Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
Episode 25
ایک ہفتے بعد پھر اسی خفیہ جگہ پر فائٹ تھی۔۔۔
کے کے اُس کے انداز سے بہت متاثر ہوا تھا۔
اور اُسے خریدنے کے لئے سب سے اونچی بولی لگائی تھی۔
آج اُس نے ایک اور مشہور اور طاقتور فائٹر کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔۔۔
اُس کی سب سے بڑی خاصیت تھی کے وہ۔ بڑے سے بڑے فائٹر کو خود پر وار کرنے کا موقع نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔۔
آج کی فائٹ اُس کے لیے اصل امتحان ثابت ہوئی تھی۔۔۔کیوں کے مقابل میں بہت سخت جان فائیٹر تھا جو اُسے برابر کی ٹککر دے رہا تھا۔۔۔
آج کی فائٹ جیتنے کے بعد وہاں کے سارے مافیا سربراہ اُس کی بہادری سے امپریس ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
وہاں اُسے خریدنے کے لئے آپس میں بولی لگائی جا رہی تھی جو کروڑں میں تھی۔۔۔
کے کے کی بولی سب سے آگے جا رہی تھی
جیکی یہ دیکھ کر کافی خوش تھا۔۔۔۔
جب کے وہ سنجیدگی سے بیٹھا آنے والے دھماکے کے اِنتظار میں تھا۔
آخر میں کے کے نے سب سے اونچی بولی لگا کر اُسے خرید لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔جیکی نے خوش ہو کر پرجوش انداز میں اُسے مبارک باد دی تھی کے وہ اب کے کے کا خاص فائٹر بننے والا ہے جس پر وہ اس عجیب طرح ہنسا کے جیکی اُسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا
اس بات کا اناوسمنٹ ہی کیا جا رہا تھا کے اچانک افرا تفری مچ گئی
باہر تعینات گارڈز بوکھلائے سے اندر آئے اور خبر دی کے وہاں پولیس کی ریڈ پڑی ہے۔۔۔۔
سارے لوگوں کے ہوش اُڑ گئے۔۔۔۔۔کے کے بھی ہڑبڑا کر غصے سے اپنے گارڈز کو دیکھنے لگا
جیکی کی بھی رنگت بدل گئی
غیر ملکی لوگوں نے اپنی اپنی زبان میں واویلا مچانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔وہاں سب سفید کالر والے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔۔۔۔جن کی دنیا میں ایک الگ پہچان تھی
اگر وہ یہاں پکڑے جاتے تو اُس پہچان کی دھجیاں بکھر جاتی۔۔۔۔
کے کے اپنے گارڈز کی مدمد سے سب غیر ملکی لوگوں کو ایک خفیہ راستے سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
وہ سب اُس کے مہمان تھے اگر وہ پھنستے تو سارا مافیا ورلڈ اُس کی جان کا دشمن بن جاتا۔۔۔
فوج ایکدم سے اندر گھس آئی تھی۔۔ لوگ جہاں راستہ ملے وہاں سے بھاگنے کی کوشش میں لگ گئےتھے۔۔۔سپاہی بھگدڑ میں ایک ایک کو پکڑ کر باہر لیجانے لگے۔۔۔
ساحل جیکی کو ساتھ لیے پیچھے کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر باہر نکلا تھا۔۔۔۔۔۔
باہر بھی پولیس کا سخت پہرہ تھا ۔بھاگنے کی کوشش کرنے والے کو فوراً دبوچ لیا جاتا تھا۔۔۔۔
ساحل اور جیکی سپاہیوں سے نظر بجائے وہاں قطار میں کھڑی گاڑیوں کے پیچھے چھپ کر آگے بڑھتے گئے۔۔۔۔
ساحل نے اپنی شرٹ کو چہرے پر لپیٹ کر چہرہ چھپا لیا تھا۔۔
جیکی نے بھی ماسک کے پیچھے چہرہ چھپایا ہوا تھا
ساحل نے ایک گاڑی کا دروازہ چیک کیا تو وہ کھلا تھا۔۔۔
وہ جلدی سے اندر گھسا اور ساتھ جیکی بھی دُوسرے دروازے کو آہستہ سے کھول کر اندر بیٹھ گیا۔۔۔
ساحل نے گاڑی سٹارٹ کی اور زن سے آگے بڑھائی۔۔۔۔
سپاہیوں کا دھیان گاڑی کی طرف گیا تو اُنہوں نے راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن رفتار کم نا ہوتے دیکھ وہ سامنے سے ہٹ گئے اور ساحل اُسی تیزی گاڑی بھگا کر اُس بلڈنگ کے گراؤنڈ سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
سپاہیوں کی ایک ٹولی گاڑی سے اُن کا پیچھا کرنے لگی۔۔۔
جیکی گھبرا کے اپنا پسینہ صاف کرتا بار بار پیچھے دیکھنے لگا جب کے ساحل سامنے نظریں ٹکائے بجلی کی تیزی سے گاڑی بڑھا رہا تھا اور آگے آنے والے ہر ٹرن پر گاڑی موڑ رہا تھا ۔۔۔۔
پولیس جیپ برابر اُن کے تعاقب میں تھی۔۔۔۔۔۔
لیکِن ایک موڑ پر اچانک ہی اُنہوں نے جیپ روک دی۔۔۔
آس پاس نظریں دوڑائی تو اُنہیں وہ گاڑی کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔۔
وہاں صرف بڑے بڑے ٹرک اور بسیں کھڑی تھی
آگے جا کر ہی ایک اور ٹرن تھا وہ لوگ جیپ آگے بڑھا کر اُس موڑ پر پلٹ گئے۔۔۔۔
ساحل نے اُنہیں آگے بڑھتے دیکھ بس کی اونٹ میں چھپی اپنی گاڑی باہر نکالی اور مخالف سمت بڑھ گیا۔۔۔۔۔
آگے بہُت دور تک جا کر جب اُسے یقین ہوا کے اب پولیس اُن کے پیچھے نہیں ہے تو اُس نے گاڑی کی سپیڈ سلو کردی
جیکی نے پرسکون سانس خارج کرتے ہوئے ماسک اتار کر پھینکا
بچ گئے۔۔۔۔۔۔
وہ تھکے تھکے اندازِ میں سر سیٹ سے ٹکا کر بولا۔۔جس پر ساحل نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے باس۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتا گاڑی روک گیا۔۔۔۔۔۔جیکی نے اُسے نا سمجھی سے دیکھا۔۔۔۔اسی لمحے کسی نے جیکی کی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔
وہ گھبرا کے دونوں ہاتھ اٹھا گیا کیوں کہ سامنے کھڑا شخص اُس کی طرف بھاری بندوق تانے ہوئے تھا۔۔۔۔۔۔
خوف کے مارے اُس کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔۔
اُس شخص نے جیکی کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا وہ اُس کے اشارے پر عمل کرنے کا ناٹک کرتےہوئے ہلکا سا اپنی جگہ سے ہلا اور ایکدم ہی لات اُس کے سینے پر مار کے اُسے پیچھے دھکیل دیا۔۔۔۔۔
اُسے دھکیل کے ساحل کی طرف والے دروازے سے نکلنے کا سوچا لیکِن اُس کی طرف دیکھا تو دنگ رہ گیا
کیوں کہ وہ تیزی سے بندوق نکال کے اُس کے سر پر رکھ چکا تھا۔۔۔۔
اُس کی حیرت اور صدمے کی کوئ انتہاء نہیں تھی۔۔۔
ساحل ہی اُسے بچا کر یہاں لایا تھا۔۔۔۔اور وہی اب۔۔
جیکی کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت اور صدمے میں ڈوبی آواز سے پوچھا
طوفان ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جیکی کو مسکرا کر ونک دیتے ہوئے اُس کا ہی دیا نام دہرایا
∆∆∆∆∆∆∆\\\\∆∆∆
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو
سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار
عجیب سی کشمکش تھی جسے وہ سلجھا نہیں پا رہا تھا۔,۔۔۔
سالوں سے نین سے نسبت طے تھی ۔ لیکِن دل اب فلک کی طرف کھینچا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔
ہمدردی کے نام سے شروع ہوا احساس اسےایک نئی اور لے جا تھا تھا
آہستہ آہستہ اُس نے اپنے دل میں گھر بناتے اُن جذبات کو بڑھتا ہوا ہی محسوس کیا تھا
اُسے سُجھائی نہیں دے رہا تھا کے وہ خود کو اپنے جذبات کو کس طرح روکے۔۔
اُس نے فیصلہ کیا کے کم سے کم وہ نین سے اس بارے میں کچھ چھپا کر اُسے دھوکے میں نہیں رکھے گا۔۔۔۔۔
اسے بتا دے گا کے وہ فلک کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔۔
اور اُسے یقین تھا کہ نین اُس کی بات کو ضروری سمجھے گی۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو وہ اُسے سامنے ہی دکھائی دی۔۔۔ جیا کے ساتھ بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔۔
داؤد آکر اُن دونو کے ساتھ بیٹھ گیا لیکِن اُسے سمجھ نہیں آیا کے وہ بات کو شروعات کِس طرح کر دے
داؤد۔۔۔۔۔
نین نے اُسے کھوئے کھوئے انداز میں دیکھ کے حیرت سے پکارا۔۔۔۔جیا بھی چونک کر اُسے دیکھنے لگی
کیا بات ہے۔۔۔۔چپ کیوں ہو۔۔۔۔
داؤد کے دیکھنے پر اُس نے فکر مندی سے پوچھا
تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔
نین ۔۔۔۔میں ایک منٹ میں آتی ہوں مجھے شیزا کو کال کرنی ہے۔۔۔۔
جیا داؤد کی ہچکچاہٹ کو محسوس کرکے جلدی سے کہتی اُن دونوں کو اکیلا چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی
کیا ہوا کوئی پریشانی ہے۔۔۔۔۔اچھا وہ اُس لڑکی کی کنڈیشن اب کیسی ہے۔۔۔۔ٹھیک ہے نہ وہ۔۔۔۔۔۔۔
نین کو فوراً ہی یاد آیا کے وہ آجکل کس معاملے میں اُلجھا ہوا رہتا ہے
وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔ہوش آگیا ہے اُسے۔۔۔
داؤد نے سر ہلاتے ہوئے بتایا
کچھ بتایا اُس نے اپنے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے بے تابي سے پوچھا
داؤد نے ایک پل سنجیدگی سے نین کی جانب دیکھا اور اُسے فلک کےمتلق سب کچھ بتا دیا۔۔۔۔کے وہ کن کن مشکلوں سے گزر کر خود کو ختم کرنے پر مجبور ہوئی تھی
نین تو پہلے ہی بے حد حساس تھی فلک کے متعلق جان کر اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔اُسے فلک سے بے حد ہمدری محسوس ہوئی
اُس کےپاس یوں تو باتیں ہی باتیں ہوتی تھی لیکن اب اُس کے لبوں پر ایک لفظ بھی نہیں آیا۔۔جس میں وہ فلک کی ہمت کو سراہ سکے
داؤد بس سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔۔
میں سچ کہہ رہا ہوں نین۔۔۔۔آج سے پہلے میں نے بڑے سے بڑے خطرے کا سامنا کیا ہے لیکن اُس لڑکی کا درد مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے آنسُو مجھے دیکھے نہیں جا رہے ۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے بے بس لہجے میں اُسے اپنے دل کا حال سنانا چاہا لیکن اچانک پیچھے سے روما کی آواز پر رک گیا
نینو دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روما اُسے پکارتی وہاں آئی ۔۔لیکِن نین کو روتے دیکھا تو حیرت میں پڑ گئی
ایک منٹ داؤد۔۔۔۔۔۔۔
نین وہاں سے اٹھ کے جانے لگی اُس کا دل عجیب سا ہو رہا تھا
نین میری بات ۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد اُسے جاتے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔بات ادھُوری رہ گئی تھی جس نے اُسے بے چین کر دیا تھا
∆∆∆∆∆∆∆∆
ان کاغذات پر سائن کر دو۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کے آگے کچھ پیپرز رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے بیڈ پر پڑے قانونی کاغذات کو دیکھنے لگی
نا پڑھنا آتا تھا۔نا سائن کرنا۔۔
لیکِن اُس نے پوچھنے کے لیے بھی لب نہیں کھولے کے وہ کیا ہے
عجیب سی اُکتاہٹ سوار تھی ذہن پر۔۔۔۔نا بولنا نا سننا۔۔۔۔نا کھانا نا پینا۔۔۔کِسی چیز میں دل نہیں تھا۔۔۔۔
گھاو تو بھر گئے تھے لیکن صحت ختم ہوتی جا رہی تھی
بس خاموشی تھی۔۔۔اُداسی تھی۔۔۔۔۔۔مایوسی تھی
میں تمہارے کیس کو دوبارہ شروع کرکے خود اس کی تفتیش کرنا چاہتا ہوں۔۔اور اس کے لیے تمہیں کورٹ میں اپیل کرنی ہوگی کے تمہارا کیس سی بی آئی کو سونپا جاۓ۔۔۔۔
داؤد نے خود سے اُسے اُن کاغذات کا مطلب سمجھایا۔
میں ایسا کچھ نہیں چاہتی۔۔۔۔۔آپ مجھے کسی یتیم کھانے۔میں چھوڑ دیں۔۔۔۔۔میں اب دوبارہ اُس راستے کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے دھیمی آواز میں بولی ۔
آج بھی وہ ہسپتال کے کپڑوں میں ہی تھی لیکِن آج دوپٹے کا اضافہ تھا۔۔۔
تم اُسے یونہی چھوڑ دوگی جس نے تمہارے ساتھ اتنا ظلم کیا۔۔۔۔تمہارے بھائی کی جان لی۔۔۔۔۔اُسے سزا نہیں دو گی اُس کے کیے کی۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے سنجیدگی سے اُس کی جھکی ہوئی آنکھوں کو دیکھا
میرے کچھ بھی کرنے سے اُسے سزا نہیں ملے گی۔۔
سماج میں اُس جیسوں کو کبھی سزا نہیں مِلتی۔۔۔۔۔
بلکہ اس کوشش میں مجھے ہی بار بار ایک نئی سزا دی گئی ہے۔۔۔۔
اب کیا بچا ہے میرے پاس کھونے کے لیے
جو میں ایک اور بار کوشش کروں۔۔۔
اُس نے اب بھی سر جھکائے ہارے ہوئے لہجے میں کہا
تم نا امید ہو رہی ہو فلک۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کے دل کو اُس کا لہجہ بہُت بری طرح چبھنے لگا
امید کی کوئی وجہ بھی تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ اُن کاغذات پر لکیر بنانے لگے
ایک بار مجھ پر بھروسہ کر کے دیکھ سکتی ہو تم۔۔۔۔۔مجھ سے امید لگا سکتی ہو
داؤد نے حسرت سے اُسے دیکھا
میرے اپنے بھی بھروسہ نہیں دے پائے مجھے
آپ تو میرے کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات داؤد کو خنجر کے مانند لگی۔۔۔۔
جِسے وہ ایک جست میں کہہ گئی
وہ آہستہ آہستہ دل میں چبھتی گئی
میرے لیے اس آدمی کو ختم کرنا یا اُس۔کی زندگی کو جہنم بنانا کوئی مشکل نہیں ہے لیکِن میں چاہتا ہوں تم اپنی جنگ خود لڑو ۔۔۔۔۔۔اپنے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاکہ تمہیں اپنی زندگی عذاب نہیں خُدا کی دین لگے ۔۔۔۔
داؤد نے اپنے احساسات کو پسِ پشت ڈال کر اسے سمجھایا فلک نے نا سمجھی سے اُسے دیکھا
سوچو فلک کیا آسان ہے وہاں سے نکل پانا جہاں سے گزر کر تم نے زندگی پائی ہے۔خُدا نے یونہی تو تمھاری جان کی حفاظت نہیں کی ہوگی۔۔۔۔۔۔
اُس نے تمہیں دوبارہ زِندگی دی ہے شاید تم سے کچھ ادھورے کام مکمل کروانے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے راہ دکھانی چاہی وہ ساکت نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
تازہ تازہ زخم تھے جب عدالت میں اُس کی کردار کشی ہوئی تھی۔۔۔جب اُس کے بھائی کی جان گئی تھی۔۔۔۔
جب اُس کے بالوں میں آگ لگائی تھی
سب یاد کرتے اُس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگی۔
تم سکون سے اس بارے میں سوچو۔۔۔۔اور فیصلہ یہ دھیان میں رکھ کر لینا کے تم اکیلی نہیں ہو۔۔
خدا تمہارے ساتھ ہے۔۔۔۔
داؤد نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا اور اُسے اُس کے خوف سے لڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ کر باہر نکل گیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
پورے ملک میں اس خبر نے ہلچل مچا دی تھی۔۔۔۔۔۔
اس ریڈ میں شہر اور ملک کی نامی گرامی ہستیاں ایکسپوز ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
میڈیا میں ایک نیا ہنگامہ برپا ہوا تھا۔۔۔اور اس ہنگامے پر جم کر سیاست جاری تھی۔۔۔
کوئی بچاؤ میں آگے آرہا تھا کوئی مخالفین میں۔۔۔۔
کے کے اور کچھ لوگ فرار ہو چکے تھے۔۔۔کچھ کی شناخت ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔پولس ان کی تلاش میں تھی۔
فرار ہونے والوں میں رویل باکسنگ کلب کے مالک جیکی کا نام بھی تھا۔۔۔
یہ خبر دیکھ کر جیکی شاک میں تھا۔۔۔
اگر قانون کی نظر میں وہ فرار تھا تو اُسے یہاں بندی کِس نے بنایا تھا۔۔۔۔ساحل کی اُس سے کیا دشمنی تھی۔۔۔
وہ کون تھا۔۔۔۔۔
وہ پچھلے چار پانچ گھنٹوں سے ایک کال کوٹھری نما بند کمرے میں رسیوں کے سہارے کرسی سے بندھا ہوا تھا
وہ جگہ نا جیل جیسی تھی نا کِسی اسپیشل سیل جیسی۔۔۔
دو ہٹے کٹے گارڈ باہر تعینات تھے لیکن ان کی کوئی یونیفارم نہیں تھی۔۔۔۔۔
کافی دیر بعد جیکی کو دروازے پر ہلچل محسوس ہُوئی ۔۔۔
وہ ہاتھ کو جھٹکا دے کر رسی سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکِن اُس جیسے طاقتور آدمی کے لیے بھی یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھلا اور ساحل کے ساتھ دونوں گارڈز بھی اندر آئے۔۔
جیکی کو مچلتا دیکھ اُس کے لبوں پر جانليوا مسکراہٹ آئی
وہ اُس کے آگے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا۔۔
کیا بولتا ہے باس۔۔۔۔۔ مزے میں ہے نہ۔۔۔۔۔۔
وہ کہنی میز پر ٹکائے ہنستے ہوئے بولا۔
کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔۔۔۔۔۔۔کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
جیکی نے اُس کی ہنسی کو نفرت سے دیکھا
ابے چپ۔۔۔۔تیرے کو انٹرویو دینے کا موڈ نہیں ہے ابھی اپن کا۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی تو اپن کے۔ سوال کا سیدھا سیدھا جواب دے۔۔۔
ہتھیار کون سپلائے کرتا ہے تیرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں سے آرہا ہے یہ مال۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے غصّے سے ہاتھ میز پر مار کے بولا
تم نے میرے ساتھ دھوکہ کرکے بلکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔
اس کا انجام بھگتنا پڑیگا تمہیں۔۔۔
جیکی اُس کی بات پر دانت پیستا اُسے دھمکی دینے لگا
وہ شدید اکتائے ہوئے انداز میں سر پکڑتا وہاں سے اٹھ گیا
اس کے ولن کے ڈائیلاگ ختم ہوجائے تو بتانا مجھے ۔۔۔۔۔۔
ویسے ہی سالہ گھر میں ایک سر درد موجود ہے ۔۔۔
وہ گارڈز کی طرف پلٹتا بیزاری سے بولا۔۔۔۔۔۔۔
جیکی دانت بھینچے خود کو چھڑانے کیلئے جھٹپٹانے لگا۔۔
دھیان رکھنا اس کا اور ہاں زیادہ ٹارچر مت کرنا
I hate violence۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گارڈز کو جتاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔پیچھے وہ دونوں حیرت سے ایک دُوسرے کو دیکھتے رہ گئے
∆∆∆∆∆∆∆∆
