۔نین بہُت سمجھدار ہے مام۔۔۔وہ مجھے معاف کردے گی ۔۔۔۔۔۔پھُوپھی اور باقی سب کو بھی میں منا لوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ اُنہیں سمجھاتے ہوئے بولا رابعہ بیگم نے اُسے کڑی نظروں سے دیکھا
بس داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لڑکی نا تمہاری بیوی ہے نہ میں اسے اپنی بہو مانو گی۔۔۔۔۔۔میرے لیے صرف نین ہی میری بہو ہے۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کو میں اس گھر میں نہیں رہنے دوں گی۔۔۔۔
اورتم۔۔۔۔۔اتنا سب سننے کے بعد کھڑی کیا ہو نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے داؤد کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے فلک کی جانب دیکھ کے ناگواری سے کہا۔۔فلک نے سہمی نگاہوں سے اُنہیں دیکھا
مام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلک سے اس طرح بات مت کیجئے ۔۔۔
اور یہ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔۔۔میری بیوی کی حیثیت سے اس گھر میں میرے کمرے میں رہے گی۔۔۔۔۔
اگر آپکو اس کے یہاں رہنے سے پرابلم ہے تو ٹھیک ہے میں اسے لے کر کہیں اور شفٹ ہو جاؤں گا۔۔۔۔
وہ غصّہ کنٹرول کیے بولا رابعہ بیگم بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی کیوں کے وہ بحتبدی دھمکی دے گیاتھا
اس لڑکی کے لیے ۔۔۔تم اپنی ماں اپنا گھر۔۔۔۔اپنی فیملی سب چھوڑ دو گے۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے حیرت اور تاسف کا اظہار کیا۔۔
اگر آپ کو فلک کا یہاں ہونا گوارہ نہیں ہے تو مجھے ایسا کرنا پڑیگا مام۔۔۔۔۔کیوں کے اسے خود سے الگ تو میں نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُنہیں باور کرتا فلک کا ہاتھ تھامے وہاں سے باہر نکل گیا اور رابعہ بیگم اُسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔۔
اُنہیں فلک سے بے انتہا نفرت محسوس ہوئی۔جِس نے اُن کے بیٹے کو اتنا اُن سے دور کر دیا تھا۔۔۔۔۔کے وہ اُس کے لیے سب چھوڑنے کو تیار تھا
وہ فلک کو اپنے روم میں لے آیا۔۔۔اور بے بسی سے سر تھامے صوفے بیٹھ گیا کیوں کہ اُسے اپنی ماں کو منانا اتنا آسان نہیں لگ رہا تھا اور ابھی تو فلک کے بارے میں اُنہیں کچھ پتہ نہیں تھا تب وہ اتنا غصّہ تھی۔۔۔۔اگر معلوم ہوتا تو جانے کیا کرتیں
اُس کا دھیان اچانک فلک کی طرف گیا تو سر اٹھا کر اُسے دیکھا وہ وہیں کی وہیں کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔بے تاثر نظروں میں
اُس نے جو سوچا تھا وہ سچ ثابت ہوا تھا اُس کے آتے ہی داؤد کی زِندگی میں پریشانی آگئی تھی۔۔۔۔۔
وہ داؤد کے لیے بھی مشکل بن گئی تھی۔ ۔۔۔
داؤد گہری سانس لیتا اٹھ کر اُس کے پاس آیا
تم یہیں رکو۔۔۔۔۔۔۔میں تمہارے لیے کھانے کو لے کر آتا ہوں۔۔۔
اُس نے فلک کو بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا اور خود روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے لیے کھانا گرم کرکے روم میں لایا لیکِن وہ روم میں نہیں تھی۔۔۔۔۔وہ حیران ہوا کیوں کے فلک کو اچھی طرح جانتا تھا
کھانے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر واشروم کی طرف بڑھا
فلک۔۔۔۔۔
دروازے پر دستک دیتے ہوئے اُسے پکارا لیکِن کوئی جواب نہیں آیا تو دروازہ کھول کر دیکھا لیکِن وہ واشروم میں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
وہ اب صحیح معنی میں پریشان ہو چکا تھا۔۔۔۔دل گھبرا کر دھڑکنا بھولا اور وہ بالکنی ڈریسنگ روم میں بھی اُسے نا پاکر کمرے سےباہر نکلا۔۔
چاروں طرف نظر دوڑائی لیکِن اُسے فلک کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔۔
اُسے اندازہ تھا کے فلک کتنی کمزور دل ہے۔۔۔
کہیں کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے یہ دھڑکا اُسے ھمیشہ لگا رہتا تھا۔۔۔۔اس وقت بھی پریشانی سے اُس کے ماتھے پر پسینہ آنے لگا
فلک۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے پکارتا ہوا گھر کے گارڈن میں تلاش کرنے لگا لیکِن و وہاں بھی نظر نہیں آئی تو گیٹ اور کھڑے واچ مین کی طرف بھاگا
میرے ساتھ جو لڑکی آئی تھی اُسے دیکھا تم نے۔۔۔۔۔
اُس نے تیز ہوتی سانسوں کے درمیان پوچھا
جی سر۔۔۔۔اس طرف گئی ہے۔۔۔۔۔
واچ مین نے گیٹ سے دائیں جانب کی سڑک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔وہ فوراً اُس سمت بھاگا۔۔۔۔۔
رات کا وقت تھا۔۔۔۔۔چاروں طرف اندھیرا اور سناٹا تھا۔۔اُس کے لیے انجان جگہ تھی۔۔۔۔اُسے نا راستوں کا پتہ تھا نا منزل کا لیکِن بس یہاں سے دور نکل جانا چاہتی تھی تاکہ اُس کا برا سایا داؤد کی زِندگی سے دور ہو جائے۔۔۔۔۔وہ سیدھی سڑک پر سست قدموں سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔۔۔۔اور دل میں داؤد کو ایک بار پھر تکلیف دینے کا افسوس تھا۔۔۔
خاموشی میں اُسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ ایکدم سے رک گئی۔۔۔۔۔پیچھے پلٹ کر دیکھا تو داؤد اُسے دیکھ کر اطمینان محسوس کرتا کچھ فاصلے پر ہی رک گیا تھا۔۔۔
وہ سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
داؤد اپنی بے ترتیب سانسیں بحال کرتا خفا نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
تم جا رہی ہو نا مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہت آہستہ سے پوچھا فلک نظر جھکا گئی وہ آہستہ قدم بڑھاتا اُس کے پاس آیا
جاؤ۔۔۔۔۔
میں تمہیں نہیں روکوں گا۔۔
وہ پر درد نگاہیں اس کے چہرے پر ٹکائے اُداسی سے بولا
فلک نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اپنے لیے ڈھیروں شکایتیں تھی
کیونکہ ہمیشہ سے میں تمہیں روک ہی تو رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
کبھی مرنے سے روک رہا ہوں
کبھی ڈرنے سے روک رہا ہوں
کبھی رونے سے روک رہا ہوں
لیکن آج میں تمہیں اپنے لیے نہیں روکوں گا۔۔۔
کیوں کے یہ لڑائی تو صرف میری ہے۔۔۔
تم نے تو مجھ سے محبت کی ہی نہیں۔۔۔
دل تو صرف میں نے لگایا ہے۔۔۔۔۔۔
تو میں کس حق سے تمہیں روکوں۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے بس انداز میں بولا۔۔اور فلک کو اُس کی یہ بے بسی بلکل اچھی نہیں لگی
ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔میری وجہ سے آپ اپنی ماں کا دل دکھائیں اُن کے گناہ گار بنے میں یہ کبھی نہیں چاہوں گی۔
وہ روتے ہوئے اپنی صفائی دینے لگی
میں اُن کا دل دکھا رہا ہوں تو اُنہیں منا بھی لوں گا۔۔۔۔۔۔
میں غلط نہیں ہوں۔۔۔مجھے میرا ہمسفر چننے کا حق خدا نے دیا ہے۔۔۔۔اور میں نے اپنے لیے تمہیں چنا ہے۔۔۔میں تمہیں پا کر مکمل ہو چکا ہوں
اگر میری مام یہ بات نہیں سمجھ رہی تو میں کیا کروں
وہ اُس کے صفائی دینے پر غصے سے بولا فلک کو اُس کے سخت لہجے پر مزید رونا آیا
آپ کیوں مجھ میں خود اُلجھا رہے ہیں۔۔۔۔۔
میں آپ کے قابل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔
میرے پاس آپکو دینے کے لیے کچھ بھی تو نہیں ہے۔۔
میں تو اپنا سب کچھ کھو کر آئی ہوں۔۔۔۔
میں خود ادھُوری ہوں آپ کو کیا مکمل کروں گی۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی داؤد نے تھکے تھکے انداز میں آنکھیں بند کرکے کھولیں
آپ بہُت اچھے انسان ہے۔۔۔۔۔
آپ کے لیے کوئی بہت اچھی لڑکی ہی بنائی ہوگی خدا نے۔۔۔۔
جس کے تن اور من پر بے شمار زخم نہیں ہوگے
جس کے پاس آپ کو دینے کے لیے سب کچھ ہوگا
جس کے ماضی کی پرچھائیاں آپ کی زندگی پر سیاہی نہیں پڑنے دیگی۔۔
آپ کی ماں نے آپ کے لیے جِسے چنا ہے اُسے اپنا لیجئے
اُن کی بات مان لیجئے۔۔۔۔۔یہی صحیح ہے
وہ بے بسی سے اُسے سمجھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اور داؤد بنا پلک جھپکے اُسے دیکھ رہا تھا
اگر تمہیں یہ لگتا ہے کے تمہارے یہاں سے چلے جانے پر میں ایسا کچھ کروں گا تو یہ بھی کرکے دیکھ لو۔۔۔۔
کیوں کے میری زندگی میں اب تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔۔۔۔
نا نین نا دنیا کی کوئی اور لڑکی ۔۔۔۔۔میرے جیتے جی تو یہ ممکن نہیں ۔۔۔۔
شاید تم نہیں جانتی لیکِن جب بات محبت کی آتی ہے تو اچھے برے سے بہُت آگے نکل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
میرے لیے تم میرے سکون کا سبب ہو۔۔۔۔۔جِسے میں دور نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو تھامے اُسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا
میں آپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی
وہ نظریں چرا کر بولی اپنی جلد بازی میں یوں اُسے پریشان کرنے پر بہُت شرمندگی ہوئی
لیکِن تم میرا دل دکھا چُکی ہو۔۔۔۔۔وہ بھی بہُت بری طرح۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ گناہ نہیں ہے۔۔۔
وہ فوراً بولا اُس کا چہره ہاتھ سے اوپر اٹھا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شکوہ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فلک کو ہے حد ندامت محسوس ہوئی
داؤد اُس سے دور ہو کر اُسے ناراض نظروں سے دیکھتا واپس جانے کے لیے پلٹ کر اُس سے دور ہونے لگا
مائے لوو۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایکدم سے پکارا اُس کی آواز داؤد کے دل میں گونج اٹھی۔۔۔۔اُس کے لبوں کو مسکراہٹ چھو کر گزر گئی۔۔وہ اُس کی جانب پلٹ کر سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
مجھے معاف کر دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نم نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی
ایسے معاف نہیں کر سکتا پاس آکر میرے گلے لگ کر معافی مانگو تو سوچوں گا۔۔,۔۔۔
وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔۔فلک رونا بھول کر اُسے دیکھنے لگی
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے منہ سے حیرت سے نکلا اور اپنے آس پاس دیکھا۔۔
وہ۔لوگ بیچ سڑک پر کھڑے تھے۔۔۔۔۔ممبئی کے پوش علاقے میں بنی سوسائٹی میں سارے بڑے بڑے بنگلے بنے ہوئے تھے۔۔۔۔
جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔داؤد نے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔۔
وہ سر جھکا گئی۔۔۔بہُت ہمت کرکے اُس کے قریب آئی ۔۔۔اور لب کاٹنے لگی
داؤد نے اُسے اپنے بازؤں میں لیتے ہوئے خود سے قریب کرکے اُس کی مشکل آسان کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے معاف کر دیجئے ۔ ۔۔۔۔۔۔میں آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گی۔۔۔۔
وہ دوبارہ سے بولی اور اور جلدی سے پیچھے ہو کر ہاتھ اُس کے سینے میں ہٹایا
کل صبح میں سب کو سچ بتا دوں گا اور دیکھنا پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
نین کو میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔وہ ہماری سچویشن ضرور سمجھے گی۔۔۔۔اُس کے بعد مام کو تو وہ خود ہی منا لیگی۔۔۔۔دیکھنا تم
داؤد اُسے تسلی دیتا ہوا آہستہ سے اُس کی آنکھوں سے نمی صاف کرنے لگا
اب تو آپ نے مجھے معاف کر دیا نا۔ ۔۔
وہ اُس کی جانب دیکھ کر بولی
اتنی آسانی سے کیسے۔۔۔۔۔۔تمہیں ہر روز مجھے یوں ہی ھگ کرنا ہوگا جیسے ابھی کیا تھا۔۔۔۔تبھی معافی ملے گی۔۔۔۔مائے لوو
وہ شرارت سے کہتے ہوئے مسکرایا تو وہ سر جھکا گئی
اب واپس گھر چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے اُس کے پوچھنے پر سر ہاں میں ہلا دیا
کھانا لایا ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔۔کھا لو تھوڑا۔۔۔۔۔میں ابھی آیا۔۔۔۔
وہ کمرے میں آکر کھانے کی ٹرے اُس کے آگے رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔اور خود ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔ ۔۔۔۔
ایزی سوٹ پہنے باہر آیا تب تک فلک ویسے ہی بیٹھی تھی۔۔
اُسے اب یہ خیال پریشان کر رہا تھا کے اُسے آج داؤد۔ کےساتھ اُس کے کمرے میں سونا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کا دل یہ سوچ کر گھبرا رہا تھا
داؤد اُسے یونہی بیٹھے دیکھ آکر اُس کے ساتھ بیٹھا اور نوالہ بنا کے اُس کی طرف بڑھایا
میرا دل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا داؤد نے اُسے گھور کر دیکھا تو اُس نے منہ کھول کر اُس کے ہاتھ سے نوالہ لیا۔۔وہ اُسے کھانا کھلانے کے ساتھ خود بھی کھانے لگا۔۔۔
کھانے سے فارغ ہو کر وہ ٹرے اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔فلک نے چاروں طرف نظر گھما کر دیکھا تو وہ کمرہ اُن کے پورے گھر کے برابر تھا ۔۔۔۔۔۔اتنا صاف ستھرا۔۔۔۔اتنا خوبصورت کے ایک ایک چیز بس دیکھے جانے کے لائق تھی۔۔۔۔۔
سفید اور آسمانی رنگ کی کثرت تھی۔۔۔
دیواروں کا رنگ۔۔۔پردے ۔۔۔فرنیچر پینٹنگ سب سفید اور آسمانی رنگ کے امتزاج میں تھے
بے حد خوبصورت۔۔۔۔۔۔اور سراہنے کے قابل
وہ دروازہ کھول کر واپس اندر آیا۔۔۔۔
بہت رات ہو رہی ہے چلو جلدی یہاں آکر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔داؤد نے بیڈ پر اُس کے لیے تکیا سیٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
وہ پریشان سی اُسے دیکھنے لگی اور ہچکچاتے ہوئے اُس کے بیڈ پر بیٹھ گئی
آپ ۔۔۔۔کہاں سوئیں کے۔۔۔۔۔۔
اُس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
میں یہاں ۔۔۔ ۔۔۔آپ کے پاس۔۔۔۔۔
داؤد نے بیڈ کی دوسری سائیڈ لیٹتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔
وہ گھبرا کے نظریں چرائے انگلیاں مروڑنے لگی
ڈونٹ وری میں رات کو نیند میں ہاتھ پیر نہیں چلاتا۔۔۔۔
تمہیں کوئی پرابلم نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔سو جاؤ۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا تو وہ سر تکیے پرر رکھ کر اُس کی طرف چہرہ کیے لیٹ گئی۔۔۔۔اُسے داؤد پر اب اتنا تو بھروسہ تھا کے آنکھیں موند کر اُس کے کہے پر یقین کر سکتی تھی۔, لیکن دل میں ایک خوف بھی تھا۔۔۔۔۔جو اتنی آسانی سے ختم ہونا ممکن نہیں تھا
داؤد کروٹ اُس کی جانب کیے سنجیدگی سے اُس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔اُس کے اتنے قریب اپنی مکمل دسترس میں ہونے کے احساس سے انجانے جذبات بیدار ہونے لگے۔۔۔۔۔۔
دل بے ایمان ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔
نظریں بھٹک کر اُس کی آنکھوں سے لرزتے لبوں پر آئی۔۔۔
اور اُس کی گہری نظروں کی تپش سے فلک کا گلا سوکھنے لگا۔۔۔پلکیں لرزنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بڑھتی دھڑکنوں پر ہاتھ رکھ کر خود میں سمٹنے لگی۔۔۔
ہاتھ پکڑ لوں تمہارا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بھاری سرگوشی پر فلک نے حیرت سے آنکھیں کھولے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔۔وہ جواب کا انتظار کیے بغیر اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بیڈ پر رکھا اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے انگوٹھے سے ہتھیلی سہلانے لگا۔۔۔۔۔۔
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کے میں بیوی کے معاملے میں اتنا شریف ثابت ہونے والا ہوں کے اُس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے بھی اجازت لوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ دھیمے لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا
فلک کو اُس کی اُنگلیوں کے حرارت دیتے لمس سے عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔گھبراہٹ سے جسم پسینہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اُس کی نظریں اپنے ہاتھ اور داؤد کی حرکتِ کرتی اُنگلیوں پر ہی ٹکی تھی۔۔۔۔۔۔
داؤد اُس کے ایک ایک ایکسپریشن کو نوٹ کر رہا تھا اور اُس کی دلی کیفیت کو بخوبی سمجھ رہا تھا۔۔۔۔۔
فلک نے ایکدم سے اپنا ہاتھ کھینچ کر اُس سے آزاد کیا۔۔۔
اور گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی قربت کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اپنی زندگی کے اُن دردناک لمہوں کا خوف اُس کوشش اور حاوی ہو رہا تھا
۔اُس نے پلکیں اٹھا کے داؤد کی جانب دیکھا تو اُس کی آنکھیں بند تھی
یا شاید اُسے دکھانے کے لیے بند کر چکا تھا
∆∆∆∆∆∆∆∆
رابعہ بیگم ساری رات جاگتی رہیں تھی۔۔۔۔۔اُن کے دل کو ایک پل سکون نہیں تھا۔۔۔۔۔وہ بس یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہیں تھی کے داؤد کو کس طرح روکے۔۔۔۔۔فلک کو اُس کی زندگی سے کیسے نکالے۔۔۔۔۔۔
جو ترکیب اُن کے دماغ میں آرہی تھی وہ اُن کی نظر میں غلط تھی کیوں کے اس کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا
لیکن اس وقت وہ بس کسی بھی طرح فلک اور داؤد کی شادی کا قصہ ختم کرنا چاہتی تھیں۔۔۔اور یہ ایک ہی صورت میں ہو سکتا تھا اگر نین کی شادی داؤد سے ہو جاتی
کیا بات ہے بھابھی کیا سوچ رہیں ہے آپ۔۔۔۔۔زینب نے اُنہیں پریشان دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
وہ چونک کر زینب اور اپنی ساس کو دیکھنے لگیں
زینب تم سے ایک بات کہوں۔۔۔۔انکار تو نہیں کروگی۔۔۔۔
اُنہوں نے زینب کا ہاتھ تھامتے ہوئے حسرت بھرے انداز میں پوچھا
بتائیں نا بھابھی کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے اُن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا
ہم سب نے فیصلہ کیا تھا کے دو سال بعد داؤد اور نین کی شادی کریں گے لیکن میں چاہتی ہوں کے اب نین جلد سے جلد میری بہو بن جائے
اُنہوں نے بغیر اِدھر اُدھر کی باتیں کیے سیدھے مدے کی بات کی زینب اور زہرہ بیگم دونوں حیران رہ گئیں
کیوں نہ تم لوگ اپنا لندن جانے کا پروگرام کینسل کرکے کچھ دِن اور یہاں رک جاؤ۔۔۔۔میں اب نین کو یہاں سے جانے نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔۔۔
دیکھو تم اسے جلد بازی سمجھو۔۔۔۔۔یا کچھ بھی کہو لیکن میں چاہتی ہوں کے نین اور داؤد کی شادی اسی مہینے ہو جائے۔۔۔۔اب مجھ سے اِنتظار نہیں ہوتا
رابعہ بیگم نے اُن کی حیرانی بھانپ کر اپنی بات پر زور دیا
لیکِن بھابھی یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔۔اتنے اچانک۔۔۔۔۔۔نین ابھی بچی ہے۔۔۔۔اُسے گھرداری کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔۔۔۔۔اُسے تو بات کرنے کا ڈھنگ نہیں۔۔۔ اور ابھی تو وہ پڑھ بھی رہی ہے ۔۔۔۔ایسے ایکدم سے شادی۔۔۔
زینب نے پریشانی سے اپنی ماں کو دیکھا
دیکھو زینب میں تمہاری مشکل سمجھتی ہوں لیکن تم بلکل فکر مت كرو۔۔۔۔نین کو یہاں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔۔۔وہ بس ایک گھر سے دوسرے میں ہی تو جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور پڑھائی بھی آسانی سے کر سکتی ہے یہاں۔۔۔۔۔کیوں امی
رابعہ بیگم نے اپنی ساس کو اپنی سائیڈ لینا چاہا اُنہوں نے مسکرا کر سر ہلا دیا
رابعہ بلکل صحیح کہہ رہی ہے ۔۔۔۔۔دوی سال بعد بھی تو شادی ہونی ہے جلدی ہوجائے تو کتنا ہی اچھا ہوگا۔۔۔۔۔میرا بھی بڑا دل ہے کے اب نین یہیں میرے پاس رہے۔
اُنہوں نے بھی محبت بھرے لہجے میں کہا تو زینب اپنی ماں کو دیکھتی رہ گئی
بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔یو اچانک اتنی جلدی سب تیاریاں کیسے ہوگی ۔۔۔
مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔۔۔
زینب اُلجھ کر باری باری دونوں کو دیکھنے لگی
تیاریوں کا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ سب ہو جائے گا تم بس ایک بار ہاں تو کہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ نین سے بھی ایک بار پوچھ لو۔۔۔۔وہ کیا چاہتی ہے
رابعہ بیگم نے بے تابی سے کہا تو وہ سر ہلا گئیں
ٹھیک ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔لیکِن مجھے پہلے وقار سے بات کرنی ہوگی ۔۔
رابعہ بیگم نے اتنے سے جواب پر بھی خوش ہو کر سر ہلا دیا
