Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 40
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو عبّاس صاحب جوش و خروش سے اُس کے گلے لگے۔۔۔وقار صاحب نے بھی زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پر سجا لی
کل وقار اور زینب واپس لندن جا رہے ہیں اور وقار چاہتا ہے کے تم اور نین بھی اُن کے ساتھ جاؤ
عباس صاحب نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اُس کا دماغ گھوم گیا
میں کیا تم لوگ کو سیل کا سستا مال دکھتا ہوں۔۔۔۔۔بیٹی الگ کھینچ رہی ہے ۔۔باپ الگ کھینچ رہا ہے۔۔۔۔۔جمائی بنا کر چین نہیں پڑا جو اب گھر جمائی بنانے کے پیچھے پڑا ہے
وہ نہایت بد لحاظی سے بولا ۔۔۔ویسے تو وقار صاحب پر غصّہ تھا ہی کے وہ بہُت بے حس ہے لیکن فلحل اس بدتمیزی کی وجہ یہ تھی کے اُنہیں اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ ابھی کے ابھی اُسے سدھار لے۔۔۔اپنی بیٹی کو اُس سے الگ کر لے
ساحل ۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے غصے سے اُسے ٹوکا جب کے اپنی بے عزتی پر وقار صاحب صدمے میں تھے
تمیز سے بات کرو۔۔۔۔۔یہ تمہارے سسُر ہے۔۔۔۔بڑے ہے تم سے۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے شرمندگی سے وقار کو دیکھتے ہوئے اُسے تنبیہ کی
سسر۔۔۔۔سسر نہیں اسور ہے یہ اسور۔۔۔
اور اس اصور کو بول دو کے اپن کے ساتھ زیادہ رشتےدا ری نا جھاڑے۔۔۔۔۔۔
جو اپنی بیٹی کا نہیں ہوا وہ اپن کا کیا خاک ہوگا
وہ غصے سے کہتا وقار صاحب کو نفرت بھری نظروں سے دیکھ کر باہر نکل گیا اور وہ اس عزت افزائی پر ز ہرکے گھونٹ پی کر رہ گئے
∆∆∆∆∆∆∆∆
ہمیں تو لگا تھا آج کے دن بڑی ماں اپنے لاکر کی چابی لا کر نین کے ہاتھ میں سونپ دیں گی لیکِن اب بڑی ماں نین کی شکل بھی نہیں دیکھ رہیں ہے
عشرت دھیرے سے شیرین کے کان میں منمنائی۔۔
ٹیبل پر ناشتا لگایا جا رہا تھا اور سب ہی آچکے تھے۔۔۔داؤد اور فلک اب تک فارم ہاؤس پر ہی تھے۔۔۔۔رابعہ بیگم چہرے پر ناگواری سجائے بیٹھیں تھیں۔۔۔باقی سب بھی بیزار۔ نظر آرہے تھے سوائے نین کے وہ اب بھی اتنی ہی خوش اور پر جوش تھی۔۔۔۔
یا دکھنے کی کوشش کر رہی تھی
کیا ہونے والا تھا اور کیا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ جو بھی ہو لیکن نین کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔۔۔شاید ہماری ہی نظر لگی ہے اُسے۔۔۔ہمیشہ اُس سے جلتے رہتے تھے ہم دونوں۔۔۔۔۔
شیرین نے دکھ سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا جو نانو سے پیار لے رہی تھی۔۔۔۔اُس کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے كرب کو سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا
وہ تو بڑی ماں کی وجہ سے وہ جو اسے ہماری مالکن بنانے میں لگیں تھیں۔۔۔۔اگر ابھی اس کی شادی داؤد سے ہو گئی ہوتی نا تو یہاں ایسے شانتی سے نہیں بیٹھی ہوتی
ہمارے سر پر۔کھڑی ہم پر حکم چلا رہی ہوتی
عشرت نے اپنا پلڑا جھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔
آسیہ بیگم کی گھوری پر دونوں کی کھسر پھسر تھمی
کھڑی ہی رہنا ہے ناشتا بھی پروسنا ہے سب کو۔۔۔۔
اُنہوں نے دونوں کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
جی ممی جی۔۔۔۔۔
دونوں کورس میں کہتی جلدی جلدی پلیٹس لگانے لگیں۔۔۔
عبّاس صاحب بھی ساحل کو ساتھ لیئے ٹیبل پر پہنچے ساتھ ہی اُن کا لیکچر جاری تھا کے وقار سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔
وہ بیزاری سے سنتا گیا اپنی چیئر پر بیٹھتے ہوئے جب نظر نین پر گئی تو بیٹھنے سے پہلے ہی ہڑبڑا کے اٹھ گیا۔۔۔
اسے پھر اُسی ساڑی میں دیکھ اُسے صدمہ لگا۔۔
کیوں کے اتنے لوگوں کے بیچ پھر سے وہی حادثہ ہو جاتا تو کیا ہوتا۔۔۔,۔۔
کیا ہوا بیٹھو۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مجبورا بیٹھ گیا لیکِن ٹینشن کے مارے بے چینی ہو رہی تھی وہ دوبارہ وہی منظر نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔جس نے تھوڑی دیر پہلے اُسے پورا ہلا دیا تھا
نین اُسے پیاری سی اسمائیل دیتے ہوئے اُس کے پاس آئی اور اُس کی پلیٹ میں سرو کرنے لگی۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ آگے کرنے پر آنچل اوپر ہوا تو ساحل نے چور نظروں سے اُس کے پیٹ کی جانب دیکھا اور وہاں ساڑی کی پلیٹس پر بڑی سے بال پن لگی دیکھ اُس کے دِل میں ڈھیروں اطمینان اُترا۔۔۔
اُس نے گہری سانس لی۔۔۔۔
نین کے بدلے تیور ملاحظہ کیے جو اُس پر حد سے زیادہ مہربان ہو رہی تھی اور خاموشی سے ناشتا کرنے لگا
رابعہ بیگم نے جلتی نگاہوں سے یہ منظر دیکھا کہاں وہ نین کو اپنے بیٹے کی زِندگی میں دیکھنا چاہتی تھیں یہ سنگھار یہ خوبصورت مسکان سب اپنے بیٹے کے لیے چاہتی تھیں
اور کہا وہ اُس شخص کی ہو کر کھڑی تھی جِس سے اُنہیں سخت نفرت تھی
بیٹا تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو ناشتہ کرو
نانو نے پیار سے اُسے دیکھا جو بلکل ساحل کی چیئر کے قریب کھڑی تھی۔۔۔۔۔گہری نیلی ساری میں سجی دھجی آج ایکدم الگ لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔نئی نویلی دلہن
نہیں نانو میں ان کے بعد ہی ناشتہ کروں گی۔۔۔۔آپ کہتی ہے نا اچھی بیوی شوہر کا پیٹ بھرنےکےبعد ہی کچھ کھا تی ہے
وہ مُسکرا کر سادگی سے بولی جب کے اُس کی بات پر ساحل کو جوس پیتے پیتے اچھوا لگ گیا۔۔۔۔۔
سب پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔۔۔۔۔
عشرت اور شیرین کی آنکھیں تو اُبل کے باہر آرہی تھی۔۔۔
جیا اور روما منہ کھولے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں
بس ایک زینب ہی غم میں تھی باقی سب صدمے میں تھے
ساحل نے اپنا تنفس بحال کرکے نین کو دیکھا جو اُس کے دیکھنے پر شرما کر پلّو اُنگلی پر لپیٹنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
بیٹھ وہاں اور چپ کرکے کھانہ کھا۔۔۔۔۔۔
وہ دانت بھنچتے ہوئے ضبط سے بولا
نہیں جی پہلے آپ آرام سے ناشتہ کیجئے میں بعد میں کھا لوں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً سر نفی میں ہلا کر بولی۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے بیچارگی سے عبّاس صاحب کو دیکھا جو ہنسی ضبط کرنے کے آخری مرحلے پر تھے۔۔۔۔
وہاں سے مدد نا ملنے پر معصوم شکل بنا کر اپنی دادی کو دیکھا تو وہ نین کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھ گیا اور باہر جانے لگا نین ہڑبڑا کر اُس کے پیچھے دوڑی ۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔عباس صاحب نے اُسے روکنا چاہا لیکن نانو نے اُنہیں منع کر دیا
ساڑی میں پیر اُلجھا تو وہ دونوں ہاتھ اُس کی پشت پر لگائے گرنے سے بچی۔۔۔۔ وہ خود گرتے گرتے بمشکل سنبھلا۔۔۔۔۔۔۔اور ایکدم سے اُسے تھام لیا۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرکے ہڑبڑا کے اُس سے الگ ہوئی
ساحل اُسے غصّے سے گھورتا جانے کے لئے پلٹ گیا
سنیے جی۔۔۔۔۔۔اس طرح بھوکے پیٹ مت جائیے۔۔۔۔۔۔ورنہ میرے گلے سے بھی نوالہ نہیں اُترے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
نین اپنے فوم میں آکر اُس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی وہ غصے سے پلٹا
نوالہ۔۔۔۔۔۔تیرے گلے سے تو پورا آدمی اُتر جائے۔ ۔۔۔۔۔ تو تو لوگوں کو زندہ نگلنا جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف پورا جھکتے ہوۓ بولا وہ سہمی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
سنیے جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر جانے کو پلٹا تو نین نے پھر پکارا وہ دروازے کے باہر رک کر فضا میں گہری سانس خارج کرنے لگا۔۔۔۔
آپ جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ معصوم سی شکل بنا کر پلکیں جھپکتے ہوئے بولی
نہیں میں آرہا ہوں۔۔۔۔پیر اُلٹے ہے نہ میرے اس لیے جاتا دکھ رہا تیرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولا نین نے سر جھکا کے نچلا لب دانتوں میں دبایا تو وہ اُس سے نظریں ہٹا گیا۔۔
میں نے آپکا موڈ خراب کر دیا اُس کے لیے سوری۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی معصومیت سے بولی تو ساحل کا دل حیرت سے پاگل ہونے لگا
آپ کے لیے رات کو کھانے میں۔کیا بناؤں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً سر اٹھا کر بولی
زہر۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے جل کے جواب دیا نین نے ایکدم سے اُس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا اور اتنی ہی تیزی سے ہٹا بھی گئی۔۔۔۔وہ خود حیران رہ گیا
ایسا مت بولیے۔۔۔۔۔۔اللّٰہ آپکو لمبی عمر دے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی حرکت پر اندر ہی اندر شرمندہ ہو کر بولی
اللہ بس میرے کو برداشت کی طاقت دے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے بڑ بڑبڑایا۔۔۔۔
اب میں جاؤں جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی طرف دیکھ کر اُسی کے اندر میں بولا تو نین نے شرما کر سر ہلا دیا
جی لیکن شام کو جلدی آئیے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ پلو کو اُنگلی پر لپیٹتے ہوئے بولی
وہ کس خوشی میں۔جی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مٹھیاں بھینچ کر پوچھا
آج صبح سے آپ کو سر درد تھا نا اس لیے۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کے سر میں جڑی بوٹیوں والے تیل سے مالش کردوں گی
وہ ساری کا پلّو دانت میں لیتے ہوئے ایسے بولی جیسے دونوں واقعی صدیوں کے محبت کرنے والے ہو
اسے تو یاد نہیں آیا کے کب اُس کے سر میں درد تھا لیکِن حامی بھر گیا
ٹھیک ہے۔,۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر سر ہلایا
جانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہنی مون پر چلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اچانک اُس کے ہی انداز میں بولا تو وہ کرنٹ کھا کر سر اٹھائے اُسے دیکھنے لگی۔۔ اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت لیے
پاگل کہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔سائیکو کیس
وہ اُسے خطرناک گھوری سے نواز تا وہاں سے نکل گیا
وہ منہ بسور کر اندر آگئی
اگر کوئی دیکھتا تو سوچتا کے بے چاری معصوم لڑکی کو اُس کا جلّاد شوہر پریشان کرتا ہے۔۔۔۔
لیکِن اصل حقیقت سے تو ساحل اور اس کا خدا ہی واقف تھے
∆∆∆∆∆∆
نین تم ٹھیک ہو نا بیٹا۔۔۔۔
زینب نے اُس کی پیشانی چومتے ہوئے نم نگاہوں سے اُسے دیکھا
بلکل ٹھیک ہوں ممی۔۔۔۔
وہ میٹھا سا مسکرائی اپنے گود میں بیٹھی خوشی کے بالوں سے کھیلنے لگی
تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھوڑا کھا لو۔۔۔۔
زینب نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکرمندی سے اُسے دیکھا۔۔
نہیں ممی۔۔۔۔ میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی ماں کا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ آہستہ سے کہا کل سے اُس نے ایک نوالہ نہیں لیا تھا لیکن چہرے پر ایک شکن بھی نہیں تھی۔۔۔بلکل ترو تازہ لگ رہی تھی بھلے اندر سے جتنی کمزور ہو گئی ہو
کب تک ضد کرتی رہو گی نین۔۔۔۔۔۔۔بس کرو بیٹا۔۔۔۔۔اپنی ماں کو اتنا نہیں ستاتے۔۔۔۔
چلو جلدی سے اپنی پیکنگ کرو ہم کل واپس جا رہے ہیں۔۔۔
زینب نے اپنے آنسُو پونچھتے ہوئے کہا
میں کیسے جا سکتی ہوں ممی۔۔۔مجھے تو اب یہیں رہنا ہوگا نا۔۔۔۔۔
ایسے چلی جاؤں گی تو لوگ کیا کہے گے۔۔۔شادی کے اگلے ہی دن سسرال چھوڑ کر مائیکے آگئی۔۔۔۔
ایک دن بھی نہیں نبھا سکی۔۔۔۔
پاپا کی ریپو ٹیشن کا سوال ہے ۔
میں کیسے جا سکتی ہوں پھر۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کو مصنوعی حیرت سے دیکھتی سرسراتے لہجے میں بولی زینب نے پریشانی سے سر تھام لیا
پاپا سے کہہ دینا ممّی کے بلکل فکر نا کرے
اُن کی بیٹی اُن کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیگی۔۔۔۔۔
وہ اپنی ماں کو اتنا دکھ دینے پر خود کو ملامت کرتی خوشی کو لیے اُن کے پاس سے اٹھ کر باہر آگئی
∆∆∆∆∆∆∆
فلک کے منع کرنے کے باوجود وہ اُسے شاپنگ پر لے گیا تھا اور اپنی پسند سے ڈھیر ساری چیزیں خرید کر دی تھی۔۔۔
اب چونکہ سب جان چکے تھے اس لیے اُسے کوئی فکر نہیں تھی۔۔۔
فلک تو بس اُس جگہ سے گھبرا رہی تھی۔۔
پورا وقت اُس کا بازو تھامے ہوئے تھے جیسے کبھی ارحم کا تھام کر رکھتی تھی
وہ شاپنگ کے بعد کورٹ کیس کی کچھ فرمائلٹیز پوری کرکے شیرازی مینشن آگئے تھے
اور داؤد اُسے لیئے سیدھے اپنے کمرے میں گیا تھا کیوں کے وہ آتے سے ہی کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا
یہ تم پر بہُت اچھا لگے گا۔۔۔۔۔
داؤد نے شاپنگ بیگ سے سُرخ خوبصورت دوپٹہ اُس کے شولڈر پر رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔
لیکِن و اب بھی پریشان سے سر جھکائے کھڑی تھی۔۔
داؤد نے۔ہاتھ سے اُس کا چہره اور کرکے اُس کی آنکھوں میں دیکھا
میں کیس نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔
وہ اپنے من میں چلتی پریشانی بیان کرنے لگی
کیوں۔۔۔۔۔
داؤد نے بنا حیران ہوئے پوچھا
وہ پھر سے بچ جائے گا۔۔۔۔۔۔اُسے کبھی سزا نہیں ملے گی
وہ عاجزی سے بولی
ایسی باتیں مت کرو فلک۔۔۔۔یقین رکھو وہ اس دفعہ نہیں بچے گا۔۔۔۔
داؤد نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی
اور اگر بچ گیا تو۔۔۔۔اُس نے آپ کو کچھ کردیا تو۔۔۔۔میں کیسے جیوں گی آپ کے بنا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جھنجھلاہٹ میں اپنے لفظوں سے داؤد کو حیران کر گئی۔۔۔
وہ اگلے ہی پل ہلکا سا مسکرایا
پھر سے کہنا۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے چاہت بھرے لہجے میں بولا
آپ کو ذرا بھی چوٹ آئی تو مجھے بہت تکلیف ہوگی۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ہوئے جھجھک کر اعتراف کرنے لگی اور اپنی بے غرض مُحبت کے عزاز میں داؤد کے۔لیے یہ اعتراف بھی بہت تھا
داؤد نے قریب ہو کر اُس کی پیشانی سے پیشانی ٹکائی
میری اتنی پرواہ مجھے محبت کا اشارہ دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی لرزتی پلکوں کو دیکھ کر دھیمے گمبھیر لہجے بولا فلک آہستہ سے پیچھے ہُوئی تو وہ حسرت سے اُسے دیکھتا رہ گیا
دروازے پر دستک ہوئی تو اُس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا
بڑے صاحب نے آپ دونوں کو نیچے بلایا ہے۔۔۔
ملازم نے اُسے اطلاع دی تو اُس نے سنجیدگی سے سر ہلا دیا
روم سے دونوں نکلے ہی تھے کے سب سے پہلا سامنا زینب سے ہو گیا۔۔۔ زینب کی آنکھوں میں اپنے لیے خفگی و غصّہ دیکھ داؤد کی نظریں شرمندگی سے جھک گئی
جب کے زینب اُسے اور فلک کو غصے سے دیکھتی وہاں سے جانے لگی کے داؤد نے ایکدم سے ہاتھ پکڑ کر روک دیا
پھُوپھی پلیز۔۔۔۔۔اس طرح مت کیجئے۔۔۔۔
چاہے جو سزا دے دیں لیکن اس طرح منہ مت موڑیئے مجھ سے۔۔۔۔۔۔میں تہہ دل سے معافی مانگتا ہوں آپ سے
اُس کے ہاتھ کو لبوں سے لگاتے ہوئے بولا
ایک دفعہ جا کر میری بیٹی کو دیکھ لو داؤد اُس کے بعد بتانا کے میری جگہ تم ہوتے تو کیا معاف کرتے۔۔۔
زینب نے بے تاثر لہجے میں کہتے ہوۓ اپنا ہاتھ چھڑایا اور وہاں سے چلی گئی وہ بس دیکھ کے ره گیا
وہ فلک کو ساتھ لیے ڈرائنگ روم میں پہنچا جہاں گھر کے تمام افراد موجود تھے۔۔۔نین ذینب روما اور جیا کے علاوہ
رابعہ بیگم نے فلک کو ناگواری سے دیکھ کر پہلو بدلا
جب کے عشرت شیرین بھی بیزار نظروں سے اُس کا جائزہ لے رہیں تھیں جو بلکل۔سادہ سے گلابی سلور سوٹ میں سر کو ڈوپٹے سے ڈھکے اُن کے سامنے کھڑی تھی
اب بولو کیا وضاحت دینی ہے اپنی غلطی کی۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔میں بلکل بھی نین کو یا آپ سب کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔فلک سے شادی کا فیصلہ مجھے بہُت اچانک کرنا پڑا۔۔۔۔۔
اور میں اپنے فیصلے پر بلکل بھی شرمندہ نہیں ہو بس مجھے اس بات کا گلٹ ہے کے میں نے آپ سب کو بنا بتاۓ یہ قدم اٹھایا۔۔۔
اُس نے بہُت کم لفظوں میں سر جھکائے اپنی صفائی دے کے بات ختم کر دی
عبّاس صاحب نے ایک گہری سانس لی اور آٹھ کر اُس کے پاس ائے
جو ہوا اُسے ہم بدل نہیں سکتے بہتر ہے کے سب بھول کر آگے بڑھا جائے۔۔۔۔
آج شام میں نے ایک چھوٹی سے پارٹی رکھی ہے۔۔۔۔۔ نین اور ساحل کے ساتھ تمہاری شادی کا بھی اناؤنسمینٹ کرنا ہے۔
اُنہوں نے گویا اپنا فیصلہ سنایا جس پر سب تو خاموش رہے لیکن رابعہ بیگم غصے سے بھڑک اٹھیں
آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔۔۔۔
یہ لڑکی جس کا کوئی نام نا پتہ اسے آپ ہماری بہو بنا کر کھڑا کرے گے ساری دنیا کے سامنے۔۔۔
اُنہوں نے ناگواری سے فلک کو دیکھتے ہوئے کہا داؤد نے ضبط سے آنکھیں بند کرکے کھولیں
ہاں کیوں کہ ۔۔۔۔۔آپ کے بیٹے نے بہو بنایا ہے اسے۔۔۔ اور اب اچھا ہے کے آپ اور ہم سب بھی اس بات کو قبول کر لیں۔۔
عبّاس صاحب نے لہجے بمشکل نارمل رکھے جواب دِیا رابعہ بیگم نے غصے سے سر جھٹکا
عباس کی بات بلکل صحیح ہے رابعہ۔۔۔۔
اپنی ناراضگی ختم کرو ۔۔۔۔۔اس طرح رشتوں میں کڑواہٹ مت گھولو۔۔۔۔۔جو ہوا سو ہوا اُسے خدا کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرلو۔۔۔
کم سے کم اپنے بیٹے کی خوشی کا تو سوچو۔۔۔
زہرہ بیگم نے بھی اپنے بیٹے کی بات کی تائید کرتے ہوئے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی
بچے جب غلط راستے پر جائے تو ماں باپ انہیں شاباشی نہیں دیتے۔۔۔۔میں اس لڑکی کو ہر گز اپنی بہو نہیں مان سکتی۔۔۔۔۔
ا اُنہوں نے ہنکارا بھرتے ہوئے جواب دیا اور فلک کو کاٹ دار نظروں سے گھور کر وہاں سے چلی گئی داؤد نے پریشان ہو کر اُنہیں دیکھا
جب کے فلک کی آنکھیں بھیگنے لگی کے اُس کی وجہ سے داؤد کتنا بے با ہو گیا ہے کتنا پریشان
تسلی رکھو داؤد ۔۔۔۔رابعہ کا غصّہ جائز ہے فکرِ مت کرو وہ زیادہ دن ناراض نہیں رہےگی تم سے۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا وہ اُن کے پاس آکر اُن کا ہاتھ تھامے اُنہیں دیکھنے لگا
دادی کیا آپ نے ہمیں معاف کر دیا۔۔۔۔
اُس نے بہت آس سے پوچھا اُنہوں نے منہ پھیر کر اُس کی آس ختم کر دی
سارے قصے میں سب سے زیادہ تو میری لاڈو نے ہی سہا ہے داؤد۔۔۔۔وہ معاف کردے تو سمجھنا میں نے بھی معاف کردیا۔۔خوش رہو
اُنہوں نے تھکے تھکے سے لہجے میں کہا اٹھ کر فلک کے پاس آئیں اُس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
ایک ایک کرکے سب ہی وہاں سے جانے لگے
سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے دیکھ کر تسلی دی اور باہر نکل گئے
∆∆∆∆∆
شادی کی بعد کچن میں خود اپنے لیے کافی بنانا کچھ خاص اچھا نہیں لگتا ویسے
پرتاب نے اُسے کچن کاؤنٹر کے آگے کافی پھینٹتے دیکھ طنز اچھالا۔۔۔اُس نے کھا جانے والی نظروں سے اُنہیں دیکھا جو آج کسی طرح سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں تھے بس اُس کی ٹانگ کھینچے جارہے تھے
مت بات کرو سر شادی کی۔۔۔کلیجہ جلتا ہے اپن كا۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کے بولا اور کاؤنٹر پر رکھے موبائل کو اٹھا کر جیب میں رکھا
دل تو کر رہا ہے تیل ڈال کر خود کو آگ لگا لوں
وہ داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نمبر کا شانا نکلا وہ سالہ ۔۔۔خود تو نکل گیا اور خود کی مصیبت اپن کے گلے ڈال گیا۔۔۔۔
وہ کافی کے مگ سامنے رکھتے ہوئے آکر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ پرتاب نے مسکراتے ہوئے ایک مگ اٹھا لیا
ڈال کیا گیا وہ مصیبت تو خود آکر میرے سے چپک گئی ہے۔۔۔۔۔
پوری دنیا میں میں ہی دکھا اُس کو۔۔۔۔۔۔۔
باتیں تو ایسے کرتی ہے جیسے روزے رکھ رکھ کے میرے سے شادی کی منتیں مانگ رہی تھی۔۔۔۔
وہ طیش میں کہتا کافی کا سپ لینے لگا جب کے پرتاب نے زوردار قہقہہ لگایا
آپ ہنس لو۔۔۔۔۔۔ہاں ہنس لو جوک ہی تو بن گیا ہوں نہ میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے کہتا اُنہیں گھورنے لگا
نہیں سوری۔۔۔۔۔۔
تم کچھ اوور ری ایکٹ کر رہے ہو۔۔۔۔ٹھیک ہے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
پرتاب نے گلا کھنکار کر مصنوعی سنجیدگی طاری کی
ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔کدھر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
تاریخ گواہ ہے آج تک صرف مردوں نے زور زبردستی کی شادی کی ہے
میں سالہ پہلا آدمی ہوں جس کے ساتھ زور زبردستی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیچارے انداز میں بولا اور پرتاب نے بمشکل قہقہ چھپایا
یہ ظلم کم تھا جو لڑکی بھی وہ مل گئی جو اور ہی دنیا کی مخلوق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نین کی ساری حرکتیں یاد کرکے کہا جو اُسے ایک رات اور آدھے دِن میں پورا ہلا چُکی تھی
نہیں یار۔۔۔۔۔وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔تم اُسے سمجھ نہیں رہے
پرتاب نے مسکراتے ہوئے کہا جب کے وہ انہیں گھورنے لگا
اچھی لڑکی ہے تو اپنے بیٹے سے شادی کراتے نا اُس کی
صبح لات مار کر نیند سے جگاتی تب معلوم پڑتا کتنی اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔۔چھوڑو آپ میرا درد سمجھوگے ہی نہیں۔۔۔۔
ہمدردی تو صرف لڑکیوں کے لیے ہوتی ہے۔۔ابھی کسی لڑکی کی ساتھ ایسا ہوتا نا تو پورا زمانہ بیچارے آدمی کو دہائی دینے میں لگ جاتا ۔۔۔لڑکی سے ہمدردی میں دو جہاں ایک کردیتا
لیکِن مرد کا تو دکھ کسی کو دکھتا ہی نہیں نا
وہ کافی بھولے اپنا دکھڑا رونے لگا۔۔۔۔شاید ہی اُس سے زیادہ بیچارہ مرد کوئی ہوگا جو فورس میریج کا شکار ہوا ہو
پرتاپ کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
