Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
عشرت نین کے کمرے میں آئی تو دیکھا وہ کھڑکی کے پاس کھڑی بہُت غور سے باہر دیکھ رہی تھی تفتیشی انداز میں
کیا دیکھ رہی ہو نین۔۔۔۔۔۔
عشرت کے پوچھنے پر وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی اور پھر سکون کی سانس لے کر ہاتھ سے عشرت کو قریب آنے کا اشارہ کیا وہ حیران ہوتی اُس کے قریب ہوئی تو نین نے باہر اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
باہر ساحل گارڈن میں جھولے کے سہارے سے کھڑا تھا اور نظریں جہاں تھی وہاں گھر کی ملازمہ چندہ کھڑی فون پر کِسی سے باتیں کر رہی تھی
ساحل کی صرف نظریں اُس طرف تھی لیکِن دھیان کان میں لگے بڈز سے آتی آواز پر جو نین کی نظروں سے پوشیدہ تھا
اب ساحل کے لبوں پر مسکان دیکھ کر اور اُس کی نظریں چندہ پر دیکھ کر وہ معصوم تو اپنے مطابق ہی اندازہ لگا سکتی تھی
بھابھی مجھے لگتا ہے اس ماما کے بیٹے کا ہماری میڈ چندہ کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ عشرت کے پاس رازدارانہ انداز میں بولی
ہائے اللہ۔۔۔۔۔تمہیں کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔
عشرت نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا
وہ دیکھیے کیسے دونوں چپکے چپکے رومانس کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
نین نے چندا کی طرف اشارہ کیا جو شرما کر اپنی اُنگلی چبا رہی تھی اتفاق سے رخ وہیں تھا جہاں دور ساحل کھڑا تھا
چندا ایسی لگتی تو نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
عشرت نے چہرے پر ہاتھ رکھے حیرت سے کہا
وہی تو بھابھی۔۔۔لیکِن اُس کو اس راؤڈی کے سوا کوئی نہیں ملا عشق لڑانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے ساحل کو گھورا ۔۔۔بلیک فیڈیڈ جینس اور بلیک شرٹ میں بلکل موالیوں والا حلیہ تھا اُس کا
کام کے پیچھے یہ گل کھلا رہی ہے ابھی جا کر بڑی ماں کو خبر دیتی ہوں۔۔۔۔
عشرت غصے سے چندہ کو دیکھتی ہوئی بولی
جانے دو نا بھابھی۔۔۔۔بے چاری معصوم کو ضرور اس وائلڈ مین نے پھنسایا ہوگا۔۔۔۔۔مجھے تو یہ شکل سے ہی ٹھرکی لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے آپ یہاں کسی کام سے آئی تھیں۔۔۔۔۔
نین نے اُسے روکتے ہوئے آنے کی وجہ پوچھی تو عشرت دھیان آنے ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی
ارے ہاں میں تو بھول ہی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی ماں نے تمھیں کھانے کے لیے بلانے بھیجا تھا۔۔۔جلدی چلو۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے کرنٹ کھا کر اُسے پکڑے اپنے ساتھ لے گئی
∆∆∆∆∆∆∆\
وہ گھر میں داخل ہوا تو عباس صاحب کی خطرناک نظروں سے اندازہ ہو گیا کے کالج کا پرنسپل اُنہیں فون کرکے سب کچھ بتا چکا ہے۔۔۔۔وہ سر جھکائے چور نظروں سے اُنہیں دیکھنے لگا۔۔۔
عباس صاحب نے اُسے دیکھ کر مُٹھی بھینچ لی جب پرنسپل کی بات یاد آئی
بھارت میں کل کتنی ریاستیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل نے اُس سے ہر سوال کے جواب میں۔فضول بات سن کر بہت ضبط سے نہایت آسان سوال پوچھا
تونے کیا میرے کو گوگل سمجھا ہے جو سوال پر سوال کیے جا رہا ہے۔۔۔۔۔ابے میرے کو کیا معلوم کے اِدھر کتنی ریاستیں ہے میں ادھر کا واچ میں دکھتا کیا تیرے کو۔۔۔۔۔
وہ بدتمیزی کی ساری حدیں توڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔پرنسپل کا دل چاہا اُسے اٹھا کر پھینک دے۔۔۔اگر عباس صاحب اُن کے دوست نہیں ہوتے اور اُنہوں نے گزارش نہیں کی ہوتی تو وہ اب تک اپنے دل کی خواہش پوری کر بھی چکے ہوتے
تمہیں اس کالج میں ایڈمشن دینے کے لئے تمھاری بیسک نالج جاننا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ضبط و نا گواری سے بولے
تُو جلدی جلدی پوچھ نہ آدھے گھنٹے سے پکا رہا ہے۔۔۔۔۔پرنسپل ہو کر ٹائم کی قدر نہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ پیر ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا
انسانی جسم میں کتنی ہڈیاں ہوتی ہے۔۔۔۔
اُنہوں نے دانت پیس کر اپنے سامنے رکھے اُس کے جوتے دیکھ کر کہا۔۔و پہلی دفعہ مسکرایا
کتنی ہوتی ہے یہ تو اپن کو نہیں معلوم لیکِن ایک ایک ہڈی کو کس کس طرح توڑ سکتے یہ اپن سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔۔
وہ بڑی شان سے بولا پرنسپل اٹھ کھڑا ہوا
معاف کرنا ۔۔۔۔۔دنیا کے کسی کونے میں تمہارے لیے کوئی کالج نہیں بنا۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سرخ چہرہ لیے اُسے گھور کر بولا ساحل بھی پیر نیچے کرکے کرسی سے اٹھ گیا
پہلی بات دُنیا گول ہے اس کا کوئی کونا نہیں ہے سمجھا۔۔۔۔پرنسپل ہو کر اتنا نہیں جانتا تو میرے کو کیا خاک پڑھائے گا۔۔۔۔۔۔۔
اگر ٹائم ملے نا تو میرے پاس آجانا ٹیوشن لینے۔۔۔۔بات کرتاہے۔۔۔۔۔
وہ اُسے ناگواری سے کہہ کر سر جھٹکتا وہاں سے نکلا پرنسپل سر پکڑ کر کرسی پر گر گیا
پرنسپل کی بتائی باتیں یاد کرکے عباس صاحب نے دانت پیس کر اُسے دیکھا یہ تیسرے کالج کی کمپلینٹ تھی
بیٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے سخت لہجے میں کہا تو باقی سب بھی جو باتوں میں لگے تھے اُس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔۔۔وہاں ساری فیمیلی تھی سوائے داؤد کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل انجن اتنا گرم دیکھ کے انکار نہیں کر سکتا تھا اس لیے خاموشی سے آکر اپنی دادی کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں عباس صاحب کی نظر اُس پر نا پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے پیار سے دیکھتے ہوئے اُس کے آگے رکھی پلیٹ سیدھی کی۔۔۔
نین کے ساتھ عشرت جیا اور شیرین بھی آج اُسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔نین نے چندا کے ساتھ اُس کی محبت کی داستان جیسے مرچ مسالا لگا کر تینوں کو سنائی تھی ساحل اُن کے لیے ہاٹ ٹاپک بن گیا تھا
ساحل نے اُن کی نظروں سے زچ ہو کر اُن کو دیکھا ۔۔۔عشرت اور شیرین تو منہ بگاڑ کر نظریں ہٹا گئی جیا بھی کھانے پر جھک گئی۔۔۔۔۔
جب کے نین نے پوری بے شرمی سے اُسے اسمائیل دی تھی جس پر وہ دانت پیس کر پلیٹ میں بریانی ڈالنے لگا
نین نے اُس کے حلیے پر غور کیا۔۔۔۔۔
گھنے بال پیشانی پر بکھرے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلیک شرٹ کے تین بٹن کھلے تھے گلے میں کالی چین اور چین میں عجیب اوزار نما تین چار پینڈینٹ ڈالے ہوئے تھے۔۔۔ہاتھ میں بھی عجیب عجیب ڈیزائن کے بینڈز پہنے ہوئے تھے۔۔۔اُنگلی میں کالے رنگ کی رنگ تھی جسے دیکھ کر نین نے گندی سی شکل بنائی۔۔۔
نانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپکو نہیں لگتا کے داؤد کے بھائی کو کسی اچھے پرسنلٹی کنسلٹنٹ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔
وہ کہاں چُپ رہنا جانتی تھی ۔۔۔۔نانو تو سمجھ نہیں پائی لیکِن جیا عشرت اور شیرین اُس کی بات پر ہنسنے لگیں۔۔۔۔۔ساحل نے ابرو اچکا کر دیکھا۔۔۔۔۔اور زینب نے اپنی بیٹی کو گھورنا ضروری سمجھا
مطلب۔۔۔۔۔۔۔
وہ کڑے تیوروں سے اُسے گھور کر بولا
مطلب داؤد کا بھائی ہونے کے حساب سے یہ لُک تم۔پر کچھ خاص سوٹ نہیں کرتا۔۔۔۔تمہیں اپنا حلیہ بدلنا چاہیے۔۔۔۔
وہ ہاتھ ٹھوڑی پر رکھے سمجھداری سے بولی۔۔۔نانو نے بھی اُسے گھورا تو دانت زبان میں لیتی سر جھکا گئی
ساحل نے اُسے غصے سے دیکھ کر کھانے کا پہلا اسپون منہ کی طرف کیا
حلیہ بدلنے سے انسان کی شخصیت نہیں بدل جاتی نین جو جیسا ہے ویسا ہی رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کپڑے یا جوتے بدلنے سے کوئی میرے بیٹے کے برابر نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم کا طنز عباس صاحب کے سینے میں بری طرح چبھا۔۔۔۔۔۔۔ساحل کا ہاتھ جہاں کا وہیں ٹہر گیا۔۔ سب ہی سنجیدہ ہو گئے
نین نے بھی حیرت سے اُنہیں دیکھا
۔بلکل جیسے ہاتھ کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتی لیکن ہر ایک کی اہمیت اپنی جگہ اتنی ہی ہوتی ہے
عبّاس صاحب نے رابعہ کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
ساحل نے منہ تک پہنچے چمچ کو ہاتھ سے چھوڑا تو اُس کے گرنے کی آواز سکوت میں گونجنے لگی۔۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
کہاں جا رہے ہو بیٹا۔۔۔۔ کھانا تو کھا لو۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے نہایت دکھ سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا
پیٹ بھر گیا۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا کرسی پیچھے کرکے وہاں سے چلا گیا۔۔۔
رابعہ بیگم بھی اپنے شوہر کو خفگی سے دیکھتی وہاں سے اٹھ گئیں جنہوں نے سب کے سامنے اُنہیں اس طرح جواب دے کے شرمندہ کر دیا تھا
میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا نانو۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے ہے حد افسوس سے پوچھا اُسے لگا اس سب کے وجہ وہی ہے جو اچانک سے سب بگڑ گیا
نہیں بیٹا آپ نے کچھ غلط نہیں کہا۔۔۔ٹنشن مت لو آرام سے کھانا کھاؤ۔۔۔۔۔میں ابھی آیا
عبّاس صاحب اُسے مسکرا کر کہتے خود بھی اٹھ گئے وہ تو تقریبا رونے کو ہو گئی
۔کتنی دفعہ کہا ہی کے سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔۔۔پر اس لڑکی کو سمجھ ہی نہیں آتی۔۔۔۔۔
زینب کو بھی بہت دکھ ہوا اچانک ہوئی اس بدمزگی کا
جانے دو زینب بچی ہے اب اسے کیا پتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کھانا کھاؤ بیٹا
نانو نے اُنہیں روکتے ہوئے کہا۔۔لیکِن اُس کے حلق سے کہاں نوالہ اترتا وہ سر نفی میں ہلاتی اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔۔۔۔خود کو رونے سے روکنا چاہا
∆∆∆∆∆∆∆
رابعہ ساحل کو پسند نہیں کرتی اس لیے عباس اُس سے خفا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آۓ دِن دونوں میاں بیوی ساحل کے مطلق کسی نہ کِسی بات کو لے کر لڑنے لگتے ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ نانو کے کمرے میں اُن کے پاس بیٹھی تھی اور نانو اُسے پریشان دیکھ کے اُسے سمجھا رہی تھی۔۔۔زینب بھی وہیں صوفے پر روما کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
اگر بڑی مامی اسے پسند نہیں کرتی تو بڑے ماما نے اُسے بیٹا کیوں بنایا۔۔۔۔۔
نین نے اُلجھ کر پوچھا
۔
پتہ نہیں عباس کے دل میں کیا ہے لیکِن وہ ساحل کو بہُت چاہتا ہے داؤد سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔۔۔ایک سال پہلے اچانک ہی وہ ساحل کو گھر لے آیا تھا ۔۔۔۔
رابعہ کو عبّاس کے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں بس اُسے ساحل کو اپنا بیٹا بنانے سے اعتراض ہے ۔۔۔اور اِس کی وجہ ساحل کا ماضی ہے۔۔۔۔
اُنہوں نے سرد آہ خارج کرتے ہوئے کہا
عبّاس نے ہی سب کو بتایا تھا کہ وہ دس سال سے جیل میں تھا
پہلے کِسی کے قتل میں اُسے سات سال کی سزا ملی تھی اور جیل میں ہی کِسی کے ساتھ مار پیٹ کرنے پر اُس کی سزا تین سال اور بڑھ گئی۔۔
نین نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔۔۔۔۔اور اُسے بھی حیرانی ہوئی کے عبّاس صاحب نے ایسے انسان کو گھر میں جگہ کیوں دی
ظاہر سی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ سب جان کر تو کوئی بھی اُس آدمی کو اچھا نہیں سمجھے گا۔۔۔۔اُسے اپنے گھر میں رکھنے پر خوفزدہ ہی ہوگا کے وہ ہمارے ساتھ نا کچھ غلط کرے۔۔۔۔اور ایسا ہی رابعہ بھی سوچتی ہے۔۔۔۔۔و اپنی جگہ سہی ہے لیکِن
نانو کہتے کہتے رک گئی تو وہ بیتابی سے اُنہیں دیکھنے لگی۔۔۔زینب بھی اُن کی بات غور سے سن رہی تھی
ایک سال اُس لڑکے کو دیکھ کر میں نے اُسے جتنا سمجھا ہے اُس کے بعد مجھے یقین ہو گیا کے وہ دل کا بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے قتل کیوں کیا۔۔۔۔مارپیٹ کیوں کی اس کے بارے میں میں نہیں جانتی۔۔۔۔لیکِن وہ کِسی کو بے وجہ چوٹ پہنچانے والوں میں سے نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی کے لہجے میں اُس کے لیے محبت تھی
بس رابعہ اس بات کو نہیں سمجھتی۔۔۔۔وہ ساحل کو اس گھر میں رکھنے کے سخت خلاف ہے لیکن عبّاس کے ساتھ داؤد بھی ساحل کے خلاف ایک لفظ برداشت نہیں کر سکتا
دادی نے افسوس زدہ لہجے میں کہا نین نے اُن کے ہاتھ تھامتے ہوئے سر اُن کے پیر پر رکھا۔۔۔سوچنے لگی کے کوں صحیح ہے كون غلط۔۔۔۔یہ صرف ساحل غلط ہے۔۔۔لیکِن نانو کے تجزیے نے اُسے اس بات کو ماننے سے روکا
میں بہت گلٹی فیل کر رہی ہوں نانو۔۔۔۔میری وجہ سے بڑے ماما مامی اور۔۔۔۔۔ساحل کو بھی بہُت ہرٹ ہوا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے سب سے معافی مانگنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔میں ابھی آئی۔۔۔۔
وہ فوراً ہی فیصلہ کرکے وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئی زینب نے بھی اُسے نہیں روکا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
رابعہ۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے آہستہ آواز میں اُنہیں پکارتے ہوئے معافی مانگنے کی کوشش کی l
آپ نے مجھے سب کے سامنے بے عزت کرنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لڑکا آپ کے لیے اب ہم سب سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔۔۔
رابعہ بیگم تو بھری بیٹھیں تھی اُنہیں موقع دیے بغیر بھڑک اٹھی۔۔۔اپنی نند اور ہونے والی بہو کے آگے اپنی بے عزتی اُن سے برداشت نہیں ہو رہی تھی
مجھے یہ سمجھ نہیں آتا تمہیں اُس سے مسلہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔وہ تو کوشش کرتا ہے کے اُس گھر میں زیادہ نا رہے تمہارے سامنے کم سے کم آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی تم اُسے نیچا دکھانے سے بعض نہیں آتی۔۔۔۔۔۔ذرا سوچو کیا تمھاری باتوں سے اُس کا دل نہیں دکھا ہوگا۔عباس صاحب نے نرم لہجے میں افسوس سے کہا
اور آپ بھی کونسا بعض آتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہر بار یہ ثابت کرنے سے کے اُس کے آگے آپکو کوئی نہیں دکھتا۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔عباس صاحب نے تاسف سے اُنہیں دیکھا۔۔۔۔۔جو اُن کی کوئی بات نہیں سمجھتی تھی۔۔۔
کون ہے وہ۔ عباس۔۔۔کیوں اتنا لگاؤ ہے آپکو اس سے۔۔۔۔۔۔۔ایک اجنبی سے اچانک اتنی چاہت غیر یقینی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتا ایسا کونسا احسان کیا ہے اُس نے آپ پر جسے چکانے کے لیے آپ اُس کے آگے سب کچھ بھولتے جا رہے ہیں
رابعہ بیگم اُنہیں دیکھ کر حیرت اور دکھ سے بولیں عباس صاحب نے نظریں چُراتے ہوئے رخ بدلہ
میں تمہاری ان باتوں کا کیا جواب دوں۔۔۔۔۔۔۔میں بس تم سے اتنی امید کر رہا ہوں کے تم اسے بھلے اپنا بیٹا مت سمجھو لیکِن بار بار اس طرح ذلیل مت کرو رابعہ
وہ اہستہ آواز اور التجائیہ لہجے میں بولے رابعہ بیگم جواب دیتیں اس کے پہلے ہی دروازے پر ناک کیا گیا ۔۔۔اُنہوں نے جلدی سے اپنے چہرے سے نمی صاف کی اور اندر آنے کو کہا
بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔ماما۔۔۔۔۔۔۔آئے ایم ریئلی سوری۔۔۔۔۔میری وجہ سے آپ سب پریشان ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔
نین اندر آکر دونوں سے شرمندہ لہجے میں بولی
نہیں بیٹا ایسا نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے پیار سے کہا اور رابعہ بیگم نے اُسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے گلے سے لگا لیا
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ عبّاس صاحب کے کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔سوچا اب جا کر ساحل سے معافی مانگے لیکِن وہ اوپر جاتی اُس کے پہلے وہ اُسے باہر جاتا ہوا نظر آیا وہ جلدی سے آگے بڑھی
ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک منٹ
اُس نے باہر جانے سے پہلے ہی پکارا وہ حیران ہو کر پلٹا۔۔۔اور نین کو دیکھ کر غصے سے دانت بھینچے واپس جانے کے لیے پلٹ گیا
نین پیشانی پر بل ڈالے بھاگ کے اُس کے سامنے آگئی
میں نے تمہیں رکنے کو بولا نا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھورتے ہوئے بولی
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے بیزاری سے پوچھا
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے بولی
اپن کو تیرے سے کوئی بات نہیں کرنے کی۔۔۔۔۔ہٹ سامنے سے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا اور سائیڈ سے نکلنا چاہا لیکِن وہ بھی سائیڈ پر ہو گئی
تم میری بات سنے بغیر نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈھٹائی سے بولی
دیکھ میرا دِماغ پہلے ہی سٹکا ہوا ہے۔۔۔۔۔آگے سے ہٹ جا ورنہ دوں گا ایک ۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اُسے دھمکی دی نین نے منہ کھولے اُسے دیکھا
بدتمیز۔۔۔ میں تم سے پیار سے بات کر رہی ہوں اور تم مجھے ماروگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بتاؤں بڑے ماما کو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے غصّے سے دیکھ کر بولی
ماما کی بھانجی۔۔۔۔۔۔۔۔پیار سے بات کرنی تو جا کر اپنے سسرال والوں سے کر۔۔۔۔۔اپن نا اس گھر کا کوئی لگتا نا تیرا ۔۔۔۔۔اب ہٹ۔۔۔۔
ساحل نے غصے سے کہہ کر اُس کا بازو تھامے اُسے سائیڈ پر کیا وہ اتنی ہی تیزی سے آگے آنے کی کوشش میں لڑکھڑا کر نیچے گری
ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل اُسے سہارا دینے آگے بڑھتا اس کے پہلے رابعہ بیگم کی غصے بھری آواز ابھری۔۔۔۔۔۔اُنہوں نے ساحل کو نین کا بازو پکڑے اُسے سائیڈ پر ہٹاتے ہوۓ دیکھا تھا اب غصے سے اُس کی طرف بڑھی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی نین کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی ۔۔۔
اُنہوں نے نفرت سے ساحل کو دیکھا۔۔۔۔دل تو پہلا ہی بھرا ہوا تھا اب ایک موقع مل گیا تھا
بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی اُنہیں بتانا چاہا کے غلطی ساحل کی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔آوازوں پر باقی سب بھی اپنے اپنے کمرے سے باہر نکل آئے
کیا بات ہے رابعہ۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے پریشان ہو کر پوچھا اور ایک نظر ساحل کو دیکھا جو مکمل سنجیدہ دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا تھا
آپ کے اس لائق بیٹے نے نین کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔۔۔۔۔اُسے دھکا دے کر گرایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اس میں اتنی بھی تمیز نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے غصے سے جواب دیا دادی نے بے یقینی سے ساحل کو دیکھا
بڑی مامی میری بات۔۔۔۔
نین نے گھبرا کر اُنہیں روکنا لیکِن اُنہوں نے اُسے ہاتھ دکھا کر بات کرنے سے منع کر دیا
معافی مانگو نین سے۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم اُسے سرد نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی
میں نے اُس کو کوئی دھکّا نہیں دیا۔۔۔۔۔۔فالتو کے ناٹک کر رہی ہے یہ ۔۔۔۔۔
ساحل نے اطمینان سے جواب دیا بنا نظریں اٹھائے
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔خبردار جو ایک لفظ بھی کہا نین کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔اور آپ بھی سن لیں عباس اگر اس لڑکے نے نین سے معافی نہیں مانگی تو یہ اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔میں اسے یہاں رہ کر اپنی منمعاني نہیں کرنے دوں گی
رابعہ غصے سے چینخ کر بولیں۔۔۔۔نین کی آنکھیں بھرنے لگی
۔بس بھی کرو رابعہ کیوں بات کو اتنا بڑھا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے آگے بڑھ کر ساحل کا بازو تھامتے ہوئے کہا۔۔لیکِن ربیت بیگم کو کوئی فرق نہیں پڑا وہ غصے سے اُس کے چہرے کو گھورنے لگی
ساحل معافی مانگ لو نین سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری خاطر۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے آگے بڑھ کر بے بس لہجے میں کہا ساحل نے ایکدم سے سر اٹھا کر اُنہیں دیکھا۔۔۔۔۔بے حد سرد انداز میں۔۔۔۔
نا میری غلطی ہے۔۔۔۔نا میں معافی مانگوں گا ۔۔۔۔۔۔۔کِسی کی بھی خاطر نہیں
وہ عجیب ہی جنونی انداز میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔۔۔۔۔وہاں کھڑے سب چونک گئے۔۔۔۔۔اُس کا لب و لہجہ اُس کے الفاظ یہاں تک کے اُس کا انداز بھی بہت بدلا ہوا تھا۔۔۔۔آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی ۔۔۔نین بھی حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات کرکے وہاں سے نکل گیا رابعہ بیگم نے طنز بھری نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا وہ نین کی طرف بڑھے
نین بیٹا۔۔۔۔۔۔اگر ساحل کہہ رہا ہے اُس نے کچھ نہیں کیا تو مجھے اُس پر یقین ہے ۔۔۔لیکِن پھر اگر تمہیں اُس کی وجہ سے کوئی تکلیف ہوئی تو میں معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے نین کے پاس آکر اُس سیافی مانگی تو نین کے ہاتھ کانپ گئے
نہیں بڑے ماما۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم ہی روتی ہوئی اُن کے سینے سے لگ گئی دل میں ساحل کے لیے ناگواری بھر گئی۔
شاید مامی اس لڑکے کے بارے میں بلکل صحیح ہے
اُس نے نفرت سے سوچا اور اپنے آنسُو صاف کرنے لگی
