Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

Episode 2
آنکھ کھلی تو گھڑی میں دس بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔۔
اماں اتنی دیر ہو گئی تونے جگایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنگن میں بیٹھ کر چاول بینتی اپنی اماں کو دیکھ کر بولا۔۔۔پورے صحن میں پھیلی کھانے کی خوشبو سے اُسے اندازہ ہوا کے فلک کچن میں ہے
تونے تو گیارہ بجے جانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔رات بھی دیر سے ہوتی ہے پھر۔۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر اور سو جا۔۔۔۔
اماں نے اس کے آرام کی غرض سے کہا جب کے وہ دیوار پر لگے چھوٹے سے آئینے میں خود کو دیکھ کر ہاتھوں سے بال سنوارتا سیڑھیوں سے اوپر بھاگا اماں اُسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی
پتہ نہیں صبح صبح اسے چھت پر کیا کام پڑ جاتا ہے۔۔۔۔
اماں اس کی روز کی عادت پر بڑ بڑا کر چاولوں سے پتھر بین کر الگ کرنے لگی۔۔۔۔
وہ چھت پر پہنچا تو ساتھ والی چھت کو خالی دیکھ کر نظریں بے چین سے ہو گئی۔۔۔۔رسّی پر گیلے کپڑے پھیلائے جا چُکے تھے مطلب اس نے آنے میں دیر کر دی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔اپنی دیوار سے ساتھ والے گھر کے کھلے صحن میں جھانکا تو وہ بھی خالی تھا ۔۔
وہ مایوس ہو کر پلٹنے ہی لگا تھا کے نظریں پایل میں مقید خوبصورت پیروں پر پڑی۔۔۔۔۔۔وہ ایک دم سے رک گیا۔
۔۔۔۔۔۔رسی پر پھیلائے گئے ڈوپٹے کے اس پار جو سایہ تھا اُسے دیکھ کر اس کے لبوں پر بڑی جاندار سی مُسکراہٹ آئی ۔۔
چند سیکنڈ کے وقفے کے بعد سُرخ ڈوپٹے پر سفید انگلیاں نظر آئی جن سے ڈوپٹے کو تھوڑا سا ہٹا کے گہری خوبصورت آنکھوں نے جھانک کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
اور ارحم کو مسکراتی آنکھوں سے اسی طرف دیکھتے پا کر وہ ایکدم بوکھلا گئی۔۔۔۔۔۔
اپنی چوری پکڑے جانے پر اندر سے شرمندہ ہونے کے باوجود اس نے ارحم کو غصے سے گھورا اور رسی پر کپڑے پھیلانے لگی۔۔۔ارحم کی مسکان گہری ہوئی وہ چھت کی اونچی والی دیوار سے ٹیک لگا کر فرصت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
حیا غصے سے ناک پھلائے نیچے رکھی بالٹی سے نکال کر کپڑے کو نچڑنے لگی۔۔۔گویا ارحم کا غصّہ اس بے جان کپڑے پر نکالنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ منہ پر مٹھی بنا کر رکھے ہنسی روکنے لگا
حیا نے کپڑے کو کھول کر اتنی زرو سا جھٹکا کے پانی کی بوندیں ارحم تک بھی پہنچی وہ بالوں میں ہاتھ گھماتا آگے بڑھا اور دونوں چھتوں کو ملانے والی دیوار کے قریب آیا۔۔
اُس کا ارادہ بھانپ کر حیا کی آنکھیں پوری کھلی۔۔۔۔۔
وہ بنا اس کی طرف دیکھے بالٹی اٹھا کر نیچے کی طرف بھاگی ۔۔۔اور ارحم نے اپنا قہقہہ ضبط کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اس کے صحن میں جھانکا وہ آخری سیڑھی اُتر کر رک گئی اور اوپر غصے سے دیکھا
دونوں کی نظریں ملی تو ایکدم سے ارحم کے دل کی دھڑکنوں میں شور ہوا اور اگلے ہی لمحے اُسے دیکھ کر ناک چڑھاتی ہوئی اندر بھاگی۔۔۔۔۔۔
ارحم مسکراتے ہوئے پلٹ کر نیچے چل دیا
کتنی خوبصورت تھی یہ خاموش محبت۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ارحم فلک اور شمع کو لے کر شہر آیا تھا۔۔۔۔۔۔
فلک تو آنا ہی نہیں چاہتی تھی لیکن شمع کی ضد کی وجہ سے اُسے ماننا پڑا وہ اب بھی بے حد پریشان اور ڈری ہوئی تھی اُس میں بلکل بھی لوگوں کے بیچ چلنے یا رہنے کا کنفیڈنس نہیں تھا۔۔شہر کے بازار میں اتنی بھیڑ دیکھ کر ہی اُسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔سارا وقت وہ ارحم کا بازو پکڑے ہوئے تھی۔۔۔۔۔۔
شمع پوری طرح انجوئے کر رہی تھی اور ارحم سے اپنی فرمائشیں پوری کر وا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ڈر کیوں رہی ہے میں ہوں نہ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔چل آجا۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اس کا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ کھڑا کیا وہ لوگ اس وقت ایک بڑے سے تین منزلہ مال کے اندر جا رہے تھے
اور اتنی اونچی عمارت کو۔دیکھ کر اس کی گرفت اور سخت ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
بھائ ہم گھر کب جاۓ گے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باریک سی آواز میں منمنائی
بھائی آپ نے فلک آپی کو ساتھ لانا ہی نہ تھا
یہ تو ہمیں بھی سکون سے کچھ نہیں لینے دیں گی۔۔۔۔۔۔
شمع چڑ کر بولی آنے کے ساتھ ہی وہ گھر واپس جانے کی رٹ لگا چُکی تھی۔۔۔۔
۔ارحم نے ہنسی روکتے ہوئے اُسے چپ ہونے کا اشارہ کیا اور اُن دونو کے ساتھ اندر آکر اُن دونو کو سیکنڈ فلور پر ایک بیوٹی سیلون میں لے آیا
یہ فرمائش بھی اس سے شمع نے ہی کی تھی
وہ اپنی سہیلیوں سے بیوٹی پارلر کے فائدے دیکھ اور سن چُکی تھی تبھی ارحم کو پہلے ہی منا لیا تھا کے شہر جا کر فلک کو بیوٹی پارلر لے کر جاۓ گے تاکہ اس کا سکن ٹریٹمنٹ ہو اور ایک ہفتے بعد اس کی بہن اپنی شادی پر اور زیادہ پیاری لگے
جب کے فلک تو حیرت سے اس جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں لڑکیاں خوب سج سنور کر گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔
کچھ دیکھنے لائق تھی اور کچھ اتنی بولڈ ڈریسنگ میں کے فلک کو اپنا نقاب بھی چھوٹا لگنے لگا۔۔۔۔
بھائی یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب بھی ارحم کے بازو سے لگ کر کھڑی تھی۔۔۔۔
یہ جادو کی نگری ہے۔۔۔۔۔جو کسی بھی عام چہرے کو بدل کر خاص کر دیتی ہے۔۔۔۔میں چاہتا ہوں یہ میری پری جیسی بہن کو اور خوبصورت بنا دے۔ تاکہ وہ دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن لگے
اُس کے نقاب میں ڈھکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر وہ محبت سے بولا۔۔۔۔۔
پر بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے منع کرنا چاہتی تھی لیکن شمع اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے جلدی سے کھینچتی ریسیپشن تک لے کر آئی
شمع نے اپنی مرضی کی فرمائشیں بتا کر اُسے ایک لڑکی کے حوالے کیا جو اسےاپنی ساتھ آگے بنے کمروں میں سے ایک کے اندر لے جانے لگی ۔۔۔فلک گھبرا کر ارحم اور شمع کو دیکھنے لگی ارحم نے اُسے تسلی دی کے وہ لوگ یہی ہے وہ اطمینان رکھے لیکن وہ تب بھی ریلیکس نہیں ہو پائی
اندر آئی تو نظارہ ہی عجیب تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس کمرے میں تین اونچے بیڈ لگے تھے اور اُن میں دو پر لیٹی لڑکیوں کے کوئی چہرے سنوار رہا تھا کوئی ہاتھ ۔۔۔کوئی پیر کے ناخن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میم آپ اپنا نقاب نکال کر مجھے دے دیجئے میں اسے رکھ دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُن کے ٹریٹمنٹ ہوتے دیکھ رہی تھی جب بیوٹیشن اُسے متوجہ کرتے ہوئے بولی فلک نے اُسے حیرت سے دیکھا
پر کیوں۔۔۔ میں اسے نہیں نکالوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صاف نفی کرتے ہوئے بولی
میم اگر آپ اسے نہیں نکالے گی تو میں اپنا کام کیسے کروں گی۔۔۔۔۔۔ پلیز آپ اسے اُتار کر مجھے دے دیجئے۔۔۔۔۔۔یہاں کوئی نہیں آئیگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نہایت نرمی سے اُسے سمجھایا۔۔۔وہ تھوڑا جھجھکتے ہوئے اپنا عبایا اُتارنے لگی۔۔۔۔لڑکی نے اُسے دیکھا تو اس کی خوبصورتی اور معصومیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائی
آپ لیٹ جائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کا عبایا ٹیبل پر رکھتے ہوئی بولی فلک کی نظر وہیں تھی ایک تو وہ کہیں زیادہ باہر نکلتی نہیں تھی اور کِسی وجہ سے جائے بھی تو پردے کا بہت دھیان رکھتی تھی اپنی امّاں کی وجہ سے جو ان معاملات میں کافی سخت تھیں
بال کیوں کھول رہی ہے آپ میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی اس کے لمبے بالوں کی چوٹی کھولنے لگی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی یہ سوچ کر کے وہ اس کے بال کاٹ نا دے اُسے اپنے بال بہت پیارے تھے
آپ لیٹ جائیے میم پلیز ۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنا کام کرنے دیجئے
لڑکی اُسے دوبارہ سے بولی اور اس کے بالوں میں کوئی آئل لگا کر مساج کرنے لگی فلک کو کافی ریلیکس محسوس ہوا
بالوں کے بعد اس کے چہرے کا ٹریٹمنٹ شروع ہوا تو اس لڑکی کی حرکت کرتی اُنگلیوں پر وہ آنکھیں سختی سے میچ گی
آپ ریلیکس ہو جائیے میم۔۔۔اسٹریس مت لیجئے۔۔۔۔۔۔
وہ نرمی سے بولی اور مسکرائی فلک کے چہرے سے ہی نظر آرہا تھا کے و پہلی دفعہ یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ کروا رہی ہے
بھائی آپی کو تو تھوڑا ٹائم لگیگا تب تک ہم آپ کے لیے کپڑے خرید لیں۔۔۔۔۔۔ابھی نیچے میں نے ایک بہت ہی زبردست کرتا دیکھا ہے وہ آپ پر بہت اچھا لگے گا
شمع نے فلک کے جاتے ہی ارحم کو بیٹھتے بیٹھتے روک دیا اور ایکسائٹڈ ہو کر بولی
تھوڑی دیر رک جاؤ شما۔۔۔۔۔۔یوں فلک کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے وہ ڈر جائے گی۔۔۔۔۔
ارحم نے انکار کیا کیوں کے کو فلک کو اچھے سے جانتا تھا
بھائی آپی کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔۔۔۔ہم ابھی آجائے گے اُن کے باہر آنے سے پہلے۔۔۔۔چلو نا بھائی۔۔ ورنہ آپی باہر آتے ہی پھر گھر چلنے کی رٹ لگا دے گی ۔۔۔۔۔
وہ ضد کرنے لگی تو وہ اُسے دیکھ کر رہ گیا
ٹھیک ہے جا کر اُنہیں کہہ دو کے ہم ابھی آرہے ہیں۔۔۔
وہ ریسیپشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا تو و ہنستی ہوئی سر ہلا گئی
ریسیپشنسٹ کو اس نے بتا دیا کے وہ لوگ دس منٹ میں آرہے ہے اور وہ دونوں گراؤنڈ فلور پر موجود شاپ سے ارحم کے لیے کپڑے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
شمع تو ایک کے بعد ایک شرٹ اور کُرتا اس کے ساتھ لگا کر منہ بناتی ہوئی اسے نہ پسند کررہی تھی جب کے وہ سامنے والی جویلری شاپ میں دیکھ رہا تھا جہاں ایک لڑکی چوڑیاں خرید رہی تھی ۔۔۔۔اس کا دھیان اُن رنگ برنگی چوڑیوں پر تھا جو دور سے بھی کافی خوبصورت لگ رہی تھی اُن چوڑیوں کو دیکھ کر اسے حیا کی نازک سفید کلائی کا خیال آرہا تھا کے یہ چوڑیاں اُن پر کتنی سجے گی۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اپنی سوچ میں بے خبر وہ مسکرا رہا تھا شمع حیرت سے اُسے دیکھنے لگی تو و جلدی سے سنبھل کر نفی کرنے لگا۔۔۔۔
بتائیے نہ کونسا اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اس کا دھیان کپڑوں کی طرف کرتے ہوئے بولی
کوئی اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تم۔اسے رہنے دو۔۔۔چلو فلک کے پاس چلتے ہے
وہ بیزاری سے بولا
بھائی رکو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم اور دوسرے کپڑے دیکھتے ہیں۔۔۔۔ کچھ اور دکھائے نہ بھائی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے روکتی جلدی سے دکانددر کو بولی تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
میم آپ بہت پریٹی لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکی نے اس کے بالوں میں برش کرتے ہوئے کہا تو وہ خود آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔۔
خوبصورت تو و پہلے بھی تھی لیکن اب اس کی خوبصورتی کو تراش کر مزید بڑھا دیاگیا تھا۔۔۔۔۔
آیبروں کی شیپ نے اس کے چہرے میں بدلاؤ کیا تھا ۔۔۔۔۔چہرے پرہلکا ہلکا میک اپ ۔۔آنکھوں میں کاجل اور لبوں پر لپ بام لگنے سے ہی وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
ہمیشہ بندھے رہنے والے بال آج کھلے سٹریٹ اور نہایت خوبصورت نظر آرہے تھے۔۔۔۔۔وہ خود بخود ہی مسکرائی ۔شرمایا سا۔۔۔۔۔
کسی کے دروازہ کھولنے پر باہر کچھ شور سا سنائی دیا تو وہ لڑکی برش رکھ کر اسے ابھی آئی کہہ کر باہر نکل گئی ۔۔۔۔فلک بھی پریشان ہو گئی کے آخر اچانک سے شور کیسا۔۔۔۔۔
وہ اپنے گلے میں موجود دوپٹے کو درست کرتی ہوئی اس کا انتطار کرنا لگی وہ تو واپس نہیں آئی لیکن اچانک سے شور اٹھا کے آگ لگ گئی ہے اور وہاں موجود سب لڑکیاں جلدی جلدی اٹھ کر باہر بھاگی۔۔۔۔
فلک کے تو حواس ہی سلب ہو گئے ۔۔اس کا دل ایکدم زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
۔اے لڑکی جلدی باہر نکلو یہاں آگ لگ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
آخری باہر نکلتی عورت نے اسے ذرا غصے سے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھا يا تو وہ بھی اس کے پیچھے باہر بھاگی۔۔۔۔۔دِل خوف سے کانپنے لگا باہرکا منظر ہی اتنا خوفناک تھا آگ نے اس فلور کی بہت سی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور اس سلون کے کانچ کے دروازے پرلگے پردے بھی جلتے ہوئے وہاں رکھے فرنیچر کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر چکے تھے۔۔۔
سب چلاتے روتے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔۔۔۔
سیلون بلکل خالی ہو چکا تھا اُسے باہر لانے والی عورت بھی جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑ کر بھاگ کر باہر نکل گئی تھی کیوں کے جانے کے راستے میں بھی آگ بڑھتی جا رہی تھی
فلک بھی اس کے پیچھے باہر بھاگنے ہی والی تھی کے آگ کا شعلہ ایکدم سے اس کے سامنے آگیا۔۔۔۔
جلتا ہوا پردہ نیچے اس کے سامنے گرا تھا ۔۔۔وہ چینخ کر پیچھے ہوئی اور ایک ریک سے ٹکرائی۔۔۔۔اس کے دھکّے سے وہ ریک اپنا توازن کھو کر اس کے اوپر گری
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ دونوں ابھی کپڑے لے کر شاپ سے باہر ہی نکلے تھے کے ایکدم بھگدڑ مچ گئی اور وہاں کے گارڈز نے لوگوں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
چاروں طرف آگ آگ کا شور مچ گیا شمع اور ارحم دونوں ہی بری طرح گھبرا گئے کیوں کے آگ سیکنڈ اور تھرڈ فلور پر لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ شمع کو باہر نکلنے کا کہہ کر خود اوپر جانے لگا لیکن اسے روک دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔
میری بہن ہے اوپر مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چلایا اور گارڈز کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اُن لوگوں نے اسے روک کر بہت مشکل سے باہر نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے تم لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی میری بہن ہے وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زوروں سے چلا رہا تھا بے بسی ہی ہے بسی تھی شمع کو بھی رونا آرہا تھا۔۔۔۔۔
ہماری ٹیم آپ کی بہن کو سیفلی وہاں سے نکال لے گی۔۔۔۔۔آپ پلیز ہمیں اپنا کام کرنے دیجئے۔۔۔۔ہم آپ کو اوپر نہیں جانے دے سکتے۔۔۔۔۔
آفیسر غصے سے بولا اس کے علاوہ بھی کچھ اوپر جانے کی ضد کر رہے تھے جن کے آگے گارڈز دیوار بن کر کھڑے اُنہیں روکے ہوئے تھے ارحم پیچھے ہو کر وہاں سے نکلا تاکہ اندر جانے کا کوئی دوسرا راستہ ڈھونڈھ سکے ۔۔۔۔لیکن ایسا ممکن نہیں تھا وہ اِدھر سے اُدھر ہو رہا تھا تاکہ کسی بھی طرح اپنی بہن تک پہنچ سکے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
بھائی۔۔۔۔۔۔۔شمع
وہ روتے ہوئے اپنے بھائی بہن کو پکار رہی تھی
آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔
پورا جسم پسینے سے نم ہو چکا تھا
ریک اُسکے پیر پر گری تھی اور وہ زمین پر پڑی بے بسی سے اپنے پیر کو ریک کے نیچے سے نکالنے کی کوشش میں لگی تھی۔۔۔۔۔درد کی شدت اس کی برداشت سے بہت زیادہ تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آس پاس آگ بھڑک چکی تھی وہ زوروں سے روتی ہوئی ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کے کوئی وہاں آکر اس کی مدد کردے لیکن پورا فلور خالی ہو چکا تھا
چاروں طرف صرف آگ کے شعلے تھے۔
اُن شعلوں کی گرمی اور درد کی تڑپ سے و بے ہوش ہونے کو تھی
اس کی پیر پر گری ریک میں بھی آگ لگنا شروہو گئی تھی
اسے لگا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے۔۔۔۔۔اب وہ بچ نہیں پائے گی وہ دل ہی دل میں اللّٰہ سے مدد مانگ رہی تھی۔۔ اپنے بھائی بہن اپنے ماں باپ کو پکار رہی تھی۔۔۔۔۔۔
بھائی۔ئی ئی ئی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی زور دار چینخ پورے فلور پر گونجی تھی۔۔۔۔
سکندر جو سیڑھیوں سے اتر رہا تھا اس آواز پر چونک کر رک گیا۔۔۔۔۔وہ تھرڈ فلور پر بار میں بیٹھا تھا لیکِن جب آگ نے تھرڈ فلور پر بھی پھیلنا شروع کر دیا تو مجبوراً اُسے باہر نکلنا پڑا۔۔۔۔
سیڑھیوں سے نیچے جانے کی بجائے وہ اس آواز کی طرف بڑھا تو ایک شاپ میں شیشے کے اس پار نظر پڑی جہاں وہ آگ کے شعلوں کے درمیان زمین پر پڑی درد سے تڑپ رہی تھی ۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کے وہ اُسے دوسری دفعہ یہاں دیکھے گا اس حال میں۔۔
ایک پل کو اس مکمل دیدار نے اُسے ساکن کر دیا جس کے لیے وہ دو راتوں سے تڑپا تھا وہ چہرہ آج نظر آیا تو اس پر بے انتہا اذیت تھی۔,۔۔۔
اُس نے اندر جانے کی کوشش کی تو آگ اس کے راستے میں دیوار بن گئی اس نے کانچ کے دروازے پر زور دارلات ماری تو وہ دور ہو گیا سکندر جلدی سے اندر بھاگا ۔۔۔۔۔۔
فلک نے اپنی بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھولا تو اپنی مدد کے لیے کسی کو اندر آتے محسوس کر اس کی جان میں جان آئی۔۔۔۔
سکندر نے اس ریک کو اس کے اوپر سے ہٹا کے پیچھے پھینکا تو آگ سے اس کے ہاتھ بھی اثر انداز ہوئے۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں کو جھٹک کر درد سے جان چھڑا تا فلک کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ تھامے اُسے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اٹھتے اٹھتے دوبارہ گر گئی اپنے زخمی پیر کی وجہ سے ۔۔اور ایکدم سے رونے لگی۔۔سکندر نے ایک لمحے کو اس کی بھیگی سُرخ آنکھوں کو دیکھا اور اب کے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔۔وہ گھبرا گئی ۔۔۔پہلی دفعہ احساسِ ہوا کے وہ خطرے سے نکل کر بھی خطرے میں تھی۔۔۔۔۔ایک غیر مرد کے حصار میں تھی۔۔۔۔۔سمجھ میں نہیں آیا کیا کرے۔۔
سکندر بہت مشکل سے اس کے رنگ بدلتے چہرے سے نظریں ہٹا کر آگے بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔۔ورنہ جتنا وہ اُسے دیکھنے کو تڑپا تھا کوئی اور لمحہ ہوتا تو اپنی نظروں کو اس چہرے سے ہٹنے نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔
باہر نکلنے کے راستے میں آگ ایک دفعہ پھر دیوار بنی ہوئی تھی وہ آگے بڑھ کر آگ کے بھڑکنے سے ایکدم پیچھے ہوا تھا فلک گرنے سے بچنے کے لئے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالنے پر مجبور ہوئی ۔۔۔۔آنکھیں سختی سے بند کر لی تھی۔۔۔۔۔۔
سکندر کے بکھرے بال مزید بکھر گئے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ ایک نظر فلک کی بند آنکھوں کو دیکھ کر آگے بڑھا اور دروازے کو لات مار کر پیچھے دھکیلا دروازہ تیزی سے پیچھے ہوا تھا اور اس کے واپس اپنی جگہ تک آنے سے پہلے وہ فلک کو لیے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مُشکل مرحلہ حل ہوا تھا لیکِن آگے بھی آگ بہت زیادہ بڑھ چکی تھی ایک شاپ کا جلتا ہوا دروازہ زمین پر گرا سیڑھیوں تک جانے کے راستے میں دیوار بن چکا تھا۔۔۔۔
وہ آس پاس کوئی دوسرا راستہ تلاش کر رہا تھا لیکِن سب جگہ آگ ہی آگ نظر آرہی تھی
آگ سے اس کے چہرے پر بھی سرخی بڑھ گئی تھی۔۔سفید شرٹ جگہ جگہ سے کالی ہو چکی تھی
فلک بھی آنکھیں کھول کر گھبرائی ہوئی سے آس پاس دیکھ رہی تھی ۔۔
سکندر نے اس کی جانب دیکھا تو ایک پل کو دونوں کی نظریں ملی تھی اور اتنی ہی تیزی سے وہ نظریں جُھکا گئی تھی۔۔۔۔
سکندر نے آہستہ سے اُسے نیچے اُتارا اور اپنا جیکٹ نکال کر اس کے گرد پھیلایا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکیلا ہی آگے بڑھا اور درمیان میں پڑے اس دروازے کو پیچھے دھکیلا اس میں بہت سی آگ کی لپٹیں اُس کے اوپر آئی
وہ ایک پل کو پیچھے ہو کر خود کو اُن لپٹوں سے بچاتا دوبارہ آگے ہوا اور اب کے ہاتھ سے اس دروازے کو اٹھا کر پیچھے پھینکا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ فلک تک آیا اور اُسے اپنے ساتھ لیے جلدی سے آگے بڑھا اس کے پیر میں بے حد تکلیف تھی جس سے لڑتے ہوئے وہ مُشکل سے اپنے قدم بڑھانے لگی۔۔۔۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے درد سے اس کی جان نکل رہی تھی لیکن وہ ظاہر نہیں ہونے دے رہی تھی۔۔کچھ سکندر نے بھی سہارا دیا ہواتھا
سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہی اس نے سکون کی سانس لی وہاں موجود عملے نے دونوں کو جلدی سے بڑھ کے سہارا دیا
سکندر نے اس کے گرد سے ہاتھ ہٹایا تو وہ گرنے کو ہوئی لیکن وہاں موجود لیڈی انسپیکٹر نے جلدی سے اُسے سنبھالا۔۔۔سکندر کا اس کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا۔۔۔۔۔
وہ اس کے آنسوؤں اور پسینے سے نم چہرے کو دیکھنے لگا جب تک وہ اس سے دور ہوتے ہوتے نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
آپی مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف ہوئی
ارحم کی اُسے دیکھ کر جان میں جان آئی تھی جب کے شمع اب تک سخت ندامت محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔وہ سن ہو کے ارحم کے سینے سے لگ کر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔دل اب بھی بے حد خوف زدہ تھا ۔۔۔حالانکہ تکلیف کم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے پیر پر بینڈیج کرکے اُسے دوائی دی گئی تھی اور تھوڑی دیر بعد وہ لوگ گھر بھی آگئے تھے
گھر آنے کے بعد اماں اور ابا فلک کی حالت پر سخت پریشان ہو گئے تھے
اماں ارحم پر بھی غصّہ ہو رہی تھی کے وہ اُنہیں شہر لے کر گیا ہی کیوں ۔۔۔۔۔
شادی میں بہت کم دن بچے تھے اور فلک کے پیر میں بہُت گہری چوٹ تھی اور ڈاکٹر نے اُسے مکمل آرام کرنے کا کہا تھا۔۔۔۔۔
فلک کو بڑی مُشکل سے سمجھا کر ارحم گھر سے نکلا تھا اور شمع اب بھی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔وہ بات تک نہیں کر رہی تھی اس لیے شمع بے حد پریشان تھی
جب کے اس کے دل میں عجیب عجیب سے خیال آرہے تھے۔۔۔
ارحم کو اس نے بتایا تھا کے اس کی کسی نے مدد کی لیکِن یہ نہیں بتایا کہ وہ اس کا دشمن سکندر ہی تھا۔۔۔۔۔
وہ کبھی کِسی کے سامنے بے پردہ نہیں ہوئی تھی اور آج ایک نا محرم کے اتنے قریب آگئی تھی۔۔۔۔۔
اُسے صرف ندامت ہی ندامت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
سکندر کی نظریں اپنے وجود میں چبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف وہ اس کے سحر میں مدہوش ملنگجے حلیے میں گھر میں داخل ہوا تو سب حیران پریشان سے اُسے دیکھنے لگے ۔۔۔
وہ سب کے سوالوں کو نظر انداز کرتا سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
آکر سیدھے بیڈ پر گرا اور آنکھیں بند کرکے دوبارہ اُن لمحوں کو جینے لگا جو اس کی بیچینی کو سکون دے کر گئے تھے۔۔۔
وہ بھیگی نم آنکھیں۔۔۔۔۔وہ کانپتے گلابی لب۔۔۔۔وہ نرم گلاب سا مہکتا وجود جس کی خوشبو اس کے جسم و جان میں بس گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے دل کی دھڑکنیں معمول سے بھٹکنے لگی تھی
وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ بیٹھا حالت عجیب ہو رہی تھی جسے سمجھنے سے وہ خود بھی انجان تھا۔۔۔۔۔
حویلی کا اکلوتا وارث اور شاہ خاندان کا خون تھا انا اور خودسری کے ساتھ دولت کا غرور بھی خون میں شامل تھا ۔۔۔
عورت کی عزت نا سکھائی گئی تھی نا کبھی کروائی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
ہوش سنبھالنے سے جو جانا تو صرف یہ کے عورت مرد کے لیے ایک کھلونے سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔اُس کی حیثیت پیر کی جوتی کے برابر ہے جسے ہر حال۔میں پیر میں ہی رہنا ہے۔۔۔۔
اُس کی اٹھائیس سالہ زندگی میں بھی کئیں آئیں کئیں گئی
جسے نظر نے دھتکارنا چاہا اُسے دھتکار دیا جس سے کھیلنا چاہا کھیل لیا۔۔۔۔۔۔
کچھ ضد کی نظر ہوئی کچھ دل جوئی کے۔۔۔۔۔۔
لیکِن ہر ایک کا سفر صرف نظر سے بستر تک ہی محدود تھا
پہلی دفعہ ہی کِسی کو اتنا سوچا تھا ۔۔
دیکھنے کو اتنا تڑپا تھا۔۔۔
اُس کی قربت کو اتنا محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔
خوبصورتی کو وجہ ماننا چاہتا تھا لیکن اس سے زیادہ خوبصورت جسم بھی تو کبھی اُس کی باہوں کی زینت بن چکے تھے۔۔۔۔۔۔
تھی تو محبت کی پہلی دستک ہی لیکن وہ اُسے نظر انداز کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ کر بھی انجان بننا چاہتا تھا۔۔۔۔
کیوں کے محبت عزت دیتی ہی اور عزت رتبہ بڑھا دیتی ہے ۔۔۔اور عورت کا رتبہ بڑھے یہ مردانگی کو گوارہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
رحمت نے دو تین لوگوں سے قرض لے کر بچی ہوئی ایک لاکھ کی رقم کا انتظام کر لیا تھا۔۔۔۔۔حالانکہ اب اس رقم کو سود سمیت جلد سے جلد واپس کرنا بھی بڑا مسلہ تھا لیکِن فلحل کے لئے وہ مطمئن تھا کے فلک کی شادی خیر سے ہو جائے گی۔۔۔۔
وہ رقم لے کر سیدھا فلک کے سسرال پہنچا اور آبان کے باپ کے ہاتھ میں رقم تھمائی تو وہ خوشی سے نہال ہو گیا اتنے عرصے میں پہلی دفعہ رحمت کو دیکھ کر اُن دونو میاں بیوی نے منہ بنانے کی بجائے اس کی تعریف کی۔۔۔۔۔۔
اُس کے آگے کھانے کی پیش کش کی جس سے وہ انکار کرتا اُن لوگوں سے اجازت لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
ایک بہت بڑا بوجھ اب بھی کندھوں پر تھا لیکِن پھر بھی آج خود کو ایک بوجھ سے آزاد محسوس کر رہا تھا
سماج نے بیٹی کو بوجھ جو بنا دیا تھا۔۔۔
شادی میں دو دن باقی تھے اور گھر میں مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔دُوسرے شہرِ سے اس کی پھوپھو اپنی فیمیلی کے ساتھ تین دن پہلے ہی آگئی تھی اور آج اس کے ماموں چاچا سب اپنی فیملی سمیت وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔
شمع کی ذمےداری بھی بڑھ گئی تھی اس نے حیا کو بلا کر اپنے ساتھ کاموں میں لگایا ہوا تھا دونوں بچپن سے بہت اچھی سہیلیاں تھی ایک عمر کی۔تھیں اور اسکول بھی ایک ساتھ ہی پڑھہی تھی
فلک کی رسمیں کی جا رہی تھی وہ بس اپنے کمرے تک محدود تھی ۔۔۔چہرے پر الگ ہی نور تھا ۔۔۔۔جس نے اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا تھا۔۔اماں دل ہی دل میں اس کی ہزار بار نظر اُتار رہی تھی۔۔۔۔۔
حالانکہ اُسے پہلے ہی نظر لگ چُکی تھی۔۔جس کی لپیٹ میں فلک سمیت اور بھی بہت کچھ تباہ ہونا تھا
شمع ۔۔۔۔۔۔۔میری چائے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا کچن میں داخل ہوا تو شمع کی بجائے حیا کو وہاں دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گیا۔۔۔۔۔حیا اس کی آواز پر بوکھلا گئی۔۔۔جب کے ارحم کے تو دل میں ستار بجنے لگے۔۔۔۔کہاں امید تھی کے صبح صبح اپنی خاموش محبت کے یوں دیدار نصیب ہوں گے
وہ تو آج صبح چھت پر اسے نا پا کر مایوس تھا کیا خبر تھی کے اُس کا چاند چھت سے زمین پر اُس کے گھر میں آگیا تھا
اُسے وہیں جم کر خود کو گھورتے محسوس کیا تو وہ ایک ناگوار نظر اُس پر ڈالتی خود کچن سے باہر نکلنے لگی لیکِن وہ اس کے سامنے آگیا۔۔۔۔حیا نے غصے سے ناک پھلائے سائیڈ سے نکلنا چاہا لیکِن وہ پھر سامنے آگیا اور دو دفعہ پھر یہی ہوا اب کے حیا نے نظریں اٹھا کر اُسے بڑی سخت نظروں سے اُسے گھورا۔۔۔۔۔ارحم اُسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اس کے یوں دیکھنے پر دل پر ہاتھ رکھے فدا ہونے والے انداز میں اُسے دیکھا وہ سٹپٹا کے رخ پھیر گئی۔۔۔۔
کتنا خوبصورت تھا یہ احساس۔۔۔کاش وہ اُسے اپنے گھر کے کچن میں ہر روز یوں ہی دیکھے پورے حق سے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی کمر پر بکھرے گھنے بالوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا۔۔۔۔
حیا کا دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا۔۔وہ نا خود وہاں سے جا رہا تھا نہ اُسے جانے دے رہا تھا۔۔۔گھر میں اتنے لوگ موجود تھے اگر کوئی آجاتا تو۔۔۔۔اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی
اُس نے پلٹ کے التجائی نظروں سے اُسے دیکھا تو ارحم اس پر ترس کھا کر سائیڈ پر ہو گیا وہ بجلی کی تیزی سے اُس کے قریب سے بھاگی تو ارحم دیر رک اُس کی خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆