Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 105)

بے احساس۔۔۔بے آس ۔۔۔۔تنہا بیچ سڑک پر چلتے ہوئے نا سردی کا احساس ہو رہا تھا نہ نازک پیروں میں چبھتے کنکروں کا کوئی اثر۔۔۔۔
لڑکھڑاتے قدم بس بے ترتیب آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔کہاں جانا تھا۔۔۔۔۔کب تک چلنا تھا کچھ پتہ نہیں تھا۔۔۔بس کہیں دور نکل جانا تھا ۔۔۔اپنے غموں سے پیچھا چھڑانا تھا۔۔۔۔۔
ریا کا گھر بہُت پیچھے چھوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔آباد علاقہ ختم ہو کر دور ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔انجان اندھیری سڑک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔نا قدم تھک رہے تھے نا جان ہار رہی تھی۔۔ آگے بڑھتے بڑھتے بہُت دور نکل آئی تھی۔۔۔۔۔
نا انسان تھے نا جانور بس وحشت ناک خاموشی تھی۔۔۔۔جس میں بیگ کے پہیے گھسنے کی آواز دور تک سنی جا سکتی تھی۔ ۔ ۔۔بے حد اندھیرا تھا۔۔۔۔ہوائیں بے حد سرد تھیں۔۔۔۔۔
لیکن اُسے کوئی احساس کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔دِماغ بس اچھی اور بری یادوں میں مگن تھا۔۔۔ہر اچھی یاد پر ایک آنسُو اور ہر تکلیف دہ سوچ پر ایک کرب اٹھتا تھا۔۔
پیچھے سے آتی جیپ کی آواز اُس کی روشنی اور لڑکوں کا چلانا اُس سنسان جگہ میں ضرور شور برپا گیا لیکن اُس کے اندر کی خاموشی نہیں ٹوٹی۔۔۔۔۔
وہ بے خبر سی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔
وہ دونوں لڑکے اُسے دیکھ کر ایک دوسرے کو اشارے کرتے اُس کے پاس آکر رکے۔۔۔لیکِن وہ بے پرواہ بے نیاز اپنے غم میں مگن آگے بڑھتی رہی۔۔۔
کیا ہوا میڈم ۔۔۔۔کہاں جانا ہے آپکو۔۔۔۔۔
جیپ کی سپیڈ بھی اُس کے قدموں کے برابر کرکے آگے بڑھاتے ایک لڑکے نے سوال کیا۔۔۔۔وہ نہیں رکی نا کوئی جواب دیا۔۔۔۔نا اُن کی طرف دیکھا۔۔۔۔شاید سن بھی نہیں پائی ۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اُسے سر سے پیر تک جانچنے لگے۔۔۔۔
پریشان بکھری بکھری سی۔۔۔۔ خوبصورت بلا جیسی ۔۔۔
وہ کوئی گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی لگی جو سخت پریشان تھی۔۔۔جس کا کوئی آسرا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
کہو تو کہیں چھوڑ دیں آپ کو۔۔۔۔۔۔
ڈرائیو کرتے لڑکے نے مسکراتے شوخ لہجے میں ذرا اونچی آواز کرکے کہا۔۔۔
۔نین کو وہ بھی سنائی نہیں دی۔۔۔۔۔اُس کا ذہن اپنی زندگی کے گزرے لمحوں میں کھویا تھا۔۔۔وہ یادیں اُسے شدید تکلیف دے رہی تھی لیکن وہ اُنہیں اپنے دماغ سے جھٹک نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
فرنٹ سیٹ پر بیٹھا لڑکا جیپ سے کود کر نیچے اترا اور اُس کی طرف بڑھ کر اُس کا بازو پکڑے اُسے روکے۔۔۔
نین کے جلتے وجود کو مانو کِسی برف نے چھوا ہو ایسا کرنٹ لگا۔۔۔۔۔۔
اُس کی سانس تھمی۔۔۔دماغ بیدار ہوا۔۔۔پیشانی پر شکنیں پڑی۔۔۔۔پلٹ کر سرخ بھیگی آنکھوں سے اُس شخص کو دیکھا تب اُسے خطرے کا احساس ہوا۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں خوف سے بکھریں۔۔۔۔۔۔بیگ کا ہینڈل ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔۔۔
ہمارے ساتھ چلو گی بے بی۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکا ٹھوڑی سہلاتا اُس کے اوپن جیکٹ سے نظر آتی میدے سی۔۔۔۔۔۔ نازک کمر کو دیکھتا ہوا معنی خیز انداز میں بولتا آگے بڑھا۔۔۔۔۔نین کی بوجھل آنکھیں پھیلی۔۔۔۔۔گلا خشک ہوا۔۔۔۔
اُس نے ایکدم سے دانت بھینچ کر قوت سمیٹے اُس لڑکے کو زوردار دھکا دے کے خود سے دور دھکیلا۔۔۔
وہ زمین پر گرتے گرتے سنبھلا۔۔ اور سیدھا ہو کر نین کو غصے اور ناگواری سے گھورتا اُس کی جانب لپکا۔۔ڈرائیو کرتا شخص بھی جیپ سے اُتر کر باہر آگیا۔۔۔۔
وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش میں پلٹی ہی تھی کے اُس لڑکے نے تاؤ میں آکر اُس کے کھلے بال پکڑ کر اُسے کھینچا اور اُس کے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ مارا
اتنی شدت سے کے کان سن ہو گئے اور وہ لڑکھڑا کے جیپ کے بونٹ پر اوندھے منہ گری ۔۔۔۔۔
سر جیپ کے سامنے لگے لوہے کے پائپ پر لگا اتنی زور سے کے سر سے گزرتی گردن اور بازو کی رگیں تک جھنجھنا گئیں۔۔۔۔۔پورا جسم سن ہو گیا۔۔۔۔آنکھیں بند ہو گئیں۔۔۔۔۔
دونوں لڑکے اُسے بے بس کمزور دیکھ کر ہنسنے لگے۔۔۔۔۔۔اور تالی ماری
نین نے بھاری ہوتے سر کو سیدھا کرنا چاہا۔۔۔بند آنکھوں کو کھولنے کی جدو جہد کرتی بونٹ پر ہی بڑی مشقت سے سیدھی ہوئی۔۔۔
پیشانی پر لگی ضرب سے خون نکل کر کان کی طرف اُتر رہا تھا۔۔۔۔
تھپڑ کی وجہ سے زخمی ہوئے لب کے کنارے سے نکلی خون کی لکیر ٹھوڑی تک آ گئی تھی۔۔۔
سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی۔۔۔
وہ سر بونٹ پر گرائے نیم جان پیروں پر جیپ کے سہارے کھڑی تھی۔۔۔بال چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔بوجھل آنکھیں سیاہ آسمان کی جانب تھیں۔۔۔گردن کی رگیں اُبھریں ہوئیں تھیں
بے ترتیب تیز سانسوں کے اثر سے ہوتی سینے کی ہلچل اور بےجان لرزتا نازک بدن اُس کے لیے مصیبت بُنتا سامنے کھڑے لڑکوں کی آنکھوں میں ہوس کو شہ دے تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں اپنی جگہ کھڑے اُس کے ہوش ربا بدن کو چیرتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
نازیبا باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ آوازیں سن رہی تھی وہاں سے بھاگنے کا سوچ رہی تھی ۔۔ خود کو بچانے کی۔ہمت جمع کر رہی تھی لیکن دماغ پر ایک بھاری بوجھ سا تھا جس سے اُس کے لیے حرکت کرنا مشکل ہو رہا تھا
اُن میں سے ایک لڑکا جیپ سے شراب کی بوتل نکال کر دانت سے اُس کا ڈھکن کھینچ کر ہوا میں اڑاتا اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
نین نے پڑے پڑے ہی دھندلی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا اور سیدھی ہونے کے لیے زور لگایا۔۔۔۔۔۔
اُس لڑکے نے بوتل نین کے نزدیک کرکے آہستہ سے ترچھی کی۔۔۔ اُس کے گلے پر شراب انڈیلنے کو تھا جب اُس کے کندھے پر پیچھے سے زوردار وار پڑا۔۔۔۔
بوتل ہوا میں اچھل کر دور جا گری اور چھناک سے ٹوٹ کر بکھر گئی۔۔۔
اُس لڑکے نے کندھا پکڑے ۔,۔کراہ کر جھلاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہا لیکن اُس کے پہلے ہی پیچھے سے اُس کی گردن سخت بازو کی گرفت میں بری طرح جکڑی جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کے لیے دیکھنا سمجھنا اور حرکت کرنا مشکل تھا۔۔۔
دوسرے لڑکے نے اپنے ساتھی کی جان مشکل میں دیکھ ہڑبڑا کر اُس پر وار کرنا چاہا لیکن وہ ایک لات اُس کے سینے پر زور سے مار کے اُس کی قوتِ حرکت کو سن کر گیا۔۔۔۔وہ دور جا گرا۔۔۔۔۔
اُس کی نظریں نین پر تھی ۔۔۔دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا اور نین کی بے آواز آہ محسوس کرکے بازو کی گرفت اُس لڑکے کی گردن پر سخت ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
وہ لڑکا دونوں ہاتھوں سے اُس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش میں ہلکان ہو تھا تھا آنکھیں خوف سے پھٹی جا رہی تھی۔۔۔
نیچے گرا لڑکا اٹھ کر طیش میں دوبارہ اُس کی طرف بڑھا تھا
لیکن اُس کے خود تک پہنچنے سے پہلے وہ اپنی گرفت میں موجود لڑکے کی گردن آزاد کرکے اُس کا سر جیپ کے درمیان میں لگے لوہے کہ سخت پائپ پر مار چکا تھا۔۔۔۔
اتنی زور سے کے آواز دور تک گونجی ۔۔۔نین کے بوجھل دماغ میں بھی جھماکا ہوا ۔۔
آگے بڑھتا لڑکا دہل کر رک گیا ۔۔۔
خوف سے ساکت ہو کر اُس کے سرد تاثرات کو دیکھنے لگا جو اب اُس کی طرف رخ کیے تھا۔۔۔۔
جب کے دوسرا زمین پر پڑا کراہ رہا تھا اُس کے سر سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔
نین نے اُس پائپ کو ایک ہاتھ سے جکڑ کر جو اُس کے سر پر لگا تھا۔۔۔۔اپنا پورا زور لگا کر سیدھا ہونے کی کوشش کی ۔۔۔۔سر اوپر کو اٹھایا تو درد کے مارے آہ نکلی ۔۔۔۔اُس نے آنکھیں سختی سے میچ کر سر واپس پیچھے رکھ دیا
ساحل اُس دوسرے لڑکے کی اور بڑھا تھا اور اُس کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ اُس لڑکے کی بھی جان ہوا ہو گئی تھی وہ بھاگنے والا تھا لیکن وہ اُس کی طرف بڑھتے بڑھتے رک گیا جب نین کے لبوں سے نکلی مدھم سی آہ اُس کے کانوں تک پہنچی۔۔۔۔
اُس کے تنے اعصاب نرم ہوئے اور وہ دونوں کو بھول کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
قدم اُس کے نزدیک جاتے ہوۓ بے حد بھاری ہو گئے اور دل کا بوجھ سینے سے سہنا مشکل ہوگیا۔۔۔۔
سرخ آنکھوں میں ذرا سا پانی جمع ہوتے ہی اُس نے فوراً پلکوں میں جذب کیا۔۔۔
منہ سے سانس خارج کرتے ہوئے اس کے قریب آکر اُس کا سرِ بونٹ سے ہٹا کر اپنے بازو پر رکھا ۔۔۔۔
اُسے خود سے لگایا۔۔۔۔۔
نین کی بند پلکوں میں حرکت ہوئی۔۔۔پیشانی پر لکیر اُبھری۔۔۔۔سن بدن نے تپشِ محسوس کی۔۔۔
اُس کی بےجان حالت چہرے پر اُنگلیوں کے نشان ، پیشانی اور لبوں کے کنارے لگی چوٹیں دیکھ ساحل کے لب آپس میں سختی سے مل گیے۔۔۔۔بیٹس مس ہوتی گئیں۔۔۔
اُس کا دھیان نین کی طرف پا کر وہ لڑکا اپنے ساتھی کو سہارے سے جیپ میں بٹھا کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا اس سے پہلے کے وہ اُس کی بھی شکل بگاڑ دیتا۔۔۔۔۔
اُس نے نین کے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اُنگلیوں میں لرزش ہوئی۔۔۔۔۔۔۔حلق میں کانٹے سے چبھنے لگے۔۔۔۔۔سانس لینا مشکل ہوا۔۔۔۔
پیشانی پر لگے زخم پر بکھرے بالوں کو بہت آہستہ اور سنبھل کر دور کیا اور نیچے کان تک بہتے خون کو سفید شرٹ کی آستین سے صاف کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کو سہارے سے سکون ملا تو سن دماغ میں قوت بھرنے لگی۔۔۔دھیرے سے آنکھیں کھلیں۔۔۔۔لیکن کچھ صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔کوئی قریب محسوس ہو رہا تھا۔۔۔لیکن اُس کا چہرہ دھندلا تھا۔۔۔۔
اُس نے آنکھوں پر زور دے کر اُنہیں بند کرکے کھولتے ہوئے غور سے دیکھا تب اُس کا چہرہ نظر آیا۔۔۔۔دِماغ بیدار ہوا اور دھڑکنیں تیز۔
۔۔
چند پل لگے یہ سمجھنے میں کے یہ کوئی خیال نہیں حقیقت ہے اور اُس کی آنکھوں میں مرچ سی بھر گئی۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر فکر تھی۔۔۔درد تھا۔۔۔۔تڑپ تھی۔۔۔بے بسی تھی لیکن نین کو وہ سب بھی سخت جھوٹے لگے۔۔۔۔۔فریب لگے۔۔۔
نفرت اور ناگواری کے احساس نے بدن میں طاقت بھر دی۔۔۔۔وہ اُس کے سینے پر ہتھیلی رکھ کر اُسے دھیرے سے دور دھکیلتی سیدھی ہو کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
بے ترتیب سانسیں لیتے ہوئے کھلتی بند ہوتی آنکھوں میں غصّہ اور ناراضگی لیے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
ساحل نے سب محسوس کیا لیکن دھیان صرف اُس کے زخموں پر دیا
۔۔۔اُس کے غصے سے بے پرواہ۔۔۔
پیشانی سے نظر ہٹا کر زخمی لبوں کو دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر انگوٹھے سے کنارے پر لگے خون کو رگڑا۔۔۔۔
نین نے اُس کا ہاتھ ایکدم سے جھٹک کر اپنے چہرے سے ہٹایا اور اُس کے گال پر نازک ہاتھوں کا کمزور سا تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔
اُس نے محض لب بھینچے آنکھیں بند کرکے کھولیں اور دوبارہ اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
چھ۔۔چھونا مت مجھے۔۔۔۔۔
وہ کمزور لہجے میں بھی سختی لیے ۔۔۔نفرت لیے۔۔۔ اُسے وارن کرتے انداز میں بولی ۔۔۔لب کانپ رہے تھے۔۔۔آنکھیں آنسوؤں کے ساتھ غصے اور سرخی سے بھی بھر گئی تھی۔۔۔
وہ قدم پیچھے لے کر پلٹی تھی تاکے جلد سے جلد اُس سے دور ہو جائے۔۔۔لیکن اُس کے پلٹتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھ کر اُس کے بکھرے وجود کو تھام گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے بازؤں نے نین کو خود میں سختی سے بھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔دھڑکنیں ایک رو میں آگئی تھیں۔۔۔۔
اور چہرہ اُس کے بالوں سے لگائے آنکھیں بند کرکے اُس نے بھاری جذب اور چاہت سے بھرے لہجے میں اُسے پکارا ۔۔۔۔۔
نین۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا نام ساحل کے لبوں سے سرگوشی کی صورت نکل کر کان میں اُترا۔۔۔۔اور وہ سرگوشی دھڑکن بن کر اُس کے دل کے ہر حصے میں گونج اٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تیسری دفعہ بھی اُس کے پکارنے میں ویسی ہی تاثیر تھی جیسے پہلی دفعہ تھی۔۔۔۔۔جیسے نام نہیں کوئی احساس ہو جو دل کو چھو گیا۔۔۔۔۔خوشبو ہو جو سانسوں میں اُتر گئی۔۔۔
نین کو لگا تھا اب بھی۔۔۔۔۔اب بھی اُس کا دل پگھل کر بہنے کو تیار ہے۔۔۔۔۔اور ہر نفرت ہر غصّہ ہر دکھ درد تکلیف غم سب اُس کی پُکار میں گھل کر گم ہونے کو راضی ہے۔۔۔
لیکِن وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
جو درد اُس نے دیا تھا۔۔۔۔جو تذلیل اُس نے کی تھی اُسے کِسی صورت نہیں بھولنا چاہتی تھی۔۔۔اب اسے معاف نہیں کرنے کا خود سے عہد کر چکی تھی
اس لیے خود کو سنبھالا۔۔۔۔ اُس کے ہاتھ جھٹک کر خود سے آزاد کیے اور پلٹ کر ایک دفعہ پھر اُس کے اُسی گال پر ایک اور تماچہ مارا۔۔۔
لیکن اس دفعہ اُس کے ہاتھ میں طاقت تھی۔۔۔۔تھپڑ میں زور تھا۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں بے حد نفرت تھی۔۔۔۔۔۔
وہ سانس روک کر مُٹھی بھینچ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا نا مجھے مت چھونا ۔۔۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے چلائی۔۔۔۔چاروں سنسنان دشاوں نے اُس کی آواز سنی۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی جانب نہیں دیکھا اُس سے نظریں نہیں ملائی۔۔۔۔۔۔۔اُس کے بازو پر نظریں جمائے گلا تر کیا
وہ اُس پر غصے سے برسنا چاہتی تھی اُس سے نفرت جتانا چاہتی تھی اُسے برا بھلا کہہ کے اُس سے بدلہ لینا چاہتی تھی۔۔۔لیکن آنسو رکاوٹ بن گئے۔۔۔۔درد نے ارادے کو کمزور کردیا۔۔۔۔۔۔گھٹن سے بولنا مشکل ہو گیا۔۔۔۔۔ہمت ٹوٹ گئی۔۔۔
تم سے محبت کرکے میں نے تمہیں خود پر ہر اختیار دے دیا۔۔۔۔۔اپنے دل کی گہرائی میں بسا کر خود کو توڑنے کا حق دے دیا۔۔۔
اینڈ یو ۔۔۔۔ڈڈ اٹ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھیگے بکھرے لہجے میں دھیرے سے بولی ساحل نے سانس نگل کر بے ضبط ہوتی آنکھوں کو پھر جھپک کر خود پر قابو رکھا۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے تباہ کردیا ساحل شیرازی۔۔۔۔۔۔
اُس نے لفظوں کو توڑ توڑ کر ادا کرتے ہوئے جملے کو پوری قوت سے چیخ کر جتایا کے اُسے کچھ تو احساس ہو ۔۔۔۔۔
اُس کی بے حسی پر کچھ تو اثر پڑے
ساحل نے مُٹھی کو سخت کرکے جبڑے بھینچ کر ۔۔۔۔۔۔سرخ نظریں اُس کے چہرے کی جانب اُٹھائیں۔۔۔۔اور سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔
اس کی کان کو چیرتی آواز اور نفرت بھرے لہجے سے زیادہ تکلیف دہ تھا اس کے لبوں سے ماما کے بیٹے کی بجائے اپنا نام سننا۔۔۔۔
اتنا کافی تھا ہر شکائت سمجھنے کو۔۔۔
اُس نے سوچا تھا کہ اُس کا غصّہ اُس کی ناراضگی برداشت کرلیگا۔۔۔اُس کا ہر تلخ لفظ سہہ لیگا غلطی کی ہے تو اُس سے اپنے لیے سزا بھی مانگ لیگا۔۔۔۔لیکن اب سمجھ آرہا تھا کے یہ اتنا بھی آسان نہیں۔۔۔۔ہمیشہ مسکراتے رہنے والے لبوں سے سسکیاں سننا اتنا بھی آسان نہیں۔۔۔۔
اُس کے الفاظ اُس کا لہجہ اُس کے آنسو اُس کی آواز جان کو آنے لگی تو ساحل کے لیے اپنے ارادے پر قائم رہنا مشکل ہوا۔۔۔۔۔۔
اور میرا قصور بتائے بنا تم نے یہ جو سزا دی ہے اس کے لیے میں تمہیں مرتے دم تک معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔آۓ سویئر۔۔۔۔
نین نے ہتھیلی سے آنسُو رگڑ کرنفرت اور حقارت بھرے لہجے میں جتا کر کہا اُس نے تڑپ کے ایکدم سے نین کے لبوں پر اُنگلی رکھی ۔۔۔۔
شش۔۔ش۔۔۔۔۔۔۔۔
منہ سے ہلکی سی آواز آہ کے ساتھ نکلی۔۔۔
سرخ نم نگاہوں میں بے بسی لیے اُسے دیکھتے ہوئے سر پھر دھیرے سے نفی میں ہلایا اور ضبط سے اپنا نچلا لب کانٹا۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔آنکھوں میں نفرت اور چہرے پر غصّہ بڑھ گیا۔ ۔۔۔
اور آج میں اس کھلے آسمان کے نیچے خدا کو حاضر مان کر تم سے اپنا ہر رشتا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی نفرت میں اپنے غصے میں اپنی بدحواسی میں آواز کو بلند کرکے جو کہنے کو تھی اُس کا اندازہ لگا کر ساحل کا دل دھڑکتے دھڑکتے رک گیا۔۔۔آنکھیں ساکت اُس کے لبوں پر رک گئیں۔۔۔۔۔۔اور پھر دل دوگنی قوت سے دھڑکا۔۔۔۔۔
اُس نے نین کی بات مکمل ہونے سے پہلے دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھام کر اُس کے لبوں کو اُس کی بات کو اُس کی آواز کو اُس کے غصے کو اُس کی نفرت کو خود میں قید کرلیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے وہ بات کہنے سے روک دیا جو خود کی سماعتوں کے لیے برداشت کرنا مشکل تھا۔۔۔۔۔
نین کی تیز رفتار سانس ایکدم سے رک گئی تو دل بھی ایک دم سے سکڑ گیا۔۔۔۔
سیاہ آسمان اُسے پگھل کر خود پر گرتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
آنسُو بھری سرخ آنکھیں پہلے صدمے سے پھیل گئی اور پھر ناگواری سے۔۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے دل سلگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور سانسیں باہر آنے کو مچل رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس نے پہلے سر پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اُسے دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھا اور اُس کی کوشش سے کان کے قریب اُنگلیوں کی اور لبوں پر لبوں کی گرفت سخت ہوگئی تھی۔۔۔۔
نین نے جھلّا کر ایک ہتھیلی اُس کے سینے پر اور دوسری اُس کے کندھے پر رکھ کر اُسے زور سے دور دھکیلا۔۔۔
اور اُس سے الگ ہوتے ہی۔۔۔۔۔۔ رکی سانس کھینچ کر۔۔۔۔۔۔
غصے سے دانت بھینچ کر ۔۔۔۔۔
پوری شدت سے ہاتھ اُس کے چہرے کی جانب اٹھایا۔۔۔اُسے تیسرا تھپڑ مارنے کے لیے لیکِن ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ایک انچ کی دوری پر ہی روک گیا۔۔۔۔۔اُس کی کلائی کو سختی سے پکڑ کر۔۔۔۔
نین نے غصے سے مُٹھی بھنچی۔۔۔۔۔ ہاتھ کھینچ کر چھڑانے کو زور لگایا ۔۔۔
اُس نے نین کی غصے بھری آنکھوں
میں بھیگی سرخ جلتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے۔ ۔۔۔۔۔اُس کی کلائی یونہی جکڑے۔۔۔۔۔۔ دوسرے ہاتھ سے اپنی پینٹ کی پچھلی پاکٹ سے گن نکال کر اُس کے ہاتھ میں تھمائی۔۔۔۔
نین کی آنکھوں میں حیرت اُبھری۔۔اُس کی مُٹھی خود بخود کھل گئی اور گن اُس کے ہاتھ میں سما گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کی آنکھوں سے نظر ہٹا کر گن کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔لیکن ساحل کی نگاہیں اُس کی بھیگی پلکوں میں اُلجھی رہیں۔۔۔۔
اُس نے کلائی یونہی تھامے دھیرے سے نین کے ہاتھ کو حرکت دے کر گن اپنی کنپٹی سے لگائی۔۔۔۔
اور نین کے رکے دل کو زور کا دھچکا لگا اُس نے منہ کھول کر سانس اندر لی اور اندر ہی روک لی۔۔۔۔۔۔۔۔
حیران پریشاں خوفزدہ نظروں نے دوبارہ اُس کی پرسوز آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
اور نظریں ملتے ہی صرف ایک سیکنڈ یا اُس سے بھی کم وقت لگا ساحل کی آنکھ میں آنسُو جمع ہو کر چھلک بھی گئے۔۔۔۔۔۔۔
اُسے رونے سے نفرت تھی لیکن اب نا سنبھلنے کا موقع ملا۔۔۔۔۔ نا اُن آنسوؤں کو حد توڑ کر باہر آنے سے روکنے کا۔۔۔۔نا انہیں چھپا پانے کا ۔۔۔
صرف ایک آنکھ سے نکلی چھوٹی سے بوند نے اُس کے خلاف جا کر اُس کے عرصے کے ضبط کو بے مول کر دیا۔۔
اور اُس بوند کا پلکوں سے جدا ہو کر چہرے کو چھو کر پھر ہوا میں گُم ہوجانا نین کی نظروں نے کتاب کے حرفوں کی طرح پڑھا۔۔۔۔۔۔
دل تڑپا۔۔۔۔دل مچلا۔۔۔۔دل دہلا
دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر گن یونہی اپنی کنپٹی پر لگائے دوسرے ہاتھ سے اُس کے گال تک آکر بکھرے بالوں کو سمیٹ کر پیچھے لیجاتا دوبارہ اُس کے لبوں پر جھکا۔۔۔۔
بھیگی آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔
سارے عمل کا صرف ایک مقصد تھا یہ بتانا کے تھپڑ سے بڑھ کر اگر تم جان بھی لے لو تو راضی ہوں۔۔۔۔۔لیکن تم سے دور ہونا منظور نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے منہ سے الگ ہونے کی بات سننا برداشت نہیں۔۔۔۔
نین کا دل ایسے بھر گیا جیسے بند کمرے میں دھواں دھواں۔۔۔۔۔سانس تو رکی ہی تھی لیکن خون کی گردش بھی مانو رک گئی۔۔۔۔۔۔
آنکھیں تھک کر ۔۔۔۔۔ہار کر دھیرے سے بند ہو گئیں ۔۔۔۔۔اور آنسُو بہتے گئے
گن پر گرفت چھوٹ گئی اور وہ ساحل کے کندھے سے ٹکرا کے زمین پر گر گئی۔۔۔۔حالانکہ وہ اُس کے ہاتھ کو وہیں اُسی طرح تھامے رہا۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے غصے کو مات دینے کی کوشش تو کی تھی لیکن جب بے قابو ہوتے دل اور آنسوؤں کی وجہ سے چند سیکنڈ میں خود کے لیے ہی سانس لینا محال ہوا۔۔۔تو بند آنکھیں مزید میچیں اور لب جدا کیے۔۔۔۔۔۔درمیان میں ذرا سا فاصلہ بنایا اور منہ سے سانس لی۔۔۔۔
پھر لبوں کو جوڑا۔۔۔۔پھر سانسیں الجھائیں۔۔۔پھر دم گھٹا۔۔۔۔ پھر بے ربط اشک دشمن بنے۔۔۔۔بند آنکھوں سے نکل کر ضایع ہوئے تو اُس نے آنکھیں کھول دی۔۔۔۔
پھر سانسوں کو الگ کیا۔۔۔۔ پہلے سے بھی کم فاصلہ بنا کر سانس لی۔۔۔اتنے قریب کے نین کو باقاعدہ محسوس ہوا جیسے۔اُس کے لبوں سے کسی نے نمی کھینچی ہو۔۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں کھولیں۔۔۔کچھ اُلجھن کچھ حیرت اور ڈھیروں اُداسی بھری آنکھیں ۔۔۔۔
کچھ خود کی خاموشی سے جھنجھلائ ۔۔۔۔
کچھ اُس کی بے سکونی سے پریشان۔۔۔۔
وہ پھر ضبط کی کوشش کرکے پھر لبوں کو چھونے کو تھا لیکن نین کی نظروں سے نظر ملی تو پھر چهو نہیں پایا۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کوشش بھی نہیں کر پایا۔۔۔۔۔
کیوں کے اس دفعہ دل نہیں سنبھلا۔۔۔۔۔اشک نہیں مانے ۔۔۔۔۔
سانس نہیں لی گئی۔۔۔۔۔
کھلے لب سختی سے مل گئے
آنکھوں میں تیز روشنی چبھنے سا احساس ہوا۔۔۔۔
نین کی نظروں نے شدّت سے محسوس کیا۔۔۔۔سرخ بھیگی آنکھوں میں کس قدر تیزی سے نمی بھری تھی اور اُس نمی کے ساتھ وہی درد ۔۔۔وہی تڑپ۔۔۔۔
اُس نے نین سے دور ہو کر تیزی سے رخ موڑا اور چہرہ آسمان کی جانب کرکے لبوں سے گہری سانس لے کر اپنے رکے دل کو آزاد کیا۔۔۔۔
پھر بے آواز کئیں آنسُو بھی آزاد ہوئے جو آنکھ کی حد میں ہی تیزی سے رگڑ رگڑ کر ہتھیلی تو کبھی خون سے نم آستین میں جذب ہوئے۔۔۔کئیں بے ترتیب آہیں بھی جو بازؤں کے زور سے دب گئیں۔۔۔۔
وہ اُس سے چھپ کر رو رہا تھا۔۔۔اُس سے منہ پھیرے کھڑا تھا لیکن نین کو اُس کا ہر تاثر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
اور اُسے خود پر غصّہ آرہا تھا خود کی بے چینی رلا رہی تھی۔۔۔۔کیوں کے اُس کا دل کٹ کٹ کر ٹکڑے ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
ہر ٹکڑا اُس کے پاس جانے کو مچل رہا تھا اور اُس کی بیوفائی کا درد پاس جانے سے روک رہا تھا۔۔۔۔
پیچھے سے آتی گاڑی کے ہارن کی آواز پر دونوں نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔۔
دور سے ایک گاڑی اُن کی طرف آرہی تھی۔۔۔شاید پورب یا ریا میں سے کوئی تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔نین نے واپس پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی۔۔۔۔
خاموش نظریں جو باتیں نہیں احساس سنانے کو کافی تھی۔۔۔۔
ساحل نے قدم آگے بڑھائے تو اُس کے دل میں گونج اٹھی۔۔۔۔کوئی خوف۔۔۔کوئی ڈر۔۔۔کوئی بوکھلاہٹ تھی جو الارم دے رہی تھی کے ایک دفعہ وہ پھر قریب آگیا تو نفرت دھواں ہوجائے گی۔۔۔۔غصّہ بہہ جائے گا
اُسی پل دور سے پورب نے نین کو پکارا۔۔۔۔اور گاڑی روکی۔۔۔۔
وہ تیزی سے آگے بڑھا نیچے پڑی گن اٹھا کر وہاں سے جانے کو پلٹا لیکن پھر رک کر واپس نین کی جانب دیکھا۔۔۔
پُر نم پُر جذب نظروں سے اُسے دیکھتے ہاتھ بڑھا کر اُس کے چہرے پر رکھا۔۔۔۔
ہتھیلی کا لمس آگ پر برف جیسا تھا ۔۔۔۔ جو نین کی رگوں تک کو محسوس ہوا۔۔۔۔۔
پورب گاڑی سے اتر کر نین کے نزدیک آیا تب تک وہ وہاں سے روڈ کی ایک طرف جا کر اندھیرے میں گم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔لیکِن نین کی نظروں سے اُس کا عکس گم نہیں ہوا تھا
نین۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔۔
پورب بھاگتا ہوا اُس تک پہنچا ہڑبڑا کر اُسے اُس کے ماتھے کی چوٹ تو کبھی اُس سمت میں دیکھتا ہوا جہاں اُس نے کسی کو جاتے تو دیکھا تھا لیکن اُس کی شکل سے ناواقف تھا ۔۔۔
نین نے کوئی جواب نہیں دیا
کون تھا وہ۔۔۔۔۔۔نین۔۔۔یو اوکے نا۔۔۔
پورب پریشان گھبرایا سا اُسے دیکھنے لگا اور اُس کے جواب نہ دینے پر اُس سمت بڑھنے لگا جہاں اُس نے کسی کو جاتے دیکھا تھا لیکن نین نے اُسے روک دیا
پورب۔۔۔۔۔۔۔کوئی اجنبی تھا۔۔۔شاید۔۔۔۔۔
اُسے پُکار کر غائب دماغی سے کہا تو پورب رک گیا اور سنجیدگی سے اُسے دیکھا
چلو تم۔۔۔۔۔
ایک دفعہ پھر اُس جانب دیکھ کر ذہن جھٹکتے ہوئے نین کو دیکھ کر کہا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے گاڑی تک لایا۔۔۔۔
∆∆∆