Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

Episode 24
وہ اُسے اپنے سینے سے لگائے آنکھیں بند کئے کھڑا تھا۔۔۔۔۔پوری شدت سے محسوس کرنے کے باوجود اب بھی اُس انجانے احساس کو وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔۔۔۔
وہاں کے اسٹاف کے ساتھ اندر آتی پایل نے بھی حیرت سے اُس منظر کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے نین اور داؤد کی انگیجمینٹ کا پتہ تھا۔۔۔۔۔لیکِن داؤد کے رویے کی وجہ سمجھ نہیں آئی
پایل نے وہاں کے اسٹاف کو جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی باہر نکل گئی
وہ اُس کی باہوں میں ساکت کھڑی اپنی سانس روک گئی جسم و دِل خوف سے لرزنے لگا۔۔۔
کہیں سکندر کی طرح وہ بھی اُس کے ساتھ کچھ غلط نہ کرے اس خیال سے اُس کی روح فنا ہونے لگی
چھ۔۔۔چھ۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔
وہ بکھری بکھری خوفزدہ آواز میں کہہ کے کمسا کر اُس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔داؤد کے لب مسکرائے
چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔
وہ بے بس سی روتے ہوئے بولی
ایک شرط پر۔۔۔۔۔۔
داؤد نے آہستہ سے کہا حیرت سے اُس کی آنکھیں پھیل گئی۔۔
تم مجھے بغیر تنگ کیے میرے سارے سوالوں کے جواب دو گی۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤ گی وہ بھی مرنے کی رٹ لگائے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے دھیمی آواز میں کہا وہ حیرانی سے سوچنے لگی کے آخر کیوں وہ شخص اُس کے مطلق جاننا چاہتا تھا۔
فلک کے جواب نہ دینے پر داؤد نے اُس کے گرد اپنا حصار تھوڑا اور مضبوط کر دیا۔جس پر وہ گھبرا کر ہوش میں آئی
مم۔۔۔۔میں ۔۔بتا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کے بولی تو داؤد نے اُسے خود سے الگ کیا ۔۔۔۔
وہ تیزی سے پیچھے ہوئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی
داؤد سنجیدگی سے اُس کے سوچوں میں اُلجھے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔ تو وہ فوراً نظریں جھکا گئی
آپ۔۔۔۔۔ میرے بارے میں کیوں جاننا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سر جھکائے پوچھا
تاکہ اندازہ لگا سکوں۔۔۔۔تمہیں جوڑنے کی شروعات کہاں سے کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے بے حد آہستگی سے جواب دیا وہ سر اٹھاکر نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔داؤد نے اُسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اچھا ڈرلنگ میں آفس جا رہا ہوں باۓ۔۔۔۔۔۔۔۔
راہب باہر جاتے جاتے عشرت کو دیکھ کر رکا جو منہ بنا بنا کر دسٹنگ کر رہی تھی
ركو۔۔۔۔۔۔
عشرت نے اُسے روکا اور بے چاروں سی شکل بنا کر اُس کے پاس آئی
تم بہت بدل گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں صبح سے کام میں لگی ہوئی ہوں ۔۔۔اتنا تھک گئی ہوں
وہ منہ بسور کر بولی
جان اب میں تمہارے پیر دبانے بیٹھ گیا تو آفس کے لیے لیٹ ہو جائے گا نہ۔۔۔۔۔۔
راہب نے۔ دور صوفے پر بیٹھی اپنے دادی کو دیکھ کر دھیمی آواز میں کہا عشرت نے ہنکار کے سر جھٹکا
پہلے تو تم کہتے تھے شادی کے بعد بھی مجھے ایسے ہی پیار کروگے۔۔۔۔۔۔
وہ منہ پھلا کر بولی
مجھے یہ کہاں پتہ تھا کے میری شادی تم سے ہی ہوجائے گئی۔۔
وہ بے ساختہ بڑبڑایا عشرت نے آنکھیں پھاڑ کے اُسے دیکھا
کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے مشکوک نظروں سے راہب کو دیکھتے ہوئے پوچھا
میں نے کہا میری جان میں تمہیں اب بھی بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔
لیکِن ابھی مجھے آفس جانا ہے۔۔۔واپس آکر ہم ڈنر پر چلے گے اوکے۔۔۔بائے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے بات سنبھال کر مسکراتا باہر نکل گیا بنا اُسے کوئی اور بات کا موقع دیے وہ دانت پیس کر اُسے دیکھتی واپس سے ڈستنگ کرنے لگی
چندا کی طبیعت خراب تھی اس لیے آج صبح سے دونوں کام پر لگی ہوئیں تھی کیوں کے رابعہ بیگم کا کہنا تھا کبھی کبھی ہمیں خود بھی محنت کر لینی چاہیے
وہ غصے میں زور زور سے کپڑا پینٹنگ گلاس پر رگڑ کر اُس پر اپنا غصّہ نکال رہی تھی
بھابھی آپ کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اس کے پاس آتے ہوئے مسکرا کر پوچھا تو عشرت نے گھور کر اُسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود کپڑے اور اسپرے ہوٹل کو دیکھنے لگی
میں۔۔۔۔۔۔ اس پینٹگ کے اندر جو تمہیں پرندے نظر آرہے ہیں نا انہیں کپڑے سے صاف کر رہی ہوں۔۔۔۔
اُس نے نین کے معصوم سوال پر۔جل کر جواب دیا
لیکِن بھابھی اُس کے لیے پہلے شیشہ ہٹانا پڑیگا نا ۔۔۔۔۔
نین نے بڑی ہی سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔۔
نین میں صفائی کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولی تو نین ہنسنے لگی
مجھے پتہ ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔چلیں میں بھی آپکی ہیلپ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دونوں سائیڈ کے آگے آتے بال کان کے پیچھے کرتےہوئے کہا۔۔۔
تم سچ میں میری مدد کرو گی۔۔۔۔نین تم کتنی اچھی ہو۔۔۔
عشرت نے خوشی سے جذباتی ہو کر کہا۔۔۔۔۔وہ دونوں کتنا برا بھلا کہتی تھی اُسے لیکن وہ آج اُسے کام کرتے دیکھ اُس کی ہیلپ کرنے آگئی تھی۔۔۔۔
عشرت اور اپنی باتوں اور طعنوں کا افسوس ہو رہا تھا
اُس نے خود سے وعدہ کیا کے آج کے بعد نین کے لیے کبھی برا نہیں سوچے گی۔۔۔
اُسے اپنی بہن سمجھے گئی
اب اس میں کیا ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔۔اخر کو یہ میرا بھی گھر ہے نہ۔۔۔۔آپ یہ مجھے دیجئے
نین نے مسکرا کر کہتے ہوۓ اُس کے ہاتھ سے اسپرے لیا
میں اسپرے کرتی ہوں آپ کلیننگ کرو۔۔
اُس نے معصومیت سے مسکرا کر کہا اور عشرت کی خوشی صدمے میں بدل گئی۔۔۔۔
ابھی ابھی کے سارے خیالوں پر لعنت بھیج کر اُسے پھر بہن سے دشمن بنا لیا
نہیں نین تم ابھی مہمان ہو نہ ہماری ۔۔۔۔۔ہم تم سے اتنی محنت تھوڑی کرو سکتے ہیں۔۔۔۔۔رہنے دو۔۔۔۔
عشرت نے اُس کے ہاتھ سے بوتلیں واپس لیتے ہوئے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا حلانکہ دل تو چاہ رہا تھا اپنا سر پیٹ لے اور نین کے بال کھینچ کر اُسے مارے
نین کندھے اچکا کر اُسے دیکھتی اپنی نانو کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔۔
عشرت نے آگے بڑھ کر ٹیبل پر رکھے گلدان کو زور سے جھٹکا کے وہ گرتے گرتے بچا۔۔۔۔
نانو۔۔۔۔۔۔۔یہ آج دونوں بھابھیوں کا پارہ اتنا ہائے کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔
نین اپنی نانو کو دیکھتے ہوئے بولی آج عشرت اور شیرین دونوں کافی چڑی ہوئی لگ رہی تھی
کیوں کے آج چندا کی طبیعت خراب ہے اس لیے یہ دونوں بے چاري صبح سے کام میں۔لگی ہوئی ہو۔۔۔
دادی نے دونوں پر ترس کھاتے ہوئے جواب دیا
کیا ہوا چندا کو۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
آسیہ بتا رہی تھی صبح سے اُسے چکّر اور اُبکائیاں آ رہی ہے۔۔
دادی نے سراسری سا بتایا لیکِن نین کو تو ہزار وولٹ کا جھٹکا لگ گیا
کیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے چلائی۔۔۔۔
کیا ہوا لاڈو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نانو نے گھبرا کے اُسے دیکھا۔۔۔۔عشرت بھی ہڑبڑا کر اُسے دیکھنے لگی
کچھ نہیں نانو میں ابھی آئی۔۔۔۔۔۔
وہ فق چہرے سے مسکرا کر کہتی وہاں سے اٹھ کرباہر بھاگی۔۔
کیوں کے اگر و نانو کو اُن کے معصوم پوتے کی حقیقت بتاتی تو اُنہیں بہُت دکھ ہوا
کہیں میں جو۔سوچ رہی ہوں وہ سچ تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنڈریڈ پرسنٹ سچ ہے۔۔
وہ آگے گارڈن کی طرف بڑھتے ہوئے خود سے سوال جواب کرنے لگی
اور سچ کی مہر بھی خود ہی لگا دی
اب دِن دھاڑے ایسے کام کرے گی تو ابکائیان تو آئیگی ہی۔۔۔۔۔
اُس نے نخوت سے منہ بنا کے کہا
یا اللہ یہ کیسے غلیظ کام ہو رہے ہیں میرے ننیہال میں۔۔۔۔
کیسے گندا کیا جا رہا ہے میرے نانا جان کے گھر کو۔۔۔۔۔۔۔
آج اُن کی روح کتنی بے چین ہوگی یہ سب دیکھ کر۔۔۔۔
وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے افسوس زدہ لہجے میں بولی
یقینا اُس کے نانا جان کی روح اُس کی معصومیت دیکھ کر صدمے میں ہوگی
بس ایک بار میں بہو بن کر اس گھر میں آجاوں۔۔۔۔اگر ساری گندی صاف نہیں کردی تو میرا نام بھی نین تارا نہیں۔
اچانک ہی دانت سے دانت جوڑے ایک نیا حلف اٹھایا۔۔۔
اور اس ساحل اور اُس کی چندا کا تو میں وہ حشر کروں گی کے دنیا یاد رکھے گی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سختی سے مٹھیاں بھینچے ہوئے کہا۔۔پھر اچانک ہی کچھ سوچ کر تاثرات نرم ہوئے
لیکِن اگر میں نے ساحل اور چندا کو کچھ کیا تو اُس بچے کا کیا ہوگا۔۔۔۔
اُسے نئی فکر نے آن لیا وہ پریشان ہوتی گارڈن میں لگے جھولے کے قریب رک کر اُس پر بیٹھ گئی
وہ بے گناہ تو یتیم ہو کر اس جہاں میں تنہا ہو جائے گا
ساری دنیا اُسے نا جائز،لا وارث،گندا خون۔۔۔یہ سب کہہ کہہ کے اُسے جینے نہیں دیگی۔۔۔۔۔۔۔
تنگ آکر یا تو وہ مر جائے گا یا کوئی بھیانک مجرم بن جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک دن جب وہ انکاؤنٹر میں مریگا تب اُس کی لاش میرے سامنے پڑی مجھ سے سوال کر رہی ہوگی کے کیوں کیا میرے ساتھ ایسا۔۔۔۔۔۔
تب میں اُسے کیا جواب دوں گی۔۔۔۔۔
اُس نے ایک ہی پل میں اُس بچے کی پوری زندگی سے موت تک کہ خواب دیکھ لیا جس کے ہونے کہا پتہ ہی نہیں تھا۔۔
آنکھوں میں۔خوف و غم کے سائے تھے
نہیں۔۔۔
ایکدم سے وہ اٹھ کھڑی ہُوئی۔۔۔چلتا ہوا جھولا اُس کے پیچھے لگا جسے وہ اپنے غم میں محسوس نہیں کر پائی
ماں باپ کے گناہوں کی سزا اُس معصوم کو نہیں دے سکتی میں۔۔۔۔۔۔
میں اُسے انکاؤنٹر میں۔مرنے نہیں دوں گی۔۔۔
وہ ایک نارمل اور خوشحال زندگی جئے گا۔۔۔
میں اُس کی خاطر اُن دونوں گناہ گاروں کو معاف کر دوں گی
اُس نے دل پر پتھر رکھتے ہوئی فیصلہ کیا
اس بچے کے لیے میں اپنے ہاتھوں سے چندا اور ساحل کی شادی کروا دوں گی
اُس نے جذبات سے بھیگے لہجے میں کہا اُس بچے کی ہمدردی نے اُسے اچانک پتھر سے موم بنا دیا تھا
وہ ابھی اپنے ارادے پر عمل کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی کے بلیٹ تھری ففٹی کی آواز نے اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچا
ساحل کو بائیک لے کے اندر آتے دیکھ اُس کے دل میں نفرت کے انگارے بھر گئے۔۔۔۔۔۔
دِماغ نے چیخ چیخ کر کہا کے یہیں ہے وہ نفس کا غلام ۔۔۔حوس کا پجاری جس نے ایک بھولی بھالی لڑکی کا فائدہ اٹھایا
وہ اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو دباتی اُس کی طرف بڑھی ۔۔اُس کے مضبوط قدم اُس کے ضبط کے گواہ تھے
وہ بائیک سے اُتر کر آگے جاتا اس کے پہلے ہی وہ اُس کے پاس آئی اور اُسے ایسے دیکھا جیسے آنکھوں سے ہی نگل جاۓ گی۔
ساحل نے ابرو اچکا کر اُس کے تیور ملاحظہ کیے
مبارک ہو تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف خطرناک مسکرہٹ اچھال کر دانت پیستے ہوئے بولی وہ مسکرایا
کیوں۔۔۔۔۔ تُو امریکہ واپس جا رہی ہے کیا۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر پوچھا
میرے امریکہ جانے کی تمہیں کیا پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔تم کیوں اتنا خوش ہو رہے ہو ۔۔۔۔میں مرتے دم تک اب یہیں رہوں گی ۔۔۔سمجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی
اسی بات کا تو دکھ ہے۔۔۔۔۔۔
ساحل نے آنکھیں گھمائی
اب تک اس گھر میں جو ہوا سو ہوا لیکن اب کچھ غلط نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔۔۔
ساحل پر نظریں جمائے اُسے جتاتے ہوئے بولی ۔۔۔وہ بیزار سی شکل بنا کر سائیڈ سے نکلنے لگا لیکِن نین نے اُس کا راستہ روک دیا
چندا پریگنینٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کے غصّے سے دیکھنے پر دانت پیس کر بولی
کون چندا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے حیرت اور نا اسمجھی سے پوچھا
اچھا تو اُس کے اتنے نک نیم رکھے ہوئے ہیں کے اُس کا اصلی نام بھی بھول گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اپنے مطابق اندازہ لگا کر کہا
وہی چندا جس کے ساتھ تم دِن رات ایلو ایلو کرتے رہتے ہو۔۔۔۔اور اُس ایلو ایلو کے نتیجے ہی آج وہ تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے۔
اُس نے ایک ایک۔لفظ پر زور دے کے اُسے باپ بننے کی خوش خبری دی۔۔۔
ساحل کی حیرت غصے میں بدلی۔۔۔
اے پاگلوں کی سردار۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیرے دِماغ کا سکرو کھل کر گر گیا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا بک رہی ہے تو۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس پر برسا کیوں کے الزام بہُت بڑا تھا
کیا کہا تم نے میں پاگلوں کی سردار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر سمجھدار لوگ تمہارے اور تمہاری چندا جیسے ہوتے ہیں نا تو مجھے فخر ہے اپنے پاگل ہونے پر۔۔۔۔۔۔
وہ دوبدو بولی
اور میں وہی کہہ رہی ہوں جو سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے پاپ کی نشانی چندا کے پیٹ میں ہے۔۔۔
تم باپ بننے والے ہو ساحل شیرازی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھوں میں چنگاریاں لیئے اُسے دیکھا
ساحلنے ضبط سے دانتوں بھینچے اپنی پیشانی رگڑی
دیکھ شانی۔۔۔۔۔ تو اپن کے بھیجے کی ماں بہن مت کر۔۔۔۔۔۔اگر ٹینشن میں اپن کا ہاتھ گھوم گیا نا تو تیری شکل کباڑ والے کے کام کی بھی نہیں رہے گی۔۔۔۔۔
کِسی چندا وندا کو نہیں پہچانتا میں
فالتو کے لپھڑے میں میرے کو مت گھسا
وہ نہایت غصے اور ضبط سے بولا ایسے گندے الزام پر دل۔تو چاہا اُسے ایک تھپڑ دے کر زمین بوس کردے
۔
میں تمہاری دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو بھولی بھالی لڑکی کو اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا کے اُس کے ساتھ عیاشی کرتے رہے
اور اب اُسے پہچاننے سے انکار کر رہے ہو۔۔۔۔
وہ آج اپنا عزم پورا کرنے کی ٹھان کے بیٹھی تھی
اُس بچے کو انکاؤنٹر سے بچانے کے جوش نے اُس میں ایک نئی طاقت اور ہمت بھر دی تھی
ساحل اب سرد نگاہوں سے اُسے بس دیکھ رہا تھا۔۔۔ضبط سے دانت بھینچے ہوئے تھی
میں تمہاری فطرت کو اچھے سے سمجھ گئی ہوں۔۔۔۔۔
تم صرف لڑکیوں کو استمال کرکے چھوڑ دیتے ہو۔۔۔۔
لیکِن اس بار میرے ہوتے ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔
تمہارے کالے کارناموں کی گواہ میں خود ہوں
یہ بچہ تمھارا ہی ہے۔۔۔۔۔اورتمہیں اسے اپنا نام دینا ہی ہوگا۔۔
تمہیں کل کے کل چندا سے نکاح کرنا ہوگا
وہ اُسے اپنا فیصلہ سنا کر گہرے سانس لینے لگی۔۔۔
اے جھانسی کی رانی۔۔۔۔۔۔۔چپ کر۔۔۔۔۔۔
ساحل ایکدم سے چینخ کر بولا تو وہ گڑبڑا گئی۔۔۔
تو سب سے پہلے میرے کو اس چندا کی۔شکل دکھا۔۔۔۔۔۔
ورنہ ۔۔۔۔۔۔
اُس نے بمشکل اپنے ہاتھ کو اٹھنے سے روکا نین نے اُس کی بات کاٹ دی
۔
کیا کروگے۔۔۔۔ماروگے اُسے۔۔۔۔۔۔دھمکاؤ گے کے اپنا منہ بند رکھے۔۔۔۔۔اس طرح سے تم اپنے گناہ نہیں چھپا سکتے۔۔۔۔
تمہارے پاپ کا گھڑا بھر چکا ہے ساحل شیرازی۔۔۔۔۔۔
وہ بھی چینخ کر بولی اور ساحل کی اب بس ہو چکی تھی
اُس نے نین کا بازوپکڑ کر اُسے اپنی طرف کھینچا وہ اُس کے قریب ہو کر سانس روکے اُسے دیکھنے لگی جس کی آنکھیں غصّے سے سرخ ہو رہی تھی
اب اگر تو ایک لفظ اور بولی نا تو تیرے منہ کو سوئی دھاگے سے سي دوں گا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی خوف سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتا غصے بولا ۔۔۔ایکدم سے اپنی حرکت کا اندازہ ہوا تو اُس کا بازو چھوڑ کے ایک قدم پیچھے ہٹا
وہ اب بھی گھبرا کے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔دل گھبراہٹ سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اوپر والا شکل دے کر دماغ دینا بھول گیا ہے تیرے کو۔۔۔۔۔۔
اپن کا کسی چندا کے ساتھ کوئی ایلو ایلو کہ سین نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
تو۔میرے کو کِسی کے بھی ساتھ اٹکانے کی کوشش مت کر
ورنہ تیرے دماغ میں جو کچرا بھریلہ ہے نہ اُسے جوتے سے صاف کروں گا میں۔۔۔۔
وہ اُسے غصے سے وارن کرکے سرد نگاہوں سے گھورتا آگے بڑھ گیا
میں تم سے ڈر کے چپ نہیں بیٹھوں گی۔۔۔۔۔۔
چندا کو انصاف ضرور ملے گا۔۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کی پشت کو نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا
اُس کے عزم کی آگ ساحل کے ذرا سے دھمکانے سے کم نہیں ہونے والی تھی بلکہ وہ اب جنگ کی تیاری کر چکی تھی
جس میں ابلا ناری چندا کی جیت اور دھوکے باز ساحل شیرازی کی ہار طے تھی
∆∆∆∆\\
میرے پاس جینے کے لئے کچھ نہیں ہے لیکن میرے مرنے میں میرے اپنوں کی زندگی ہے۔۔۔۔۔۔اپنے بھائی کی جان لے چکی ہوں میں اب اور کوئی نقصان نہیں برداشت کر سکتی۔۔۔۔
فلک نے اُسے اپنے ساتھ ہُوئی ہر زیادتی کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔۔۔۔اپنے ہر درد کو یاد کرکے بھی اس کی آنکھ سے ایک آنسُو نہیں گرا تھا حالانکہ داؤد کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہو رہتی۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نا کے خودکشی حرام ہے۔۔۔۔
داؤد نے کتنی دیر بعد لب کھولے
خدا نے میری زندگی کو ایک آزمائش بنا کر اسے ہلال کر دیا ہے مجھ پر۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب بھی سر جھکائے بولی
تم غلط۔ ہو ۔۔۔۔۔۔خدا آزمائشیں دے کر اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے۔۔۔۔۔۔تم اس طرح اس کی رضا سے منہ موڑ کر خود کو ختم نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔خدا ایسا کرنے والو کو کبھی معاف نہیں کرتا۔۔۔۔۔
زندگی نے زخم دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔۔۔
اب تم آخرت تو نہ خراب کرو اپنی۔۔۔۔۔
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا فلک اُس کی آخری بات پر نظریں اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی
تمہیں اگر اپنے خدا پر تھوڑا بھی بھروسہ ہے نہ ۔۔ تو تم آج کے بعد خودکشی کا خیال بھی دل میں نہیں آنے دوگی۔۔۔
داؤد اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا وہ دوبارہ سے سر جھکا گئی۔۔۔۔وہ اس بات کو سمجھتی تھی لیکِن جینے کے لیے باقی بچا بھی کیا تھا۔۔
اُس کے منہوس قدم پھر گھر میں پڑتے تو پھر کوئی نیا طوفان آتا
داؤد اُسے چند پل دیکھتا اٹھ کےباہر نکل گیا ۔۔۔
اگر وہ چند پل اور وہاں رکتا تو اُسے بتا دیتا کے تمہیں درد میں دیکھ مجھے کتنی تکلیف محسوس ہونے لگی ہے۔۔۔۔۔
تم پر گزرے ہر ستم کی داستان نے مجھے کتنے تیز شعلوں میں جلایا ہے۔۔۔
مجھے کُچھ سمجھ نہیں آرہا ہے داؤد۔۔۔۔۔۔
اب مجھے اس زیادہ تمہاری فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے پایل سے ملنے رکا تو وہ اُس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر فکر مندی سے بولی۔۔۔۔
مجھے بھی۔۔۔۔۔۔
داؤد نے آہستہ سے کہا اور آگے بڑھ گیا
∆∆∆∆∆∆∆\∆∆