Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
Episode 9
کیا سوچ رہے ہو ارحم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ارحم کو خاموش فلک کو تکتے دیکھ اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
آج وہ لوگ پھر کورٹ کے باہر کھڑے تھے۔۔۔پچھلی دفعہ جو کچھ ہوا اُس کے بعد دونوں کے دل میں عجیب سا ڈر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔فلک اور نیہا دور ایک ساتھ بیٹھے تھے نیہا اُسے سمجھا رہی تھی کے کس طرح اُسے جواب دینا ہے
ارحم اور شاینا گراؤنڈ میں کھڑے تھے۔۔۔۔
سوچ رہا ہوں اندر کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔پچھلی دفعہ فلک کے ساتھ جو سلوک ہوا اگر وہ دوبارہ ہوا نا تو میں خود کو کچھ کر دوں گا ۔۔۔
وہ رخ بدل کر سر جھکائے کرب آمیز لہجے میں بولا
شش۔۔۔۔۔۔پاگل ہو تم۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔یہ کیس ہم ہی جیتے گے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی
اللہ کو تم سے اور فلک سے جو آزمائشیں لینی تھی وہ لے چکا ہے۔۔۔۔اب باری اُس گنہگار کی ہے۔۔۔۔اب اُس کی سزا کا وقت ہے۔۔۔تم خدا پر بھروسا رکھو۔۔۔۔۔۔اس بار تمہیں مایوس نہیں کرےگا وہ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر پریشانی دیکھ اُسے تسلی دیتے ہوئے بولی
تمہارے ہونے سے حوصلا بڑھ گیا ہے۔۔۔ورنہ اپنی اُمید تو میں پچھلی دفعہ ہی ہار گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ اور دباؤ ڈالتے ہوئے بولا تو وہ ہلکا سا مسکرا دی
اُسی وقت سکندر کی گاڑی رکی اور وہ گاڑی سے نکل کر سیدھا اُن دونو کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔ارحم اور شائنہ کے تاثرات سخت ہوئے
کیا میری بائیں ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ پاس آکر مسکراتے ہوئے بولا ارحم کے ساتھ کھڑی شائنہ کو سر سے پیر تک دیکھا۔۔۔۔۔سفید پینٹ اور ڈارک بلیو کمر تک آتے ٹاپ میں وہ لڑکی اوپر سے نیچے تک قیامت تھی
۔بھابھی۔۔۔۔۔۔؟؟
اُس نے ارحم کو۔دیکھ کر سوالیہ انداز میں ایبرو اٹھائی ارحم نے سختی سے دانت بھینچے سکندر ہنس کر دونوں کو دیکھنے لگا
کمال کی قسمت ہے یار تیری۔۔۔۔۔۔ساری خوبصورت لڑکیاں تیرے کھاتے میں ہی لکھی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا شائنہ ناگوری سے اُسے دیکھنے لگی
ہائے بے بی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج رات فری ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے شائنہ کی طرف ایک قدم نزدیک ہو کر بے باکی سے اُس کا جائزہ لیا اور اُنگلی سے اُس کے گردن میں پڑے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔ارحم آگے بڑھ کر اُسے مارتا اس کے پہلے ہی
شائنہ نے ایک قدم پیچھے ہو کر اپنا ہاتھ پوری طاقت سے گھما کے اُس کے منہ پر مارا۔۔۔۔۔۔۔
تھپڑ کی گونج اتنی تیز تھی کے آس پاس کھڑے لوگ بھی متوجہ ہوئی۔۔۔ارحم کے لبوں دل جلا دینے والی مسکرہٹ آئی۔۔۔
سکندر کا چہره سرخ پڑ گیا۔۔۔۔اُس نے آنکھوں میں غضب لیے شائنہ کو دیکھا
ہر لڑکی کو فلک سمجھنے کی غلطی مت کرنا سکندر ۔۔۔۔۔۔
کچھ لڑکیاں اپنے سکھائے گئے اصولوں سے ہٹ کر اپنے لیے لڑنا بھی جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں غصے سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔اُس کی بے خوفی پر ارحم کی نظر میں اُس کا مقام کچھ اور بڑھ گیا۔۔۔۔
یہ تھپڑ بہت مہنگا پڑیگا تمہیں۔۔۔۔۔
وہ ضبط سے سُرخ چہرہ لیے دانت پیستے ہوئے بولا
چلے گا یار۔۔۔۔۔جب سے پیدا ہوئی ہوں۔۔۔سستی چیزوں سے پالا بھی نہیں پڑا۔۔۔۔۔رائٹ ارحم
شائنہ ہنستے ہوئے بولی تو ارحم بھی مسکرا دیا۔۔۔سکندر دونوں پر ایک خونخوار نظر ڈال کر اندر چلا گیا
ارحم نے تعریفی نظروں سے اُسے دیکھا تو وہ مسکرا دی
∆∆∆∆\\\\
یور آنر اس کیس کی پچھلی سنوائی میں۔۔۔میں ثابت کر چکا ہوں کے مس فلک نے میرے موکل سکندر شاہ کے خلاف جو الزام لگایا ہے وہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔۔۔۔۔۔
اس لیے میری عدالت سے گزارش ہے کہ میرے موکل کے حق میں فیصلہ دے کر اُنہیں با عزت بری کیا جائے۔۔۔۔دھیٹز آل۔۔۔۔
کاروائی شروع ہوتے ہی سکندر کے وکیل نے کھڑے ہو کے اپنی بات کہی ۔۔اُس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بلکل مطمئن ہے۔۔۔پچھلی سنوائی میں اپنے داؤ پیچ میں جس طرح اُس نے فلک کو پھنسایا تھا۔۔۔۔اُسے یقین تھا کے اُن کی جیت پکی ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کے بیٹھتے ہی نیہا اپنی جگہ سے اٹھی
جھوٹے ثبوتوں اور گواہوں کی بناء پر کِسی مجرم کو شریف اور محان بنا دینا کوئی بڑی بات نہیں یور آنر
بڑی بات یہ ہے کہ ایک لڑکی سماج کی روایتوں کے خلاف جا کے اپنی ہمت اپنے حوصلے جمع کرکے یہاں اپنے لیے انصاف مانگنے کھڑی ہے۔۔۔
اور یہ صرف ایک نہیں ہے ایسی ہزاروں فلک ہر روز ملتی ہے جنہیں ایسے ہی ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے
آج اگر اس لڑکی کو انصاف نہیں ملا تو اُن میں سے کوئی بھی ظلم کی۔ماری آواز اٹھا نے کی ہمت نہیں کریگی۔۔۔۔مائے لارڈ
اُس کی امیدیں فلک کے ساتھ ہوئے سلوک کو دیکھ کر ہی ٹوٹ جائے گی۔۔۔۔وہ لڑنے سے پہلے ہی ہار جائے گی
آج اگر فلک کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو ہر اُس لڑکی کے ساتھ بھی نا انصافی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے بولنا شروع کرتے ہیں وہاں بیٹھے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔۔۔۔عدالت میں۔مکمل خاموشی چھا گئی تھی
اوبجیکشن می لارڈ۔۔۔۔۔۔۔شاید وکیل صاحبہ یہاں کیس لڑنے کے نہیں تقریریں کرنے کے ارادے سے آئیں ہے۔۔۔۔۔۔
سکندر کا وکیل طنز کرتے ہوئے ہنسا
جی نہیں وکیل صاحب ۔۔۔۔۔تقریریں کرکے میں اپنے الفاظ ضائع نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔میرا مقصد کیس لڑنا ہی ہے۔۔۔اور میں جانتی ہوں جھوٹ کو پڑے نا پڑے لیکِن سچ کو اب ثبوت کی ضرورت ضرور پڑتی ہے۔۔۔۔۔
یور آنر میں مسٹر سکندر شاہ سے کچھ سوال کرنے کی اجازت چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ وکیل کو جواب دے کے جج کی طرف پلٹی۔۔۔
اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جج نے اجازت دی۔۔۔۔۔سکندر سنجیدہ ہو کر وکیل کو دیکھنے لگا تو اُس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دیتے جانے کہا اشارہ کیا وہ اٹھ کر بریکٹ کی طرف بڑھا
مسٹر سکندر۔۔۔۔۔۔۔میری انفارمیشن کے۔مطابق ہر رات آپکے گھر ریڈ لائٹ ایریا سے ایک لڑکی آتی ہے۔۔۔۔کیا آپ کے بلاوے پر۔۔۔۔۔۔۔
نیہا کے پہلے ہی سوال پر سکندر اور بہادر شاہ سمیت وکیل کے چہرے پر بھی اُلجھن نظر آئی۔۔۔۔۔
یہ میرا پرسنل معاملہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے سرد لہجے میں بولا نیہا اُس کی بات پر ہنسی
پرسنل۔۔۔۔۔۔یہ جو سامنے آپ لڑکی دیکھ رہے ہے نا۔۔۔اُس کی پرائیویسی کی دھجیاں اڑائی گئی ہے اس عدالت میں۔۔۔اور میرے پہلے سوال پر آپکا اپنے پرائیویسی کے رائیٹس یاد آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔جواب دیجئے جو پوچھا ہے۔۔۔
وہ ارحم کے ساتھ بیٹھی فلک کی طرف اشارہ کرکے بولی اور آخر میں غصے سے چلّائی۔۔۔
اوبجیکشن ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سوال اس کیس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔
وکیل نے اٹھ کر اعتراض جتایا
بلکل۔۔۔۔میرا مقصد بس یہ بتانا تھا کے سکندر شاہ اتنے شریف نہیں جتنا اس عدالت میں اُنہیں بنا دیاگیا ہے۔۔۔۔۔
وہ جج کے اعتراض قبول کرنے سے پہلے ہی بول کر اُس بات سے ہٹ گئی۔۔۔بنا جواب دیے بھی سب کو جواب مل چکا تھا۔۔۔فلک دل۔میں اللہ سے دعا کر رہی تھی کے آج وہ نا ہارے
مسٹر سکندر یہ بتائیں۔۔۔فلک سے آپکو پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے اگلا سوال کیا
بہت پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رک۔کر بولا
پھر بھی چھ مہینے۔۔۔۔۔۔ایک سال۔۔۔۔کتنا وقت ہوا
نیہا نے اپنی بات اور زور دیا
یہی کوئی چار پانچ مہینے پہلے۔۔۔۔۔
سکندر چند پل خاموش رہ کر بیزاری سے بولا
چار پانچ مہینے میں آپکو اندازہ نہیں ہوا کے یہ لڑکی آپ سے محبت نہیں کرتی بلکہ آپکی دولت کے پیچھے پڑی ہے۔۔۔اتنے بیوقوف ہے آپ۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی۔۔۔۔سکندر سے ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا
اچھا چھوڑیئے۔۔۔۔۔۔فلک سے آپکی پہلی ملاقات کہاں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے اگلا سوال کیا
اوبجیکشن می لارڈ۔۔۔۔۔۔ بے معنی سوالات کرکے ۔۔وکیل صاحبہ کورٹ کا وقت ضائع کے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وکیل بھڑک کر بولا۔۔۔۔۔۔اس بارے میں نا اُنہوں نے کوئی تیاری کی تھی نا اُنہیں اُمید تھی۔ اورایسے سوال بیچ میں آئیگے تبھی وہ گھبرا گئے تھی
یہ سوالات بے معنی نہیں بلکہ کیس سے جڑے ہے۔۔۔۔
نیہا جلدی سے بولی
اوبجیکشن اوور رول۔۔۔۔۔۔۔۔
جج نے اعتراض ردّ کیا تو وکیل جھنجھلا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
نیہا شکریہ ادا کرتے اپنی بات پر آئیں
بتائے کہاں ہوئی فلک سے ملاقات۔۔۔۔۔۔
اُس نے پھر سوال کیا۔۔۔۔۔۔سکندر خاموش رہا اُس کی نظر میں کو منظر گھوم گیا جب اُس نے پہلی دفعہ فلک کو۔دیکھا تھا۔۔۔۔
اُس کی خوفزدہ لرزتی پلکیں جنہوں نے اُس کے دل۔کی دنیا ہلا دی تھی
گاؤں میں ہی۔۔۔۔۔۔۔
وہ زچ ہو کر بولا
گاؤں میں کہاں۔۔۔۔۔۔چوراہے پر۔۔۔۔
نیہا نے طنزیہ پوچھا
ایک شادی میں۔۔۔۔۔۔
وہ سوچ کے بولا
کِس کی شادی۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے اسے مزید زچ کیا وہ نظریں جھکائے سوچنے لگا کہ کیا جواب دے
جواب دیجئے مسٹر سکندر۔۔۔۔۔۔ایسے رک رک کر جھجھک جھکجھک کر وہ لوگ بات کرتے ہیں جن کی بات میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔۔۔جو جھوٹی کہانی بُنتے ہے۔۔۔۔ہے نہ وکیل صاحب
اُس نے وکیل کی وہی بات دہرائی جو اُس نے فلک سے کی تھی اور اُس کی طرف طنزیہ مسکراہٹ اچھال کر اُسے جلانے لگی
یاد نہیں۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے بیزاری سے کہا
حیرت کی بات ہے جہاں آپکو آپکو محبت ملی وہ شادی کس کی تھی وہ آپکو یاد ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے نکمّے عاشق نکلے آپ
نیہا کے لب و لہجے پر شائنہ مسکرائی۔۔۔۔سکندر نے اُسے خونخوار نظروں سے گھورا۔۔۔۔۔پہلے شائنہ سے پڑا تھپڑ پھر نیہا کی باتیں اُس کا دماغ غصے سے بھڑک رہا تھا اور تھی نیہا چاہتی تھی
سچ تو یہ ہے می لارڈ کے فلک سے ان کی ایسی کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں۔۔۔۔۔اور جن ثبوتوں کی بنا پر سکندر سے فلک کے تعلقات جوڑے جا رہے ہیں اُن میں کوئی سچائی نہیں ہے۔۔۔۔۔
نیہا نے اُس کے پھر خاموش رہنے پر کہا اور پھر وہاں موجود افسر کی مدد سے ایک فوٹیج چلائی جس پر وہی تصویر تھی لیکِن اب اصل۔۔۔۔
یہ وہی فوٹیج ہے می لارڈ جسے پچھلی بار ایک نیا رنگ دے کر پیش کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اُس دِن جب مال۔میں۔آگ لگی فلک اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ شادی کی شاپنگ کے لیے آئی تھی۔۔۔۔۔
یہ باہر کی فوٹیج اس بات کا ثبوت ہے۔۔۔۔
اُس نے ریموٹ چلا کر باہر کی تصویر دکھائی جہاں بھیڑ میں فلک ار۔اور شمع ساتھ اندر آرہے تھی
اب فلک اپنے بھائی کے ساتھ تو اپنے عاشق سے ملنے نہیں آئی ہوگی۔۔۔ہے نہ وکیل صاحب۔۔۔۔
اُس نے وکیل کو۔دیکھتے طنز کیا۔۔۔اُس کے چہرے کی ہوائیاں اُڑی ہُوئی تھی
فلک سلون میں تھی اور اس وقت ارحم اور اُن کی بہن نیچے آگئے تھے۔۔۔۔آگ اچانک ہی لگی تھی اور اتفاق سے سکندر بھی وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔۔اُنہوں نے جب فلک کو وہاں دیکھا تو اُسے بچانے کے لیے آگے بڑھے یہ اُس وقت کی تصویر ہے۔۔۔۔۔
اُس نے سلون کے باہر لگے کیمرے کی فوٹیج دکھائی جب آگ سے لڑتے ہوئے سکندر اندر جا رہا تھا
اپنی جان بچانے کے لیے سکندر سے مدد لیتے ہوئے اُس نے یہ نہیں سوچا ہوگا کے اس بات کو غلط رنگ دیا جائے گا
اب فلک ایسے آگ میں تو مسٹر سکندر کے ساتھ ڈیٹ پر نہیں جا سکتی ۔۔۔
آخر میں اُس نے طنز کرتے ہوئے سکندر کو دیکھا جو غصے سے جبڑے بھینچے کھڑا تھا۔۔۔
اور نیہا کی یہی کوشش تھی کے وہ اُسے اتنا بھڑکا دے کے وہ پھٹ پڑے۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک کے بعد ایک ہر بات کا سچ کھول کے رکھ دیا۔۔۔۔۔
مینیجر کی گواہی کو جھوٹا ثابت کیا۔۔۔۔فلک اور سکندر کے تعلقات کی جھوٹی بیانی کا پردہ فاش کیا۔۔۔۔۔
اور سکندر کی ساری حقیقت اجاگر کرتی گئی
بہادر شاہ کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔۔۔۔۔
وکیل نا کچھ بول پایا نا نیہا نے اُسے بولنے کا موقع دیا۔۔۔۔۔
سکندر بہت مشکل سے ضبط کیے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔
دل۔میں نیہا کے لیے غصّہ بھڑک رہا تھا۔۔۔۔اپنی تذلیل برداشت کے باہر تھی۔۔۔
ارحم پرسکون ہو کر بیٹھا تھا۔۔۔۔دل نیہا اور شائنہ کا شکر گزار تھا۔۔۔جو محسن بن کے اُن کی زندگی میں آئے تھے۔۔۔۔۔۔
فلک آنسُو بہاتی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ ہوئے سلوک کا بدلہ تو نہیں لیکن ہاں کچھ بھرپائ ضرور ہو گئی تھی
حیرت تو مجھے اس بات پر ہے کے آپ کو دیکھ کے نہیں لگتا کے آپ اتنے کائیر ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔
نیہا نے چلّا کر کہا اب وہ اپنا آخری داؤ آزما رہی تھی۔۔۔سکندر کے ہاتھ بریکٹ پر مضبوط ہوتے جا رہے تھے
ارحم نے پورے گاؤں کے سامنے آپکو مارا پیٹا بے عزت کیا۔۔۔آپ کی مردانگی پر اُنگلی اٹھائی اور آپ نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔۔اتنے بزدل ہے آپ۔۔۔۔۔
وہ اپنے لہجے سے اُس کی ہنسی اڑا رہی تھی
میں نے جو جواب دیا ہے اسے وہ مرتے دم تک نہیں بھول سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر دانت بھینچے دھیمی آواز میں بولا
۔جھوٹ۔۔۔۔۔۔آپ کا یہ نام یہ دھونس صرف ایک ناٹک ہے۔۔۔۔۔آپ صرف نام کے مرد ہے۔۔۔ارحم نے پورے گاؤں کے سامنے آپ کو اتنا پیٹا۔۔۔۔۔آپ کو اتنا ذلیل کیا آپ کو مار مار کے شکل بگاڑ دی لیکِن آپ اُس کا کچھ نہیں بگاڑ پائے
نیہا اُس کی بات کاٹتی زوروں سے بولی سکندر نے زور دار ہاتھ مار کر بریکٹ کا ایک حصہ گرا دیا
جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چلّایا۔۔۔۔۔
اگر اُس نے میری شکل بگاڑی تو میں نے بھی اُسے شکل دکھانے لائق نہیں چھوڑا۔۔۔۔
میں نے بھی اُس کی بہن کو سرے عام بے عزت کرکے دکھا دیا کے مردانگی کسے کہتے ہیں۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے چلایا۔۔۔۔۔۔۔عدالت میں سناٹا چھا گیا۔۔۔۔۔۔
ارحم نے نفرت سے اُسے دیکھا اور شائنہ نے مسکرا کر نیہا کو سراہا۔۔۔۔
فلک نے منہ اور ہاتھ رکھے اپنی سسکی روکی
۔۔چند سیکنڈ میں سکندر کو اپنی غلطی اور نیہا کی ہوشیاری کا اندازہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔بہادر شاہ کے رنگ تو پہلے ہی اُڑے ہوئے تھے۔۔۔وکیل بھی بس سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
سکندر کی سانس پھول گئی تھی۔۔۔۔چہرہ پسینے میں تر تھا
نیہا نے اسے نفرت سے دیکھا
آپ جیسی چھوٹی سوچ کا انسان ہی یہ کہہ سکتا ہے۔۔۔ایک معصوم کمزور لڑکی کا فائدہ اٹھا کر۔۔۔اُس پر ظلم کرکے آپ خود کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔۔یہ ہے آپ کی مردانگی جو ایک لڑکی پر دکھائی آپ نے۔۔۔۔۔
میں نے تو صرف آپ کے منہ سے سچ اگلوانے کے لیے آپکو بزدل اور کائر کا طعنہ دیا تھا
لیکِن حقیقت میں تو آپ اُس سے بھی کئی زیادہ گرے ہوئے نکلے مسٹر سکندر۔۔۔۔۔۔تف ہے ایسی طاقت اور ایسی مردانگی پر۔۔۔۔۔
وہ نخوت سے کہتی اُس سے منہ موڑ گئی سکندر نے غصے سے لات زمین پر ماری اور وہاں سے نکلتا کورٹ روم سے باہر چلا گیا
یور آنر۔۔۔۔۔۔۔جھوٹ بھلے ہی کتنے ثبوت بنائے۔۔۔کتنے گواہ خریدے لیکن سچ اُس سے اپنا مقام نہیں کھوتا۔۔۔سچ ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
چند پل کے لیے لوگ اُس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرکے اُسے چھپانے میں لگ جاتے ہیں لیکن سچ سامنے آکر رہتا ہے
سکندر پر صرف فلک کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔حالانکہ اُس کے جرم اس ایک کے علاوہ اور بھی بہت ہے می لارڈ۔۔۔۔۔
فلک کی روح پر لگی چوٹ۔۔۔۔۔
ماں باپ کی ذلت۔۔۔۔۔۔
سماج میں ہوئی بے عزتی۔۔۔۔۔۔۔
عدالت میں ہوئی کردار کشی۔۔۔۔۔
اور زندگی بھر کے لیے بے عزتی کا داغ۔۔۔۔
ان سب باتوں کی بھرپای کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔۔
سکندر کو چاہئے کوئی بھی سزا ملے لیکن و فلک سے زیادہ نہیں ہوگی۔۔۔جو یہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی جھیل رہی ہے اور عمر بھر جھیلتی رہے گی
نیہا سنجیدہ اور افسوس بھی لہجے میں بولی ارحم نے فلک کو خود سے لگا لیا وہ۔۔گھٹ گھٹ کر رونے لگی
سکندر صاحب خود اپنا جرم قبول کر چکے ہیں اس لیے میری عدالت سے گزارش ہے کہ انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔۔۔۔۔
that’s all
نیہا نے اپنی بات ختم کی اور سب جج کے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کیس کا فیصلہ اگلے ہفتے سنایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔
جج نے چند پل کی خاموشی کی بعد کہا اور اپنی جگہ سے اٹھا تو سب ہی کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔
نیہا نے اُن کو اُمید دلائی تھی کے فیصلہ آج ہی ہو جاۓ گا لیکن اگلے ہفتے کے فیصلے پر وہ اُداس ہو گئی۔۔۔۔حالانکہ ارحم پر سکون تھا کے کم سے کم سکندر مجرم ثابت ہو چکا ہے اب بس ایک ہفتے کا اِنتظار تھا۔۔۔۔۔۔
جانے اس ایک ہفتے کے اِنتظار کے بعد منزل ملنی یا کوئی نئی آزمائش منتظر تھی
۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
فلک کو گھر چھوڑنے کے بعد اُس نے شکرانہ ادا کیا
اماں اور رحمت کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کوئی خاص تاثر نہیں دیا۔۔۔لیکِن اندر سے اماں پر سکون ہو گئی کے کم سے کم اب تو بیٹے کی جنگ ختم ہوئی اب تو وہ سکون سے رہے گا
شمع تو بہت خوش ہوئی اور اللہ سے دعا کی کے سکندر کو کڑی سے کڑی سزا ملے
ارحم کھانے کے بعد گھر سے نکل گیا اُس کا ارادہ شائنہ سے مل کر اُس کا شُکریہ ادا کرنے کا تھا۔۔۔۔اگر وہ نہیں ہوئی تو شاید یہ جنگ اتنی آسان نہیں ہوتی۔۔۔
اُس نے فون کرکے شائنہ کو اُسی جگہ بلایا تھا جہاں وہ لوگ پہلی دفعہ ملے تھی
کیسا فیل کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا حلانکہ پوچھنے کی ضرورت بلکل محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
آج اس کے چہرے پر وہ پہلے جیسی تڑپ اور بے سکونی نہیں تھی
یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔اگر تم میری زندگی میں نہیں آتی تو شاید اس دن کے لیے میں اور بہُت تڑپتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر مشکور لہجے میں بولا
یہ سب تمہاری ہمت اور کوششوں کا نتیجہ ہے تم دنیا کے سب سے اچھے بھائی ہو ارحم۔۔۔۔
وہ شرارت سے اُس کے گال کھینچتے ہوئے بولی لیکن وہ تب بھی نہیں مسکرایا تو منہ بنا گئی
کیا یار ہر بات میں اموشنل ہو جاتے ہو۔۔۔۔۔۔ہم جیت کے اتنے قریب ہے اب تو خوش ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
وہ خفا سے لہجے میں بولی
خوش تو میں اُس دِن ہو پاؤں گا جب وہ گناہ گار سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔۔۔جب اُس کا گھمنڈ ٹوٹ کر میری بہن کے قدموں کے نیچے پڑا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ اُس کے بعد ہی شاید دل کو سکون ملے۔۔۔
وہ بیچ پر بازو پھیلائے اُس کی جانب رخ کیے بولا شائنہ اُس کی سنجیدہ آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔اچانک ہی آس پاس ایک خوش گوار مہک محسوس ہوئی
ایک بات بتاؤ۔۔۔۔۔ارحم نام۔کے سارے لڑکے ایسے روتوں ہی ہوتے ہیں کیا۔۔۔۔۔
وہ برا سا منہ بنا کے بولی ارحم نے اُسے گھورا
میں سوچ رہی ہوں تمہارا نام بدل کر خوشحال سنگ رکھ دوں شائد تب ہی تم خوش ہوجاؤ کِسی بات پر۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولی تو وہ بھی مسکرا دیا
نام یا روپ بدل جانے سے کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔دل تو وہی رہتا ہے نہ۔۔۔اور اُس کا درد بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے لہجے میں تھکن تھی
تو کیوں اس درد کو اپنے اندر ہی پال رہے ہو میرے ساتھ بانٹ لو نا دونوں تھوڑا تھوڑا سہہ لیں گے۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر بینچ پر رکھے آہستہ آواز میں بولی
ارحم کو اُس کے احساسات کا اندازہ تھا لیکِن اس وقت تو اُس کی آنکھوں سے نظر آرہا تھا کے اُس کے دل میں ارحم کے لیے کتنی محبت ہے
تم سے برداشت نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی سر بینچ سے ٹیکتے ہوئے بولا
تمہاری خاطر سب قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے قریب ہوتے ہوئے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔۔۔آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمکنے لگی
ارحم کی آنکھوں میں حیا کا چہرہ لہرایا تو وہ اُس سے نظریں ہٹا کر آنکھیں بند کر گیا۔۔۔۔۔۔
لیکِن وہ عکس شائنہ کی نظروں سے چھپا نا رہ سکا وہ اُس ایک پل۔میں سمجھ گئی کے اُس نے غلط جگہ دل لگایا ہے
بہت مشکل سے اپنی آنکھوں کو برسنے سے روکا۔۔۔
کیا کسی کو کمیٹ کیا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے پوچھا ارحم نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا
میں نے تو نہیں کیا۔۔۔۔۔پر دل کر بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ زخمی سا مسکرا کر بولا
بہت لکی ہے وہ۔۔۔۔۔جِسے تم ملوگے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی بھیگا سا مسکرائی
میں۔۔۔۔امیر۔۔۔۔حسین ۔۔۔۔۔اس ملک کا شہزادہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولا
اگر کوئی میری نظر سے دیکھے تو پتہ چلے کے تم کیا ہو۔۔۔۔
ایک خوبصورت دل اور چہرے والا انسان جس کے دل میں جذبات کا ایک سمندر بھرا ہے۔۔۔۔۔جو اپنے ہر رشتے سے محبت کرنا جانتا ہے۔۔۔۔۔اپنے ہر رشتے کے۔لیے جان دینے کو تیار ہے۔۔۔۔اس سے بڑھ کر قیمتی اور کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے مسکراتے ہوئے کہا اُس کے لہجے میں اُس کے جذبات کی سچائی بول رہی تھی۔۔۔۔ارحم کے دل میں اگر حیا کی محبت نہیں ہوتی تو وہ شائنہ کے آگے ہار جاتا۔۔۔
وہ اپنی قسمت پر اُلجھ گیا کے آخر قسمت شائنہ کو اُس کی زندگی میں کیوں لائی تھی اگر اُسے حیا سے محبت کرنا تھا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
