Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

کتنا خوش فہم ہوتا ہے انسان کا دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچتا ہے ہمارے مرنے سے لوگ دکھی ھو کر روئے گے
لیکِن انسان کِسی دوسرے انسان کے لیے نہیں روتا۔۔۔۔۔
وہ اپنے لیے روتا ہے۔۔۔اپنی زندگی میں آئی کمی کے لیے روتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اپنے بیٹے کے لیے رو رہا تھا۔۔۔۔کوئی بھائی کے لیے۔۔۔
لیکِن رونے سے بھی وہ کمی پوری نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔
صرف فلک کی آنکھیں تھی جن میں ایک دفعہ بھی آنسُو نہیں آئے تھے۔۔۔۔۔ارحم کے بے جان وجود کو دیکھ کر بھی وہ نہیں روئی تھی
شاید دل جان گیا تھا کے رونے سے کچھ نہیں ملتا۔۔۔۔نا عزت ملی۔۔۔۔نا انصاف۔۔۔۔۔۔نا رحم۔۔۔۔۔
ملا تو ہر بار ایک نیا نقصان۔۔۔۔۔۔
وہ ویران دل لیے پتھر بن کر رہ گئی تھی
نیہا کے ذریعے شاءنہ کے گھر خبر گئی تھی اور اُس کے ماں باپ اپنی بیٹی کی اس اچانک موت سے صدمے میں تھے۔۔۔۔۔۔
شاید پہلے اُن کے پاس اُسے دینے کے لیے وقت نہیں تھا۔۔۔اور اب وقت وہ موقع بھی چھین چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم کی موت کا تیسرا دن تھا
گھر میں موت کا سناٹا چھایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جوان اکلوتے بیٹے کی موت سے ماں باپ ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیسرا دن تھا جب گھر كا چولہا جلا کر شمع نے کھانا بنایا اور اپنے ماں باپ سے کھانا کھانے کی منتیں کرنے لگی رحمت نے تو روتے دھوتے کھانا کھا لیا لیکن امّاں کے پاس جب و دوبارہ کوشش کرنے گئی تو اُنہوں نے برتن اٹھا کر پھینک دیا۔۔۔۔۔۔
پہلے اس منہوس کو میرے گھر سے نکال کر باہر پھینک ورنہ میرے بیٹے کے ساتھ مجھے بھی دفنا کے آجاؤ تم سب۔۔۔۔۔
اماں نے زور سے چلّا کر کہا شمع نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔اور دور دیوار سے لگ کر بیٹھی اپنی بہن کو جس کے چہرے پر ہلکی سے شکن بھی نہیں پڑی تھی۔۔۔۔
نہ حیرت نا دکھ۔۔۔نا اُداسی کچھ بھی نہیں
میرے بیٹے کو بھی کھا گئی آخر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں سر پکڑ کر رونے لگی شمع بھی تھکے تھکے انداز میں زمین پر ٹک گئی
اگر پہلے ہی اُس لڑکے سے شادی کرکے یہاں سے دفع ہوجاتی تو کم سے کم میرا بچا تو نہیں مرتا۔۔۔۔۔۔کِس کے سہارے جیوں اب۔۔۔۔۔
اماں کو رہ رہ کر ملال ہو رہا تھا کے اگر ارحم کی ضد کے آگے چپ نا رہتی تو آج وہ زندہ ہوتا
اماں سنبھالو خود کو ۔۔۔۔۔۔تقدیر کا لکھا کبھی نہیں بدلتا۔۔۔۔۔اللّٰہ صرف وہ کرتا ہے جو اُسے کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
شمع اُن کے ساتھ خود کو بھی سمجھا رہی تھی
کاش کے میں بھی اُس کے ساتھ مر جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں نے سیٹ پیٹتے ہوئے کہا شمع نے اُن کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اُنہیں گلے سے لگالیا
دروازے پر۔دستک ہوئی تو رحمت نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اٹھ کے دروازہ کھولا
سامنے بہادر شاہ کھڑا تھا جو اُس کے بنا کہے ہی اندر آگیا۔۔۔
اُسے دیکھ کر شمع حیرت سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔
اماں بھی نفرت سے اُسے دیکھنے لگی
بہادر شاہ نے اُن سب کی ناگوری کو نظر انداز کرکے رحمت کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
رحمت تیرے بیٹے کا مجھے بہت دکھ ہے۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ جو ہوا اُس میں کِسی کی غلطی نہیں تھی۔۔۔۔۔انجانے میں سکندر سے گولی چل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو کہتا ہوں پچھلی سب باتوں کو بھول جا۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بیٹی کی شادی میرے سکندر سے کروا دے۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔تجھے نا جہیز دینے کی ضرورت ہے نا کوئی خرچہ کرنے کی سب انتظام میں کر دیتا ہوں۔۔۔
تیرے گھر کے خرچ بھی آج سے میری ذمےداری ہے
کبھی کمانے کی بھی ضرورت نہیں پڑےگی تجھے۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ کو پہلے سکندر پر ایک الزام کا ڈر تھا اب تو اُس نے دو قتل کیے تھے۔۔۔۔۔وہ خود تو پھنستا ہی ساتھ بہت کچھ نقصان ہوجاتا۔۔۔۔اس لیے بہادر شاہ کو اس سے بہتر کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔
اُس نے سفاکی کی انتہا کردی لیکن سب خاموش رہے کیوں کے جو جواب دینے والا تھا وہ تو سکون سے جا سویا تھا
شمع نے نخوت سے سر جھٹکا
کیا کہتا ہی کب لے کر آؤں برات اپنے بیٹے کی۔
بہادر شاہ نے سب کی خاموشی اور ایک دفعہ پھر پوچھا۔۔۔
فلک کے دماغ میں کنپن ہونے لگا لیکن چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا
رحمت کے دل کی حالت وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔۔اپنے بیٹے کے قاتل سے رشتا جوڑنے کی بات ہی کلیجے کو چھلنی کرنے کے لئے کافی تھی
دیکھ سکندر جب اپنی کرنے پر آتا ہے تو میری بھی نہیں سنتا۔۔۔۔۔۔اُس نے تیری بیٹی سے شادی کا سوچ لیا ہے تو اب اُسے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔تیرے ہاتھ میں ہے کے تو اب خوشی خوشی شادی کروا کے سکون سے رہنا چاہتا ہے یا تجھ میں اور دکھ جھیلنے کا حوصلا ہے۔۔۔۔۔
بہادر شاہ اخر میں اُسے صاف لفظوں میں بیوی کرواتا ہوا بولا اور پلٹ کے وہاں سے نکلنے لگا
بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں نے اٹھ کر اپنے آنسو رگڑتے ہوئے اُسے پکارا
آپ کل ہی سکندر اور فلک کا نکاح کروا کے اُسے لے جائیے۔۔۔۔۔۔ہم کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اماں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا بہادر شاہ مسکرایا
اماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے صدمے سے اپنی ماں کو دیکھا
ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سکندر سے کہہ کر ساری تیاری کروا دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔بہُت صحیح فیصلہ لیا ہے آپ نے۔۔۔۔۔
بہادر شاہ کے جیسے دل کی مراد بر آئی ہو وہ خوش ہو کر وہاں سے چلا گیا
یہ کیا کہہ دیا تم نے بیٹے کے قاتل سے بیٹی کا نکاح کرواؤ گی۔۔۔
رحمت نے دکھ سے کہا
وہ میری بیٹی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔وہ ہماری کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اُسے دیکھ کر میرے بیٹے کی خون سے سنی لاش نظر آتی ہے ۔۔۔میرا کلیجہ جلتا ہے
میں اس منہوس کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔۔
اماں نے چینخ چینخ کر کہتے ہوئے باپ بیٹی کو ساکت چھوڑ دیا
∆∆∆∆∆∆∆∆
فلک کے ماں باپ کو اُس کے ہونے نا ہونے سے ہی کوئی سروکار نہیں تھا تو اُس کے نکاح سے کیا ہوتا۔۔۔۔
لیکِن سکندر کیلئے یہ نکاح اُس کی جیت تھی۔۔۔جو اُس کے لیے بہُت معنی رکھتی تھی
سکندر نے اپنی جیت کا جشن منانے کی غرض سے حویلی کو دلہن کی طرح سجایا تھا
شادی کا سارا انتظام وہیں کیا ہوا تھا اور وہ خود فلک کو لینے اُس کے گھر پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے ساتھ آئی لڑکیوں نے سکندر کے لائے کپڑے اور زیور پہنا کر فلک کو تیار کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ بس ایسے رہی جیسے اُس میں جان ہی نہ ہو۔۔۔وہ پتھر بن گئی ہو۔۔۔۔شمع اُسے دیکھ دیکھ کر رویے جا رہی تھی اماں اپنے آنسُو چھپائے ۔۔۔۔منہ موڑے بیٹھی تھی۔۔۔اور رحمت تو جانے کہاں غائب تھا۔۔۔۔شاید اُنہوں نے ارحم کے ساتھ اُس کی بھی موت قبول کر لی تھی۔۔۔۔
لڑکیاں اُسے تیار کرکے باہر لائی تو سکندر دل روکے اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔
سونی آنکھوں والی کوئی لال پری جیسے راستہ بھٹک کر پریشان کھڑی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع اُسے گلے لگائے پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی۔۔۔۔۔۔۔لیکِن فلک کی آنکھوں سے تب بھی آنسُو نہیں آئے۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اُس کا ہاتھ پکڑے اُسے اُس گھر اور اُس دنیا سے بہُت دور لے گیا
کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔سکندر کی بیوی بننے کے خیال نے ہے تمہیں اتنا بہادر بنا دیا۔۔۔۔۔نا کوئی خوف۔۔۔نا ڈر۔۔۔۔نا آنسو۔۔۔۔۔لیکِن اچھا ہی ہے ہمیشہ کی چھوڑ دو جانے دو کی رٹ سے یہ خاموشی زیادہ حیسن ہے
گاڑی کی خاموشی میں سکندر کی آواز گونجی ۔۔۔۔۔وہ اپنا پتھر وجود لیے اُس کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی واقعی آج کوئی خوف نہیں تھا۔۔۔نا چہرے پر نہ دل میں
حسین سے یاد آیا۔۔۔۔۔۔تمہاری بہن بھی کم نہیں یار۔۔۔۔۔۔۔اُسے تو پہلے غور سے دیکھا ہی نہیں تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خباثت سے مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔پہلی دفعہ فلک پر اثر ہوا لیکن ظاہر نہیں
کوئی بات نہیں اب تو گھر کا معاملہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے شادی ہو جائے ایک موقع خدمت کا تو اُسے بھی دیں گے۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اُس کی طرف دیکھ کر ونک دیتے ہوئے مسکرایا فلک نے چہرہ اُس کی طرف کیے بے تاثر نظروں سے اُسے دیکھا
اگر کوئی پوچھتا کے شیطان کیسا ہوتا ہے تو وہ سکندر کا نام لیتی
ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔۔پہلی خاطر تو تم ہی شروع کروگی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے دیکھنے پر معنی خیزی سے کہتا اُس کی طرف جھکا اچانک گاڑی جھٹکا کھا کر رک گئی
کیا ہوا گاڑی کیوں روکی۔۔۔۔۔۔
سکندر نے ناگواری سے ڈرائیور کو پوچھا
سر پتہ نہیں اچانک کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
ڈرائیور ہڑبڑا کر گاڑی سے نکلا۔۔۔۔سامنے جا کر بونٹ کھولے چیک کرنے لگا۔۔۔
فلک کے دماغ میں سکندر کی غلیظ باتیں چلنے لگی۔۔۔۔
جو اُس پر گزری وہ شمع پر گزرے یہ سوچ کر ہی اُس کی روح کانپتے لگی۔۔۔۔اُس کا درد تازہ ہونے کہا۔۔۔۔اُس کی معصوم بہن اُس درد سے گزرے یہ خیال اُس کی جان لینے لگا
اُس کی نظر کھڑکی سے باہر گئی تو دیکھا کو وہی جگہ تھی جہاں ارحم نے اپنی جان دی تھی۔۔۔۔۔۔اُس کا جیسم لرزنے لگا۔۔۔۔
وہ لوگ اُسی پل پر کھڑے تھی۔۔۔۔۔ندی کا وہی شور کانوں میں گونج رہا تھا۔۔۔فلک آنکھیں ندی کے تیز پانی پر ٹکائے اُسے دیکھتی گئی
کچھ دیر گزری تو سکندر بھی بیزار ہو کر گاڑی سے نکلا ۔۔۔۔اور ڈرائیو کو ہٹا کر خود نیچے جھانکنے لگا۔۔۔فلک کھلے دروازے کو دیکھ کر آہستہ سے اترتی گاڑی سے باہر نکل گئی اور ندی کے پانی پر نظریں جمائے آگے بڑھتی گئی۔۔۔۔
ڈرائیور کی نظر اُس پر پڑی تو اُس نے جلدی سے سکندر کو پکارا۔۔۔۔۔سکندر نے چونک کے فلک کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
جو بہت آہستہ سے قدم بڑھاتی آگے بڑھ کر پل کی ٹوٹی ہوئی دیوار کے قریب رکی تھی اور گہرے تیز پانی کو دیکھیے جا رہی تھی ۔۔۔
وہ ہاتھ جھکتا ہوا جلدی سے اُس کی طرف بڑھا
فلک واپس آؤ۔۔۔۔۔
دور سے ہی اُسے پکارا تو فلک نے تیزی سے پلٹ کر اُسے دیکھا
وہیں رک جاؤ سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے ہاتھ دکھا کر بولی سکندر کے قدم تھم گئے۔۔۔۔وہ اس سے بیس قدم کے فاصلے پر تھی۔۔۔۔ندی سے اٹھتی تیز ہوا نے اُس کے سر سے دوپٹہ گرا دیا تھا۔۔۔۔اور جلے ہوئے بال جو اب تک جوڑے کی قید میں تھے۔۔۔دھیرے دھیرے کھل کر کندھے پر گر رہے تھے۔۔۔
تمہاری نا جائز خواہشیں مجھے آج اُس جگہ لے آئی ہے جہاں میں نہیں آنا چاہتی تھی سکندر۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے میرے صبر کی ساری حدیں توڑ دی۔۔۔
فلک نے اُسے دیکھ کر نفرت سے کہا۔۔۔۔سکندر کو اُس کے پڑی اسرار چہرے اور پر سوز نگاہوں نے ساکت کر دیا۔۔۔
ندی کے پانی کے شور نے اُس کی آواز میں عجیب سا سرور بھر دیا تھا
تم نے میرے وجود کو نا پاک کرکے اسے میرے لیے ایسی بد دعا بنا دیا ہے کے آج میں حرام موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کے چہرے پر بے بسی آئی۔۔۔۔۔۔۔اُس کا دوپٹہ مقابل سے آتی ہوا کے زور سے ندی کی طرف اُڑ رہا تھا۔۔۔
اور سکندر کی شکن آلود پیشانی کو اُس کے بالوں نے ڈھکنے کی بھرپور کوشش کی تھی
یہ جسم ہی میرے ہر درد کی وجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے اپنوں کے اجڑنے کا باعث ہے
میری بربادی کا ذمےدار ہے۔
لیکن اب اس جسم کا سہارا لے کر تمہیں اور کوئی منما نی نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔۔۔
میں اس جِسم کو ہی ختم کر لوں گی۔۔۔۔۔
اپنے آپ کو ختم کرکے آج میں تمہاری جیت کو ہار میں بدل دوں گی
سکندر کو اپنی باتوں اور انداز سے وہ کوئی اور لڑکی لگی جس کے لبوں پر بے حد زہریلی مسکراہٹ تھی۔۔جس کے ہر لفظ میں چبھن تھی
لیکن ایک بات یاد رکھنا سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔میری روح قیامت تک تمہارے لیے خدا سے عذاب مانگتی رہےگی۔۔۔۔۔۔تمہیں بدعا دیتی رہے گی۔۔۔۔۔
وہ اُسے نفرت سے دیکھتی ہوئی بولی اور ایکدم سے پلٹ کر ندی میں چھلانگ لگا دی سکندر کو جیسے کرنٹ لگا ہو۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پورٹ قوت سے چلایا۔۔۔ندی کے شور کے باوجود اُس کی آواز دور دور رک گونج اٹھی وہ دوڑ کر اُس دیوار تک پہنچا
فلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز بہتے پانی میں تیرتے سرخ آنچل کو دیکھ کر اتنی زور سے چلایا کے اُس کی آنکھوں میں پانی آگیا۔۔۔۔۔
اُس نے نیچے چھلانگ لگانے کی کوشش کی لیکن کیسی نے اُسے روک لیے۔۔۔۔
بہادر شاہ بلکل وقت پر وہاں پہنچا اور اُس کے گارڈز نے سکندر کو کودنے سے روک کر مضبوطی سے پکڑے رکھا۔۔۔لیکن وہ پھر بھی غصے سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتا ندی کے تیز پانی کو دیکھنے لگا
سکندر۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو تم پاگل ہو گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ اس اور زرو سے چینخ پڑا سکندر ہوش میں آتا ایک دم سے رک گیا اور بے یقینی سے اپنا سر تھام لیا
وہ نہیں مر سکتی۔۔۔۔۔۔۔وہ اتنی آسانی سے نہیں مر سکتی۔۔۔۔۔۔
سکندر کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر کبھی نہیں ہارتا
وہ غصے سے چلاتا رہ گیا اور فلک اُس کی ہر چینخ پکار سے بے خبر۔۔۔۔۔
اُس کے خوف سے آزاد ہو کر پانی کی تیز لہروں کے ساتھ بہت دُور چلی گئی
∆∆∆∆∆∆∆∆
آج تو مزا آگیا سر۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے شراب پھر شباب۔۔۔۔۔۔۔۔ مان گئے سنہا صاحب کی میزبانی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نشے میں دھت ڈرائیونگ کرتا ہوا راکیش ساتھ بیٹھے پچپن سالہ آدمی سے بولا۔۔۔۔۔اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی اور آنکھوں میں خباثت ساتھ بیٹھا چوہان مسکرایا ۔۔
ہمارے ساتھ رہوگے تو یونہی عیش کروگے ۔۔۔۔۔۔۔
چوہان کے انداز سے بھی صاف ظاہر تھا کہ وہ بھی نشے کے زیرِ اثر بمشکل آنکھیں کھولے ہوئے ہے
دونوں شام کی طرح ساری رات کو رنگین بنانا چاہتے تھے لیکن کسی کام کی وجہ سے دونوں کو جلدی نکلنا پڑا
رات کے نو بجے کا وقت تھا لیکِن وہ جس علاقے سے گزر رہے تھے وہ سنسان تھا مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور گاڑی کی روشنی اس اندھیرے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی جب ایکدم سے راکیش نے بریک لگایا
کیا ہوا ۔۔۔۔گاڑی کیوں روک دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہان نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا
وہ سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راکیش نے سامنے اشارہ کیا جہاں بیچ سڑک پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا گاڑی کی جانب اس کی پشت تھی
ایک پیر پھیلائے دُوسرے کو فولڈ کیے سڑک پر جیسے گھر کا صحن سمجھ کر بیٹھا تھا
گھٹنے پر رکھے ہاتھ کی دو اُنگلیوں میں سگریٹ تھی پیچھے سے بال لمبے گردن کو آدھے سے زیادہ چھپائے ہوئے تھے
اے لڑکے بیچ سڑک پر کیوں بیٹھے ہو ۔۔۔۔ ہٹو سامنے سے۔۔۔
چوہان کھڑکی سے باہر سر نکال کر آنکھیں میچ کر کھولتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز میں بولا لیکِن وہ جوں کا توں وہی بیٹھا تھا سگریٹ کا آخری کش لیے اُسے ز مین پر رگڑ رہا تھا
میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
راکیش اسے کہتا دروازہ کھول کر باہر آیا
اے۔۔۔سنائی نہیں دیتا تجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ہٹ سامنے سے
وہ سنبھل کر آگے بڑھتا ساتھ ہی اپنی بندوق نکال لی۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن مقابل پر کوئی اثر دکھائی نہیں دیا تو غصے سے آگے بڑھ کر پیچھے سے اُسکا کالر جکڑا
سالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پہلے کے وہ اپنی گالی مکمل کرتا نیچے بیٹھے شخص نے پلٹ کر ہاتھ اٹھائے ایکدم سے اس کی پیشانی پر گولی چلا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو سیکنڈ۔۔۔۔۔۔۔
دو سیکنڈ اس کی آنکھیں پھٹی اور وہ دھڑام سے زمین پر گرا چوہان کا نشا اس منظر کو دیکھ کر بھک سے اُڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی سے اُتر کر باہر آیا اور پھٹی نظروں سے راکیش کے بےجان وجود کو دیکھنے لگا۔ اور پھر اس کی جانب دیکھا جو اب زمین سے اٹھ کر اپنے ہاتھ کی مٹی شرٹ سے صاف کر رہا تھا۔۔۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہان نے اُسے پہچاننے کی کوشش کی وہ کوئی چوبیس پچیس سال کا نوجوان تھا اور حلیے سے کوئی لوفر لگ رہا تھا۔۔۔ اس کی آنکھیں حد سے زیادہ سنجیدہ ،بے حد گہری اور تیز تھیں۔۔ ۔لیکِن وہ کیوں اُنہیں مارنا چاہتا تھا سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔۔وہ دونوں تو اُسے جانتے بھی نہیں تھے۔۔۔۔۔
چوہان کی بات کا جواب دینے کی بجائے اس نے بندوق اس کے سر پر تان دی۔۔۔۔۔۔۔۔چوہان نے دونوں ہاتھ اوپر کر لیے وہ خوفزدہ تھا اس کے چہرے سے نظر آرہا تھا
وہ لڑکا پُرسوچ انداز میں اُسے دیکھ رہا تھا پھر اچانک اس نے گن نیچے کر لی۔۔۔۔۔ چوہان کی جان میں جان آئی
لیکِن زیادہ دیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گن پیچھے لگا کر پوری ہتھیلی کھولے اس نے زوردار ہاتھ اس کے سر پر مارا
چوہان کے کان سمیت سارا جِسم سن ہو گیا
یقین کرنا مشکل تھا کے یہ صرف کسی ہاتھ کا وار تھا
جب کے شدت کسی بھاری ہتھوڑے جیسی تھی
ہاتھ کے مقے بنا کر وہ ایک کے بعد ایک اس کے جبڑے اور سر پر وار کر رہا تھا۔۔۔۔ چوہان چاہ کر بھی اپنے ہاتھ اٹھا کر خود کو بچا نہیں پایا وہ اس کے دماغ کو بری طرح سن کر چکا تھا ۔
اُسے کالر سے پکڑ کر کھڑے رکھا تھا ورنہ چوہان گر جاتا
اور جب اس کے چہرے پر وار کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی تو اُسے آرام سے چھوڑ کر نیچے گرنے دیا۔۔۔۔
وہ کراہتا رہا تڑپتا رہا ۔۔
اس نے گن نکال کر اس کے سینے پر نشانہ لیا اور ایک کے بعد ایک ساری گولیاں خالی کر دی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالی گھر میں نظریں دوڑاتے ہوئے گھبرائی سی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت گھر میں اکیلی تھیں۔۔۔ شوہر روز کی طرح آفس میں تھے دونوں بیٹیاں کہیں باہر گئی ہوئی تھی اور کچھ دیر پہلے ہی ایک گھنٹہ بعد گھر آنے کی اطلاع دی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں کھڑی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں کے اچانک گھر میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈرائنگ روم میں آکر دیکھنے لگی کوئی نہیں تھا اور مین دروازہ بھی اندر سے بند تھا
یہ لندن کے ایک پوش ایریا میں بنا چار کمروں حال کچن پر مشتمل چھوٹا سا مگر بے حد خوبصورت مکان تھا تھا۔۔۔
جہاں وہ لوگ پچھلے چھ سال سے رہ رہے تھے
وہ زیادہ تر گھر میں اکیلی ہی ہوتی تھی لیکن آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر واپس اندر جانے لگی
زینببب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پلٹتے ہی سرگوشی نما آواز گھر میں گونجی۔۔۔کوئی باقاعدہ نام لے کر پکار رہا تھا خوف کے مارے سانس رک گئی۔۔۔۔۔گھبرا کا پلٹتے ہوئے نظر پورے ہال میں دوڑائی لیکن کوئی نہیں تھا
کّک۔۔۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔۔۔۔کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
خشک گلے کو تر کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوبارہ سے پکار گونجی ایسا لگا آواز گھر کے چاروں کونوں سے گونج رہی ہے خوف سے دل لرزنے لگا
اللہُ لا الہٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر تیزی سے آیت الکرسی پڑھنے لگی
ساتھ ہی سوچنے لگی کے لندن میں بھی بھوت ہوتے ہیں کیا
زینب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ۔۔پاس۔۔ آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
پراسرار سے آواز جو مرد کی ہے یا عورت کی سمجھنا مشکل تھا اس کی جان حلق میں آگئی آنکھیں سختی سے بند کرلی۔۔۔۔اور دونوں ہاتھ کان پر رکھ لیے ۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آیا کہاں چھپے ،کیسے بچے ،کسے پکارے۔۔۔
کچھ لمحے بعد جب خاموشی محسوس ہوئی تو ہاتھ آہستہ سے نیچے کیے
ہاؤووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیچھے سے کسی نے اس کے قریب آکر زور سے ڈرایا
اور اس کے ساتھ ہی گونجی زینب کی زوردار چینخ اور نین تارا کی نا رکنے والی ہنسی
نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے اس کی طرف لپکی جو پہلی ہی بھاگنے کے لیے تیار تھی ہنسی تھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی
نین کی بچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے اس کے پیچھے پڑی اور نین نے صوفے پر چڑھ کر پیچھے چھلانگ لگائی اور صوفے کو اپنی ڈھال بنانے لگی۔۔۔۔زینب کا پارہ مزید چڑھ گیا وہ جھاڑو اٹھا کر اس کی طرف بڑھی نین صوفے کے گرد بھاگنے لگی
آج تو تجھے نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے اُسے جھاڑو دکھا کر غصے سے کہا ۔۔۔۔اس کی شرارت نے زینب کو دن میں تارے دکھا دیے تھے
نہیں ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوری ممی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہار ماننے والے انداز میں بے ترتیب سانس لیتی چلانے لگی ۔۔۔۔۔۔البتہ ہنسی اب بھی رکنے کو راضی نہیں تھی
زینب نے جھاڑو پھینک کر وائپر اٹھایا اور اس کا پائپ دیکھ کر نین کے نین پھیل گئے
کیا کر رہی ہو ممی۔۔۔ لگ جائے گی مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بچنے کی کوشش کرتی ادھر سے اُدھر ہونے لگی
آج تو تمہارے سر سے یہ پاگل پن نکال کر ہی رہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب پھولتی سانسوں سے چلّائی اور پائپ اس کی جانب اچھالا جو صوفے پر بجا
رک جاؤ ممی۔۔۔۔۔۔میری ڈارلنگ ممّی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری زینب۔۔۔۔۔۔۔۔میری زینو۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے مسکے لگانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔ایک کے بعد ایک تین چار فلائنگ کس اچھال دیے
ڈرامے باز کہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے اس کی ایکٹنگ پر دانت پیسے
۔رکو ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک وہ سنجیدہ ہو کر اُسے وارن کرنے کے انداز میں بولی زینب نے اسے گھور کے دیکھا
مت بھولو میں آپ کے گھر کسی کی امانت ہوں۔۔۔۔۔۔۔مجھے ایسے نہیں مار سکتی آپ۔۔۔۔۔۔۔ورنہ سوچو داؤد کو کیا جواب دوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خود کا ڈر چھپانے کی کوشش میں زینب کو ڈرانے لگی۔۔زینب کا ڈائیلاگ اسی پر اچھالا
تجھے تو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب اس کی ہوشیاری پر جھٹکے سے پائپ اٹھا کر اس کی طرف بھاگی لیکن اچانک ہی پیر میں درد محسوس ہوا تو آہ کرتی وائپر پھینک کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
نین بھی پریشان ہو کر اس کے پاس بیٹھی اس کے پیر کو سہلانے لگی
دیکھا ممّی میں نے کہا تھا نا اب آپ بڈھی ھو چکی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زیادہ جوش مت دکھایا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدتمیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موقع دیکھتے ہی زینب نے اس کا کان کھینچا
آه ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا کان۔۔۔۔۔۔
وہ منہ بناتی ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی اور زینب نے ہاتھ پیچھے کیا تو کان کو زور سے سہلانے لگی
دنیا کے سارے ایڈونچر سر آنکھوں پر لیکن یہ آپکا کان مروڑنا اور چپل مارنا زہر لگتا ہے بس
وہ خفگی سے ناک کھینچتے ہوئے بولی
شرم نہیں آتی ماں کو ایسے تنگ کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے خفگی اور غصے سے جھڑکا
میں تو بس آپکی پھیکی سی لائف کو اسپائسی بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
کیوں کے کھانے میں مسالے اور لائف میں ایڈونچر نا ہو تو کوئی سواد نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
وہ صوفے پر سر ٹکائے گہری سانس لیتے ہوئے بولی
بہت زیادہ فلمیں دیکھ دیکھ کر نہ دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔اگر سسرال میں بھی ایسی حرکتیں کروگی نا تو ڈنڈے کھانے پڑے گے
زینب نے وارن کرنا چاہا وہ جھٹکے سے سیدھی ہو کر بیٹھی
سچی ممی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بڑی بیتاب ہوں اس دن کے انتظار میں اچھے سے اچھی ڈشز کھائی ہے بس کبھی ڈنڈے کھانے کا چانس نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بیتابی سے کہا زینب سر پیٹ کر رہ گئی دروازہ کھول کر روما اندر داخل ہوئی اور دونوں کی ہمیشہ والی بحث پر مسکراتی ہوئی اندر آکر اپنے جوتے اُتار کر شو ریگ میں رکھنے لگی
اب بھی کہہ رہی ہوں سیریس ہوجاؤ۔۔۔۔۔ہر بات کو مذاق میں لینا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔
شادی ہونے والی ہے تمہاری۔ اب تو بڑی ہو۔۔۔۔۔۔۔
عورت کی زندگی نا ہر موڑ پر امتحان سے گزرتی ہے۔۔۔اس وقت سمجھداری کام آتی ہے تمہارے یہ ایڈونچر نہیں
زینب نے سمجھاتے ہوئے شرم دلانے کی کوشش کی لیکن وہ نین ہی کیا جو سمجھ جائے
پلیز ممی آپ سارا دن ڈیلی سوپ دیکھ دیکھ کر اس کے اموشنل ڈائیلاگ میرے سامنے نا مارا کریں
اس نے بیزاری سے کہا
مجھے نہیں جینی یہ ڈراموں والی لائف جہاں ساس کے آواز دیتے ہی دھم تنا ننا اور شوہر کے دیکھتے ہی کانوں میں لالالا لا بجنے لگ جائے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جس انداز سے کہا زینب غصے میں بھی مسکرا پڑی اور روما بھی ہنستی ہوئی آکر صوفے کے بازو پر بیٹھ گئی
مجھے تو موویز جیسی لائف جینی ہے۔۔۔۔جس میں ایڈونچر ہو۔۔۔۔۔۔۔مستی ہو۔۔۔۔ڈراما ہو۔۔۔۔۔۔ایکشن ہو۔۔۔۔۔۔اور رومانس بھی
اس نے روما کی جانب دیکھتے ہوئے کہا اور آخری لفظ پر زینب کی جانب دیکھ کر آنکھ ماری
استغفراللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شرم لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے اس کے کندھے پر دھپ رسید کی
ماں بیٹیوں کا رشتا سہیلیوں جیسا تھا جس میں سب سے بڑا ہاتھ زینب کے مزاج اور نین کی شرارتی طبیعت کا تھا
نینو دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روما نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اُسے مخاطب کیا تو وہ اس کی جانب دیکھنے لگی
شادی کے بعد تو تمہاری عیش ہی عیش ہے۔۔۔کیوں کے داؤد بھائی کی لائف بھی کسی ایڈونچر سے کم نہیں۔۔۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں وہ تو ہے۔۔۔لیکن داؤد نا ایک نمبر کا بورنگ انسان ہے۔۔۔۔۔۔
نینا نے برا سا منہ بنایا
نینو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے خفگی سے ٹوکا و کُچھ بھی کہنے سے پہلے سوچنے کی تکلیف نہیں کرتی تھی
اور کیا ممّی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی روبوٹ کی طرح بس ہر ٹاسک کمپلیٹ کرتا رہتا ہے۔۔۔۔۔انجوئے مینٹ اور ایکسائٹمنٹ نام کی چیز نہیں اس آدمی میں۔۔۔۔۔۔
اس نے آنکھوں میں بیزاری سموئے کہا
پر نوٹ ٹو وری میں ہوں نہ۔۔۔۔۔۔
شادی کے بعد اُسے سب سکھا دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کندھے پر موجود لمبے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا
اے اللہ رحم کرنا میرے بھتیجے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے اوپر سر اٹھائے خدا سے داؤد کے لیے دعا کی جو اُن کی مصیبت کو اپنے گلے میں ڈالنے والا تھا وہ اٹھ کر کچن کی طرف چل پڑی اور نینا بس دیکھتی رہ گئی
ویسے نینو دی۔۔۔۔داؤد بھائی اگر آپکے ڈریم مین جیسے نہیں نکلے تو آپ کیا کرو گی۔۔۔۔
روما نے چہرے پر ہاتھ رکھے اشتیاق سے پوچھا
اُسے ویسا بنا دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمپل
کمالِ بے نیازی سے جواب دی روما ہنس پڑی
اُسے اپنی بہن سے یہی امید تھی۔۔