Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
Sanaya_Khan
Episode 32
صبح بخیر۔۔۔۔۔۔میری زندگی کی رونق۔۔۔۔۔
اُس نے بھیگے گلاب سے اُس کے نرم گالوں کو چھوتے ہوئے میٹھی سی سرگوشی کی ۔۔۔۔۔فلک نے اُس کی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرکے فوراََ آنکھیں کھولیں اور گھبرا کے اٹھ بیٹھی
کتنا حسین لگ رہا ہے یہ کمرہ آج۔۔۔۔۔۔تمہارے ہونے سے
وہ مسکرا کر گلاب اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا فلک نے نظریں جھکائے جھجھکتے ہوئے گلاب تھام لیا
دوپٹہ اُس کے بالوں سے سرک کر نیچے ہو گیا تھا۔۔۔چھوٹے چھوٹے بال چہرے پر آکر گالوں کو چھو رہے تھے۔۔۔
صبح صبح اس سے حسین منظر داؤد کے لیے کوئی نہیں ہو سکتا تھا
جب کوئی گلاب دیتا ہے تو بدلے میں اُسے بھی کچھ دیا جاتا ہے
وہ اُس کی گھنی پلکوں کو دیکھتے ہوئے بولا فلک نے نظریں اٹھا کے اُسے دیکھا
ایک پیاری سی مسکراہٹ۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوۓ بولا لیکِن فلک یونہی بیٹھی رہی اُس کی فرمائش پر ذرا بھی غور نہیں کیا پوری کرنا تو بہُت دور کی بات
جب سے داؤد اُس سے ملا تھا ہنستے تو کیا اُسے کبھی مسکراتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔لیکِن اُس کا دل کہتا تھا کے وہ مسکراتے ہوئے اور زیادہ خوبصورت لگتی ہوگی ۔۔اور داؤد کا دل وہ حسین منظر دیکھنے کا شدت سے خواہش مند تھا ۔۔۔۔
بڑی بے رحم لڑکی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے مسکراتے ہوئے بولا اور وہاں سے اٹھ گیا
تیار ہو جاؤ نیچے جانا ہے۔۔۔۔۔تمہیں تمہارے سسرال سے انٹر ڈیوس کروانا ہے نہ
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور کپڑے نکال کر اُس کی طرف بڑھائے وہ حیران ہوئی کیوں کے و کپڑے اُس کے نہیں تھے۔۔شاید نئے تھے جو اُس نے کب اور کہاں خریدے فلک کو اندازا بھی نہیں تھا لیکِن اُس کوئی سوال نہیں کیا اور خاموشی سے کپڑے لے کے واشروم میں چلی گئی۔۔۔
وہ فلک کے جانے کے بعد شیشے میں دیکھتا اپنے بالوں میں برش کرنے لگا تب دروازے پر دستک ہوئی
Good morning mr daud the super cop۔۔۔۔۔
نین نے ہنستے مسکراتے چہرے سے پورے جوش میں اُسے وش کیا تو وہ مسکرا دیا
Good morning nain ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بھی خوشدلی سے جواب دیا
جب سے ہم یہاں آئے ہیں آپ آل ٹائم غائب رہتے ہے۔۔۔۔یہاں تک کے ہم دو دن بعد واپس جا رہے ہیں اور آپ کا اب بھی کوئی پتہ نہیں ۔۔۔ یہ کوئی نئی ٹرک ہے مہمان جلدی بھگانے کی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے لہجے میں کوئی ناراضگی یہ طنز نہیں بلکہ ہلکا پھلکا سا لہجہ تھا
باہر کیوں کھڑی ہو اندر آؤ نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اچانک سنجیدہ ہو کر بولا اُسے بہُت برا لگ رہا تھا
یہ سوچ کر کہ نین کو کیسا لگے اُس کے فلک کے نکاح کے مطلق جان کر۔۔۔۔۔وہ اتنی پیاری ہمیشہ ہنستی ہوئی لڑکی کے چہرے پر دکھ نہیں دیکھنا چاہتا تھا
شادی کے پہلے لڑکی کا لڑکے کے کمرے میں آنا الاود ہے
وہ آس پاس نظر ڈالتی آہستہ آواز اور رازدارانہ انداز میں پوچھنے لگی وہ ہنس دیا
Come on yaar come in
مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولا تو وہ بھی ہنس دی دونوں اندر جاتے اُس کے پہلے ہی عشرت کی پکار پر نین رک گئی
نین ۔۔۔۔۔۔۔تم یہاں ہو اور میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی۔۔۔۔۔۔۔
عشرت ہانپتی ہوئی بولی
لیکن بھابھی میں تو گھر میں ہی ہوں۔۔۔۔۔
اُس نے سیانے پن سے جواب دیا
جلدی چلو ناشتا کرنے وہاں بڑی ماں نے ہمیں بھی سولی پر لٹکایا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔تمہیں کیا پتہ گرما گرم پراٹھے دیکھنے کے بعد اپنی بھوک کو کنٹرول کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔چلو بھی
وہ نین کا ہاتھ پکڑے اُسے کھینچتی ہوئی بیچارگی سے بول رہی تھی
اففو بھابھی۔۔۔۔مجھے داؤد کو ڈھنگ سے مارننگ وش تو کرنے دو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی
بھابھی مجھے نین سے بات کرنی ہے۔۔۔۔پلیز
داؤد نے بھی عشرت کو دیکھ کر کہا تو وہ دونوں کو دیکھ کر معنی خیزی سے مسکرا کر اوو کرنے لگی
دیور جی میں ناشتے کے بعد پورے دن کے لیے اسے یہاں بھیج دوں گی آپ کو جتنی باتیں کرنی ہے کرتے رہیے گا لیکن ابھی نہیں کیوں کے صبح صبح میں بڑی ماں کی اُس سے زیادہ ڈانٹ افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
وہ اُسے نو کا سگنل دے کر نین کا ہاتھ پکڑے وہاں سے لے گئی ۔۔۔نین نے داؤد کو دیکھتے ہوئے رونی صورت بنا کر مصنوعی آنسو صاف کیے تو وہ ہنسی روک نہیں پایا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ناشتے کی ٹیبل پر سب بیٹھے اسی موضوع پربحث کر رہے تھے۔۔۔۔۔زینب نے وقار صاحب سے بات کی تو اُنہوں نے بھی پہلے حیرت ظاہر کی پھر اپنی رضا مندی دے دی۔۔۔۔آخر کو اس میں کوئی برائی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
سب کی صلح صحمتی سے ایک ہفتے بعد کی تاریخ طے کردی گئی تھی
اور نین سے پوچھنے کی تو ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔۔۔
کیوں کے بقول زینب کے و تو شادی کے لیے اتنی اتاولی تھی جیتنے آجکل کے لڑکے بھی نہیں ہوتے
اپنی شادی کا سن کر وہ شرمانے کی بجائے خوشی سے مسکرا رہتی
اب بھی وہ ٹیبل پر بیٹھی اُن سب کی باتوں میں حصہ لینے کی پوری کوشش کر رہی تھی کے شادی کونسی تاریخ میں ہونی ۔۔کونسی جگہ ہونی ہے۔۔۔۔۔۔کھانا کیا بننا ہے
زینب اُسے آنکھیں دکھا دکھا کر چپ کرنے کی کوشش میں اپنی آنکھوں پر ظلم کر چکی تھی لیکن اُس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔بلکہ اُس کی فرمائشوں کو سن ھ کر تو عشرت اور شیرین بھی منہ پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھ رہی تھیں
بس عبّاس صاحب رابعہ بیگم اور نانو ہی اُس کی باتوں کو مسکرا کے انجوئے کر رہے تھے۔۔۔راہب اور ذارب بھی ہنس کے اُس کا ساتھ دے رہے تھے۔۔۔۔
وہ اپنی شادی کے لیئے سچ میں بہُت اُتاولی ہو رہی تھی
ساحل گھر کے اندر آیا تو سب اُنہیں باتوں میں مشغول تھے۔۔۔
مٹھائی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مٹھائی کا ڈبہ عبّاس صاحب کے سامنے رکھا تو وہ پلٹ کے اُسے دیکھنے لگے
وہ آپ بولتے تھے نا کام سے لگو۔۔۔۔۔۔کام سے لگو۔۔۔تو اب اپن کی نوکری لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔کالج میں
وہ پیچھے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔عبّاس صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل گیا دادی بھی مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔باقی سب کے چہرے بیزار ہو گئے
کیا سچ میں۔ ۔۔۔۔۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کے پاس کھڑے ہوئے مسرت سے بولی
میں بہُت خوش ہوں۔۔۔۔کم سے کم تم نے میری کوئی بات تو مانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے کیا جاب ہے۔
۔اُنہوں نے مسکرا کر کہتے ہوۓ اُس کا کندھا تھپتھپا یا۔۔۔۔نین بھی تجسس سے اُسے دیکھنے لگی جب کے ربیعہ بیگم ناگواری سے منہ پھیرے بیٹھی تھیں
بس سمجھ لو کالج کی پوری ذمےداری اپن کے ہی اوپر ہے۔۔۔۔اوپر سے لے کر نیچے تک سارے کام اپن کو ہی دیکھنے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کالر جھاڑتے ہوئے بولا عبّاس صاحب اور خوش ہوئے مٹھائی کا پورا پیس اُس کے منہ میں ڈالا۔۔۔نین نے بھی داد دینے والے انداز میں اُسے دیکھا
ایسی کونسی پوسٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے ایک مٹھائی اپنے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔
چپراسی کی۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہایت آرام سے بولا اور عباس صاحب کو جو جھٹکا لگا اُس کی بدولت مٹھائی حلق سے اتر کر گلے میں پھنس گئی۔۔۔۔۔۔
اُس نے زبان دانتوں میں دبائی۔۔۔۔۔
شیرین نے جلدی سے آگے بڑھ کر اُنہیں پانی کا گلاس تھمایا
نین کی حیرت مسکراہٹ میں بدل گئی اُس نے مشکل سے ہنسی روکی
۔۔۔۔۔۔۔تم کالج کے چپراسی کی نوکری کروگے۔۔۔یہ کام ڈھونڈا ہے تم نے اپنے لیے۔۔۔۔کچھ اور نہیں ملا تمہیں
وہ سنبھل کر غصے سے بولے
آپ ہی تو بولتے ہو نہ کے کوئی کام بڑا چھوٹا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔اور آپکو بھی تو اپن کو کالج بھیجنے کا بہُت شوق تھا
اُس نے سر جھکائے عبّاس صاحب کی گولی اُنہیں کو پلانی چاہی
مجھے تمہیں وہاں پڑھنے بھیجنا تھا۔۔۔۔۔۔۔کلاس کا گھنٹا بجانے کے لیے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے ایک بار پوچھ تو لیتے۔۔۔۔۔
اپنی کمپنی چھوڑ کر کوئی کام کرنا بھی چاہتے ہو تو وہ یہ۔۔۔چپراسی کی نوکری۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بھڑک اٹھے اُس نے منہ چھپانے کی کوشش کی لیکن کوئی جگہ نہیں ملی
بڑے پاپا ہماری کمپنی میں اسٹاف کو تمیز سے بات کرنی ہوتی ہے نا اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔اگر یہ وہاں آگیا تو سارے ورکر کام چھوڑ کر اس کی بھاشا ٹرانسلیٹ کرنے میں لگ جائیں گے
راہب اُس کا مزاق اڑا تے ہوئے بولا اُس نے ابرو اٹھا کر اُسے دیکھا جب کے وہ عبّاس صاحب کے گھورنے سے پہلے ہی چپ کر چکا تھا۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے دوبارہ سے اُسے دیکھا تو وہ جھٹکے سے سیدھا ہو کر فوراََ دادی کی طرف بڑھا کیوں کے فلحال سب کے سامنے اور بے عزتی نہیں کروانی تھی
دادی۔۔۔۔۔آج اپن کا پہلا دن ہے۔۔۔۔دعا کرنا کے ترقی ہو جائے۔۔۔۔
وہ اُن کے پاس آکر کرسی کے قریب گھٹنا ٹکائے بیٹھتا ہوا بولا تو اُنہوں نے محبت سے دیکھتے ہوئے اُس کے سر میں ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔وہ اُن کا ہاتھ لبوں سے لگا کر وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
اچھا بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا شادی کا لہنگا نا۔۔۔۔۔وہائٹ اور ریڈ ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔وہ بھی ایکدم یونق ڈیزائن کا۔۔۔۔۔۔
ساحل کے جاتے ہی اُس نے سب کی توجہ پھر اپنی شادی پر دلائی تو سب مسکرانے لگے۔ زینب نے اپنا سر تھام لیا۔۔۔
Good morning۔۔۔۔۔۔۔۔
داود نے فلک کے ساتھ وہاں آکر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا رابعہ بیگم نے اُس کے ساتھ فلک کو دیکھ کر ناگواری سے دانت پیسے
۔۔
داؤد تم کب آئے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا وہ اُن کی طرف بڑھا
رات کو آگیا تھا دادی تب آپ سو رہیں تھیں
وہ اُن کے کندھے پر چہرہ رکھتے ہوئے مسکرا کر لاڈ سے بولا
اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے سر جھکائے جھجھکتے ہوئے سب کو سلام کیا رابعہ بیگم کے علاوہ سب نے جواب تو دیا لیکن آنکھوں میں حیرت لیے اُسے دیکھ۔ رہےتھے
وعلیکم السلام بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد یہ بچی کون ہے۔۔۔۔۔۔
دادی نے مسکرا کر اُسے دیکھتے ہوئے داؤد سے پوچھا وہ سیدھا ہو کر سب کو دیکھنے لگا
دادی وہ۔۔۔۔۔۔ میں آپ سب کو یہی بتانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔یہ فلک ہے۔۔۔۔یہ
۔یہ ہماری نئی میڈ ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بات مکمل ہونے اس پہلے ہی رابعہ بیگم گڑبڑی سے بولیں۔۔۔۔۔۔۔داؤد نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔۔۔۔۔فلک کو سمجھ تو نہیں آیا لیکِن اُس کا دل مسلسل گھبرا رہا تھا۔۔۔
گھر میں اتنا کام بڑھ گیا ہے نا۔۔۔۔۔۔چندا بھی سب الٹا سیدھا کرنے لگی ہے آجکل اور ان دونوں کا دھیان تو ہمیشہ بس تیار ہونے میں رہتا ہے۔۔۔
رابعہ بیگم مشکل مسکراتی ہوئی بول رہی تھی۔۔۔۔داؤد حیرت و تاسف سے اُنہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جب کے اپنے ذکر پر عشرت اور شیرین کے منہ کھل گئے تھے
اتنا کام کروا کے بھی اُن پر یہ الزام لگا تھا
اس لیے میں نے داؤد سے کہا تھا کہ وہ کسی اچھی سی میڈ کا انتظام کردے۔۔۔۔ ۔
ویسے بھی اب جب ہم نے نین اور داؤد کی شادی کی تاریخ طے کردی ہے تو دوگنا کام بڑھنے والا۔ہے گھر میں
اُنہوں نے داؤد کی جانب دیکھ کر جتاتے ہوئے کہا۔۔۔۔وہ آسودگی سے مسکرا دیا۔۔۔
فلک کے دل کو اُن کی بات سے کچھ ہوا ۔۔۔اُس نے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کی
بیٹھو بیٹا ہم سب کے ساتھ ناشتا کرو۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے فلک کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔۔۔اُس نے داؤد کی طرف دیکھا تو اُس نے سر ہلا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
وہ دادی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی اور اُس کے بیٹھتے ہی رابعہ بیگم اُسے نفرت سے دیکھتی اٹھ گئیں
مام آپ نے جھوٹ کیوں بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نین اور میری شادی کا کیا ڈراما ہے
رابعہ بیگم اٹھ کر جانے لگیں تو وہ اُن کے پیچھے آیا اور ان کا راستہ روکتا ہوا بولا
میں نے جو کیا صحیح کیا اور خبردار جو تم نے کسی سے کہا کہ وہ لڑکی تمہاری بیوی ہے۔۔۔۔۔۔تم اپنی ماں کا مرا ہوا منہ دیکھو گے داؤد۔۔۔۔۔۔
تمہاری شادی نین سے ہوگی اور وہ بھی آنے والی دو تاریخ کو۔۔
اُنہوں نے غصے سے کہتے ہوئے اُسے دھمکی دی کیوں کے اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔۔۔ایک بار نین سے داؤد کی شادی ہو جاتی تو فلک کو وہ خود چھوڑ دیتا
ٹھیک ہے مام میں چپ رہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹا ہوں آپکا اپنی ماں کے جھوٹ کا مان رکھنے کے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں
وہ ایک گہری سانس لیتے ہوئے بولا
لیکن یاد رکھیے گا۔۔۔۔۔نا نین سے میری شادی ہونا ممکن ہے نہ فلک کا مجھ سے الگ کیا جانا ممکن ہے ۔۔۔۔
آپ نے یہ جو جھوٹ بول کر بات بگاڑی ہے نہ اب اسے سنبھالے گی بھی آپ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں انتظار کروں گا کے آپ خود ہی اس معاملے کو سمیٹ لیں۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے بہُت دیر ہو جائے
وہ اُنہیں جتاتا ہوا وہاں سے چلا گیا فلک کے پاس۔۔۔رابعہ بیگم نے دکھ سے اُسے دیکھا
∆∆∆∆∆∆∆¶¶
اب ایک ریس میرے اور جیا کے بیچ۔۔۔۔۔۔۔
دشاء نے تھکی تھکی سی سانس لیتے ہوئے۔۔۔
وہ لوگ اس وقت اپنی سکیٹنگ پریکٹس کے ساتھ ایک دوسرے سے مقابلے میں بھی ہاتھ آزما رہی تھی
بلکل نہیں اب میں بہُت بور ہو چکی ہوں اور مجھے گھر جانا ہے۔۔۔
جیا سر نفی میں ہلاتی آستین سے چہرے پر پسینے کی نمی صاف کرنے لگی
کم آن یار جیا ایسے بھاگو تو مت۔۔۔۔۔۔آئے نو مجھ سے کوئی نہیں جیت سکتا لیکن انسان کو ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔۔۔۔۔
ديشا نے ہنسی اڑاتے لہجے میں کہا تو باقی تینوں بھی ہنسنے لگی
اوہ پلیز۔۔۔۔ڈونٹ بی سو اسمارٹ۔۔۔۔۔۔۔تم اچھی طرح جانتی ہو کے اس گیم میں مجھے کوئی نہیں ہرا سکتا۔۔۔
وہ ہنستی ہوئی بولی
ہو جائے پھر ایک گیم۔۔۔۔۔۔۔۔
دشا نے ابرو اٹھاتے ہوئے کہا
جیتنے پر کیا ملے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کندھے اچھا کر بولی
جو تم کہو۔۔۔۔۔۔۔اور ہارنے پر۔۔۔۔۔دشا نے مسکرا کر اُسے دیکھا
جو تم چاہو۔۔۔۔۔۔۔
جیا بھی اُسی کے انداز میں بولی اور اپنے اسکیٹنگ شوز پہننے لگی
وہ چاروں ایک دُوسرے کو دیکھ کر معنی خیزی سے مسکرانے لگی
اُن میں سے ایک نے جیا کے سکیٹنگ شو کا ایک سکرو ڈھیلا کر دیا تھا کیوں کہ اُسے ہرانا اُن کے لیے بے حد ضروری تھا۔ریس میں وہ دشا سے آگے آگے تھی لیکن اچانک ہی سکیٹنگ کا ایک وہیل نکل کر الگ ہو گیا تو وہ ڈگمگا کر بری طرح گر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ اور گھٹنے بری طرح زخمی ہو گئے وہ رونے لگی سب جلدی سے اُس کے۔پاس آئیں اور اُسے سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھوں پیروں پر بینڈیج کرنے کے بعد اُسے شرط یاد دلائی ۔۔۔
اوکے بتاؤ کیا کرنا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولی
میرے گھر چل کے بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
دشا نے باقی سب کو اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔جیا کو اُن کے چہرے دیکھ کر کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔وہ آه کرتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی اور سنبھل کر آگے بڑھنے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
