Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 65
No Download Link
Rate this Novel
Episode 65
Episode 65
باتھ لے کے ڈھیلے ڈھالے بلیو اور وائٹ سوٹ میں بالوں کو ٹاول میں لپیٹ کر باہر نکلی تو وہ جو چولہے میں آگ لگا رہا تھا ہاتھ روک کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
بھیگے چہرے اور بغیر دوپٹے کے بھیگے وجود کی رانیاں ہی ایسی تھی کے صبح اپنا اُسے باہوں میں بھر کر سونا یاد آگیا۔۔۔۔۔
وہ احساس جسم کی تپش بڑھانے لگا جو اُس کے قریب ہونے پر بیدار ہوا تھا۔۔۔۔دل میں جذباتِ تشنگی کی آگ سلگنے لگی۔۔۔
وہ اُسے قریب آتے دیکھ فوراً اُس سے نظریں ہٹائے چولہے کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔ اور لکڑیوں کو آگے پیچھے کرکے خود کو مصروف ظاہر کرنے لگا
یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔
نین اشتیاق سے اُسے دیکھتی وہیں بنی چھوٹی سی منڈیر پر بیٹھ گئی
یہ کھانے کا سامان ہے۔۔۔۔۔اور چولہا بھی جلا دیا ہے۔۔چل جلدی سے شروع ہوجا۔۔بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔اور میرے کو نکلنا بھی ہے۔۔
وہ ہاتھ جھٹک کر صاف کرتا ہوا وہاں سے اٹھ کر بولا
میں۔۔۔۔۔
نین نے نا سمجھی سے اُسے دیکھتے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ساحل نے اُس کی جانب دیکھا
لیکِن مجھے تو کھانا بنانا نہیں آتا۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی
ناٹک مت کر۔۔۔۔دیر ہو رہی میرے کو۔۔۔۔
وہ اُسے گھور کے بیزاری سے بولا آدھا دن ویسے بھی گزر چکا تھا اور اُسے کے کے کی دس کالز آچکی تھی
ریلی مجھے نہیں آتا۔۔۔۔۔
وہ اس کے گھورنے پر زور دیتے ہوئے بولی
تیرے کو کچھ بھی بنانا نہیں آتا۔۔۔۔
وہ حیرت سے سنجیدہ ہو کر پوچھنے لگا
اں۔۔۔۔۔کچھ کچھ چیزیں آتی ہے۔۔۔۔۔۔
اُسے اپنی صاف انسلٹ ہوتی نظر آئی تو بالوں سے ٹاول نکال کر بے دھیانی سے بولی
جیسے۔۔۔۔۔
ساحل نے دانت پیس کر اُسے دیکھا
جیسے۔۔۔۔۔میگی بنانا۔۔۔انڈے ابالنا۔۔۔۔پاپڑ فرائے کرنا۔۔۔اور
بس اتنے کام مت گنا۔۔۔۔۔میرے کو تھکان ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ سوچ سوچ کر بتانے لگی تو ساحل نے اُس کی بات روک کر غصے سے کہا
اب کھانا بھی اُسے خود ہی بنانا تھا
اُس نے شرٹ اُتار کر باہر ہی درخت کی ایک کٹی شاخ پر لٹکائی ۔۔۔جینس کے بوٹم کو اوپر فولڈ کیا
درخت کے۔پاس پڑی اینٹیں اٹھا کر چولہے سے دوری پر رکھی اور اُن پر ایک خالی شاپر رکھے اُس پر بیٹھ کر سبزی کاٹنے لگا۔۔۔
لوگوں کے تو صرف پیاز کاٹتے ہوئے آنسُو نکلتے ہیں اُس کے آلو کاٹتے ہوئے بھی ان دیکھے آنسُو نکل رہے تھے۔۔۔۔۔۔
کل رات سے اُس کے حالات ایکدم سے بدل گئے تھے۔۔۔اتنی محنت تو کسی گھریلو خاتون کو نہیں کرنی پڑتی جتنی وہ کل سے کیے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
اگر ٹریننگ اور اکیلے رہنے کے چکر میں اُس نے کھانا بنانا نہیں سیکھا ہوتا تو آج اُس بہانے شاید بچ جاتا ۔۔۔
واؤ تم تو بہت ہی اچھی سبزی کاٹتے ہو۔۔۔۔۔
اوپر سے نین وقفے وقفے سے اُس کے جلے پر نمک چھڑک رہی تھی
کاش کے تیری زبان بھی سبزی ہوتی۔۔۔۔
وہ بڑبڑا کر زور زور سے ہاتھ چلانے لگا۔۔۔۔
میں بھی ہیلپ کروں۔۔۔۔
وہ آستین اوپر کرتی ایکسائیٹڈ ہو کر بولی
ہاں جا کر ادھر بیٹھ۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے گھور کے دور ہونے کا اشارہ کیا وہ منہ بنا کے رہ گئی۔۔
اُس نے چولہے میں آگ بڑھائی اور اُس پر برتن رکھے بڑی مہارت سے سبزی بنانے لگا۔۔
نین بہُت غور سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی گہری سنجیدہ آنکھیں اور ماتھے پر بکھرے گھنے براؤن بال بے حد دلکش لگ رہے تھے۔۔
لیکن اُس سے بھی زیادہ خوبصورت تھا اُس کا انداز۔۔۔اُس کی پرواہ۔۔۔۔
وہ چاہتا تو یہ تھا کہ وہ اس جگہ سے بیزار ہو کر یہاں سے چلی جائے لیکن ہر ضرورت پوری کرکے خود ہی اپنی ترکیب کو ناکام بنا رہا تھا۔۔۔۔ہر چیز اُس کے لیے اویلیبل کرکے اُسے کوئی کمی محسوس ہی نہیں ہونے دے رہا تھا۔۔اور اس کے لیے خود اتنی محنت کر رہا تھا۔۔۔۔۔
نین کو اُس کے اس انداز میں بے حد اپنا پن اور چاہت محسوس ہو رہی تھی۔۔جو وہ غصّہ کر کر کے بھی اُس کی اتنی کیئر کر رہا تھا۔۔
ویسے ایک بات کہوں۔۔۔۔
وہ چہرے پر ہتھیلی رکھے اُسے مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔نظروں کے سامنے ہلکا ہلکا دُھواں پھیلا ہوا تھا
میرے منع کرنے سے تو جیسے چُپ ہی رہ جائے گی
وہ سبزی میں چمچ چلاتے ہوئے دانت پیس کر بولا۔۔
سچ میں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم نے گھر سے بھاگ کر شادی کی ہے اور اب یہاں اپنی گر ہستی بسا رہے ہیں ۔۔۔
تمہیں نہیں لگ رہا۔۔۔۔
وہ اُس کی بڑبڑاہٹ کو اگنور کیے مزے سے بولی
ایسا نہیں لگ رہا جیسے ساتھ میں۔ ایک نوکر بھی لے کر بھاگی تھی۔۔۔
وہ جل کے بولا۔۔۔۔۔۔نین نے اُسے گھور کر دیکھا اور اٹھ کر اندر چلی گئی۔۔۔
آلو مٹر کی سبزی کی خوشبو اندر تک آرہی تھی وہ بالوں میں برش کرکے اُنہیں کلپ میں قید کیے اُس کے لائے سارے سامان کو شیلف میں رکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
کھانے کی چیزوں کو وہاں پہلے سے موجود صاف برتنوں میں رکھنے لگی۔۔۔۔
اُس کے پہنے ڈریس کے ساتھ ہم رنگ دوپٹہ بھی موجود تھا لیکِن اُسے ڈوپٹے کی عادت نہیں تھی اس لیے اُسے بھی باقی کپڑوں کے ساتھ رکھ دیا۔۔
اُس نے آنلاین سٹور سے میٹریس اور کنفرٹر بھی ارڈر کر دیا کیوں کے اُسے آج سردی نہیں برداشت کرنی تھی
اُس کے پرسنل اکاؤنٹ میں کچھ پیسے تھے
سوچ سوچ کر موبائل پر ایک ایک چیز ارڈر کر رہی تھی جب اُس کے نمبر پر زینب کی کال آئی اُسے اندازہ ہو گیا کے اُنہیں معلوم ہو چکا ہے۔۔۔
اتنا سب ہو گیا اورمجھے تمہاری بجائے اوروں سے پتہ چل رہا ہے نین۔۔۔۔تم اپنی ماں کو کچھ سمجھتی بھی ہو یا نہیں۔۔۔
فون اٹھاتے ہی زینب غصے سے اُس پر برس پڑی۔
ریلیکس ممی۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔۔
کیا ریلیکس۔۔۔۔۔تمہاری بیوقوف حرکتوں کی وجہ سے میں کبھی ریلیکس رہ سکتی ہوں۔۔۔۔تمہیں کیا ضرورت تھی ساحل کے ساتھ گھر چھوڑ کر جانے کی۔۔۔۔ میں اور تمہارے ڈیڈ کل ہی وہاں آرہے ہیں تمہیں لینے ۔۔۔۔بہُت ہوئی تمہاری منمانی۔۔۔۔نا اب تم اُس لڑکے کے ساتھ رہوگی نا ہی بھائی کے گھر اب تم انڈیا میں ہی نہیں رہوں گی۔۔۔
زینب نے غصے سے کہتے ہوئے اُسے اپنا فیصلہ سنایا
پلیز ممی۔۔۔۔میں کہیں نہیں جا رہی ساحل کو چھوڑ کے۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے کہہ گئی لیکِن پھر جلد ہی اندازا ہوا تو سنبھل کے بولی
ممی آپ ہی تو کہتی ہے نا کے لائف اتنی ایزی نہیں ہوتی ۔۔۔۔بہُت امتحان دینے پڑتے ہیں۔۔۔تو اب جب میں سیریس ہو کر سچویشن سے لڑنا چاہتی ہوں تو آپ مجھے کیوں روک رہیں ہے۔۔۔
اُس نے عاجزی سے کہا تو زینب سر تھام گئیں
کیوں کے تم اُس راستے کی مشکلوں سے لڑ رہی ہو جس کے آگے تمہاری منزل نہیں ہے۔۔۔۔تمہارا اُس راستے سے پلٹ جانا ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے نرمی سے اُسے سمجھانا چاہا
منزل ہے ممّی۔۔۔۔۔۔یہیں میری منزل ہے ۔۔۔۔مجھے کہیں نہیں پلٹنا۔۔۔۔
وہ اُن کی بات کاٹ کر جلدی سے بولی۔۔اُس کے لہجے میں ضد تھی ڈھٹائی تھی
مجھے سمجھ نہیں آرہا نین کے تم کیا چاہ رہی ہو۔۔۔۔۔
زینب نے اُلجھ کر پوچھا۔۔۔۔
فلھال تو بس آپ وعدہ کریں کے آپ مجھے لے کے بلکل پریشان نہیں ہوں گی۔۔۔بس اتنا سمجھ لیں کے میں اس چھوٹے سے گھر میں رہوں یا دنیا کے کِسی بھی کونے میں جب تک ساحل کے ساتھ ہوں سیف اور سیکیور ہی رہوں
اُس نے اُنہیں یقین دلاتے ہوئے کہا تو زینب خاموش ہو گئی۔کیوں کے نین بھلے ہی گھما کے بات کر رہی تھی لیکن اُنہیں سب سمجھ آرہا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے یہ بتاؤ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔
اُنہوں نے ہار کر بات ختم کرتے ہوئے کہا
میں تو کچھ نہیں کر رہی لیکن آپکو پتہ ہے ساحل میرے لیے آلو مٹر کی سبزی بنا رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ چارپائی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے مزے سے بتانے لگی
اچھا۔۔۔۔۔
زینب کو بے حد حیرت ہوئی
ہاں اور کل اُس نے گھر کی ایسے صفائی کی نا ممّی کے کیا بتاؤں۔۔۔۔۔
وہ خوش ہو ہو کر کل کی باتیں بتانے میں لگ گئی ۔۔۔۔اُس کے نارمل انداز سے زینب بھی کچھ پرسکون ہو گئی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
فلک روم میں آئی تو داؤد بیگ میں کپڑے بھر کر زبردستی اُسے بند کر رہا تھا
یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھتی اندر آکر پوچھنے لگی
ہم یہاں نہیں رہے گے فلک۔۔۔۔۔۔چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔
وہ بیگ لاک کرکے اُسے مضبوطی سے تھام کر اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔۔اور اُسے لیے کمرے سے باہر نکلنے لگا
لیکِن میری بات تو سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر اُس کا بازو پکڑ کے اُسے روکتی پریشان ہو کر بولی داؤد نے رک کر اُس کی طرف دیکھا
فلک تمہیں یقین ہے نا مجھ پر۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا تو فلک نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلا دیا
تو بس جو میں کہتا ہوں وہ کرو۔۔۔چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
فلک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اُس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی۔۔۔
باہر سب ڈرائنگ روم میں موجود تھے اُنہیں دیکھ کر اور داؤد کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر حیران ہوئے۔۔
رابعہ بیگم گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھتی اُن کے سامنے آئی
داؤد یہ سامان ۔۔۔کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔
وہ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ پوچھنے لگیں داؤد نے لب سختی سے بھینچ کر نظریں پھیر لیں جیسے اُن کی بات کا جواب دینا بھی اُسے منظور نہ ہو
یہ سب کیا ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔
آخر دادی نے پریشان ہو کر پوچھا
دادی میں گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔۔۔۔
ساحل یہاں نہیں ہے تو میں بھی یہاں نہیں رہنا چاہتا۔۔۔۔
وہ اُن کی طرف دیکھ کر دھیرے سے بولا
تُم اپنی ماں کو چھوڑ کے جا رہے ہو داود۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم بے یقینی سے اُسے دیکھتیں بھرائی آواز میں بولی
اچھا ہے نہ مام۔۔۔اس گھر سے بھیڑ اور کم ہو جائے گی ۔۔۔ایک ساحل کے ہونے سے آپ کو اتنی تکلیف تھی اب تو دو اور لوگوں کا بوجھ ختم ہوجائے گا۔۔۔آپ سکون سے رہ سکتیں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کی طرف دیکھ کر جتاتے ہوئے بولا تو اُن کے دل کو کچھ ہوا
تمہیں لگتا ہے تمہاری ماں تم سے دور ہو کر جی بھی سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن کی آنکھیں نم ہو گئی لہجہ بے بس ہو گیا فلک پریشانی سے داؤد کو دیکھنے لگی
مجھے تو یہ بھی لگتا تھا کے میری ماں میری خوشی کے لیے میری بیوی کو قبول کر لیں گیں۔۔۔۔میرے بھائی کو اپنا بنا لیں گیں۔۔۔میرا ساتھ دیں گی۔۔۔لیکن سب طرح سے غلط ثابت ہوا میں ۔۔۔۔۔۔
اب تو دل کو سمجھا لیا ہے کے میری مام کے لیے میری خوشی سے بڑھ کر اُن کی انا اور نفرت ہے۔۔۔۔
اس لیے اس گھر سے چلے جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خود ہی برا بن جاوں
آپ کی انا بھی نہ ٹوٹے اور میرے رشتے بھی قائم رہے
وہ دکھ وہ افسوس سے بولا۔۔۔سب خاموش کھڑے تھے جیسے وہاں صرف دو لوگ موجود ہو
ایسا مت بولو داؤد۔۔۔۔۔۔۔میرے لیے تم سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔
انہوں نے تڑپ کے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
پلیز مام۔۔۔مجھے جانے دیجئے۔۔۔۔۔چلو فلک۔۔
اُس نے اُن کا ہاتھ ہٹایا اور فلک کو لیے آگے بڑھنا لگا لیکن رابعہ بیگم نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اُس کے آگے دیوار بنا دی
نہیں داؤد تم کہیں نہیں جاؤگے۔۔۔تمہیں جو کرنا ہے کرو۔۔مجھے سب منظور ہے۔۔۔۔۔اس لڑکی کے ساتھ رہنا ہے رہو۔۔۔ساحل کو اس گھر میں رکھنا ہے رکھو۔۔۔۔لیکِن تم۔کہیں مت جاؤ۔۔۔کہیں مت جاؤں بیٹا تمہاری ماں مر جائے گی۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کا راستہ روکے اُس کے آگے سارے ہتھیار ڈال کر بے بسی سے روتے ہوئے کہا۔۔۔اُنہیں داؤد کو کھونے کا ڈر بری طرح تڑپا گیا
فلک سے تو یوں بھی میں الگ نہیں ہونے والا مام۔۔۔نا مجھے ساحل کو اس گھر میں لانے میں کوئی خاص مشکل پیش آئیگی
بات تو ساری یہ ہے کے آپ کی نفرت میں میں کوئی کمی نہیں لا سکتا۔۔۔۔۔۔۔ان دونوں کو ہی میرے ساتھ کی سزا آپ کی نفرت کی صورت ملتی رہے گی۔۔۔۔۔
بہتر ہے کے یہ آپ سے اور آپکی نفرت سے دور ہی رہیں۔
وہ بھیگتے لہجے میں کہتا سائیڈ سے نکلنے لگا لیکِن فلک نے اُس کے کھینچنے پر بھی قدم آگے نہیں بڑھائے اُس نے حیرت سے پلٹ کے اُسے دیکھا
فلک چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے پکارا تو فلک نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سر نفی میں ہلا کر انکار کے دیا
فلک۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے تنبیہ اُسے پکارا لیکِن وہ آگے نہیں بڑھی بلکہ اپنا ہاتھ اُس سے چھڑوا لیا
آپ غلط کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ جھجھکتے ہوئے بولی رابعہ بیگم سانس روک کر داؤد کو دیکھنے لگی
تم نے میرا ساتھ دینا کا وعدہ کیا ہے فلک
وہ دانت پیس کر غصے سے بولا
