Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
عصر کی اذان سن کر اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔
اُس کا دل اُسے ہمیشہ کی طرح نماز کے لیے آواز دے رہا تھا لیکِن اب وہ اُس پکار پر اٹھ کے نماز ادا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
وہ خود کو خدا کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔۔۔۔۔اُسے اپنا وجود اُس پاک مقام کے قابل نہیں لگتا تھا۔۔۔۔۔۔
پندرہ سے زیادہ دن گزر چکے تھے آج عدالت میں پہلی سنوائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر کے جیل جانے سے پہلے ہی اُس کی ضمانت ہو چکی تھی وہ چاہتا تو اوپر کے۔لوگوں کو خرید کے اس کیس کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتا تھا لیکِن ارحم کے ساتھ یہ جنگ لڑنے میں اُسے مزا آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب اُس کھیل کا فل مزہ لے کر جیتنا چاہتا تھا۔۔
بہادر شاہ نے اپنے بیٹے کے لیے ملک کے مشہور ترین وکیل کو اپوائنٹ کیا تھا۔۔
رحمت صحت مند ہو کر گھر آگیا تھا لیکِن اُس کے لبوں پر ایک چپ لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔شمع اپنے اماں ابا کا پورا خیال رکھ رہی تھی۔۔۔۔فلک تو اپنے کمرے اور اپنے خاموشی کے خول میں قید ہو کر رہ گئی تھی
دل شدت سے دعا مانگ رہا تھا کے اُس کے بھائی کی کوششیں جیت جائے۔۔۔۔۔اُس کے گنہگار کو خدا سزا دلوا دے۔۔۔۔
اُس کے درد کا ازالہ ہونا نا ممکن تھا لیکن سکندر کو سزا ملنا اُس جیسی اور لڈکیوں کے لیے شاید کام اجائے۔۔۔
کوئی اور ایسا گناہ کرنے سے پہلے اُس کے انجام کو سوچ کر قدم روک لے۔۔۔۔۔۔
گاؤں والے اُن کے منہ پر اور پیٹھ پر باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔اُن پر افسوس جتا رہے تھے کے وہ کیس کے چکر میں اپنی بیٹی کو سرے عام رسوا کے رہے ہیں۔۔۔۔۔
کچھ اعتراض کر رہے تھے کے ایسی باتوں کو دبا دینا چاہیے ورنہ آنے والی نسل پر اثر پڑے گا۔۔۔۔۔یہ باتیں ہوتی رہی تو بچوں کے زہن پر اثر پڑیگا
بس بات نا کرنا۔۔۔۔۔
دبا دینا۔۔۔۔۔۔
چھپا لینا۔۔۔۔۔
لحاظ کر لینا۔
خاموش رہ لینا
یہ سب ہی کیوں سوچتے ہے سب۔۔۔
اور کیا چھپا دینے سے سچ میں اُن کے بچوں کے زہن پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔
پھیر یہ گنہگار کیس دنیا میں جنم لیتے ہے
کیوں کے اس دنیا میں تو سب چھپا ہی دیا جاتا ہے
ارحم کو لوگوں کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی
وہ اپنے ارادے میں پتھر کی طرح مضبوط بن کر کھڑا تھا۔۔۔۔
اماں نے بار بار اُسے سمجھانے کی اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانا
ایسا نہیں تھا کے وہ فلک کی دشمن تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اُنہیں۔ اسکے درد کا احساس نہیں تھا بس و ماں تھی اپنی اولاد کے غم میں مر کے بھی اُس کے بارے میں ہی سوچ سکتی تھی۔۔۔
فلک کے ساتھ جو ہوا وہ۔ اُسے بدل نہیں سکتی تھی اُس پر بس رو سکتی تھی
لیکن اُس واپس نا آنے والے وقت کی جنگ میں اپنے بیٹے کو قربان نہیں کے سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے آہستہ سے آواز دی مقصد اپنی سوچ میں کھوئے اُس شخص کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ کامیاب بھی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ارحم نے چونک کے سر اٹھایا۔۔۔
سامنے وہ چہرہ جس نے اُسے محبت کے معنی سے متعارف کروایا تھا۔۔۔۔جسے پہروں سوچ کر وہ سکون محسوس کرتا تھا۔۔۔۔۔۔جو اُس کے دل میں آباد تھا۔۔۔۔۔
کتنے وقت بعد وہ اُسے دیکھ رہا تھا اور دل دعا کر رہا تھا کے بس دیکھتا رہے۔۔۔۔۔
اپنے غم میں وہ خود کو بھلا چکا تھا۔۔۔۔اُس کا دل ویراں ہو چکا تھا ۔۔۔۔سارے احساس جذبات مٹی کا ڈھیر بن چکے تھے۔۔۔۔
لیکِن اُسے دیکھ کر دل نے ہمیشہ کی طرح دھڑک کر خود کے ہونے کا احساس دلایا
حیا اُس کے یوں بنا پلک جھپکے دیکھنے پر تذبز ہو کر انگلیاں چٹخانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے یہاں آنے سے منع کیا گیا تھا لیکِن وہ دل۔کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی ماں سے اپنا کچھ سامان بھولنے کا بہانا کرکے وہاں آئی تھی۔۔۔۔۔۔
اُسے نہیں پتہ تھا کہ وہ ارحم کو دیکھنے کی اتنی عادی ہو گئی کے چند روز نا نظر آنے پر اُس کا دل تڑپنے لگا۔۔۔
پہلے بھی تو وہ چھت پر آکر خاموش بیٹھ جاتا تھا تو وہ چپکے سے اُسے دیکھنے لگتی تھی لیکِن اب تو کچھ دن سے وہ نظر ہی نہیں آتا تھا
شمع ۔۔۔۔۔۔۔گھر پر ہے۔۔۔۔۔
وہ نظر اُٹھا کے اُسے دیکھتے ہوئے بولی وہ خاموش رہا۔۔۔۔
اُسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح مسکرا نہیں رہی تھی
چہرے پر پہلے سی شوخی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
لبوں پر۔مسکراہٹ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن پھر بھی حیا کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی سمجھ نہیں آیا کیا کرے۔,۔۔۔۔
آئی تو اُسے دیکھنے ہی تھی لیکن اب دل پاگل سا ہو رہا تھا وہاں رکتے ہوئے
ارے حیا۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔یہاں
شمع باہر نکلتے ہی حیرت سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی حیا نے گڑبڑا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔جب کے ارحم کی نظریں اب بھی اُس پر ٹکی تھی۔۔۔۔
ہاں وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں ۔۔۔۔۔۔
اُسے بولنا نہیں سوجھا
تم وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آؤ نا۔۔۔۔
شمع مُسکرا کر بولی تو وہ سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھی۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں محسوس کیا لیکِن نظریں اب بھی وہیں تھی جہاں وہ کچھ دیر پہلے تک کھڑی تھی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ارحم نے اپنے کیس کے لیے ایک سستا سا وکیل کر لیا تھا۔۔۔
اُسے اُمید۔تھی کے فیصلہ فلک کے حق میں ہی آئیگا۔۔۔۔
وکیل فلک اور ارحم کے ساتھ کچھ باتیں ڈسکس کرنے لگا تبھی کورٹ کے باہر سکندر کی گاڑی آکر رکی۔۔۔
آنکھوں پر سن گلاسز چڑھائے۔۔۔۔اپنے شاہانہ انداز میں چلتا جب وہ آگے بڑھا تو ہر نظر میں اُس کی شخصیت کے لیے ستائش تھی۔۔۔۔
فلک نے سانس روکے ارحم کا بازو تھام لیا۔۔۔۔۔۔
ارحم نے ایک حقارت بھری نظر اُس پر ڈال کر۔منہ پھیر لیا۔۔۔۔۔۔
سکندر مسکراتا ہوا اُن کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سرکار کا کیس زرا جان لگا کے لڑنا۔۔۔۔فیس منہ مانگی مل جائے گی۔۔۔۔۔۔
وہ فلک کو سر تا پیر گھورتے ہوئے بولا
اپنی خیر مناؤ ۔۔۔یہ کرم نوازی اپنے وکیل پر دکھاؤ زیادہ کام آئیگی۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے نا گواری سے اُسے دیکھا
یار کیا ہر وقت لڑنے لگتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہن کے سامنے تو سیدھے منہ بات کر لیا کرو۔۔۔۔۔امپریشن خراب ہوتا ہے
وہ اُسے ونک دیتے ہوئے مسکرایا ارحم نے ایک پل اُسے سنجیدگی سے دیکھا
خُدا کی قسم ہے سکندر۔۔۔۔جب تک تیرے چہرے سے یہ ہنسی نہیں چھین لیتا۔۔۔۔سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا ہی ہوگا جو عدالت تجھے سزا دے دے۔۔۔۔ورنہ ایک بھائی کی سزا تیرے برداشت کے باہر ہوگی۔۔۔۔۔
وہ ٹھہرے ہے لہجے میں بولا سکندر کی مسکراہٹ سمٹی
تونے مجھے بہت ہلکے میں لیا ہوا ہے۔۔۔۔
اتنا آسان نہیں ہے مجھے ہرانا۔۔۔
جیتنے کی عادت ہے سکندر کو۔۔۔۔۔سمجھا۔۔۔
وہ جتاتے ہوئے بولا
اپنے ارادوں کو زیادہ اونچا مت اُڑنے دے۔۔۔۔
بدلا لینے کی سوچ لیکِن اپنی اوقات میں رہ کر۔۔
وہ اپنے گلاسز واپس لگاتا ہوا بولا
تُجھے اندازہ نہیں ہے۔۔۔۔۔
ایک بھائی دل میں اپنی بہن کے لیے جتنی محبت رکھتا ہے اُس بہن پر بری نظر ڈالنے والے کو تباہ کرنے کی دوگنی طاقت بھی رکھتا ہے۔۔۔۔۔
میرے ارادوں کی مضبوطی کا تجھ جیسا سفاک انسان اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔۔۔۔۔
وہ فلک کے گرد اپنا بازو پھیلائے اُسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا
چل دیکھ لیتے ہیں۔۔۔۔
یہ بھائی کی محبت جیتتی ہے۔
یا میرے جیتنے کی عادت۔۔۔۔۔
وہ۔مُسکرا کر کہتا آگے بڑھ گیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
وکیل نے اُنہیں یقین دلایا کے اُن کا کیس بلکل صاف ہے ۔۔۔اور شاید آج ہی فیصلہ ہو جائے گا
پولیس کمپلینٹ کرنے کے بعد ایک حولدار کی صلاح پر ارحم نے فلک میں میڈیکل ٹیسٹ کروا لیے تھے جو اب بہُت کام آنے والے تھے
کچھ ہی دیر بعد عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔۔۔
اور فلک نے روتے جھجکتے جج کے سامنے خود پر گزری ساری کہانی بیان کر دی
جج صاحب۔۔۔۔۔۔۔اس کیس میں بحث و مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
ملزم سکندر شاہ نے ایک معصوم ۔۔۔۔غریب لڑکی کو اغوا کرکے اُس کے ساتھ زور ذبردستی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔اُس کا بلاتکار کرکے انسانیت کو شرمندہ کیا ہے۔۔۔۔۔
میں آپ سے گزارش کرتا ہوں ایسے مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دے کر میری موکل کے ساتھ انصاف کیا جاۓ۔۔۔اور اس سماج میں۔لڑکیوں کی عزت سے کھیلنے والے ہر حیوان کیلئے ایک مثال قائم کے جائے۔۔۔۔
فلک کے بیان کے بعد اُس کے وکیل نے مودبانہ لہجے میں کہا
سکندر کا وکیل مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا
شاید ہمارے وکیل صاحب بھول رہے ہیں کے فیصلہ سنانا ان کا نہیں جج صاحب کا کام ہے ۔۔۔۔۔
اور ایک طرفہ گواہی پر فیصلہ کر لینا کوئی انصاف نہیں ہے جج صاحب
وہ اپنا کورٹ درست کرتا ہوا مقابل کھڑے وکیل کو طنز بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
ہاں یہ سچ ہے کے ہمارے سماج میں لڑکیاں محفوظ نہیں ہے۔۔۔کئی درندے ایسے ہے جو اُن کی عزت اور زندگی سے کھیل کر اُنہیں تباہ کرتے ہیں۔۔۔۔
لیکِن اس کا یہ مطلب نہیں کے ہر آدمی کو اُسی ترازو میں تولہ جائے۔۔۔۔۔
ضروری نہیں کے لڑکی جس پر اُنگلی اٹھائے وہ واقعی مجرم ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے پروفیشنل انداز میں بات کے رہا تھا۔۔۔۔۔۔سکندر شاہ اور بہادر شاہ پرسکون سے بیٹھے تھے۔۔۔
ارحم کے دل کی دھڑکن تیز اور تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔
آپ جج ہے ہر روز نئے کیس آتے ہے اس عدالت میں۔۔۔۔آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ کس طرح قانون کی باریکیوں کا فائدہ اٹھا کے لوگ کِسی بھی بے گناہ کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں
اور ایسا ہی کھیل قانون کے ساتھ مس فلک نے کھیلا ہے۔۔۔۔
سکندر شاہ جیسے شریف اور با عزت انسان پر ریپ کا الزام لگا کر انہیں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے مائے لارڈ
مقابل کا وکیل سکندر کی طرف سے صفائی پیش کرنے لگا
اوبجیکشن یور آنر ۔۔۔۔وکیل صاحب کیس کو غلط رخ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
فلک کے وکیل نے اٹھ کر کہا
اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے میں مس فلک سے چند سوالات کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
مقابل نے مودبانہ گزارش کی
اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔
جج نے سر ہلایا۔۔۔فلک نے ارحم کو دیکھا تو اُس نے اُسے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا
وہ دوبارہ اُس کٹگہرے میں آئی
تو مس فلک۔۔۔۔۔سب سے پہلے یہ بتائیں آپکی عمر کتنی ہے۔۔۔۔۔
وکیل وٹنز باکس کے قریب آتے ہوۓ بولا
انیس سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے آہستہ سے جواب دیا۔۔۔۔سکندر کی نظریں مسلسل اُس کے چہرے اور ٹکی ہوئی تھی
پڑھائی کہاں تک کی ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے اگلا سوال کیا جس پر اُس نے سر نفی میں ہلا دیا
پڑھائی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا گھر کے حالات کی وجہ سے۔۔۔۔۔
وکیل نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا وہ چپ رہی
خیر یہ بتائیے۔۔۔۔۔۔۔آپکو کیا پسند ہے۔۔۔۔۔باہر گھومنا۔۔۔۔شاپنگ کرنا۔۔۔۔۔نئے نئے کپڑے جوتے جویلری یہ سب خریدنا ۔۔۔۔۔۔
وکیل نے مسکراتے ہوئے پیچ فلک اُلجھ کر اپنے5 اُنگلیوں کو بھینچے لگی اُسے جواب نہیں سوجھا۔۔۔۔۔اُس کی تو ایسی کوئی خواہشیں نہیں تھی
اوبجیکشن مائے لارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔وکیل صاحب بے تکے سوالات کرکے میری موکل کو پریشان کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ان سوالوں کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
فلک کے وکیل نے اٹھ کر عتراض جتایا
اوبجیکشن سسٹینس۔۔۔۔۔۔۔۔
جج نے اُس کے اعتراض کو قبول کیا مقابل کے وکیل نے سر خم کیا
مس فلک جب سکندر شاہ نے آپ کو اغوا کیا تب آپ کے گھر میں کون کون موجود تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل اب سیدھے سوال کی طرف آیا
شادی کے لیے آئے بہت سارے مہمان تھے ۔۔۔میری اماں۔۔۔۔بہن اور سب سہیلیاں۔۔۔۔۔۔۔
وہ آہستہ آواز میں بولی
مطلب کافی ساے لوگ تھے۔۔۔کِسی نے سکندر شاہ کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فلک کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا
گاؤں میں سب ان سے ڈرتے ہے۔۔۔۔اس لیے کسی نے نہیں روکا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہہ نہیں پائی کے وہ اُن میں سے کسی کی بیٹی نہیں تھی جو وہ جی جان لگا کر اُس درندے کو روکتے
پھر بھی آپ کے رشتےدار تھے۔۔۔۔گھر میں ایک اکیلا آدمی گھس کر آپکو اٹھا لے گیا اور کسی نے اُسے روکا نہیں۔۔۔۔حیرت کی بات ہے نا
وکیل مصنوعی حیرت جتاتے بولا
خیر یہ بتائیں۔۔۔۔۔۔۔ جب سکندر شاہ گھر میں گھس آیا تو آپ اُس کے بلکل سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔مطلب آپ اُسے دروازے پر ہی مل گئی
اُس نے اگلا سوال کیا فلک نے سر نفی میں ہلا دیا
تو پھر وہ آپ تک کیسے پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے کیسے پتہ کے اندر جا کر دلہن کو ہی اٹھانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل کے لئیے میں طنز تھا۔۔۔ارحم نے پیشانی پر بل ڈالے اُسے دیکھا
آپ کے بیان کے مطابق آپ کے بھائی کا اُس سے جھگڑا ہوا۔۔۔۔۔اور وہ غصے میں بدلا لینے کی غرض سے آپ کو اٹھا لے گیا۔۔۔۔لیکِن وہ آپکو ہی کیوں لے گیا۔۔۔۔۔آپکی بہن تھی۔۔۔کزنز تھی۔۔۔۔اور بھی کئی خوبصورت لڑکیاں تھی۔۔۔۔۔۔وہ سب کو چھوڑ کر آپکو ڈھونڈھتا ہوا آپ تک ہی کیوں پہنچا۔۔۔۔۔۔۔
اوبجکشن می لارڈ۔۔۔۔۔۔۔میرے موکل کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔وکیل صاحب آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کا وکیل تیز آواز میں بولا
میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کے سکندر شاہ نے ہر لڑکی کو چھوڑ کر مس فلک کو ہی اس لیے اغوا کیا کیوں کے مس فلک ایسا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے خود سکندر کو وہاں بلایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقابل کا وکیل آواز کو اور اونچی کیے بولا فلک اور ارحم بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگے
وہ اپنے ماں باپ کی مرضی سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
انہیں سکندر شاہ جیسا رئیس اور دولت مند آدمی چاہیے تھا۔۔۔۔
بچپن سے غریبی میں جینے والی مس فلک کو اپنی اونچی اونچی خوائشیں پوری کرنے کے لیے سکندر شاہ جیسے آدمی کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تقریباً چلایا فلک کے سینے میں دل باہر نکلنے کو تڑپنے لگا اس قدر گھٹیا الزام ۔۔۔ارحم کی غصّے سے رگیں تن گئیں
اوبجیکشن می لارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کے وکیل نے اعتراض جتایا
اوبجیکشن اوور رولڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جج نے اُس کے اعتراض کو رد کیا
تھینک یو سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کیس کے پیچھے کی حقیقت یہی ہے
غریبی کے باعث مس فلک نا کبھی پڑھائی کر پائی نا اپنے شوق پورے کر پائی۔۔۔۔۔
جو ہر لڑکی کی آنکھوں میں ہوتے ہیں وہ خواب مس فلک کی آنکھوں میں بھی تھے۔۔۔۔
ایک بڑا گھر۔۔۔۔۔امیر خاندان۔۔۔۔۔رئیس لڑکا۔۔۔۔اور ضرورت کی ایک سے بڑھ کر ایک چیز۔۔۔۔
یہ سب جو اُنہیں ماں باپ کے گھر نہیں ملا وہ اُنہیں سکندر شاہ کے پاس نظر آیا
اس لیے مس فلک نے سکندر شاہ کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھنسایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن سے اپنی ملاقاتیں بڑھائی۔۔۔۔
سکندر شاہ اُس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اُسے اپنا دل دے بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن اسی بیچ گھر والوں نے اُن کا رشتا کہیں اور طے کر دیا
مس فلک سے یہ برداشت نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔اُنہوں نے شادی سے انکار کر دیا۔۔۔جس پر اُن کے بھائی ارحم نے اُنہیں بہت مار پیٹ کرکے خاموش کرایا۔۔۔۔۔۔۔
وہ شادی کے لیے ہاں کہنے پر مجبور ہو گئی لیکِن اُن کا دماغ سکندر کی دولت میں ہی اٹکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔اُنہوں نے اپنی ایک سہیلی کے ذریعے سکندر تک پیغام بھجوایا کے وہ اُسے گھر سے بھگا لے جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر جیسے شریف آدمی کو یہ بات کچھ صحیح نہیں لگی اس لیے اُس نے مسٹر ارحم سے بات کی ۔۔۔۔۔اُنہیں اپنے اور فلک کے تعلقات کر بارے میں بتا کر فلک سے شادی کی پیش کش کی لیکن ارحم غصے سے بھڑک اٹھا اور سکندر شاہ کے ساتھ مار پر کرکے اُسے دھمکیاں دینے لگا
سکندر شاہ کے پاس کوئی راستہ نہیں بچ گیا۔۔۔۔۔وہ فلک کی بات مانتے ہوۓ اُس کے گھر پہنچا اور اُسے اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے فلک سے شادی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جس پر مس فلک نے یہ شرط رکھی کے سکندر کو پہلے اپنی جائیداد کا آدھا حصہ اُس کے نام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔
سکندر شاہ کو اُس کی سوچ سے بہت دکھ ہوا۔۔۔۔۔۔
اور اس نے شادی کرنے سے انکار کر دیا
مس فلک سے یہ انکار برداشت نہیں ہوا وہ بھڑک اٹھی اور بدلا لینے کے لیے سکندر شاہ جیسے شریف انسان پر ریپ کا الزام لگا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل سانس روکے بولتا گیا۔۔۔۔۔۔فلک سر جھکائے آنسو بہانے لگی۔۔۔۔۔ان غلط الزامات پر اُس کا دل کیا چینخ چینخ کر رویے
بکواس ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بہن ایسی نہیں ہے جج صاحب۔۔۔
ارحم اپنی جگہ سے اٹھ کر پوری قوت سے چلایا۔۔۔۔سکندر نے مسکراتے ہوئے اُسے دیکھا۔۔۔
آرڈر۔۔۔۔۔۔۔۔عدالت کی کارروائی میں دخل مت دیجئے۔۔۔۔۔۔
جج نے سخت لہجے میں اُسے وارن کیا اور وکیل نے بھی شانت رہنے کا اشارہ کیا تو وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا ضبط سے جا کی آنکھیں سرخ ہو گئی
جج صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے قابل دوست من گھڑت کہانی سنا کر عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کا وکیل آگے آتے ہوئے بولا۔۔۔چہرے سے ہی ظاہر تھا کہ وہ پریشان ہو گیا ہے۔۔۔اُس نے بہت ہلکے۔میں لیا تھا اُسے اتنے کڑے حملے کی اُمید نہیں تھی
سکندر شاہ سے مس فلک کا۔کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ فلک ایک عزت در اور شریف لڑکی ہے۔۔۔۔۔اُس کی دنیا اپنے گھر تک محدود ہے۔۔۔۔۔۔وہ نا سکندر کو جانتی ہے نہ کبھی اُس سے ملی ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات پرزور دے کر بولا ارحم نے اپنا سوکھا گلا تر کیا
میرے پاس اُن کی مُلاقات کے گواہ اور ثبوت دونوں موجود ہے جج صاحب۔۔۔۔۔جنہیں پیش کرنے کی مجھے اجازت چاہیے
مقابل کے وکیل نے بیچ میں اپنی بات کی
اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جج نے اجازت دی وکیل کے بلانے پر ایک کالے کورٹ پینٹ میں ملبوس شخص آکر فلک کے سامنے والے وٹنس باکس میں آگیا
جج صاحب یہ اس شہر کے مشہور ساگر شاپنگ مال کے مینیجر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے اُس کا تعارف کرایا
مینیجر صاحب کچھ دن پہلے آپ کے مال۔میں آگ لگی تھی کیا یہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے اُس سے سوال کیا
جی ہاں۔۔۔۔۔۔دو تین ہفتے پہلے کی بات ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔مال کے سیکنڈ اور تھرڈ فلور پر آگ لگ گئی تھی۔۔۔۔۔لیکن جلد ہی اُس آگ پر قابو کیا گیا اور سارے لوگوں کو وقت پر باہر نکال لیا گیا۔۔۔۔۔
مینیجر نے تفصیل سے بتایا
انہیں پہچانتے ہے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے دوسری نشست پر بیٹھے سکندر کی جانب اشارہ کیا
جی یہ مسٹر سکندر شاہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے کافی پرانے اور خاص کسٹمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا
جب آگ لگی تب بھی یہ وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے سوال کیا
جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کون تھا ان کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عدالت میں ہے وہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے پوچھا تو مینیجر نے سامنے اشارہ کیا
جی وہ جو کھڑی ہے وہی تھی اُن کے ساتھ
۔مینیجر کی بات پر ارحم اُلجھ سا گیا۔۔۔۔آگ والا واقعہ اُس کے علم میں تھا لیکِن سکندر اور فلک کا ایک ساتھ ہونا
فلک اُس وقت کو کوسنے لگی جب سکندر نے اُسے اُس آگ سے بچایا تھا۔۔۔۔کاش کے وہ اُس دِن مر جاتی تو آج جیتے جی اس آگ میں نا جل رہی ہوتی
اتنی آسانی سے کیسے پہچان لیا آپ نے
وکیل نے سنجیدگی سے استفا ر کیا
کیوں کے یہ سکندر صاحب کے ساتھ اکثر آتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی بار سکندر صاحب نے ان کے لیے اسپیشل ڈنر کا اہتمام کروایا ہے۔۔۔۔۔۔قیمتی تحفے آرڈر کیے ہے۔۔۔۔۔۔بلکہ اکثر میں نے خود ہوٹل میں اسپیشل سویٹس بک کیے ہے دونوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مینیجر معنی خیزی سے مُسکرا کر بولا فلک سانس روکے بے یقینی سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
سالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے بہن پر الزام لگا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُسے گالی سے نوازا۔۔۔۔سکندر اُس کی تڑپ پر مزے لینے لگا
آرڈر آرڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے دوبارہ کوئی مداخلت کی تو میں آپکو عدالت سے باہر کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
جج غصے سے بولا ارحم بے بسی سے فلک کو دیکھ کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔۔۔۔اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے یہاں ایسا کچھ ہوگا۔۔۔۔فلک پر اُسے پورا اعتماد تھا
مینیجر صاحب کی بات سچ ہے جج صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے میرے پاس ثبوت ہے۔۔۔۔۔۔۔
وکیل غصے سے ارحم کو۔دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔۔۔
وہاں لگی سکرین پر کچھ تصویریں چلنے لگی جو فلک اور سکندر کی تھی ۔۔۔۔۔
اُس دِن جب باہر نکلنے کے لیے اُس نے فلک کو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا۔۔۔۔۔سی سی ٹی وی کی اُن تصویروں کو ایڈٹ کرکے پیچھے کے مناظر بدل دیئے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
سب ہی غور سے اُس تصویر کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
سکندر کو بھی اُس لمحے کے خیال پر اپنے دھڑکنوں کے بدلتے رخ کو۔محسوس کیا
اُن تصویروں نے بھی ارحم کے اعتماد کو ٹوٹنے نہیں دیا
وہ اب بھی جانتا تھا کے فلک کا سکندر سے کوئی تعلق نہیں بھلے وہ تصویر جہاں اور جیسے بھی آئی ہو
فلک بس سر جھکائے آنسُو بہا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
میرے فاضل دوست کو کوئی سوال کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے مقابل کے وکیل کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ پریشان لگا
نو می لارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اٹھ کر کہا اور دوبارہ بیٹھ گیا۔۔۔۔اُسے یہ کیس ہاتھ سے جاتا ہوا نظرآتا تھا۔۔۔۔۔سامنے والے۔کے ثبوت بے حد مضبوط تھے
مینیجر صاحب کی گواہی سے میری بات کی تصدیق ہو گئی ہے یور آنر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مس فلک اور سکندر کے بیچ کے تعلقات بہت آگے نکل چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔بھلے تعلقات نا جائز ہو لیکن۔۔۔۔۔۔۔سکندر شاہ نے مس فلک کی رضا مندی کے ساتھ ہی قدم بڑھایا ہے۔۔۔۔۔۔
جب لڑکی خود ہی خود کو پیش کرے تو مرد کا کیا قصور۔۔۔۔۔۔۔یہ ریپ کیسے ہوا۔۔۔۔۔۔
وکیل نے ناگواری بھرے لہجے میں کہا ارحم اپنی جگہ سے اٹھ کرایا اور وکیل کا گریبان پکڑ کر اُس کے منہ پر ایک زور دار مکہ رسید کیا۔۔۔۔وکیل منہ کے بل میز پر گرا
وہ دوبارہ اُسے پکڑ کر مارتا اُس کے پہلے وہاں کھڑے سپاہیوں نے اُسے جکڑ لیا۔۔۔سکندر کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ آئی۔۔۔۔بہادر شاہ بھی خوش ہوا۔۔
فلک گھبرا کر اپنے بھائی کو دیکھنے لگی
میں تجھے جان سے مار دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وکیل کو دیکھ کر سپاہیوں کی قید میں جھتپٹانے لگا۔۔۔۔
فلک کے وکیل نے اُسے سمجھایا کے اُس کے اس رد عمل سے بات بگڑ سکتی ہے تو وہ غصے سے سر جھٹک کر رہ گیا
معافی چاہتا ہوں سر۔۔۔۔۔۔۔۔میرے موکل ذرا جذباتی ہو گئے ہے آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل جج کے کچھ بھی ایکشن لینے سے پہلے ہی بول پڑا
یہ آخری وارننگ ہے۔۔۔۔۔۔اب اگر۔عدالت کی توہین کی تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی
جج نے غصے سے کہا۔۔
چند سیکنڈ بعد ماحول کے پر سکون ہوتے ہی کاروائی آگے بڑھی
جج صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھوٹے گواہوں اور ثبوتوں کے ذریعے مس فلک کو غلط بتا کر سکندر شاہ کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر شاہ کی جس شرافت کی وکیل۔صاحب تقریریں کر رہے ہیں اُس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔۔۔۔۔
پورا گاؤں واقف ہے کے سکندر شاہ نہایت بد تمیز اور بد دماغ آدمی ہے ۔۔اس کی کسی سے نہیں بنتی ۔۔۔ سارا گاؤں اسکی من مانیوں سے پریشان ہے۔۔۔۔۔۔
گھر میں آئے سارے مہمان اس بات کے گواہ ہے کے وہ مس فلک کو ذبردستی اغوا کرکے لے گیا تھا۔۔۔۔۔
ایک عام گھرانے کی سیدھی سے لڑکی اپنے ہی بلاتکار کا جھوٹا ناٹک کیوں کرےگی جج صاحب۔۔۔۔۔۔
سکندر شاہ نے فلک کو ہی اس لیے اغوا کیا تا کہ وہ ارحم سے اپنے جھگڑے کا بدلہ لے سکے۔۔۔۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے شادی کے گھر سے دلہن کا اغوا ہونا کوئی معمولی چیز نہیں۔۔۔۔۔۔۔
فلک کا وکیل سنجیدگی سے کہتا فلک کے کردار پر لگے الزامات کی نفی کرنے لگا
پیچھے سے ٹیبل پر رکھی ایک فائل اٹھا کر اُس نے سامنے بیٹھے شخص کو دی جس نے وہ فائل جج تک پہنچائی
یہ فورینسک رپورٹس اُس دِن کی ہے سر جب مس فلک نے کیس درج کرایا تھا۔۔۔۔۔۔
اس رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہے کے مس فلک کا ریپ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اُنکے ساتھ زور زبردستی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولا اُسے یہ کیس جیتنے کے چانسز کم نظر آرہے تھے
مقابل کا وکیل بھی اٹھ کے آگے آیا
رپورٹس کا کیا ہے جج صاحب یہ تو بنائی بھی جا سکتی ہے۔۔۔۔
اور جہاں میرے فاضل دوست غریب سیدھی اور شریف لڑکی کی بات کر رہے ہیں تو کیا اس وجہ سے مس فلک کو حق مل جاتا ہے کے وہ کسی پر کچھ بھی الزام لگا کر اُسے مجرم بنا دے۔۔۔۔۔۔۔۔
بات جب انصاف کی آتی ہے تو قانون اندھا ہوتا ہے کسی کی حیثیت نہیں دیکھتا۔۔۔۔مس فلک کو رپورٹ اور اُن کا بیان دونوں جھوٹے ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لیے میں ایک بار پھر مس فلک سے چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے اُس کی بات رد کرتے ہوئے اپنے پروفیشنل انداز میں کہا
اجازت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جج نے اجازت دی۔۔۔۔۔فلک نے اپنے آنسُو رگڑے
مس فلک۔۔۔۔۔۔کیا۔آپ نے سکندر سے یہ کہا تھا کے مجھ سے نکاح کر لیجئے۔۔۔۔۔
وکیل کے سوال پر اُس کا دل زوروں سے دھک دھک کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے وہ بے بس لمحہ یاد آیا جب وہ اُس کے آگے گس گڑگڑا ئی تھی۔۔۔
سب کی نظریں اُس اور ٹکی تھی
اُس نے سر اثبات میں ہلا دیا
زور سے بولیے مس فلک۔۔۔۔سب کو پتہ چلنا چاہیے
وکیل نے اصرار کیا
ہاں میں نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ با آواز بولی
نوٹ کیا جائے می لارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔مس فلک مان رہی ہے کے اُنہوں نے سکندر سے نکاح کرنے کو کہا تھا۔۔۔۔اُس سے جو انہیں شادی کے دن گھر سے اغوا کرکے لایا تھا
وکیل کے لبوں پر ہنسی اور لہجے میں طنز تھا۔۔۔ارحم سر جھکائے بیٹھ گیا۔۔۔۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔
فلک کہنا چاہا کے اُس نے کن حالات میں یہ بات کی تھی لیکن وکیل نے اُس کی بات کاٹ دی
کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ یہ بتائیں
۔۔۔۔,کیا آپ کے کِسی مرد کے ساتھ پہلے بھی جسمانی تعلقاتِ رہ چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا سوال سن کے فلک کی۔روح تک کانپ گئی۔۔۔چہرہ سفید ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ عدالت میں خطرناک سناٹا چھا گیا۔۔۔۔۔سکندر کے چہرے پر ناگوری آ گئی۔۔۔۔ارحم سکتے کی کیفیت میں وکیل کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھ سے آنسُو ٹوٹ کے گرا
This is enough my lord
وکیل صاحب اپنی تمیز بھول رہے ہے۔۔۔۔۔۔
فلک کا وکیل بھی غصے سے چلایا۔۔۔
اوکے اوکے۔۔۔۔۔۔۔
وہ جج کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ہاتھ کھڑے کر گیا
مس فلک ۔,۔۔۔۔۔۔میں آپ سے ایک بار پھر پورا واقع سننا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔جو کچھ ہوا وہ دھیان سے ایک ایک بات مجھے بتائیں۔۔۔۔۔۔۔
اوبجیکشن می لارڈ۔۔۔۔۔۔مس فلک پہلے ہی اپنا بیان دے چُکی ہے۔۔۔۔۔۔اُنہیں وہ واقعات بار بار دہرانے کی۔ضرورت نہیں ہے
۔فلک کے وکیل نے فوراً اعتراض اُٹھایا
ضرورت ہے یور آنر۔۔۔۔۔۔۔۔۔مس فلک نے جو بیان دیا اُس کے پیچھے کی حقیقت کچھ اور ہے۔۔۔اور حقیقت کو سامنے لانے کے لیے اُنہیں سو بار بھی اپنی باتیں دہرانے کی ضرورت ہے کیوں کے بات کسی کے کردار کی ہے کسی کو زندگی کی ہے
جج کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ زرو ہی آواز میں بولا
اوبجیکشن اوور رول
جج نے اعتراض رد کیا
تھینک یو یور آنر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر خم کرکے دوبارہ فلک کی طرح کی طرف مڑا جِسے محسوس ہو رہا تھا جیسے آج پھر اُسے بے لباس کیا جا رہا ہو
جی تو مس فلک شروع سے بتائیں ۔۔۔۔۔۔جب سکندر شاہ آپ کے گھر میں آیا تب آپ کیا کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
میں اندر اپنی بہنوں کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے آہستہ آواز میں بولی
اور آپ کے پتا اور بھائی کہاں تھے۔۔۔۔۔۔۔
بابا شادی ہال میں تھے۔۔۔۔۔۔بھائی گاڑی لینے گئے تھے ۔۔۔۔۔
اس بات کا فائدہ اٹھا کر سکندر شاہ آسانی سے اندر گھس آیا ہے نہ۔۔ ۔۔۔۔پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے اُس کی ادھُوری بات مکمل کرتے ہوئے کہا ارحم سر جھکائے پتھر بن کے بیٹھا تھا آج اُسے اپنے انصاف کی جنگ شروع کرنے پر افسوس ہو رہا تھا
انہوں نے ذبردستی میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے باہر لیجانے لگے۔۔۔۔۔میری اماں نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔اُن کی منتیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔اُن کے آگے ہاتھ جوڑے ۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے سر مزید جھکا کر۔رونے لگی
لیکِن اُنہیں رحم نہیں آیا اور اُنہوں نے ذبردستی آپ کو اٹھالیا۔۔۔۔اپنی جیپ میں لے کر گاؤں سے باہر والے راستے پر لے گیا۔۔۔۔پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔۔آپ نے خود کو چھڑانے کی کوششیں نہیں کی۔۔۔۔۔۔جیپ سے نکل کر بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔
کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے جیپ سے کود کر بھاگنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنگل کی طرف۔۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن کے پاس گاڑی تھی وہ پھرپیچھے آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاں آس پاس کوئی نہیں تھا۔۔۔۔کوئی مسافر۔۔۔۔کوئی گاڑی۔۔۔جس سے آپ مدد مانگ سکے۔۔۔۔۔۔
اُس کے پوچھنے پر فلک نے سر نفی میں ہلا دیا
نوٹ کیا جائے می لارڈ۔۔۔۔۔کیوں کے وہ ہائی وے ہے اور وہاں گاڑیوں کا رش ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پھیر کیا ہوا فلک جی۔۔۔۔۔۔۔
وکیل جج کو دیکھ کر پھر فلک کی طرف متوجہ ہوا
میں نے اندر جنگل کی طرف بھاگنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن وہ گاڑی سے مجھ تک پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر کی سنجیدہ نظریں اُس پر ٹھہری ہوئی تھی۔۔۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے سوال۔کیا
میرے پیر میں ٹھوکر لگی تو میں زمین پر گر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کے لفظ ڈگمگانے لگے۔۔۔ارحم کی نظریں نیچے جمی رہی جیسے نا وہ کچھ سن رہا ہو نا دیکھ رہا ہو
اور سکندر شاہ گاڑی سے اُتر کر آپ۔کے پاس آگیا۔۔۔۔۔۔۔صحیح۔۔۔۔پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
وکیل اُسے مسلسل دیکھنے لگا وہ اپنا گلا تر کرنے لگی اُسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے کن لفظوں میں۔خود پر بیتی ایک ایک ستم کی کہانی سنا دے
بولیے مس فلک۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا اُس کے بعد۔۔۔یا ہوا ہی نہیں۔۔۔۔۔
وکیل مُسکرا کر بولا۔۔۔۔فلک کا وکیل بھی مایوس ہو کر بیٹھا تھا
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے پاس آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی
ایک منٹ۔۔۔۔۔آپ نے پہلے بیان میں کہا تھا آپ گری تو آپ کو چوٹ لگی تھی ۔۔۔۔ہے نہ
اُس نے مصنوعی حیرت سے کہا فلک نے سر اثبات میں ہلا دیا
تو ابھی آپ نے یہ کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔۔
وکیل اُسے پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا
میں۔۔۔۔میں بھول گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے بولی
۔حیرت ہے اتنی بڑی چوٹ بھول گئی آپ۔۔۔خیر آگے کیا ہوا۔۔۔۔سکندر شاہ آپ کے قریب آگئے پھر کیا کیا اُنہوں نے۔۔۔۔۔
وکیل نے اپنا سوال دہرایا۔۔۔۔فلک کو۔لگا کے وہ زمین کو گڑ جائے اس دنیا سے غائب ہو جائے جہاں انسانیت مر گئی تھی۔۔۔۔۔وہ ہار رہی تھی اور وکیل کی کوشش کامیاب ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ جان بوجھ کے ایسی باتیں کرکے اُسے اتنا زچ کر دینا چاہتا تھا کے وہ شرمندگی کے مارے خود ہی کیس واپس لے لے
میں نے اٹھ کے بھاگنے کی کوشش کی اُنہوں نے مجھے گرا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل تجسس سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔فلک کو وہاں بیٹھے ہر فرد کی نظریں خود میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔
میرے ہاتھ پکڑ لیے۔۔۔۔۔۔۔میں نے اللہ کا واسطہ دیا لیکِن وہ میرے ساتھ زور زبردستی کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب مجھے کچھ نہیں سوجھا تو میں نے کہا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ نکاح کی بات کرنے کی وجہ بتانے لگی لیکِن وکیل نے ہوشیاری سے اُس کی بات کاٹ دی
ٹھیک ہے ۔۔آپ نے بہت منتیں کی ۔۔۔۔گڑگڑائیں۔۔۔۔۔چلّائی لیکِن سکندر پیچھے نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔صحیح
اُس کے بعد آپ نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے بریکٹ پر۔ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
میں نہیں کر پائی۔۔۔۔۔وہ میرے بہت پاس تھے۔۔۔۔
وہ بے بس لہجے میں کہتی رونے لگی
۔کتنے پاس۔۔۔۔۔اُنہوں نے آپکو اپنی باہوں میں جکڑ لیا تھا یا سیدھا آپ کو زمین پر گرا کے آپ کے اوپر آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے شرم کی ساری حدیں پار کرکے کڑے لہجے میں پوچھا وہ دونوں ہاتھ کان پر رکھ کر آنکھیں میچ گئی ارحم نے بھی آنکھیں سختی سے بند کر لی۔۔۔۔۔۔
سکندر نے جبڑے سختی سے بھینچ کی وہ چاھتا تھا اُس کی رسوائی لیکِن دل بُرا مان رہا تھا
اوبجیکشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکیل اٹھ کر آگے آیا
جواب دیجئے مس فلک۔۔۔۔۔۔۔آپ کا خاموش رہنا ایک گناہ گار کو بچا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔اور آپ کا غلط کچھ بولنا ایک بے گناہ کو پھنسا سکتا ہے۔۔۔۔
سوال انصاف کا ہے مس فلک جواب دیجئے کے کیا ہوا تھا
سکندر نے آپکو کہاں کہاں چھوا۔۔۔۔۔۔کیا کیا کیا سب بتایے اس عدالت کو۔۔۔۔۔۔۔
وکیل اوبجیکش کو نظر انداز کرکے چلایا فلک نے اپنے ہاتھ کانوں پر۔سخت کیے سر نفی میں ہلانے لگی
جج صاحب میری موکل کو ہیریس کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔
اُس کا وکیل بھی مقابل پر۔چینخ پڑا
آپ کی موکل کے پاس میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے کیوں کے ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
ہمارے ساتھ ایک چھوٹا سا واقعہ بھی ہوتا ہے تو ہم اُسے صاف صاف بتا دیتے ہے جج صاحب
جس طرح مس فلک رک رک کر سوچ سوچ کر جواب دے رہیں ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کے ان کی بنائی بنائی کہانی ہے جس کا کوئی سر۔پیر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
یہ سکندر کا استعمال کرکے دولت کے نشے میں اتنی ڈوب گئیں تھیں کے اُس کا چھوڑ جانا انہیں برادشت نہیں ہوا
اور انہوں نے اپنے ہی ریپ کا جھوٹا کھیل رچا۔۔۔۔۔۔
وکیل زور دار آواز میں چلاتا فلک پر الزام پر الزام لگانے لگا فلک باہر نکل کے بھاگتی ہوئی کورٹ روم سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ارحم اندھیرے میں سنسان سڑک پر چلتا آگے بڑھتا گیا۔۔۔۔۔
اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا رہا۔۔۔۔۔
وکیل نے کسی طرح جج سے آگلی تاریخ لے لی تھی۔۔۔
لیکِن انصاف ملنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے
بلکہ عدالت میں کو فلک کی تذلیل ہوئی جو برتاؤ ہوا اُس کے بعد ارحم بری طرح ٹوٹ گیا تھا۔اُس کی اُمید ماند پڑ گئی تھی
اُسے اب کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا
فلک کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ گھر سے نکل گیا تھا
گاؤں سے باہر جانے والی سڑک پر سیدھا چلتا جا رہا تھا جیسے یہ سیدھا جانے والا راستہ اُسے اس دنیا سے کہیں دور پہنچا کے اُس کی مشکلیں آسان کردے گا
قدم تھک گئے تو راستے پر لگے ایک بینچ اور بیٹھ گیا اور اپنے دل کا غبار آنسوؤں کے ذریعے باہر نکالنے لگا۔۔۔۔۔
دھیرے دھیرے رونے میں شدت آتی گئی اور جب وہ با آواز رونے لگا تو اُس بینچ پر بیٹھی لڑکی نے چونک کے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
وہ ایک۔مضبوط مرد دونوں ہاتھوں سے سر تھامے رو رہا تھا حیرت کی بات تھی۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر اُس کے قریب آکر بیٹھ گی
کیا ہوا مسٹر عجیب۔۔۔۔۔۔ایسے رو کیوں رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے بولی۔۔۔۔لہجہ ہلکا سا استہزا یہ بھی تھا
ارحم نے سر گھما کے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔
جینس ٹاپ پہنی شفاف چہرے اور خوبصورت نقوش والی وہ لڑکی اُسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
تو کیا کروں میں۔۔۔۔۔۔کیسے اس غبار کو نکالوں اپنے اندر سے۔۔۔۔۔اس گھٹن سے کیسے آزاد کروں خود کو۔۔۔۔۔
کیا کروں میں۔۔۔کس سے جا کر اپنے لیے موت مانگوں۔۔۔۔۔
خدا کیوں مجھ پر رحم نہیں کرتا۔۔۔۔۔کیوں میری جان نہیں نکال دیتا۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتا ہوا بے بس لہجے میں بولا آنکھوں سے آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔وہ اب کے غور وہ سنجیدگی سے اُس کی سرخ آنکھوں کو دیکھنے لگی جن میں دُنیا جہاں کی بے بسی۔۔۔اور غم یکجا تھے
نہیں رہنا چاہتا میں اس دنیا میں جہاں انسان نہیں حیوان بستے ہے
جہاں لوگوں کے سینوں میں وہ دل نہیں جو کسی کے درد کو سمجھے
ایک بھائی کے سامنے اس کی بہن سے ایسے سوال کرتے ہوئے اُنہیں خدا کا خوف کیوں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں تڑپ لیے اُسے دیکھتا آنکھیں میچ کر رونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بے یقینی سے ہاتھ اٹھا کر اپنی آنکھوں کے کنارے کو چھوا اُس کی آنکھوں میں بھی نمی اترنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
