Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

خوبصورتی سے سجے لان میں دو شاندار صوفے رکھے تھے۔۔دونوں کے درمیان فاصلھ تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔وہ زیرِ لب مسکرا رہی تھی جب کے داؤد سنجیدہ تاثرات لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔زینب نے دل ہی دل میں دونوں کی نظر اتارتے ہوئے اُن کی خوشیوں کی دعا کی
آپی مجھے لگا آپ ڈانس کرتی ہوئی آوگی۔۔۔۔لیکِن آپ تو شرماتی ہوئی آرہی ہو۔۔۔۔۔۔۔یہ مریکل کیسے ہوا۔۔۔
روما اُس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی معصوم سی خوشی بھی يلو فراک میں اُس کے ساتھ لگ کے بیٹھی ہلدی انجوائے کر رہی تھی۔۔جیا عشرت شیرین اور کچھ لڑکیاں سب اُسے گھیرے ہوئے کھڑی تھیں۔۔۔۔۔
نین میں تم سے نہیں بولتی۔۔۔۔۔
عشرت نے اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے منہ پھلا کر کہا
کیوں بھابھی کیا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے منہ کھولے دیکھنے لگی
تم نے شیرین کی تعریف کی لیکِن میری نہیں کی۔۔۔۔۔
عشرت نے شکوہ کیا تو وہ ہنس پڑی۔۔۔۔اور باقی سب بھی
بھابھی میں آپ کی تعریف کرنے کے لیے غزل لکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے قریب آنے کا اشارہ کرکے اُس کے کان میں بڑبڑا ئی
ہا۔۔۔۔۔مطلب یہ مجھ سے بھی زیادہ اچھی لگ رہی ہیں۔۔۔
اُس کی واضح بڑبڑا ہٹ سن کر شیرین نے حیرت سے پوچھا
بھابھی آپ دونوں ہی برابر ہے میرے لیے۔۔۔۔۔۔آۓ لوو یو
وہ ہنس کر بولی۔۔۔۔
سب اُن کی باتوں کو انجوئے کر رہے تھے۔۔۔
سب سے پہلے دادی ہلدی لگانے داؤد کی طرف بڑھیں
اُن کا ہاتھ چہرے تک پہنچنے سے پہلے ہی اُس نے روک دیا
سب حیرت سے اُسے دیکھنے لگے
دادی مجھے نہیں لگوانا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا۔۔۔
داؤد یہ رسم ہوتی ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔اور یہ رسمیں نبھانا بہُت ضروری ہے
دادی نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا
ساری دادی ۔۔۔۔۔۔لیکِن مجھے یہ رسم نبھانے میں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے بے رخی سیجواب دیا تو سب اُسے دیکھ کر رہ گئے۔۔۔نین بھی حیرت سے اُس کے چہرے کی بیزاری کو دیکھنے لگی
جانے دیجئے نا امی ۔۔۔۔ویسے بھی آج کل کے بچے یہ سب کہاں پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم جلدی سے سب کا دھیان داؤد سے ہٹاتے ہوئے بولیں۔۔۔اُن کے بہانے پر کِسی کو کوئی خاص تسلی نہیں ہوئی لیکِن سب چپ رہے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے بھی مایوسی سے اُسے دیکھ کر رابعہ بیگم کی ہاں میں ہاں ملائی
نانو ۔۔۔۔۔۔داؤد کے بدلے کی ہلدی بھی آپ مجھے ہی لگا دیجیۓ۔۔۔مجھے یہ رسم ڈبل نبھانے میں کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ پر جوش سی مسکرا کر بولی تو سب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی پل میں ماحول خوش کن ہو گیا
جب شادی والے دن چہرے پر پمپل نظر آۓ گے تب پتہ چلے گا۔۔۔۔۔۔۔
جیا نے اُسے وارن کرتے ہوئے کہا
جیا کی بچی ڈراؤ تو مت۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوفزدہ شکل بنا کر بولی
سب نے ایک ایک کرکے اُس کے چہرے ، ہاتھوں اور پیروں پر ہلدی لگائی۔۔۔۔۔۔۔اور وہ کھل کر انجوئے کر رہی تھی
سب کےساتھ سیلفی لے رہی تھی۔۔۔
شادی کی پہلی رسم ساتھ میں کر رہے ہیں ۔۔ڈانس تو بنتا ہے۔۔۔۔۔
عشرت نے دونوں کو اپنی اپنی جگہ سے اٹھا کر ساتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے سامنے بے حرکت کھڑے رہے۔۔۔نین حیا کے مارے۔۔۔داؤد ضبط کے مارے۔۔۔۔
خوبصورت سا گانا پلے کیا گیا اور سب شور کرنے لگے۔۔۔۔
یہ دونوں تو نائنٹیز کے کپل کی طرح شرما رہے ہے۔۔۔
سب کی ہوٹنگ اور جملے بازی جاری تھی
نین مسکراتے ہوئے سب کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
عشرت کے دھکّا دینے پر وہ مجبوراً آگے بڑھا اور نین کے قریب ہو کر ایک ہاتھ اُس کی کمر پر اور دوسرے سے اُس کا ہاتھ تھامے ڈانس اسٹیپ لینے لگا۔۔۔چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔
جب کے نین کا چہرہ حیا اور خوشی سے دمک رہا تھا
داؤد۔۔۔
نین نے اُسے آہستہ آواز میں پکارا تو وہ سپاٹ نظروں سے اُسے دیکھنے لگا
۔مجھے بہت عجیب فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
میرا دل نہ جنریٹر کی طرح دوڑ رہا ہے۔۔۔۔تھوڑا ڈر بھی لگ رہا ہے۔۔۔۔۔اور گُدگُدی بھی ہو رہی ہے۔۔۔۔کیا تمہیں بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ تجسس بھری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے اپنے دل کا ہال بتانے لگی۔۔۔۔اور داؤد کو اُس کی آنکھوں میں بکھرے رنگوں نے شرمندگی اور دکھ کی حدوں تک پہنچا دیا۔۔۔۔۔۔۔وہ ایکدم سے رک کر اُس سے دور ہوا
مجھے ایک کال کرنی ہے نین۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں چرائے بہانہ بنا کر تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا
وہ حیرت سے اُسے جاتے دیکھتی اُس کے بدلے انداز کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہ گئی۔۔۔
کچھ پل پہلے تک جن آنکھوں میں خوشی تھی اب صرف حیرت اور حیرت تھی
وہ اندر آکر سیدھے اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔۔۔
اُسے آتے دیکھ کر فلک چونک کر سیدھی ہوتی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
اُس نے دروازہ بند کیا اور اُسی سے ٹیک لگائے ۔۔۔آنکھیں بند کرکے۔۔۔گہری سانسیں لینے لگا۔۔۔۔۔
اُس کا دل اس پر ملامت کر رہا تھا۔۔۔کیوں کے ہر حال۔میں سب سے زیادہ غلط نین کے ساتھ ہونے والا تھا۔۔۔
سب سے زیادہ چوٹ اُسے پہنچنی تھی
اور اُس کی وجہ وہ تھا
آپ اس طرح کیوں چلے آئے۔۔۔ سب۔۔۔۔ کیا سوچ رہے ہوگے
وہ اُسے دیکھ کر پریشانی سے بولی داؤد نے ایکدم سے آنکھیں کھولیں جو ضبط اور غصے سے سرخ تھیں۔۔
مضبوط قدم اٹھاتا ہوا اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
فلک کو اچانک ہی گھبراہٹ ہونے لگی شاید اُس کے سرد انداز سے۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کی کمر تھامے اُسے زور سے اپنی جانب کھینچا۔۔وہ بلکل بھی اُس سے یہ توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔اُس کے سینے سے ٹکرا کے حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہ کبھی بھی اُس کے ساتھ سخت نہیں ہوا تھا۔۔۔
ایک کمرے میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ فاصلھ بنائے رکھتا تھا۔۔ ۔۔۔لیکِن آج اُس کا انداز سر سے پیر تک بدلا ہوا تھا۔۔۔۔
گرفت میں اتنی سختی تھی کے فلک کو اُس کی انگلیاں کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہُوئی۔۔۔۔۔
میں کوئی کٹ پُتلی ہوں جو ہر کوئی مجھے اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
میرے اپنے کوئی جذبات کوئی احساسات نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتا ہوا غصّے اور ناراضگی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے بولا
میں نے تمہیں اتنی چھوٹ دے دی کے تم نے ہمارے رشتے کو سیریس ہی نہیں کیا۔۔۔۔
بہت شوق ہی تمہیں مجھے خود سے دور کرنے کا
تو اب مجھے بھی ضد ہے تمہارے قریب قریب بس قریب رہنے کی۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے خوف سے لرزتے وجود کو دونوں ہاتھوں سے مزید خود میں بھینچے لگا۔۔۔چہرہ اُس کے چہرے کے اتنے قریب تھا کے اُس سانسوں کی تپش فلک کو جھلسا رہی تھی۔۔۔۔عجیب جنونی انداز اور لہجہ تھا کے وہ فلک کو داؤد نہیں کوئی اور لگا۔۔
اُس نے کسمسا کر اُس کی قید سے نکلنے کی کوشش کی
اُس کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔۔۔۔دل خوف سے تیز ہو کر دھڑکنے لگا۔۔۔اور سانسیں بے ترتیب ہونے لگی
داؤد پہلی دفعہ اُس کے ساتھ اتنا بے رحم ہوا تھا۔۔۔
اُس کے اتنے شدید ردِ عمل پر بھی وہ دور ہونے کی بجائے اُسے تھامے اُس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔۔
اسکے چہرے پرخوف۔۔آنکھوں میں نمی۔۔۔پلکوں میں لرزش۔۔۔۔پیشانی پر پسینہ۔۔۔اور تیز ہوتی سانسوں سے اسکی دلی کیفیت کا اندازہ لگانا آسان تھا۔۔۔۔
وہ اپنے گزرے کل سے نکلنا ہی نہیں چاہتی تھی اس خوف کو زہن سے نکال ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔ لیکِن اب داؤد کو یہ منظور نہیں تھا ۔۔۔۔۔
فلک اُس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اُسے پیچھے کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔پورا وجود پسینہ ہو رہا تھا۔۔۔۔آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسو چہرے کو نم کررہے تھے۔۔۔۔۔۔سانسیں سینے میں اُلجھ رہی تھی۔۔۔۔
داؤد نے اُس کی پیشانی سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے ایک گہری سانس لی۔۔۔۔
فلک کی ہر حرکت ساکت ہو گئی۔۔۔۔
وہ ٹہر کر نم آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اُس کے لمس سے پیشانی سلگتی ہوئی محسوس ہوئی
تمہاری بے اعتباری سے لگتا ہے۔۔۔۔میری محبت۔۔۔۔میری چاہت۔۔۔۔میری کوششیں۔۔۔میری خواہشیں سب ضائع ہے۔۔
وہ بھاری آواز اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔فلک نے اُس کی دہکتی سانسوں کو محسوس کرکے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
خاموش لمحے آہستہ سے گزرتے ہوئے۔۔۔۔
داؤد نے پیچھے ہو کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
فلک کی جھکی ہوئی پلکیں اب بھی نم تھیں۔۔
لیکِن اب سانسیں معتدل تھیں۔۔۔۔۔دھڑکنیں پر سکون تھیں
وہ اُس سے دور ہوا۔۔۔۔فلک نے نظریں اٹھا کر اُس کی جانب دیکھا
جب تک تم مجھ پر اعتبار کرنا نہیں سیکھ جاتی۔۔۔میرے دل کو سکون نہیں ملے گا۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پر سوز لہجے میں کہتا ہوا پلٹ کر روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔وہ بند دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔
عجیب اُلجھن تھی۔۔۔۔۔گھبراہٹ تھی لیکن فکر بھی تھی۔۔۔۔
اُس کا دل داؤد کے لیے پریشان ہو رہا تھا
شمع کی باتیں یاد آرہی تھیں
لیکِن اُس کے لیے اتنی جلدی سب بھول پانا آسان نہیں تھا۔
رات گئے تک وہ اُس کے بارے میں سوچتی رہی کے وہ کہاں ہوگا کیا کر رہا ہوگا۔۔۔
وقت گزرنے لگا تو بے چینی ہونے لگی کے وہ روم میں واپس کیوں نہیں آیا۔۔دل کیا باہر جا کر دیکھ لے کے گھر میں ہے یا نہیں لیکِن داؤد نے اُسے منع کیا تھا۔۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کے وہ اُسے دیکھنے کو اتنا تڑپ کیوں رہی ہے۔۔۔۔۔
اور آخر اُس کے دل کوچین ملا جب وہ رات ایک بجے روم میں آیا۔۔۔
فلک اُسے دیکھتے ہی الرٹ ہو گئی۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے بس ایک نظردیکھا اور نظریں پھیرتے ہوئے نظر انداز کرتا اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا
صاف مطلب تھا کے وہ اُس سے ناراض ہے۔۔
فلک کو اُس کے ایسے خشک رویے سے رونا آنے لگا
وہ باہر آیا تو وہ آنسو رگڑتی اُس سے بات کرنے کی کوشش میں تھی لیکن وہ اُسے یہ موقع دیے بغیر اپنا تکیا صوفے پر رکھ کے وہاں لیٹ گیا اور آنکھیں موند لی۔۔۔وہ حیرت سے اُسے دیکھتی دوبارہ رونے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ بلکل بھی کسی کو جواب دینے یا بہانے بتانے کے موڈ میں نہیں تھا اس۔لیے صبح صبح ہی تیار ہو کر گھر سے نکلنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاکہ کسی سے سامنا نہ ہو
فلک کو اُس کا اگنور کرنا بلکل برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔وہ اُس سے بات کرنا تو دور اُس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔ہمیشہ مہرباں رہنے والا ایسی بے رخی کرے تو دل دکھتا ہی ہے
وہ آئینے کے آگے کھڑا اپنا اوپری کورٹ پہن رہا تھا۔۔۔۔وہ اُسے ہی دیکھ رہی تھی لیکن داؤد اُس کے عکس سے لاتعلقی برت رہا تھا
مم۔۔۔مائے۔لوو۔۔۔۔۔۔
اُس نے آخر کو پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا اور اُس کے یوں پکارنے پر داؤد کا دل پھر اُسی خوش کن انداز میں دھڑکا لیکن وہ اپنے تاثرات چھپائے سختی بنائے رہا۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے اس کی نرمی فلک کو کبھی مضبوط نہیں ہونے دیتی
اُس کے پکارنے پر سنجیدگی سے اُس کی جانب دیکھتا کلائی۔میں گھڑی ڈالنے لگا
آپ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔
اُس نے اُداسی سے اُسے دیکھا
کیا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
داؤد کی گہری نظروں سے وہ نظریں جھکا کر انگلیاں مروڑنے لگی
مجھے آپ پر اعتبار ہے۔۔۔
اُس نے آہستہ سے کہا اور نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
آپ پر اعتبار کرکے ہی تو میں نے دوبارہ جینا سیکھا ہے۔۔۔۔
مجھے آپ پر اعتبار ہے
وہ اُسے یقین دلاتے ہوئے بولی۔۔۔داؤد نے سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے قدم اُس کی طرف بڑھائے
آزما لوں۔۔۔۔۔۔
معنی خیز نگاہیں اُس کی آنکھوں سے ہٹ کر سُرخ لبوں پر آئی اور بنا کورٹ اُتارے شرٹ کے بٹن کھولتا ہوا اُس کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔۔۔۔۔۔دل دھڑکنا بھولا۔۔
وہ اُسے گہری نظروں سے دیکھتا قدم قدم اُس کی طرف بڑھتا رہا اور وہ پیچھے ہوتی ہوتی دیوار سے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر اُس کے کھلے شرٹ سے جھلکتے سینے پر پڑی خوف سے گلا خشک ہونے لگا
وہ داؤد کو۔قریب آتے دیکھ سائیڈ سے جانے لگی لیکن داؤد نے دیوار پر ہاتھ رکھے اُس کا راستہ روک دیا
اُس نے حیرت اور گھبراہٹ سے اُسے دیکھا اور دوسری جانب سے نکلنے کی کوشش کی لیکن داؤد نے دوسری طرف بھی دیوار پر ہتھیلی ٹکائے اُس کی کوشش کو ناکام کیا۔۔۔
اُس کی شوخ نظروں کے ارتکاز سے اُسے اپنے لب خشک ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔۔
اُس کے تیز پرفیوم کی خوشبو کے اثر سے سانسیں معطر ہونے لگی
داؤد نے دیوار سے ایک۔ہاتھ ہٹا کر اُس کے چہرے کے گرد بندھے ڈوپٹے کی پن نکالی اور اُسے کھول کر فلک سے الگ کرکے بیڈ پر پھینکا۔۔۔۔
فلک کا پورا رنگ سفید ہو گیا۔۔۔۔۔۔آنکھیں بے یقینی سے داؤد کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہ اُنگلی سے اُس کے ماتھے پر آتے بالوں کو ہٹاتا ہوا چہرے پر لکیر بنانے لگا وہ اُس کے لمس کو محسوس کر سانس روک گئی۔
داؤد۔۔ہاتھ چہرے سے ہٹا کر کمر پر رکھتے ہوئے اور قریب ہوا
جب میرے قریب آنے پر خوف سے سانس روکنا چھوڑ دوگی
تب مانو گا اعتبار ہے
وہ اُس کے کان میں قریب جھکا دھیمی سرگوشی میں بولا۔۔ تیز سانسوں کی آواز نقارے کی طرح دماغ پر اثر کرنے لیے۔۔۔داود کو۔سائے کی طرح خود پر جھکے دیکھ اُس کے پورے بدن میں لرزش ہونے لگی۔۔۔۔
جب میری باہوں میں آکر خود کو محفوظ سمجھنے لگو گی
تب مانو گا اعتبار ہے
اُس کے لبوں نے فلک کے کان کی لو کو ہلکا سا چھوا اُس کے بدن میں جیسے آگ سے لگ گئی وہ تیز تیز سانسیں لینے لگی۔۔۔۔آنکھیں بھیگنے لگی
جب تم مجھ میں کھو کر ساری دنیا کو بھول جاؤ گی
تب مانو گا اعتبار ہے
وہ پیچھے ہو کر اُس کے چہرے پر جھکا پر تپش لہجے میں بولا اور اُس کے لرزتے لبوں پر جھکنے لگا ۔۔۔
فلک نے آنکھیں سختی سے میچ لی۔۔۔۔دونوں ہاتھوں سے اپنے کپڑوں کو سختی سے جکڑ لیا۔۔۔۔
داؤد کی سانسوں سے اُس کے لب دہکنے لگے۔۔۔
داؤد اُس معمولی فاصلے کو بھی مٹا کر اُس کے لبوں کی نرمی کو محسوس کرنا چاہتا تھا لیکن رک گیا۔۔۔۔۔اور پیچھے ہو کر اُس سے دور ہو گیا۔۔۔۔
اُسے دور ہوتے محسوس کر فلک نے آنکھیں کھولیں اور بھیگی پلکیں اٹھا کے اُسے دیکھا۔۔دھڑکنیں معمول سے بھٹکی ہوئیں تھیں۔۔۔چہرے پر بدن کا پورا خون جمع ہوا تھا
مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور ہاں۔۔۔۔۔
اور اپنے شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا ٹیبل سے کیز اور فون اٹھا کر اُس کی طرف بڑھا
آج مہندی ضرور لگوانا۔۔۔۔۔میری شادی کی تم سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی
اُسے سنجیدگی سے دیکھتا ہوا بولا اور روم سے نکل گیا
۔۔۔۔۔فلک دیوار سے لگی ہی زمین پر بیٹھتی گئی اور دھڑکنوں کا شمار کرنے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆\
کیا کر رہے ہوتم لوگ ۔۔۔۔۔۔یہ یہاں نہیں یہاں لگانا ہے۔۔۔۔
جلدی جلدی کرو۔۔۔۔۔
شیزا سجاوٹ کرنے والو کو انسٹرکشن دے رہی تھی۔۔
گھر میں خوب رونق تھی۔۔۔چاروں اور مہندی کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
سب اپنی ہتھیلیوں کو رنگ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
شیزا تم نے نین کو تیار کیا یا نہیں۔۔۔۔۔اور مہندی والی کہاں ہے۔۔۔۔مہمان آنے شروع ہو گئے ہے
جیا اُس کے سر پر پہنچی ایک کے بعد ایک سوال کرنے لگی
یس میم۔۔۔۔۔۔سب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔مہندی والی بھی بس پہنچ رہی ہے۔۔۔۔اور لیجئے برائیڈ اس ہیئر۔۔۔۔
شیزا نے جواب دیتے ہوئے مسکرا کر سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ روما اور خوشی کے ساتھ ڈارک گرین لہنگے چولی میں کلائیو پر دوپٹہ لپیٹے دھیرے دھیرے سیڑھیاں اُتر رہی تھی
جیا اُسے دیکھ کر مسکرائی
تم یہ سب ختم کرواؤ جلدی سے۔۔۔ورنہ ان لوگوں نے شادی تک بس ایسے ہی ہاتھ چلانے ہے۔۔۔۔۔
جیا اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے اُسے جتاتی رابعہ بیگم لوگوں کی طرف بڑھ گئی
بھیّا ادھر کریں اسے۔۔۔۔
وہ دوبارہ سے اُن لوگوں کی طرف متوجہ ہوئی کے اچانک نظر ساحل پر پڑی جو باہر سے آرہا تھا۔۔۔۔
اُسے دیکھتے ہی وہ سب بھول کر اُس میں مصروف ہو گئی۔۔
وہ اندر کی طرف بڑھا تو اُس کا پیر نیچے بکھری پھولوں کی مالا میں اُلجھا وہ بیزاری سے پیر سے اُسے نکالنے لگا
شیزا جلدی سے آگے بڑھی اور وہ مالا اُس کے پیر سے نکالی
سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرائی تو ساحل بھی مسکراتا اُسے دیکھ کر آگے بڑھ گیا اور یہ منظر نین کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکا
اوہ مائے گاڈ۔۔۔۔۔ماما کا ٹھرکی بیٹا پارٹ ٹو۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔مہندی والی اُس کے ہاتھ پر مہندی کی خوبصورت ڈیزائن بنا رہی تھی
وہ بھی بے چاری معصوم سی شیزا کے ساتھ۔۔۔۔۔
اُسے اب چندا کی طرح شیزا کے ساتھ ہمدردی محسوس ہوئی
بیگانی شادی میں ٹھرکی دیوانہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سیڑھیاں چڑھتا دیکھ بڑبڑا ئی اورپھر اپنی مہندی کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔۔
شاید وہ اکیلی لڑکی تھی جِسے اپنی شادی کا اتنا شوق تھا۔۔۔
اُس کا دل اپنے خواب کو مکمل ہوتا دیکھ خوش ہو رہا تھا لیکن اچانک داؤد کا کل والا رویہ یاد آیا تو مسکراہٹ سمت گئی
پتہ نہیں کیوں اُس کا دل اب اس بات کو سوچ کر گھبرا رہا تھا
بھابھی داؤد کہاں ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے شیرین کیطرف دیکھتے ہوئے پوچھا
بیٹا اُسے کچھ بہت ضروری کام تھا اس لیے مجبوراً گھر سے نکلا ہے۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے جلدی سے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔اُس نے اپنی اداسی کو چہرے تک آنے سے روکا
مجھے تو لگ رہا ہے وہ شادی سے بھاگ رہا ہے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔۔۔زینب میں حیرت سے اُسے دیکھا
کچھ بھی بولتی ہے پاگل لڑکی۔۔۔۔۔۔۔
اُسے گھورتے ہوئے بازو پر چپت لگائی وہ مسکرا دی لیکن وہ ادھُوری مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ دیر رات کو گھر واپس آیا۔۔۔تقریبا دو بج رہے تھے۔۔۔
روم میں۔جانے کی بجاۓ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر وہاں رکھی فروٹ باسکٹ سے سیب اٹھا کر کھانے لگا۔۔۔
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔
نین کے ایکدم سے آواز دینے پر ۔۔۔ منہ تک جاتا سیب اچھل کر گر گیا۔۔۔وہ ہنسنے لگی ساحل۔نے دانت پیستے اُسے گھورا
تیرے کو کیا۔۔۔۔تُو بھٹکتی آتما بن کر کائے کو گھوم ریلی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتا دوسرا سیب اٹھا کر کھانے لگا
جیسے دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام۔۔
ویسے بھوکے بھوکے پر لکھا ہے کھلانے والا۔کا نام۔۔۔
واہ واہ۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہارا پیٹ بھرنے کے لیے خدا کی قدرت سے بھیجی گئی ہوں
وہ اُس کے سامنے والی۔کرسی پر جھکی مسکرا کر بولی ساحل نے سر نفی میں ہلایا
اب تم جلدی سے بتاؤ کیا کھاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔۔
بٹر چکن ۔۔۔
بٹر پنیر۔۔۔
چکن مسالا
ایگ مسالا
انڈا بھرجی
پنیر بھرجي۔۔۔
چکن چلی
پنیر چلی
مٹن قورمہ
کڑھائی پنیر
کشمیری پلاؤ۔
یہ سب نہیں مل سکتا کیوں کے مجھے بنانا نہیں آتا
مجھے میگی بنانی آتی ہے۔۔۔ابھی بنا کے لاتی ہوں۔۔۔۔
وہ اُسے ساری اچھے اچھے پکوانوں کے نام گنا کر آخر میں اُسی روانی کے ساتھ بولی اور کچن میں گھس گئی۔۔۔۔
اس نے یوں دیکھا جیسے کیا لڑکی ہے یہ
پانچ منٹ بعد ہی وہ ٹرے میں دو بھاپ اڑاتے نوڈلس کے بول لے کے آئی ایک اُس کے آگے رکھا۔۔دوسرا سامنے رکھ کر کرسی سنبھال لی
اگر تو یہ مہربانی اس لیے کر رہی ہے کیوں کہ تجھے اپنے ہونے والے سسرالیوں کو امپریس کرنا ہے۔تو اپن کے پیچھے ٹائم پاس مت کر
کیوں کے نہ میں اس گھر کا کچھ لگتا نا تیرا۔۔۔۔۔۔
اپن کی اس گھر میں ان دیواروں جیسی اوقات ہے۔۔۔۔
گھر کا حصہ تو ہے لیکن گھروالوں کا حصہ نہیں۔۔۔
وہ میگی کی بائٹ لے کر سنجیدگی سے بولا
نین نے بھنویں بھینچ کر اُسے دیکھا
پہلی بات کے اتنی گہری باتیں میرے پلے نہیں پڑتی۔۔۔۔۔۔
اور ہاں میں کِسی کو امپریس کرنے کی کوشش نہیں کرتی سمجھے۔
تم خواہ مخواہ کی خوش فہمیاں پال رہے ہو۔
وہ تو مجھے بھوک لگی تھی۔۔۔اب اتنی رات کو خود کے لئے بناتی تو سب کہتے کیسی بھکڑ دلہن ہے۔۔۔۔اس لیے سوچا تمہارا بہانا لے کر خود کا پیٹ بھر لوں۔۔۔۔۔۔
وہ مزے سے بولی حلانکہ یہ بہانا ہی تھا لیکِن اچھا تھا
Enjoy the nain tara special masala maggie
میری شادی کی اسپیشل ٹریٹ صرف تمہیں مل رہی ہے۔۔۔کتنے لکی ہو تم۔۔۔۔۔
وہ اسے جتاتے ہوئے میگی سے انصاف کرنے لگی
ساحل نے اسپون لبوں سے لگاتے ہوئے اُسے دیکھا
سفید ڈھیلے ڈھالے کرتے اور ٹراؤزر میں۔۔بالوں کو کلچر میں قید کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ کہنیوں تک مہندی سے بھرے تھے
اپنی خوبصورتی سے بلکل لا پرواہ سادگی کی مثال بنی بیٹھی تھی
آنکھوں میں آنے والے دن کی خوشی صاف نظر آرہی تھی۔۔
اور وہ اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کے کل کا دن اُس کی زندگی کو کتنا توڑے گا
تونے اپن کو اسپیشل ٹریٹ دی تو بدلے میں ایک ٹپ دیتا ہوں تجھے
اُس نے چمچ بول میں ہلاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا نین نے میگی سے نظر ہٹا کے اُسے دیکھا
جاگتی آنکھوں سے زیادہ خواب مت دیکھ۔۔۔۔داؤد تجھ سے شادی نہیں کرےگا۔۔۔وہ اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کر چکا۔۔۔
اُس نے نہایت آرام سے بتایا ۔۔۔۔جب کے اُس کی بات نے تو نین کے دماغ کو جھنجھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔رنگ ایکدم سے فق ہو گیا۔۔۔وہ بہت مشکل سے لبوں کو کھینچ کر مسکرائی
یہ کوئی وقت ہے ایسا مڈل کلاس مذاق کرنے کا۔۔۔۔۔
آنکھیں اُس ہنسی کا بلکل ساتھ نہیں دے رہی تھی بلکہ خوف سے بھر رہی تھی
وہ جو فلک بھابھی ہے نہ اُس کی بیوی ہے۔۔۔۔۔۔وہ تو تجھے یہ بات بتانے کو مر رہا ہے۔۔۔لیکِن اُس کی ماں نے اُسے دھمکی دے کے منہ بند رکھنے پر مجبور کیا ہے۔۔۔
بے چارہ ماں اور محبت کے بیچ پسِ رہا ہے۔۔
اپن کو ان سب فالتو لفڑو سے کوئی مطلب نہیں ہے
بس تیری معصوم شکل دیکھ کر ترس آگیا
وہ لا پرواہ انداز میں بولا اس بات سے بے خبر کے اُس کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے
وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اُس کی طرف بڑھ کر اُس کا کالر پکڑلیا
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔
ساحل اپنے گریبان جکڑے اُن ہاتھوں کو سختی سے تھامتے اپنی جگہ سے اٹھا
آج تونے دوسری بار اپن کے کالر پر ہاتھ ڈالا ہے۔۔۔۔۔اور یہ آخری بار ہے۔۔۔۔آگے سے تیرے ہاتھ یہاں تک پہنچے تو تجھے قبر میں پہنچا دوں گا۔۔۔
جتنی عقل لپ اسٹک اور کپڑوں کے۔میچ کرنے میں لگاتی ہے نہ اتنی لوگوں کو پہچاننے میں بھی لگا لیا کر
جا کر داؤد کو پکڑ اور اُس سے پوچھ یہ سچ ہے یا نہیں۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے غصے سے بولا
مجھے داؤد سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
میں اچھی طرح سمجھ گئی ہوں کے تم یہ سب کیوں اور کس لیے کر رہے ہو۔۔۔۔کیوں کہ تم دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔تمہیں یہاں کوئی پسند نہیں کرتا اس لیے تم سب کا برا سوچتے ہو
وہ غصے سے بولتی آنسُو رگڑنے لگی وہ ہلکا سا ہنسا
نین اُس کی بات پر یقین کرکے بھی نہیں کرنا چاہ رہی رہی
مجھے لگا تھا شاید تم اتنے برے نہیں ہو جتنا سب کہتے ہیں
لیکن نہیں۔۔۔۔سب تمہارے بارے میں بلکل صحیح ہے۔۔
تم صرف زبان کے ہی نہیں دل کے بھی بہت برے ہو۔۔۔۔
مجھے افسوس ہو رہا ہے کے میرے ماما نانو اور داؤد تم جیسے گھٹیا آدمی کو اپنا سمجھتے ہے۔۔۔۔۔
تم اس گھر کا کیا مکان کا حصہ بننے کے بھی قابل نہیں ہو۔۔۔
وہ اُس کے ہنسنے پر روتے ہوئے غصے سے بولی
اتنا مت بول۔کے بعد میں پچتانے کے ٹائم بولتی بند ہو جائے۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا
میں تمہیں اس گھٹیا حرکت کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی ساحل
وہ اُسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی وہاں سے بھاگی۔۔۔۔
ساحل نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے گہری سانس لی۔۔۔۔