Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

چلو نا نین ۔۔۔تمہارا ہی روم ہے۔۔۔۔۔
وہ دروازے پر کھڑی آنکھیں پھاڑے اپنے روم کا بدلہ ہوا نقشہ دیکھ رہی تھی تب شیرین اُس کے بازو سے بازو ٹکرا کر ہنستے ہوئے بولی۔
اُس کی دوسری طرف عشرت بھی کھڑی ہوئی اُس کو نروس ہوتے دیکھ لطف اندوز ہو رہی تھی
پورے کمرے کو اور خاص طور پر بیڈ کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔
فرش پر بیڈ کے ٹھیک سامنے ہارٹ شیپ کی صورت ڈھیروں پتیاں بچھی ہوئی تھی۔۔
دیوار پر سفید اور سرخ بلونس لگے تھے
بیڈ پر سفید جالی سے مصنوعی ٹینٹ بنا کر اُسے چھوٹی چھوٹی لائٹوں سے سجایا گیا تھا جن کی روشنی نے روم میں مدھم سا اُجالا بکھیر رکھا تھا
سفید چادر سرخ پتیوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور اُن پھولوں کی خوشبو سے پورا کمرہ مہک رہا تھا
یہ سب۔۔۔۔۔۔ک۔۔ کیا ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت زدہ سی دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔ اُس کے وہم و گمان۔ میں بھی نہیں تھا کے اُس کے پیچھے اُس کے روم میں کونسی جنگ چل رہی تھی۔۔۔۔۔
عشرت اور شیرین نے بہُت خفیہ طریقے سے یہ سب کیا تھا۔۔۔اُن دونوں کے علاوہ صرف فلک کو یہ سب پتہ تھا۔۔۔۔ورنہ گھر میں کِسی کو بھنک تک نہیں تھی
صبر کرو۔۔۔۔۔اندر تو چلو۔۔۔۔
عشرت نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔
نہیں۔۔۔۔۔میں نئ آؤں گی
اُس نے ایکدم سے اُن دونوں کے ہاتھ جھٹک دیے اور باہر کو بھاگنے لگی
دونوں نے جلدی سے اُس کے بازو پکڑ کر اُسے روکا
کیا ہے یہ نین۔۔۔چلو۔۔۔۔
دونوں اُس کی بھاگنے کی کوشش پر حیران ہوتی اُسے اپنے ساتھ اندر لے کر آئیں۔۔
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کارنامے پر نہ صرف عشرت اور شیرین کو سناتی بلکہ ساحل سے بھی نپٹنے کو لے کر خطرناک ارادے باندھ لیتی لیکِن اس وقت تو اُس کا دل اور دِماغ اپنے ہی مسئلوں میں اُلجھا ہوگا تھا
بیٹھو اور بتاؤ یہ سب تمہیں کیسا لگا۔۔۔۔
شیرین نے اُسے بیڈ پر بیٹھا کر مسکراتے ہوئے پوچھا وہ بجائے جواب دینے کے پھر سے روم کو دیکھنے لگی کہ کیسے گھر کا سب سے سادہ کمرہ سب سے خوبصورت کمرہ لگنے لگا تھا۔۔۔
لیکِن اُس خوبصورتی کے پیچھے جو اُس کی بھابھیوں کے ارادے تھے اُنہیں سوچ کر اُس نے دانت پیستے اُن کو گھورا۔۔۔۔
اور سخت غصے سے اٹھی تاکہ اُن کے سامنے روم کی حالت بگاڑ کر اُن کے ارادوں پر پانی پھیر دے
لیکن وہ اپنی سوچ پر ذرا بھی عمل کرتی اُس کے پہلے ہی ساحل کو اندر آتے دیکھ کر رک گئی۔۔۔۔۔۔
اُسے لگا تھا شاید وہ کل رات کی طرح آج بھی گھر نہیں آئے گا
وہ خود سے کہتی رہی تھی کے وہ اُس کی شکل نہیں دیکھے گی لیکِن دل اُس کا انتظار کر رہا تھا
شاید اسی لیے اُسے دیکھ کر نین کے دل کی رفتار تیز ہو گئی تھی۔۔۔
اُس کے چہرے پر چوٹ کے نشان دیکھ وہ پریشان ہوئی
وہ بھی حیرت سے آنکھیں پھاڑے روم کا جائزہ لیتا اندر آیا ۔۔۔۔
چاروں اور بھٹکتی نظریں جب نین پر پڑی تو پھر حرکت کرنا بھول گئیں۔۔۔۔۔۔
ایسے جیسے دِماغ اور نظروں کے درمیان کا رابطہ ایکدم سے ٹوٹ گیا ہو۔۔۔۔۔
کسی کی موجودگی کا خیال نہیں رہا
اپنے کیے ارادوں کا خیال نہیں رہا۔۔۔۔
وقت اور دل جیسے تھم سے گئے ۔۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی اُنگلیاں مروڑ رہی تھی۔۔۔سوچ رہی تھی کے وہاں سے کیسے نکلے یا کیسے اُس کا سامنا کرے غصّہ کرے سوال کرے ناراضگی دکھائے یا رو کر سنائے۔۔۔۔
وہ اپنی سوچو میں مگن انجان تھی اُس کی نظروں سے اُس کی بےخودی سے۔۔۔۔۔
ورنہ اُسے شاید اپنے ہر سوال کا جواب مل جاتا
اس نے بے بس سی کوشش کی کے نظریں ہٹا لے تو دل نے یہ کہہ کر کہ اُس کے سامنے کھڑی دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی اُس کی ملکیت ہے اُس کی وہ کوشش رد کردی۔۔۔۔
عشرت اور شیرین دونوں کو دیکھ کر سرشار ہو رہیں تھیں۔۔۔۔اُنہیں اپنا پلان ابھی سے کامیاب نظر آرہا تھا ۔۔ اور وہ کڑے اُن کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھی
آہم آہم۔۔۔۔۔۔۔
آخر عشرت نے ہی مصنوعی گلا کھنکھارتے ہوئے اُس طویل خاموشی کو توڑا ورنہ رات یونہی گزر جانا تھی۔۔۔
اُس نے ہوش میں آتے ہوئے نین سے نظریں ہٹا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے رخ پھیرا ۔۔۔
میں نے کہا تھا نا آج تم پر سے نظریں نہیں ہٹے گی ساحل کی۔۔۔۔
اُس نے نین کو اپنی کہی بات یاد دلائی تو اُس کا دل کیا عشرت کے منہ میں روئی ٹھوس دے۔۔۔۔۔۔۔
دیور جی۔۔۔۔آپ کیوں شرما رہے ہیں یہاں آئیے نا۔۔۔۔
عشرت نے ہنس کر اُسے پکارا تو وہ ٹیرس کی طرف جاتے جاتے رک گیا اور اُن کی طرف بڑھا نین نے اُس کی جانب بس ایک پل کو دیکھا اور پھر نظریں نیچے کر۔لیں۔۔
ساحل کو شدت سے محسوس ہوا کہ وہ اپنے رویے سے ایک کنفیڈنٹ لڑکی کی ہمت بری طرح توڑ چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔
تبھی تو جو لڑکی بات بات پر اُسے آنکھیں دکھاتی تھی ۔۔۔۔اُس سے نظر ملتے ہی پلکیں جھکا گئی۔۔۔۔
آپ دونوں کی شادی جن حالات میں ہوئی تھی تب دونوں ہی بہُت ڈسٹرب تھے۔۔۔۔۔
نارمل ہسبنڈ وائف کی طرح کولیٹی ٹائم بتانے کا موقع ہی نہیں ملا تھا آپ دونوں کو۔۔
یقیناً اپنی ویڈنگ نائٹ کو بھی دونوں نے جھگڑا ہی کیا ہوگا
اس لیے ہم نے سوچا کیوں نہ آج آپ دونوں کے لیے ایک ڈیٹ پلان کریں۔۔۔۔
شیرین نے اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو نین نے ماتھے پر بل ڈالے دونوں کو دیکھا جب کے ساحل نے لاپروائی سے نظریں پھیریں رکھیں
اب باہر جانے کے لیے تو آپ دونوں آسانی سے راضی نہیں ہوتے اس لیے ہم نے گھر میں ہی بندوبست کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب آپ کو ساری تلخ باتیں بھول کر ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سے ٹائم سپینڈ کرنا ہے۔۔۔۔۔
عشرت نے بھی اُس کی بات مکمل کرتے ہوئے خاص کر نین کو دیکھ کر جتاتے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ دونوں اُنہیں سمجھا کر باہر جانے لگی تو نین بھی ایک نظر اُس کی طرف دیکھ کر اُن کے پیچھے بھاگی
نین تم کہاں آرہی ہو۔۔۔۔۔
اُسے اپنے ساتھ دیکھ شیرین پلٹ کر حیرت سے پوچھنے لگی
وہ بھابھی مجھے۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔ہاں میں اپنا فون بھول گئی ہوں وہاں۔۔
وہ جلدی سے بہانا بنا کر بولی
آج فون کی طرف نہیں اپنے شوہر کی طرف دھیان دو۔۔۔۔۔۔
عشرت نے اُسے گھور کر کہتے ہوئے ساحل کی طرف دھکّا دیا۔۔۔ ۔۔وہ گڑبڑا کر اُس کے سینے سے آ لگی۔۔۔۔ جتنی تیزی سے ساحل نے اُس کی کمر کو تھاما اتنے فوراً ہی نین نے اُس کی شرٹ کو سختی سے جکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔
All the best۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہنس کر کہتی ہوئی باہر نکل گئی اور دروازہ باہر سے بند کر دیا۔۔۔۔
نین نے سانس روکے اُس کی جانب دیکھا تو وہ گہری سنجیدہ نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اُس پر غصّہ کرتی اُسے دھمکی دیتی بلا وجہ ہی باتیں سناتی لیکِن فلحال وہ ایسا کچھ نہیں کر سکی ایک تو اس کی قربت پر دل یونہی معمول سے بھٹکا ہوا تھا اور پھر گزری رات کے واقعے پر وہ اُس سے خفا بھی تھی ۔۔۔
اس نے پیچھے ہونے کی کوشش کی لیکن ساحل کے شانے پر بکھرے اُس کے بال شرٹ کی بٹنوں میں الجھے ہوئے تھے ۔۔۔جس کی وجہ سے وہ اُس سے دور ہوتے ہوتے واپس قریب ہونے پر مجبور ہوئی اور جھنجھلا کر بال نکالنے لگی۔۔۔۔
جب کے وہ اُس کی مدھوش کرتی خوشبو کے حصار میں کھڑا اُس کی گھنی پلکوں کو دیکھ رہا تھا جو آج ہمیشہ سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی
اُس نے پیچھے ہو کر سکون کی سانس لی وہ تب بھی اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔مجھے اس بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے مسلسل دیکھنے پر صفائی دیتے ہوئے بولی کے کہیں وہ اُسے بھی اس سب میں شامل نہ سمجھ رہا ہو۔۔۔
ساحل نے ایک نظر پورے کمرے میں گھما کے ابرو اٹھائے اُس کی جانب دیکھا
میں صبح سے روم میں نہیں آئی ۔۔۔بھابھی نے کہا تھا یہاں صفائی چل رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کا اشارہ سمجھتی جلدی سے بولی۔۔ساحل نے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اُسے سر سے پیر تک سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔۔بلیک ساڑھی میں وہ سر سے پیر تک آفت بنی اُس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
یقیناً اُس کی نظروں کا یہی مطلب تھا کے اگر وہ اتنی بے خبر ہے تو اتنا سج دھج کے کیوں کھڑی ہے
یہ تو بھابھی نے مجھے زبردستی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر پھر صفائی دینے لگی لیکِن پھر اچانک رک۔کر اُسے گھورا
کیا سمجھتے ہو تم خود کو۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اشارہ کرنا چاہ رہے ہو۔۔۔۔کے یہ سب میں نے کرایا ہے۔۔۔۔سوچنا بھی مت۔۔۔۔۔۔میں خواب میں بھی ایسا نا كروں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کہتے ہوئے آنکھیں گھمائی۔۔اُس کی آواز معمولی بھاری ہو گئی تھی شاید بہُت زیادہ رونے سے
صفائی مت دے۔۔۔جانتا ہوں تو نہیں کریگی ۔۔۔کیوں کے میں داؤد نہیں ہوں۔۔۔۔
اُس نے سکون سے جواب دیا لیکن داؤد کے ذکر پر نین چونک کر اُسے دیکھنے لگی
کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے پوچھا
۔۔ساحل نے ہنس کر سر جھٹکا گویا اُس کے سوال کا مزاق اڑایا
وہ ڈریسنگ روم میں جانے لگا تو نین نے غصے سے اُس کا بازو پکڑ کر رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اُسے روکا
تمہارے کیریکٹر کی طرح نا تمہارا دماغ بھی لوز ہے۔۔۔اس لیے ضرور کچھ فضول ہی چل رہا ہوگا تمہارے دماغ میں
لیکِن تم کچھ بھی سوچو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔گو ٹو ہیل۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگا تھا اب تک اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں گے
اُس نے غصے سے کہتے ہوئے ہاتھ جھٹک کر پیچھے کیا اور آخری لائن دھیرے سے بڑبڑا ئی
اور میرے کو لگا تھا اب تک تو دفع ہو گئی ہوگی
وہ بھی دانت پیس کر بڑبڑایا جو نین نے واضح سنا
کیوں دفع ہوں گی میں۔۔۔۔۔میرے نانا جان کا گھر ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔کِتنی بار بتانا پڑیگا تمہیں کے۔مجھے یہاں رہنے کے لیے كسي کے آرڈر يا پرمشن کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
میں جو مرضی کروں گی جب تک چاہے یہاں رہوں گی۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا
وہ اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے جتا کر بولی
نانا کا نام اور مطلب داؤد سے۔۔۔
ساحل نے اُس کی طرف دیکھ کر طنز کیا
اُس کے اس حسد میں اُس کی بے چینی ۔۔۔اور اُس کے احساسات چھپے تھے لیکن نین اُن سے انجان تھی وہ صرف اُس کی بے رخی اور طعنے ہی دیکھ پا رہی تھی
آج تمہاری باتوں میں بار بار داؤد کا نام کیوں آرہا ہے۔۔۔۔۔۔چل کیا رہا ہے تمہارے دِماغ میں۔۔۔۔شکی مزاج شوہروں کی طرح بات بات میں مجھے میرے ایکس منگیتر کا طعنہ دینے کی کوشش کیوں کر رہے ہو تم۔۔۔۔
وہ حیرت و ناگواری سے بولی ساحل نے اُس کی طرف دیکھا تو سرخ آنکھوں میں ہلکا سا شکوہ تھا اُس کے جذبات نا سمجھ پانے کا۔۔۔۔
کیا میرے کیریکٹر پر شک ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
نین اُس کی خاموشی پر دکھ سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
میں ہوں کون تجھے تانے دینے والا۔۔۔۔تیرے پر شک کرنے والا۔۔۔۔کوئی ہوں کیا میں ۔۔۔۔دور کا نزدیک کا کوئی لگتا ہوں تیرا۔۔۔۔حیثیت ہے میری کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا گیا۔۔۔لہجے سے سخت اور الفاظ سے بے بسی ظاہر کی جب کے اُس کی بات پر نین نے حیران ہو کر بہت مشکل سے آنسو روکے کیونکہ وہ اب اُس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی
کوئی نہیں ہو نا۔۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں ہو نا۔۔۔۔۔تو چُپ رہو۔۔۔۔منہ مت لگو میرے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے چلائی اُنگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولی حالانکہ اندر سے دم گھٹ رہا تھا
منہ لگ بھی گیا تو کیا بگاڑ سکتی ہے تو میرا۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھنے لگا
کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بھلے ہی کتنی بھی بہادری دکھا دوں ۔۔۔۔۔منہ توڑنے کی دھمکیاں دے لوں۔۔۔۔۔لیکِن تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔یہ بات مجھے بھی پتہ ہے۔۔پر تم سے نفرت تو کر سکتی ہوں نہ میں۔۔۔۔۔۔آئے ہیٹ یو۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے ہار مان گئی کیوں کے اب ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا ساحل دم بخود سا اُس کی آنکھوں میں چمکتے آنسُو دیکھ رہا تھا۔۔۔دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا تھا
I hate you۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں جمع ہوئے آنسُو پلکیں جھپکنے پر ٹوٹ کر گرنے لگے۔۔ ناراض نظریں بوجھل ہونے لگی۔۔
ساحل کے دل کو شدید بے چینی نے گھیر لیا۔۔۔اُس سے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا
جب وہ بے چینی برداشت نہیں ہوئی تو اُس نے نین کا بازو پکڑ کر اُسے ایکدم سے کھینچ کر خود سے لگاتے ہوئے اپنی پناہوں میں سمیٹ لیا
وہ اُس کے بازؤں میں آکر ساکت سی رہ گئی۔۔۔۔حیرت سے رونا بھول گئی۔۔۔۔بے یقینی سے سانس روک کر سمجھنے کی کوشش کی کے یہ محض اُس کا وہم ہے یا حقیقت۔۔
اور جب اُس کے کانوں میں ساحل کی دھڑکنیں سنائی دی۔۔تو ایک سکون کی لہر اُس کی رگوں میں اترتی اُسے ہر بوجھ سے آزاد کر گئی۔۔۔۔۔اُس نے دھیرے سے آنکھیں بند کرکے اُس کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے اُسے سختی سے تھام لیا اور بے آواز آنسو بہاتی اس کی شرٹ بھگونے لگی۔۔
وہ بے بس سا اسے تھامے کھڑا تھا۔۔۔بڑی بے نام سی اُلجھن تھی کہ نہ اسے چھوڑنے کو دل راضی تھا نہ اسے اپنانے کو دماغ تیار تھا۔۔۔جو بھی تھا لیکن اس کا خود پر بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔
اس نے تھک کر آنکھیں بند کرتے ہوئے چہرہ اس کے بالوں سے لگا دیا اور ان کی نرمی اور خوشبو کو خود میں اترنے دیتا رہا۔۔۔۔۔
نین کی مہکتی قربت سے اُس کے جذبات کو مزید شہہ ملی تو خود بخود ہی اُسکی گرفت میں سختی آتی گئی۔۔۔انداز میں بے خودی بھرتی گئی۔۔۔دِماغ بہکتا گیا
اُس کے لبوں نے نرمی سے نین کے گھنے بالوں کو چھوا۔۔۔
نین نے ایکدم سے آنکھیں کھولیں
دہکتی سانسوں کی تپش سے اُس کے جسم و جان میں سرد لہر سرایت کر گئی۔۔رواں رواں کانپ اُٹھا۔۔۔
کہنے کو۔محض ایک ٹچ تھا لیکِن اُس ایک ہلکے سے ٹچ میں بے انتہا حرارت تھی۔۔۔۔کئیں اشارے تھے۔۔۔۔
اُس نے ساحل سے دور ہونے کی کوشش کی لیکن اُس کا چھوڑنے کا ارادہ نہ محسوس کر کے دل گھبرانے لگا۔۔
وہ اُس کی گھبراہٹ اور کوشش کا اثر لیے بغیر بے خود سا اُس کی گردن کے قریب جھکنے لگا بنا چھوئے ہی اُسے اپنی سانسوں سے دہکانے لگا
نین نے اُس کی شرٹ کو سختی سے پکڑکر آنکھیں بند کیں۔۔۔
اُسے لگا اُس کی دھڑکنوں کا شور پورے کمرے میں گونج رہا ہے۔۔۔
سانسوں کی تیز تپش اُس کے کان کو چھو کر گزرتی گلے پر محسوس ہوئی تو اُس نے تڑپ کر ساحل کو پیچھے کرنے کی پر زور کوشش کی
اُسکے لب نین کے گلے کو چھو پاتے اس کے پہلے ہی نین کی سخت مزاحمت پر اُس نے ہوش میں آتے ہوئے اُسے آزاد کردیا۔۔
وہ ایکدم سے پیچھے ہو کر رخ موڈ گئی ہاتھ دل پر رکھے بے ترتیب سانس لینے لگی۔۔۔۔
ساحل نے بالوں میں اُنگلیاں پھنسائے گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کیا۔۔۔
اپنی مدہوشی پر غصّہ بھی آنے لگا
لیکِن وہ کیا کرتا۔۔۔
پھولوں سے مہکتا روم۔۔۔۔۔
بازؤں میں سمٹا نازک وجود۔۔۔۔۔
اور دل میں پنپتے ہزاروں جذبات
وہ خود پر قابو بھی کیسے رکھتا۔۔۔۔۔
لیکن اب پچھتا رہا تھا۔۔۔۔۔
اور شکر کر رہا تھا کے زیادہ بیوقوفی کرنے سے پہلے ہی سنبھل گیا۔۔
لمحے معنی خیز خاموشی میں گم ہونے لگے۔۔۔دونوں بھی اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے۔۔۔۔۔اپنی اپنی اُلجھن میں گھرے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ۔۔۔ بات سن۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر ساحل نے ہی اُسے مخاطب کیا نین نے اُس کی طرف دیکھا تو وہ بلکل سیریس لگا ۔۔
رات کو میں نے جو کچھ بو لا وہ ٹھیک ہے صحیح طریقے سے نہیں بولا۔۔۔۔تُجھے برا لگا تو بھی صحیح لگا۔۔۔۔
اپن کی باتیں ہی ایسی بکواس تھی لیکن سن وہ سب بس غصے میں۔منہ سے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔تو بری نہیں ہے بہُت اچھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتا سنجیدگی سے کہنے لگا تو نین کو ڈھیروں سکون محسوس ہوا۔۔۔۔
بس تو میرے لیے صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔۔میں تیرے کو اپنی لائف میں ایڈجسٹ نہیں کر سکتا بس یہ میرا پوائنٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔
کل میں نے غصّہ کیا نا تو اب ریکویسٹ کر رہا ہُوں۔۔۔۔۔۔تو واپس اپنے گھر چلی جا۔۔۔۔اپنی پڑھائی پوری کر ۔۔
تیرے لیے تیرے جیسا کوئی پارٹنر ڈھونڈ۔۔۔
اِدھر اپنی زندگی برباد مت کر ۔۔۔۔۔۔
اگلے ہی پل وہ اُس کے خوش ہونے سے پہلے ہی اُس کی خوش فہمی دور کر چکا تھا۔۔۔نین کے دل کے ڈھیروں ٹکڑے کر چکا تھا
ساحل کا ہاتھ اُس کے چہرے پر تھا ۔۔۔۔وہ اُس سے ہمدردی۔رکھتا تھا لیکِن اُس کا ساتھ نہیں چاہتا تھا
کیوں میرے ہونے سے تمہیں اتنی تکلیف ہے
میں تم پر کوئی حق تو نہیں جتا رہی نا۔۔۔۔
نہ تم سے کوئی ڈیمانڈ کی کبھی۔۔۔۔
کوئی بندھن نہیں لگائے ۔۔۔۔۔
اپنی مرضی کی کرو تو بھی نہیں روکوں گی۔۔۔
کیا کسی لڑکی کو پسند کرتے ہو۔۔۔۔وہ مجھے چھوڑنے کو کہہ رہی ہے۔۔۔اُس سے شادی کرنے کے لئے کررہے ہو یہ سب
نین اُس کی بات پر سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں۔دیکھتی بےچینی سے پوچھنے لگی۔۔
ارے یار کِسی بھی لڑکی وڈکی میں انٹریسٹ نہیں ہے میرے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے بتاؤں۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نین کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر جھنجھلا یے ہوئے انداز میں کہا جب کے وہ نین تھی جو اُس کی بات کا کچھ اور ہی مطلب لے کے حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی جو آنکھوں پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا
لڑکیوں میں انٹریسٹ نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کو۔مشکوک انداز میں سر سے پیر تک گھور کر دیکھتے ہوئے پوچھا
۔۔۔۔بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔لڑکی والا کوئی میٹر ہی نہیں ہے۔۔۔۔بس تو اور میں صحیح نہیں ہے ایک دوسرے کے لیے اس لیے بول رہا ہوں تُجھے کے ہمارا کوئی فیوچر نہیں ہے
اُس نے فوراً جواب دیا۔۔۔ بغیر۔ اُسکی سوچ کا اندازہ لگائیے
وہ سر ہلا کر آگے بڑھتی اُس کے قریب ہُوئی
مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوا تھا کے ایسا کچھ ہے۔۔۔۔تم نے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔
اُس نے ساحل کے بازو پر ہتھیلی رکھے ہمدردانہ انداز میں کہا ساحل نے نا سمجھی سے اُسے اور اپنے بازو پر رکھے اُس کے ہاتھ کو دیکھا
ڈونٹ وری تھرڈ جنڈر کے ہونا کوئی بری بات نہیں ہے اٹس نیچرل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو گورمنٹ بھی سیم رائیٹس دیتی ہے
نین نے اپنائیت سے کہا جب کے اُس کی بات سن کے ساحل کو ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔۔
اے تیری تو۔۔۔۔کیا بک ریلی ہے۔۔۔۔۔مار ڈالوں گا جان سے۔۔۔جاستی مت بول ۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت و غصے سے اُس پر برستا ایکدم سے اُس کی طرف بڑھا نین اُس کے تیور دیکھ کر ہڑبڑا کر پیچھے ہوتی بیڈ سے لگ گئی
تتتتتت۔۔۔۔۔۔۔تم تم نے تو بولا لڑکیوں میں انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔۔
اُس کی۔زبان خوف سے بری طرح لڑکھڑا ئی۔۔۔
کھسکیلی۔۔۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔تیرے بھیجے میں وائرس ہےکیا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف جھک کر غصے سے بولتا گیا۔۔۔
ٹھیک ہے نہ اتنا بھڑک کیا رہے ہو۔۔۔۔۔۔سوری۔۔۔
نین نے سر پیچھے کیے زبان دانتوں تلے دبائی اور معصوم شکل بنا کر کہا۔۔۔۔
وہ ضبط سے دانت بھینچ کر رہ گیا۔۔ بیڈ پر بندھے پردے کو کھینچنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو نین کو لگا اُسے ہی مارنے والا ہے
وہ بری طرح ہڑبڑا ئی۔۔۔ سختی سے آنکھیں میچ کر پیچھے ہونے کے چکر میں بیڈ پر گری اور گھبراہٹ میں ساحل کی شرٹ بازو سے پکڑ لی تو اُس کا بھی توازن بری طرح بگڑا اور وہ چاہ کر بھی سنبھل نہیں پایا۔۔۔۔
بلکل اُس کے اوپر گرا۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر جھکا اُسے قریب سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
کچھ پل حیرت سے اور پھر ہے خودی میں۔۔۔۔
اُس کا دل زوروں سے دھڑک کر احساس دلا رہا تھا کے بہاروں کے موسم میں کھلتے گلاب سی لڑکی اُس کی دسترس میں ہے۔۔۔۔۔
اسے نظروں سے خود میں جذب کر لینے کا اُسے حق حاصل ہے
اُس کے لبوں کو چھونے کی خواہش پر عمل کرنے کا اُسے حق ہے۔۔
دل کی ہر چاہت کو پورا کرنے کا اُسے حق ہے
نین نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو اُسے خود کے بے حد قریب پایا۔۔۔۔خود کو مکمل اُس کے حصار میں پا کر۔۔۔۔
اُس کی لو دیتی نگاہیں اپنے لبوں پر محسوس کرکے اُس نے لرزتے لبوں کو سختی سے آپس میں جوڑا۔۔۔
خشک ہوتے گلے کو تر کرتی اُس کی آنکھوں میں دیکھنے
لگی۔۔۔۔
ساحل نے بمشکل خود پر کنٹرول کرتے اُس سے نظریں ہٹائیں اور پیچھے ہو کر اٹھنے لگا۔۔اس خیال سے کے وہ۔۔۔۔۔
اُس کی نظروں میں محبت نا پڑھ لے
دھڑکنوں کے شور میں اُس کا نام نا سن لے۔۔
وہ جو اُس کے ساتھ نہ رہنے کے دعوے کر رہا ہے منہ کے بل نا گر پڑے۔۔۔۔
وہ بیڈ پر ہاتھ رکھے اٹھا اُسی وقت روم میں زور دار میوزک گونجنے لگا۔۔۔
میری پہلی یہ چاہت ہے۔۔۔۔
میری پہلی محبت ہے۔۔۔
میری اتنی سے حسرت ہے ۔۔۔
گلے لگ جا نہ جا۔۔۔۔۔۔۔
تیز آواز میں میوزک بج رہا تھا۔ نین بھی بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتی حیرت سے ٹیبل پر رکھے چھوٹے سے بلوٹوتھ اسپیکر کو دیکھنے لگی۔۔۔جو پہلے کمرے میں نہیں تھا
تیری باہوں میں راحت ہے۔۔۔۔
تیری زلفوں میں جنت ہے۔۔۔
میری اتنی سی حسرت ہے۔۔۔
گلے لگ جا نہ جا۔۔۔۔
وہ اسپیکر کے پاس جا کر ساتھ رکھے ریموٹ کا استعمال کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکِن وہ بلکل بھی کام نہیں کر رہا تھا۔۔۔
نین سمجھ گئی تھی اس میں بھی دونوں بھابھی کا ہی ہاتھ تھا کیوں کہ وہ اُسے کہہ چکی تھی
ایک ایک کرکے بہت سرپرائز ملیں گے
بند کرو نا اسے ۔۔۔۔۔
اُس نے جھنجھلا کر کہا
شاید باہر کسی موبائل سے کنیکٹیڈ ہے۔۔۔۔۔
ساحل نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا اور ریموٹ کو ہاتھ پر بجاتے ہوئے دوبارہ کوشش کرنے لگا کے کام کرجائے
جب کے نین اٹھ کر باہر کی طرف بڑھنے لگی کے جا کر عشرت اور شیرین کو خوب سنا سکے ابھی اُس کا ہاتھ ہینڈل پر ہی تھا کے اگلا گانا شروع ہوا جس پر اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں
بھیگے ہونٹ تیرے۔۔۔۔۔۔۔۔
پیاسا دل میرا۔۔۔۔۔۔۔
لگے ابر سا۔۔۔۔۔۔
مجھے تن تیرا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے سیدھی ہوئی ۔۔۔۔
ساحل کا ہاتھ بھی فوراً تھم گیا اور اُس نے نین کی طرف دیکھا
نین نے بھی چپکے سے اُس کے تاثرات دیکھنے کی کوشش کی لیکن اُسے اِدھر ہی دیکھتے پا کر فوراً نظریں چراتے ہوئے دروازہ کھولنے لگی۔۔۔
چھو کے برسائیں۔۔۔۔
مجھ پر گھٹائیں۔۔۔۔۔۔۔
تُو ہی میری پیاس۔۔۔
تو ہی میرا جام۔۔۔۔۔
کبھی میرے ساتھ ۔۔۔۔۔
کوئی رات گزار۔۔۔۔۔۔۔
تُجھے صبح تک میں
کروں پیار۔۔۔۔۔۔
دروازہ تو باہر سے بند تھا پھر کیسے کھلتا۔۔۔۔وہ حیران ہوئی اور زور زور سے دروازہ کھینچنے لگی لیکن پھر بھی دروازہ نہیں کھلا تو پیچ و تاب کھا کر رہ گئی
دونوں بھی ناکام ہو کر بیڈ پر آکر بیٹھ گئے مخالف سمت رخ کرکے۔۔۔
آنکھیں کہہ رہیں۔۔۔۔۔
جو نا ہم کہیں۔۔۔۔۔
اُسے سن لے تو۔۔۔۔
جو نا لب کہے۔۔۔۔
اُس نے ساحل کی جانب دیکھا ساحل نے بھی اُسے دیکھا۔۔۔
تو نہ سوئے آج
میں نا سوؤں آج۔۔۔۔
تُجھے دیکھوں آج۔۔۔۔۔۔
تُجھ میں کھُووں آج۔۔۔۔
جب گانے کے الفاظ پر دھیان گیا تو نین نے ہڑبڑا کر نظریں پھیریں۔
فوراً اپنی جگہ سے اٹھی اور چینجنگ روم۔میں گھس گئی
جب کے وہ وہیں سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا گانے نا سننے لائق تھے نا بندکرتے بن رہا تھا۔۔۔۔۔اُلٹے سیدھے خیال ہی دِماغ میں آرہے تھی جن سے و جان چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا
نین کا دل تو چاہ رہا تھا کہیں سے عشرت اور شیرین کو لا کر ہاتھ پیر باندھ کر خوب ٹارچر کرے جیسے وہ ہو رہی تھی۔۔
ڈریسنگ روم میں الگ اُس کے لیے ایک سرپرائز تھا۔۔۔وہاں اُس کے کپڑوں کے ساتھ ایک خوبصورت سلک کی نائیٹی رکھی ہوئی تھی جسے دیکھ کرکے نین کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا
اُس نے وہ نائیٹی اٹھا کر زمین پر پھینکی اور پیروں سے بری طرح رگڑ کر اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے دور اچھال دی۔۔۔۔
وہ چینج کرکے ایزی سوٹ میں باہر آئی تو۔۔ساحل بستر کو بلکل صاف کرکے شیرین عشرت کی محنت کو زمین بوس کیے سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔۔
گانا چیج ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
پہلے جیسا نہیں تھا
لیکن فلحال کی صورت میں کم بھی نہیں تھا۔۔۔
خاص کر ساحل کے لیے۔۔۔۔
سنو نا کہے کیا۔۔۔۔
سنو نا دل میرا۔۔۔۔۔
سنو نا۔۔۔سن لو ذرا۔۔۔۔۔
تیری باہوں میں ۔۔۔
مجھے رہنا ہے رات بھر
تیری باہوں میں ہوگی صبح۔۔
وہ بے چین سا آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا۔۔۔۔۔نین کھلے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بناتے ہوئے آکر اپنی جگہ پر لیٹ گئی۔۔۔۔
بے انتہا۔۔۔۔۔۔۔
بے انتہا۔۔۔۔۔۔
یوں پیار کر
بے انتہا۔۔۔۔۔
دیکھا کروں
ساری عمر۔۔۔
تیرے نشاں۔۔۔
بے انتہا۔۔۔۔۔۔
کوئی خبر نہ رہے
میری خبر نا رہے
چھو لیے مجھے اس قدر
بے انتہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے چیپ گانے لگائے ہے توبہ۔۔۔۔
اگر لگانا ہی تھا تو پارٹی سونگ لگا دیتیں انسان تھوڑا ڈانس ہی کر لے۔۔۔
اس پر تو نا ڈانس کر سکتے ہیں نا سکون سے سو سکتے ہے۔۔
وہ جلے ہوئے انداز میں بڑبڑا ئی اور کشن کان پر رکھ کر آنکھیں بند کی
ساحل نے بازو سے ہاتھ ہٹا کر سنجیدگی سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
جب سانسوں میں تیری سانسیں گھلی تو
پھر سلگنے لگے۔۔۔۔۔۔
احساسِ میرے مجھ سے کہنے لگے
باہوں میں تیری آکے جہاں دو
یوں سمٹنے لگے
سیلاب جیسے کوئی بہنے لگے
کھویا ہوں میں آغوش میں۔۔۔۔۔
تو بھی کہاں ۔۔۔۔اب ہوش میں۔۔۔۔۔
مخملی رات کی ہو نہ صبح۔۔۔
اُس کی نظروں کی تپش محسوس کر نین نے آنکھیں کھولیں تو اُسے بے خود سا خود کو تکتے پا یا۔۔۔
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے آج وہ بار بار اُسے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گھبرا کے پلکیں جھکائیں اور بالوں کو کان کے پیچھے کرنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو ساحل۔نے اُس کی کلائی پکڑ لی۔۔۔۔اُسے ایسا کرنے سے روک دیا
وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
کبھی وہ اتنی بے گانی باتیں کر تا تھا اور کبھی ایکدم سے اُس کا چینل چینج ہوجاتا تھا
گستاخیاں۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تم۔کرو۔۔۔۔۔
کچھ ہم کریں اس طرح۔۔۔۔
وہ اُس کی کلائی تھامے اُس کی آنکھوں میں۔دیکھ رہا تھا۔۔۔ایسے جیسے ہوش میں۔نا ہو۔۔۔
نین کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
کہیں بھابھی نے اسے کچھ پلا ولا تو نہیں دیا۔۔۔۔مجھے تو یہ نشے میں لگ رہا ہے۔۔۔
اُس نے بغور اُسے دیکھتے ہوئے سوچا۔۔ اور اپنی کلائی کو حرکت دے کے چھڑانے کی کوششں کی۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی کلائی چھوڑ کر دو اُنگلیوں سے اُس کے بالوں کو پیشانی سے پیچھے ہٹایا۔۔
شرما کے دو
سائے ہے جو ۔۔۔۔۔
منہ پھیر لے ہم سے یہاں۔۔۔۔۔
اُس نے پیشانی پر بل ڈالے اسے گھورنے کی کوشش کی لیکن گھبراہٹ کے مارے ہمت ہی نہیں ہوئی ۔۔
ہاں چھو تو ليا ہے یہ جسم تونے۔۔
روح بھی چوم لے۔۔۔۔۔
احساسِ میرے مجھ سے کہنے لگے۔۔۔۔۔
اُس کی اُنگلیوں کا لمس کان پر محسوس کرکے نین نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔ اور ایکدم سے منہ پھیر کر کروٹ دوسری جانب کرلی۔۔۔
دھک دھک کرتے دل پرہاتھ رکھ لیا۔۔
یوں چور ہوکے مجبور ہوکے۔۔۔
قطرہ قطرہ کہے۔۔۔۔۔
الفاظ بھیگے بھیگے کیوں ہے میرے۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا اور پھر اسپیکر کو ایسے گھورا جیسا سارا قصور اُس کا ہو۔۔۔۔
دو نے خبر بھیگے بدن۔۔۔۔
دو بے صبر بھیگے بدن۔۔۔۔
لے رہے رات بھر انگڑائیاں۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اسپیکر اٹھا کے کبرڈ میں رکھ دیا جس سے آواز ساری اندر قید ہو گئی
اُس نے سکون کی سانس لی اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔۔
اگر ایک دن پہلے اُس سے نین سے الگ ہونے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو عشرت اور شیرین کی محنت بلکل بھی رائیگاں نہیں جاتی