Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 62
No Download Link
Rate this Novel
Episode 62
Episode 62
اُسے سوجھ نہیں رہا تھا کے نین کو لے کر کہاں جائے۔۔۔ایسا کونسا بہانا کرے کے وہ واپس لوٹنے کو راضی ہو جائے۔۔۔۔
وہ اُسے کسی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا اسلئے شدّت سے کوشش کر رہا تھا کے وہ اپنے گھر چلی جائے
شہر سے باہر جاتی سڑک پر پچھلے پندره منٹ سے وہ گاڑی بهگا رہا تھا جب اُس کی نظر اُس سڑک کی ایک سائیڈ میں بنے فارم ہٹ پر پڑی
کھیتوں کی نگرانی کے لیے اکثر کسان کھیتوں میں ہی گھر بنا کر رہتے ہیں تاکہ اپنی فصل کی چوکیداری کر سکے۔۔اُسے نقصان سے بچا سکے
ایسا ہی وہ کوئی گھر تھا جو پرانے گھروں کی طرح مٹی سے بنا چھوٹا سا کچا مکان لگ رہا تھا۔۔جو اپنے ٹھیک سامنے کھڑے گھنے درخت کی اونٹ سے جھلک رہا تھا
اُس نے پر سوچ نظروں سے اُس مکان کو دیکھتے ہوئے گاڑی کو بریک لگائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں کیوں رک گئے۔۔۔۔۔بیچ راستے میں
نین نے بائیک سے اُتر کر آس پاس میں نظریں ڈالتے ہوئے حیرت سے پوچھا
اِدھر اچ تو اپن لوگ کا گھر ہے۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔یقیناً اس سنسنان جگہ وہ معمولی سا جھونپڑا دیکھ کر وہ اپنا ارادہ ترک کرکے اُلٹے قدم لوٹ جاتی۔۔۔۔۔جیسا کے وہ چاہتا تھا
یہاں۔۔۔۔۔
نین نے پریشان نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔سنسان جگہ تھی۔۔۔چاروں اور ہریالی تھی اور شام ہونے لگی تھی اس لیے بارش کے کیڑے شور مچا رہے تھے۔۔۔ایسی جگہ گھر۔۔۔
ہاں وہ دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔وہ ہے میرے باپ دادا کا مکان۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے تاثرات دیکھتے ہوئے اُس کے پیچھے اُنگلی سے گھر کی جانب اشارہ کیا۔۔نین نے پیچھے پلٹ کر دیکھا
وہ مکان سڑک سے چند گز اندر تھا۔۔۔۔مکمل نظر نہیں آرہا تھا کیوں کہ درخت کی شاخوں نے اُسے آگے سے چھپایا ہوا تھا۔
کھیتوں میں کوئی فصل نہیں تھی۔۔ لیکن بارش کی وجہ سے گھر کے چاروں اور دور دور تک اونچی گھاس کی ہریالی بچھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔بس سڑک سے اُس گھر تک کا پتلا سا راستہ صاف نظر آرہا تھا۔۔۔۔
لیکِن وہ تو کسی فارمر کا گھر لگتا ہے
نین نے غور سے اُس ہٹ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
ہاں تو۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے دادا پردادا سب اِدھر کھیتی باڈی ہی کرتے تھے ۔۔۔۔
اُس نے منہ بھر کر جھوٹ بولا اور خود کو لعنت بھی بھیجی کے باپ۔کا پتہ نہیں اور باتیں دادا پر دادا کی۔۔۔
جب کے نین ذہن میں آنے کے بعد یہ سوال نہیں پوچھ پائی تاکہ وہ شرمندہ نا ہو
وہ لوگ یہاں کیسے رہتے ہوں گے اتنی سنسان جگہ ہے اُنھیں ڈر نہیں لگتا ہوگا کیا۔۔۔۔
اُس نے فکرمندی سے سوچا۔۔۔۔حالانکہ وہ جگہ دیکھنے میں خوبصورت تھی۔کچھ دیر تک تفریح کے لیے اچھی تھی۔۔۔۔ لیکن رہنے کے لئے صحیح نہیں تھی۔۔اُسے تو ویسے ہی اندھیرے سے ڈر لگتا تھا اور یہ جگہ تو تھی بھی بے حد سنسان بیانباں میں
ڈر لگتا تھا نہ۔۔۔۔۔اسلئے تو یہاں سے چلے گئے۔۔۔۔ہم بھی واپس چلتے ہے۔۔۔۔چل
ساحل نے جلدی سے بولتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بائیک پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
لیکن۔۔۔ہم کہاں جائے گے پھر۔۔۔۔
نین نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے پوچھا
تو تیرے گھر جائےگی۔۔۔۔ اور میرا کیا ۔۔۔
میں ره لوں گا کدھر بھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا
ایسے کیسے۔۔۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے میں تمہیں اکیلا چھوڑ دوں گی۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی بات پر معصومیت سے کہا ساحل نے ضبط سے دانت پیستے ہوئے سوچا کے ہاں سچ میں تو میری جان لیے بنا نہیں چھوڑے گی
میں یہاں ہی رہوں گی تمہارے ساتھ۔۔۔۔
اور جب ہم دونوں ہے ایک دوسرے کے ساتھ تو ڈر بھی نہیں لگیگا۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ایک طرح سے اُسے سپورٹ کرنا چاہا
جب کے ساحل جبڑے بھینچے اُسے گھورنے میں مصروف تھا
چلیں اندر۔۔۔۔
نین نے اُس کی گھوری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اُس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
تیرے کو یہ جگہ رہنے لائق لگتی ہے کہیں سے۔۔۔۔۔۔چل نہ یار پلیز
وہ سخت جھنجھلا گیا ۔۔۔دل کیا اپنا سر پھوڑ لے
لیکِن ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔بس اب بحث مت کرو چلو منہ بند کرکے۔۔۔۔چلو
نین نے تنگ آکر اُس کا بازو پکڑ کر کھینچا ساحل کو مجبوراً گاڑی سے اتر نا پڑا اور اُس کے اترتے ہی و اُسے کوئی بھی موقع دئیے بغیر کھینچتی اُس کچے راستے سے اندر لے جانے لگی۔۔۔۔۔
چند قدم ہی اندر جانے پر دائیں جانب بنا تھا وہ چھوٹا سا مٹی کا گھر جس کی دیواروں پر کوئی رنگ و روغن نہیں تھا ۔۔۔
چھت کویلو سے بنی ہوئی تھی گھر کے دروازے کے کافی آگے تک اُس چھت کا سایہ تھا۔۔۔اور اُس سائے کے نیچے گھر کی دیوار سے بلکل لگ کر مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا جس کا رنگ کہیں سے کالا اور کہیں سے سرمئی ہو گیا تھا۔
مٹی سے فلور کیا ہوا بڑا سا کھلا آنگن جس پر ڈھیروں سوکھے پتّے جمع ہو گئے تھے۔۔کافی کچرا پڑا ہوا تھا۔۔۔
گھر کے پچھلے حصے میں دو الگ الگ ٹوائلٹ باتھروم بنے ہوئے تھے۔۔۔
اور وہیں چند قدم کے فاصلے پر ایک طرف بورویل موٹر کے ساتھ ایک بڑا سا پانی کا پائپ رکھا ہوا تھا جو عام طور پر ہر کھیت میں فصل کو پانی دینے کی غرض سے ہوتا ہے۔۔۔۔موٹر کے نزدیک ہی ایک چھوٹا سی سیمنٹ کی پانی کی ٹانکی بنی ہوئی تھی جس کا پانی کافی گندا ہو گیا تھا۔۔۔
۔۔سامنے کے آنگن میں دروازے کے ٹھیک سامنے دس قدم کی دوری پر ایک بڑا سا نیم کا درخت تھا جس کی شاخیں کافی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
ویسا ہی ایک بڑا سا درخت گھر کی دائیں جانب بھی تھا جس کی شاخیں گھر کی چھت کو چھو رہی تھی۔۔۔۔۔
اور اُسے سائیڈ سے ایک پیلے پھولوں کی بیل دیوار پر چڑھتی چھت کی جانب جا رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ جگہ اتنی خوبصورت اور پر سکون لگ رہی تھی کے نین کو اندھیرے اور سنسان جگہ کا ڈر بلکل بھول گیا
کتنی خوبصورت جگہ اور کتنا پیارا گھر ہے نہ
وہ بے ساختہ اُس کے بازو سے چہرہ لگاتے ہوئے میسمرائز ہو کر اُس جگہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ساحل نے ایک پل اسے سنجیدگی سے دیکھا اُس کے چہرے کی خوشی ہی انوکھی تھی لیکن اگلے ہی پل ۔۔۔۔۔۔
اے ہشار ۔۔۔چُپ کرکے چل یہاں سے۔۔۔۔۔جب سانپ بچھو کاٹے گا نہ تو پتہ چلے گیا کتنا پیارا گھر ہے
اپنا ہاتھ اُس سے چھڑا کر ساحل نے اُسے غصے سے گھورا
تو کیا ہوا ۔۔۔۔اگر سانپ کاٹے گا تو تم زہر چوس کر نکال دینا۔۔۔۔جیسے فلموں میں کرتے ہیں۔۔۔۔
وہ بلکل بھی سیریس ہونے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔۔شرارت سے پلکیں جھپکتے ہوئے بولی
ہاں میری تو مت ماری گئی ہے نا۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھما کر بڑبڑایا۔۔۔
لکڑی کے چھوٹے سے دروازے پر صرف کنڈی چڑھائ ہوئی تھی کوئی تالا نہیں تھا۔
اس لیے نین نے آسانی سے دروازہ کھول لیا۔۔۔
اور اُس کے تاثرات دیکھ کر دوبارہ اُسے ہاتھ پکڑ کر اندر لائی۔۔۔۔وہ جلدی سے نیچے جھکا اور اُس کےہمراہ اندر آیا
اندر چھوٹی سی کھڑکی تھی لیکن چونکہ شام گہری ہوتی جا رہی تھی اس لیے اندر کافی اندھیرا ہو گیا تھا
ساحل۔نے دروازے کے قریب کی لگے چھوٹے سے سوئچ بورڈ کی بٹن دبائی تو وہاں درمیان میں لگا بلب روشن ہو گیا
باہر سے گھر جتنا خوبصورت تھا اندر سے اتنا ہی گندا۔۔۔۔۔پورے گھر میں کچرا ہی کچرا پڑا تھا۔۔۔۔
کہیں پرالی کے گٹھے بندھے پڑے تھے تو کہیں کھیتوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل کے بڑے بڑے بورے۔۔۔۔۔۔.
کہیں کھیتوں میں استعمال ہونے والے اوزار کُدال درانتی وغیرہ
دیواروں پر بڑے بڑے جالے لگے ہوئے تھے۔۔چاروں اور دھول مٹی۔۔۔۔
حال نما گھر کے درمیان میں بڑا سا لکڑی کا بامبو تھا جس کے سہارے چھت تھی۔۔۔
دیوار میں بنی دو دیوار نسب شیلف تھی جس میں ایک میں کھانے کے برتن وغیرہ
اور دوسرے میں بستر رکھے ہوئے تھے۔۔
وہاں ایک چار پائی بھی پڑی ہوئی تھی اور یہ سب دیکھ کر صاف اندازہ ہو رہا تھا کے کچھ دن پہلے تک وہاں کوئی رہتا تھا۔
ان یقیناً وہ ساحل کے دادا پردادا تو نہیں ہو سکتے تھے
یہ سب سامان دیکھ کر تو ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاں کچھ دنوں پہلے تک کوئی رہتا تھا۔۔۔۔
وہ دانتوں میں اُنگلی دبائے ایک ایک چیز کو دیکھتی سوچنے لگی ۔ساحل نے زبان اُس کی طرف دیکھ کر دانتوں میں دبائی۔۔
اور اُس کے پلٹتے ہی منہ پھیر کر انجام پلس معصوم بن گیا
اور تم نے تو کہا تھا کے یہاں بجلی پانی نہیں ہے لیکن باہر بورویل موٹر لگی ہے۔۔۔مطلب پانی بھی ہے اور بجلی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کی جانب دیکھ کر سوچتے ہوئے کہا اور درمیان میں رک کر اپنا فون نکا ل کر چیک کیا تو اس میں فل نیٹورک نظر آرہا تھا
اور نیٹورک بھی ہے۔یہاں تو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ موبائل اُس کے سامنے کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولی
تیرے کو یہاں رہنے کا ہے نہ۔۔۔۔۔تو منہ بند کرکے رہ جاستي سوال جواب مت کر سمجھی نا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کا کیا جواب دیتا اس لیے بلا وجہ ہی چڑ گیا۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اتنا بھڑک کیا رہے ہو ہارٹ بیٹ بڑھ گئی میری۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے اچانک اتنے خطرناک ری ایکشن پر دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیرت زدہ سی بولی۔۔
اُسے ساحل کی جھنجھلاہٹ صاف نظر آرہی تھی لیکن اُس کے پیچھے کی وجہ وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
وہ تو کتنی اُمید لگائے بیٹھا تھا کے اس گھر کو دیکھ کر نین تارا برا سا منہ بنا کر وہاں سے بھاگ جائے گی اور یہاں اُس کی امیدوں پر ڈھیروں پانی ڈال کر وہ انجوئے کر رہی تھی۔۔۔
جگہ کم ہے اوپر سے سارا کباڑ بھرا ہوا ہے یہاں۔۔۔
ایسا کرتے ہے پہلے سب فالتو کی چیزیں باہر نکال دیتے ہیں۔۔
وہ کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئی طائرانہ نظر پورے ہال پر ڈالتے ہوئے بولی
پھر تو کدھر رہے گی۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی بات اُچک کر سنجیدگی سے پوچھا چند سیکنڈ لگے نین کو اُس کی بات سمجھنے میں اور پھر اُس کا منہ کھل گیا
تمھارے سر پر۔۔۔۔جو بولا ہے وہ کرو۔۔۔۔
وہ خود کو فالتو چیز کہے جانے پر غصے سے بولی
میں کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔۔۔۔تیرے کو یہاں رہنے کا ہے تو خود ہی دیکھ اپنا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ اوپر کرکے اُسے صاف جتاتے ہوئے بولا
نین نے اُسے ناک پھلا کر گھورا اور خود ہی کچھ کرنے کی سوچ کر اپنی آستین کو اوپر فولڈ کرتی ہوئی آگے بڑھی۔۔۔۔
سب سے پہلے اُس نے وہاں پڑے بھرے ہوئے بورے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اُس کے نازک بازؤں میں اتنا زور نہیں تھا کے وہ اُسے ہلا بھی سکتی۔۔۔
ذرا سی کوشش میں ہی اُس کی ساری انتڑیاں ایک جگہ جمع ہو کر مزید ہمت کرنے سی انکار کر چکی تھیں۔۔۔
سردی کے باوجود ماتھے اور گلے پر پسینہ آنے لگا تھا حالانکہ بوری اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی۔۔۔۔
اُس نے ہلکا سا سر گھما کر ساحل کی طرف دیکھا تو وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا فرصت سے اُس جنگ کا نظارہ انجوئے کرنے میں مصروف تھا نین کے پلٹنے پر اُسے آنکھوں ہی آنکھوں میں داد دیتے ہوئے آگے بڑھو کا اشارہ کرکے اُس کا جوش بڑھایا۔۔۔
نین نے زبردستی مسکرا کر داد وصول کی اور پھر بورے کو ایسے گھورا جیسے کہہ رہی ہو کیا ہوجاتا اگر تھوڑا سا ہل ہی جاتے۔۔۔۔
میری عزت رکھ لیتے تھوڑی۔۔۔۔
آخر اُس نے خود کو یہ سوچ کر تسلی دی کے وہ بورا ہی غلط ہے اور وہاں سے آگے بڑھ کر پرالی کے گٹھے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اُٹھانا تو اتنا مشکل نہیں تھا جتنا سنبھالنا
اُسے اپنے آگے پکڑ کر دو قدم چلتے ہی وہ پیچھے لڑھکنے لگی بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور گرنے کے ڈر سے اُس گٹھے کو وہیں چھوڑ کر جلدی سے ہاتھ جھٹکے اور اپنے کپڑے بھی۔۔۔۔
ساحل نے بہُت مشکل سے اپنی اسمائیل کنٹرول کی۔۔۔
اب وہ شیلف میں رکھے برتنوں کی طرف بڑھی کے کم سے کم اُنہیں تو نکال سکے نچلے دو خانوں کے برتن آسانی سے نکال کر نیچے رکھے لیکِن اوپر والے خانے تک اُس کا ہاتھ پہنچ نہیں رہا تھا
اچھا صرف یہ سامان تو نکال دو
مجھ سے نہیں ہوگا ۔۔۔ میرا ہاتھ چھوٹا پڑ رہا ہے۔
آخر اُسے یقین تھا اُس کے بس میں تو یہ سب نہیں ہے اسلئے اپنے اٹیٹوڈ کو قائم رکھتے ہے بہانے بہانے اُس سے مدد مانگی
تو زبان سے ٹرائے کر وہ تو بہت لمبی ہے۔۔۔
ساحل نے دیدہ دلیری سے اُسے ترکیب سجھائی
لڑنے کا موڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے گھورا اُس نے ضبط سے دانت بھینچے
جب سے تیرے سے شادی ہوئی ہے بس مرنے کا موڈ ہوتا ہے میرا۔۔۔۔
وہ ایکدم سے پھٹ پڑا اپنی شرٹ اتار کر دروازے پر رکھی اور اُسے پیچھے کرکے وہاں سے برتن نیچے اتارنا لگا۔۔۔
اُسے اچانک جوش میں آتے دیکھ جہاں وہ اُس کے کام کرنے سے خوش ہوئی وہیں اُس کے تیور دیکھ کر دور کھڑے ہونے میں ہی اپنی عافیت نظر آئی۔۔۔اسلئے فوراً پیچھے ہو گئی
پتہ نہیں اور کون کون سے دن دکھائے گی
سالہ اچھا خاصا جی رہا تھا میں۔۔۔۔۔۔۔۔جب سے آئی ہے ایک دن سکون کا نہیں گزرا۔۔۔کبھی لاتیں مار رہی ہے۔۔۔۔کبھی جھاڑو سے ڈرا رہی ہے۔۔کبھی سب کے سامنے تھپڑ مار رہی ہے۔۔۔۔
میری ایک عزت کا ہزار بار جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔
اس سے تو اچھا ہوتا مجھے کسی توپ سے اڑا دیتی۔۔۔کم سے کم عزت کی موت تو نصیب ہوتی۔۔۔۔
وہ اب جوش خروش سے ہاتھ پیر چلا کر سارا سامان گھر سے باہر آنگن میں لے جا لے جا کر رکھتے ہوئے ساتھ ہی اپنی بھڑاس بھی نکالے جا رہا تھا۔۔۔
نین دیوار سے لگ کر خاموش کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اب اس پاگل کیس کی وجہ سے میں اس جنگل میں بھٹکوں گا۔۔۔۔۔۔
ٹارزن بن کر یہاں سے وہاں کودوں گا۔۔
اور ماسی بن کر گھر کی صفائی بھی کروں گا
خاک میں گئی انٹیلیجنس کی نوکری۔۔۔۔۔
بھاڑ میں گئے سارے میڈلز۔۔۔۔۔۔۔
چولہے میں گیا کریئر۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ایک کر وہاں پڑے سارے بورے اٹھا کےباہر پھینکتے ہوئے غصے غصے میں اپنی زبان کا کنٹرول کھوتا جا رہا تھا اُسے بھی نہیں معلوم تھا وہ کیا بول رہا ہے۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔بول کیا رہے ہو۔۔۔۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے۔۔۔۔۔۔۔
نین کو اُس کی باتوں پر سخت حیرت ہوئی اُسے لگا اُس نے کچھ غلط سنا ہے وہ انٹیلیجنس اور میڈلز کی بات کیوں کرےگا
ساحل نے ایک پل کو رک کر اُسے دیکھا اور پھر ایکدم سے اُس کے پاس آیا۔ اُسکے بے حد قریب۔۔۔۔
پاگل ہو گیا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُسے اتنی خطرناک نظروں سے گھورا کے وہ خوفزدہ ہو کر دیوار میں گھسنے لگی۔۔۔
۔تیرے کو دیکھ دیکھ کے میرا بھی بھیجا کھسک گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولتا پیچھے ہوا اور دوبارہ سے اپنے کام میں لگ گیا نین نے رکی سانس بحال کی۔۔۔
جتنے دھماکے سرحدوں پر نہیں ہوتے اتنے میری لائف میں ہورہے ہے
میرے اوپر تو ایک پکچر بننی چاہیے۔۔۔۔جس کا نام ہوگا زبردستی کی بیوی کا ستایا شوہر۔۔۔
قسم سے ریکارڈ توڑ کمائی کریگی۔۔۔۔۔
وہ اپنے دل کے دکھڑے سناتے ہوئے مسلسل ہاتھ چلا کر گھر سے سارا سامان نکال کر اسے پورا خالی کر چکا تھا۔۔۔
خالی ہونے کے بعد زیادہ بہتر لگ رہا تھا۔۔۔اُس نے جھاڑو لے کر پہلے پوری صفائی کی نین نے آگے بڑھ کر ساتھ دینا چاہا تو اُسے غصے سے آنکھیں دکھا کر وہاں سے باہر نکل جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر باہر آگئی اور اور چارپائی سیدھی کرکے اُس پر بیٹھ گئی۔۔۔
ساحل نے گھنٹہ لگا کر پہلے جھاڑو سے گھر کی صفائی کی پھر موٹر آن کرکے پائپ لگا کر اوپر سے نیچے تک اُسے پانی سے دھویا۔۔۔۔
باہر نکالے گئے غیر ضروری سامان دوائیاں اوزار کیمیکل پرالی اور وہاں رہنے والوں کے استعمال شدہ بستر چادریں وغیرہ کو اُس نے گھر کے سائیڈ والے حصے میں حفاظت سے رکھ دیا اور ایک پلاسٹک شیٹ سے اچھے سے کور کر دیا تاکہ وہ محفوظ رہے۔۔۔
اور جو ضروری سامان تھا برتن سٹول چارپائی وغیرہ وہ پانی سے دھوکے صاف کرکے واپس اندر اُن کی جگہ پر رکھ دیئے۔۔۔ تاکہ اُن کے رہتے کام میں آسکے۔۔۔۔
آنگن خالی ہونے کے بعد اُس نے پانی سے پورے آنگن کو بھی دھو کر صاف کیا اور اُس کے بعد اُس آنگن اور گھر کا نقشِہ بلکل بدل چکا تھا۔۔۔۔۔
وہ گھر اب اُن کے رہنے کے قابل ہو چکا تھا لیکن ساحل کی اپنی حالت اس چکر میں کافی بری ہو چکی تھی۔۔۔
کپڑے بال چہرہ سب بدتر ہو چکے تھے اور اُس کے پاس اب کپڑے بھی نہیں تھے کے نہا کر چینج کرلے۔۔۔
جب کے نین تو گھر کو بار بار دیکھ کر خوش ہوئے جا رہی تھی ۔۔۔۔
ویسے ایک بات ہے۔۔۔غصے غصے میں تم نے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا۔۔۔۔اب یہ لگ رہا ہے رہنے لائق ۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں اور نظر دوڑا کر خوش ہوتے ہوئے بولی ساحل نے بیزاری سے اُسے دیکھتے ہوئے اپنے بالوں سے گرد صاف کی۔۔۔۔
لیکِن اب مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔۔کھانے کا بھی تو کچھ کرو نا۔۔
وہ اچانک سے بھوک یاد کرکے معصوم صورت بنا کر بولی۔۔۔
میرا سکون نگل کر پیٹ نہیں بھرا تیرا جو اب بھی کھانا مانگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔
ساحل نے بیچارگی سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
نین نے منہ بنایا اور فون پر کھانا آرڈر کرنے لگی۔۔۔
ساحل کو اپنی حالت دیکھ کر غصّہ بھی آرہا تھا اور خود پر ترس بھی آرہا تھا کے کیسے وہ کام والی ماسی بن گیا تھا۔۔۔فلحال اُسے اپنے کپڑوں کی سخت ضرورت تھی اور سوچ رہا تھا کے کیا کرے کیسے کپڑوں کا انتظام کرے جب اُسے باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦
