Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
Episode 6
گھر پہنچے تو ایک نئی پریشانی اُن کی منتظر تھی
آبان اور اُس کے ماں باپ گھر پر آکر واویلا کر رہے تھے۔۔
آبان سر جھکائے خاموش کھڑا تھا اُس کے باپ کے چہرے پر نا گواری اور غصّہ تھا جب کے ماں زوروں سے فلک پر بہتان کستی پورے خاندان سمیت اُسے کوسے جا رہی تھی۔۔۔۔
اماں بس کھڑی آنسو بہا رہی تھی
آس پاس کے لوگ بھی اپنی دیواروں سے کھڑے تماشے کا حصہ بن رہے تھے
لو آگئی تمہاری کلنکنی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں لڑکی کل کوئی کسر باقی ره گئی تھی۔۔۔۔جِسے پورا کرنے نکل پڑی آج اپنے محبوب کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے ارحم کے ساتھ اندر آتے دیکھ وہ اُس کی طرف آکر کڑوی نگاہوں سے گھورنے لگی
فلک کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی۔۔۔۔۔اُس نے سانس روکے ارحم کی جانب دیکھا جو اُن سب کو غصے سے دیکھ رہا تھا جب کے اُس عورت کی بات سے تو اُس کے بدن میں آگ لگ گئی
زبان سنبھال کر بات کیجئے میری بہن سے۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔
وہ غصّے سے مگر آہستہ بولا۔۔۔شمع آکر فلک کے ساتھ کھڑی ہو کر اُسے خود سے لگا گئی
واہ میاں۔۔۔۔۔۔۔بہن کو تو خود سنبھال نہیں پائے ۔۔۔۔۔اور اب ہمیں اس سے بات کرنے کی تہذیب سکھاؤگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات کرنے تو کیا یہ شکل دیکھنے لائق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اپنے یار کے ساتھ منہ کالا کرکے آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لہجے۔میں مزید حقارت لیے بولی فلک گردن جھکائے آنسُو زمیں پر گرانے لگی
تو اب آپ کیا کرنے آئی ہے یہاں۔۔۔۔۔
ارحم نے تھکے تھکے لہجے میں کہا اور آبان کی طرف دیکھا جو خاموش کھڑا تھا
پوچھنے آئی ہوں اس بے حیا لڑکی سے کے اگر اپنے یار کے ساتھ ہی بھاگنا تھا تو پہلے ہی بھاگ جاتی۔۔۔۔شادی کے دن ہمیں پوری برات کے سامنے ذلیل کیوں کروایا
ہمارے خاندان کو سب کے سامنے بے عزت کیوں کیا۔۔۔۔۔۔
میرے بیٹا یہاں برات لے کر کھڑا تھا اور خود نکل پڑی اپنے یار کے ساتھ سہاگرات منانے۔۔۔۔
وہ زوروں سے چلّا کر فلک پر بہتان باندھنے لگی ۔۔ارحم نے غصّے سے دانت بھینچے آگے بڑھ کر جواب دینا چاہا لیکن اماں اُسے روک کر خود آگے بڑھی
بہن جی بس کیجئے۔۔۔۔میری بچی کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ آدمی اُسے زبردستی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن کے لہجے میں بے بسی اور تڑپ پر فلک کا دل خون کے آنسُو رونے لگا
زبردستی۔۔۔۔بس بس ہمیں نا سکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔
آبان کی ماں اُن کی بات کاٹ کے بھڑک اٹھی
دنیادیکھی ہے ان آنکھوں سے۔۔۔۔۔گھر لڑکیوں سے بھرا پڑا تھا اور وہ صرف تمہاری اس بیٹی کو ہی کیوں لے گیا۔۔۔۔۔۔
ضرور پہلے سے ہی نین مٹکے چل رہے ہونگے
بنا شه کے کوئی مرد اتنا آگے نہیں بڑھتا۔۔۔۔۔
فلک پر ایک حقارت اور نفرت آمیز نظر ڈالتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
آبان نے بھی ایک نظر فلک کو دیکھا جو سر تا پیر بدلی ہوئی تھی اُس کا دل اپنی ماں کی باتوں سے متفق نہیں تھا لیکن اُس کے پاس کوئی لفظ نہیں تھے نا فلک میں لیے نا فلک کے خلاف
شاید اس لیے کیوں کے کسی مرد کا ظرف اتنا بڑا نہیں ہوتا کے ایک داغ کو اپنے ماتھے پر سجا لے
آبان کا باپ خاموش بیٹھا تھا بیوی جو ساری کسر پوری کر رہی تھی
خُدا کا شکر ہے جو اُس نے پہلے ہی سچ دکھا دیا ورنہ ایسی نا پاک لڑکی کو اپنی بہو بنا کے ہم تو کہیں کے نہیں رہ جاتے جانے کب سے اپنے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں منا تی آ رہی ہے
اُس عورت کا زہر اگلنا جاری تھا ارحم اُسے غصے سے گھورنے لگا اور پہلی دفعہ اُسے فلک کی شادی ٹوٹنے کا افسوس نہیں ہوا۔۔۔۔۔
ہم تو شریف لڑکی سمجھ کر اسے اپنی بہو بنانے آئے تھے اگر پہلے پتہ ہوتا کے ایسے لکشن ہے تو اس سے شادی کرانے سے بہتر اپنے بیٹے کو کنوارا ہی رہنے دیتے
ارحم نے اُن کی بات کا جواب دینے کے لیے غصے سے منہ کھولا لیکن اُس سے پہلے شمع بول پڑی
اگر کنوارا رہنے دیتی آپ تو اس کی قیمت کیسے وصول کرتی۔۔۔۔۔۔جو آپ نے میرے ابا سے وصول کی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ فلک کو تھامے غصے سے بولی۔۔۔۔۔
ارحم اس بات سے لا علم تھا وہ حیران ہوا۔۔۔اماں نے اُسے غصے سے دیکھا اور آبان نے چونک کر سر اٹھایا
اور اب جب خدا کے کرم سے آپ ایسی لڑکی کو بہو بنانے سے بچ ہی گئی ہے تو یہاں آکر بین کیوں کر رہی ہے گھر جا کر شیرنی بانٹوں نہ۔۔۔۔۔۔اور ہاں جاتے ہوۓ وہ پیسے ضرور دے کر جانا جو تم نے میرے ابا سے اپنے بیٹے کی قیمت لگا کر وصول کیے تھے۔۔۔۔۔۔
شمع نے اپنے اندر کی بھڑاس نکالی وہ جانتی تھی کے رحمت نے كس کیس طرح جگاڑ کرکے اُن کے چونچلے پورے لیے تھے
آبان کی ماں منہ آنکھیں کھول کر شمع کو دیکھنے لگی
اللہ اللہ زبان تو دیکھو اس لڑکی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضرور یہ بھی اپنی بہن کے کالے کارناموں میں اُس سے ملی ہوئی ہوگی۔۔۔
وہ شمع کو کڑوی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولنے لگی
بس کیجیے۔۔۔۔۔۔۔اور خدا کے لیے نکل جائیے اس گھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگوں کو جو بھی تکلیف ہوئی اُس کے لیے میں معافی مانگتاہوں۔۔۔۔۔۔
ارحم بے زار اور تھکے تھکے لہجے میں بولتا ہوا اندر چلا گیا آبان کی ماں نے فلک اور شمع کو دیکھ کر ہنکارا بھرا
اب بھی وقت ہے سنبھال لو اپنی بیٹیوں کو ایک تو اپنا منہ کالا کرا کر بیٹھی ہے دوسری کے بھی تیور کچھ اچھے نہیں نظر آرہے یہ نہ ہو یہ بھی کسی امیر زادے کو پکڑ کر فر ہوجائے
جاتے جاتے وہ اماں کو دیکھ کر اُن کے زخموں پر نمک مرچ لگانا نہیں بھولی۔۔۔۔۔
آبان بھی ایک نظر فلک کو دیکھتا اپنے باپ کے پیچھے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
بہادر شاہ کو خبر ملی کے ارحم نے سکندر کے خلاف کیس کیا ہے تو اُس نے غصے سے فون دیوار پر دے مارا۔۔۔۔۔۔
سکندر کی ماں گھبرا کے اُن کے غصّے سے تپے چہرے کو دیکھنے لگیں
کیا ہو گیا جی۔۔۔۔۔۔ کیوں اتنا غصّہ ہو رہے ہیں
وہ ڈرتے ڈرتے بولیں۔۔۔۔۔
تمہاری نالائق اولاد کے ہوتے ہوئے کچھ اچھا ہو سکتا ہے بھلا۔۔۔کتنی دفعہ سمجھایا تھا کے الیکشن کے بیچ میں ہمارا نام خراب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔لیکِن اس کی وجہ سے سب اُلٹ ہوگیا۔۔۔میری ساری محنت مٹی میں۔ملنے والی ہے
بہادر شاہ غصے سے بھڑک اٹھا
ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے اُن کی بات سن چکا تھا سنجیدگی سے بولا تو بہادر شاہ اُس کی طرف متوجہ ہوا
اُس لڑکی نے پولیس کمپلینٹ لکھوائی ہے تمہارے خلاف۔۔۔۔۔۔
کڑنیپنگ اور ریپ کا کیس کیا ہے تم پر۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ نے ضبط سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
اور کمپلینٹ لکھی کِس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نیلی انکھوں میں سنجیدگی لیے اُنہیں دیکھنے لگا
شاید تم نئے کمشنر کو نہیں جانتے۔۔۔۔۔ آجکل پورے علاقے کی جانچ پڑتال میں لگا ہوا ہے وہ۔۔۔۔۔۔اور اُسے خریدنا آسان کام۔نہیں ہے۔۔۔۔۔۔نا میں اس وقت کوئی رسک لے سکتا ہوں
بہادر شاہ بیزاری سے بولا جیتنے کی لالچ میں وہ اپنی امیج کو سدھارنے کے لیے بہت کوششیں کر چکا تھا اور ان سب رایگا جاتی نظر آرہی تھی
I don’t care۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزار چہرہ بنا کے کر کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔,
دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ نے غصّے سے اس کی پشت کو گھورا
جانے دیجئے وہ سنبھال لیگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی ماں نے اپنے بیٹے کا دفعہ کیا لیکن وہ ہنکار ا بھر کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
شاید ماں باپ اپنی اولاد کی غلطیوں کو اس لیے غلط نہیں مانتے کیوں کے پھر سوال اُن کی پرورش اور تربیت پر آتا ہے۔۔۔۔شاید وہ اپنے بیٹے کو بہادر اور دلیر بناتے بناتے اُسے انسان بنانا بھول جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔اُسے جیتنا سکھاتے سکھاتے دوسروں کی زندگی سے کھیلنا سکھا دیتے ہیں
اس وقت بھی سکندر کے گناہ سے زیادہ ۔۔۔۔۔ایک۔لڑکی کے برباد ہوۓ وجود سے زیادہ۔۔۔۔۔اُس کے گھروالوں کی تکلیف سےزیادہ انہیں اپنے اپنے مسئلوں کی پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ کو اپنی جیت کی۔۔۔۔۔۔
اُن کی بیگم کو اپنے بیٹے کے جیل جانے کی۔۔
اور سکندر کو اپنی ضد اپنے جنون کی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
وہ چھت پر آکر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔آج کسی چہرے کو دیکھ کر اپنے دل کو سکون پہچانے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے اندر جمع ہوۓ غبار کو تنہائی کی نظر کرنے کے لیے۔۔۔۔اُس کی سرخ آنکھوں میں ہلکی ہلکی سی نمی تھی اور چہرے پر برسوں کی تھکان۔۔۔۔۔۔۔
کبھی نقصان کا ایک ایسا لمحہ آتا ہے جس کی ہم شدّت سے واپسی کی دعا کرتے ہیں۔۔۔تاکہ اُس لمحے میں خود کو نقصان سے بچا لیں۔۔۔۔۔۔۔۔پر وقت بہت بیری ہے کبھی لوٹ کر نہیں آتا ۔۔۔۔ہمیں اُس نقصان سے بچنے کا ایک اور موقع نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔
سنسان گھر میں دروازے کی دستک چھت تک سنائی دی تو وہ اپنے خشک لبوں کو تر کرکے اٹھتا ہوا نیچے آگیا
دروازہ کھولتے ہی اُس کے چہرے پر تناؤ بڑھ گیا سکندر کو اپنی چوکھٹ پر کھڑے دیکھ اُس کے خون میں اُبال اٹھا۔۔۔۔۔
اُس اُبال نے دل میں سامنے والے کو جان سے مار دینے کا جوش بھر دیا لیکن اُس جوش کو اپنی مُٹھی میں بھینچے وہ خود کو۔روکنے لگا کیوں کے سکندر کو اتنی آسان موت دے کر اُسے آزاد نہیں کرنا تھا
سکندر اُس کے چہرے کے بدلتے تاثرات اور محظوظ ہوتا مسکرایا اور سائڈ سے اندر آگیا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کا راستہ روکتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا اماں بھی پیچھے کھڑی تھی اُن کا دل۔خوف سے دھڑک رہا تھا
تیری بہن کی پیمنٹ دینا بھول گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آہستہ آواز اور طنزیہ لہجے میں بولا۔۔ارحم نے اُس کا گریبان پکڑ کر کھینچا۔۔۔۔۔
نکل جا یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ تیرا غرور ٹوٹنے سے پہلے تیری سانس نا ٹوٹ جائے۔۔۔۔۔۔۔
ارحم سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا اُس کے منہ پر بولا سکندر ہنسا
پھر سے مت کر یار۔۔۔۔۔ایک بہن اور ہے تیری ۔۔۔اُس پر تو ترس کھا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں اُس کی ہنسی اُس کا ایک ایک انداز ارحم کے دل و جان میں زہر بن کے اترنے لگا ۔۔۔سکندر سر سے پیر تک اُس کی مردانگی پر ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اماں بھی نفرت سے اُسے دیکھنے لگی اُن کا دل اس خوشیاں اجاڑنے والے کو شدت سے بدعا دے رہا تھا
میرا بس چلے تو تجھے بوٹیوں میں تقسیم کرکے گاؤں کے چوراہے پر پھینک دوں۔۔۔۔۔
ارحم نے اُسے دھکّا دیکر پیچھے کیا
لیکن تیرا بس نہیں چلتا۔۔۔۔۔۔تو تو بس بول سکتا ہے۔۔۔
سکندر سنبھل کر اُس کے قریب آیا
وہ کیا ہے نہ تو تھوڑا شریف ہے ۔۔۔اور مجھ سے بھڑنے کے لیے اندر کمینہ پن چاہیے
مجھے دیکھ۔۔۔۔۔۔ایک ساتھ تیرے پورے خاندان کی عزت کا قیمہ بنا ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ارحم کو مزید سلگایا۔۔۔ارحم نے ایک زور دار مکّہ اُس کے منہ پر رسید کیا و لڑکھڑا کر آنگن میں پڑے برتنوں پر گرا۔۔۔۔۔اماں نے دل تھام لیا
زور دار چھنک کی آواز پر۔شمع اور فلک بھی باہر نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر کو دیکھتے ہی فلک سانس روکے پیچھے دیوار سلگ گئی اُس کے ہاتھ پیر لرزنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل دھڑکنا بھولا۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں خوف سے پتھرا گئیں۔۔۔۔۔اور اپنے جسم کے ہے انگ سے درد کی لہریں اٹھتی محسوس ہوئی
جان نکال دینے والا درد۔۔۔۔۔۔
شمع گھبرا کر اُس کو طرف متوجہ ہوئی اور اُس کا بازو تھام لیا
سکندر نے سر اٹھا کر انکھوں میں غصّہ لیے ارحم کو دیکھا لیکِن پھیر اچانک مسکرا دیا۔۔۔۔۔۔۔اور اٹھ کے کھڑا ہوتا ہتھیلی سے اپنا بازو جھٹکنے لگا۔۔۔
چل اتنا تو معاف ہے تجھے۔۔۔۔۔۔آگ جو زوروں کی لگی ہے۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے لبوں سے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔ فلک دیوار سے لگی زمین پر بیٹھتی چلی گئی اُس کے لب لرزنے لگے۔۔۔سانسیں گلے میں اٹکنے لگی۔۔۔۔۔دل سوز مناظر آنکھوں کو بھگونے لگے
شمع اپنی جگہ پر سن اُسے دیکھ کر آنسو بہانے لگی
نکل جا یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے شعلہ بار نگاہوں سے سکندر کو گھورتے ہوئے کہا
چل میں جاتا ہوں یار۔۔۔۔بس ایک باراپنی بن بیاہی دلہن کے دیدار کرنے دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ارحم کو ونک دیتے ہوئے بولا ارحم نے جبڑے بھینچے اُسے دونوں ہاتھوں سے دھکیلا وہ ہنستا ہوا دروازے کی طرف گرتا چوکھٹ کو تھام گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن نظر پیچھے فلک پر پڑی تو ہنسی تھم گئی۔۔آنکھیں سنجیدہ ہو کر اُس پر ٹہر گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔دل کے حصے میں نا معلوم سا درد محسوس ہوا
وہ سر سے پیر تک بکھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
سکندر اُس کی شادابی کو اُجاڑ چکا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی پلکیں آج بھی خوف سے لرز رہی تھی۔۔۔۔۔
سکندر کو بے خود کر رہی تھی۔۔۔۔۔
انجانے جذبوں کو ہوا دے کر بھڑکا رہی تھی
ارحم نے نفرت بھری نظر اُس کے چہرے پر ڈال کر ایک اور دھکّا دیا اور دروازہ اُس کے منہ پر بند کر دیا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
رک جا ۔۔۔۔مان لے اپنی ماں کی بات۔۔۔۔۔۔۔کیوں اُن لوگوں سے لڑنے کی ٹھان کر بیٹھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اُن کے مقابلے کے نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
بوڑھے ماں باپ اور دو بہنوں کا اکلوتا سہارا ہے تو۔۔۔۔۔۔ہم غریبوں کی کل دولت ہے۔۔۔۔تجھے کچھ کر دیا ظالموں نے تو کیسے جئے گے ہم۔۔۔۔۔۔۔
اماں اُس کا چہره تھامتے ہوئے بے بسی سے بولیں
میں کیسے جیوں گا اماں اس بوجھ کو سر پر لے کر کے میں نے اپنی بہن کو انصاف نہیں دلایا۔۔۔۔۔ایسی زندگی سے تو موت ہی اچھی ہے نہ۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ہارے ہوئے لہجے میں بولا اماں کا دل جیسے کِسی نے مُٹھی میں بھینچ لیا ہو
اُس نے نظریں اٹھا کے اپنی ماں کو دیکھا
مت روک مجھے۔۔۔۔۔جب تک اُسے اس کے انجام تک نہیں پہنچا دیتا۔۔۔میری ایک ایک سانس مجھ پر قرض ہے۔۔۔۔۔۔
دعا دے بس۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھکایا تو اماں نے کانپتا ہوا ہاتھ اُس کے بالوں میں پھیرا۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر نے ارحم اور سکندر کو پولیس اسٹیشن بلایا تاکہ اُن دونوں کی آپس میں صلح کرا سکے ۔۔
ارحم فلک کو بھی ساتھ لے کر جا رہا تھا اور اماں کا دل ہول رہا تھا کے جانے کیا ہو۔۔۔۔۔
فلک کِسی کو بتا نہیں سکتی کے اُس کے دل پر کیا گزر رہی ہے
اپنی عزت اُجڑ جانے کا غم الگ۔۔
باپ کی بیماری کا دکھ الگ۔۔
سکندر کے لیے دل میں جلتی نفرت الگ
اور اپنے بھائی کی جان کا خوف الگ
وہ چاروں اور سے گھری ہوئی تھی۔۔۔
نظریں جھکائے ارحم کے پیچھے پیچھے چلتی وہ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئی جہاں سکندر اور بہادر شاہ پہلے سے ہی موجود تھے۔۔۔۔
آیئے بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر نے فلک اور ارحم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔
سکندر چیئر جھلاتا غور سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
آپ سب میرے بلانے پر یہاں آئے اُس کے لیے بے حد شکریہ۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر اپنی جگہ سنبھالتے ہوئے بولا
سکندر صاحب ۔۔۔۔۔مس فلک نے آپ پر ریپ اور کڈنپنگ کا کیس کیا ہے۔۔۔۔کیا کہنا ہے آپ کا اس بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر نے سکندر کو مخاطب کیا فلک نے اُس کی چبھتی نگاہوں کی تپش سے ڈر کے چہره پھیر لیا
بے حجابانہ وہ سامنے آگئے۔۔۔۔۔۔۔
اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا فلک کو دیکھنے لگا ارحم کے تن بدن میں۔آگ لگ گئی اُس نے اٹھ کر ایک زور لات کرسی پر ماری سکندر کرسی گرنے سے پہلے ہڑبڑا کے اپنی جگہ سے اٹھا اور شعلہ بار نگاہوں سے ارحم کو گھورتا اُس پر جھپٹ پڑا
فلک گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔۔۔
بہادر شاہ اور انسپیکٹر نے بمشکل دونوں کو پکڑ کے مارپیٹ سے روکا
آپ دونوں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیے۔۔۔۔۔۔
میں نے یہاں بات کو سلجھانے کے لیے بلایا ہے آپ لوگ اسے بڑھانے کی کوشش مت کیجئے۔۔۔۔بیٹھئے۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر سخت لہجے میں با آواز چلایا ارحم نے سر جھٹکا اور پیچھے ہو گیا
سکندر بھی اپنی شرٹ درست کرتے واپس اپنی جگہ بیٹھ کر اُسے گھورنے لگا
دیکھیے بات اگر عدالت تک جائے گی تو آپ دونوں کے لیے ہی اچھا ثابت نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔آپکے اور آپ کے۔بزنس کے نام پر کیچڑ اچھال کر اس کی رپیو ٹیشن خراب کی جائے گی اور۔۔۔
انسپیکٹر نے ارحم۔کو دیکھا
آپ کی۔بہن کے لیے مسئلے کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جائے گے۔۔۔۔۔
اس لیے میری صلح ہے کے آپ دونوں عدالت سے باہر ہی آپسی سہمتی سے اس مسلے کو سلجھا لے
وہ دونوں ہاتھ آپس میں الجھائے تحمل سے بولا
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کو منہ بند کرنے کے لیے جو بھی قیمت چاہیے ہم دینے کو تیار ہے
بہادر شاہ فوراً بول پڑا ۔۔۔۔
مجھے منظور ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
ارحم نے آرام سے جواب دیا سکندر سمیت سن اُس کی شرط سننے کے منتظر تھے
ایک رات کے لیے شاہ صاحب اپنی بیٹی کو میرے پاس بھیجیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ذرا آہستہ سے بولا سکندر اور بہادر شاہ کے چہرے ایکدم سے رنگ بدل گئے جس سے ارحم کو بے حد سکون ملا
بھلے بعد میں۔منہ بند کرنے کے لیے میں اُسے ان کی قیمت کے ساتھ اپنا بھی سب دے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مُسکرا کر کہتا کرسی سے ٹک گیا لیکن اگلے ہلمہے سکندر نے اُس کا گریبان پکڑ کر اُسے اٹھایا
میری بہن کا نام لیگا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے منہ پر چینخ پڑا فلک نے آنکھیں زور سے میچ لی
ارحم اُس کی حالت پر ہنسا
کیوں تیری بہن کا نام بھی برداشت نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی غیرت ہے تو میری بہن کے ساتھ ذبردستی کرتے وقت خیال کر لیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولا سکندر نے سر زور سے اُس کے منہ پر مارا اُس کے حواس سن ہو گئے وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔۔۔۔سکندر اُسے مارنے کو بڑھا لیکِن بہادر شاہ نے اُسے روک لیا
آپ دونوں شانت ہو جائیے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر بھی بیچ میں آکربولا
انسپیکٹر۔۔۔۔۔میری بہن کی عزت اتنی سستی نہیں جو اس کی دولت کے آگے بک جائے۔۔۔۔۔۔۔میرے جیتے جی یہ کبھی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔اب ملاقات کورٹ میں ہوگی۔۔۔۔
ارحم اپنے زخمی لب سے خون صاف کرتا مضبوط لہجے میں بولا اور فلک کا ہاتھ تھامے وہاں سے نکل گیا
سکندر جھٹک کر اپنا آپ چھڑاتا پر سوچ نظروں سے اُسے دیکھنے لگا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
