Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 63
No Download Link
Rate this Novel
Episode 63
Episode 63
وہ دونوں ہارن کی آواز سن کر گھر سے باہر نکلے تو دیکھا داؤد سڑک پر اپنی کار پارک کیے اندر آرہا تھا۔۔۔
چہرے سے ہی صاف نظر آرہا تھا کے وہ سخت غصے میں ہے۔۔بڑی مشکل سے وہ اُن دونوں کی موبائل لوکیشن کے سہارے اُن تک پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔
ساحل کے پاس آتے ہی اُس نے غصے سے اُس کی ویسٹ پکڑ کر کھینچی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی گھر چھوڑنے کی۔۔۔۔کس سے پوچھ کر آئے تم یہاں۔۔۔۔۔۔
وہ شدید غصے میں قہر برساتی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔نین ماتھے پر بل لیے اُسے دیکھ رہی تھی
تو شانتی سے بات سن میری۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سکون سے سمجھانے والے انداز میں کہا
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے میری بات کا جواب دو۔۔۔گھر چھوڑنے کا سوچا کیسے تم نے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا سکون دیکھ کر مزید جھلا گیا۔۔۔۔
سٹاپ اٹ داؤد۔۔۔۔۔۔
ساحل کو تو اثر نہیں ہوا لیکن نین کو ہرگز اُس کا غصّہ کرنا اچھا نہیں لگا۔۔اُس کے ہاتھ ساحل سے دور کرتے ہوئے بولی
ساحل نے گھر نہیں چھوڑا۔۔۔بڑی مامی نے اُسے نکالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہ ایسا چاہتیں تھیں
اُس نے داؤد کے اپنی جانب دیکھنے پر جتانے والے انداز میں کہا
اور اس نے جانے سے پہلے میرا نہیں سوچا کے میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا ساحل کی جانب دیکھنے لگا جو لب بھینچے کھڑا تھا
جانتا ہوں مام غلط ہے اُنہوں نے اپنی باتوں سے ہمیشہ تمہیں ہرٹ کیا ہے لیکن تم نے میرا نہیں سوچا دادی کا ڈیڈ کا ہم میں سے کسی کا نہیں سوچا
اگر اُن کی بات بری بھی لگی تو اگنور کر سکتے تھے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بیٹھ کر بات کر سکتے تھے۔۔۔مام کو سمجھا سکتے تھے۔۔۔۔۔
داؤد نے براہ راست ساحل کو دیکھتے ہوئے دکھ وہ افسوس سے کہا اُس نے لاپرواہی سے نظروں کا زاویہ بدل کر گہری سانس خارج کی
اور تم نین۔۔۔۔اسے روکنے کی بجائے تم بھی اس کے ساتھ چلی آئی۔۔آۓ کانٹ بلیو دس
اُس نے نین کی طرف دیکھ کر شکایتی انداز میں کہا۔۔۔لیکِن وہ اُس کے شکائت کرنے پر شرمندہ نہیں ہوئی بلکہ دل کیا کہہ دے تمہاری ماں کے بے عزت کرنے کے بعد اُسے وہاں رہنے کا کس منہ سے کہتی
پر وہ چُپ رہی کیوں کے داؤد کو اُس کی ماں کی وجہ سے مزید شرمندہ کرنا اُسے صحیح نہیں لگا
ابھی کے ابھی واپس چلو تم دونو۔۔۔۔۔ایک پل اس جگہ نہیں رکنے دوں گا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داود نے دونوں کو خاموش دیکھ کر اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔۔۔ نین نے ساحل کی جانب دیکھا جو ہمیشہ کی طرح اب بھی اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی بجائے خاموش کھڑا تھا۔۔۔
داؤد کی بات پر اُسے دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا داؤد کو کچھ سکون ملا
ٹھیک ہے چل۔۔۔۔۔۔۔۔چل واپس۔۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا گھر میں دو چار تماشے اور ہوں گے۔۔۔۔عباس شیرازی کے گھر کی آوازیں باہر جائیں گی۔۔۔لوگ سنیں گے باتیں کریں گے۔۔۔اور کیا ہوگا
وہ اگلے ہی پل سنجیدگی سے کہتا اُسے پریشان کر گیا
تیری ماں تُجھ سے اور تیرے باپ سے زوروں سے لڑے گی۔۔۔۔۔تم دونوں میرے واسطے اُن سے بحث پر بحث کروگے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ غصے میں شاید گھر چھوڑ کر چلی جائیگی۔۔۔۔گھر کا ماحول ماتم جیسا ہو جائیگا۔۔۔۔دادی ٹینشن میں بیمار پڑ جائے گی۔۔۔۔اور میں وہیں رہوں گا کونے میں کھڑا ہو کر سوچوں گا سالہ میں پیدا ہی كایکو ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نارمل انداز میں کہتے ہوئے آخری جملے پر دانت سختی سے بھینچے۔داؤد اُسے بے بسی سے دیکھتا رہ گیا آخر کو اُس کی باتیں کچھ غلط بھی نہیں تھیں۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کرکے پیشانی کو اُنگلیوں سے دبایا اور پھر آنکھیں کھول کر داؤد کو دیکھا
دیکھ تیرے ساتھ ہونے کے واسطےاُس گھر میں ہونا ضروری نہیں ہے میرا۔۔۔۔۔تو خود کو میری جگہ رکھ کر سوچ یار میرے کو کیسا لگتا ہوگا
اپنی وجہ سے تم لوگوں کو آپس میں لڑتا دیکھ میرے کو بہُت شرم آتی ہے۔۔۔۔۔
میرے کو دور رہنے دے اُس گھر سے وہاں میری ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ بے بسی و پریشانی سے بولا۔۔۔
یہ سب غصّہ نفرت صرف اسلئے ہے کیوں کے مام کچھ نہیں جانتی تمہارے بارے میں۔۔۔۔۔
میں ابھی جا کر اُنہیں بتا دوں کے تم نے میرے بدلے کی زندگی جی ہے میرے حصے کی سزا کاٹی ہے ۔۔قتل تم سے نہیں مجھ سے ہوا تھا تو وہ تم سے نظریں نہیں ملا پائیں گیں نفرت تو دور۔۔۔
یار تو منہ بند رکھ نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کو روانی سے بولتے دیکھ وہ ایکدم سے آگے بڑھ کر اُسے گھورتے ہوئے بولا اور ایک نظر نین کو دیکھا جو بڑے غور سے داؤد کی بات سنتی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
تیرے کو کِتنی بار بولا ہے کہ پرانی باتیں مت نکالا کر۔۔۔۔۔۔۔اب ایک اور لفظ بولا نا تو پٹ جائے گا مجھ سے۔۔۔۔۔۔
وہ آواز دھیمی کیے اُسے آنکھیں دکھا کر دھمکاتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے ۔۔۔میں اپنا منہ بند کر لیتا ہوں تم گھر چلو۔۔۔نین کم۔۔۔
داؤد نے لاپرواہی سے سر جھٹک کر کہتے ہوئے نین کی طرف دیکھا
بات سن میری۔۔۔۔۔۔ابھی اگر میں آیا تو تیری ماں کا بہت دل دکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوچے گی اُن کی کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔
تھوڑا غصّہ کم ہونے دے۔۔۔۔۔
کچھ دن جانے دے۔۔۔۔میں آجاؤں گا واپس۔۔
وہ اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھے اُسے سمجھاتا ہوا بولا۔۔داؤد نے بے بسی سے اُسے دیکھا
پکّا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہار مان کر بولا اور لب سختی سے بھینچے
ساحل نے غصے سے اُسے دیکھا اور پھر آنکھیں گھما کر اپنا ہاتھ پیچھے سے نین کے سر پر رکھا۔۔۔۔۔
اس کے سر کی قسم ۔۔۔۔اب خوش
وہ نین کی حیرت بھری نظروں سے لاپرواہ دانت پیس کر داؤد کو بولا تو وہ چاہ کے بھی مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا۔۔۔۔
نین اُسے گھور کر رہ گئی۔۔۔
ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتے ہو تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔مت چلو گھر۔۔۔لیکِن تم لوگ یہاں نہیں رہوگے کم سے کم۔۔۔
یہ کوئی رہنے لائق جگہ نہیں ہے۔۔
تم لوگ میرے ساتھ چلو میرے فلیٹ میں۔۔۔۔
جب تک سب صحیح نہیں ہوجاتا تم دونوں وہیں رہوگے۔۔۔
داؤد نے آخر ہتھیار ڈالتے ہوئے گھر چلنے کی ضد چھوڑ دی لیکن وہ اُن دونو کو اُس ویران جگہ نہیں رہنے دینا چاہتا تھا ۔
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے داؤد۔۔۔۔۔۔ہمیں نہیں چاہیے تمہارا کوئی سپورٹ۔۔۔میں نہیں چاہتی بڑی مامی پھر سے اس بات کا طعنہ دے کے ہم نے تم سے مدد یا سہارا لیا ہے۔۔۔اسلئے بہتر ہے تم ہمارے بارے میں نا سوچو۔۔۔۔ہم یہیں ٹھیک ہے۔۔۔۔
ساحل کے انکار کرنے سے پہلے نین نے منع کر دیا اور ساتھ ہی انکار کی وجہ بھی ظاہر کر دی۔۔داؤد اُسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا وہ اور ایسی عقلمندی کی باتیں حیران ہونا بنتا بھی تھا
سوری میں اس طرح بات کر رہی ہوں لیکن تمہیں نہیں پتہ بڑی مامی نے کس طرح بیہیو کیا ساحل سے۔۔۔مجھے تو اب تک یقین نہیں آرہا کے وہ ایسا کر سکتیں ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی حیرت محسوس کرکے صفائی دینے لگی۔۔۔
نین۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے سمجھانا چاہا لیکن ساحل نے اُسے روک دیا
تو اسکو چھوڑ نا یار فالتو سینٹی ہو رہی ہے
تو مجھے اپنے کپڑے دے گاڑی میں ہو تو۔۔۔۔۔
وہ داؤد کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے بات کو وہی ختم کرنا چاہا
اپنے گندے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تو داؤد سر ہلاتے ہوئے پلٹ کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا
♦♦♦♦♦♦♦♦
سگریٹ کے دھوئیں کے اُس پار دھندلا سا منظر تھا۔۔۔۔۔جہاں ایک پانچ سال کا بچہ ہنستا ہوا۔۔۔۔۔
درخت کے گرد اپنے چھوٹے چھوٹے پیروں سے دائرے بنا رہا تھا اور اُس کی ما ں اُس کے پیچھے اُسے پکڑنے میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔
یا شاید جان کر اُسے نا پکڑ پانے کا ناٹک کر رہی تھی۔۔۔۔تاکہ وہ اپنی جیت پر خوش ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔
ساحل ۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا ایسا نہیں کرتے اپنی امی کو ایسے نہیں تنگ کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے کانوں میں وہ مٹی مٹی سی آوازیں گونج رہی تھی جو کہیں بہُت دور سے سنائی دیتی تھی۔۔۔ہمشہ سے
سگریٹ کے دھویں کے غائب ہوتے ہی وہ منظر وہ آواز سب گم ہو جاتے اور وہ پھر ایک کش لگا کر سانس فضا میں خارج کرکے ایک نیا منظر دیکھتا۔۔۔
یہ کھیل کافی دیر سے جاری تھا۔۔۔۔۔
تینوں نے ساتھ مل کر کھانا کھایا تھا اور پھر داؤد کچھ دیر کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
داؤد کے جانے کے بعد سے وہ باہر آکر اُس جگہ میں اپنا پچھلا بھولا ہوا کچھ ڈھونڈھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ جگہ اُس کے بچپن کی یادوں سے شاید میل کھاتی تھی اسی لیے وہ رات کے اندھیرے میں بھی اُس سبز زمین میں کچھ یادیں ڈھونڈھنے کی کوشش کر رہا تھا
فریش ہو کر اُس نے داؤد کے کپڑے پہنے تھے۔۔۔بلیک جینس اور گرے شرٹ جو اُس کے لحاظ سے تھوڑا چھوٹا تھا۔۔۔۔
وہ گھر کے ٹھیک سامنے موجود درخت سے بازو لگا کر سردی سے لا پرواہ کھڑا سائیڈ میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نین کھانے کے بعد سونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اتنی سردی میں بنا بستر کے سو پانا بھی مشکل تھا۔۔۔۔۔۔نا گرم کپڑے تھے نا رضائی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کا انتظار کر تی رہی کے وہ شاید کوئی حل نکالے گا۔۔۔لیکن وہ کافی دیر تک واپس اندر نہیں آیا تو خود ہی باہر چلی آئی
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔
اُسے سامنے اپنے آپ میں گم دیکھ کر وہیں سے آواز دی جسے سن کر بھی اثر لیے بنا وہ جوں کا توں کھڑا رہا۔۔
وہ دونوں کو ہتھیلیوں کو رگڑ تے اُس کے پاس آئی اور ہاتھ اُس کے بازو پر رکھتے ہوئے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا
کونسی دنیا میں چلے گئے۔۔۔۔سونا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی جانب دیکھا تو حیرت سے پوچھنے لگی
یہ جگہ بہُت جانی پہچانی لگتی ہے۔۔۔
بہت ملتی ہے اپن کے خوابوں سے۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ سے اسی سمت دیکھتا ہوا بولا سگریٹ دور پھینک دیا
یہ جگہ ہے ہی اتنی حسین۔۔۔۔۔سچ میں خوابوں جیسی لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔
نین نے مسکرا کر اپنے آس پاس نظر ڈالی ۔۔۔ساحل نے اپنی سوچوں سے نکل کر سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔وہ اُس کی بات کا مطلب اپنے مطابق اخذ کرکے خوش ہو رہی تھی جب کے وہ چاہتا تھا یہ جگہ اُسے بری لگے وہ یہاں رہنے سے انکار کرے اور یہاں سب الٹ ہو رہا تھا
دو دن کے بعد یہی چیز بول کے دکھانا ۔۔۔۔تو مانوں گا۔۔۔۔۔
اُس نے طنز کیا کیوں کے یقین تھا وہ زیادہ دن یہاں نہیں رہ پائے گی۔۔۔جب کے نین نے اُس کے پل میں بدلتے رویے پر اُسے گھورا
تُم سیدھے منہ بات نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھور کر سیریس انداز میں بولی
تیرے کو اپنا اچھا برا کچھ سمجھ نہیں آتا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیرے آگے بہُت اچھی زندگی پڑی ہے اُس کو کیوں خراب بنانے پر لگی ہے۔۔۔۔
ساحل نے بیزاری سے کہا۔۔۔۔وہ تھک چکا تھا اُسے سمجھا سمجھا کر
ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں میرے لیے کیا صحیح ہے کیا نہیں۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ یہ سب صحیح لگتا ہے تیرے کو۔۔۔۔میرے ساتھ بھٹکنا چاہتی ہے ایسے جنگلوں میں۔۔۔۔یہاں رہ کر ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔ایسے کچھ بن جائیگی تو۔۔۔۔ ۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف پلٹ کر غصے سے بولا
۔۔۔۔۔اگر کوئی لڑکی کچھ بننا چاہے تو ضروری نہیں کے وہ اپنی لائف کی پرابلمز سے بھاگ جائے۔۔۔۔۔اُنہیں فیس کرنا چھوڑ دے۔۔۔۔ضروری نہیں ہے کے اُس کی لائف میں سب بلکل پرفیکٹ ہی ہو۔۔۔۔ورنہ وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔۔پرابلمز تو سب کو زندگی میں ہوتی ہے نا تو کیا وہ لوگ آگے نہیں بڑھتے
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولی
یہ تیری نہیں میری لائف کی پرابلمز ہے جس میں تو زبردستی گھس رہی ہے۔۔۔۔
ساحل نے غصے سے جتا کر کہا اُسے کچھ نہیں سوجھا کے کیا بولے حالانکہ دل۔چاہ رہا تھا کہہ دے تمہاری زندگی مجھ سے جڑی ہے تو میں کیوں نہ گھسوں۔لیکن وہ بولنا نہیں چاہتی تھی
مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی جھنجھلا ہٹ میں کچھ نہ سوجھا تو اُسے غصے سے دیکھتی چلائی
مسلہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر سانس روکے حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
کھلے بال آگے آکر چہرے کو چھونے لگے
مسلہ یہ ہے کہ تم مجھے اپنے آپ میں اُلجھا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔مجھے میرے راستوں سے بھٹکا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔
وہ اُسے خود سے بے حد قریب کیے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا شدتِ ضبط سے بھاری ہوتے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
نین کو اُس کے بدلے لب و لہجے کی حیرت۔۔۔ اور اپنی گھبراہٹ میں سمجھ ہی نہیں آیا کے وہ کیا اور کیوں ایسا کہہ رہا ہے
ک۔۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔۔
وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگی تو ساحل نے اُس کے ہلتے گلابی لبوں کو دیکھا اور اچانک ہی اُسے اپنے دل کی دھڑکنوں کا رخ بدلتے محسوس ہوا۔۔۔
بدلتی دھڑکنوں کے ساتھ ہی نظر بھی بدلی ۔۔۔۔۔
احساسِ بھی بدلےتو وہ جلدی سے اُس کا بازو آزاد کرکے پیچھے ہوا
میں تیرا غلام نہیں ہوں سمجھی نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو اب تے کو۔۔۔۔ مطلب بھی سمجھاتا پھروں۔۔۔۔۔
وہ اپنی جھنجھلاہٹ میں اُس پر مزید بگڑ کے بولا۔۔۔۔اُس کے تاثرات لہجے کا ساتھ نہیں دے رہے تھے
نین اُس کی بے رخی پر پریشان ہو کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
ساحل نے ایک دفعہ پھر اُس کے بند لبوں کو دیکھا اور سختی سے مُٹھی بند کی
صبح سے اپنی خدمت میں لگا کے رکھا ہے۔۔۔۔۔۔نوکر سمجھ رکھا ہے اپنے باپ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آپ پر غصے کے چکر میں اُس پر برس کر اُس کا بری طرح دل دکھائے اندر چلا گیا۔۔
نین نے پلکیں جھپکتے ہوئے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا۔۔۔۔
سب سے بڑی بے بسی ۔۔۔۔۔سب سے بڑا چیلنج تو یہ تھا کہ وہ اپنی سیلف ریسپیکٹ کو روند کے اُس کے لاکھ باردھکارنے کے بعد بھی وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔اُس سے دور نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ جا ہی نہیں پا رہی تھی
لیکِن وہ یہ بات اُسے بتا بھی نہیں سکتی تھی ورنہ جب و وجہ پوچھتا تو وہ کیا کہتی جب خود ہی انجان تھی۔۔۔۔
وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی اُس کی باقی ساری باتوں کی طرح اپنی اس تذلیل کو بھی دِماغ سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دل کو پرسکون کرکے اندر جانے لگی
پہلے کی بنسبت اب اندر سردی کم ہو گئی تھی کیوں کے ساحل نے ایک کونے میں کچھ گھاس اور لکڑیوں سے آگ جلائی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ خود اُس آگ سے تھوڑا فاصلے پر دیوار سے لگ کر پیر آگے کیے بیٹھا تھا۔۔۔
نین خاموشی سے چار پائی پر آکر لیٹ گئی اور رخ اُس کے مخالف سمت کیے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔
نئی جگہ ویسے ہی اُسے نیند نہیں آتی تھی اور اب تو بنا بستر کے بنا تکیے کے سردی میں سونا تھا کپڑے بھی بہت انکمفرٹبل تھے اور وہ چار پائی بھی۔۔۔۔جس کی رسیاں اُس کے بدن میں چبھ رہی تھی۔۔۔
وہ بے چینی سے ادھر سے اُدھر ہوتی ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔جب کے ساحل زمین پر ہی آرام سے سو رہا تھا۔۔۔۔
نین کی رات ایسے ہی بے چینی میں گزر رہی تھی آخر کو وہ غصے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔اور سونے کا ارادہ ترک کر دیا۔۔۔
کچھ دیر خالی دیواروں کو گھورتی رہی اورپھر تھک کر سر گھٹنوں پر رکھے ساحل کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
کتنی ہی دیر تک اُس کے پر سکون چہرے کو دیکھتی رہی جب اُسے وہ سکون بے چینی میں۔بدلتا محسوس ہوا
۔۔
پیشانی پر سلوٹیں پڑنے لگی ۔۔۔
وہ سر اِدھر سے اُدھر کرتا منہ سے سانس لینے لگا جیسے اکثر ہم بےچینی میں کرتے ہیں۔۔۔۔
نین حیران ہو کر اپنی جگہ سے اٹھی اور اُس کے پاس آئی ہاتھ اُس کے شولڈر پر رکھا تو ساحل نے نیند میں ہی تیزی سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے شولڈر پر دبایا۔۔۔۔۔
اور تیزی سے سانسیں لینا لگا۔۔
نین کو اُس کی دھڑکنیں بھی کافی تیز محسوس ہوئی
ساحل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے پکارا اپنے ہاتھ کو شولڈر سے مخالف سمت کرتے اُس کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو وہ اُسکے پہلے ہی اُنگلیوں کو آپس میں اُلجھا کر گرفت سخت کر گیا۔۔۔۔
لیکِن بے چینی میں۔کوئی کمی نہیں آئی۔۔۔۔خشک لبوں کو بھنیچ کر سر کو ادھر اُدھر کرتا رہا نین نے فکرمندی سے اُسے دیکھتے ہوئے اپنا دوسرا ہاتھ اُس کے چہرے پر رکھا اور اُسے دوبارہ پکارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی پیشانی پر اُبھری لکیریں مٹنے لگی اور اُس نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر نین کو دیکھا
کیا ہوا ۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے پوچھا۔۔وہ بنا کوئی جواب دیے اُس سے نظریں ہٹا تا اُس کا ہاتھ چھوڑ کر اٹھ بیٹھا۔۔
نین نے جلدی سے اٹھ کر اپنے سرہانے پڑی پانی بوتل لا کر کھولتے ہوئے اُس کی طرف بڑھائی۔۔اُس نے سر ہلا کر انکار کر دیا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔
نین نے بوتل بند کرتے ہوئے اُسے دیکھا وہ اُسے کیا بتاتا کے یہ تو ہر دن کی بے چینی ہے
تو سوئی کیوں نہیں ابھی تک۔۔۔۔۔۔
وہ بجائے جواب دینے کے اُسے دیکھتا الٹا سوال کرنے لگا
مجھے نیند نہیں آرہی ہے اُس پر۔۔۔
اُس نے بیچارگی سے چارپائی کو دیکھیے ہوئے کہا
یہاں سو۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سر سے اپنے کچھ فاصلے پر اشارہ کرتے ہوئے کہا
لیکِن تم ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔۔۔
نین نے سر ہلاتے ہوئے پوچھا
تو سو۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتے ہوئے کہتا کروٹ بدل کر واپس لیٹ گیا۔۔۔
نین جانتی تھی وہ کچھ نہیں
بتائے گا اس لیے خاموش ہو گئی
لیکن وہ ارادہ کر چکی تھی
کے کل ہی داؤد سے اپنے ہر
سوال کا جواب حاصل کریگی
جو باتیں اب تک راز تھی
اُنہیں جان کر ہی رہیگی
