Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 61

وہ باہر ہی لان میں کھڑا گہری سوچ میں گم گھر کے داخلی دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اُسے کوئی بہُت زیادہ لگاؤ نہیں تھا اُس گھر سے۔۔۔۔نین کے آنے سے پہلے تو وہ کم ہی گھر آیا کرتا تھا ۔۔۔۔وہ گھر بھی اُس کی زندگی میں بہت سارے بدلے سرایوں میں سے ایک تھا۔۔۔۔
لیکِن دکھ اُسے اُن لوگوں کے لیے تھا جو اُسے اُس گھر کا فرد بنا کر لائے تھے۔۔۔جنہیں اُس سے مطلب تھا
دادی۔۔۔۔۔۔عباس صاحب۔۔۔۔۔داؤد اور دونوں بچے۔۔۔۔۔۔۔
جنہیں اُس کے رہنے سے بھی فرق پڑتا تھا اور یقیناً جانے سے بھی پڑنے والا تھا۔۔۔۔۔
پہلے دن سے اُسے معلوم تھا کہ رابعہ بیگم اُسے پسند نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔لیکِن وہ یہ نہیں جانتا تھا کے اُن کی سوچیں کچھ الگ ہی جانب گھومتی تھی
عباس صاحب کا اُس سے لگاؤ اُنہیں مشکوک لگتا تھا۔۔۔۔
وہ اُسے اتنی اہمیت دیتے تھے کے وہ شک میں مبتلا ہونے لگی تھی۔۔۔کے کہیں وہ اُن کا ہی کوئی انش تو نہیں
لیکِن اُن کے سارے شک شبہات فضول تھے۔۔۔بے معنی تھے۔۔۔۔اُس کا اُن سے تعلق الگ مناسبت کا تھا۔۔۔۔۔وہ بس اُس کے کیے گیے احسان اور اپنی ایک غلطی کے پچھتاوے میں اُس کے اتنے اسیر ہو گئے تھے
کوشش کرتے تھے کے بدلے میں اُسے ایک بہتر زندگی دے سکے۔۔۔
یہی حال داؤد کا بھی تھا۔۔۔۔۔
ساحل۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے کھویا ہوا دیکھ پکارا تو اس نے بھنویں چڑھا کر نین کو دیکھا۔
تو واپس اندر جا۔۔۔۔۔میرے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتا پر سوچ لہجے میں بولا نین نے حیرت سے اُسے دیکھا
دکھاوے کے لیے بول رہے ہو نا تم۔۔۔کیوں کے اگر سچ میں تم چاہتے کے میں تمہارے ساتھ نہ آؤں تو اندر ہی منع کر دیتے۔۔۔۔لیکِن تم نے نہیں کیا۔۔۔۔۔ پھر اب یہ فورمیلیٹی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔
وہ حیرت سے بولی لیکِن واقعی یہاں ساحل کو اپنی غلطی نظر آرہی تھی کے وہ كيسے خاموشی سے اُسے ساتھ لے آیا۔۔اُس وقت کیوں اُسے یہ خیال نہیں آیا کے وہ اُسے اپنے ساتھ کیسے رکھ سکتا ہے جب کے وہ اپنے رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ لے چکا تھا۔۔۔
اُس نے نین سے دور ہونے کا اتنا صحیح موقع ہاتھ سے کیسے جانے دیا
دیکھ میں تے کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔۔تیری مامی بلکل صحیح بول رہی ہے۔۔میرا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے تیرے کو لے کر کدھر بھٹکوں گا۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا۔۔۔۔۔نین کا دماغ گھوم گیا۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں پتہ ۔۔۔۔۔تمہیں مجھے ساتھ لے کر جانا ہی ہوگا۔۔۔
اندر میں نے اتنے تڑاکے سے بول دیا کے میں جا رہی ہوں اور اب تم کہہ رہے ہو میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔
میری بھی کوئی سیلف رسپکٹ ہے کے نہیں۔۔۔۔۔۔
تُم چاہتے ہو اب میں بے غیرتوں کی طرح واپس اندر جاؤں اور بولوں سوری بڑی مامی میں نے اپنا پلان کینسل کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر بھڑک اٹھی۔۔۔شدید غصے میں مٹھیاں بھینچے ہوئے کہا
تُو پاگل ہے کیا۔۔۔۔میں کیا بول رہا ہوں سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔تو اندر جا ابھی۔۔۔
وہ بھی بدلے میں غصے سے بولا
میں اندر جاؤں گی تو تمہارے ساتھ۔۔۔۔اکیلی نہیں۔۔۔۔چلنا ہے تمہیں۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ باندھے اعلان کرتے ہوئے بولی ساحل نے غصے سے دانت بھینچتے ہوئے گاڑی کے ٹائر کو لات ماری
تیری اس لمبی زبان کی وجہ سے ہی ہوا ہے یہ سب۔۔۔ ذرا کنٹرول میں نہیں رکھتی۔۔ضرور کچھ بکواس کی ہو گی ایسے ہی۔۔۔۔۔۔
میں نے کچھ بھی غلط نہیں کہا۔۔۔۔۔ اُنہوں نے جو سوال پوچھا تھا اُس کا جواب دیا ہے بس۔۔۔۔۔میں بلکل بھی شرمندہ نہیں ہوں
وہ اُس کے الزام لگانے پر اُس کی بات کاٹ کے دھیمی آواز میں چلائی۔۔
کونسا سوال۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدہ ہو کر حیرت سے پوچھا
اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کے کیا ۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتے کہتے رکی اور خاموش ہو کر اُس کی طرف دیکھا
کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا نا۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم کیوں اُس بات پر بحث کریں۔۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ اپنے مطلب سے آگے اُنہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔۔ نا میں نا داؤد نا فلک۔۔۔۔۔
وہ ساحل کی سوالیہ نظروں سے نظریں پھیر کر اُداسی سے بولی
اُن کو تیرے سے نہیں میرے سے پرابلم ہے۔۔۔۔تو یہاں رہ سکتی ہے کوئی تیرے کو ایمبیرز نہیں کریگا
وہ اُسے سمجھاتے ہوئے بولا نین نے اُسے غصے سے گھورا۔۔۔
وہ اُسے بے شرموں کی طرح واپس اندر جانے کو کہہ رہا تھا
اُس کے گھورنے پر ساحل نے ہے بسی سے سر تھام لیا خود پر غصّہ آنے لگا کے کیوں اُسے اندر ہی ساتھ آنے سے منع کیوں نہیں کے دیا
کہاں جائے گی میری ساتھ۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر سر ہلاتے ہوئے پوچھنے لگا
جہاں بھی تم جاؤگے۔۔۔۔
نین نے منہ پھلا کر کہا
میں مرد ہوں سڑک پر بھی رات گزار سکتا ہوں میرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔
وہ جتا کر بولا۔۔۔
مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑےگا۔۔۔۔۔جب تک تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔
اُس نے ساحل کے ہی انداز میں جواب دیا۔۔
تو سچ میں کھسكيلی ہے۔۔۔۔
یہ زمین اور وہ آسمان۔۔۔۔فرق ہے نہ دونوں میں۔۔۔۔
وہ اُسے تاسف سے دیکھتے ہوئے اُنگلی کے اشارے سے بولا
ییچ فرق تیرے اور میرے میں ہے۔۔۔۔سمجھ میں نہیں آتا کیا تیرے کو۔۔۔میں تیرے کو ایسی لائف کبھی بھی نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔
ایسا گھر ایسی زندگی میرے بس میں نہیں ہے۔۔۔۔
وہ بیزاری سے جھنجھلائے انداز میں بولا۔۔۔
ماما کے بیٹے پلیز ایسی بھاری بھاری باتیں مت کرو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔
میں اندر نہیں جاوں گی۔۔۔
تمہی نا کہا تھا نا کے جب تک میرے ساتھ تمہارا نام جڑا ہے تمہیں مجھ سے فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔
تو پھر کیا اپنی بیوی کو سب کی نظروں میں شرمندہ ہوتے دیکھ فرق نہیں پڑیگا تمہیں
ایسے کیسے پیچھے چھوڑ سکتے ہو تم مجھے۔۔۔۔۔
وہ پریشان ہو کر بولی۔۔۔وہ اس وقت کسی صورت اُس گھر میں نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔اگر وہ اب واپس جاتی تو رابعہ بیگم کی کہی ساری باتیں اُن کے لیے صحیح ہوجاتی۔۔۔۔نین کا بھرم ٹوٹ جاتا۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا اور
بائیک پر بیٹھ کر بائیک اسٹارٹ کرتے ہوئے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
∆∆∆∆∆∆
آپ نے ایسا کیوں کیا مام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے بہُت ضبط سے اپنی ماں سے سوال پوچھا۔۔۔۔۔۔
اُسے گھر آکر جب یہ بات پتہ چلی تو شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔۔۔
لیکِن اُس نے بہت صبر سے کام لیا۔
تُم مجھ سے سوال نہیں کر سکتے داؤد ۔۔۔میں ماں ہوں تمہاری۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُسے غصے سے آنکھیں دکھائیں
سمجھ نہیں آتا اس بات پر حیرت کروں یا افسوس۔۔۔۔۔۔۔
داؤد سر جھکائے دکھ و افسوس سے بولا
ماتم مناؤ ماتم۔۔۔۔۔۔۔شاید اُس سے تمہیں زیادہ خوشی ملے۔۔۔۔۔میرا کلیجہ چھلنی کرنے میں کونسی کسر چھوڑی ہے تم نے۔۔۔پہلے اس دو ٹکے کی لڑکی کو لے آئے میرا دل جلانے اور اب اُس غیر لڑکے کے لیے اپنی ماں کے ہونے پر افسوس جتا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم اچانک سے روتے ہوئے بولی۔داؤد نے ضبط سے آنکھیں بند کی
ساحل سے اتنی نفرت کیوں ہے آپکو۔۔۔۔۔
وہ تاسف سے بولا۔۔۔
عبّاس صاحب خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھے تھے۔۔اُنہوں نے منہ پر چُپ لگا لی تھی۔۔۔۔۔اُنہیں اب زینب کی فکرِ ہو رہی تھی کے اُسے معلوم ہوگا تو کیا ہوگا
ہے مجھے اس سے نفرت۔۔۔۔۔میرا بیٹا اور میرا شوہر اُس کی لیے میرے مقابل کھڑے ہے مجھ سے لڑ رہے ہیں۔۔۔۔اس سے بڑھ کر کیا وجہ چاہیے مجھے
وہ غصے سے چلّا کر بولیں
مام آپ نہیں جانتی اُسے۔۔۔۔۔۔وہ نہیں ہوتا تو میں نہیں ہوتا۔۔۔۔۔میری زندگی ایسی نہیں کچھ اور ہی ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔اپنے الفاظ ضایع مت کرو داؤد۔۔۔۔یہ نہیں سمجھ سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُس کی بات کے درمیان ٹوکتے ہوئے کہا
آپ تو سمجھتے ہے نہ ڈیڈ۔۔۔۔۔
آپ نے کیسے جانے دیا اُسے۔۔۔۔۔۔
روکا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ باپ کی جانب دیکھ کر خفگی سے بولا
کیسے روکتا۔۔۔۔۔۔۔کتنے اور امتحان مانگتا اُس کے صبر سے۔۔۔۔۔۔اچھا ہی ہوا جو وہ چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔اُمید ہے اب اس گھر میں سکون رہے گا۔۔۔
وہ نظریں زمین پر گاڑے ہارے ہوئے لہجے میں بولے لیکِن داؤد نے ہار نہیں مانی
اگر وہ واپس نہیں آیا نا مام تو آپ سمجھنا کے آپ نے مجھے بھی خود سے بہت کر دیا۔۔۔
وہ اپنی ماں کو وارن کرنے والے انداز میں کہتا اُن کے روم سے نکل گیا۔۔۔۔اُسے سب سے پہلے ساحل کو ڈھونڈھ کر واپس گھر لانا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆
وہ اُسے اپنے ساتھ خود کے فلیٹ میں لے جا سکتا تھا لیکن اُس کے لیے کچھ فورمیلیٹی پوری کرنا ضروری تھا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آفیشل جگہ تھی اور وہاں اُس کے ساتھ جانے کے لیے ساحل کو اپنے ریکارڈ میں اُس کی آئیڈنٹٹی ویريفائے کرنا پڑتا۔۔۔
یہ کام وہ بعد میں بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔
کچھ دن کی مہلت لے کر فورمیلیتی کو ٹّال سکتا تھا
فلحال کے لیے کسی دوست کی جگہ بتا کر وہ اُسے وہاں لے جا سکتا تھا لیکن پرابلم یہ تھی کے وہ اُسے چھوڑنا چاہتا تھا اُسے اپنے ریکارڈ میں کبھی بھی اپنی وائف کے طور پر ایڈ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔کے اگر آگے جا کے کچھ ہو بھی۔۔۔۔ اُس کی پہچان کسی کی نظر میں بھی آئے تو نین پر خطرہ نا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیے کشمکش میں تھا کے اُسے وہاں لے جائے یا نہیں۔۔۔
اُس نے پریشان ہو کر ایکدم سے گاڑی سائیڈ کرکے روک دی۔۔۔۔۔۔
نین نے گھبرا کر اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے گاڑی کے نیچے اتری۔۔
گاڑی اتفاق سے ایک عالیشان ہوٹل کے سامنے رکی تھی
واؤ ہم یہاں رہے گے۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس ہوٹل کی اونچی بلڈنگ کو دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا ساحل نے اُس کی نظروں کا تعاقب کیا اور اُسے سخت تیوروں سے گھور کے دیکھا۔
اتنی مہنگی جگہ رہنے کی کیا ضرورت ہے لیکِن۔۔۔۔۔کوئی چھوٹا موٹا کرائے کا گھر دیکھ لیتے۔۔۔
وہ اُس کے گھورنے سے انجان اُس کی طرف دیکھ کر معصومیت سے بولی
کرائے کا گھر کیوں۔۔۔۔۔بنگلہ خرید لیتے نہ میری جان کے لیے
میرا سسر بہت امیر ہے۔۔۔۔بول۔دیتا ہوں کے بھیج دے دو چار کروڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس پر طنز کے تیر چلا کے آخر میں غصے سے دیکھتے ہوئے بولا
مطلب ہم یہاں نہیں رہ رہے۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے طنز کو اگنور کیے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔
نہیں بلکہ تو واپس جا رہی ہے گھر۔۔۔۔
وہ سامنے بہتی سڑک پر نظریں جمائے فیصلہ سنانے والے انداز میں بولا
میں وہاں نہیں جا سکتی۔۔۔شوہر کے بنا سسرال میں کوئی ویلیو نہیں ہوتی۔۔
نین نے سیریس ہو کر کہا
سسرال سے پہلے وہ تیرا ننیحال ہے ۔۔۔
ساحل نے جتا کر کہا
تُم سے کس نے کہا کہ ننھیال اپنا ہوتا ہے۔۔۔۔ننھیال میں میں بس مہمان کی حیثیت رکھتی ہوں اُس سے زیادہ نہیں
نین نے پیشانی پر بل ڈالے اُس کی بات کا جواب دیا
ٹھیک ہے تو اپنے ماں باپ کے پاس تو جا سکتی ہے نا۔۔۔۔۔وہ تو تیرا اپنا گھر ہے۔۔۔میں ٹکٹ کردیتا ہوں تیری۔۔۔ تو واپس چلی جا۔۔۔۔
ساحل نے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا نین نے اُداس ہو کر اُسے دیکھا
وہ میرا اپنا گھر کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔وہاں تو میں مہمان تھی۔۔۔۔۔۔پرائی امانت تھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنا گھر ہوتا تو اتنی آسانی سے نہیں چھوٹ جاتا۔۔۔۔
وہ نظریں نیچے کیے انگلی سے بائیک کی سیٹ پر لکیر بناتی مایوسی سے بولی۔۔ساحل سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
لڑکی کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
ماں باپ کا گھر شروع سے پرایا کہلاتا ہے۔۔۔اور سسرال اپنا سمجھنے نہیں دیا جاتا۔۔۔۔
ماں باپ کے لیے پرائے گھر کی امانت اور سسرال کے لیے پرائے گھر سے آئی۔۔۔
وہ خود کو رونے سے بعض رکھے پر درد لہجے میں بولی اور سر اٹھا کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
میرا بھی اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔۔۔۔اسی لیے تو تمہارے ساتھ جانے کے لیے تمہاری اتنی منتیں کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کے آخری الفاظ بھیگ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے پلکیں جھپکیں ۔۔۔
میں جانتاہوں ۔۔۔تو اپنے باپ سے ناراض ہے۔۔۔۔اُس نے صحیح نہیں کیا تیرے ساتھ۔۔۔۔لیکِن بھول جا اُس بات کو۔۔۔۔باپ ہے تو کیا اُس کو غلطی کرنے کا حق نہیں ہے۔۔۔۔
تیری غلطیاں بھی تو معاف کرتا ہوگا نا۔۔۔۔۔تو بھی بھول جا۔۔۔۔معاف کردے اُسے۔۔۔
وہ نرمی سے اُسے سمجھاتے ہوئے بولا
میں معاف کر چکی ہوں۔۔۔۔۔پر واپس نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔۔
وہ بنا اُس کی جانب دیکھے بات ختم کرنے والے انداز میں بولی۔
میرا گھر تیرے رہنے کے بلکل لائق نہیں ہے یار۔۔۔
وہ بہانا بنانے کی غرض سے بے ساختگی میں کہہ گیا نین نے حیرت سے اُسے دیکھا
تمہارا گھر بھی ہے۔۔۔۔۔۔تو پھر تم اتنا کیوں سوچ رہے ہو۔۔۔چلو نہ ہم وہاں چلتے ہے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولی تو ساحل کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا
تو وہاں نہیں رہ پائے گی۔۔۔۔وہ بہت پرانا مکان ہے ٹوٹا پھوٹا اور بلکل گاؤں میں ہے۔۔۔۔۔۔یہاں سے بہت دور۔۔۔
وہ بات بناتے ہوئے بولا تاکہ وہ خود ہی انکار کردے
ایڈجسٹ کر لیں گے نا۔۔۔۔۔
نین نے یقین دلا یا
نہیں ہو گا ایڈجسٹ۔۔۔۔۔وہاں بجلی پانی کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔اندھیرے میں گرمی میں رہنا پڑےگا۔۔۔۔۔جنگل کے بیچو بیچ ہے کبھی بھی جنگلی جانور حملا کر سکتےہیں
ساحل نے کچھ سوچ کر اُسے مزید ڈرانے کی کوششں کی اور کامیاب بھی ہوا
سريسلی۔,۔۔۔
وہ جنگلی جانور والی بات پر پریشان ہو کر پوچھنے لگی
ہاں نا۔۔۔نہیں تو میں کیا فالتو اپنا گھر چھوڑ کے اُدھر رہتا کیا۔۔۔۔۔۔
اُس کے گھبرانے سے ساحل کو اُمید ملی کے شاید وہ پیچھے ہٹ جائے
جو بھی ہو ہمارے پاس دوسرا آپشن بھی تو نہیں ہے نہ۔۔۔۔۔تم مجھے وہاں لے چلو۔۔۔
نین نے تھکے تھکے انداز میں کہا
کتنی ڈھیٹ ہے۔۔۔۔۔۔
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا
تیرے کو معلوم ہے اُدھر انٹرنیٹ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
اُس نے کچھ سوچ کر ایک اور کوشش کی
کیا ۔۔۔۔۔۔۔
نین کو شدید صدمہ لگا وہ منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
یہ جھوٹ ہے نہ۔۔۔۔۔مزاق کر رہے ہو نا تم۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے پوچھنے لگی۔۔۔ساحل کا دل خوش ہو گیا
۔۔اپنا تیر نشانے پر۔لگتا دیکھ
بغیر انٹرنیٹ کے کوئی کیسے جی سکتا ہے۔۔۔۔
ایسی زندگی بھی کوئی زندگی ہوتی ہے۔ کیا۔۔۔آکسیجن نا ملے تو چلتا ہے لیکِن انٹرنیٹ کے بنا نہیں جی سکتی میں۔۔۔
وہ مانو رونے کو ہو گئی تھی ۔۔۔
وہی تو۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے تُجھے بول رہا ہوں پاگل کے تو نہیں رہ پائے گی۔۔۔۔۔تیرے بھلے کے لیے سمجھا رہا ہوں لندن چلی جا ۔۔۔
وہ آگ میں گھی ڈالتے ہوئے اپنی مسکراہٹ چھپاکر بولا
یہ کیسی آزمائش ہے قسمت کی۔۔۔۔۔۔۔کیوں زندگی امتحان لے رہی مجھ سے۔۔۔
پر میں ہار نہیں مانو گی۔۔۔
اُس کی ایکٹنگ دیکھ کر ساحل کے کانوں میں ٹی وی سیریل کا میوزک گونج رہا تھا۔۔و اُس کے آخری جملے اور ٹھٹکا
عورتوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہے زندگی کی راہ میں۔۔۔۔ میں کیا ایک انٹرنیٹ کا تیاگ نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر جذباتی لہجے میں بولی ساحل کی خوشی چھو کرکے اڑ گئی
میں رہ لوں گی۔۔۔۔۔۔چلیں
اُس نے مصنوعی آنسو صاف کرتے مسکراتے ہوئے کہا
کیا زبردست نوٹنکی کرتی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولا
سیم ٹو یو۔۔۔۔۔لیکِن میں تمہارا پیچھا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑنے والی
وہ اُسے آنکھیں دکھا کر ڈھٹائی سے بولی۔۔۔۔۔
وہ اپنا سر دیوار پر مارتے مارتے رہ گیا۔۔۔ضبط سے لب بھینچے بائیک پر بیٹھا اور زوردار کک مار کے بائیک سٹارٹ کی
بول تو دیا ہے۔۔۔۔اب لے کے کہاں جاوں
وہ بائیک آگے بڑھا تا ایک ہی بات سوچ رہا تھا۔۔