Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 70
No Download Link
Rate this Novel
Episode 70
Episode 70
یہ کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔
فلک نے ایک دوپٹہ اپنے شولڈر پر۔رکھتے ہوئے پوچھا
اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے ویسے ہی رو کھے انداز میں جواب دیا تو وہ بجھے دل سے اُسے دیکھتی دوپٹہ واپس رکھنے لگی
وہ داؤد کو منانے کی غرض سے شاپنگ کا بہانا بنا کے اُس کے ساتھ مارکیٹ آئی تھی لیکن وہ اب بھی ویسے ہی بے رخی برت رہا تھا
لے کیوں نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دوپٹہ واپس رکھتے دیکھ ماتھے پر بل ڈال کر پوچھنے لگا
آپ تو بتا ہی نہیں رہے کے کیا لوں۔۔
وہ نظرن جھکائے خفگی سے بولی۔۔۔۔
یہ روٹھنے منانے والا کھیل اُس کے لیے کتنا مشکل تھا بس وہی جانتی تھی
کہا نا اچھا ہے یہ لے لو۔۔۔۔۔
داؤد نے مصنوعی غصے سے کہا
وہ تو آپ نے ایسے ہی بے دلی سے کہہ دیا۔۔۔۔ورنہ اگر پسند ہوتا تو آپ ذرا کھل کر کہتے۔۔۔۔
وہ نظریں اٹھا کر اُسے دیکھتی اُداسی سے بولی۔۔۔داؤد نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اُسے دیکھا
میں اچھی طرح سے سمجھ رہا ہوں کے تم مجھے شاپنگ کے لیے کیوں لے کر آئی ہو لیکِن یہ سب کر کے کوئی فائدہ نہیں ہے فلک میں اب بھی تم سے راضی ہونے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر جب تک آپ مان نہیں جاتے میں کچھ نہیں خریدوں گی۔۔۔۔اور گھر بھی نہیں جاؤں گی
اُس نے بھی معصوم سی دھمکی دی۔۔جسے سن کر اُس نے بمشکل مسکراہٹ ضبط کی
پریشان مت کرو فلک ۔۔۔۔۔
مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔۔۔
پھر بتائیں ۔۔۔کیسا لگ رہا ہے یہ۔۔۔
وہ دوسرا دوپٹہ خود سے لگاتے ہوئے معصومیت سے بولی تو داؤد نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔۔۔اُس کی یہ پریشان شکل بہُت کیوٹ تھی
بلکل تم جیسا خوبصورت۔۔۔لے لو
محبت بھرے لہجے میں کہہ کے اُس کے ہاتھ سے دوپٹہ لے کر کارٹ میں ڈالا
قیمت تو دیکھ لیں اُس کی۔۔۔۔
فلک نے ہڑبڑا کر کہا
قیمت دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
وہ اُس کے پہلے والے دوپٹے کو بھی اٹھا کر کارٹ میں رکھتے ہوئے بولا۔۔
اما ں کہتی ہے بنا قیمت جانے کچھ بھی نہیں اٹھانا چاہیے ۔۔۔۔
وہ ہاتھ سے دوپٹے کے دوسرے حصے کو پکڑ کر اُسے روکتی ہوئی بولی
اس کے پیسے تم نے اپنی امّاں سے مانگ کر دینے ہے۔۔۔۔۔
داؤد نے ہنسی روکتے ہوئےپو چھا
نہیں آپ سے۔۔۔۔
فلک نے اُلجھ کر جواب دیا
تو پھر میں جو کہتا ہوں وہ کرو
وہ مسکرا کر اُس کے ہاتھ سے دوپٹہ لیتے ہوئے بولا۔۔
فلک اُسے نارمل دیکھ کر ہی سکون محسوس کر رہی تھی ورنہ تو اُس کی خاموشی بڑی جان لیوا تھی۔۔۔۔
وہ داؤد کے اشارے پر ہینگ کی ہُوئی کرتیوں کو آگے پیچھے کرکے دیکھنے لگی۔۔اپنی دھن میں کپڑوں کو غور سے دیکھتے ہوئے ایکدم سے اُس نے ایک کپڑا آگے کیا تو اُس کے سامنے کوئی کھڑا تھا۔۔۔۔وہ گھبرا کر سیدھی ہوئی سانس رک گئی اور دل زوروں سے دھڑکنے لگا
وہ سکندر تھا اور اُس کی مکرو ہنسی تھی۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح اُسے چبھتی بیباک نظروں سے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔
وہ خوف سے بری طرح لرزی۔۔۔
کپڑوں پر اُس کی گرفت سخت سے سخت ہوئی۔۔۔
داؤد کی طرف دیکھا تو وہ فون پر جھکا ہوا تھا۔۔۔لیکِن فلک کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔۔اُس نے دوبارہ اُس جگہ دیکھا تو حیران ہوئی کیوں کے وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔
اُس نے گلا تر کرتے ہوئی کپڑوں کو سائیڈ کرتے اُسے تلاشنے کے کوشش کی لیکن وہاں کوئی نہیں ملا تو پریشان ہو کر کھڑی سوچنے لگی کے یہ سچ تھا یہ محض اُس کا وہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کی طرف دیکھتے اُسے پریشان پایا تو اُس کی پیشانی پر چمکتی پسینے کی بوندوں کو حیرت سے دیکھتا پوچھنے لگا
مجھے لگا۔۔۔۔۔ جیسے وہاں کوئی ہے۔۔۔۔۔
وہ گھبرائی سی آواز میں بولی لیکن سکندر کا نام نہیں لیا۔۔۔کیوں کے اُسے یہ صرف اپنا وہم لگ رہا تھا۔۔۔۔۔سکندر تو اُس کی زندگی سے نکل چکا تھا وہ اب اتنے دن بعد اچانک کیوں آتا۔۔۔۔۔۔
تم سے کتنی دفعہ کہا ہے فلک کے گھبرانا چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔ڈر کو خود پر حاوی مت ہونے دیا کرو۔۔۔۔۔۔تم بلا وجہ ہی ہر چیز سے خوفزدہ ہوتی ہو۔۔۔۔
وہاں تو کچھ ہی ہے نہیں۔۔
داؤد نے اُسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے فکر مندی سے کہا۔۔۔فلک نے پرسکون سی سانس لی
ڈرنا تو میں نے کب کا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں پہلے والی فلک نہیں ہوں۔۔۔۔اب تو میں بہت بہادر ہوں۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر بولی تاکہ داؤد کو تسلی ہوجائے وہ اب اُسے اُن پچھلی باتوں کے لیے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
اچھا مجھے تو کبھی بہادری نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔
داؤد نے حیرت جتاتے ہوئے بولا
کیوں کے آپ جو ہر وقت میرے ساتھ ہوتے ہے ۔۔مجھے بہادری دکھانے کا موقع کہاں ملتا ہے۔۔۔۔۔آپ محافظ بن کر کھڑے ہوتے ہیں سامنے۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی تو داؤد نے جانچنے نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
یہ باتیں تم مجھے امپریس کرنے کے لئے کر رہی ہو نا۔۔۔تاکے میں تمہیں معاف کردوں ۔۔۔۔۔۔
وہ ابرو اٹھا کر گھورتے ہوئے بولا تو فلک نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا
بہادر کا پتہ نہیں لیکن چالاک ہو گئی ہو تم۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولا اور دونوں ہنستے مسکراتے آگے بڑھے۔۔۔۔۔پیچھے کِسی کی جلتی نظروں میں اپنا عکس چھوڑتے ہوئے۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
تمہاری آواز اتنی دھیمی کیوں ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔۔
نین سے بات کرتے ہوئے اُسے اُس کی آواز بوجھل محسوس ہُوئی تو فکرمندی سے پوچھنے لگا
میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ نا
تمہیں کیسے پتہ کے وہ راجستھان کے ہی کِسی گاؤں سے ہے مطلب صرف راجستھان ہی کیوں۔۔۔۔۔
وہ وہ اُس کی بات کو اگنور کرتی بیتابی سے پوچھنے لگی۔۔۔
کیوں کے میں نے اُس ٹرین کا معلوم کیا تھا۔۔۔۔۔وہ غریب رتھ ایکسپریس اُس وقت راجستھان کے پشکر سے ہی نکلتی تھی اور اُس کا سٹاپ ممبئی اسٹیشن ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔
ساحل نے بتایا تھا وہ اُس ٹرین میں صبح کے وقت بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ہوسکتا ہے صبح کے سات بجے۔۔۔یا آٹھ یا شاید نو بجے
ایکزیکٹ ٹائم ہمیں نہیں پتہ لیکِن دس بجے تک کا وقت ہم امیجن کر لیتے ہیں۔۔
اُس وقت پُشکر سے یہ ٹرین صبح سات بجے نکلتی تھی ۔۔۔اور ہر اسٹیشن پر صرف دس یا پانچ منٹ کے لیے رکتی تھی۔۔۔۔
تو پشکر کے بعد اگلے تین گھنٹے میں یہ ٹرین جس جس اسٹیشن سے ہو کر گزرتی تھی اُن میں سے ہی ایک ساحل کے گاؤں کا بھی اسٹیشن تھا۔۔۔
داؤد نے اُسے تفصیل سے سمجھایا ۔۔۔۔
تو تم اُن سب گاؤں میں پتہ کرو نا۔۔۔۔
وہ فوراً بولی اُسے بہت جلدی تھی ساحل کے ماں باپ اور اُس کے گھر کے بارےمیں معلوم کرنے کی
اتنا آسان نہیں ہے نین۔۔۔۔۔تین گھنٹوں میں یہ ٹرین کل نو جگہ رکتی ہے۔۔۔۔۔اور یہ علاقے کافی بڑے ہے ان میں سے ایک ایسا گھر ڈھونڈھنا جس کے کسی ممبر کا نام ہمیں پتہ ہے نا کسی کی کوئی تصویر ہے بہُت مشکل ہے۔۔۔
داؤد نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا
تو اب کیا کریں۔۔۔۔
وہ بجھے لہجے میں بولی
یہی سوچ رہا ہوں میں۔۔۔۔
داؤد بات ہی کر رہا تھا جب اُسے ساحل کی بائیک آتی دکھائی دی
اچھا ساحل آگیا میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔
وہ جلدی سے کہتی فون بند کرکے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔
وہ صبح سے گھر سے نکلنے کے بعد اب شام کو لوٹا تھا۔۔۔وہ بڑی شدت سے اُس کے انتظار میں تھی۔۔۔۔
اتنی دیر کردی تم نے کب سے اِنتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔
وہ بائیک روک کر اندر آتا اُس کے پہلے ہی وہ آگے بڑھ کر خفگی سے بولی
کیوں کوئی نیا ٹارچر سوجھا ہے۔۔۔
وہ سیریس انداز میں پوچھنے لگا تو نین نے اُسے گھور کر دیکھا لیکِن اُس کے گھورنے میں روز والی سختی نہیں تھی بلکہ اُس کا چہرہ مرجھایا مرجھایا سا تھا۔
بھوک لگی ہے۔۔۔۔کھانے کیلئے۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر جتاتے ہوئے بولی
بول تو ایسے رہے ہے جیسے میرے بنا تو نے آج تک کھانا کھایا ہی نہیں۔۔۔۔آرڈر کیا کچھ۔۔۔۔۔
وہ طنز کرتا آگے بڑھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔
نہیں آرڈر نہیں کیا ۔۔۔۔آج میں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا ہے تمہارے لیے۔۔۔
اُس نے خوشی خوشی بتا یا تو وہ ایکدم سے رک کر حیرت سے پلٹا۔۔۔۔
صدمے سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
اُس کے یوں دیکھنے پر وہ فخر سے شولڈر کی دھول جھٹکنے لگی
جوک تھا۔۔۔۔۔۔ ہنسوں۔۔۔۔۔
صدمے سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
I m serious۔۔۔۔۔
نین نے غصے سے چبا کر کہا
تم بیٹھو نا میں سرو کرتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ اُس کے مسلسل دیکھنے پر عاجزی سے بولی
ساحل کو اب بھی یقین نہیں ہوا۔۔۔۔۔یہی لگا کے یا تو یہ مزاق ہے یا باہر سے کھانا بلا کر اپنا نام بتانے کی کوشش ۔۔۔۔وہ ہاتھ دھو کر واپس آیا تو نین بہُت جوش و خروش سے کھانا نکال کے زمین پر بچی چھوٹی سی چٹائی پر رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ بہُت جیران ہوتا آکر اپنی جگہ پر بیٹھا۔۔۔۔اور کھانے کو دیکھا تو یقین ہو گیا کے یہ باہر سے تو کم سے کم نہیں لایا گیا۔۔۔۔۔۔
P
دال کا رنگ بتا رہا تھا کے اُس میں ہلدی کی کمی ہے اور مرچ مصالحہ جی بھر کر بھرا گیا ہے۔۔۔۔اور گلانے کی تو زحمت ہی نہیں کی گئی۔۔۔۔۔۔
ٹماٹر اور پیاز کے ایک ایک انچ کے ٹکڑے اوپر ہی تیر رہے تھے۔۔۔
اور اُدھر چاولوں کو جلا کر ہائی لائٹ کیا گیا تھا کہیں سے براؤن تھے کہیں سے کالے اور کہیں سے سفید۔۔۔۔۔
تو نے سچ میں کھانا بنایا ہے۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھتا حیرت سے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔کھانا چاہے کیسا ہو لیکن اُس کا بنانا حیران کرنے والی بات تھی۔۔۔نین نے مسکرا کر سر ہلایا
گجب شانی چھوکری۔۔۔۔۔وہ کل والی تیری مسالہ چائے پی کر بچ گیا تو یہ دھاسو کھانا کھلا کر بدلا لینا چاہتی ہے میرے سے۔۔۔۔۔سچ بتا اِس میں کیٹ ناشک ملا یا نا تونے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تو نین نے اُسے ناراض نظروں سے گھورا۔۔۔۔۔کچھ بولی نہیں تو وہ حیران ہوا
تیری بیٹری اتنی ڈاؤن کیوں ہے۔۔۔۔روز تو بہُت انرجی ہوتی ہے۔۔۔۔
اُسے بغور دیکھنے لگا اُس کی آنکھیں لال تھی شاید دھویں کی وجہ سے
آج تمہارے لیے کھانا بنانے کے چکر میں انرجی ویسٹ جو کی ہے تھک گئی ہوں بہُت۔۔۔اورتمہیں قدر ہی نہیں۔۔۔۔آج میں نے سچ میں بلکل دھیان سے کھانا بنایا ہے ایک ایک اسٹیپ فالو کرکے۔۔۔کچھ بھی غلط چیز نہیں ڈالی ۔۔۔۔۔پکا۔۔۔۔
وہ معصومیت سے بولتی اُسے یقین دلانے لگی۔۔۔
ساحل نے بیچارگی سے اُس کھانے کو دیکھا بھلے غلط چیزیں نا ڈالی ہو لیکِن صحیح چیزیں بھی غلط طریقے سے ڈالی گئی تھی۔۔۔
کل کی چائے کے بعد یہ کھانا ٹیسٹ کرنے کی ہمت اُس میں نہیں رہی تھی۔۔۔۔
وہ چاول میں چمچ ہلا کر اُسے بہُت غور سے دیکھ رہا تھا۔۔اٹھا کر پلیٹ میں ڈالنے کی طاقت ہاتھ میں آنے سے انکاری تھی
دیکھ کیا رہے ہو لو نہ۔۔۔۔
نین نے جھنجھلا کر کہا تو وہ اپنی پلیٹ میں چاول ڈالنے لگا۔۔۔۔
تیرے کو نہیں لگتا یہ چاول تونے تھوڑے سے جلا دیے ۔۔۔۔
وہ چاولوں کے رنگ کو گھورتے ہوئے نہایت ادب سے بولا۔۔۔
میں نے کہاں جلائے ۔۔۔۔وہ تو خود ہی جل گیے۔۔۔۔۔۔اب میں ہوں ہی اتنی خوبصورت۔۔۔۔اچھے اچھے انسان جل جاتے ہیں یہ تو چاول ہے۔۔۔۔
نین نے اپنا پلڑا جھاڑتے ہوئے کہا تو ساحل نے ابرو اٹھا کر اُسے دیکھاú وہ فوراً سیدھی ہو کر چاولوں پر دال ڈالنے لگی
اس کا نام کیا ہے ویسے۔۔۔۔۔۔۔
وہ دال کی کنڈیشن دیکھ کر اندازہ نہیں لگا پایا تو سادگی سے پوچھنے لگا
آ۔۔۔۔۔
نین نے ذہن پر زور ڈالنے کی کوشش کی کے اُس نے کونسی ریسیپی ٹرائے کی ہے لیکِن یاد نہیں آیا
تمہیں نام سے مطلب ہے یا کھانے سے ۔۔۔
وہ نام جاننے کے اِنتظار میں اُسے دیکھ رہا تھا وہ بیزاری سے بولی
معلوم تو ہونا چاہیے نہ کے کیا کھا کر مرا تھا۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے اُسے دیکھتا ہوا بولا نین کا صبر جواب دے گیا۔۔۔۔
مت کھاؤ۔۔۔۔۔۔بھاڑ میں جاؤ۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے چلا کر وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تو ساحل نے ہنستے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے روکا۔۔۔۔۔
وہ خاردار نظروں سے اُس کی دلکش مسکراہٹ کو دیکھتی ہاتھ چھڑانے لگی ساحل کی نظر اُس کے ہاتھ پر گئی تو اُس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔۔۔
وہ ایکدم سے سیریس ہوا
نین واپس بیٹھ کر منہ پھیر گئی تھی
ہاتھ دکھا ادھر۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بازو پکڑے اُس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئی سنجیدگی سے کہا تو نین نے ہتھیلی اُس کے سامنے کردی۔۔۔
ساحل نے اُس کے ہاتھ کو پلٹ کر دیکھا تو پیچھے انگوٹھے کے قریب جلنے کا نشان تھا۔۔۔۔۔۔۔
سفید نازک ہاتھوں پر وہ نشان دیکھ نہایت تکلیف محسوس ہوئی
یہ کیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو دیکھتا پوچھنے لگا جو یقیناً جلنے کے درد کی وجہ سے ہی مرجھایا ہوا تھا۔۔
نین کو جیسے اچانک یاد آیا کے اُس کا ہاتھ بھی جلا ہے۔۔۔۔
ہاں دیکھو میرا ہاتھ بھی جل گیا کھانا بنانے میں۔۔۔۔اور میں تمہیں کھانا کھلانے کی اکسائٹمنٹ میں بتانا بھی بھول گئی۔۔۔دیکھو اِدھر بھی۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً بولی اوردوسری ہتھیلی بھی آگے کی جس کی پانچوں اُنگلیاں اوپر سے سرخ ہو گئی تھی یقیناً گرم برتن پکڑنے سے۔۔۔۔
اور کلائی پر بھی جلے کا نشان تھا
وہ اُس کے ہاتھوں سے نظر ہٹا کر اُس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔اُس کی سرخ بھیگی محسوس ہوتی آنکھوں کو۔۔۔۔اور ہلتے نازک گلابی لبوں کو ۔۔۔
وہ اُس کی خاطر درد سہنے کو رونے کو ہر مشکل سے گزر نے کو راضی تھی۔۔۔۔
اور یہ احساس دل میں پنپتے جذبات کو لاکھ دبانے کے بعد شہہ دینے کی پرزور کوشش کر رہا تھا۔۔۔
کتنا بڑا نشان ہے۔۔۔۔اتنا درد ہو رہا ہے مجھے۔۔۔۔اتنی روئی بھی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کو باری باری دیکھتی اُسے گنوائے جا رہی تھی کے اُس کی طرف دیکھ کر رک گئی ۔۔۔وہ غیر معمولی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔نظریں اُس کے حرکت کرتے گلابی لبوں پر تھی ۔۔۔
اُس نے دھڑکتے دل سے نظریں جھکاتے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے چھڑایا۔۔۔۔۔
ٹیسٹ۔۔۔۔۔۔ٹیسٹ نہیں کروگے تم۔۔۔۔۔۔
کنفیوز سی ہو کر بولی تو ساحل نے اُس کے چہرے سے نظریں پھیریں
کیا ضرورت تھی چولہے کے پاس آنے کی۔۔۔۔۔
سنبھل کر اُسے دیکھتا دھیرے سے بولا
تم نے تو کہا تھا کے کھانا بنانا سیکھ لو۔۔۔۔ہم غریب ہے کُک افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنا چولہے کے پاس آئے کیسے سیکھتی۔۔۔۔۔
وہ اُسے یاد دلاتی منہ بنا کے بولی
میں نے تو واپس تیرے باپ کے گھر جانے کا بھی بولا تھا۔۔۔۔وہ تو نہیں مانی ۔۔۔۔
ساحل نے اُسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ایک پل کو وہ گڑبڑا گئی کے کیا جواب دے۔۔۔
بکواس باتیں نہیں مانتی میں۔۔۔۔۔۔تم کھانا کھاؤ ورنہ میں پھینک دوں گی اب۔۔۔
جواب میں چڑ کر کہتی غصے سے بولی ساحل نے سب کھانا واپس رکھ کر ڈھکا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھتے جوتے پہنے لگا۔۔
کہاں جا رہے ہو ٹیسٹ تو کرو نہیں اچھا لگا تو مت کھانا۔۔۔
وہ اُسے جاتے دیکھ روہانسی ہو کر بولی۔۔۔۔اپنی محنت یاد کرکے اُس کا دل کیا زوروں سے رویے۔۔۔
اٹھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی ساحل نے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے اٹھایا۔۔۔۔۔۔
اور بائیک کی طرف بڑھا
لیکِن جانا کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
منہ بند کرکے بیٹھ ۔۔۔۔۔۔
اُس نے بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے گھور کے دیکھا تو جلدی سے پیروں میں سینڈل پہن کر اُس کی بات پر عمل کرتی پیچھے بیٹھ گئی۔۔۔
ٹھیک سے سنبھلی بھی نہیں تھی کے اُس نے بائیک آگے بڑھا لی۔۔۔۔نین نے ہڑبڑا کر اُس کے گرد ہاتھ باندھتے ہوئے اُسے دانت پیس کر گھورا۔۔۔۔۔۔
ہتھیلی اُس کے سینے پر رکھی لیکِن جلی ہوئی اُنگلیاں تھوڑی دور تھی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
وہ اُسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔۔۔
اُس کے جلے نشانات پر دوائی کروائی اور پھر کھانے کے لئے اُسے ایک ریسٹورانٹ میں لے آیا۔۔۔۔
اس سب میں اُس کا یہ فائدہ ہوا کے اُسے وہ خطرناک کھانا ٹیسٹ نہیں کرنا پڑا۔۔۔
درد تو نہیں ہو رہا نا۔۔۔۔۔
نین کو منہ پھلائے کھانا کھاتے دیکھ پوچھا
میں نے اتنی محنت سے کھانا بنایا اور تم نے ٹیسٹ بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔میری محنت کی بددعا لگے گی تمہیں۔۔۔۔۔۔دیکھنا یہ کھانا ہضم نہیں ہوگا تم کو۔۔۔
وہ اُس کی بات کے جواب میں جل کر غصے سے بولی بمشکل آواز کو دھیمی رکھے
جو کھانا تونے بنایا تھا نہ اُس سے اچھا تہاڑ جیل کے قیدیوں کو ٹارچر کے طور پر دیتی ہے سرکار۔۔
یہ ہضم نا ہو تو دوائی سے کام چل جائے گا۔۔۔۔لیکِن وہ کھانا کھاتا تو تین دن بعد میری قل خوانی ہو رہی ہوتی۔۔۔بھری جوانی میں کنوارا مر جاتا میں۔۔۔۔۔
وہ مزے سے کھانا کھاتا اُسے مزید جلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔اُس کے کنوارا کہنے پر۔۔نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا
کنورا۔۔۔۔۔
پینتالیس کلو کی بیوی سامنے بیٹھی ہے اور خود کو کنوارا بول رہے ہو۔۔۔۔۔تمہارے جھوٹ تو شیطان کو بھی شرمندہ کرتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے تاسف سے دیکھتے ہوئے شرم دلانے والے انداز میں بولی
اُس کو کیا معلوم اِدھر ۔۔۔۔۔۔
وہ سر نیچے کرکے مسکراتا بڑبڑانے لگا لیکِن نین کو بڑی توجہ سے خود کی طرف متوجہ دیکھ رک کر سیدھا ہوا
کیا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے رکنے پر نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے پوچھا۔۔اُس نے انجان بنتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا
سب سمجھ رہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔
خود کو کنوارا بتا بتا کر لڑکیوں کے سامنے فلیش مارتے پھرتے ہو۔۔۔۔
اسلئے منہ سے وہی نکلتا ہے ہر وقت۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے بڑبڑا کر بولی۔۔
ساحل نے کوئی جواب نہیں دیا۔آنکھیں گھما کر بیزاری ظاہر کیے۔خاموشی سے کھانا کھانے لگا
تبھی اُس کا فون بجا تو وہ نمبر دیکھ کے وہاں سے اٹھ کر تھوڑا فاصلے پر جا کر بات کرنے لگا۔۔۔۔
نین کھانا کھاتے ہوئے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھ کر اندازہ لگانے لگی کے آخر اتنی پرائیویسی میں کس سے بات کر رہا ہوگا۔۔۔اور جب یہ خیال آیا کہ کہیں کسی لڑکی سے تو نہیں۔۔۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی فوراً سیدھی ہوئی اور وہاں سے اٹھ کر دھیرے سے اُس کی طرف بڑھی کان آس پاس کے شور سے ہٹا کر اُس کی آواز پر لگائے۔۔۔۔
کوئی ایکشن مت لینا۔۔۔۔۔میں آرہا ہوں ابھی۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بات کر رہا تھا۔۔۔دوسری جانب سے خبر ملی تھی کے جس لڑکی کو وہ لوگ ڈھونڈھ رہے ہیں وہ کہیں دیکھی گئی تھی۔۔۔۔اور اُسے پکڑنے کے لئے وہ اُس سے پرمیشن لے رہے تھے لیکن وہ اُن لوگو کو کچھ بھی کرنے سے منع کیے خود آنے کا کہہ چکا تھا۔۔۔
نین سننے کی کوشش کے باوجود کچھ سن نہیں پارہی تھی اس لیے تھوڑی اور نزدیک ہونے کو آگ بڑھی
جے ڈی مال۔۔۔۔۔
عین اُس کے بڑھتے ساتھ ہی وہ بھی پلٹا تھا۔۔۔وہ بری طرح اُس سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔۔
اور ہڑبڑا کے دو قدم پیچھے ہوتی سیدھی ہو کر سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہ پہلے تو حیران ہوا اور پھر فورًا ہی اُس کی حرکت سمجھ کر اُسے غصے سے گھورا
میرا کھانا ہو گیا۔۔۔۔چلیں۔۔۔
وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر زبردستی مسکرا کر بولی
ایک کام کر تو کیب لے کر گھر جا میرے کو کچھ کام ہے۔۔۔۔۔۔
وہ فون بند کرتے ہوئے بولا۔۔۔نین نے منہ کھولے اُسے دیکھا
۔۔۔۔۔ماما کے بیٹے جھوٹ مت بولو ۔۔۔۔
تمہیں کوئی کام وام نہیں ہے میں نے سنا تم جے ڈی مال جانے کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔وہاں کونسی تمہاری ڈیوٹی لگی ہے جو مجھے کام کا بہانا سنا رہے ہو
سب سمجھتی ہوں میں ضرور کِسی لڑکی سے ملنے جا رہے ہو نا
وہ ایکدم سے نڈر ہو کر اُسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی۔۔۔
میں کہیں بھی جاؤں کِسی سے بھی ملنے جاؤں تیرے کوکیا تو گھر جا ۔۔۔۔
وہ عاجزی سے کہتا آگے بڑھا ٹیبل سے چابیاں اٹھائی اور باہر جانے لگا نین نے تیزی سے اُس کا بازو پکڑ لیا
میں نہیں جاوں گی مجھے بھی تمہارے ساتھ چلنا ہے۔۔۔۔۔ویسے بھی مجھے وہاں سے شاپنگ کرنی ہے اپنے لیے۔۔۔۔۔تمہاری چھچھو ری حرکتوں سے مجھے کوئی مطلب نہیں ۔۔۔
وہ اُسے روک کر بولی۔۔۔۔۔۔
جو چاہیے بتا دے میں لے آؤں گا۔۔۔تو گھر جا۔۔۔دماغ مت گھما۔۔۔
وہ آس پاس کے لوگوں کا خیال کرکے غصے سے دانت بھینچے بولا
میں اپنی پرسنل شاپنگ کِسی سے نہیں کرواتی۔۔۔۔اور تم سے تو ہرگز نہیں کروانی۔۔۔۔۔۔ جو لینا ہے میں خود لوں گی ۔۔۔بس تم مجھے لے چلو۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھما کر اپنی بات پر ڈھٹائی سے جم کر بولی اُس نے آنکھیں ضبط سے بند کرکے کھولیں
گھر جانا ہے تو چلی جا ورنہ یہیں بیٹھی رہ۔۔۔
وہ اپنا بازو جھٹکے سے چڑا کر بولا اورجانے کو پلٹا تو و ایکدم سے بھاگ کر اُس کے سامنے آگئی
۔۔۔۔میں نا گھر جاوں گی نہ یہاں رکوں گی۔۔۔۔۔تم مجھے اپنے ساتھ لے جاؤگے نہیں تو۔۔۔۔
وہ اُسے گھورتے ہوئے وارن کرنے والے انداز میں بولی۔۔ساحل نے ادھُوری بات پر ابرو اٹھا کر سوالیہ انداز میں اُسے دیکھا
میں شور مچا کے سب کو جمع کر لوں گی۔۔۔۔اور کہوں گی کے تم مجھے ۔۔اپنی اتنی خوبصورت اسمارٹ اور معصوم سی بیوی کو یہاں اس انجان جگہ اکیلی چھوڑ کے جا رہے ہو ۔۔کیوں کے تمہیں میرے پاپا نے جہیز نہیں دیا۔۔۔اسلئے تم مجھے چھوڑ رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں اُسے خطرناک دھمکی دیتے ہوئے بولی ساحل نے یوں سانس چھوڑی جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا اور سائیڈ سے ہو کر آگے بڑھا ایک پل کو تو پریشان ہوئی لیکِن اگلے ہی پل
گاؤں والوں ں ں۔۔۔۔۔
اُسے دروازے کے ہینڈل کو تھامے دیکھ زور کی آواز میں چلائی تو مانو وہاں سب کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔ایکدم سے خاموشی چھا گئی۔۔سب لوگ اُس کی طرف متوجہ تھی
ساحل نے بھی حیرت سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔غصے سے ناک پھلائے اُسے گھور رہی تھی
آخر اُسے یاد آیا کے وہ اُس کی بیوی نین تارا ہے جو کچھ بھی کر سکتی ہے
ایک نظر آس پاس ڈالی۔۔۔جہاں لوگ کھاتے کھاتے۔۔۔بات کرتے کرتے۔۔۔چلتے چلتے اور کچھ تو باہر نکلتے نکلتے رک کے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر آگے بڑھا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کھینچتا ہوا باہر لایا۔۔۔
کیوں کے اس وقت اُسے اپنی عزت کا جنازہ نہیں نکلوانا تھا ۔۔۔۔۔
اُن کے جاتے ہی سب حرکت میں آئے ۔۔۔ اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔۔۔۔۔آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔۔۔۔۔ مانو کسی نے ریلیز بٹن دبا دیا ہو
