Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
Episode 38
وہ کب سے ساحل کا فون ٹرائے کر رہا تھا لیکِن اُس نے ایک دفعہ بھی فون نہیں اٹھایا تھا۔۔
اُسے لگ رہا تھا کے ساحل نین سے کبھی شادی نہیں کرےگا لیکِن نیوز دیکھنے کے بعد وہ بے حد شاک میں تھا۔جہاں ساحل نے اُس کے اندازے کو غلط ثابت کر دیا تھا
اور اب وہ اُس سے بات کرنے کی کوشش کرنے میں بھی ناکام ہو رہا تھا
داؤد نے جھنجھلا کر موبائل بیڈ پر پھینکا۔۔
آپ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔۔
فلک نے اُسے پریشان دیکھ کر جھجھکتے ہوئے پوچھا
داؤد نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا
کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔جو ہو رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط۔۔۔۔۔
نین کا گنہگار تو میں ہمیشہ رہوں گا۔کیوں کے اُسے بہت چوٹ پہنچائی ہے میں نے۔۔۔۔
لیکِن اب میں سب خدا پر چھوڑ دینا چاہتا ہوں۔۔
شاید یہ اُس کی ہی مرضی ہے۔۔۔۔
ساحل اور نین کی قسمت شاید ایک ساتھ لکھی تھی۔۔۔
وہ سر بیڈ سے لگائے تھکے تھکے انداز میں بولا فلک کو اُس کی اُداسی دیکھ بہُت دکھ ہوا
اللہ سب ٹھیک کر دیگا۔۔۔۔۔آپ خود کو غلط مت سمجھیے۔۔۔۔یہ سب صرِف۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔
وہ افسردگی سے کہنے لگی کے داؤد نے ایکدم ہی اُسے جھڑکا وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی
خبردار جو اب تم نے یہ کہا کے یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے
وہ غصے سے بولا فلک نے سہم کر اُسے دیکھا
تم ایسی کیوں ہو فلک۔۔۔۔تم ہر بات کے لیے خود کو قصوروار کیوں سمجھتی ہو۔۔
مجھے بتاؤ کے اس میں تم کہاں سے ذمےدار ہو گئی کیا تم نے مجھ سے شادی کی فرمائش کی تھی ۔۔کیا تم نین اور میرے رشتے کے بارے میں جانتی تھی۔۔۔کیا سب کچھ تمہارا پلان کیا ہوا تھا
کیا تم نے نا حق قبضہ کیا ہے مجھ پر
نہیں نا۔۔۔۔
تو پھر تم کیوں خود کو ذمےدار سمجھ رہی ہو ان حالات کے لیے۔۔۔۔۔
وہ بے حد غصے سے بولا کے فلک کی آنکھوں میں آنسُو آگئے
اب رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔
وہ زچ ہو کر بولا
آپ بہت ڈانٹتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے روتے ہوئے نظریں جھکا کر خفگی سے کہا مسکراہٹ داؤد کے لبوں تک آئی جسے اُس نے بمشکل چھپایا
تم ڈانٹتے والی حرکتیں کیوں کرتی ہو۔۔۔۔
یہ احساس کمتری میں جینا چھوڑ دو
اب تم فلک نہیں فلک داؤد ہو۔۔۔۔
اور مجھے ایسی کمزور مزاج بیویاں بلکل پسند نہیں۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا اُس کے آنسو صاف کرنے لگا
ہاں میں تو بھول ہی گیا۔۔۔۔۔تمہیں تو میری شادی نین سے نہ ہونے کا دکھ ہو رہا ہوگا نا۔۔۔کیوں کے تم تو یہی چاہتی تھی۔۔۔۔تمہیں تو بہت مزا آرہا تھا
وہ خفگی سے اُس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
مجھے برا لگ رہا تھا۔۔۔مجھے تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔
وہ سر جھکائے جتاتے ہوئے بولی داؤد خوبصورتی سے مسکرایا
واقعی۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرارت سے کہتا اُس کے قریب ہوا فلک نے خشک گلے کو تر کیا
مائے لوو۔۔۔۔کیا واقعی ۔۔۔۔۔۔
داؤد نے ہاتھ سے اُس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا فلک نے اُس سے نظریں بچائے لب کچلنے لگی
یا پھر بس یہ جتانا چاہ رہی ہو کے تمہیں مجھ پر اعتبار ہے۔۔۔کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔اتنی دور سے تو ہر گز نہیں۔۔
وہ اُسے مزید قریب ہوتا اُس کے چہرے پر جھکا اور لبوں سے اُس کے سرخ ہوتے رخسار کو چھوا
وہ صدمے سے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔۔
دل کی دھڑکن ایکدم سے بڑھنے لگی۔۔۔
داؤد نے دوسرے گال پر بھی اپنا عمل دوہراتے نہایت نرمی سے اُسے چھوا۔۔۔۔۔فلک نے آنکھیں بند کرکے کھولیں ۔۔
داؤد نے سنجیدگی سے اُس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انگوٹھے سے اُس کے لب کو چھوا۔۔۔۔
دل بے ترتیب دھڑکتا اپنی خواہش اور عمل کرنے کو اکسا رہا تھا
پر حدت لمس اور آنکھوں کی بے پناہ تپش سے فلک کے بدن میں لرزش ہونے لگی تھی۔۔۔
خوف سے دل کانپنے لگا تھا۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی داؤد اُسے تکلیف نہیں دے سکتا لیکن ڈر تھا جو ساتھ۔چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔
اور حیرت تھی کے کیا واقعی کوئی اُسے چاہ سکتا تھا۔۔
کیا آپکو۔۔۔۔ میرے نا پاک وجود سے گھن نہیں آتی۔۔۔
وہ اپنے ارادے پر عمل کرتا اُس کے پہلے ہی وہ بے تاثر لہجے میں بولی
داؤد کی نظریں لبوں سے ہٹ کر آنکھیں پر آئی
حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
جو لڑکی اپنی عزت۔۔۔۔۔۔اپنی نسوانیت سب کھو چکی ہے اُسے کیوں اپنانا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلائے سے انداز میں بولی اور داؤد لب بھینچے پیچھے ہوا۔۔۔فلک کی بات سے اُس کے دل میں دھواں سے بھر گیا
وہ اُسے اُن باتوں کو بھلا نا چاہتا تھا لیکن وہ بار بار وہی بات دوہرا کر خود کے ساتھ اُسے بھی تکلیف دیتی تھی۔۔
میں شاید تمہیں پہلے ہی وضاحت دے چکا ہوں اور ہزار بار سمجھا بھی چکا ہوں کے بھول جاؤ اُس بات کو۔۔۔۔میرے لیے تم ۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتے کہتے ایکدم رک کر اُسے دیکھنے لگا اور وہاں سے اٹھ گیا
میں کیوں تمہیں سمجھا رہا ہوں جب کے تمہیں سمجھنا تو ہے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُداس سے مسکراہٹ کے ساتھ کہتا روم سے باہر نکل گیا اور فلک چہرے پر ہاتھ رکھے رونے لگی
∆∆∆∆∆∆∆
نکاح کے بعد آدھی شادی سے وہ غائب رہا تھا۔۔۔۔بنا پرواہ کیے کے کون کیا کہے گا لوگ کیا باتیں کرے گے۔۔عباس صاحب نے اپنی جانب سے اُس کے کسی دوست کے ایکسیڈنٹ کا بہانا بنایا تھا حالانکہ پورا وقت اُسے کال کرتے رہے
لیکِن اُس نے نا اُن کا فون اٹھایا نا داؤد کا
رات کے بارہ بجنے کے بعد بھی وہ ابھی تک گھر سے باہر اپنے پرسنل فلیٹ پر اپنے بیڈروم میں بیٹھا
سامنے رکھی تصویروں کو دیوار پر لگے وائٹ بورڈ پر چپکاتا مارکر سے اُن کے درمیان لکیریں بنا رہا تھا۔۔۔
اور وہ تصویریں آپس میں جوڑنے پر بورڈ میپ کی شکل اختیار کر رہا تھا۔۔
نظریں اُن تصویروں کو جانچ رہیں تھیں لیکن زہن سارا دن بھر کے واقعے میں اُلجھا تھا۔۔
سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔۔۔۔
اچانک چند ہی گھنٹوں میں گلے پڑی مصیبت سے کیسے بچے۔۔۔
ایک دفعہ پھر اُس کا فون بجا اور داؤد کا نام جگمگانے لگا اُس نے سگریٹ ہاتھ سے جھٹک کر زمین پر پھینکا اور غصے سے فون اٹھا کر کان سے لگایا
کیا ہے ۔۔۔کائے کو بار بار فون کر رہا ہے۔۔۔شانتی نہیں پڑی تیرے کو ابھی بھی۔۔۔۔۔
وہ فون اٹھاتے ہی برس پڑا
ساحل تم۔۔۔۔۔۔
داؤد نے کچھ کہنا چاہا لیکِن ۔۔۔۔۔۔
کچھ مت بول۔۔۔پہلے ہی اپن کی ہٹی پڑی ہے۔۔۔ایسا نہ ہو فون میں گھس کر تیرا تھوبڈا بگاڑ دوں
سالے۔۔۔۔ دل تو کر رہا ہے تجھے نیمبو کی طرح نچوڑ دوں۔۔لیکن بس بھابھی کی وجہ سے چھوڑ دیا
پر تو یاد رکھنا میں معاف نہیں کروں گا تیرے کو۔۔۔
یہ جو تونے اُس ولایتی آفت کے ساتھ اٹکایا ہے نہ میرے کو
میرے روم روم کی بدعا لگے گی تجھے سالے دیکھنا ۔۔۔
وہ اپنی ساری بھڑاس داؤد پر نکال کر فون بند کرچکا تھا اور یقیناً داؤد اتنی کڑوی باتیں سن کر حیرت میں ہوگا
چند۔منٹ اور گزرے تھے کے پھر سے عبّاس صاحب کی کال آنے لگی وہ شدید جھنجھلا یا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار دے۔۔۔۔لیکِن اُس سے خود کا ہی نقصان ہونا تھا
آخر كو وہ زچ ہو کر گھر جانے کو اٹھ گیا
موبائل اور گاڑی کی کیز اٹھائی اور روم لاک کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا
گھر پہنچا تو چاروں طرف سناٹا چھایا تھا۔۔۔شادی والی رونق اور شور و گل بلکل ختم ہوچکے تھے۔۔۔
طوفان کے بعد والی خاموشی تھی یا پہلے والی سمجھنا مشکل تھا
اُس نے اپنی بائیک پارک کی اور سیدھے اپنے کمرے میں پہنچا۔۔۔اور اُسے خطرناک دھچکا لگا جب نین کو پورے شان سے اپنے بیڈ پر براجمان دیکھا۔۔۔
ایک پل کو تو وہ گھبرا ہی گیا۔۔۔۔
آنکھیں پوری پھٹ پڑی
نین آگے رکھے پیروں کے گرد بازو لپیٹے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی سرخ گھونگھٹ کی اونٹ سے اُسے دیکھتے ہی سیدھی ہوئی۔۔۔۔۔۔
اُس نے یقین دہانی کے لیے آس پاس دیکھا اُسے وہ سو فیصد اپنا ہی کمرہ لگا آج بھی بلکل سادہ تھا۔۔۔کوئی سجاوٹ نا تام جھام۔۔۔۔
لیکِن ایک ان چاہے وجود کا اضافہ دیکھ اُس کی جان تک جھنجھلا گئی۔۔۔
اُسے اُمید نہیں تھی کے وہ آج کے آج ہی یوں اُس کے کمرے میں پہنچ جائے گی۔۔۔لیکِن وہ تو کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔
جب چند گھنٹوں میں اُس کا اسٹیٹس چینج کرکے اُسے سنگل سے میریڈ بنا سکتی تھی تو یہ کونسی بڑی بات تھی۔۔
اُس نے کیز اور موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے بیچارے انداز میں اُسے دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی اپنے پیروں کو گھور رہی تھی
وہ یوں دلہن کی طرح اُس کے انتظار میں کیوں بیٹھی ہے جیسے ابھی ابھی دونوں لوو میریج کرکے آئے ہو
سوچ کر اُس نے غصے سے دانت بھینچے اور اسے کڑی نظروں سے گھور کر واشروم میں چلا گیا
وہ تب بھی ویسے ہی بیٹھی تھی ۔۔پتھر کی طرح۔۔۔دل سے لے کر روح تک سب خالی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آرہا تھا داؤد کے دھوکہ دینے کا غم منائے یا اپنے پاپا کی ناراضگی چینخ چینخ کر ساری دنیا کو بتائے۔۔۔
وہ رو نہیں رہی تھی اس لیے ضبط سے آنکھوں میں سرخ ڈو رے جمع ہوگئے تھے۔۔۔۔
دل میں بے پناہ غبار بھر گیا تھا جو سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں مفلوج کر چکا تھا۔۔۔
وہ گھنٹوں سے اپنی جگہ سے ہلی نہیں تھی۔۔۔
اے ہیروئن ۔۔۔۔ بند کر اپنا یہ ڈراما ۔۔اور اٹھ وہاں سے۔۔۔۔ساری رات تیرے سین دیکھنے کا موڈ نہیں ہے میرا۔۔۔
وہ چینج کرکے باہر نکلا تب بھی وہ اپنی جگہ پر ویسے ہی موجود تھی وہ جھنجھلا کر بولا۔
وہ ایکدم چونک کر اُسے دیکھنے لگی چینج کرکے بلیک ٹی شرٹ اور گرے ٹریک پینٹ میں بیزارگی اور غصے سے اُسے دیکھ رہا تھا
جو بھی بکواس کرنی ہے بعد میں کرنا پہلے یہاں آکر میرا گھونگھٹ ہٹاؤ۔خاموشی سے
وہ سنجیدگی سے بولی
اس آرڈر پر اُس کا دِماغ گھوم گیا
گیلے بالوں میں چلتا ہاتھ رک گیا
کیوں تیرے ہاتھ کیا کرائے پر گئے ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گھونگھٹ میں ڈھکے چہرے کو گھور کر بولا
وہ غصے سے بیڈ سے اُتری اور اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی اُس تک پہنچی۔۔قدموں میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی
دیکھو مجھے نا تم سے بحث کرنے کا شوق ہے نا میں تمہیں اپنا چہرہ دکھانے کے لیے مر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔وہ تو نانو نے کہا تھا کہ یہ رسم ہے بس اسلئے۔۔۔۔۔جو کہا ہے کرو
وہ اپنی ایک ایک بات پر زور دیتے ہوئے بولی۔۔اُسے ضد چڑھی تھی خود کو نارمل اور بلکل خوش دکھانے کی جیسے اس شادی سے بڑھ کر اُس کے لیے کچھ نہیں ہو
اس کے بعد بھی ایک رسم رہتی ہے تو بولے تو دودھ پی کے اس کی شروعات بھی کر دوں۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکدم سے اُس کا گھونگھٹ پلٹ کرایک قدم اُس کی طرف بڑھا
اور غصے سے بولا وہ اُس کے سرد انداز پر گھبرا کر نظریں پھیر گئیں۔
ایک تو زبردستی آکر اپن کے سر پر بیٹھ گئی۔۔۔اور بات ایسے کر رہی ہے جیسے اس کا جنم جنم کا عاشق ہوں۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر غصے سے بڑبڑایا اُس کا صدمہ ختم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔وہ بلی کا بکرا بن گیا تھا۔۔۔۔
دل داؤد کو بدعا پر بدعا دینے کو کر رہا تھا
دیکھو تمہیں جو بھڑاس نکالنی ہے صبح نکالنا آج کے دن میں جتنے تماشے افورڈ کر سکتی تھی کر چُکی ہوں اب پلیز مجھے سونے دو۔۔۔۔۔
وہ اس کی بڑبڑا ہٹ پر جھنجھلا کر بولی اور بیڈ پر آکر اپنی جویلری اتارتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگی
لوگوں کی نیند حرام کر کے اس کو اپنے سونے کے پڑی ہے۔۔۔۔سالہ میری قسمت ہی خراب ہے
وہ صوفے پر کشن ایک طرف رکھتے ہوئے وہاں لیٹ گیا بھڑاس نکالنا جاری تھا۔۔۔۔
تم وہاں صوفے پر کیوں سو رہے ہو ۔۔۔۔۔ بیڈ پر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں بند کرتے ہی اُس کی آواز آئی تو وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھا اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔کیا لڑکی تھی وہ۔۔۔۔
وہ اپنا اگلا حکم سنا کر اُس کی گھوری سے لا پرواہ اپنی چوڑیاں نکالنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
ایک۔نظر اُسے دیکھا جو ضبط کی آخری حد پر تھا۔اور آبرو اس انداز میں اٹھائی جیسے کہہ رہی ہو
اس میں اتنا حیران کیوں ہورہے ہو
تو کیا خود کو لیلیٰ اور مجھ کو تیرا مجنوں سمجھتی ہے۔۔۔۔۔
ابے اتنا نارمل نہیں ادھر کچھ۔۔۔۔تونے ذبردستی شادی کی ہے میرے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔داؤد کے باپ نے اگر اپن کو اِموشنل بلیک نہیں کیا ہوتا تو تیری شکل نہیں دیکھتا کبھی۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے برس پڑا وہ اٹھ کر اُس کے پاس آئی
آواز آہستہ رکھو۔۔۔۔۔۔سارے گھر والوں کو جگانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔میں بھی کوئی تم سے شادی کرکے شکرانے ادا نہیں کررہی ہوں سمجھے۔ اسلئے۔۔۔۔۔یہ سیریل والی بہوؤں کی طرح نخرے مت دکھاؤ مجھے۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولی
اُس لمحے واقعی محسوس ہوا جیسے وہ ایک معصوم ہیروئن ہو اور سامنے کھڑی لڑکی اُس کی زندگی کا ولن۔۔۔
ایک تو ذبردستی شادی کرلی اور اب ایک کے بعد حکم چلائے جا رہے تھے۔۔۔۔۔
کیا الٹی قسمت پائی یار۔۔۔۔۔۔۔
وہ صدمے سے صوفے پر گر گیا۔۔۔۔۔
وہاں سے اٹھو اوراکر بیڈ پر لیٹو فوراً۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دوبارہ لیٹتے دیکھ اپنے لفظوں پر۔زور دیتے ہوئے بولی وہ ان سنی کرکے پڑا اُسے گھورتا رہا
دل کیا اُس کی خوبصورت شکل بگاڑ دے
ساحل۔۔۔۔۔۔
اب اگر تم نہیں اٹھے نا تو میں باہر جا کر بڑے ماما کو بتاؤں گی کے آپ کا یہ ایڈاپٹڈ بیٹا میرے ساتھ ڈیلی سوپ والے ڈرامے کر رہا ۔۔۔ ۔
وہ دانت پیستے ہوئے بولی اور قدم باہر کی جانب بڑھانے لگی
چل ٹھیک ہے۔۔۔
وہ ایکدم ہی سیریس ہو کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ساتھ لیے بیڈ پر گرا
اتنی اچانک حرکت پر وہ سانس لینا بھول گئی آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی
ساحل اُسے کوئی بھی موقع دیے بغیر کروٹ بدل کر اُسے بیڈ سے لگاتا اُس پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔۔
اس جنونی انداز پر اُس کا دل نئی رفتار سے دھڑکنے لگا۔۔۔وہ اس کے اتنے قریب آنے پر سب کچھ بھول گئی۔۔۔
پلکیں جھپکنا۔۔۔سانس لینا۔۔۔۔اُسے روکنا سب کچھ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اُسے غصے سے گھور کر اُس کی گردن پر جھکتا وہ پوری قوت سے اُسے پیچھے دھکیل کے اٹھ بیٹھی اور بیڈ سے اُتر گئی
آنکھیں خوف سے کھلی ہوئی تھی اور دل زوروں سے دھڑک رہا تھا
کیا۔۔۔۔کیا بد تمیزی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی پیشانی نم ہو گئی وہ حیران رہ گیا کے یہ بلا بھی ڈرنا جانتی ہے
اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اُسے غور سے دیکھا
کیا بدتمیزی۔۔۔۔۔بہُت بیوی بننا ہے نہ تیرے کو تو اب ناٹک کیوں دیکھا رہی ہے ۔۔۔۔بن نا
وہ سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں بولا
میں نے تمہیں بیڈ پر آنے کے لیے صرف اس لیے کہا تاکہ تمھیں صوفے پر ایڈجسٹ نا کرنا پڑے۔۔۔۔۔ اس کا غلط مطلب لے کر ایسی واحیات حرکتیں کرنے کے لیے نہیں۔۔۔
جب شادی کے بعد ایک روم میں رہ سکتے ہیں تو ایک بیڈ پر سونے سے کیا پرابلم ہے
وہ اپنے تاثرات سنبھال کر پہلے والی ٹون میں آچکی تھی لیکن دل اب بھی بھٹکا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اس لیے لہجے میں لرزش تھی
ساحل سنجیدگی سے اُسے دیکھ رہا تھا جو ایک ہی پل میں شیرنی سے بلّی بن گئی تھی
میں جانتی ہوں تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔میری ضد کی وجہ سے بڑے ماما اور نانو نے تمہیں مجبور کیا ہے اس شادی کے لیے۔۔۔اور اس بات کا گلٹ بھی ہی مجھے۔۔۔۔
اس لیے میں تمہیں اب اور کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتی۔۔۔۔
اگر تمہیں میرے ساتھ ایک بیڈ شیر کرنے کا مسلہ ہے تو تم مجھے کہہ سکتے ہو میں صوفے پر چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔
وہ اب بلکل نارمل انداز اور نرم لہجے میں بولی اور بنا اُس کی طرف دیکھے ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی۔۔شاید یہ صفائی اس لیے دی تاکہ آگے ایسا کوئی خطرہ نا اٹھانا پڑے۔۔۔
وہ تاسف سے اُسے دیکھتا بیڈ کی ایک طرف لیٹ گیا
ایک بات تو سمجھ آگئی تھی کے وہ سب کچھ کر سکتی تھی دنیا بھر کی بولڈ بن سکتی تھی لیکن اس معاملے میں نہایت کمزور تھی۔۔۔یا شاید خوفزدہ۔۔
اُس نے آنکھیں بند کیے ہی اُسے واپس روم میں آتے محسوس کیا اپنے آس پاس اُس کی موجودگی کو محسوس کرکے اُسے عجیب سا محسوس ہو رہا تھا
پیروں میں بندھی پایل کے گھنگھرو کی آواز کانوں کو سخت بری لگ رہی تھی کیوں کے اس سے دل بے چین ہو رہا تھا
شاید اچانک ہوئے اضافے کو دل ماننے میں وقت لینا چاہ رہا تھا یا کچھ اور۔۔۔۔۔۔
وہ آکر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹی تو اُس نے آنکھیں کھولیں اور دانت بھینچے
تُو تو صوفے پر سونے والی تھی نا۔۔۔۔۔۔۔
نہایت چبھتے ہوئے لہجے میں لیکن آہستہ آواز میں کہا بنا رخ موڑے۔۔۔۔۔۔۔اُس نے دانت زبان تلے دبا ئی
ہاں۔۔۔۔۔۔وہ
میں نے بولا تھا اگر تم کہوگے تو میں صوفے پر چلی جاؤں گی لیکن تم۔نے تو کچھ کہا ہی نہیں۔۔۔۔
وہ بلکل نارمل انداز میں بولے دل میں پریشان بھی تھی کے وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کرے اور صوفے پر سونا بھی نہیں تھا کے اپنی شادی کا انجام برا نظر نہیں آنا چاہیے
میری اتنی تابعدار کب سے ہو گئی تو۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولا
بس ابھی ابھی۔۔۔۔۔ آخر اب جیسے بھی ہو میرے ہسبنڈ ہو۔۔۔میرے سائیں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ تو لحاظ کرنا پڑیگا نا۔۔۔
اُس نے لاپرواہ انداز میں کہا۔۔۔
شانی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بڑبڑاتا آنکھیں بند کرگیا۔۔۔
اُس نے سر تکیے پر رکھے آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی لیکن نیند کہاں آنی تھی جب دل ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔۔۔۔۔
اب تک تو پھر بھی شور و گل میں ذہن بنٹا ہوا تھا
لیکِن یہ تنہائی۔۔۔۔رات کی خاموشی اُس کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی تھی
دن کا ایک ایک لمحہ دِماغ میں خنجر کی طرح وار کر رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ پیروں کو۔سختی سے آپس میں رگڑ رہی تھی
ساری دنیا بری لگ رہی تھی۔۔۔
زندگی بوجھ لگ رہی تھی۔۔
دل پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
سانس سینے میں الجھنے سے دم گھٹ رہا تھا۔۔۔
اور گھٹن جب برداشت کے باہر ہوئی تو وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
پیر سمیٹ کر گھٹنوں پر چہرہ ٹکائے منہ سے تیز تیز سانس خارج کرتی غیر مرئی نقطے کو گھورنے لگی۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی بے سکونی کو محسوس کرکے بھی نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن جب مزید نظر انداز کرنا نا ممکن ہوا تو ہلکا سا رخ موڑے اُسے دیکھا ۔۔
بلیک نائٹ سوٹ میں بھیگا بھیگا سا سہما وجود
چہرے پر بے انتہاء بےچینی ۔۔۔۔۔
سرخ آنکھوں میں بے سکونی۔۔۔۔
کھلتی بند ہوتی گھنی لمبی پلکیں۔۔۔
لرزتے خود کو تکلیف دیتے گلابی نازک لب۔۔
اپنے ٹراؤزر کو سختی سے بھینچے سفید نازک انگلیاں۔۔
اور کمرے میں گونجی بے ترتیب سانسوں کی مدھم آواز
وہ بس اُسے دیکھے گیا۔۔۔۔
دل نے بہُت شدت سے اُس کی ہر تکلیف کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔تو بےحد ہمدردی محسوس ہوئی۔۔۔
وہ اسے تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جانتا تھا اُسے یونہی اُس کے حال پر چھوڑ دیا تو ساری رات تڑپتی رہے گی۔۔۔
اے بھٹکتی آتما۔۔۔۔۔
کیا رات کے وقت انسانوں کو ڈرانے نکلی ہے ۔۔
وہ بوجھل آواز اور جھنجھلائے لہجے میں بولا نین نے چونک کر اُسے دیکھا۔۔
پورا کا پورا چھ فٹ کا آدمی لے لیا۔۔۔۔
کمرہ لے لیا۔۔۔۔بیڈ لیا۔۔۔۔۔اب کیا خون پی کر مانے گی اپن کا۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے بولا نین نے بیزاری سے آنکھیں چھوٹی کیں
کیا تکلیف ہے تمہیں۔۔۔۔۔میں اپنی جگہ ہوں نہ۔۔۔۔۔
تمہیں تو نہیں کچھ کہہ رہی۔۔۔
وہ اُس کے جواب پر اپنی جگہ اٹھ بیٹھا
تکلیف ہے ۔۔۔تو ایسے بیٹھی ہے تو اپن کو ایسا لگ رہا جیسے کوئی چڑیل سر کے پاس بیٹھی ہے پتہ نہیں کب کیا کردے گی۔۔۔ایسے نیند نہیں آئیگی مجھے
وہ مشکوک نظروں سے دیکھتا ہوا بولا نین نے منہ کھولے اُسے دیکھا
تم مجھے چڑیل نہیں بلا سکتے راؤڈی۔۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھاتی اُنگلی اٹھا کر بولی
ورنہ کیا کریگی تو۔۔۔
ساحل اُس کی اُنگلی میں اُنگلی پھنسائی
میں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی اُنگلی جھٹک کر غصے سے بولی وہ ہنسا
۔۔۔۔۔اپنے آپ کو دیکھا تونے۔۔۔۔۔میرا منہ توڑنے کے لیے تُجھے تیری جیسی ستر اسّی اور لگے گی۔۔۔
وہ اُس کے نازک بدن کی اور اشارہ کرتا ہوا بولا
میری حالت پر مت جاؤ۔۔۔۔میں اندر سے بہت سٹرانگ ہوں۔۔۔۔۔۔اگر سچ میں مجھے غصّہ آگیا نا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
وہ سارے غم بھول کر اُس سے لڑنے کے فل موڈ میں آچکی تھی۔۔
ہاں پتہ ہے تو تو رومن رین کی سگی ماں لگتی ہے نہ۔۔۔اُس نے تیرے سے ہی تو سیکھا ہے سب۔۔۔۔
ساحل نے ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے داد دینے والے انداز میں کہا
افف کِتنی لو لیول کی بکواس کرتے ہو تم۔۔۔۔۔۔
تمہاری یہ فضول بکواس سننے سے بہتر میں سو جاؤں۔۔
وہ برا سا منہ بنا کے اُسے چڑاتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی وہ بھی زیرِ لب مسکراتا اپنی جگہ لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔لیکِن پھر۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اُسے نین کا بے چین ہو کر بار بار پیر رگڑنا۔۔۔کروٹ بدلنا محسوس ہوا
اُس نے کروٹ نین کی جانب لی تو وہ گھٹنے پیٹ سے لگائے سکڑ کر لیٹی سختی سے آنکھیں میچ کر سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
ہاتھ نے تکیے کو سختی سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔
گلے میں گہرائی بڑھتی گھٹتی جا رہی تھی
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے آہستہ آواز میں پوچھا نین نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا
نیند۔۔۔۔نیند نہیں آرہی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ تھوڑے وقفے بعد بے چین نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔اور دوبارہ سے آنکھیں میچ لی۔۔۔۔
دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
پھر سے گھٹن کا احساس بد رہا تھا۔۔
گہری ہوتی خاموشی میں کان سائیں سائیں کر رہے تھے
جب ساحل کے گنگانے کی آواز نے اُس خاموشی کو توڑا
کچھ پا کر۔۔۔۔۔ کھونا ہے۔۔۔۔۔
کچھ کھو کر۔۔۔۔۔ پانا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کے دھیرے دھیرے گنگنانے کی دلفریب آواز پر نین نے آہستہ سے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا وہ سیدھا لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔صرف لب ہل رہے تھے
جیون کا ۔۔۔۔۔۔مطلب تو۔۔۔۔
آنا اور۔۔۔۔۔ جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہُت رک رک کر گنگنا رہا تھا اور اُس کی آواز اتنی خوبصورت اتنی دلفریب تھی کے نین سب بھول کر میسمرائز سی اُسے دیکھے گئی۔۔
دو پل کے۔۔۔۔ جیون سے۔۔۔۔۔
ایک عمر۔۔۔۔ چرا نی ہے۔۔۔۔۔
زندگی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کُچھ بھی نہیں
تیری میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہانی ہے۔۔۔۔۔
اچانک سے اُسے سب کچھ پرسکون ہوتا محسوس ہوا دل دماغ سب اپنی جگہ تھم کر اُس کی جادوئی آواز میں کھوئے تھے نین کی پلکیں بوجھل ہو رہی تھی جنہیں مشکل سے کھولے وہ ساحل کو دیکھ رہی تھی
زندگی اور ۔۔۔۔۔۔کُچھ بھی نہیں۔۔۔۔
تیری میری ۔۔۔۔۔۔۔کہانی ہے۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی جانب دیکھا سنجیدگی سے اور گنگناتا رہا۔۔
۔تیری میری کہانی ہے۔۔۔۔
تیری میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں بند کرلیں تو وہ رک گیا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
