Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

وہ بے حد مضطرب تھی۔۔یہ سوچ سوچ کر کے اُس کی وجہ سے داؤد اور اُس کی ماں کے درمیان میں دوریاں آگئیں ہے۔۔۔
وہ اُن کے بیچ دیوار بن گئی ہے۔۔۔
اُسے ایک پل سکون نہیں مل رہا تھا کے اُس کی وجہ سے داؤد اور رابعہ بیگم دونوں اپنی اپنی جگہ پریشان ہے۔۔۔۔
اُس نے کتنی کوششیں کو تھی اُنہیں منانے کی لیکن دن بدن اُن کی نفرت کو بڑھتے ہی پایا تھا
اُسے اپنے خلاف تو سب کچھ قبول تھا لیکن داؤد دکھی ہو یہ وہ نہیں سہ پا رہی تھی۔۔۔
اور داؤد کی ساری پریشانیاں صرف اُس۔ کے ہونے سے تھی
اس لیے وہ اُس کی زندگی سے نکل جانا چاہتی تھی۔
اُس نے پلٹ کر داؤد کی جانب دیکھا۔۔۔جو دوسری جانب کروٹ لیے سو رہا تھا یا سونے کا دکھاوا کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اپنے آنسُو پونچھتے ہوئے بہُت آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اندھیرے میں ہی آگے بڑھی تاکہ اُس کی ذرا سی بھی حرکت سے داؤد کو احساس نہ ہوجائے
ابھی اُس کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر ہی تھا کے کمرے کی لائٹ روشن ہو گئی۔۔۔۔اُس نے آنکھیں سختی سے میچ کر کھولیں۔۔۔
فلک۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے پکارا تو دھیرے سے پلٹتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا۔۔اور نظریں جھکا گئی۔کیوں کے وہ جانتی تھی اُس نے پھر اُس سے دور جانے کی کوشش کرکے اُسے دکھ ہی دیا ہے
یہاں آو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر قریب بلایا۔۔۔
وہ مرے مرے قدموں سے چلتی بیڈ کے قریب پہنچی اور اُس کے ہاتھ میں ہاتھ رکھتے ہوۓ پاس بیٹھ گئی
مجھے یہاں سے جانے دیجئے۔۔۔۔ورنہ آپ کی زندگی میں کبھی کُچھ صحیح نہیں ہوگا۔۔۔۔
وہ سر جھکائے آنسُو بہاتی بے بسی سے بولی
تم ہر بار دور جانے کی بات اس لیے کرتی ہو کیوں کے تم نے اب تک ہمارے رشتے کو سیریس لیا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔
داؤد نے گہری سانس لیتے ہوئے افسوس سے کہا فلک نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا داؤد نے اُس کے لبوں پر۔اُنگلی رکھ دی
تمہیں اس بات پر اب تک یقین نہیں ہے کے میں تمہیں اپنی زندگی کا اپنی روح کا حصہ بنا چکا ہوں۔۔
کیوں کے شاید میں نے صرف زبان سے کہا ہے اب تک کوئی عملی مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔
داؤد نے بے حد سنجیدگی سے کہتے ہوئے ہاتھ اُس کی گردن میں ڈالے گال کو انگوٹھے سے سہلایا
فلک سانس روکے اُسے دیکھنے لگی
میں نے ہی تمہیں اب تک آزادی دے رکھی تھی اور اب میں ہی تمہیں ایسے بندھن میں باندھ دوں گا کے تم مجھ سے الگ ہونے کا خیال بھول جاؤ گی۔۔۔۔
مجھ سے دور جانے کوشش چھوڑ دو گی
اُس نے فلک کو خود سے قریب کرتے ہوئے گمبھیر لہجے میں کہا
وہ حیران ہوتی۔۔۔گھبراتی۔ کچھ کہتی اُس کے پہلے ہی اُس کے لبوں پر جھک کر اُنہیں نرمی سے قید کر گیا۔۔۔۔
فلک سن سی اُس کی گرفت میں قید ہو کر رہ گئی۔۔۔۔اُس کی دھڑکنیں ساکت ہو گئی۔۔۔۔۔۔اُس کا یہ قدم اُس کے لیے بہت غلط ثابت ہوا۔۔۔
اُس نے داؤد کے سینے پر ہتھیلی رکھتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی
لیکن وہ اُس کی کلائی تھام کر اُسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے اُس کی ہر کوشش کو ناکام کرتا اپنے کہے پر عمل کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے اُس کے لبوں کا دہکتا ہوا لمس گردن پر محسوس کرکے آنکھیں سختی سے میچتے ہوئے خود کو اُس کے سپرد کر دیا
∆∆∆∆∆∆∆
عشرت اور شیرین کچن میں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو غصے سے ایک دوسرے کو گھور تیں برتن پٹخ پٹخ کر کام کرنے لگی۔۔۔۔۔
دونوں کا بس نہیں چل رہا تھا ایک دوسرے کے منہ نوچ لے
تم نے میرا کام بگاڑ کر بلکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کو عشرت نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا
تُم نے تو جیسے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔تم اگر ٹانگ نا اڑاتی تو آج وہ کڑے میرے پاس ہوتے۔۔۔
شیرین نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے گھورتے ہوئے منہ بنایا
اور تم بیچ میں نہیں آتی تو میں اُنہیں پہن کر اپنی سیلفی اپلوڈ کر رہی ہوتی
عشرت نے کمر پر۔ہاتھ رکھتے ہوئی جتا کر کہا اور پھر چھوٹا سا منہ بناتی وہاں پڑی کرسی پر بیٹھ گئی
اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ہم دونوں ہی کڑوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے
اور مجھے تو لگتا ہے دادی غصے میں وہ کڑے نین یا فلک میں سے کسی کو دے دیں گی
عشرت نے مایوسی سے اپنا خدشہ ظاہر کیا
نہیں نہیں ایسا مت بولو یار۔۔۔۔۔
شیرین نے گھبرا کے رونی شکل بنائے کہا
شیرین کیوں نہ ہم دونوں مل کر کوشش کریں اُن کو ملانے کی
عشرت ایکدم سے کرسی سے اٹھ کر جوش میں بولی
ہاں یار یہ آئیڈیا بلکل صحیح ہے
اور جب انعام ملے گا تو ہم آپس میں بانٹ لیں گے۔۔۔۔
ایک بار وہ کڑے تم پہننا۔۔۔۔ایک بار میں پہنوں گی۔۔۔۔
اُس کے آئیڈیا پر شیریں کی بھی آنکھیں چمکی
ہاں یہ بلکل صحیح ہے۔۔۔۔لیکن کیا کریں اُن دونو کو ملانے کے۔لیے۔۔۔
عشرت خوش ہو کر سر ہلاتی ہوئی پوچھنے لگی
یہ تو سوچنا پڑیگا۔۔۔کیوں کہ ایک بار کو ٹام اور جیری کی دوستی کرانا آسان ہے لیکِن ان کی صلح کروانا بہت مشکل۔۔۔۔
شیرین نے منہ بسور کر کہا
یار ہمارے بچے کب کام آئے گے۔۔۔اُن کی مدد لیتے ہیں نا ویسے بھی دونوں بچے اُن سے بہت کلوز ہے بچوں کی باتیں تو ٹال بھی نہیں سکتے دونوں
عشرت کی بتی جلی تو اکسائٹڈ ہو کر بولی
ہاں پوائنٹ ہے۔۔۔۔ہم بچوں کو کہتے ہیں کے دونوں آپس میں کٹی ہے اور دونوں کی بٹی کروائیں۔۔۔۔۔۔۔
شیرین چہک کر بولی اور دونوں اب خوشی خوشی مل کر کام کرنے لگی
∆∆∆∆∆∆
اُمید ہے اب تم مجھ سے دور جانے کا خیال اپنے زہن سے نکال دوگی۔۔۔۔
داؤد نے اُسے اپنے حصار میں قید کیے اُس کے بالوں پر کیس کرتے ہوئے کہا
آپ کی امی آپ سے ناراض ہے کیا آپکو فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
فلک نے اُسے خفگی سے دیکھ کر ہارے ہوئے لہجے میں پوچھا۔۔
فرق پڑتا ہے فلک لیکن مجھے تمہارے دور جانے سے بھی فرق پڑتا ہے
داؤد نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی سے گال سہلا کر کہا
مام کبھی نہ کبھی مان جائے گی
تم سے الگ ہونا اس بات کا سولوشن نہیں ہے
وہ بے بس لہجے میں بولا
آپ نے کبھی سوچا ہے کے آپ کی امی ابھی اتنی نفرت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔۔حالانکہ وہ ابھی تو میرے بارے میں سب کچھ جانتیں بھی نہیں ہے
اُنہیں حقیقت معلوم ہوگی تب کیا ہوگا۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتی سوال کرنے لگی یہ ڈر اُس کے دل میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھا تھا
اور داؤد کا حال بھی الگ نہیں تھا
فلک بس دو ہفتے اور اُس کے بعد میں مام کو سب کچھ بتا دوں گا۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اطمینان سے جواب دیا
پھر کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
فلک نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا
پھر یا تو وہ میری خوشی کے لیے تمہیں قبول کر لیں گیں
یا ان کی خوشی کے لیے میں تمہیں اس گھر سے دور لے جاؤں گا۔۔۔
داؤد نے اُس کی پیشانی سے بال ہٹاتے ہوئے حتمی لہجے میں کہتے ہوئی اُس کی پیشانی پر لب رکھے
∆∆∆∆∆∆
ماما کا بیٹا ساری رات سے غائب ہے۔۔۔۔
ضرور کہیں جا کر لڑکیوں سے فلرٹ کر رہا ہوگا کمینہ
وہ نیند سے جاگ کر ساحل کی غیر موجودگی پر بے حد حیران ہوئی تھی
وہ رات بھر گھر سے باہر کیا کرتا رہا ہوگا یہ سوچ کر عجیب عجیب خیال آرہے تھے جن سے اُس کے غصے میں اضافہ ہو رہا تھا
اب بھی وہ بار بار گھڑی دیکھتی باہر لان میں ہی چکر لگا رہی تھی تاکہ وہ آئے اور اُسے وہی اچھی خاصی سنا دے
آنے دو اسے آج تو بتاتی ہوں۔۔۔۔
وہ دونوں مٹھیاں بھینچ کر ضبط سے بڑبڑا ئی۔۔
اُسے یہ سوچ کر کے رات بھر ساحل کسی لڑکی کی ساتھ نہ ہو۔۔۔شدید ٹینشن ہو رہی تھی
لیکِن یہ اُس کی لائف ہے وہ کچھ بھی کرے مجھے کیا۔۔۔۔۔
آخر اپنی ٹینشن پر خود ہی جھنجھلا گئی
ایسے کیسے کچھ بھی کرےگا آخر ہے تو میرا ہسبنڈ ہی نہ اُس کی بے عزتی میں میری بے عزتی ہے۔۔۔۔۔
وہ خود کو۔خود کی صفائی دیتے ہوئے بولو نظریں بیتاب سے گیٹ پر ٹکی ہوئی تھی
اور کا ن اُس کی بائیک کی آواز سننے کو بے چین تھے
میرا نام خراب کرنے نہیں دوں گی اُس راؤڈی کو۔۔۔۔۔
ورنہ سارا سماج مجھ پر تھو تھو کرےگا
کہے گا۔۔۔۔۔
دیکھو وہ جا رہی ہے ٹھرکی کی بیوی۔۔۔۔۔
وہ جا رہی ہے لفنگے کی بیوی۔۔۔
سالوں کی عزت مٹی میں مل جائے گی۔۔۔۔۔
وہ طیش میں بڑبڑا تی اور تیزی سے چکر لگانے لگی
نین۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم کی پکار پر وہ رک کے اُن کی طرف متوجہ ہوئی
کل تم مجھ سے ناراض تھی۔۔کیا اب بھی ناراض ہو
رابعہ بیگم نے اُس کی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئی پیار سے پوچھا
بلکل نہیں بڑی مامی بلکہ میں نے آپ سے جو بد تمیزی کی اُس کے لیے ریئلی سوری
پر پلیز آپ ساحل کو انسلٹ مت کرنا۔۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگتا
وہ معذرت کرتے ہوئے بھی ساحل کی طرفداری کرنے سے پیچھے نہیں ہٹی اور یہی بات رابعہ بیگم کو سخت زہر لگی
ساحل کے نہیں میں تمہارے بارے میں بات کرنے آئی
اُنہوں نے ناگواری سے کہا
دیکھو نین تم جانتی ہو میرے لیے جیا اورتم میں ذرا بھی فرق نہیں ہے میں تمہیں بھی اپنی بیٹی کی طرح ہی چاہتی ہوں۔۔۔
میں نے ہمیشہ صرف تمہیں ہی اپنی بہو مانا ہے۔۔
اُنہوں نے اپنے لہجے کو نرم کیے محبت سے کہا
اب ان باتوں کا کیا مطلب رہ جاتا ہے بڑی مامی۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر گہری سانس خارج کی
وہ لڑکی داؤد کے اور اس گھر کے لیے بلکل صحیح نہیں ہےنین۔۔۔
تم خود سوچو داؤد کیا پہلے ایسا ہی تھا۔۔۔۔۔
تم بچپن سے جانتی ہو نه اُسے
بتاؤ ایسا کر سکتا ہے کیا وہ۔۔۔۔
اُس لڑکی نے ہی کیا ہے یہ سب۔۔۔۔اُسی نے مجبور کیا میرے بیٹے کو۔۔۔۔
رابعہ بیگم کے لہجے میں فلک کے لیے نفرت ہی نفرت تھی
وہ اُسے یہ جتانے کی کوششں کرنے لگیں کے وہ بھی فلک کی بجائے اُسے داؤد کے ساتھ دیکھنا چاہتیں ہے
نین اُن کی بات پر لا پرواہی سے ہنسی
پتہ نہیں کیوں بیٹے کی شادی ہوتی ہے تو اُس کے سارے کارنامے کی ذمےدار بیوی ہی نظر آتی ہے ماوں کو۔۔۔۔
اُس نے طنز کرتے اُنہیں شرمندہ کرنا چاہا
بڑی مامی کچھ پریکٹیکل بات کیجئے۔۔۔۔داؤد کوئی چھوٹا بچّہ نہیں ہے جسے لالیپاپ کا لالچ دے کر کوئی کچھ بھی کر والے۔۔۔۔۔
اُس کی اپنی بھی عقل ہے۔۔۔
آپ کیسے کہہ سکتی ہے کے اُسے کسی نے مجبور کیا۔۔۔پھنسایا اینڈ آل۔۔۔۔
اُس نے اُنہیں آئینہ دکھایا رابعہ بیگم لاجواب ہو کر رہ گئیں
جو بھی ہو مجھے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔۔۔داؤد کا چیپٹر میری لائف میں کلوز ہو چکا ہے۔۔۔میں لعنت بھیج چکی ہوں اُس پر۔۔۔
اور اب اُس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں ہے مجھے۔۔۔۔
اُس نے عاجزی و سخت بیزاری سے کہا
نین۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُس کے بیزار تاثرات دیکھتے ہوئے بھی اُسے سمجھانا چاہا لیکن۔۔۔۔
ریا کا فون آرہا ہے بڑی مامی۔۔۔۔۔میں بات کر لوں
وہ فون آنے کا فائدہ اٹھا کر اُنہیں ٹالتی اُن کے سر ہلاتے ہی اندر کی طرف بڑھ گئی