Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 96

پورب۔۔۔۔۔پلیز ٹیل می کے آخر کیوں تم مجھ سے اتنے ناراض ہو۔۔۔۔۔جو کر رہے ہو اُس کی وجہ تو بتاؤ کم سے کم۔۔۔۔۔
دکش کے گھر ڈراپ کرنے کے بعد سونے کے لیے بستر پر لیٹتے ہی اُسے پورب کا خیال آیا تو دل اُداس ہونے لگا۔۔۔ہمیشہ سے عادت تھی کے سونے سے پہلے اُس سے بات ضرور کرتی لیکِن پچھلے کچھ دن سے وہ اُسے بری طرح اگنور کر رہا تھا ۔۔۔کئیں بار تو اُس کا فون تک کاٹ دیا کرتا ۔ ۔۔اور وہ دکھی دل سے سہہ جاتی لیکِن پھر عادت سے مجبور اگلے دن اُسے ضرور کال کرتی۔۔۔
لیکن آج اُس کا کال۔کرنا بیکار نہیں گیا کیوں کے پورب نے پہلی دفعہ میں ہی فون اٹھا لیا۔۔۔
کیا تم سچ میں وجہ جاننا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔
انجو کے اُداس لہجے پر چند پل کی خاموشی قائم رکھے اُس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
ہاں مجھے جاننا ہے۔۔۔۔۔تمہیں نہیں پتہ کے تمہارے اس بیہیوئیر سے کتنا ہرٹ ہو رہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔
اُس کی نم آواز پورب تک پہنچی تو اُس نے گہری سانس لی۔۔۔۔
کیوں ہرٹ ہو رہی ہو تم۔۔۔۔۔میرا دور ہونا تمہیں کیوں پریشان کر رہا ہے۔۔۔میں کیا ہوں تمہاری لائف میں۔۔۔۔۔۔
وہ آج بجائے خاموش رہنے کے اُسے اگنور کرنے کے سنجیدگی سے سوال کرنے لگا
کیسی باتیں کر رہے ہو پورب۔۔۔
تم اچھے سے جانتے ہو کے میری لائف میں تمہاری کیا امپورٹینس ہے۔۔۔۔
انجو نے چڑ کر جواب دیا کیوں کے پچھلے چند دنوں سے پورب کا رویہ بلکل غیروں جیسا ہو گیا تھا۔۔۔
جانتا ہوں لیکِن اب تو تمہارے پاس دکش ہے نہ۔۔۔پھر میرے ہونے نا ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔
اُس کی وہی بات سن کر انجو اُلجھ کر اپنی جگہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔
میں دکش سے پیار کرتی ہوں اس بات سے تمہیں اتنی پرابلم کیوں ہے پورب۔۔۔۔۔
اُس نے پریشان جھنجھلائے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
تم اُس سے پیار نہیں کرتی۔۔۔۔۔اور یہی میری پرابلم ہے کے تمہیں یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔۔۔
پورب نے بھی اُسے لہجے میں سختی سے جواب دیا۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔
انجو نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔حالانکہ دکش کو لے کر وہ اُس کی نا پسندیدگی محسوس کرتی تھی لیکن اُس کی ایک سن کر حیران ہوئی۔۔۔
میں تمہیں بچپن سے جانتا ہوں انجو۔۔۔۔تم خود کو جتنا نہیں سمجھتی اُس سے زیادہ میں تمہیں سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔
تمہاری پسند نہ پسند۔۔۔۔۔تمہارا اچھا برا۔۔۔۔تم سے بہتر نظر آتا ہے مجھے۔۔۔۔
اور میں جانتا ہوں تم اُس دکش سے کوئی پیار ویار نہیں کرتی۔۔۔
کچھ سیکنڈ رک کر پورب نے جواب دیا تو لہجہ روکھا نہیں بلکہ نرم اور اپنائیت بھرا تھا۔۔ ۔انجو سنجیدگی سے اُس کی سن کر سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
تمہاری ہمیشہ سے عادت ہے تمہیں شو پیس میں رکھی وہ چیز چاہیے ہوتی ہے جس پر سب کی نظر ہو۔۔۔۔۔۔
جو سب کے لیے حاصل کرنا نا ممکن ہو۔۔تمہیں وہ ہر حال میں پانا ہے۔۔۔
جو سب کیلئے اویلیبل ہے وہ تمہارے لیے لو کلاس ہے ۔۔۔اُس کی کوئی ویلیو نہیں تمہارے نزدیک۔۔۔۔
سیلفی لیتے ٹائم تمہیں اپنے بیک گراؤنڈ میں بھی کچھ ایسا نہیں چاہیے جو تمہیں پسند نہ ہو۔۔۔۔
پورب کی اپنے متعلق کہی ہر بات سے وہ متفق تھی۔۔۔اُس کے اندر یہ سب باتیں تھیں اُسے معلوم تھا لیکن دکش کے معاملے میں ان چیزوں کا کیا ذکر و سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
یہ تمہاری بری عادت نہیں تمہارا نیچر ہے انجو ۔۔۔۔۔
اور اسی نیچر کی وجہ سے تم ڈے ون سے اُس دکش کی طرف اٹریکٹ ہو۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے وہ گڈ لكنگ ہے۔۔۔۔این آر آۓ ہے۔۔۔۔کروڑ پتی باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔۔۔۔۔
تمہارے آس پاس کے تمام لوگوں میں سب سے الگ اور خاص ہے۔۔۔
بلکل اسی شو پیس کی طرح جِسے سب پانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔لیکِن وہ حاصل صرف تمہیں کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
پورب نے اسی انداز میں سمجھاتے ہوئے ہلکی سے ناگواری جتائی ۔۔۔جب کے اس کی بات سے انجو کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔۔کے وہ اُس کی محبت کو اٹریکش کا نام دے رہا ہے
پیار ایسے ایک دن میں نہیں ہوجاتا انجو۔۔۔۔۔
کِسی کو صرف دیکھ کر پسند کیا جا سکتا ہے۔ ۔۔۔اُس سے متاثر ہوا جاسکتا ہے۔۔۔۔
لیکن وہ پیار نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔
پورب نے مانو اُس کی سوچ پڑھ کر جواب دیا ہو۔۔۔۔انجو اب بھی لاجواب ہو کر خاموش رہنے پر مجبور تھی۔۔۔اُسے پورب کا اس طرح کہنا برا لگ رہا تھا لیکِن اُسے جواب بھی نہیں سوجھ رہا تھا۔۔۔
یاد ہے تمہیں جب پہلی دفعہ تم اُس سے ملی تھی تب تم نے مجھ سے کیا کہا تھا۔۔۔۔۔
کے وہ تمہیں الگ لگا۔۔۔پوری دنیا میں سب سے الگ۔۔۔۔
وہی اٹریکشن تھا جسے تم نے پیار سمجھ لیا۔۔۔۔۔
پورب بھی آج اپنی خاموشی توڑ کر اُس کی غلط فہمی پوری طرح ختم کرنے کے ارادے میں تھا ۔۔۔۔
حالانکہ وہ اب تک بس اُسے اُس کے حال پر چھوڑے ہوئے تھا ۔۔۔دل کی ہر بات کو دل میں دفن کرنے کے ارادے سے خاموشی اور سرد مہری کا خول چڑھائے ہوئے تھا لیکن جب اُسے محسوس ہوا کہ انجو اُس کی ہر بے رخی کے باوجود اُس سے دور نہیں رہ پاتی۔۔۔اُس سے بات کرنے کو تڑپتی ہے۔۔۔اُداس ہوجاتی ہے۔۔۔
تو اُسے یقین ہو گیا کے اُس کی چاہت ایک طرفہ نہیں ہے۔۔۔۔انجو کے جذبات بھی وہی ہے۔۔۔
ہزار بار خود کو روکنے کے باجود اُس نے انجو کو اُس کی غلط فہمی سے نکالنے کی ایک کوشش کی۔۔۔۔
لیکن اب بھی اپنی محبت کا ذکر کرکے اُسے بے مول نہیں ہونے دیا۔۔۔
پہلے تو مجھے تمہاری بات سچ بھی لگی۔۔۔میں نے ما ن بھی لی۔۔۔یقین بھی کرلیا ۔۔لیکِن پھر محسوس کیا کے تم اُس کے بارے میں کیا باتیں کرتی ہو۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں ایسی ہے پورب۔۔۔
وہ ایسے باتیں کرتا ہے پورب۔۔۔۔اُس کی فیشن سینس بہُت اچھی ہے ۔۔۔۔اُس کی فیملی ریپوٹیشن بہُت ہائے ہے۔۔۔۔
میری فرینڈز مجھ سے جیلس ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اُس کے ساتھ وی وی آئی پی ٹریٹمنٹ ملتا ہے۔۔۔۔۔
دکش کو لے کر بس یہی سب چلتا رہتا ہے تمہارے ذہن میں۔۔۔۔
وہ کیسا انسان ہے۔۔۔۔تمہارے بارے میں کیا سوچتا ہے۔۔۔۔تمہاری کیئر کرتا ہے یا نہیں۔۔۔تمہیں سمجھتا ہے یا نہیں۔۔۔۔ان سب باتوں سے تمہیں کوئی غرض نہیں ہے ۔۔۔۔
کیوں کے تم صرف اُس کی شخصیت سے متاثر ہو۔۔۔۔
یہ اِموشنل اٹیچمنٹ نہیں امپریشنل اٹیچمنٹ ہے
وہ اُس کی پچھلی باتوں کو یاد دلا کر اُسے احساس دلانے کی کوشش کر رہا تھا جن میں دکش کے لیے پسندیدگی تھی۔۔ لیکن چاہت نہیں۔۔۔
بس پورب۔۔۔بہُت ہو گیا….۔۔تم اس طرح میرے اور دکش کے ریلیشن کو لے کر فالتو کمنٹس نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔
ہاں میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں تمہاری ناراضگی سے پریشان ہوں لیکن اگر تمہیں اس طرح کی باتیں کرنی ہے تو بہتر ہے تم بات نا ہی کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
انجو کا دل اُس کی باتوں سے اُلجھ کر پریشان ہونے لگا اور اُس سے برداشت نہیں ہوا تو اُس نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے آنسوؤں کو روک کر بے حد غصے سے بولی۔۔۔لیکن تب بھی اُس لیے آواز میں ضبط اور نمی پورب کو محسوس ہوگئے تو و خاموش رہا۔۔
میری ہی غلطی ہے جو میں نے تم سے سیدھی بات سننے کی اُمید کی۔۔۔
وہ غصے سے کہتی فون بند کرگئی اور فون بیڈ پر پٹخ کر رونے لگی۔۔۔۔
پورب نے افسوس سے فون کو دیکھا لیکن اتنا تو جانتا تھا کے اُس کی باتیں انجو کو کتنی بھی بری لگی ہو لیکن سوچنے پر ضرور مجبور کریں گی۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
اب کیا سوچ رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔
ریا نے کافی کا مگ نیچے کرکے اُسے مشکوک نظروں سے گھورا
یہی کے آج اُس سے کیسے ملوں۔۔۔۔۔
نین نے پرسوچ نظروں سے زمین کو دیکھتے ہوئے کہا تو ریا کے تاثرات بگڑے
اوہ گاڈ ۔۔۔۔نین پلیز بس کردو یار۔۔۔۔ساری رات تمہارا یہ ساحل والا ٹاپک چلتا رہا ۔۔۔نا خود سوئی نا مجھے سونے دیا۔۔۔اب پھر سے وہ سب شروع مت کرو۔۔۔۔
اور تم ملی تھی نا اُس سے کل۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔
تمہارے اِموشن تمہارا رونا۔۔دھمکیاں دینا کچھ کام آیا۔۔۔۔۔کچھ اثر ہوا ۔۔۔۔نہیں ہوا۔۔۔
کیوں کے وہ دکش ہی ہے۔۔۔۔پلیز مان جاؤ نین ۔۔۔۔۔
وہ غصے اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں بولی ۔۔۔کیوں کے دکش سے مل کر واپس آنے کے بعد سے دیر رات تک نین کا کبھی غصّہ کبھی اُداسی کبھی دھمکیاں مسلسل جاری تھے۔۔۔۔
تمہیں میں اتنی جلدی ہار ماننے والی لگتی ہوں۔۔۔اگر اثر نہیں ہوا تو ہوجائے گا۔۔۔۔ رہی بات میرے آنسوؤں اور میرے اِموشنز کی تو دیکھنا سود سمیت حساب لوں گی اُس ایل ایل کمینے سے۔۔۔
نین نے بے نیازی سے جواب دیا تو ریا بیچارگی سے آه بھر کر رہ گئی۔۔۔
چلو اُس کے گھر چلتے ہے۔۔۔
نین نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کافی کا مگ رکھ کر اُس کی طرح دیکھا تو ریا کی آنکھیں کھلی۔۔۔
بب۔۔بلکل نہیں ۔۔۔۔آج گھر میں پوجا ہے۔۔۔۔ میرے انلاوز آنے والے ہے ۔۔۔۔نا میں کہیں جا سکتی ہوں نہ تمہیں جانے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے گھور کر وارن کرنے والے انداز میں کہا
۔۔۔۔۔میری محبت کی بوٹ کو طوفانی بھنور میں چکر کھانے چھوڑ کر اپنے انلاز کی خاطر کرنے کی پڑی ہے تم کو۔۔۔۔
نین اُس کے انکار پر جزباتی لہجے میں بولی اور ان دیکھے آنسو صاف کیے
نہایت ہی بکواس ہیومر ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔
چلو کچن میں میری ہیلپ کرواؤ۔۔۔۔۔بلکہ آج کا کھانا تم بناؤ۔۔۔
ریا نے اُس کی ایکٹنگ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر صوفے سے اٹھایا
کھانا تو میں بنا دوں گی لیکن اُسے کھانے کے بعد تمہارے سسرالی بارات لے کر نہیں آئیں گے۔۔۔۔
نین نے سیریس انداز میں اُسے باور کروایا تو ریا کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
اسی وقت نین کا فون بجا اور اپنی ممی کی کال دیکھ وہ مسکرائی۔۔۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں ممی۔۔۔ریا کے گھر اتنا مزا آرہا ہے کے کیا بتاؤں۔۔۔۔۔۔میرا تو دل کر رہا ہے آپ سب کو بھی یہاں دہلی بلا لوں۔۔۔۔۔۔شادی کے فنکشن اور زیادہ ونڈرفل ہوجاۓ گے۔۔
زینب کی جانب سے حال پوچھے جانے پر بس ایک لمحے کو اُس کی آنکھیں اُداس ہوئی تھی لیکن اگلے گی پل وہ خود کو سنبھال کر پورے جوش میں زینب سے بات کرنے لگی اور ریا تاسف سے اُسے دیکھتی باہر نکل گئی۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
وہ کنسینائنمنٹ وقت پر پہنچ گیا نا۔۔۔۔۔۔
مسٹر سنگھ نے بنا پڑھے ایک کے بعد ایک تمام پیپرز پر سائن کرکے فائل دکش کی طرف بڑھاتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔صوفے کے نزدیک ہاتھ باندھے کھڑا اُن کا سیکریٹری افسوس سے اُنہیں دیکھتا رہ گیا
پہنچ بھی گیا اور پیمنٹ پراسیس بھی کمپلیٹ ہوگیا۔۔۔۔۔
آۓ ٹولڈ یو نا انکل جب تک آپ پراپر ٹھیک نہیں ہوجاتے آپ کو چنتا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں سب کچھ مینیج کر لوں گا۔۔۔۔
اُس نے فائل پکڑ کر اُس پر نظریں دوڑاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو سنگھ صاحب مسکرائے۔۔۔۔
مجھے یہی اُمید تھی۔۔۔۔۔۔
اُس کا بازو تھپتھپاتے ہوئے فخر سے کہا ۔۔۔۔تین دِن پہلے ایک اہم میٹنگ میں جاتے وقت اُن پر جانلیواحملا ہوا تھا۔۔۔تب اتفاق سے دکش اُن کے ساتھ تھا اور اس نے اپنی سوجھ بوجھ سے اُس حملے کو ناکام بنا کر سنگھ صاحب کی جان کی حفاظت کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک گولی محض اُن کے پیر کو چھو کر گزری تھی جس کی وجہ سے وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر تھے۔۔۔حالانکہ زخمی وہ خود بھی تھا لیکِن اُس کے باوجود اُن کی غیرموجودگی میں اُن کا کام سنبھالنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔۔۔۔
ویسے تو پہلے ہی وہ اُن کا یقین جیت چکا تھا لیکِن اس واقعے کے بعد سنگھ صاحب کی نظر میں اُس کی ویلیو اور بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔وہ آنکھیں موند کر اُس پر بھروسہ کرسکتے تھے۔۔اور اُن کی دکش کے لیے اتنی ویلیو اُن کے خاص سیکریٹری کو بری طرح چبھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جن دروازوں تو پہنچنے کی اجازت اب تک صرف اُسے تھی اب دکش کو بھی حاصل ہوگئی تھی۔۔۔۔
کام تو مینیج ہوجائے گا سر۔۔۔۔لیکِن گروپ میٹنگ زیادہ دِن پوسپون کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔۔۔۔آپ جانتے ہے چیئر مین کی کرسی زیادہ دِن خالی ہو تو میمبرز کا ایمان بگڑتے دیر نہیں لگتی۔۔۔اور ایسے میں جب ورانش سر بھی یہاں موجود نہیں ہے آپ کو سنبھل کر ہوشیاری سے رہنا پڑےگا۔۔
اُس نے سنگھ صاحب کا دھیان اپنی خُفیہ آرگنائزیشن گروپ کی طرف دلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔جس کے وه چیئر مین تھے۔۔۔۔جہاں سے اُن کا الیگل بزنس غیر ملکوں تک پروان چڑھتا تھا۔۔۔اور جس نے ملکی اور غیر ملکی بڑی بڑی ہستیاں شامل تھیں۔۔۔جس کی اہم میٹنگ میں جاتے وقت اُن پر حملا ہوا تھا۔۔۔۔اور میٹنگ کو ٹال دیا گیا تھا
اُس کی بات پر سنگھ صاحب متوجہ ہوئے لیکِن اُمید کے بر خلاف دکش نے کوئی انٹریسٹ نہیں لیا۔۔۔۔
اس کا بھی حل نکال لیا ہے میں نے مشرا۔۔۔۔۔کیا ہوا اگر میرا ایک بیٹا یہاں موجود نہیں ہے۔۔۔میرا دوسرا بیٹا تو یہیں ہے۔۔۔میں نے فیصلہ کیا ہے کے ویر کے واپس آنے تک دکش گروپ کا چیئرمین ہوگا۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب جو دل میں سوچے بیٹھے تھے سیکریٹری کی بات سے اُنہیں وہ کہنے کا موقع مل گیا۔۔۔۔اُنہوں نے اپنائیت سے دکش کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا جب کے سیکریٹری ہونق رہ گیا ۔کیوں کے یہ چھوٹی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔
لیکن سر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔ کسی باہر والے کو چیئرمین نہیں بنا سکتے ۔۔۔۔گروپ رولز کے خلاف گئے تو میمبرز باغی ہو جائیں گے۔۔۔۔۔
وہ اپنی ناگواری چھپا کر سنجیدگی سے بولا کے اُس کی سالوں کی محنت کے بعد اُس کی بجاۓ یہ موقع دکش کو کیسے مل سکتا تھا۔۔۔۔۔aargnai
باہر والے کو نہیں بنا سکتا لیکن اپنے داماد کو تو اپنی جگہ دے سکتا ہوں نا۔۔ ۔۔۔تب تو کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔۔۔۔
سنگھ۔ صاحب نے اُس کی بات کا جواب دے کر اُسے ایک اور شاک دیا جب کے دکش کے تاثرات بلکل نارمل تھے جیسے نا وہ حیرت زدہ نا بہُت زیادہ خوش۔۔۔۔محض راضی
دکش بیٹے۔۔۔۔تمہارے ڈیڈ اور میرے بیچ اچھی دوستی بھی تھی اور ہم بزنس پارٹنر بھی تھے۔۔۔۔لیکن تمہارے ساتھ میں اپنے تعلقات صرف بزنس تک نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم اور انجو بھی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو۔۔۔اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کے جلد سے جلد تم دونوں کی شادی کردوں اور اپنی تمام ذمےداریاں تمہیں سونپ کر خود ریلیکس ہوجاؤں۔۔۔۔۔
وہ دکش سے مخاطب ہو کر بولے تو وہ سنجیدگی سے اُنہیں سننے لگا۔۔۔
تھینکس انکل۔۔۔۔
آپ نے مجھے اپنا سمجھا۔۔۔
مجھ پر اتنا ٹرسٹ کیا۔۔
مجھے انجو کے قابل سمجھا۔۔۔
تھینکس فور دس آنر۔۔۔۔
اور اُن کی بات کے اختتام پر مدھم سا مسکرا کی بولا۔۔۔۔۔
تو اگر تمہاری اجازت ہو تو پنڈت جی سے کہہ کر شادی کے لیے کوئی نزدیک کا محورت نکلوالیں۔۔۔۔
سنگھ صاحب نے خوش ہو کر پوچھنے لگے۔۔۔
ڈیڈ ہوتے تو وہ میری لائف کے ڈسیجنس لیتے ۔۔۔ ۔اب تو آپ ہی اُن کی جگہ ہے۔۔اسلئے جو اور جیسا آپ چاہے۔۔
مائے پلیجر۔۔۔
وہ اُنہیں بڑھاوا دے کر اُن کی خوشی دوبالا کرتا اجازت لے کر وہاں سے چلا گیا جب کے سنگھ صاحب کے لبوں پر دیر تک گہری مسکراہٹ تھی۔۔۔
اپنے لیے اپنے بزنس میں کروڑوں کا فائدہ۔۔۔۔۔
آرگنائزیشن میں اپنی دوگنی دھاک۔۔
اور انجو کے لیے خاندانی
جائیداد کا اکلوتا مالک ، ذہین ،خوش مزاج اور قابل انسان۔۔
اُنہیں مستقبل صاف نظر آرہا تھا۔۔۔
وہ چاہتے تو تھے کے ویر سے بھی صلح مشورہ کریں لیکن فلھال اُس سے رابطہ کرنا اُن کے اور ویر دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔
سر آپ کو نہیں لگتا آپ حد سے زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں اس لڑکے پر۔۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد مشرا نے اندر ہی اندر کڑھتے ہوئے نارمل لہجے میں کہا تو سنگھ صاحب نے اُسے دیکھا
مطلب بزنس ڈیلز تک ٹھیک ہے لیکن گروپ کی چیئرمین شپ اور انجو میڈم سے شادی۔۔۔۔اتنی جلد بازی میں بغیر ویرنش سر سے صلاح کیے ۔۔۔۔ اتنا بڑا فیصلہ کیا صحیح ہوگا۔۔۔۔
وہ اپنی تلخئ چھپا کر رسانیت سے بولا۔۔
میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں مشرا۔۔۔۔لیکن میں نے بہت سوچ سمجھ کر اور اُسے ہر کسوٹی پر پرکھ کر یہ فیصلہ لیا ہے۔۔۔۔۔ اُس کے آنے سے ہمارے بزنس میں بھی ترقی ہوئی ہے۔۔۔۔اور میرے پولیٹیکل امیج میں بھی کافی سدھار آیا ہے۔۔۔ یہ سب دیکھ کر مجھے یقین ہے کے آگے بھی اُس کے ہونے سے کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔۔۔۔۔۔
دوسری بات کے گروپ کے کئیں دھوکے باز ممبرز ویر کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ایسے میں اگر میں دکش کو چیئرمین بنا دوں تو وہ سر اٹھانا چھوڑ دیں گے۔۔۔۔۔
اور اُسے چیئر مین بنانے کے لیے اُس سے رشتا جوڑنا ضروری ہے ۔۔۔۔
پھر میری بیٹی اُسے پسند بھی کرتی ہے ۔۔۔۔اُس کے ساتھ خوش رہےگی مجھے اور کیا چاہیے۔۔مجھے یقین ہے ویر بھی میرے اس فیصلے سے سہمت ہوگا۔۔
سنگھ صاحب کے تفصیل سے فائدے اور نقصان گنوانے کے بعد اور اُنہیں اپنے فیصلے پر اٹل دیکھ مشرا خاموش رہ گیا لیکن اُسے دکش پر پہلے دن کی طرح آج بھی شک تھا کے وہ کسی مفاد سے اُن کے ساتھ جڑا ہے۔۔