Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 102)

Episode 102
Morning uncle۔۔۔۔۔
گارڈن میں اپنے سیکریٹری کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے مسٹر سنگھ کے پاس آکر اُس نے مارنگ وش کیا تو اُنہوں نے محض سے ہلایا۔۔
اگر آپ کی طبیعت ٹھیک ہے تو کیا پانچ منٹ بات کر سکتا ہوں آپ سے۔۔۔۔
اُس نے اُن کے تاثرات سے اندازہ لگایا کے کچھ تو غلط بات ہوئی ہے کیوں کہ بجائے مسکرانے کے وہ نہایت سنجیدہ اور پرسوچ نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
مجھے بھی تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔۔
اُس کے اندازے کے مطابق اُنہوں نے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو اُس نے سامنے بیٹھتے ہوئے اُن کے بازو والی چیئر پر بیٹھے مشرا کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔۔
میری بیٹی مجھے بے حد عزیز ہے دکش۔۔۔اگر میں اُسے تمہیں سونپ رہا ہوں تو صرف اسلئے کیوں کے تم سنگھانيا کے بیٹے اور ہمارے بھروسے مند بزنس پارٹنر ہو۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے کے تم اُسے خوش رکھو گے لیکِن تمہاری وجہ سے میری بیٹی کا کبھی دل دکھے یہ مجھے منظور نہیں ہے۔۔۔۔۔
مسٹر سنگھ کے ناگوار چبھتے الفاظوں پر اُسے اتنا تو سمجھ آگیا کے بات بزنس کی نہیں ہے لیکن نین کی نا ہو یہ سوچ کر دل بے چین ہوا
بات پوری کیجئے۔۔۔۔۔
اُس نے سپاٹ سنجیدہ لہجے میں نہایت اطمینان سے کہا
مشرا کا کہنا ہے کہ کل رات اپنے گھر تم کِسی لڑکی کے ساتھ تھے۔۔۔۔۔۔کیا اس بات میں سچائی ہے۔۔۔۔۔
مسٹر سنگھ نے اُسے جانچتي نظروں سے دیکھ کر سوال کیا تو اُن کا سیکریٹری کمینگی سے مسکرایا
جی ہاں سچ ہے۔۔۔۔اور یہی بتانے آیا تھا میں آپکو۔۔۔۔۔۔
اُس نے پھر وہی نارمل سا تاثر دیا تو مسٹر سنگھ سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگے جب کے مشرا کے چہرے کا رنگ مدھم ہوا تھا۔۔
اُس مسٹر سنگھ کی جانب نیلی رنگ کی فائل بڑھائی۔۔۔۔
پچھلے ایک مہینے سے جس ڈیل کے لیے آپ فکرمند تھے میں نے کل رات اُسے کنفرم کروالیا ہے۔۔۔۔۔۔
جس لڑکی کی مشرا جی بات کر رہے ہیں وہ اُس کمپنی کی سی ای او تھی اُن کے پاس وقت کی کمی تھی اسلئے میں نے رات کو اپنے گھر پر ہی اُن کے ساتھ میٹنگ کرکے ڈیل سائن کرلی تھی تاکہ آپکو پریشان نا ہونا پڑے۔۔۔۔۔
اُس نے تفصیل سے بتایا تو سنگھ صاحب نے حیران ہوتے ہوئے فائل کے صفحے پلٹے اور پھر پرسکون ہو کر وہ فائل مشرا کی طرف بڑھائی اُسے غصے اور ناگواری سے دیکھتے ہوئے۔۔۔
اُس نے تیزی سے فائل پکڑ کر پریشانیِ اور غور سے ایک ایک لفظ کو پڑھا ۔۔۔کیوں کے اپنے خبریوں سے یہ جان کر کے اُس کے گھر میں ایک لڑکی کو زبردستی جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔۔۔
اب اس ڈیل والی بات پر اُس کے لیے یقین کرنا نا ممکن تھا ۔۔۔۔۔
لیکن وہ پہلے سے ہی جانتا تھا اور اس لیے تیار تھا۔۔بس فکر تھی تو یہ کہ نین کے مطلق نا کچھ پتہ چلے
سوری بیٹا۔۔۔۔۔مجھے تمہارے بارے میں ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔۔۔۔
اُنہوں نے اپنے لہجے میں نرمی بھرے۔۔شرمندگی اور افسوس سے کہا کہ عین انگیجمنٹ کے دن اُنہیں بنا سچ جانے اُس سے سوال کرکے اُس کا دل خراب نہیں چاہیے تھا۔۔۔
آپ سوچ سکتے ہیں۔۔۔کیوں کے آپ انجو کے ڈیڈ ہے ۔۔۔لیکِن آپکو کو اوروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔Good morning aunty۔۔
اس نے جتاتے انداز میں کہا اور پیچھے سے آتی مسز سنگھ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے مارننگ وش کیا جب کے سنگھ صاحب ایک دفعہ پھر مشرا کو گھور کر رہ گئے۔۔۔
جیتے رہو بیٹا۔۔۔۔۔
اچھا ہوا تم وقت پر آگئے میں ناشتہ ہی لگا رہی تھی۔۔۔۔۔آؤ نا۔۔۔
مسز سنگھ نے پیار سے جواب دے کر اپنائیت سے کہا تو وہ وہاں سے اٹھ کر ایک سنجیدہ نظر اُس آدمی پر ڈالتا اندر چلا گیا۔۔۔جس پر وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
اُس کا وار خالی تو گیا ہی تھا ساتھ سنگھ صاحب کی نظر میں بھی غلط ثابت ہو گیا تھا۔۔۔
انجو پہلے سے ہی وہاں موجود تھی وہ اُسے ہائے کرتا اُس کے پاس والی چیئر پر بیٹھ گیا
اب کیسا فیل کر رہے ہے آپ۔۔۔
انجو نے اُسے دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو اُس نے سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔۔
مطلب کل رات آپ جس طرح کی باتیں کر رہے تھے آپ کی طبیعت کچھ نارمل نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
انجو نے مسکراتے لہجے میں کہا تو اُس کی آنکھیں سنجیدہ ہوئیں اور لب دھیرے سے مسکرائے
پہلے تو کبھی آپکا اتنا شاعرانہ انداز نہیں سنا۔۔۔۔۔۔
انجو نے کہني ٹیبل پر ٹکا کر چہرے پر ہاتھ رکھے مصنوعی حیرت جتا کر سوال کیا۔۔
پہلے کبھی ایسی خوبصورتی بھی تو نہیں دیکھی۔۔۔۔
وہ چیئر سے ٹیک لگا کر آہ بھرتے ہوئے بولا۔۔۔
تو کیا آپ یہ كہہ رہے ہیں کہ پچھلے چار مہینوں سے میں خوبصورت نہیں تھی۔۔۔
انجو نے آنکھیں چھوٹی کرکے حیرت سے گھورا۔۔۔
وہ مدھم سا ہنسا
میں یہ کہہ رہا ہوں کے اب تم زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو۔۔۔
ہنس کر اُس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ اُسے ہمیشہ کی طرح بے حد خوبصورت لگا۔۔۔۔ڈارک گرین شرٹ میں ڈیسنٹ اور ڈیشنگ۔۔۔۔
اچھا تو اسی لیے آپ ساری رات جاگ کر مجھے سوچتے رہے تبھی آپکی آنکھیں اتنی لال ہو رہی ہے
انجو نے اپنی تعریف پر مسکرا کر نیلی آنکھوں میں جمع ہلکی ہلکی سرخی دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے شادی کا سن کر تم زیادہ سمجھدار ہوگئی ہو۔۔۔۔
وہ داد دینے والے انداز میں ابرو اٹھا کر بولا۔۔
اور مجھے لگتا ہے آپ شادی کا سن کر پاگل ہو گئے ہے۔۔۔
انجو نے ہنستے ہوئے کہا تو اُس کی مسکراہٹ بھی گہری ہوئی۔۔۔۔
یہ کیا تم دونوں نے ابھی تک شروع نہیں کیا۔۔۔دکش بیٹا تم یہ لو نا خاص تمہارے لیے بنوایا ہے۔۔۔۔
مسز سنگھ نے دونوں کو ہنستے مسکراتے دیکھ خوش ہو کر آگے بڑھتے ہوئے کہا۔۔
Thanks aunty۔۔۔۔۔
اُس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے سامنے رکھا گلاس اٹھایا
تمہیں بات بات پر تھینکس کہنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔۔۔اب تو تم ہمارے داماد ہو گئے ہو ۔۔۔حق سے ہم پر حکم چلا سکتے ہو۔۔
اُنہوں نے مصنوعی خفگی سے کہا تو اُن کی بات پر انجو اور وہ دونوں مسکرائے۔۔۔
بیٹا میں تم سے ایک بات کہنا چاہتی تھی۔۔۔
اب تمہارے گھر میں تو کوئی بڑا ہے نہیں اور تم اکیلے ہو تو میں سوچ رہی تھی کے کیوں نہ تم یہیں رہنے آجاؤ تاکے ہم ایک ساتھ ہی تمہاری اور انجو کی شادی کی رسمیں پوری کر سکیں۔۔۔۔۔۔اگر تمہیں صحیح لگے تو۔۔۔۔۔۔
اس طرح سارے فنکشن ایک ساتھ اور اچھے سے پورے ہوں گے تمہیں بھی پریشانیِ نہیں ہوگی
اُنہوں نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا تو انجو بھی اُس کا جواب سننے کے لیے اُسے دیکھنے لگی
میں سمجھ رہا ہوں آپکی بات لیکن آج تو صرف انگیجمنٹ ہے۔۔ شادی میں ابھی ٹائم ہے۔۔۔۔تو ابھی تو پاسیبل نہیں ۔۔
بٹ ۔۔۔رچولس سٹارٹ ہوں گے تب میں اجاؤں گا۔۔۔
اُس نے سیدھے انکار کرنے کی بجائے ذرا رک کر بات ٹال دی ۔۔۔اگر وہ یہاں آ جاتا تو نین پھر کبھی اپنی بیوقوفی سے مصیبت کھڑی کرکے دیتی۔۔۔
پہلے ہی وہ اُس کے لیے پریشان تھا۔۔۔
جیسی تمہاری مرضی۔۔۔۔۔ویسے سگائ کے تم دونوں کے کپڑے آگئے ہیں تیار ہو کر۔۔۔۔۔ تم دونوں ناشتے کے بعد چیک کرلینا ۔۔۔۔۔
اُنہوں نے سر ہلا کر راضی ہوتے ہوئے دوسرا ٹاپک شروع کردیا۔۔۔۔
@@@@@
جب آنکھ کھلی تو وہ ریا کے گھر ۔۔۔۔گارڈن کے جھولے میں لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔وہ بھی ساحل کے ہی شرٹ اور ٹراوزر میں۔۔۔۔۔۔
اُسے پتہ تک نہیں چلا کے کب اور کیسے وہ اُسے وہاں چھوڑ کے گیا تھا لیکن جب اُس کی آنکھ کھلی تو سورج کی روشنی چاروں دشاؤں کو روشن کر رہی تھی۔۔۔
کِسی کو پتہ لگنے سے پہلے وہ اندر آکر چینج کرکے اپنے روم میں سو گئی تھی اور کافی دیر تک سوتی رہی تھی۔۔۔۔
جاگنے کے بعد وہ جتنی خوش اور پرسکون تھی سب سے کھل کر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔ڈیکوریشن اور شادی کی تیاریوں کو لے کر ڈسکشن کر رہی تھی۔۔۔ریا کو حیرت کے ساتھ بے حد خوشی بھی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر رکنے کے بعد ریا اُس کے پاس سے اٹھ کر چلی گئی تو وہ پھر ساحل کے متعلق سوچنے لگ گئی۔۔۔۔
بھلے اُس نے زبان سے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔لیکِن وہ اُس کی چاہت بھری نظروں کو ہی اقرار سمجھ کر ہزاروں خوشفہمیا ں پال چکی تھی۔۔۔۔
فون نمبر تو ہے ہی نہیں۔۔۔
اُس سے بات کرنے کے خیال سے فون ہاتھ میں لیتے ہی نمبر کا دھیان آیا تو وہ مایوس ہوئی لیکن پھر ریا کے فون میں نمبر ملنے کا سوچ کر مسکراتی ہوئی دوڑ کر اُس کمرے میں پہنچی
ریا کے روم میں نا ہونے پر شکر منا کے نمبر کی بجائے اُس کا فون ہی لے کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔
اپنے روم میں آکر دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کا نمبر ملایا۔۔۔دل ہلکا تھا ۔۔۔ذہن پرسکون تھا لیکن بے نام سی گھبراہٹ بھی تھی۔۔۔تبھی اُس کے فون اٹھا لینے کے بعد بھی وہ چند سیکنڈ خاموش رہی۔۔۔۔
اور وہ بنا کہے بھی اُس کی موجودگی کو جان گیا ۔۔۔۔
ساحل۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی نرم آواز میں دھیرے سے اُس کا نام لیا تو اُس کا دل رک کے دھڑکا۔۔۔۔
وہ انجو کے روم میں اُس کے ساتھ شام کی آؤٹ فٹ سیلیکٹ کرنے میں اُس کی ہیلپ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
نین کے پکارنے پر کوئی جواب دیے بنا ہی فون بند کرکے اپنی جگہ سے اٹھ گیا
Actually۔۔۔ i have to leave now۔۔۔۔۔
انجو کے سوالیہ انداز میں دیکھنے پر وہ سنجیدگی سے بولا
لیکن دکش ابھی تک تو ہم نے کچھ سیلیکٹ بھی نہیں کیا۔۔۔
انجو حیرت اور پریشانی سے بولتی اُسے دیکھنے لگی
تم جو چوز کروگی اُس میں بیوٹیفل لگوگی۔۔۔۔
وہ بے مطلب سا مسکرا کر اُس کے چہرے کو چھوتے ہوئے بولا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔
نین اُس کے کال کاٹنے پر حیران پریشان ہو کر وجہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔۔
کچھ دیر انتظار کرتی رہی کے شاید وہ خود فون کرے۔۔۔لیکن جب ایسا نہیں ہوا اور اُس کے دل میں عجیب عجیب سے خیال آکر اُسے بے چین کرنے لگے تو اُس نے دوبارہ نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔
دوبارہ اُس کی کال دیکھ ساحل نے ضبط سے اسٹرنگ وہیل پر گرفت سخت کی اور تیز رفتار سے دوڑتی گاڑی کو ایکدم سے بریک لگایا۔۔۔۔۔۔
فون کیوں کاٹا تم نے راؤڈی۔۔۔۔۔۔
اُس کے فون اٹھاتے ہی وہ غصے اور ڈھٹائی سے بولی
کیوں کے مجھے تم سے بات نہیں کرنی ہے۔۔۔۔
وہ اُس کا جملہ ختم ہونے کے ساتھ ہی ایک ایک لفظ کو غصے اور سختی سے ادا کرکے بولا۔۔نین کے دل میں درد سا اٹھا
کیوں کے وہ تو سب ٹھیک ہوجانے کی اُمید کر رہی تھی۔۔لیکن اُس کے الفاظ اُس اُمید کو توڑ چکے تھے۔۔۔اُس کا سکون پھر چھین چکے تھے۔۔۔۔۔۔
بس بھی کرو یہ نخرے ۔۔۔تھک نہیں جاتے تم اپنے ڈیلی ڈراموں سے۔۔۔بتاو کہاں ہو مجھے تم سے ملنا ہے۔۔۔۔۔
مایوسی کو جھنجھلاہٹ میں چھپائے وہ اب بھی ہمت پر قائم تھی۔۔۔لیکِن اُداس آنکھوں سے مسکرانے کی کوشش کافی عجیب تھی
ایک ہی بات تمہیں کتنی دفعہ سمجھاؤں کے مجھے تمہاری باتیں سننے میں تمہاری شکل دیکھنے میں بلکل انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے ایریٹڈ کرنا بند کرو اب ۔۔۔
وہ نہایت غصے اور بے رخی سے بولا ۔اور اس سختی کی وجہ تھی یہ ڈر کے اگر وہ پہلے سے تیار نہ ہوتا تو آج سنگھ صاحب کی نظر میں مشکوک ہوجاتا۔۔۔۔
اور نین کے مطلق پتہ چلتا تو نہ صرف وہ مشکل میں پھنس جاتی بلکہ اُس کی ساری محنت بھی ضایع ہوجاتی ۔ ۔
بھلے وہ بہُت سنبھل کر رہ رہا تھا اُس کے نزدیک پہنچ مُشکل تھی لیکن دور دور سے ہی مشرا کے جاسوس اُس پر نظر رکھے ہوئے تھے اُس کے آنے جانے اور اُس سے ملنے والوں کی مخبری کرتے رہتے تھے۔۔۔۔
اور اگر وہ ایک لڑکی کا اُس کے گھر آنا معلوم کر سکتے تھے تو اُس لڑکی تک پہنچنے کی کوشش بھی کر سکتے تھے۔۔
صبح اُسے ریا کے گھر تک پہنچانے کے لیے بھی اُس نے بہُت سوجھ بوجھ سے کام لیا تھا۔۔۔۔
اپنی گاڑی کی بجائے گارڈز کی گاڑی میں گھر سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔تاکے کوئی پیچھا نہ کرے۔۔۔۔
مجھے۔۔۔۔مجھے لگا اب سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔اور تم۔۔۔۔۔۔کل رات ۔۔۔۔مطلب۔۔۔
اُس کے لہجے نے نین کو اتنی تکلیف دی کے اُسے سمجھ نہیں آیا کیا بولے وہ لفظ ڈھونڈھتی رہ گئی اور لہجہ بھیگ گیا۔۔۔۔۔۔
کل رات جس طرح کی تم نے حرکت کی نا میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اُس کا بھی دماغ بہک جاتا۔۔۔۔۔۔
شکر مانو کے میں نے پھر بھی تمہاری بیوقوفی کا فائدہ اٹھا کر کچھ اُلٹا سیدھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ورنہ تم کیا ہی بگاڑ لیتی میرا ۔۔۔۔۔۔
اُس نے بھینچے لہجے میں سفاکی سے کہہ کر اس قدر بے حسی دکھائی کہ اُس کے الفاظ نین کے دل پر گرم سیسے کی طرح اثر کرنے لگے۔۔
ماما کے بیٹے پلیز۔۔۔۔۔۔اس طرح۔۔۔۔ بات مت کرو۔۔۔۔ مجھے بہت خراب لگ رہا ہے۔۔۔۔
گ۔۔ گالی جیسا فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔بہت ہی گندا فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔
اُس نے بے ترتیب سانس لے کر آنکھیں سختی سے میچیں۔۔۔اور ہتھیلی دیوار پر رکھ کر دھیرے دھیرے نیچے ہوتی زمین پر بیٹھ گئی۔۔۔
اُس کے لفظوں نے اس قدر ذلت کا احساس کروایا تھا کے دل شدت سے پھٹنے کو ہوا۔۔۔۔۔اُس کی آواز میں بھی لرزش تھی اور سانسوں کا تسلسل بھی بے ترتیب تھا۔۔۔
جسے محسوس کرنا مشکل نہیں تھا لیکن سہنا بے ہے تکلیف ده تھا۔۔۔
اور وہ اس کے ساتھ خود کو بھی یہ تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔
تنے اعصاب سست پڑ گئے تھے۔۔اور گاڑی میں گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تھا۔۔
مجھے تمہیں ہرٹ کرنے کا شوق نہیں ہے۔۔۔
سمجھ آرہا ہے کے تم ڈپریس ہو پریشان ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کے تم میرے اور انجو کے بیچ آکر ہمارے لیے پرابلمز کریئیٹ کرو۔۔
اس نے بمشکل اپنے لہجے کی سختی کو قائم رکھے سپاٹ لہجے میں کہا نین کی آنسُو روکنے کی کوشش ناکام ہونے لگی آنسُو آنکھوں میں جمع ہو کر سامنے کے منظر کو دھندلا کرنے لگے۔۔۔اور سانس لینے میں مشکل ہونے لگی۔۔
اگر تمہیں اپنے ہسبنڈ کی کمی محسوس ہو رہی ہے تو اُسے مجھ میں ڈھونڈھنے کی بجائے
کہیں اور جا کر ڈھونڈھو۔۔۔۔۔
ہو سکتا ہے وہ تمہیں مل جائے اور اگر تب بھی نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔
تو سمجھ لو شاید مرگیا ۔۔۔۔
وہ بے تاثر چبھتے لہجے میں بولا نین کی آنکھوں میں جمع پانی کی مقدار تھوڑی اور بڑھی۔۔۔حیرت تھوڑی اور بڑھی۔۔۔درد تھوڑا اور بڑھا
اُس نے فون بند کرکے کان سے ہٹایا منہ سے سانس لی اور اپنے کہے لفظوں کو ذہن میں دوہرا کر یاد کیا۔۔۔اُن کی سختی۔۔۔اُن کی تلخئ نے نین کو کس قدر تکلیف دی ہوگی یہ احساس زہر بن کر رگوں میں اترنے لگا۔۔۔
آنکھیں ضبط سے مزید سرخ ہوئیں۔۔
دل کا درد آنسُو بن کر باہر آنے کو مچلنے لگا لیکن اُسے آنسوؤں سے نفرت تھی۔کمزور پڑنے سے نفرت تھی۔۔۔۔۔
بھلے یہ ضبط اُس کے لیے سانس لینا محال کر رہا تھا لیکن وہ خود کو پگھلنے سے روکے ہوئے تھا۔۔
لبوں کو سختی سے بھینچ کر ہتھیلی کو زور زور سے وہیل پر مارتے ہوئے برداشت کے باہر ہوتے درد سے بھٹکنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
نین فون کان سے ہٹا کر خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔آنکھ میں جمع آنسُو بوند بن کر موبائل کی سکرین پر گرا تھا جس نے اُس کے عکس پر داغ بنا دیا تھا۔۔۔۔ جیسے چند لفظوں نے اُس کے وجود اور اُس کی عزتِ نفس پر داغ لگا دیے تھے۔۔۔۔
خاموش ذہن اور خاموش کمرے میں رنگ کی آواز گونجی تو پتہ نہیں کس احساس کے تحت اُس نے سانس روکے بنا دیکھے بنا پل گنوائے فون اوکے کرکے کان سے لگایا ۔۔۔۔۔شاید اس اُمید سے کے وہ کہہ دے میں مزاق کر رہا تھا۔۔۔۔۔اور سب ٹھیک ہوجاے۔۔۔
ریا کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔
لیکِن اُس کی اُمید پھر اُسی بے دردی سے ٹوٹی جب اُس آواز کی بجائے کوئی اور آواز کانوں میں گونجی۔۔رکی سانس بحال ہوئی لیکِن درد بڑھ گیا۔۔۔۔
میری انگیجمنٹ میں بھی کیا تُم نے مہمانوں کی طرح عین وقت پر آنا ہے۔۔۔۔
فون کان سے ہٹ کر نیچے آچکا تھا اُس پر گرفت بے حد کمزور ہو گئی تھی۔۔۔ لیکن جب اُسے انجو کی بات سنائی دی تو اُس کے حواسوں میں تیزی آگئی۔۔۔اُسے لگا اُس نے سننے میں غلطی کی ہے شاید۔۔۔۔
انگیجمنٹ۔۔۔۔
لب آہستہ سے ہلے ۔۔۔۔آواز دھیمے سے نکلی اور دل شدت سے دھڑک کر دعا کرنے لگا کے یہ غائب ذہنی کا اثر ہو۔۔۔
سوری نین مجھے لگا ریا ہے۔۔۔۔کہاں ہو تم دونوں میں کب سے اِنتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آواز پہچان کر انجو نے بنا دھیان دیے پوچھا
آج تمہاری ۔۔۔این۔۔۔۔ انگیجمنٹ ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے تڑپ کے بے بسی سے اپنا سوال دہرایا کے جلد جلد وہ جواب دے کر اُسے اس گھٹن سے آزاد کرے۔۔۔
ہاں تمہیں نہیں بتایا ریا نے۔۔۔۔میں نے تو اُسے کہا تھا کہ تمہیں بھی بولے۔۔۔اکچلی آۓ ایم سوری۔۔۔۔ مجھے تمہیں پرسنلی انوائیٹ کرنا چاہیے تھا۔۔لیکن کیا کروں مجھے کچھ سوجھ ہی نہیں رہا ایکسائٹمنٹ میں۔۔۔۔
لیکن اب بھی وہی ہوا جو وہ نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔اب بھی درد نے جان نہیں چھوڑی۔۔۔اب بھی قسمت نے رحم نہیں کیا۔۔۔۔۔
اُس نے ہمت اور برداشت میں جیتنے کی ٹھانی تھی اسلئے قسمت نے بھی حد آزمانے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا۔۔۔۔
اور شاید یہ حد ہی تھی۔۔جو اُس کے وجود میں سناٹا بھر گیا۔۔۔جسم کا ہر حصہ سن ہو گیا۔۔۔۔درد کی بیڑیوں نے اُسے بری طرح جکڑ لیا۔۔۔
آنکھوں میں آنسو تک آنے کو راضی نہیں ہوئے۔۔۔۔اور کانوں میں عجیب سی خوفناک آوازیں گونجنے لگی ۔۔۔۔۔جیسے سنسان جنگل میں ایک ساتھ کئیں زخمی جانوروں کے رونے کا شور۔۔۔جیسے زمین سے گھستے نوکیلے ناخنوں کی زوردار گونج۔۔۔جیسے کسی چکّی میں پستے کنکر کا شور۔۔۔۔۔۔۔
بدن اُن آوازوں کی شدت سے کانپنے لگا۔۔۔ اور دماغ وحشت سے پھٹنے لگا تو اُس نے دونوں ہتھیلیوں سے کانوں کو ڈھک کر آنکھیں زور ميچ لیں۔۔۔۔۔دانت آپس میں سختی سے بھینچ لیے
باہر کا شور ہوتا تو شاید کان بند کرنے کا کوئی فائدہ ہو پاتا لیکن یہ شور تو اندر ہی اندر گھٹتی چینخوں۔۔دل کی بے شمار آہوں۔۔۔۔اور آنسوؤں کے ضبط کا شور تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو اُس کے لیے سہنا مشکل تھا۔۔۔۔اُس شور سے بھاگ پانا بھی ناممکن تھا۔۔۔
اُس نے کانوں کو سختی سے دبائے سر جھکا کر اپنے زانو سے لگا دیا اور دیر تک اُس شور سے لڑتی رہی۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦