Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 79
No Download Link
Rate this Novel
Episode 79
انجان بھی اور جانا پہچانا بھی۔۔۔۔۔
وہ شہر اپنا سا تھا اور بیگانہ بھی۔۔۔۔
وہ اسٹیشن گزرے سالوں میں پوری طرح بدل گیا تھا۔۔
اب نا کچی زمین تھی نا ویران راستے۔۔۔۔
سب بدل۔گیا تھا۔۔۔
لیکن ساحل کی نظریں تو اب بھی سالوں پرانا وہ منظر ہی دیکھ رہی تھی۔۔
جہاں اُس کے ٹھیک سامنے ایک بینچ پر ایک عورت اور پانچ سال کا بچہ بیٹھے تھے۔۔۔
وہ اُس عورت کے تھکان زدہ چہرے کو دیکھ کر کچھ اندازا لگانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اب بھی کچھ پڑھ نہیں پایا۔۔۔
ساحل چلو نا۔۔۔۔رک کیوں گئے۔۔۔۔
وہ اُسے ساکت سا ایک جگہ کھڑے دیکھ نرمی سے پکارتی اپنی طرف متوجہ کرنے لگی۔۔
ساحل نے نظریں سامنے سے ہٹا کر جلتی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔۔۔۔اور سر دھیرے سے نفی میں ہلایا۔۔۔۔
یہاں تک آکر اب واپس لوٹنے کی بات مت کرنا ساحل۔۔۔۔۔۔
اُس نے کسی خدشے کے تحت اُسے تنبھ کی۔۔۔۔اُس کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر دبایا۔۔
اُس نے گہری سانس فضا میں خارج کی۔۔۔
ااپنے ذہن پر زور دے کے جو معلومات اکھٹی کی تھی اُس حساب سے وہ بلکل صحیح جگہ تھا اور جب اُس کے دماغ میں پرانے دھندلے مناظر صاف ہونے لگے تو سب کچھ جانا پہچانا سا لگا۔
دونوں اب اُس چھوٹے سے گاؤں کے اندر تھے۔۔
وہاں مکان اب بھی کافی پرانے طرز کے بنے ہوئے تھے لیکن پہلے سے زیادہ تعداد میں اور کچھ بہتر تھے۔۔۔
ٹیکسی سے دونوں کچھ دوری پر ہی اُتر گئے تھے اور پیدل ہی آگے بڑھے جا رہے تھے نین اُس کے اشارے کی منتظر بار بار اُسے دیکھ رہی تھی اور وہ وہاں کی ایک ایک جگہ کو دیکھتا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔۔
کچھ ہی دوری پر ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس کا پانی کافی گندا ہو گیا تھا۔۔
اور اُس تالاب سے تھوڑے فاصلے پر اُس کے قدم رک گیے تھے۔۔
جِس جگہ کبھی اُس کا گھر تھا وہاں آج کھنڈر تھا۔۔۔۔۔اور وہ اُس کھنڈر نما گھر کے سامنے کھڑا سرخ آنکھوں سے ٹوٹی دیواروں کو دیکھ رہا تھا۔۔
بہت سے منظر بہُت سے آوازیں دِماغ میں گونج رہیں تھیں۔۔۔۔
اُس کی سوچنے کی صلاحیتیں اتنی سن ہو گئی تھی کے اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیسا ری ایکٹ کر۔۔۔۔
اُس کھنڈر کی طرح ہی اپنا آپ بکھرا بکھرا لگ رہا تھا
نین اُس کے بے تاثر چہرے سے بھی اُس کے دل میں اٹھتے ایک ایک درد کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔اُس کے ایک ایک احساس کو سمجھ رہی تھی۔۔
دونوں ارد گرد سے بے نیاز کھڑے تھے اور کچھ دوری پر کھڑا ایک آدمی دونوں کو تفتیشی انداز کی دیکھ رہا تھا
خاموشی بہُت لمبی ہوئی تو اُس نے ساحل کا بازو تھامے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔
تم اپنی فلنگز مجھ سے شیئر کر سکتے ہو ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے اپنی تکلیف ضبط کرکے اندر ہی اندر تڑپتے محسوس کر بولی۔
وہ کچھ نہیں بولا۔۔۔سنا یا نہیں یہ بھی سمجھنا مشکل تھا
آو ہم یہاں آس پاس کسی سے پوچھتے ہیں ۔۔۔
وہ اُس کی خاموشی پر دوبارہ کہتی اُس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے کو تھی لیکِن قدم آگے نہیں بڑھا پائی ساحل نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر اُسے آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔۔۔
وہ پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
Can I hold you۔۔۔۔
ساحل نے بنا نظر اٹھا کر دیکھے بھاری ہوتے لہجے میں دھیرے سے کہا تو نین کا دل اُس کے بکھرے بکھرے لہجے پر دھڑکتے دھڑکتے رک گیا وہ دو پل کو رک کر اُس کا ہاتھ چھوڑے قریب ہوتی اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
ساحل نے دونوں بازوؤں کو اُس کے گرد باندھے اُسے سختی سے خود میں بھینچ کر اُس کا سہارا لیا اور چہرہ بالوں سے لگائے آنکھیں سختی سے بند کر لیں۔۔۔
اُس نے اپنے اندر کا تمام ضبط و تڑپ اپنی سخت گرفت کی صورت باہر نکالا۔۔
وہ تو اپنی پریشانی میں بد حواس سا تھا لیکِن اُس کی جانلیوا گرفت نین کی دھڑکنیں منتشر کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ اُسے اپنی بے چینی و بے اختیاری میں بے نیاز سا خود میں بھینچے اُس کے نازک وجود پر ستم کیے جا رہا تھا۔
نین کو اپنی پسلیاں پستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اُس پر اس قدر شدت بھری قربت بھی بڑی جانليوا تھی۔۔۔
پہلی دفعہ اُس کے اتنے قریب تر ہو کر پرفیوم کی تیز خوشبو کو حواسوں میں اترتے محسوس کر دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا
اُس کے لبوں سے ایک بے آواز سسکی نکلی تو وہ چونکا۔۔۔آنکھیں کھولیں اور اپنی بے اختیاری کا احساس کرکے سرعت سے پیچھے ہوا۔
وہ اُس کے پیچھے ہونے پر چند سیکنڈ اُس سے نظریں ملانے سے گریز کرتی زمین کو گھورتی رہی۔۔۔اور پھر نارمل ہو کر اُسے دیکھا
چلیں۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کو دیکھتے ہوئے کہا تو اُس نے سر ہلا دیا۔۔
وہ دونوں وہاں سے سب سے نزدیک ایک گھر کے قریب آکر وہاں باہر ہی بیٹھے ایک آدمی سے پوچھنے لگے تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ لوگ پچھلے کچھ ہی سالوں سے وہاں آئے ہے اور اُس گھر کو تب سے ایسے ہی دیکھ رہے ہیں۔
اور وہاں سب گھر ہی نئے ہے بس ایک گھر ہی ہے جو بیس بائیس سال سے زیادہ پرانا ہے۔۔۔۔۔
اُن سے پوچھ کر نین ساحل اُس گھر کی طرف بڑھے جو کچھ ہی فاصلے پر تھا۔۔۔لکڑی کے بھاری پرانے دروازے پر دستک دی تو ایک پچاس پچپن سالہ عورت نے دروازہ کھولا اور اُن دونوں کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی۔
نین نے ساحل کو دیکھا کے وہ کچھ پوچھے لیکِن وہ تو مسلسل چپ تھا تو خود ہی بات کرنے لگی
اسلام علیکم۔۔۔ہمیں آپکی ایک ہیلپ چاہیے تھی۔وہ جو گھر ہے اُس گھر کے لوگوں کے بارے میں پوچھنا تھا ۔۔۔۔کیا آپ جانتیں ہے وہ لوگ اب کہاں رہتے ہیں۔۔۔۔
نین نے ہی اُس عورت کو اشارے سے وہ گھر بتاتے ہوۓ پوچھا
آپ کون ہے اُن کی۔۔۔۔
اُس عورت سے حیرت سے دونوں کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
۔۔۔۔۔یہ ساحل ہے۔۔۔۔وہ گھر انہیں کی امی کا ہے۔۔۔۔میں ان کی بیوی ہوں۔۔۔کیا آپ۔۔۔ بتا سکتی ہے پلیز۔۔۔۔
اُس نے ساحل کا اور اپنا تعارف کرتے ہوئی بیتابی سے پوچھا تو وہ عورت اب سنجیدگی سے ساحل کو دیکھنے لگی۔۔
جب کے اُن پر کب سے نظر رکھ رہے آدمی نے نین کی بات سنتے ہی فون نکال کر کان سے لگایا تھا۔۔۔
آپ دونوں اندر آئیں بیٹا۔۔۔۔
اُس عورت سے جواب دینے کی بجائے دروازے کے پٹ پورے وا کرتے ہوئے دونوں کو اندر بلایا ۔۔
ساحل نے انکار کرنا چاہا لیکن وہ اُسے ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی۔
اُس عورت نے دونوں کو آنگن میں ہی رکھے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
نہیں ہمیں جانا ہے آپ پلیز اگر جانتیں ہے تو بتا دیں ۔۔
نین نے سر نفی میں ہلا کر کہا
بتاتی ہوں آپ دونوں بیٹھ جائیں۔۔۔
اُس عورت سے نرمی سے کہا ۔۔
کیا آپ جانتی ہے ساحل کی امی اب کہاں رہتیں ہیں۔۔۔۔ہمیں اُن سے ملنا ہے۔۔
نین سے بلکل صبر نہیں ہو رہا تھا جب کے وہ بول تو نہیں رہا تھا سن رہا تھا یا نہیں یہ بھی سمجھنا مشکل تھا۔۔۔
ایسا تو ممکن نہیں بیٹا کے تم اب اُن سے مل سکو۔۔۔۔۔۔اُنہیں گزرے ہوئے تو کافی عرصہ ہو چکا ہے۔۔۔
اُن کی بات پر جہاں نین حیرت و پریشانی سے اُنہیں دیکھنے لگی۔۔۔
وہیں بضاہر نارمل نظر آتے ساحل۔کا دل رک سا گیا۔۔۔
کیا اُس نے دیر کردی یہ سوال اُسے ہنٹر کی طرح لگا جس کے وار سے اُس کی روح تک میں لرزش ہوئے۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
وہ تھوڑے سے فاصلے پر ٹیکسی سے لگ کر کھڑی قبرستان کے گیٹ کی سلاخوں سے اندر کا منظر دیکھ رہی تھی۔جہاں ساحل ایک پرانی کچی قبر کے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھا اُن پر پھول بکھیر رہا تھا۔۔۔
گہرا سناٹا تھا جس میں ہوا سے حرکت کرتے پتوں کی سرسراہٹ بھی با آسانی سنی جا سکتی تھی۔۔۔
لیکن ساحل کے کان وہ بھی سننے سے قاصر تھے۔۔
اُس کی خاموشی میں بس ایک آواز گونج رہی تھی جس نے اُس کے ماضی کے ورق پلٹ کر اُسے پوری حقیقت سے روشناس کروایا تھا۔
اُس عورت کی آواز۔۔۔۔
میں اور تمہاری امی ہمیشہ سے اچھی سہیلیاں رہیں ہے۔۔۔۔جب سے وہ شادی ہو کر اس گاؤں میں آئی تھیں تب سے میں ہی سب سے زیادہ نزدیک رہیں ہوں اُن کے۔۔۔۔
زندگی بہت تھوڑی ہی جی پائیں لیکِن جتنی بھی جي ہے ایک جنگ کی طرح لڑتے لڑتے ہی گذر گیی۔۔۔
سب سے بڑا ستم اُس عورت پر یہ تھا کہ اُس کی شادی تمہارے باپ سے ہوئی تھی۔۔۔۔
کریم کاظمی جیسے جواری بے ایمان اور ایاش انسان نے نا صرف اُس کی زندگی تباہ کی بلکہ اُس کی موت بھی بن گیا۔۔۔۔
تمہاری دادی بہُت اچھی خاتون تھیں۔۔اپنے بیٹے کی بری عادتوں کی وجہ سے اُنہوں نے ایک اچھی لڑکی کا انتخاب کرکے اُس کی شادی کروائی یہ سوچ کر کے شاید وہ سدھر جائے۔۔۔
تمہارا باپ شادی کے بعد صرف ایک سال تک ہی اس گھر میں رہا تھا۔۔۔اور اُس ایک سال کے عرصے میں وہ شراب کے نشے میں دِن رات تمہاری ماں پر ظلم کرتا تھا۔۔مار پیٹ کرتا تھا۔۔۔۔۔
ایک سال بعد وہ اچانک ہی کہیں چلا گیا اور اُس کے بعد واپس نہیں لوٹا
یہ جانتے ہوئے کے وہ باپ بننے والا ہے
جب تم اس دنیا میں آئے تب بھی وہ واپس نہیں آیا۔۔۔
کوئی نہیں جانتا تھا وہ کہاں ہے کیا کرتا ہے۔۔۔
تمہاری ماں نے محنت کی مزدوری کی بچوں کو پڑھایا اور کسی طرح گھر کا گزر بسر کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری اور اپنی معذور ساس کی ساری ذمےداری اکیلی ہی اُٹھاتی رہی۔۔۔اور میں نے اُسے اس کے لیے دِن رات پستے ہوئے دیکھا ہے
پانچ سال بعد اچانک ہی تمہارا باپ واپس آیا سب اُس کے آنے سے بہت حیران تھے۔۔۔وہ بہت بدل گیا تھا ۔۔
جیسے کہیں سے لاٹری لگ گئی ہو۔۔۔
گاڑی پیسا سب کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری ماں سے جب میں نے پوچھا کے وہ اتنے دن کہاں تھا اور اچانک یہ تبدیلی کیسی تو اُس نے بتایا کہ تمہارے باپ نے ایک بہت بڑی مافیا گینگ جوائن کرلی ہے۔۔۔یہی نہیں وہ دو لوگوں کا قتل کرکے فرار ہوا تھا۔۔۔
اور یہاں وہ تمہیں لینے آیا تھا۔۔
وہ تمہیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتا تھا۔۔۔
تمہاری ماں نے مجھ سے مدد مانگی کی میں تمہیں لے کر کچھ دِن کہیں چلی جاؤں لیکِن میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی میرا بھی اپنا گھر اپنی زندگی تھی۔۔۔ میں نے انکار کر دیا ہو سکے تو مجھے اس کے لیے معاف کردینا
لیکن تمہاری ماں تمہیں کسی طور اُس آدمی کے ساتھ اُس جرم کی دنیا میں جانے دینے کو راضی نہیں تھی۔۔ و خود بھی تمہیں کہیں نہیں لیجا سکتی تھی ورنہ تمہاری دادی اکیلی رہ جاتیں جو خود بستر سے اٹھ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
تمہاری ماں کے انکار نے اُس کے دن رات عذاب کردیئے تھے۔۔۔۔
تو کیا اس لیے اُنہوں نے ساحل کو ۔۔۔
درمیان میں نین کی آواز ابھری تھی
اتنی بڑی ہمت کرنا شاید تب بھی ممکن نہیں ہوتا لیکن جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ تمہارا باپ تمہیں اپنے لیے ساتھ لے کر نہیں جا رہا تھا بلکہ تمہیں کسی کو بیچ رہا تھا تو اُس نے یہ ہمت کرلی۔۔۔
یہ سوچ کر کے اس طرح تمہیں شاید ایک اچھی زندگی ملنے کی اُمید تو ہے۔۔۔ورنہ جس راستے پر تمہارا باپ بھیجنا چاہتا تھا وہاں تو کوئی اُمید بھی نہیں تھی۔۔۔۔
یقیناً تم اس بات کے لیے ہمیشہ اُسے کوستے رہے ہوں گے کے تمہاری ماں نے تمہیں کچرے کی طرح سڑک پر پھینک دیا لیکن تمہیں نہیں پتہ اس کی قیمت اُس نے اپنی جان دے کر چکای ہے۔۔۔
یہ جانتے ہوئے کے اُس کا انجام برا ہوگا وہ تمہاری دادی کی وجہ سے گھر واپس آئی اور تمہارے باپ نے اُس دِن کو اُس کی زندگی کا آخری دن بنا دیا۔۔
سارے گاؤں نے وہ منظر دیکھا جب بیچ میدان میں اُس نے۔ سب کے سامنے اُسے جلادوں کی طرح قتل کر دیا۔۔۔
گھر جانے سے پہلے وہ مجھ سے ملی یہی اُس نے مجھ سے کہا تھا کے تم اُسے زندگی بھر شاید معاف نہیں کرو گے ۔۔۔شاید وہ دنیا کی سب سے بدتر ماں ہے لیکِن میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں کے ایسا نہیں ہے۔۔۔
جتنی تکلیف تمہیں چند سالوں میں ہوئی ہوگی اُس کے سو گنا تمہاری مان نے اُس ایک ڈن میں ہی بھگت لی تھی۔۔۔۔
تمہاری دادی چند دِن لوگوں کر بھروسے پلتی تھی اور پھر و بھی ایک سال کے اندر ہی انتقال کر گئی۔۔۔
ایک پورا گھر تباہ ہوتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔
میں حق تو نہیں رکھتی پھر بھی تم سے التجا کرتی ہوں کے اپنی ماں کو معاف کردینا بیٹا وہ خودغرض نہیں تھی۔۔۔۔ بس مجبور تھی۔۔۔
اُس انجان عورت کے سادے سے لفظ اُسے نشتر کی طرح لگ رہے تھے۔۔دل و دماغ زخمی ہو گیا تھا ۔۔
وہ کب سے پتھر کی طرح ساکت بیٹھا تھا جب اُس کی سرخ ہوتی آنکھ سے آنسُو نکل کر بھوری مٹی میں جذب ہوا تو اُس نے لمبے وقفے کے بعد آنکھیں بند کرکے گہری سانس لی۔۔۔
اتنے عرصے سے پنپتے سارے سوالوں کا جواب ملا بھی تو ایک پچھتاوے کے ساتھ۔۔۔کے کیوں وہ وجہ بنا اپنی ماں کے دردوں کی۔
جس وجود کے لیے دل میں اب تک ناراضگی تھی اب تڑپ تھی کے کاش ایک بار دیکھ ہی لیتا ایسی ماں کیسی دکھتی ہے۔۔۔
قبر کی مٹی کو ہاتھ میں لیتے اُس نے آنکھیں بند کرکے بے آواز معافی مانگی۔۔
اِنتظار طویل ہو نے لگا تو وہ آکر ٹیکسی میں بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔ویران علاقے کی خاموش شام میں اُڑتے پرندوں کا منظر بے حد دل فریب تھا لیکن ساحل کو اُداس دیکھ اُس کے دل کی کیفیت میں اُداسی گھلی ہوئی تھی۔۔
وہ خود سے بھی اقرار کرے نا کرے لیکن دل تو اس کی جانب کب کا مائل ہو چکا تھا۔۔۔
وہ تو بے خبر سی بہت آگے نکل آئی تھی ۔۔۔۔۔
تقریباً دو گھنٹے بعد وہ قبرستان سے باہر آیا تھا ۔۔۔نین دروازہ کھلنے کی آواز پر باہر سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف مڑی تھی۔
وہ اندر بیٹھ کر ڈرائیور کو چلنے کا کہتے ہوئے سر سیٹ سے ٹکا کر آنکھیں بند کر گیا تھا۔۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔
نین نے اسے بوجھل بوجھل سا محسوس کر ہتھیلی اس کے شولڈر پر رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
بنا کوئی حرکت کیے اس نے محض آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔
ٹیکسی آگے بڑھتی اُس علاقے سے دور ہوتی مین سڑک پر آگئی تھی۔۔
شام گہر ہوکر اندھیرے میں بدلتی جا رہی تھی
شاید تم صحیح تھی۔۔۔میں نے دیر کردی۔۔۔۔۔
اس کے دھیرے سے حرکت کرتے لبوں سے سرسراتے الفاظ ادا ہوئے نین نے اس کی اس کی آنکھوں میں دوڑتے سرخ ڈوروں کو دیکھ اس کی بے سکونی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی
تم نے کوئی دیر نہیں کی ساحل۔۔۔۔
بس قسمت نے بہت جلدی کردی ۔۔۔۔۔تمہارے بس میں کچھ ہوتا اس کے پہلے ہی سب ختم کردیا۔۔۔
دیر ہوئی تو محض تمہاری اُلجھن اور غلط فہمیاں ختم ہونے میں۔۔۔لیکن دیر ہی سہی تم اپنے گرد بنے جھوٹ کے جال سے آزاد تو ہوئے۔۔
تمہاری پہچان ایک سوال تھی نہ تو اب اس کا ایک ہی جواب ہے کہ تم ایک عظیم ماں کے بیٹے ہو۔۔
اب سارے بوجھ اُتار دو دل سے۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے سمجھاتے ہوئے بولی۔۔
بوجھ تو خود ہی اُتر گیے۔۔۔بس یہ درد کم نہیں ہو رہا۔۔۔۔
وہ اب بھی اسی پوزیشن میں بیٹھا سانس لبوں سے خارج کرتے ہوئی ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولا۔۔
اللہ کرے تمہیں ہر دکھ اور پریشانی سے جلدی نجات مل جائے۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر پھیکا سا مسکرا کر بولی لیکِن پھر کچھ سوچ کر اچانک ہی چونکی
نہیں مطلب۔۔۔۔میرے علاوہ ہر دکھ پریشانی سے جلدی نجات مل جائے۔ ورنہ پتہ چلا میں ہی۔۔۔۔
وہ فوراً ہی اُسے دیکھ کر اپنے جملے کی درستگی پیش کرتی جتا کر بولی تو ساحل کے لب اُس کے یوں گڑبڑانے پر بے ساختہ مسکرا ہٹ میں ڈھلے۔۔
وہ ہنس کر سیدھا ہوتے ہوئے اُس کی پیشانی سے پیشانی ٹکا گیا۔۔
وہ اُس غیر متوقع عمل پر سانس روک گئی۔۔۔
حیرت سے دل رک گیا اور آنکھیں پھیل گئی۔۔۔
جب کے وہ اُس کی پیشانی سے سر لگائے پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر گیا تھا۔۔۔
وہ بوکھلائے انداز میں پیچھے ہو کر ٹیکسی سے دروازے سے لگ گئی۔۔۔
ساحل نے اُس کے دور ہونے پر سیدھا ہوتے ہوئے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔۔نین کے چہرے پر بکھرے بےشمار رنگ و قزح اُس کے دل دھڑکنے کا باعث بنے۔۔۔
تم ۔۔۔سیڈ بلکل اچھے نہیں لگتے۔۔۔
وہ اُس کے دیکھنے سے اندر ہی اندر اُلجھتی نروس ہوتی بات کا رخ بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے نارمل لہجے میں بولی
تو کیسے اچھا لگتا۔۔۔۔۔
ساحل کا پوچھنا نارمل ہو کر بھی نارمل نہیں تھا اور اُس نے ہاتھ پھیلا کر سیٹ پر رکھا تو وہ کچھ اور سوچ کر اپنے آپ میں سمٹ گئی۔۔۔
تم مجھے کیسے بھی۔۔۔۔۔۔نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔
وہ اُسے کچھ اپنے مزاج کے مطابق سخت اور خطرناک کہنے کے ارادے میں تھی لیکن پتہ نہیں اُسے کیا چیز اتنا نروس کر رہی تھی کے وہ خود ہی چُپ ہو کر چہرہ باہر کی طرف کر گئی۔۔
وہ اُسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا
