Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 106)

یہ سب کیا ہے نین۔۔۔۔۔
آۓ کانٹ بلیو کے یہ تم ہو۔۔۔
پورب نے سنجیدگی سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
وہ بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔
گود میں رکھے ہاتھ کی کلائی میں سفید پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔
ماتھے پر سفید بینڈیج تھی۔۔۔۔
اور نظریں ایک جگہ دیوار پر لگی پینٹنگ کے فریم پر تھی۔۔۔۔
لبوں پر خاموشی بس خاموشی تھی۔۔۔۔۔
رات کو تو موقع کی نزاکت دیکھ پورب یا ریا دونوں نے اُسے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر کے چیک اپ کے بعد انجیکشن کے اثر سے وہ سو گئی تھی۔۔۔۔
لیکن صبح ریا سے پہلے پورب نے اُس سے مل۔کر سوال کیا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ چپ تھی۔
تم تو ایسی نہیں تھی يار۔۔۔
دیکھو خود کو کیا حال کر لیا ہے۔۔۔۔
وہ بھی ایک بیوقوف آدمی کی وجہ سے
وہ پگلی جھلی بنداس نین تو تم میں نظر ہی نہیں آرہی جو دنیا سے الگ سوچتی تھی۔۔۔۔۔
تم تو مجھے کوئی اور ہی لڑکی لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔
اُس کی خاموشی پر پورب نے افسوس سے کہا لیکن روانگی میں اُسے اندازہ نہیں ہوا کے وہ کیا بول رہا ہے۔۔۔۔جب کے نین نے۔۔۔ بیوقوف آدمی کی وجہ سے۔۔۔ سن کر دھیرے سے نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔
مطلب تم اپنے ہسبنڈ کو لے کر پریشان ہو نہ ۔۔۔۔۔ یا اس گھر میں تمہیں کوئی تکلیف ہے۔۔۔۔ کیا کسی کی کوئی بات بری لگی ہے۔۔۔میری یا ڈیڈ کی۔۔اگر کچھ بھی ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو نین۔۔۔۔تم ہمارے لیے ریا سے کم نہیں ہوں۔۔۔۔
پورب نے سنبھل کر نرمی سے سوال کیا۔تو نین نے واپس نظریں جھکا کر دھیرے سے سانس خارج کی۔۔۔۔۔
جانتی ہوں۔۔۔۔پر ایسا کچھ نہیں۔۔۔۔بس طبیعت خراب تھی تو گھر کی یاد آگئی۔۔۔سمجھ ہی نہیں آیا کے کیا کروں۔۔۔۔۔
اُسے پورب کے اتنی فکر کرنے کے بدلے اُسے نظر انداز کرنا برا لگا تو نا چاہتے ہوئے بھی لبوں کو زحمت دے کر دھیرے سے بولی۔۔۔۔
اسلئے تم آدھی رات کو اکیلی گھر سے نکل گئی۔۔۔۔۔یہ بھی نہیں سوچا کے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔کیسی مصیبت میں پھنس سکتی ہو تم۔۔۔۔۔
پورب نے تاسف اور کچھ سختی سے کہا تو وہ پھر خاموش رہی۔۔وہ بھی چند سیکنڈ کے لیے چپ ہو گیا۔۔۔
اور ایک بات ۔۔۔آئندہ ایسا کرنے کا ارادہ ہو تو دھیان رکھنا تم اپوزٹ ڈائریکشن میں جا رہی تھی۔۔۔ممبئ ادھر نہیں اُدھر ہے۔۔۔۔۔
پورب نے اُس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے مزاق کے طور پر کہا دونوں سائیڈ میں اشارہ کرکے۔۔۔۔ لیکن اُس کے سست تاثرات میں ذرا بھی فرق نہیں پڑا۔۔۔۔بند لبوں میں کوئی بھی حرکت نہیں ہوئی۔۔۔۔
وہ اُس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ کر گہری سانس خارج کرکے رہ گیا۔۔۔
۔۔۔ڈے ون سے مجھے لگ رہا ہے نین کہ تم کسی چیز کو لے کر پریشان ہو۔۔۔کوئی ٹینشن ہے تمہیں لیکِن میں نے نہیں پوچھا کیوں کے ہم اتنے كلوز نہیں ہے۔۔ ۔۔۔بٹ ریا۔۔۔۔۔۔وہ تو تمہاری بیسٹ فرینڈ ہے نہ۔۔۔تم اُس سے تو سب کچھ شیئر کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔
جو بھی تمہارے دل میں ہے۔۔۔۔تمہیں پریشان کر رہا ہے ۔۔۔۔اُسے اپنے اندر سے نکالو۔۔۔۔اور خود کو ٹھیک کرو۔۔۔ایسے تم بلکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔اوکے۔۔۔۔۔
پورب نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اُس نے بنا دیکھے ہی سر ہلا دیا
ویسے ابھی تمہیں ایکسٹرا انرجی کی ضرورت پڑنے والی ہے کیوں کہ تمہاری دوست تم سے بہت ناراض ہے اور اُسے منانے کے لیے تمہیں بہُت محنت کرنی پڑےگی۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر رازدارانہ انداز میں بولا تو نین نے فوراً اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
نہیں بھائی۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔
ریا نے اندر آتے ہوئے اُس کی بات سنی تو خشک انداز میں بولی نین نے بھی اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
اس نے اب ہماری دوستی کی حیثیت اتنی گرا دی کے مجھے ناراض ہونے کا حق بھی نہیں رہا۔۔۔
ریا نے دکھ اور افسوس سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔پورب نے نین کو مسکرا کر آل دا بیسٹ کا اشارہ کیا اور خود روم سے نکل گیا
ریا۔۔۔۔۔۔۔
نین نے ماتھے پر۔بل ڈالے اُسے پُکارا۔۔۔
میں ایسی قابل نہیں تھی جو میری دوست مجھ سے اپنی فلنگز شیئر کر سکے۔۔۔۔۔۔۔اس لیے تو مجھے بتانے سے زیادہ اسے خود کی جان پر کھیلنا آسان لگا۔۔۔۔پھر میں اس سے ناراض کیسے ہو سکتی ہوں۔۔۔۔
ریا نے اُسے باقاعدہ دیکھتے ہوئے کہا تو نین نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے اپنے قریب بٹھایا اور اُس کے گلے لگ گئی
سوری یار۔۔۔۔۔میں بھٹک گئی تھی۔۔۔۔سو سوری۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے خود کو رونے سے روک کر دکھ سے کہا۔۔۔۔
لیکِن اب ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔۔
اب آج سے سب بدل گیا ہے ۔۔۔۔۔اب پچھلی کوئی بات نہیں۔۔۔کوئی پریشانی نہیں۔۔۔۔بس تم اور تمہاری شادی ہی میرے لیے امپورٹنٹ ہے۔۔۔۔۔اب بلکل تنگ نہیں کروں گی۔۔۔قسم سے۔۔۔۔
وہ اُس سے الگ ہو کر اُس کا ہاتھ تھامے بولی ۔۔۔۔۔ اُداس آنکھوں میں بھری معصومیت سے ریا کا دل بھر آیا۔۔۔لیکِن وہ اُسے گھورتی رہی۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔
اُس نے جھٹک کر اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔اور نین کو غصے سے دیکھتے ہوئے اُس کے گال پر ایک ہلکا سا تھپڑ دے مارا ۔۔۔نین نے حیرت سے منہ کھولے آنکھیں بڑی کرکے گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اب ایسا کرنے سے پہلے یاد رکھنا ایسے دس ٹھپڑ پڑے گے۔۔۔
ریا اُسے غصے سے گھور کر زور بولی تو اسنے جلدی سے سر جلدی اور ریا ہنس کر دوبارہ اُس کے گلے لگ گئی
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ اپنے کیبن میں تھا ایک طرف کھڑا ٹیبل پر جھک کے کچھ پڑھنے میں مصروف رہا جب بنا ناک کیے دروازہ کھلا اُس نے سر اٹھا کر دیکھا تو انجو چہرے پر غصّہ اور ناگواری لیے اُس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ میں موجود پیپرز ٹیبل پر رکھے اور سیدھا ہوا۔۔۔۔
وہ آکر اُس کے ٹھیک سامنے رکی اور ایکدم سے اُسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا لیکن پورب اُس کا ہاتھ ہوا میں ہی روک گیا۔۔۔
یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔۔۔
اُس کی کلائی سختی سے پکڑ کے پورب نے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔۔انجو نے جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ آزاد کیا۔۔۔۔۔
یہ تمہاری کل کی بےشرمی کا جواب ہے۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے نزدیک آنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر اُسے گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔پورب کے حیران تاثرات مدھم پڑے اور لبوں پر مسکراہٹ آئی۔۔۔۔
تمہیں کیا لگا ۔۔میں خاموشی سے سہہ جاؤں گی اور تم جو مرضی آۓ وہ کروگے۔۔۔۔۔۔میں تمہیں اپنا دوست سمجھتی تھی اور تم اتنا گر گئے کہ۔۔
میرے اور دکش کے بیچ آنے کی کوشش مت کرو پورب۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔
اُس کے مسکرانے نے جلتی پر تیل کا کام کیا تو۔انجو نے بھڑک کر اُسے انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے ایک ساتھ خوب سنا ڈالا۔۔۔۔۔
جس بات پر تم اتنی غصّہ ہو۔۔۔اُس کی وجہ جانتی ہو تم۔۔۔۔۔۔
پورب نے پرسکون انداز میں اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
تمہارے وہ الفاظ جنہوں نے مجھے چوٹ پہنچائی تھی یہ اُس کا جواب تھا۔۔۔تاکے آئندہ تم کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لو کے میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے جتا کر کہا انجو نے دانت پیس کر سر ہلایا۔۔۔
یہ بتانے کا مقصد ہے کے اگر تمہاری باتوں کے بدلے میں یہ کر سکتا ہوں تو سوچو تمہاری دھمکی اور تمہارے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کے بدلے کیا کروں گا۔۔
اُس کی مسکراہٹ گہری اور شریر ہوئی۔۔۔۔۔جتاتے لہجے میں اُس کا وارن کرنا انجو کے غصے کے ساتھ اُس کی حیرت میں بھی اضافہ کر گیا۔۔۔۔
تُم اتنے بے شرم کب سے ہوگئے پورب۔۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے تاسف سے پوچھنے لگی
جب سے تم بے وقوف ہوگئی۔۔۔
اُس نے کندھے اچکا کر سکون سے جواب دیا۔۔۔۔
تم اب واقعی میری دوستی کے قابل نہیں رہے ۔۔۔۔
انجو نے دکھ سے اُسے دیکھ کر کہا تو وہ ہلکا سا اُس کی طرف جھکا۔۔۔
تو اب پیار کے قابل سمجھ لو۔۔
وہ اُس کے نزدیک ہو کے شرارت سے ونک دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔انجو نے خشک گلے کو تر کیا اور پیچھے ہوئی۔۔۔
خبردار جو آئندہ یہ بکواس کی۔۔۔
اُس نے اُنگلی اٹھا کر آنکھیں دکھا کر غصے سے کہا۔۔۔۔
یہ بکواس ایک دن حقیقت کرکے دکھاؤں گا تمہیں۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھیں میں سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پُر عزم لہجے میں بولا تو ایک پل کو وہ اُسے دیکھ کر رہ گی۔۔۔
افسوس کر سکتی ہوں میں تم پر اور اپنے آپ پر کے میں نے تمہیں سمجھنے میں بھول کردی۔۔۔۔۔
میں آئندہ تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔۔۔
وہ جھنجلا کر غصے سے بولی اور جانے کے لیے پلٹ گئی۔۔۔۔
اور میں روز تمہیں یہ شکل دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔۔
پورب نے اونچی آواز میں اُسے سنایا تو اُس نے باہر نکلتے ہوئے دروازہ زور سے بند کرکے اپنی بھڑاس نکالی۔۔۔۔۔۔پورب نے ہنس کر انجوئے کیا۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
دکش بیٹا۔۔۔۔۔مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب نے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کرکے سنجیدگی سے کہا تو وہ اُن کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر غور سے اُن کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔۔
مجھے خبر ملی ہے کے کچھ باڈی میمبرز ویر کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھانے کی سازش کر رہے ہیں۔۔۔۔ایسے میں اگر ہم خاموش بیٹھے رہے تو وہ لوگ کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسلئے میں نے سوچا ہے کے کیوں نہ آج ہی تمہاری اور انجو کی شادی ہوجائے ۔۔۔۔اور آج ہی میں تمہیں گروپ چیئرمین بنا دوں۔۔۔۔
اُنہوں نے اپنی پریشانی اور اُس کا حل ایک ساتھ اُسے بتایا۔۔۔۔جیسا کے وہ چاہتا تھا۔۔۔۔۔اُس نے ہی یہ خبر اُن تک پہنچوائی تھی تاکہ وہ جلد سے جلد کوئی قدم اٹھائے اور اُسے وہاں پہنچنے کا موقع ملے جہاں وہ پہنچنا چاھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
حالانکہ یہ کام شادی کی تاریخ سے چار دن پہلے کا تھا۔۔۔ لیکِن اب وہ اتنے دن انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔نین کو اور دکھ نہیں دے سکتا تھا۔۔صرف نین کی وجہ سے اُس نے اپنا پلان بدل دیا تھا یہ جانتے ہوئے کے یہ جلد بازی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
سوری انکل لیکِن یہ پاسبل نہیں ہے۔۔۔۔کیوں کے اس طرح انجو ان کمفر ٹبل ہوگی اور میں ایسا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔میں اُسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سکون سے جواب دیا۔۔۔کوئی اور وجہ کام نا کرتی لیکن بیٹی کی بات پر وہ اختلاف نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔بھلے اُنہیں اپنی کرسی بہُت پیاری تھی ۔۔۔
لیکن ۔۔تمہاری اور انجو کی شادی کے بغیر میں تمہیں چیئرمین شپ نہیں سونپ سکتا۔۔۔۔۔
اُنہوں نے سنجیدگی سے پرسوچ لہجے میں کہا۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔آپ چاہے تو ایسا کیوں نہیں کر سکتے ۔۔آپکو ایسا کرنے سے کون روک سکتا ہے۔۔۔
اُس نے فوراً کہا تو وہ چونک کر اُسے دیکھنے لگے ۔۔۔
لیکِن یہ رولز کے خلاف ہے۔۔۔۔۔
اُس کی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اُلجھ کر بولے
ہمارا کام ہی رولز کے خلاف جانا اور رولز کو بدلنا ہے۔۔۔۔۔اور رولز بدلنا ایک چیئر مین سے زیادہ کس کے اختیار میں ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے نظروں کا رخ بدل کر کہا اور پھر اُن کی جانب دیکھا۔ ۔
کبھی کبھی لوگوں کو جواب دینے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تاکے باقی کے اٹھنے والے قدم خود ہی پیچھے ہٹ جائیں۔۔۔
سیدھے سیدھے نہیں لیکِن وہ اشاروں میں اُنہیں سمجھا گیا کے وہ اپنی طاقت کے بل پر کچھ لوگوں کے مخالف جا کر یہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔۔۔
مطلب شادی سے پہلے تمہیں چیئر مین بنا کر اُن کے منہ پر جواب دیا جا سکتا ہے جو ہمیں مات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔
آخر یہ سب میرے بیٹے کی محنت اور ذہانت سے ہی بنائی گئی تنظیم ہے۔۔۔۔اُسی نے ان لوگوں کو جوڑا ہے ورنہ یہ تو الگ الگ ٹکڑوں میں کب سے قانون کا نوالہ بن چکے ہوتے۔ ان کی کہاں اوقات کے ہمارے فیصلے کو چیلنج کرسکے
سنگھ صاحب کے حوصلے بڑھ گئے اور اُنہیں یہ اپنی مشکل ختم کرنے کے ساتھ اپنا رسوخ بڑھانے کیلئے بھی واجب لگا۔۔۔۔
وہ اُنہیں سوچوں کے بھنور میں اُلجھا کے مسکراتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔لیکِن اندر جانے سے پہلے اس کا سامنا سنگھ صاحب کے سیکریٹری سے ہو گیا۔۔۔جس کے چہرے پر ہمیشہ کے مخالف مسکراہٹ تھی۔۔۔۔جو بڑی معنی خیز تھی۔۔۔
جلدبازی میں کہاں جا رہے ہیں سر۔۔۔۔۔ٹھوکر لگ سکتی ہے۔۔۔۔
اُس نے ساحل کو دیکھ کر گڈ ایوننگ کہنے کے بعد مسکراتے ہوئے کہا
اُس کے چہرے سے نظر آرہا تھا کے وہ ہواؤں میں ہے جس کا مطلب اُس کے ہاتھوں کوئی موقع لگ چکا تھا۔۔۔
آپ کے اندازے سے کئی گناہ تیز نظر ہے میری۔۔۔۔جو صحیح وقت اور صحیح جگہ پر ہوتی ہے۔۔۔۔
وہ چلتے چلتے رک کے نظریں پھیرتے ہوئے بولا
نظر تو میری بھی صحیح جگہ تھی بس قدم تھوڑا جلدی بڑھا لیا۔۔۔لیکِن اس بار یہ غلطی نہیں ہوگی۔۔۔
اُس نے ہنس کے سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
Best of luck۔۔۔۔۔۔
ساحل نے مسکرا کر اُس کی جانب دیکھا اور اندر کی طرف بڑھ گیا اور وہ اُسے جاتے دیکھ اپنے خبری کو فون ملانے لگا۔۔۔
وہ انجو کے کمرے میں پہنچا تو وہ کہیں جانے کی تیاری میں تھی۔۔۔۔بیڈ پر بیگ رکھ کر اُس میں اپنے کپڑے رکھ رہی تھی۔۔۔۔
کہیں جا رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اندر آتے ہی نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔
آپ کو مجھ سے بات کرنے کی فرصت مل گئی۔۔۔۔۔
انجو نے ایک پل کو ہاتھ روک کر اُسے دیکھا اور پھر مصروف ہو کر روکھے لہجے میں بولی
یہ کیا بات ہُوئی۔۔۔۔
وہ اُس کے ناراض چہرے کو دیکھ کر اُس کی طرف بڑھا اور اُس کے ہاتھ میں موجود ہینکر کو پکڑ کر اُسے روکتے ہوئے بولا
وہیں تو مجھے جاننا ہے ۔۔۔۔۔کل ہماری لائف کا اتنا امپوٹنٹ ڈے تھا دکش۔۔۔۔۔ہماری انگیجنٹ تھی۔۔۔۔لیکن آپ وہاں ہو کر بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔
اُس نے دکھ اور اُداسی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اُس کی ہلکی سی سرخی مائل آنکھیں مسکرائی۔۔۔
بتا دوں۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر ابرو اٹھائے دونوں ہاتھ جینس کی پاکٹس میں پھنساتے ہوئے بولا۔۔۔۔انجو کی نظریں اُس کے گال میں بنی گہری پر آتے ہی غصّہ بھول گئی۔۔۔
اگر آپکو تکلیف نا ہو تو بتا دیجئے۔۔۔۔مجھے معلوم تو ہو کے آخر آپ کے بہیویر کی وجہ کیا تھی۔۔۔۔
وہ نظریں پھیر کے روٹھے انداز میں بولی
کل مجھے ایک پرنسز نے اپنی خوبصورتی کے جال میں قید کرکے ان کونشیز کردیا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے کام میں لگے بلوٹوتھ کو ٹھیک کرتے ہوئے رازدارانہ انداز میں دھیرے سے بولا تو انجو نے سانس روکے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اُس کا بات کرنا اُس کا مسکرانا اُس کا انداز بہت الگ بہُت خوبصورت تھا ۔۔۔۔انجو کو پورب کی باتیں پریشان کرنے لگی کے کیا یہی وجہ تھی جو وہ اُس سے متاثر ہوگئی۔۔۔۔
میرے ہوش اُڑ گئے تھے۔۔۔۔۔
وہ اُس کے دیکھنے پر آنکھیں بڑی کرکے سرگوشی میں بولا ۔۔۔۔۔لبوں پر ہنسی روکنے کی کوشش بہت خوبصورت تھی
اب بتاؤ۔۔۔۔تمہاری گنہگار وہ پرنسز ہے یا میں۔۔۔۔۔۔۔
معصومیت سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو انجو نے اپنا ذہن جھٹک کر آنکھیں گھمائیں
بہت اچھے سے باتیں بنالیتے ہے آپ۔۔۔۔
وہ منہ بنا کے کہتی اپنے کپڑے ترتیب سے رکھنے لگی۔۔۔وہ ہلکا سا ہنسا
بلکل نہیں۔۔۔یہ سچ ہے۔۔۔بلکہ کل میرا تم سے انگیجمنٹ کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔دل چاہ رہا تھا سیدھے شادی کرلوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر دیوار سے ٹیک لگائے بولا ۔۔۔۔اور منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکے
سچ میں۔۔۔۔۔۔
انجو نے مشکوک انداز میں اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا اُس کے بلا وجہ ہنسی پر حیران بھی ہوئی۔۔۔۔اُس نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔
۔۔۔کیوں نا ہم آج ہی شادی کر لے ۔۔۔میرا تو دل نہیں لگتا تمہارے بنا۔۔۔
وہ بولتے بولتے ایکدم سے آنکھیں میچ کر زور سے ہنسا تو انجو نے صدمے سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
دکش آپ ٹھیک ہے۔۔۔۔
اُسے لگا یا تو وہ نشے میں ہے یا اُس کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔۔۔ اُس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور جلدی سے سنبھل کر سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔
کچھ یاد آگیا تھا بس۔۔۔۔
وہ لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا تو انجو غور سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔۔۔
اچانک ہی اُس نے کچھ یاد کرکے اُس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا تو ساحل نے سر ہلایا۔۔۔۔
اتنے ٹائم سے ہم ساتھ ہے۔۔۔لیکِن کبھی بھی آپ نے میرے قریب آنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کو جانچتے انداز میں دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ سنجیدہ ہوا
میں نے اوروں کو۔دیکھا ہے اکثر۔۔۔ ریلیشن شپ میں کافی کلوز ہوتے ہیں لیکن آپ نے تو ۔۔۔۔
انجو نے اپنی حیرت اور نا سمجھی کا اظہار کرکے بات ادھُوری چھوڑی۔۔مقصد صرف یہ جاننا تھا کے کیا اُس کی جانب سے بھی اس ریلیشن شپ کو کوئی لے کر کوئی اُلجھن ہے۔۔۔
کیوں کے مجھے لیڈیز سینڈل کی مار کھانا پسند نہیں ہے۔۔۔۔
وہ اسی سیریس انداز میں بول کر مسکرایا تو انجو نے اُس کے بات اڑانے پر گھور کے دیکھا۔۔۔
اوروں کو تو تم نے لڑتے جھگڑتے بھی دیکھا ہوگا۔۔۔۔ایک دوسرے کی انسلٹ کرتے بھی دیکھا ہوگا ۔۔۔۔ہمیں تو وہ سب بھی نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا تو انجو اُس کی طرف دیکھ کر مسکرائی
اب بتاؤ کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔
اُس نے بات کا رخ بدلا اس سے پہلے کے وہ کوئی اور سوال کرے
میں ریا کے فارم ہاؤس جا رہی ہوں۔۔۔۔ اُس کے ساتھ رہوں گی شادی تک۔۔۔۔۔آپ چلیں گے میرے ساتھ۔۔۔۔
انجو نے اُسے بتانے کے ساتھ ایکدم سے چہک کر پوچھا۔۔۔۔
ریا کی شادی کے تمام فنکشن اُسے علاقے میں بنے اُن کے الیشان فارم ہاؤس پر ہونے والے تھے جہاں دولہا دلہن کے کمبائن فنکشنز تھے۔۔۔۔۔
آپ لے کر جائیں گی مجھے۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر اُسی کے انداز میں کہا انجو کو اُس کا موڈ ہمیشہ کے مقابلے بہُت الگ اور بہُت خوشگوار لگا ورنہ وہ زیادہ تر باتوں کا جواب مختصر الفاظ میں دے دیتا تھا۔۔۔
پلیز چلیے نا دکش ۔۔۔۔۔۔میری ساری فرینڈز اور اُن کی فیملیز بھی ہوں گی وہاں۔۔۔۔۔۔بہُت مزا آئیگا۔۔۔۔۔۔۔ہم ساتھ رہیں گے۔۔۔انجوئے کریں گے۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔ آپ میرے ساتھ ہوں گے تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔۔۔۔
وہ اُس کے موڈ کا فائدہ اٹھا کر اُس کے پیچھے پڑ گئی ۔۔۔
چل تو نہیں سکتا لیکن تم سے روز ملنے آؤں گا اور ہم ساتھ میں انجوئے کریں گے سب ۔۔۔۔۔اوکے
اس نے ذرا رک کر کہا تو انجو نے منہ بنایا ۔۔۔لیکِن خوش بھی ہو گئی کہ اُس نے اتنا کہا مطلب وہ ضرور عمل کرےگا۔۔
حالانکہ اُس کا دل تو چاہ رہا تھا ہاں کردے کیونکہ اِسی بہانے اُسے نین کے ساتھ رہنے کا اُسے دیکھنے کا اور سنبھالنے کا موقع مل جاتا کیوں کے اس وقت نین کو اُس کے ساتھ کی شدید ضرورت تھی۔۔۔۔
لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا کیوں کہ اگلے چند دن میں اُسے اپنا کام مکمل کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جو بات وہ سنگھ صاحب کے دماغ میں بھر چکا تھا اُس کے بعد اُسے یقین تھا کے اب اُس کي منزل دور نہیں ۔۔۔۔بس خطرہ تھا تو ایک ۔۔۔سنگھ صاحب کا سیکریٹری اور اُس کے ارادے۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦