Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 92

گڈ مارننگ ڈیڈ۔۔۔۔۔
ہیل والے جوتوں کی آواز کے ساتھ انجو کی فریش پرجوش سی آواز نے اُس کے ڈیڈ کے ساتھ اُس کی مام کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔
مارننگ بیٹا۔۔۔کیسی رہی آپکی پارٹی۔۔
اُسے دیکھتے ہی سنگھ صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور وہ نیوز پیپر ٹیبل پر رکھ کر پوری طرح اُس کی طرف متوجہ ہوئے
جب کے اُس کی مام نے اُسے وہائٹ سلیو لیس ٹی شرٹ اور گھٹنوں سے اوپر تک کی جینس شارٹس میں دیکھ کر سر نفی میں ہلایا
بہت اوسم تھی ڈیڈ۔۔۔۔
وہ اپنے ڈیڈ کے پاس بیٹھتے ہوئے خوش باش انداز میں بولی
تبھی آپ اتنی خوش لگ رہی ہیں۔۔۔
اُنہوں نے پیار سے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا کر سر ہلا گئی
آپ ہی نے شہ دے کر بگاڑا ہے اسے۔۔۔۔
دونوں باپ بیٹی کو پارٹی والی بات پر اتنا خوش ہوتے دیکھ مسز سنگھ کا پارا چڑھنے لگا۔۔۔
پڑھائی پر دھیان دینے کی بجائے دیر دیر رات تک دوستوں کے ساتھ گھومتی ہے۔۔۔کپڑے ایسے پہنے ہے جیسے کالج نہیں فیشن شو میں جانا ہے اور آپ بجائے کچھ کہنے کے خوش ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
آپ کو نظر نہیں آتا کے اس کا پڑھنے لکھنے میں آج کل بلکل دل نہیں لگ رہا ہے ۔۔۔دوپہر تک سونا اپنی مرضی سے کالج جانا اور بس دوستوں کے ساتھ گھومنا ۔۔۔لڑکیوں کا ایسی حرکتیں کرنا اچھا لگتا ہے کیا۔۔۔
وہ جانتی تھی کے اُن کے ماحول میں یہ سب بہت عام ہے لیکن پھر بھی اُنہیں انجو کو لے کر ہمیشہ فکر رہتی تھی کے وہ کہیں کسی غلط راستے نا نکل پڑے ۔۔۔اُس کی حد سے زیادہ آزادی۔۔۔لیٹ نائٹ پارٹیز اور ماحول کے مطابق عادات و اطوار اُنہیں بلکل پسند نہیں تھے۔۔۔۔
اُن کے اس طرح غصے سے کہنے پر انجو منہ پھلا کے اپنے ڈیڈ کو دیکھنے لگی۔۔۔
جانے دو یار ۔۔۔بچی ہے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے بیٹی کی ناراض نظروں کا اشارہ سمجھ کر بیوی کو نرمی سے چپ رہنے کا اشارہ کیا
آپکی کی یہ بچی چوبیس سال کی ہو گئی ہے۔۔۔جلد ہی اس کی شادی کرنی پڑےگی۔۔۔۔شادی کرکے دوسرے گھر جائیگی اور وہاں ایسی حرکتیں کریگی تو کیا کہے گے سسرال والے کے ماں نے ذرا بھی سنسکار نہیں دیے اپنی بیٹی کو۔۔۔۔۔
وہ سنگھ صاحب کے حمایت کرنے پر چڑ کر جتاتے ہوئے بولیں۔۔
اچھا تو آپکو اپنی بدنامی کی فکر ہے۔۔
سنگھ صاحب نے اُن کی بات کو مزاق میں اڑا میں ابرو اٹھا کر پوچھا تو انجو اُن کے انداز پر ہنس پڑی۔۔۔۔۔
آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔
وہ سر تاسف سے ہلا کر دونوں کو گُھور تیں وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تو انجو جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔
اچھا ماما میں کالج جا رہی ہوں اور بلکل دھیان لگا کر پڑھائی کروں گی اور مستی ہرگز نہیں کروں گی۔۔۔بلکل سنسکاری کنیا کی طرح۔۔۔۔۔اوکے
وہ اُنہیں روک کر اُن کے گلے۔میں باہیں ڈالتی لاڈ سے بولی تو اُنہوں نے مصنوعی خفگی سے گھور کر اُس کے سر پر چپت لگائی۔۔۔۔۔
ہنستے مسکراتے اپنی بكس تھام کر کالج جانے کے لیے باہر نکلنے کو دو قدم ہی بڑھائے تھے کے مین دروازے سے اندر داخل ہوتے شخص کو دیکھ کر اپنی جگہ اسٹل رہ گئی۔۔۔۔۔
گرے جینس اور آف وہائٹ شرٹ میں وہ مجسمہ خیال بن کر اُس کے سامنے تھا
اُس کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ حرکت کرتے اُس کے براؤن بال بے حد پرکشش تھے۔۔۔گہری نیلی پر جذب آنکھوں میں وہی دلکشی تھی۔۔۔ لیکن اُس کا یوں اپنے سامنے ہونا
اُسے یہ اپنا خیال ہی لگا کے پچھلے دن سے جس قدر وہ اُس کے بارے میں سوچتی رہی تھی شاید یہ اُسی کا اثر ہو لیکن جیسے جیسے وہ اُس کے نزدیک آتا گیا فاصلے کم ہوتے گئے۔۔۔ وہ بار بار پلکیں جھپک کر یقین کرنے کی کوشش کرتی رہی کے وہ حقیقتاً یہاں موجود ہے یا نہیں۔۔۔
اور جب اُس کے سامنے آکر نظریں ملنے پر وہ ہلکا سا مسکرایا اور دائیں گال میں ڈمپل واضح ہوا تب اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔۔۔۔
آپ یہاں۔۔۔۔۔۔
اُس کی حیرت زدہ آواز پر اُس کے مام ڈیڈ بھی اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
بیٹا یہ دکش ہے۔۔۔۔۔۔ان کے فادر میرے بہُت خاص دوست ہے۔۔۔
اُس کے جواب دینے سے پہلے سنگھ صاحب مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے انجو کے پاس آکر بولے تو وہ حیرت سے اُن کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔مسز سنگھ بھی اُن کے ساتھ کھڑی ۔۔۔ اُسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
پرانوم آنٹی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسز سنگھ کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا اور پھر اُن کے آگے جھک کر اُن کے پیر کو چھوکے سیدھا ہوتے ہوئے ہاتھ اپنے سینے پر رکھا۔۔
وہ حیرت زدہ سی اُسے دیکھتی رہ گئیں ۔۔۔۔کیوں کے اُس کا پرنام کہنا انگریزی لہجے میں تھا اور حرکت مذہبی۔۔۔۔۔
میری بیٹی انجو۔۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب نے اُس سے انجو کا تعارف کروایا۔۔جو اپنی دھن میں اُسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
میں ان سے کل ہی مل چکا ہوں انکل۔۔۔
دکش نے اُن کے تعارف کروانے پر اَنجو کی طرف دیکھا
ہاں پاپا وہ کل شام کچھ بدمعاش مجھے پریشان کر رہے تھے تو انہوں نے میری ہیلپ کی تھی۔۔۔
انجو کی نظریں اب بھی اُس کے چہرے پر ہی تھی اور آنکھوں میں بے پناہ چمک تھی۔۔۔جب کے اُس کی بات پر سنگھ صاحب چونکے اور مسز سنگھ نے بھی حیرت سے اُسے دیکھا
کیا۔۔۔۔آپ نے اس بارے میں مجھے کیوں نہیں بتایا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے حیرت و پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔
میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ڈیڈ۔۔۔ویسے بھی دکش نے اُنہیں اچھی طرح سبق سکھا دیا تھا۔۔۔آئندہ وہ ایسی حرکت نہیں کرتے کِسی سے۔۔۔
انجو نے اُنہیں پریشان دیکھ تسلی آمیز لہجے میں کہا تو اُنہوں نے گہری سانس لی۔۔۔۔
تھینک یو بیٹا۔۔۔۔تم نے ۔۔۔
مسز سنگھ جو پہلے ہی اُس سے متاثر تھی انجو کی بات سن کر اُس کی مشکور ہوئی لیکِن وہ اُن کی بات ادھُوری کر گیا۔۔۔
پلیز ڈونٹ آنٹی۔۔۔۔بیٹا اور تھینک یو ایک ساتھ سوٹ نہیں کرتے۔۔۔۔سو پلیز
اُن کی بات کاٹ کر اپنائیت سے بولا تو اُس کے لب و لہجے نے انجو پر گہرا اثر چھوڑا۔۔۔۔۔
بلکل صحیح بات کی ہے تم نے۔۔۔۔
سنگھ صاحب بھی خوش ہو کر بولے۔۔۔
آپ کھڑے کھڑے ہی باتیں کر لیں گے یا مہمان کو بیٹھنے کا بھی موقع دیں گے۔۔۔
مسز سنگھ نے اُس کا خیال کرتے ہوئے اُنہیں شرمندہ کرنا چاہا تو اُنہوں نے ہنستے ہوئے اُسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جب کے انجو کی نظر بلکل اُس پر تھی وہ ٹھیک سامنے والے صوفے پر اپنی ماں کے برابر بیٹھی بلاجھجک اُسے دیکھنے میں مصروف تھی حالانکہ وہ اُس سے بےنیاز سنگھ صاحب کی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
شادی میں کافی دن باقی تھے لیکن ریا کی ناراضگی کے چلتے اُسے دہلی آنا پڑا ۔۔۔۔کیوں کے وہ اُسے کافی بلیک میل کر چکی۔۔اور اُس کا فون تک اٹھانے کو تیار نہیں تھی۔۔۔
گھر والے بھی اُس کے فیصلے پر راضی تھے کے اُس کے لیے روٹین کچھ تو بدلے گی۔۔۔۔بھلے وہ پریشان نظر نہیں آتی تھی لیکن اُس کے لیے ہر کوئی پریشان تھا۔۔۔۔
نین۔۔۔۔۔۔۔
ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی اُسے اپنے نام کی پكار سنائی دی۔۔۔۔تو اُس نے پلٹ کے دائیں طرف دیکھا
ہائے پورب۔۔۔۔۔۔
ریا کے بھائی کو دیکھ۔۔ وہ زور سے ہاتھ ہلا چلائی
آجاؤ ۔۔۔۔گاڑی ادھر ہے۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر آگے بڑھا اور اُس کے ہاتھ سے دونوں بیگز لے کر اُسے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
نین کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور بیگز پیچھے رکھ کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔۔۔۔
تم نے ریا کو میرے آنے کا بتایا تو نہیں نا۔۔۔۔
گاڑی آگے بڑھتے ہی ہوا کے جھونکے سے وہ کچھ سکون محسوس کرتی اچانک سیدھی ہو کر پوچھنے لگی
کیوں کے اُس کا ارادہ ریا کو سرپرائز دینے کا تھا اسلئے اُس نے ابھی تک اپنے آنے کے متعلق نا خود اُسے بتایا تھا نا کسی کو بتانے دیا تھا۔۔یہی وجہ تھی کہ پورب خود اُسے لینے آیا تھا۔۔۔
بلکل نہیں۔۔۔۔۔تمہارے منع کرنے کے بعد اُسے بتا کر مجھے اپنی شامت تھوڑی بلوانی تھی۔۔۔۔
پورب نے اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
کتنے اچھے سے جانتے ہو نا تم مجھے۔۔۔۔۔
اُس نے مصنوعی کالر جھاڑے تو وہ ہنسا لیکِن اُس کی ہنسی نین کو بہت خالی محسوس ہوئی اسلئے وہ سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھنے لگی
کیوں کے مجھے یقین ہے تم کبھی نہیں بدل سکتی۔۔۔نین دا ڈینجر لڑکی۔۔۔۔
وہ سامنے نظریں جمائے ڈرائیونگ کرتے ہوئے تعریفی انداز میں بولا
لیکن تم شاید بدل گیے ہو۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو نا پورب۔۔۔۔
نین نے اُسے جانچتی نظروں سے دیکھا کیوں کے وہ پہلے بھی کئی بار اُس سے مل چکی تھی اور وہ بہت زندہ دل انسان تھا۔۔لیکِن اس وقت بلکل بدلا ہوا لگ رہا تھا
اُس کے یوں پوچھنے پر پورب نے ایک پل کو سنجیدگی سے اُسے دیکھا اور پھر مسکرایا
مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔میں تو فٹ ہوں۔۔۔ایز الویز۔۔۔
اُس نے حیرت سے مسکرا کر کہا
انکل کیسے ہے۔۔۔
نین نے بھی اُس کے مسکرانے پر سر جھٹک کر موضوع بدلا۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
اُس کے ذہن میں چند مہینے پہلے ہوئی دکش سے اپنی پہلی ملاقات کے مناظر گھوم رہے تھے۔۔۔۔پہلے اتفاق سے دونوں کا ملنا۔۔۔پھر دکش کا اُس کے گھر آنا۔۔۔۔بار بار دونوں کا ایک دوسرے سے سامنا ہونا۔۔۔دھیرے دھیرے ایک دوسرے کو جاننا۔۔۔۔اور پھر دوستی ۔۔سب کچھ بہت جلدی جلدی ہو گیا تھا۔۔۔
شروع شروع میں تو وہ انجو سے بلکل فارملی بات کرتا تھا۔۔۔۔
خود سے کبھی اُسے مخاطب نہیں کرتا تھا اور اگر موقع پڑ جائے تو بات کرتے ہوئے اُس کے لہجے میں بلکل اجنبیت ہوتی تھی۔۔۔
جتنا وہ اُسے اگنور کرتا تھا اتنی وہ اُس سے کشش محسوس کرتی تھی۔۔۔۔۔۔جتنا وہ بےنیاز رہتا تھا۔۔۔اتنا انجو اُسے اپنے ذہن پر سوار کرتی جاتی تھی۔۔۔
لیکِن اچانک پھر اُس نے دکش کا بدلنا محسوس کیا۔۔۔۔
اُس کا اپنی طرف بڑھنا۔۔۔۔خود سے آکر بات کرنا۔۔۔۔۔دوستی کی ڈیمانڈ کرنا۔۔۔۔تعریفیں کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔بار بار ملنے کبھی گھر کبھی کالج آنا۔۔۔۔۔اُس کی فکر کرنا۔۔۔اُس کی کیئر کرنا۔۔۔۔۔۔اُسے اہمیت دینا
یہ سب انجو کے لیے حیران کن بھی تھا اور خوش کن بھی۔۔۔
وہ اُس کے ایک ایک انداز سے متاثر تھی اور پھر دکش نے اُس کے نزدیک آکر رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔۔۔۔
وہ اُس کے آس پاس ہونے سے خود کو ہواؤں میں محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔جیسے وہ کوئی جادو کرتا ہو جس کے بعد وہ حواسوں میں نہیں رہتی۔۔۔
صبح سے لے کر دیر رات تک یا تو فون پر باتیں ہوتی تھی یہ آمنے سامنے ۔۔۔۔۔۔
اُس کی دکش کے ساتھ اٹیچمنٹ اُس کے ماں باپ بھی محسوس کر سکتے تھے مسز سنگھ کو تو پہلے دن سے ہی وہ انجو کے لیے ہر لحاظ سے پرفیکٹ لگتا تھا۔۔۔۔
لیکِن کام کے معاملے میں اپنی تیز ذہنیت اور محنت سے وہ سنگھ صاحب کے ذہن سے بھی سارے خدشے ختم کرکے اُنہیں بھی ایمپریس کر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
چند مہینوں میں وہ اُن کے کاروبار کو اتنا منافع کرواچکا تھا کے وہ حیران تھے۔۔۔۔جس بزنس کو اُنہوں میں سالوں میں یہاں پہنچایا تھا وہ اُسے تین مہینے کے عرصے میں دوگنی ترقی کروا چکا تھا۔۔۔۔
اُس کی قابلیت اور اُس کی خاندانی نام و دولت نے سنگھ صاحب کو بھی اُس کے اور انجو کے رشتے کے متعلق سوچنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔۔تاکہ اُن کا کام بھی یونہی بڑھتا رہے اور انجو کو بھی ایک اچھا فیوچر ملے۔۔۔۔
Anju۔۔۔۔open the door
دروازے پر دستک اور دکش کی سنجیدہ آواز پر اُس نے بھیگی آنکھوں سے بند دروازے کو دیکھا۔۔جس کا ہینڈل حرکت کر رہا تھا۔۔۔
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔آپ جائیے یہاں سے۔۔۔۔
وہ غصے سے کشن دروازے پر پھینک کر دوبارہ رونے لگی۔۔۔
دکش نے منہ سے سانس خارج کی اور دوبارہ اُسے پکارنے کی بجائے اپنے والٹ سے کارڈ نکال کر دروازے کی درمیانی لکیر میں دھیرے سے سویپ کیے تو لاک کھل گیا۔۔
وہ دروازہ دھکیل کر اندر آیا تو انجو حیرت سے اُسے اور پھر دروازے کو دیکھتی اپنی جگہ دے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
میں نے کہا نا میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔کیوں پریشان کر رہے ہیں۔۔۔۔۔
اُس نے خفگی سے دکش کو گھور کر بھیگی آواز میں کہا۔۔۔
پریشان تم کر رہی ہو انجو ۔۔ ۔۔مجھے بتاؤ کے کیا ہوا۔۔۔ اس غصے کا ریزن کیا ہے۔۔۔
وہ اُس کا بازو تھامے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا سرد سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگا
کیا فرق پڑتا ہے آپکو میرے ناراض ہونے یا رونے سے۔۔۔آپ کے لیے تو وہ باقی ساری لڑکیاں بہُت اہم ہے نہ۔۔۔آپ اُن کے پاس جائیے میرے پیچھے ٹائم ویسٹ کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔
انجو نے غصے کی بجائے روٹھے ہوئے لہجے میں شکائت کی تو وہ اُس کے چہرے کو غور سے دیکھتا اچانک مند سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔۔دائیں گال میں گہرائی پڑی۔ ۔۔۔۔ جو ہمیشہ انجو کا دل کھینچ لیتی تھی لیکن اس وقت اُسے سخت زہر لگی۔۔۔
میں یہاں اتنی پریشان اتنی دکھی ہوں اور آپکو ہنسی آرہی ہے۔۔۔۔آۓ ہیٹ یو دکش۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا کر غصے سے بولی تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہو کر ختم ہوئی۔۔
پوچھ سکتا ہوں یہ دکھ اور پریشانی کس بات کی ہے۔۔۔۔۔
وہ دو اُنگلیوں سے اُس کے چہرے پر آتے بال پیچھے کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا تو انجو کو لگا وہ اُس کے یوں گہری نظروں سے دیکھنے پر ہی پگھل جائے گی۔۔۔
کیوں کے میں کِسی اور کا آپکے نزدیک آنا برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔آپکو کِسی کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھنا مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔میں نہیں چاہتی کے آپ کسی اور لڑکی کی طرف نظر بھی اٹھائیں۔۔۔۔بھلے وہ میری فرینڈز ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتی اُسے اپنی ناراضگی کی وجہ سمجھانے لگی۔۔کیوں کے آج وہ اُسے اپنی کِسی سہیلی کے ساتھ فری ہو کر بات کرتے دیکھ بری طرح کڑھ رہی تھی۔۔۔
اور اس سب کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔کیوں نہیں چاہتی تم ایسا۔۔
دکش کی شوخ نظروں نے اُس کے چہرے کا طواف کیا تو انجو کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
کیوں کے میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔آپ پر صرف اور صرف میرا حق ہے۔۔۔۔میرے علاوہ کوئی آپکو اپنا نہیں کہہ سکتا ہے۔۔۔۔مجھے پسند نہیں ہے۔۔
وہ بے ساختہ اپنے دل کی بات کا اظہار کر گئی۔۔۔تاکے وہ اُس کی ناراضگی کا اندازہ لگا لے۔۔۔
ایک بار پھر سے بولنا۔۔۔۔
دکش نے اُس کے اظہار پر اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بیخود لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔
میرے علاوہ کوئی آپکو۔۔۔۔
وہ اپنی آخری بات دہرانے لگی لیکن
اُوں ہں۔۔۔۔یہ نہیں۔۔۔۔۔کیا تمہیں مجھ سے پیار ہے۔۔۔۔
دکش نے اُس کی بات پوری ہونے سے پہلے اُسے روکا تو انجو اپنی بے اختیاری پر ہجل ہو کر نظریں جھکائے لب کاٹنے لگی۔۔۔۔
تین مہینے سے ویٹ کیا ہے کے کب یہ بات تم اپنی زبان پر لاؤ۔۔ اب بھی کچھ دن نا کہتی تو شاید مر جاتا۔۔۔۔
دکش نے اُس کے نظریں چرانے پر وارفتہ لہجے میں کہا تو انجو نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
مطلب آپ جانتے تھے۔۔۔۔۔سمجھتے تھے۔۔۔پھر بھی انجان بنے رہے۔۔۔اُن لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کرتے رہے ۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے خفگی سے بولی تو دکش کی آنکھیں مسکرائی اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
جان کر سمجھ کر انجان رہا کیوں کے تمہارے دل کی بات پہلے تم سے سننا چاہتا تھا۔۔۔
اور اگر اُن لڑکیوں سے فلرٹ نہیں کرتا تو تمہاری خاموشی کیسے ٹوٹتی قسمت مجھ پر مہربان کیسے ہوتی۔۔۔
وہ چاہت بھرے لہجے میں بولا اور انجو کے ہاتھ کو اپنے لبوں کے قریب کیا تو وہ اُس کے لبوں کے لمس پر لب بھینچ گئی۔۔اور پرسوز صورتِ حال سے گھبرا کے اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
آئے لوو یو دکش۔۔۔۔۔۔
فرام دا ڈے وی میٹ۔۔۔۔۔
فرام آلویز۔۔۔۔۔
آئے لوو یو سو مچ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دکش کے سینے سے لگ کر آنکھیں بند کی اور کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا وہ سنجیدگی سے سامنے کھڑکی سے نظر آتے آدھے چاند کو دیکھتا اُس کے گرد اپنا حصار باندھ گیا۔۔۔۔
Me too۔۔۔۔۔۔۔۔
سرگوشی میں دو لفظ کہہ کر آنکھیں بند کی۔۔۔۔انجو کو اپنا آپ مکمل لگنے لگا۔۔۔