Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 81
No Download Link
Rate this Novel
Episode 81
یہ پراپٹیز۔۔۔یہ پیسہ۔۔۔۔یہ بزنس۔۔یہ سب جو میرا تھا آج سے تمہارا ہے۔۔۔اب تو تمہیں یقین ہے نا کے میرے لیے اپنے بیٹے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔۔۔۔
ایک ہال نما کمرے میں جہاں کے کے کی تمام دولت اُس کی پراپرٹی اُس کے اکاؤنٹس اور اُس کا کون کون سی جگہ خُفیہ سمگلنگ کا کام ہوتا ہے اُس کے تمام رازوں کا ذخیرہ جمع تھا وہاں وہ ساحل کو ایک ایک چیز بتا کر اُسے دونوں بازؤں سے تھامے بول رہا تھا۔۔۔
اُسے یقین دلانے کے لیے کے اُس کا بیٹا اُس کے لیے سب سے قیمتی ہے۔۔۔۔
سب سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔۔
بھلے اب ساحل اُس کے لیے قیمتی تھا بھی کیوں کہ وہ اُس کی اکلوتی اولاد تھا
لیکِن وہ اتنی جلدی اُسے اپنا اندر کھول کر دکھانے کی غلطی نہیں کرتا اگر اُسے پہلے سے ساحل کے ساتھ کا تجربہ نہیں ہوتا۔۔۔
اُس کی نظر میں ساحل کا کردار اُس کے اپنے جیسوں میں شمار تھا۔۔۔
دولت کے لیے اپنی جان پر بھی کھیل جانے والوں میں سے ۔۔۔ اُسے کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا تھا کیوں کہ اُسے لگتا تھا ساحل کو دولت مل گئی مطلب وہ سب فراموش کر گیا۔۔۔۔
اور کےکے کو اپنا بیٹا مل گیا تھا۔۔۔کے کے ایمپائر کا وارث۔۔۔۔جس کے لیے اُس نے بھی بہت سی باتیں فراموش کر دی
ساحل نے اُس کی بات پر مسکرا کر اُس کا خون اور بڑھا دیا
لیکن جیسے ہی کے کے نے اُسے گلے لگایا اُس کا چہرہ تاریک ہو گیا۔۔۔ مسکراہٹ نفرت میں بدل گئی۔۔۔لب سختی سے بھینچ لیے۔۔۔
چلو کلب میں خاص مہمان آئے ہیں اُن سے ملانا ہے تمہیں۔۔۔
کےکے اُس کا بازو تھپتھپاتے ہوئے بولا وہ ایک سادہ سا گھر تھا جس کے ایک کمرے سے کھلتا تہہ خانے کا دروازہ کے کے کی ساری دولت اور گناہ سمیٹے ہوئے تھا۔۔۔۔
وہ سر ہلاتا اُس کے پیچھے باہر نکل آیا ویسے بھی وہ جلد سے جلد سب کچھ جان لینا چاہتا تھا کیوں کے اگر اُس کا صبر جواب دے جاتا تو وہ کے کے کے تمام کام اور اُس سے جڑے لوگوں کو ایکسپوز کرنے سے پہلے ہی اُس کی جان لے لیتا۔۔۔لیکِن وہ جذبات سے نہیں دماغ سے کام لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
سفر کی تھکان کی وجہ سے سارا دن نین نے سو کر گزارا۔۔۔۔۔لیکِن اس سارا وقت ساحل کہاں تھا وہ نہیں جانتی تھی۔
نا وہ سوئی تب وہ روم میں تھا نہ عصر کے وقت جاگی تب۔۔۔فون بھی ان ریچیبل تھا۔۔۔۔۔
اُسے سخت غصّہ آیا ایک تو اُسے وہ جگہ گھٹن بھری لگ رہی تھی اوپر سے ساحل کی خود سے لا پرواہی کے کیسے وہ ایسی جگہ آکر اُسے بھول گیا تھا۔۔۔
فریش ہو کر چینج کیے کافی دیر اِنتظار کرنے کے باوجود وہ نہیں آیا تو مجبوراً نین کو اُس کمرے سے باہر نکلنا پڑا۔۔
اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتی وہ باہر آئی تو پورا گھر خالی تھا۔۔۔
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
اُس نے غصے کے مارے بنا لحاظ کیے زور سے اُسے پکارا۔۔۔
میم وہ گھر میں کوئی نہیں ہے سر کہیں باہر گئے ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کی آواز اور ایک ملازم ہڑبڑا کر بولا جب کے اُس کی آواز پر مایا بھی اپنے کمرے سی نکل کے باہر آئی۔۔۔
کیا ہوا یہ شور کیوں ہو رہا ہے۔۔۔
وہ باہر آتی غصے و ناگواری سے پوچھنے لگی۔۔۔
کچھ نہیں میں ساحل کو ڈھونڈھ رہی ہوں۔۔۔
نین نے اُس کی ناگواری اور منہ بنا کر جواب دیا۔۔
کہیں تمہاری مُٹھی سے نکل کر چھو تو نہیں ہو گیا۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے چڑاتی اُسے اپنی مُٹھی کھول کر اشارے سے بولی
وہ کوئی بارش کا کیڑا نہیں ہے۔۔ جو مُٹھی سے چھو ہو جائے گا۔۔۔آپ اتنی ان سینسبل لگتی تو نہیں ہے۔۔۔۔
نین نے بھی اُس کی بے تکی بات کا بے تکا جواب دیا۔۔۔لیکِن وہ برا ماننے کی بجائے اُس کے یوں چڑنے پر ہنسنے لگی۔۔
سو کیوٹ۔۔۔لیکِن بے بی صرف بارش کے کیڑوں میں یہ خاصیت نہیں ہوتی۔۔۔مردوں کی فطرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔جو اُنہیں چاہیے وہ تم سے نہیں ملا تو اڑ کے کہیں اور پہنچ جاتے ہیں۔۔۔
وہ ادائے بے نیازی سے بولی تو نین کو اُس پر بے حد غصّہ آیا۔۔
پہلی بات کے آپ دور ہو کر بات کریں مجھے آپ سے بدبو آرہی ہے۔۔۔اور دوسری بات وہ اتنا لیچڑ نہیں ہے۔۔۔۔
اُس نے ناگواری سے اُسے دیکھا۔۔۔۔جس پر مایا کے لب سکڑے۔۔۔
تمہارا ابھی مردوں سے پالا نہیں پڑا۔۔۔۔مجھے تجربہ ہے۔۔۔ہائے ڈارلنگ۔۔
وہ اُسے جتانے والے انداز میں دیکھ کر بولتی کےکے کو آتا دیکھ مسکراتی اُس کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
سسرال والوں کو بولنا تو نہیں چاہیے لیکن یہ بڈھا ہی نہیں بڈھی بھی کےکے ہے۔۔۔۔كتی کمینی۔۔۔۔
وہ مٹھیاں بھینچ کر دونوں کو باہوں میں باہیں ڈالے کس کرتے دیکھ کہتی منہ بنا کر رخ موڑ گئی۔۔۔
اور وہ راؤڈی کوشش تو کرے اُڑنے کی پر اور پیر دونوں کاٹ دوں گی اُس وائلڈ مین کے۔۔۔۔
ساحل کو کِسی اَور کی طرف جانے کا سوچ کی وہ دانت پیس کر سوچتی واپس کمرے میں جانے لگی کیوں کے اُسے کےکے اور مایا کا رومینس دیکھنے کا بلکل موڈ نہیں تھا۔۔۔۔
وہ روم میں آئی اور جھنجھلا کر دونوں پیروں سے جوتے جھٹک کر دور اچھالے ۔۔۔
ایک تو ویسے ہی اُسے یہ جگہ کاٹ رہی تھی اوپر سے مایا کی بات۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا ذہن بانٹنے کی غرض سے موبائل میں مصروف ہو گئی انسٹا کو ایک سکرال کرتے کرتے اُس کی نظر ایک تصویر پر رکی جہاں ایک بڑے بزنس میں کے ساتھ کسی نے سیلفی پوسٹ کی ہوئی تھی۔۔
لیکن اُس کے چونکنے کی وجہ تھا ساحل جو اُس تصویر میں پیچھے بیٹھا نظر آرہا تھا۔۔۔ اُس کے ٹھیک سامنے ایک لڑکی ڈانس کر رہی تھی۔۔۔۔
اُس نے پھر اُسے فون لگایا اور اُس کی قسمت اور ساحل کی بد قسمتی سے فون لگ بھی گیا دو رنگ پر ہی اُس نے فون اٹھا لیا
کہاں ہو تم۔۔۔۔
وہ نارمل موڈ کے ساتھ پوچھنے لگی۔۔۔
ایک دوست کے ساتھ ہوں اُسے دیکھنے آیا ہوں
ساحل نے بے خبری میں ہمیشہ کی طرح بہانا بنایا تو نین نے دانت پیسے۔۔۔
جھوٹ مت بولو ماما کے بیٹے مجھے پتہ ہے تم اس وقت کلب میں بیلی ڈانس دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔
وہاں جو سلیبرٹی پرسن ہے نہ اُس کے ساتھ سیلفی ڈال کر پوسٹ کی ہے لوگوں کی اُن میں سے ایک میں تم بھی ہو
نین نے غصے کی بجائے نارمل لہجے میں کہا۔۔۔۔ایک پل کو وہ گڑبڑا گیا۔۔۔۔
ہاں تو میری مرضی۔۔۔۔میں جو چاہے دیکھوں ۔۔۔۔۔۔تو کون ہوتی ہے روکنے والی
وہ اپنی بوکھلاہٹ کے چکر میں مشکل سے سنبھل کے بولا۔۔
میں نے کب تمہیں روکا۔۔۔۔بلکہ میں تو یہ کہہ رہی تھی کے اگر تم مجھے بتاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی دونوں ساتھ میں بیلی ڈانس دیکھتے۔۔۔۔۔۔
وہ خوش کن لہجے میں بولتی اُسے جھٹکا دے گئی۔۔۔
تت۔۔۔۔تو بیلی ڈانس دیکھ کر کیا کریگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت و بے یقینی سے پوچھنے لگا
تم بیلی ڈانس کیا کرنے کے لیے دیکھتے ہو۔۔۔۔۔اوبیسلی میں بھی انجوئے ہی کروں گی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بے نیازی سے کہا۔۔۔۔
لڑکیاں ایسی چیزیں نہیں دیکھتی سمجھی تو۔۔۔۔۔
اُس نے حلق تر کرتے ہوئے سختی سے کہا۔۔۔
۔اچھا اور لڑکے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔کوئی اچھا سا سولیڈ پلس فالتو ریزن بتاؤ گے اس بکواس کا۔۔
اُس نے آنکھیں چھوٹی کرکے پوچھا
ہمارے ادھر کی لڑکیاں شریف ہوتی ۔۔۔۔
وہ سوچ کر بولا۔۔۔
مطلب تم مانتے ہو نہ کے تم لڑکے شریف نہیں ہوتے۔۔۔
لیکن جو بھی ہو مجھے بھی دیکھنا ہے۔۔۔تم۔دیکھوگے تو مجھے بھی دیکھنا ہے ہے ہے۔۔میں وہاں آرہی ہوں
اُس نے ضدی انداز۔میں ایک ہی بات کی رٹ لگائی ہُوئی تھی کے ساحل نے تھک کر آنکھیں بند کرکے کھولیں
تو رک میں گھر آرہا ۔۔۔۔۔۔
میرے اگلے پچھلے پشتوں کی توبہ ہے جو آئندہ میں بیلی ڈانس دیکھنے گیا۔۔
وہ چڑ کر کہتا فون بند کر گیا اور اپنی چالاکی پر خود کو شاباشی دیتے ہوئے نین اپنا بازو تھپتھا کر ہنس دی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
رات کے کھانے پر اُسے مایا اور کےکے کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھنا پڑا تو دل کیا کھانا چھوڑ کر دونوں کو چبا جائے۔۔۔
مایا اور کےکے ٹیبل کے ایک سرے کی طرف بیٹھے تھے اور وہ دونوں دوسری سائیڈ۔۔۔۔ درمیان میں بہُت فاصلہ تھا۔
اچانک ہی کچھ یاد آنے پر نین نے ٹیبل کے نیچے سے ہی اُس کے جوتے کے اوپر ہیل والا پیر مارا۔۔۔
وہ بری طرح اچھل کر سیدھا ہوا۔۔
حیرت سے اُسے دیکھنے لگا کے اب اُس نے کھانا کھانے میں۔کونسی چوک کردی۔۔۔۔۔
یہ وہی مایا ہے نہ جس کی ٹرین میں تمہیں کالز آرہی تھی۔۔۔۔
اُس نے دھیمی اشتعال انگیز آواز میں اپنے وار کی وجہ بتاتے ہوئے پوچھا تواُس نے زبان دانتوں میں دبائی۔
مجبور غریب لاچار بیمار ضعیف۔۔۔۔واؤ۔۔۔
اُس نے مایا کا جو نقشا بتایا تھا وہ دہراتی وہ اُسے دیکھ کر بولی۔۔۔
وہ منہ چھپا کر کھانا کھانے لگا۔۔۔
ضعیف تو چلو ٹھیک ہے لیکن یہ لاچار اور بیمار کونسے اینگل سے ہے بتاؤگے ذرا۔۔۔۔
وہ اُس کے منہ چھپانے پر نیچے ہو کے اُس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی تو ساحل نے چہرہ ہی موڈ لیا۔۔۔۔۔
نین نے غصے سے اُس کے پیٹ میں کہني ٹکائی وہ تڑپ کر رہ گیا۔۔۔
ٹھرکی کہیں کے۔۔۔کِسی کو تو چھوڑ دو۔۔
وہ اُسے دانت بھینچ کر دیکھتے ہوئے کہتی اب اُن دونوں کو گھورنے لگی۔۔۔
This is for you۔۔۔۔
کے کے نے اپنے ملازم کے ہاتھ سے ایک قیمتی ڈائمنڈ سیٹ لے کر مایا کو تھمایا تھا اور وہ اُس پر اُنگلیاں پھیرتی سرشار ہو رہی تھی۔۔۔
دیکھا تمہارے ابا جان تمہاری امی جان کو کیسے قیمتی تحفے دیتے ہیں۔۔۔اور تم ہو کنجوس کہیں کے۔۔۔
منہ دکھائی تک دی مجھے کبھی۔۔۔۔۔۔
کو اُسے دیکھتے ہوئے کلس کر بولی
میں کونسا تیرا منہ دیکھنا چاہتا تھا وہ تو تونے زبردستی دکھایا ہے۔۔۔
وہ بنا پلیٹ سے سر اٹھائے بڑبڑایا۔۔نین نے اُسے آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا۔۔
کل شام کروز پر ایک پارٹی ہے
خاص تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔
شہر بھر کو اپنے بیٹے سے ملوانا ہے۔۔۔۔
کےکے کے آواز پر دونوں نے اُن کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اور اپنی بہو سے نہیں ملواؤگے ڈارلنگ سب کو۔۔۔۔
مایا افسوس کرنے والے انداز میں نین کو دیکھتی ہوئی کےکے کا بازو تھام کر چہرہ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔مانو اُس کا مذاق بنایا لیکن و بھی نین تھی اُسے کون ہرا سکتا تھ
او و ساسُو ماں آپ کو میری کتنی فکر ہے۔۔۔۔
چند سیکنڈ اُسے گھورنے کے بعد اچانک مسکرا کر جذباتی لہجے میں بولی تو مایا اُس کے ساسُو ماں کہنے پر ایکدم دے سیدھی ہوئی
ساسو ماں۔۔۔۔۔۔۔
صدمے سے اُسے دیکھنے لگی جب کے ساحل نے مسکراہٹ چپاتے ہوئے سر تھوڑا اور جھکا لیا۔۔۔
ہاں پاپا جی کی بیوی تو میری ساسُو ماں ہی ہُوئی نا۔۔۔۔
وہ شہد سے میٹھے لہجے میں آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔۔
میں کے کے کی بیوی نہیں جسٹ اُن کی گرل فرینڈ ہوں۔۔۔۔۔
مایا نے بہت ضبط سے کہتے ہوئے اُسے جتایا
او۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔ ہے تو ساسُو ما ں کی جگہ ہی نا۔۔۔میرے لیے تو آپ ہی میری ساسو ما ں ہے۔۔۔۔
اُس نے بے حد محبت بھرے انداز میں کہا جب کے مایا تلملا گئی کےکے بھی نین کی باتوں پر ہنس رہا تھا۔۔۔۔
What rubbish is she talking are you mad۔۔۔
وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی کبھی ساحل۔کو کبھی اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔
شٹ اپ مایا۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے غصے سے پاگل بولنے پر اُسے سنجیدگی سے گھور کر وارن کیا ۔۔۔
ساحل۔۔۔۔۔۔ یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔ایسے شٹ اپ کیسے کہہ سکتے ہو تم انہیں۔۔۔مت بھولو یہ تمہاری ماں ہے۔۔۔۔
مایا تو اُس کے وارن کرنے کو اگنور کر گئی لیکن نین نے۔ اُسکا بھی فائدہ اٹھایا۔۔۔
اُس سے ہنسی روکنا مشکل ہوا تو اُس نے منہ پر مُٹھی رکھے لبوں کو دبا دیا
ہاں مانا لیگل نہیں ہے لیکن کیا ہوا پاپا کی گرل فرینڈ بھی ماں سمان ہی ہوتی ہے۔۔۔ہے نہ ساسُو ماں۔۔۔۔۔۔
اُس نے مایا کے ایک طنز کے بدلے اُسے میٹھے میٹھے تیر مار کر آگ بگولا کر دیا تھا
Disgusting۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک طرف ساحل کو ہنسی روکتے دوسری طرح کے کے کو قہقہہ لگاتے دیکھ غصے سے واک آؤٹ کر گئی۔۔۔
بڑی آئی مجھے سب سے ملوانے والی۔۔۔
اُسے جاتے دیکھ نین نے زبان دکھا کر کہا جب کے وہ مسکراتا اپنی خطرناک بیوی کو دیکھ رہا تھا جو پنگا لیتے وقت سامنے والا کون ہے یہ بھی نہیں سوچتی تھی۔۔۔
لیکن جب اُس کی نظر کے کے کے ہنستے چہرے پر گئی تو اُس کی ہنسی تم گئی۔۔۔۔۔آنکھوں میں غصّہ بھرنے میں لمحہ لگا۔۔۔۔
وہ سونے کے لیے بیڈ پر لیٹی جب کے ساحل صوفے پر موبائل میں جانے کیا کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
ماما کے بیٹے۔۔۔
اُس نے دھیرے سے اُسے پکارا تو ساحل نے مصروف سے انداز میں سر اٹھا کر اُسے دیکھا
مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔پلیز
اُس نے بستر سے اٹھ کر بہت ہی پریشان سے انداز میں کہا اتنی سیریس وہ کبھی نہیں ہوتی تھی۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی رو دے گی۔۔۔اُسے کیا چیز پریشان کر رہی تھی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
کےکے جیسے انسان سے نفرت۔۔
مایا کی نظروں کی غلاظت
یا پھر ساحل کے اُن جیسے بن جانے کا ڈر۔۔۔یہ پھر سب کچھ
وہ حیران ہوتا اٹھ کر اُس کے پاس آیا۔۔
عجیب سی بدبو آتی ہے مجھے یہاں۔۔۔سانس نہیں لی جاتی۔۔۔
اُس کے بیٹھتے ہی وہ اُس کا ہاتھ سختی سے پکڑتے ہوئے بولی
صرف کل تک۔۔۔کل رات کے بعد سب صحیح ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ گہری سانس لے کر اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھے دھیرے سے۔۔۔
کل ایسا کیا ہو جائے گا۔۔۔
وہ اُلجھ کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
کچھ نہیں تو سو جا میں ابھی آتا ہوں۔۔۔
وہ اُس سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے بول کر وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔
اتنے رات کو کہاں جا رہے ہو اب تم۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پھر پکڑ کے جھنجھلا کے بولی۔۔جیسے ابھی وہ کسی اور کے پاس ہی چلا جائے گا
دو منٹ میں آیا۔۔۔۔ایک فون کرکے۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی دھن میں تھا ۔۔۔اُسے کہتا موبائل لیا باہر نکلنے لگا
ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے دروازے تو پہنچتے ہی نین نے اُسے پکارا تو وہ رک کر پلٹا سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
وہ میں کہہ رہی تھی اگر۔۔۔
اُس نے کہتے کہتے رک کے لبوں پر زبان پھیری۔۔اور نظریں چرا لیں۔۔۔
وہ فون پر آتی کال پر ایک نظر ڈال کر دوبارہ اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
اگر تمہاری کوئی ہسبنڈ والی ڈیمانڈ ہے تو پوری کر سکتے ہو تم۔۔۔میں منع نہیں کروں گی۔۔۔۔۔
اُس نے بہُت ہمت جمع کرکے بنا نظریں ملائے دھیرے سے کہا ۔۔۔اندر دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ساحل کو اُس کی بات سن کر مانو سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔۔۔اتنا تو اُسے سمجھ آگیا تھا کے یہ اُس گھر کے ماحول کا اثر ہے لیکن وہ منہ سے ایسا کچھ کہے یہ بات نہ قابل یقین تھی۔۔۔۔
وہ صدمے میں اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
نین نے جب چوری سے نظریں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو وہ فوراً سنبھلا
پاگل ۔۔تو۔۔۔۔تو ۔۔۔۔۔سو منہ بند کرکے۔۔۔۔
اپنی حیرت کو غصے میں چھپا کر اُسے جھڑکتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا۔۔۔
جب کے وہ اپنی حرکت پر خود کو لعنت بھیجنے لگی ۔۔۔۔۔ کے آخر اتنی بھی انسکیورہونے کی کیا ضرورت تھی کے خود کی نظر میں ہی شرمندہ ہونے والی بات کہہ دی۔۔۔
وہ اُس کے واپس آنے سے پہلے ہی سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
