Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 83

ٹھیک بیس منٹ بعد جب وہ واپس آیا تب تک نین خود کو نارمل کر چکی تھی۔۔
اُس کا دل بہُت پرسکون تھا لیکن آنکھیں اب تک بھیگی اور سرخ تھی۔۔۔
جہاز ممبئی کے ساحل سے بہت آگے آگیا تھا شہر کی روشن عمارتیں دھندلی ہو کر اب غائب ہو گئی تھی۔۔۔۔
وہ سمندر کے ٹھہرے پانی کو دیکھتی ٹھنڈی ہوا کو اپنے چہرے پر محسوس کرکے بہُت اچھا فیل کر رہی تھی۔۔۔۔
ہوا سے بال بار بار چہرے کو چھو کر جا رہے تھے۔۔۔
جب اُس نے ساحل کو آتے دیکھا تو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
کہاں چلے گئے تھے کب سے۔۔۔۔۔۔
اُس کے اپنے پاس آتے ہی وہ حیرت سے پوچھنے لگی جب کے وہ اُسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
رو کیوں رہی تھی۔۔۔۔کچھ ہوا کیا۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں کے سرخ کناروں کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو نین کا دل اُس کی اتنی با خبری محسوس کرکے خوش کن انداز میں دھڑکا۔۔۔۔
کسی نے کچھ کہا۔۔۔۔
وہ اُس کے خاموشی سے دیکھنے پر آس پاس دیکھتا پوچھنے لگا حالانکہ اب وہاں کوئی نہیں تھا اسٹاف بھی نہیں۔۔۔۔
پاپا سے بات کر رہی تھی اسلئے تھوڑا۔۔۔۔
اُس کی ادھُوری بات ساحل کو سب سمجھا گئی تو وہ پرسکون ہوا۔۔
اُس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا۔۔۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔پارٹی میں نہیں جا رہے۔۔۔
وہ اُسے شپ کے بلکل آخر میں بارڈر لائن کے قریب لے آیا تھا۔۔۔۔نین بولتے بولتے رک گئی۔۔۔
ٹائٹینک پوز۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس جگہ آتے ہی اچانک اُسے خیال آیا تو اُسے خوشی اور ایکسائنٹ سے پوچھنے لگی۔۔ساحل نے ہنسی روکتے ہوئے سر کو ہاں میں جنبش دی۔۔۔
نین کی خوشی سے چینخ نکلتے نکلتے رہ گئی وہ اپنی ہی جگہ کودنے لگی۔۔۔۔۔
ایک منٹ پہلے ایک سیلفی لے لوں۔۔۔۔
وہ جلدی سے موبائل آن کرکے بولتی اُس کے نزدیک کھڑے ہو کر اُس جگہ کے ساتھ دونوں کی تصویریں لینے لگی۔۔۔
بس ہو گیا۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کا فون لے کر اپنی پاکٹ میں ڈالا ورنہ وہ اب فوٹو شوٹ میں ہی لگ جاتی۔۔۔۔
وہ بارڈر لائن پر بنے پائپ پر پیر رکھ کر چڑھنے لگی لیکن ساحل نے اُسے روک دیا۔۔۔۔۔وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
ہم کچھ الگ کرے گے۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر کہتا ہوا پائپ پر چڑھ کر باہر کی طرف ہو گیا ۔۔
نین منہ کھولے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔اُس کے پیر بلکل کنارے پر تھے اور ایک ہاتھ سے پائپ کو تھاما ہوا تھا جب کے دوسرا ہاتھ اُس کی طرف بڑھا کے اُسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔
Are you mad۔۔۔۔
نہیں مجھے مرنے کا کوئی شوق نہیں ہے میں نہیں آؤں گی۔۔۔
وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔۔
میں مرنے دوں گا کیا۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
دیکھو راؤڈی مجھے پہلے سے پتہ ہے کے تم پاگل ہو۔۔۔۔ پروو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے ٹائیٹینک پوز بھی نہیں کرنا بس تم پیچھے آجاؤ۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔
وہ اپنے خشک ہوتے گلے کو تر کرتے ہوئے بولی۔۔۔اُسے بلکل کنارے پر کھڑے دیکھ خوف سے اُس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے۔۔۔
ساحل نے اُس کے یوں ٹائم ویسٹ کرنے پر اُسے گھور کے اُس کی کلائی پکڑتے ہوئے اُسے اپنی طرف کھینچا اور کمر سے تھام کر کسی سامان کی طرح اٹھا کر اپنے پاس لایا۔۔۔
وہ خوف سے چینخ کر دونوں بازو اُس کی گردن میں ڈالے زور سے اُس کے ساتھ لپٹ گئی۔۔چہرہ اُس کی گردن میں چھپا لیا۔۔۔
چھوڑو مجھے کوئی پوز نہیں کرنا۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔۔۔
ساحل نے کمر سے تھام کر اُسے خود سے لگائے رکھا تھا۔۔۔اُس کے پیر بھی جہاز کے کنارے پر تھے۔۔۔دونوں بازو بھی اُس کی گردن کے گرد سختی سے لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔ پھر بھی اُسے لگ رہا تھا وہ ہوا میں ہے اور ابھی گر پڑے گی۔۔۔۔۔۔
اُس کا دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا جسے محسوس کرنا ساحل کے لیے نا ممکن نہیں تھا۔۔۔ اُس کی گھبراہٹ پر وہ دھیرے سے ہنسا تو نین نے سر تھوڑا سا پیچھے کرکے اُسے خطرناک نظروں سے گھورا
اگر میں گری اور مری نا تو چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔۔۔
اُس کے ہنسنے پر اشتعال انگیز انداز میں اُسے دھمکی دی
میں کونسا چھڑوانا چاہتا۔۔۔
وہ اُس کے بے حد قریب نظر آتے گھبرائے سے چہرے کو نظروں میں بسائے بولا لیکن وہ بجائے دھیان دینے کے ڈرتے ڈرتے ڈرتے نیچے دیکھ رہی تھی۔۔۔اور اُس کے بال ساحل کے چہرے کو چھو رہے تھے
سینکڑوں فٹ نیچے گہرے پانی کو دیکھ کر اُس کی سانس رک گئی۔۔۔ آنکھیں مزید پھیل گئی اُس نے فوراً نظریں واپس اوپر کر لیں۔۔۔
نازک بازؤں کی گرفت ساحل پر اور سخت ہو گئی۔۔۔۔
Close your eyes۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر پرسکون انداز میں بولا۔۔۔
کوئی سازش تو نہیں ہے نہ یہ تمہاری۔۔۔۔کرائم پیٹرول میں اگلی سٹوری میری تو نہیں آنے والی نا
وہ رونی صورت بنائے بولتی خوف سے چپکتے چپکتے مانو اُس کے اندر گھسی جا رہی تھی۔۔۔
ساحل نے آنکھیں ضبط سے بند کرکے کھولیں۔۔۔
اگر یہی پوزیشن تھوڑی دیر اور رہی تو میری سٹوری ضرور آجائے گی۔۔۔
وہ اُس کی قربت پر مچلتے دل کی حسرتیں ایک سانس کے ذریعے فضا میں چھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
نین نے آنکھیں بند کرتے ہی چہرہ اُس کے سینے پر لگا دیا۔۔۔۔
ساحل نے پائپ کے ساتھ بندھی رسی پکڑ کر ہتھیلی پر کئی سارے بل لپیٹے ۔۔۔۔۔۔پیروں کو دھیرے دھیرے حرکت دے کر تھوڑا سائیڈ میں ہوا جہاں نیچے لائف بوٹس تھیں اور ایک ہاتھ سے نین کو تھامے نیچے کود گیا۔۔۔۔
Mummyyyyyyyyyyyy۔۔۔
نین کی پرزور چینخ نے سمندر کے ٹھہرے پانی میں بھی ارتعاش پیدا کر دیا۔۔۔۔
جب اُسے اپنا آپ بجائے پانی کے ہوا میں ہی محسوس ہوا تو اُس نے بہُت ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں۔۔۔
وہ دونوں جہاز کے بلکل درمیان میں لٹکے ہوئے تھے۔۔۔۔
ساحل کے ہاتھ میں موجود رسّی کے سہارے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نیچے دیکھا تو وہاں لائف بوٹس تیر رہی تھی۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو تم راؤڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کبھی غصے سے اُسے کبھی خوف سے نیچے دیکھتی غیظ وغضب سے بھنچی آواز میں چلائی۔۔۔
۔۔۔ ساحل نے اپنی ہتھیلی پر لپیٹی رسّی کا ایک ایک بل کھولتے ہوئے خود کو اور اُسے مزید نیچے کیا۔۔۔
جب نین کے قدموں کو بوٹ کی زمین ملی تو اُسے لگا اُسے نئی زندگی مل گئی ہے۔۔۔۔۔
وہ گرنے والے انداز میں سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے سانس لینے لگی
ہمیشہ کے لیے ٹائیٹینک پوز سے توبہ کی اور اپنی جان بچنے پر خدا کا شکر منا یا۔۔۔۔
Are you okey۔۔۔۔۔
ساحل نے بوٹ کا انجن آن کرکے اسے نئے رخ میں موڈ کر اُس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
چھوٹی سی ٹو سیٹر موٹر بوٹ تھی جس میں ایک طرف سیٹ اور اُس کے سامنے ہینڈل اور کچھ بٹن تھے۔۔
نین نے اُسے ایسے دیکھا۔جیسے ابھی نگل جائے گی۔۔۔وہ جلدی سے منہ پھیر کے مسکرا یا ورنہ اگر اُس کی نظر کے سامنے ہنستا تو وہ واقعی نگل جاتی۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا کے شیرنی اندر سے اتنی ڈرپوک ہے۔۔۔
وہ ہینڈل کا رخ تھوڑا سا موڈ کر پیچھے ہوتا مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔۔۔بوٹ کی سپیڈ تھوڑی سی تیز ہو گئی تھی۔ اور وہ لوگ جہاز سے دور ہوتے جا رہے تھے۔۔
ممم۔۔۔۔میں نہیں ڈرتی ورتی۔۔۔وہ تو۔۔۔بس ۔۔۔
وہ صاف مکر گئی۔۔۔۔ حالانکہ دل کی دھڑکنیں ابھی تک معمول پر نہیں آئی تھی۔۔
بس۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی ادھُوری بات پر غور کرنے والے انداز میں پوچھا۔۔۔
میرا موڈ تھا ڈرنے کا اس لیے ڈر گئی۔۔۔۔۔
وہ کوئی بہانا نہیں سوجھا تو اکڑ کر بولی۔۔
ویسے میں سوچ رہا ہوں آئندہ جب بھی تم مجھے کک ماروگی میں تمہارا ڈرنے والا موڈ بنا ہی دوں۔۔۔
وہ مسکراہٹ روکے بولا تو اُس کی وارننگ سمجھ کے اندر ہی اندر گھبرانے کے باوجود وہ اُسے گھور کر رہ گئی۔۔۔۔
ساحل کو اُس کی گھبراہٹ بھی بڑی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔بڑی بڑی آنکھیں اور بڑی ہو گئی تھی۔۔۔
چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔۔۔۔
بکواس بند کرو۔۔۔۔اور یہ بتاؤ ہم کہاں ۔۔۔۔
وہ اُس پر غصّہ کرتے ہوئے پوچھتے پوچھتے رک گئی جب پیچھے کئیں ساری بوٹس دیکھی جو کے کے کے شپ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی تھی۔۔ ڈھیروں ٹارچ جلا کر روشنی کیے۔۔
یہ اتنی ساری بوٹس۔۔
وہ حیران ہوتی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔
پولیس فورس ۔۔۔۔
ساحل نے بھی ہلکا سا سر موڈ کر اُس طرف دیکھا۔۔۔
کے کے نے مجھے اپنے جو جو کارنامے بتائے تھے میں نے سب پولیس کو بتا دیے۔۔۔۔اُس کے سارے اڈوں کا پتہ پولیس کو دے دیا۔۔۔
اُس نے ادھُوری بات بتا کر نین کی اُلجھن دور کی تو وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
تب تو اب اُسے جیل ہو جائیگی۔۔۔
تم نے بلکل صحیح کیا وہ اسی لائق ہے۔۔۔۔۔لیکن ہم ایسے بھاگ کیوں رہے ہیں۔۔۔۔
ہم وہاں رک کر دیکھتے نا اُن سب بدمعاش لوگوں کی بینڈ بجتے ہوئے۔۔۔
وہ اُس شاباشی دے کر پرجوش سی بولی وہ منظر اُن کی نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔جہاز کی روشنی ماند ہوتی جا رہی تھی
تو پھر اُس کے ساتھ وہ ہم دونوں کو بھی اٹھا کر لے جاتے۔۔۔۔
کیوں کے بد قسمتی سے ہم بھی اُس کے کچھ لگتے ہے
وہ پلٹ کر سیدھا ہو تے ہوئے بولا۔۔۔نین بھی آگے رخ کرکے بیٹھ گئی۔۔کیوں کے پیچھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا
تب تو اچھا ہے ہم پولیس کے آنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیے۔۔۔۔
تم بھی کبھی کبھی دِماغ چلا ہی لیتے ہو۔۔۔
وہ داد دینے والے انداز میں بولی۔۔۔و مسکراتا پیچھے ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھ گیا۔۔۔
شاید اب تک پولیس نے کے کے کو پکڑ لیا ہوگا۔۔۔۔ہے نہ۔۔۔
وہ اُسے خاموش دیکھ کر بولی تو اُس نے محض ہلکا سا سر ہلایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ تمہیں برا تو نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
وہ اُس کی خاموشی کو اُس کی تکلیف سمجھتی جھجھک کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
برا لگ رہا ہے نہ۔۔۔۔تیرے سے شادی ہو گئی۔۔۔۔روز لات کھانی پڑتی ۔۔لوگوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا۔۔۔بہُت دکھ ہے۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر نہایت سنجیدگی سے بولا تو نین حیرت سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔
وہ اُس کا ہونک چہرہ دیکھ ایکدم سے ہنسنے لگا۔۔۔۔۔ گالوں میں ڈمپل مکمل طور پر واضح ہوئے۔۔۔۔نین نے اُسے گھور کر دیکھا ۔۔
اب تو میری ہنسی ادھُوری نہیں لگتی نا۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا پوچھنے لگا تو وہ بھی مسکرائی۔۔۔چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے سر نفی میں ہلایا
کیوں کے اب میں بھی ادھورا نہیں۔۔۔
وہ اُس کے مسکراتے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھ کر دھیرے سے بولا۔۔۔
نین بجائے اُس کی بات پر غور کرنے کے اچانک کچھ سوچ کر چونکی۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔ابھی تم الگ بات کر رہے ہو۔۔۔۔پہلے جیسی بات نہیں کر رہے۔۔۔
اُس نے اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔
کونسی۔۔۔۔ پولیس والی۔۔۔۔
وہ جان کے بھی انجان بنا ۔۔۔
نہیں مطلب۔۔۔تم ہمیشہ جیسے بولتے ہو نہ ویسے نہیں بول رہے آج بلکہ سب کی طرح نارمل بول رہے ہو۔۔۔۔
وہ اپنی معصومیت سے اُسے لطف اندوز کرنے لگی
میں تو ہمیشہ سے ایسے ہی بولتا ہوں۔۔۔۔
وہ بھی معصومیت کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
ماما کے بیٹے تم مجھے پاگل مت بتاؤ۔۔۔ہمیشہ تو تم اپن کو۔۔۔تیرے کو۔۔۔میرے کو ایسے بولتے ہو۔۔۔
وہ جھنجھلا گئی۔۔
اچھا بھول گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسرور سا مسکرایا۔۔نین نے اُس کی چڑانے والی مسکراہٹ پر اُسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔۔اور ناک چڑھا کے منہ پھیر گئی۔۔۔۔۔۔
اُس کے جھٹکے سے پلٹنے پر کھلے بال ساحل کے چہرے کو چھو کر گزر گیے۔۔
بس ایک پل کے لیے ۔۔۔۔
اور اُس ایک پل میں وہ اُن کی نرمی اور خوشبو بے حد شدت سے محسوس کرکے سانسوں میں بسا گیا۔۔۔
نین اُس کی بھٹکتی بدلتی نظروں سے بے خبر سمندر میں پڑتے تاروں کے عکس کی خوبصورتی کو دیکھ کر نہال ہو رہی تھی۔۔۔
جب کے وہ صرف اُس کی پشت پر بکھرے بالوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اُنہیں چھونا چاہا لیکن اُس کے پہلی ہے نین سیدھی ہو گئی تو ہاتھ پیچھے کر لیا حالانکہ نین کی نظریں اب بھی آس پاس منڈرا رہی تھی۔۔۔
This night looks so beautiful na۔۔۔۔۔
وہ تاروں بھرے آسمان کو دیکھتی ہوئی سرشار ہو کر بولی۔۔۔جب کے وہ وہ اُس کے دلکش چہرے اور گھنی پلکوں کو دیکھ کر اپنا دل بے قابو ہوتے محسوس کر رہا تھا
Really۔۔۔۔۔
اُس کے کانوں میں چمکتے موتی سے نظریں ہٹا کر گلابی لبوں کو دیکھتے ہوئے دھیرے سے اُس کی تائید کی۔
میں تمہیں گانا سناؤں۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس کی طرف دیکھ کر آنکھیں بڑی کیے پوچھنے لگی تو وہ محض مدھم سا مسکرا کر سر ہلا گیا۔۔
یہ راتیں یہ موسم۔۔۔
ندی کا کنارا۔۔۔۔۔
یہ چنچل ہوا۔۔۔۔
وہ بلند آواز میں بنا سر اور تال کا خیال کیے گانے سے زیادہ چلانے میں مصروف تھی ساحل نے منہ بگاڑ کر آنکھیں ضبط سے بند کی کیوں کے یہ گانا سننے کا حوصلا کرنا اُس کے لیے بڑا مشکل تھا۔۔۔
لا لا لا لا لا۔۔۔۔
نین نے مست موڈ میں اپنے منہ سے ہی درمیان کا میوزک دے کر اُسے دیکھا تو اُس کی شکل دیکھ چپ ہو گئی۔۔۔
کیا ہوا ایسے کیوں کر رہے ہو۔۔۔
میرا گانا اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت زدہ سی اُس کے چہرے کو دیکھ کر بولی تو ساحل نے آنکھیں کھولیں۔۔۔
بہت اچھا ہے۔۔۔اتنا کے اس سمندر کے اندر کی سوئی ہوئی مچھلیاں بھی گانا سنتے ہی اٹھ کر ڈانس کرنے لگ گئی ہوں گی۔۔۔۔۔
ساحل نے داد دینے والے انداز میں طنز کیا۔۔۔۔۔نین نے منہ پھلا کر اُسے دیکھا۔۔۔
جن کی آواز اچھی ہوتی ہے اُنہیں باقی سب کا گانا مزاق ہی لگتا ہے۔۔۔
وہ خفگی سے بولتی غصے سے منہ پھیر گئی تو اُس کے بالوں نے ایک دفعہ پھر ساحل۔کے چہرے پر وار کیا۔۔۔اس دفعہ پرزور ہوا کے باعث۔۔۔۔
آج یہ مارے گی مجھے۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے آہ بھرتے ہوئےدھیمے سے بڑبڑایا۔۔۔۔اور اپنے چہرے پر اُنگلیاں پھیرتے اُس مہکتے لمس کو چھونے کی کوششں کی۔۔۔
نین اُس سے منہ پھیرے ناراض بیٹھی نیچے پانی میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔

نین اُس سے منہ پھیرے ناراض بیٹھی نیچے پانی میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
یہ کیا بات ہے ۔۔۔۔
آج کی چاندنی میں۔۔۔
وہ اوپر دیکھ کر دھیرے میٹھے لہجے میں گنگنایا۔۔۔نین اُس کی آواز پر سانس روک کر دھیرے سے مسکرائی لیکِن پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔ناراضگی جو جتانی تھی۔۔وہ اُس کے قریب ہوا اور خود بھی پانی میں جھانکتے ہوئے اُس کے عکس کو دیکھنے لگا۔۔ تو نین نے مسکراہٹ سمیٹ کر پھر غصے والے تاثرات سجا لیے۔۔۔
یہ کیا بات ہے ۔۔۔
آج کی چاندنی میں۔۔
کے ہم کھو گیے
پیار کی راگنی میں۔۔۔
وہ اُس کے عکس کو دیکھ کر گنگنانے لگا تو نین سے مزید غصّہ کرنا مشکل ہوا اپنی مسکان اُس سے چھپانے کی غرض سے وہ اپنے عکس کو اُس کی نظروں سے چھپانے کی کوشش میں پلٹی لیکن وہ نزدیک آگیا تھا اس لیے پلٹتے ہی اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔اُس کے بے حد قریب ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔دل زوروں سے دھڑکا۔۔۔۔
وہ بھی اس تصادم سے چونک کے سنبھلا
یہ باہوں میں ۔۔۔باہیں۔۔۔۔
یہ ۔۔۔۔۔۔ بہکی۔۔۔۔۔۔ نگاہیں۔۔۔۔۔
الفاظ ٹوٹ کر بکھرتے لبوں سے سرسرائے۔۔۔لہجہ پھیکا ہوا۔۔آواز مدھم ہوئی۔۔اور آخری لفظ پر محض لب ہلے۔۔۔۔آنکھوں میں بے خودی چھا گئی۔۔۔
نین سانس روکے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔پیچھے ہونا اُس کی لیے ممکن نہیں تھا اسلئے وہ ساحل کے پیچھے ہٹنے کی منتظر تھی
لیکن اتنے قریب آکر ساحل کا دل پیچھے ہونے کو راضی نہیں ہوا۔۔
اور دماغ تو اپنے حواسوں کو نین کے نینوں میں کھو کر مدھوش تھا۔۔۔
نین نے اُسے پیچھے ہونے کی بجائے خود کو بے خود سا تکتے پایا تو اُس کی دھڑکنیں سینے میں شور مچانے لگی
۔۔۔ ہتھیلی اُس کے سینے پر رکھتے ہوئے فاصلے کو درمیاں جگہ دینے کی کوشش کی۔۔۔
لیکِن ساحل اُس کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا۔۔۔ اُس کا ہاتھ پکڑ کر سینے سے ہٹاتے ہوئے اُنگلیوں کو اپنی اُنگلیوں میں قید کرگیا۔۔۔
نین نے حیرت سے پلکیں جھپک کر اُس کے ہاتھ میں قید اپنی اُنگلیوں کو دیکھا اور گلا تر کرتے ہوئے دوبارہ اُسے دیکھا تو اُس کی نظریں اپنے لبوں پر مرکوز دیکھ اُس کے لبوں میں لرزش ہوئی۔۔۔
دل میں سینکڑوں سوئیوں کی چبھن کا احساس ہوا۔۔۔
وہ وارفتہ نگاہوں سے کبھی اُس کی دل کش آنکھوں کو تو کبھی لرزتے گلابی لبوں کو دیکھتا مدہوشی کے گہرے بھنور میں ڈوبتا سارے جہان کو بھولے اُس کے چہرے کے نزدیک ہوئے جا رہا تھا
نین اُس کی تیز آگ دیتی سانسوں کی دہک سے اپنے لبوں کو جلتا محسوس کرکے سر سے پیر تک لرز رہی تھی۔۔۔۔لیکِن اُسے فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا اور وہ آج پیچھے ہٹنے کو راضی نہیں تھا۔۔۔۔
جب وہ اُس کے برف سے گالوں پر آتی لٹوں کو اُنگلیوں سے پیچھے کرتے ہوئے ہاتھ اُس کے بالوں میں پھنسائے ساری توجہ ایک جگہ سمیٹے اُس کے لبوں پر جھکا تو۔۔۔۔۔
آ آ آ آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لب اُس کے لبوں کو چھوتے اُس سے پہلے کچھ نہیں سوجھا تو نین زور سے چینخ اٹھی۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر گڑبڑا کر لڑکھڑا کر بوکھلا کر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوتا صدمے سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔سارے نشے ساری مدہوشی ساری بے خودی۔۔۔سارا فسوں بھک سے اڑ گیا تھا۔۔۔
سمندر میں دور دور تک اس کی چینخ گونج اٹھی تھی۔۔۔۔
وہ وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ۔۔۔میں۔۔۔
اُس کے حیرت سے دیکھنے پر نین کو
چینخنے کی کوئی وجہ نہیں سوجھی تو اپنی دوسری اُنگلی چبا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔۔
ساحل کی پیشانی پر بل پڑے۔۔۔
میں اپنا سامان تو کے کے کے گھر ہی چھوڑ آئی اب کیا کروں گی۔۔۔
وہ ایک خیال آتے ہی ایک سانس میں بولتی اُسے دیکھنے لگی تو ساحل نے آنکھیں بند کرکے اپنا ماتھا پکڑ لیا۔۔
وہ گھبرائی سی اُسے دیکھنے لگی کے پتہ نہیں اب وہ کیا کرےگا۔۔۔
جب کے وہ اُس کی حرکت پر غصّہ ہونے کے باوجود بنا کچھ کہے سیدھا ہو کر اپنی جگہ پر بیٹھا سنجیدگی سے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ویسے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ا ااتنا بھی کوئی ضروری سامان نہیں ہے ۔۔بس تھوڑا بہت ہی ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی خفگی کو محسوس کرکے اُسے بات کرنے پر اکسانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اُس نے بجائے کچھ کہنے کے سر پیچھے ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
اُس کی خاموشی نین کو اتنی کبھی نا چبھتی اگر اُسے اُس کی ناراضگی کا اندازہ نہ ہوتا۔۔۔
بھلے وہ شرمندہ نہیں تھی لیکن اُسے ناراض دیکھ پرسکون بھی نہیں تھی۔۔
تم نے۔۔۔۔ گانا کیوں بند کر دیا۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو کو چھو کر اُسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی غرض سے بولی تو۔ساحل نے آنکھیں کھول کر اُس کے سہمے چہرے کو سخت نظروں سے دیکھا۔۔۔
بولو نا۔۔۔۔
وہ اُس کے خاموشی سے دیکھنے پر لہجے کو سخت کیے بولی ۔۔۔
تمہیں نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو نین نے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔اُس کی انجان بننے کی کوشش دیکھ ساحل کے لبوں کو مسکراہٹ چھو کر گزری۔۔۔
طوفان ۔۔۔۔۔
اس نے بس ایک لفظ کہہ کر کچھ واضح کرنا چاہا لیکِن وہ کچھ اور ہی سمجھی
طوفان۔۔۔ کیا طوفان آنے والا ہے۔۔۔
ہڑبڑا کے آس پاس دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔۔لیکِن پانی بلکل شانت تھا آسمان کی طرح ٹھہرا ہوا۔۔۔
آگیا۔۔۔۔
وہ پریشان نظروں سے اُسے دیکھنے لگی تو وہ دھیرے سے بولا۔۔۔
لیکِن یہاں تو سب بلکل شانت ہے۔۔۔
اُس نے حیرت سے پھر چاروں اور دیکھا۔۔۔
شانت نہیں ہے۔۔۔۔
وہ اُسے متبسم بھاری لہجے میں بولا تو نین کی پیشانی پر اُلجھن اُبھر آئی۔۔۔
پاگل ہو گئے ہو تم ۔۔۔۔طوفان کب ایسا پرسکون ہوتا ہے وہ تو اپنے زور سے سب بکھیر دیتا ہے۔۔۔۔
وہ اُسے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔
بکھیر کر جانا نہیں چاہتا اس لیے ابھی خود پر قابو رکھا ہے۔۔۔۔
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتا اسی انداز میں بولا تو نین نے بھی سیریس ہو کر اُسے دیکھا۔۔۔
مجھے لگ تو رہا ہے تم کوئی اور بات کر رہے ہو لیکن کیا یہ سچ میں سمجھ نہیں آرہی۔۔
وہ اپنے دِماغ پر زور دے کے بھی ناکام ہوئی تو معصومیت سے بولی۔۔۔
وہ بے ساختہ مسکرایا۔۔۔۔
سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔۔۔۔
سر ہلکا سا سائیڈ میں جھکائے اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو نظروں سے چھوتے ہوئے دھیمے سرگوشی جیسے لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔
اُس کی بدلتی نظروں سے نروس ہوتے ہوئے نین نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
سمجھاؤں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سر ہلانے پر اسی انداز میں بولا تو پتہ نہیں کس احساس کے تحت نین کا دل تیزی سے دھڑکا اُس نے پھر سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔
ساحل کے چہرے پر گہرے ہوتے ایک ڈمپل نے اُس کی دلکشی میں اضافہ کیا۔۔۔
ہم۔۔۔۔گھ۔ گھر کب جائیں گے۔۔۔۔۔۔
وہ بدلتی کیفیت و صورت سے پریشان ایک سنجیدہ موضوع ڈھونڈھتی پوچھنے لگی۔۔۔
کیوں یہ اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔
اُس کے انداز میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔۔۔وہی جازب نظریں۔۔۔وہی گمبھیر لہجہ۔۔۔۔وہی الگ انداز۔۔۔
اچھا ہے لیکن ساری رات ایسے بوٹ رائیڈ ہی تو نہیں کر سکتے۔۔۔۔
اب تو اُسے ساحل کے ساتھ ہونے اسے بھی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔
اُس کے بدلے روپ پر نین کے اندر کی تیز و تند لڑکی کہیں چھپ گئی تھی۔۔
تو پھر ساری رات اور کیا کرسکتے۔۔۔
وہ اُس کے سوال پر معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھتا پوچھنے لگا تو وہ گڑبڑا گئی۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔۔۔۔۔۔
زوروں سے سر نفی میں ہلا کے گلا تر کیا۔۔۔
بتاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اُس نے اتنی ہی تیزی سے پھر سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔
کہیں یہ شپ میں بدلی تو نہیں ہو گیا۔۔۔
اُس کے بدلے تیور دیکھتی وہ مشکوک نظروں سے اُسے دیکھتی سوچ رہی تھی۔۔۔کے ساحل نے ائبرو اٹھا کر اُسے سوالیہ تاثر دیا۔۔۔۔۔
اب تو ۔۔۔۔بڑے ماما کے گھر جائیں گے نا ہم۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پوچھنے پر سوچ کر بولی
ہم نہیں صرف تم۔۔۔۔۔
ساحل نے دھیرے سے کہا۔۔۔۔
کیوں تم وہاں نہیں آنا چاہتے۔۔۔
نین نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔
مجھے ایک بہُت ضروری کام سے کہیں جانا ہے کچھ دن کے لیے۔۔۔۔
وہ ہینڈل کو واپسی کی طرف موڑتے ہوئے گہری سانس لے کر بولا تو وہ ایکدم سے اپنے فورم میں آئی۔۔
بول تو ایسے رہے ہو جیسے کہیں کے بزنس مین ہو۔۔۔۔ایسا کیا کام ہے جو تمہیں دنوں کے لیے جانا پڑ رہا ہے۔۔۔۔
ہمیشہ والی ڈیرنگ۔۔۔۔۔ لیکِن لہجہ تھوڑا نرم ہی تھا۔۔۔
نئیں جاؤں۔۔۔۔۔
وہ پھر سے اُسی بہکے بہکے انداز میں اُسے دیکھتا مدھم لہجے میں پوچھنے لگا تو نین کو چاہ کر بھی ہاں بولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔۔
جیسے میری۔۔۔ببّ۔ بات تو بہت ہی مانتے ہو۔۔۔۔۔
وہ بمشکل اُس کی طرف دیکھ کر بول پائی۔۔۔
مان جاؤں۔۔۔۔۔۔
اب کی دفعہ کہتے ہوئے بنا مسکرائے بھی ڈمپل واضح ہوا۔۔۔نین کو اب حقیقی معنی میں اُس سے خوف محسوس ہوا۔۔
مجھے تو لگتا ہے تم نے شپ پر ضرور کوئی بہُت سٹرانگ ڈرنک کی ہے وہ بھی پوری بوتل۔۔۔۔۔۔ہے نا۔۔۔
وہ اُسے جانچتے ہوئے دیکھتی بولی تو اُس نے مسکراہٹ روک کر سر نفی میں ہلایا۔۔۔
اپنا ہاتھ دو۔۔۔۔
نین نے اُس کے نا کہنے پر ہتھیلی آگے کرکے کہا۔۔۔ ساحل نے اُس کے چہرے پر نظریں ٹکائے ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کے ہاتھ میں رکھا۔۔۔
نین نے اُس کا ہاتھ چہرے کے تھوڑے قریب کرکے سانس کھینچی۔۔۔
حالانکہ اُس کے ہاتھوں میں کوئی سمیل نہیں تھی لیکن وہ کہاں آسانی سے ما ن جانے والی تھی۔۔۔
تھوڑی تھوڑی سمیل۔۔۔۔۔ ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔تمہیں نہیں پتہ میری سکس سین بہُت ایکٹیو ہے۔۔۔میں ذرا سے میں پہچان جاتی ہوں۔۔۔
وہ گردن اکڑ ا کر اُس سے زیادہ خود کو یقین دلاتے ہوئے بولی تو ساحل نے اُس کے انداز پر شوخ نظروں سے اُسے دیکھتے اُس کے ہاتھ میں موجود ہاتھ سے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے کھینچ کر خود پر گرا گیا۔۔۔۔
وہ بمشکل خود کو چینکھنے سے بعض رکھے سانس روک کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔اس اچانک افتاد پر دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہونے لگا۔۔۔
سانسیں سینے میں مچلنے لگی۔۔۔
ہاتھ پیر کانپنے لگے۔۔۔۔۔
پلکیں لرزنے لگی۔۔۔
وہ اُس کی بے خود نظریں خود پر محسوس کرکے گھبرائی سی اُس کے سینے پر ہاتھ رکھے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی
لیکن ساحل نے اُس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اُسے خود میں مزید بھینچا تو وہ دوبارہ اُس پر آ گری۔۔۔۔۔۔
تھوڑا نزدیک سے محسوس کرو تو سکس سینس کو آسانی ہوگی۔۔۔۔
وہ دوسرا ہاتھ اُس کی گردن میں ڈالے اُس کی حیران پریشان رنگت کو دیکھ محظوظ ہوتے ہوئے بولا
نین کے لیے تو اُس کی خوشبو حواسوں پر چھانے سے سانس لینا محال ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ اس کے چہرہ کے قریب چہرہ جھکاتے ہوئے تشنہ نگاہوں سے اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔
کیا۔۔۔۔ ابھی بھی سمیل آرہی ہے ۔۔۔۔
اُس کے الفاظ کے ساتھ اُس کی سانسیں نین کے چہرے پر آگ کی طرح برسنے لگی۔۔۔
اُس کا چہرہ دہکنے لگا۔۔۔
لب سلگنے لگے۔۔۔
لیکن اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تو ساحل نے فاصلے کو اور کم کیا۔۔۔
گردن پر اُنگلیاں چبھنے لگی۔۔۔
پیشانی اُس کی پیشانی سے لگی۔۔۔۔ناک نے نین کے سرخ ہوتے گال کو چھوا۔۔۔۔۔آنکھوں نے آنکھوں کو جکڑ لیا۔۔۔ سانسیں آپس میں اُلجھنے لگی۔۔۔
اب۔۔۔۔۔۔
اُس کے لب بے آواز ہل کر نین کے چہرے کو چھونے لگے تو اُس نے سینے پر رکھے ہاتھ سے اُس کی شرٹ سختی سے جکڑ لی۔۔۔
تڑپ کر پیچھے ہونا چاہا لیکِن ہو نہیں پائی
ابھی تو مجھے۔۔۔۔
سس۔۔ سانس ہی نہیں آرہی ۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ گھٹی گھٹی آواز میں منمنائی اس احتیاط کے ساتھ کے حرکت کرتے ہوئے لب اُس کے چہرے کو نہ چھوئے۔۔۔۔۔
اُس کی بات اور احتیاط پر وہ كھل کے مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
اتنے ہی قریب سے کے وہ سانس لیتے ہوئے بھی احتیاط کر رہی تھی۔۔۔
شاید پہلی دفعہ وہ کسی سچویشن سے اس قدر گھبرائی تھی۔۔۔۔
اُس کے لرزتے لبوں کو دیکھ ساحل کے مسکراتے لب سمٹنے لگے تھے۔۔
اور نین کا دل دوگنی قوت سے سمٹ گیا تھا۔۔۔۔
وہ خود کو روکنے کی کوشش میں ناکام ہو کے اپنے دل کی خواہش پر عمل کرتا اُس کے اوپری لب کو آہستہ سے نرمی سے چھو کر ذرا پیچھے ہوا۔۔۔
نین نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے شرٹ کو اور دوسرے سے اُس کے گلے میں لٹکتی چین کو مُٹھی میں جکڑ لیا۔۔۔
اُس کا روم۔روم دل بن کر دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے اُس کے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے راستے دل میں اتارتا اُس کے چہرے کو اپنی سانسوں کی آگ سے دہکا رہا تھا۔۔۔۔
دل بے ایمان ہو کر اپنے ہی ارادے سے مکر جانے پر اکسا رہا تھا۔۔۔۔سارے بندھن توڑ دینے کی ضد کر رہا تھا۔۔۔
خود کو اُس کے وجود میں چھپا کر سب بھول جانے کی خواہش کر رہا تھا
اُس نے بے قابو ہوتے جذبات پر روک لگانے کی کوششں کرتے ہوئے آنکھیں بند کرکے گہری سانس لی۔۔۔شدت سے اپنا نچلا لب دانتوں میں دبا کر چھوڑا۔۔۔
اپنے چہرے پر اُس کی گرفت مدھم محسوس کر نین نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا اور دیکھتی رہی۔۔۔
لیکِن اب نا حیرت نا صدمہ نا ڈر نا خوف نہ جھجھک بس بے اختیاری۔۔
اُس کے ماتھے کو چھوتے بالوں کو دیکھے جانے کی۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں جگتے دریائے جذبات میں بہتے جانے کی۔۔
لبوں سے نکلتے ہر لفظ بے خودی میں۔کھو جانے کی۔۔۔
ساحل نے بھی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا اور اُسے خود کو دیکھتے پا کر مدھم سا مسکرایا۔۔۔۔
ایک راز کی بات بتا دوں کیا۔۔۔
آج تھوڑا پیار جتا دوں کیا۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر آتے بالوں کو اُنگلیوں سے پیچھے کرتے ہوئے مدھم آنچ دیتے لہجے میں اپنے الفاظ کے سحر میں مزید اُسے جکڑنے لگا۔۔۔۔
ویران ہے مدت سے دل میرا۔۔
تصویر تیری لگا دوں کیا۔۔۔۔
اُس کی سرگوشی نین کا دل اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔
تیری یاد میں گم دن گزرتا ہے۔۔
تجھ میں کھو کے رات بتا دوں کیا۔۔۔
وہ انگوٹھے سے اُس کے گال کو رب کر رہا تھا۔۔
تیری نبض میں۔خود کو اُتار کے۔۔۔
میں اپنی جان گنوا دوں کیا۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی چاہت شدّت سب نظروں سے اُس میں انڈیل رہا تھا تھا۔۔۔
چھو کر نشیلی سانسوں کو۔۔۔۔۔
بن پۓ تجھے بہکا دوں کیا۔۔۔۔۔
اُس کے انگوٹھے نے نین کے نچلے لب کو چھوا تو کب سے ساکت آنکھوں کی پلکوں میں لرزش ہوئی۔۔
لاکھوں الجھنیں۔۔۔ہزار سوال۔۔
بس ایک حرفِ عام میں بتا دوں کیا۔۔۔۔۔
(سنایا خان)
وہ اُس کے کان کے قریب جھکتا اپنی سرگوشی سے اُس کی جان لینے کے در پر تھا۔۔
نین کو اُس کی گرفت ڈھیلی محسوس ہوئی تو وہ فوراً اٹھ کر اُس سے دور ہوئی۔۔۔۔۔اور اپنی ہتھیلی سے اپنا دل تھام لیا۔۔۔۔۔۔
ایک گہری فسوں خیز خاموشی چاروں اور چھا گئی۔۔۔
جس سے نین کا جی گھبرانے لگا
اُس کے دل کی دھڑکنوں کا شور اتنا تیز تھا جیسے پوری کائنات سن رہی ہو۔۔۔۔
وہ اسی اطمنان سے بیٹھا اُس کے چہرے کے بدلتے ایک ایک رنگ کو نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
نین نے ڈرتے ڈرتے اُسے دیکھا تو اُسے خود کو تکتے پا کر بوکھلائ۔۔۔
مجھے۔۔۔ شاعری سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔۔
وہ اپنی بدلتی کیفیت سے ڈرتی۔۔
اس کے جذبوں سے گھبراتی۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے چھپنے کے سعی کرتی۔۔۔بہُت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
تو کیا سمجھ آتا ۔۔۔۔
ساحل نے محظوظ ہو کر معنی خیزی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔تم ہی تو کہتے ہو نہ میرے سکرو ڈھیلے ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنی بوکھلاہٹ میں جلدی سے بولی کے وہ کوئی اور ہی مطلب نا سمجھ کر اُسے سمجھانے لگ جاے۔۔۔
ساحل نے اُس کی جلدبازی پر سر پیچھے گرا کر قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔
وہ تو ہے پر کل۔رات تم نے ایک بہُت عقلمندوں والی بات کہی تھی۔۔۔
وہ اُس کی گھبراہٹ کو انجوئے کرتا شرارت سے اُسے یاد دلانے لگا۔۔۔
کونسی۔۔۔۔۔
اُس نے سوچنے کے انداز میں پوچھتے دماغ دوڑایا اور جب یاد آیا تو چھکے چھوٹ گئے۔۔۔
بتاؤں۔۔۔۔
ساحل نے ہنسی روک کر پوچھا۔۔
نہیں ۔۔۔
وہ ایکدم سے سیدھی ہو کر فوراً سے پہلے بولی۔۔۔۔وہ کھل کر مسکرایا۔۔۔
مجھے میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔مجھے بخار ہو رہا ہے۔۔۔میرا بی پی ہائے ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔بھوک بھی لگ رہی ہے۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔مجھے سونا ہے۔۔۔
وہ اچانک رونے والی ہو کر اُسے ساری بیماریاں گنوا گئی۔۔۔
ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ بہُت دھیرے سے بڑبڑا کر مسکرایا لیکن نین تک آواز پہنچ گئی۔۔۔
کیا نہیں کیا۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
بتاؤں۔۔۔
اُس نے آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ پوچھا تو نہ سمجھنے کے باوجود وہ محض اُس کے انداز سے اندازہ لگا گئی۔۔
مجھ سے بات مت کرنا تم۔۔۔۔۔۔۔بس
اچانک وہ تیور بگاڑ کر بولی تو وہ اُسے محبت سے دیکھتا مسکرایا
ممی ٹھیک کہتی ہے رات کو سمندر کی طرف نہیں جانا چاہیے۔۔۔سمندر پر اثرات کا سایہ ہوتا ہے۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے تمہیں کسی سائے نے اپنی لپیٹ میں۔لے لیا ہے۔۔۔۔
وہ بدحواس سے بڑبڑاتی سرسراتے لہجے میں بولی۔۔۔حالانکہ دل چینخ چینخ کر کچھ اور ہی کہہ رہا تھا لیکن وہ خود کو وہ چیز سمجھنے سے روک رہی تھی۔۔۔۔۔
سائے کا پتہ نہیں۔لیکِن ایک بیماری ضرور لگ گئی ۔۔
وہ بجائے ہنسنے کے سنجیدگی سے بولا۔۔۔
کونسی بیماری۔۔۔۔
نین نے اُس کی جانب دیکھا کے شاید اب وہ لبوں سے کہہ دے تو وہ مان جائیگی لیکِن ابھی وہ کچھ دن اور ترسانے کے ارادے میں تھا۔۔۔
نام نہیں پتہ۔۔۔بس یہ مجھے میرا نہیں رہنے دے رہی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تو نین نے بے ساختہ پلکیں جھکائیں۔۔
کوئی ۔۔۔۔سمپٹمپ تو ہوگا نا۔۔۔میں ڈاکٹر بننے والی ہوں ٹھیک کر دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔
وہ بنا نظریں ملائے اپنے ناخن سے کھیلتی ہوئے بولی۔۔۔
تھوڑا سا اِنتظار کرلو۔۔۔۔تمہیں بھی بیمار کر دوں گا اچھے سے ایکسپیرینس کر لینا۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو نین نے ایکدم سے اُسے دیکھا۔۔۔
کافی ڈراؤنی لائن تھی یہ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتی گھور کے بولی تو وہ ہنس دیا۔۔۔
وہ لوگ ساحل کے قریب آگیے تھے اور نین کا دل چاہ رہا تھا کے کاش یہ سفر اور چلتا رہتا۔۔۔کچھ دیر و لوگ یونہی دنیا سے دھو ہو کر ایک دوسرے کے قریب آجاتے۔۔۔
وہ آگے کے ہینڈل کو موو کرتا بوٹ روکنے لگا تو نین سنجیدگی سے بنا پلکیں جھپکیں اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
بوٹ رکتے ہی و نیچے اُترا اور نین کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بھی نیچے اُتارا۔
وہاں پہلے سے ایک بلیک کار کھڑی تھی۔۔
گھر جاؤ۔۔۔میں کال كروں گا۔۔
وہ گاڑی کا پچھلا دروازہ اُس کے لیے کھیلتے ہوۓ جی بھر کر اُسے دیکھنے لگا کے جانے اب کتنے دن بنا اُسے دیکھے گزارنے ہے۔۔۔
اتنی رات کو اپنی خوبصورت بیوی کو اکیلے بھیجو گے کسی نے کڑنیپ کر لیا تو۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کے بولی حالانکہ دل چاہا کہہ دے کے تم بھی ساتھ چلو۔۔۔۔
ویسے بھی وہ اُس کے نا ہونے کو محسوس کرتی تھی لیکن آج شدت سے دل کر رہا تھا کے وہ ایک لمحہ بھی دور نا جاے۔۔۔
شاید اُس کے لفظوں میں اپنے لیے چاہت کی کشش اُسے کھینچ رہی تھی یہ اپنا ہی دل​ بیگانہ ہو رہا تھا۔۔
​ایسا ممکن تو نہیں لیکِن اگر ہوا بھی تو آدھے گھنٹے میں خود ہی چھوڑ جائے گا۔۔۔کیوں کے اس سے زیادہ تمہیں کوئی سہہ نہیں سکتا۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا۔۔۔
وی آگے بڑھتے بڑھتے رک گئی۔۔
اگر تم نہیں آؤگے تو سب یہی سمجھے گے جو مجھے لگ رہا ہے۔۔۔
پلیز ایک بار گھر چلو بھلے پھر جہاں جانا ہو چلے جانا۔۔۔۔
وہ کچھ سوچ کر بولی تو ساحل نے ایک نظر کلائی میں بندھی گھڑی اور ڈالی جو رات کے ایک بجانے والی تھی۔۔
ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔۔۔۔
وہ اُس کے اتنے دل سے کہنے پر انکار نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے رک کر بولا۔۔۔
پکّا نا۔۔۔میں اِنتظار کروں۔۔۔۔
نین نے یقین کو مضبوط کرنا چاہا
پکا بس اِنتظار مت کرنا ۔۔۔سو جانا۔۔۔
وہ سر ہلا کر بولا تو وہ خوش ہو کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
ساحل نے ڈور بند کیا اور نین بہُت دور جانے تک پیچھے کانچ سے اُسے دیکھتی رہی۔۔۔
♦♦♦♦♦♦