Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 50
No Download Link
Rate this Novel
Episode 50
کیا کروں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین اُن دونوں کے روم کے دروازے پر کھڑی سوچ رہی تھی کے ایسا کیا کرے جس سے نین اور ساحل جھگڑے کی بجائے پیار محبت کرتے نظر آئے
ساحل روم میں نہیں تھا اور نین اندر بیٹھی موبائل پر ریا سے بات کر رہی تھی۔
ہاں موبائل۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک سے شرین کی آنکھیں چمکیں۔۔۔
بیڈ کے پاس ٹیبل پر ساحل کا بھی موبائل رکھا تھا
دونوں کے موبائل سے ایک دوسرے کو رومینٹک سے میسیج بھیج دیتی ہوں
پھر نین سوچے گی کے ساحل اُس سے پیار کرتا ہے
ساحل سوچے گا نین اُس سے پیار کرتی ہے پھر دونوں مل جائیں گے۔۔۔
اُس نے جلدی جلدی سارا پلان ترتیب دے دیا اور خود ہی سوچ سوچ کر خوش ہونے لگی۔۔۔۔۔
نین ۔۔۔۔۔۔
مسکرا کر نین پکارتی اندر آئی
نین نے اُسے دیکھ کر ریا کو بائے کہتے ہوئے فون رکھ دیا
جی بھابھی۔۔۔۔۔
شیرین کو دیکھتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی
مجھے ذرا اپنا فون دینا میرا موبائل نہیں مل رہا ہے اور مجھے ارجنٹ اپنی ممی سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔
شیرین نے بہانا بناتے ہوئے کہا نین نے مسکرا موبائل اُسے تھما دیا۔۔۔۔
اور وہ تمہارا پرفیوم بھی دکھاؤ نا مجھے ۔۔۔اپنے لیے آرڈر کرنا ہے
ساحل کا موبائل حاصل کرنے کے اُس نے دوسرا بہانا بنایا اور جیسے ہی نین ڈریسنگ ٹیبل کی طرف پلٹی جھٹ سے موبائل اٹھا کر دوپٹے کے پیچھے چھپا کیا اور یہ سب کرتے ہوئے وہ بری طرح گھبرا رہی تھی
جو بھی تھا تھی تو چوری ہی۔۔۔۔۔
نین سے پرفیوم لینے کے بعد وہ جلدی سے اپنے روم۔میں آئی پہلے نین کے موبائل سے ساحل کے نمبر پر میسیج بھیجا اور پھر ساحل کا موبائل اٹھایا تو وہ لاک تھا
ارے یہ تو لاک ہے اب اسے کیسے کھولوں۔۔۔۔۔
نین کے۔نمبر سے تو مسیج بھیج دیا اب اس سے کیسے بھیجوں۔۔۔
وہ پریشان ہو کر دانتوں میں اُنگلی دبائے سوچنے لگی۔۔۔۔۔۔باہر دروازے سے لگ کر کھڑی عشرت اُس کی ساری کاروائی پر غور کر رہی تھی
اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔۔۔
اُس کا پلان سمجھ کر سر ہلاتے ہوئے بولی
شانو۔۔۔۔۔۔
اچانک ہی شیرین کو شانو یاد آیا جو اکثر ساحل کے موبائل کے ساتھ نظر آتا تھا مطلب اُسے لاک پتہ تھا
وہ دونوں فون اٹھا کر شانو کے روم میں پہنچی۔۔۔۔اُس سے لاک کھلوایا اور پھر اُس کے فون سے نین کے نمبر پر میسیج کر دیا
اپنا کام پورا ہونے کے بعد وہ واپس اُن کے روم تک آئی اندر جھانکا تو روم خالی تھا دبے پیر اندر آکر دونوں کے موبائل الگ الگ جگہ رکھ چھوڑے اور اُسی طرح باہر آکر اپنی فتح پر تالی بجائی
اب آئیگا مزا۔۔۔۔۔۔۔
اُسے تو سوچ سوچ کر ہی مزا آرہا تھا کڑے اپنی کلائیوں میں نظر آرہے تھے۔۔۔
میں پہلے دادی کو لے آتی ہوں وہ جب خود ان دونوں کی پیار بھری باتیں سننے گی تو مجھے خوشی سے گلے لگا لیں گی۔۔
وہ بے حد پرجوش سی کہتی جلدی سے نیچے بھاگی۔۔۔۔اُسے جاتے دیکھ عشرت نکل کر باہر آئی اور منہ بنایا
میرے ہوتے ہوئے کڑے کے خواب خواب ہی رہ جائیں گے تمہارے۔۔۔۔
اُسے گھورتی کہہ کر خود ساحل نین کے روم میں پہنچی موبائل اٹھا کر چیک کیا کے شیرین نے کیا میسیج بھیجا ہے تو اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی
ساحل تم بہُت اچھے ہو۔۔۔۔۔۔بہُت ہینڈسم ہو,۔۔۔میں تمہیں آئندہ تنگ نہیں کروں گی۔۔۔۔غصّہ نہیں کروں گی۔۔۔۔۔کیوں کے مجھے تم سے پیار ہو گیا ہے۔۔۔۔
وہ میسیج دیکھ کر پریشان ہوئی
اور نین کو کیا بھیجا ہے۔۔۔۔۔
جلدی سے نین کا فون اٹھا کرچیک کرنے لگی۔۔۔۔
ساتھ ہی واشروم کی طرف دیکھا جہاں سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔۔۔۔دونوں میں سے ایک واشروم میں تھا اور ایک ٹیرس پر
نین تم بہُت خوبصورت ہو۔۔۔۔۔میرا دل چرا لیا ہے تم نے۔۔۔۔آۓ لوو یو۔۔۔۔
نین کو بھیجے میسیج پر تو صدمے سے اُس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
ایسے تو دونوں ایک ہو جائے گے اور میرے کڑے۔۔۔۔۔۔
وہ پریشان سے پیشانی پر بل ڈالے سوچنے لگی۔۔۔
اور پھر جلدی جلدی عشرت کے بھیجے میسیج ڈیلیٹ کر دیے
نین کو کیا بھیجوں جسے پڑھ کر وہ غصّے سے آگ بگولا ہو جائے۔۔۔اور بجائے پیار کے دونوں کی سخت لڑائی ہو جائے
اب وہ ساحل کا موبائل ہاتھ میں تھامے سوچنے لگی لیکن اُسے کچھ سجھائی نہیں دیا
کیا سن کر مجھے سب سے زیادہ غصّہ آتا ہے
اُس نے خود سے سوال کیا
موٹی۔۔۔۔۔۔
جلدی ہی جواب مل بھی گیا جس پر اُس کا چہرہ کھل اُٹھا اُس نے مسکرا کر سر ہلاتے نین کے نمبر پر میسیج بھیجا اور موبائل جہاں کا وہاں رکھ کر باہر آگئی
دادی آج تو آپ میرے ہاتھ ہی چوم لیں گی میرا کام دیکھ کر۔۔۔۔۔
شیرین دادی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتی گردن اکڑا کر بولی اس نے اُنہیں یقین دلا دیا تھا کے وہ آج ایک۔کرشمہ ہوتے دیکھیں گی۔۔۔۔
اور دادی اُسے اُمید میں پیرو ں کو تکلیف دے کر سیڑھیاں چڑھ رہی تھی
آپ دیکھنا دادی دونوں کیسے پیار سے ایک دوسرے کو لپٹے ہوئے ہوں گے
شیرین نے شرما کر کہا تو دادی نے اُسے گھور کر دیکھا وہ زبان دانتوں میں دبا گئی۔۔
ماما کے بیٹےےےے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی لمحے نین کی ایسے زوردار چینخ گونجی کے شیرازی مینشن کی دیواریں دہل اٹھیں۔۔۔۔
دادی اگلی سیڑھی پر بڑھتا پیر کانپ کر نیچے ہو گیا۔۔۔۔۔۔شیرین بھی بوکھلا اٹھی
اور ساحل
وہ ٹیرس پر بینچ پر لیٹا تھا چینخ سن کر اوپر اٹھتا بھاری باربیل اُس کی پکڑ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔۔۔
۔۔۔۔۔وہ اُسے پیچھے پھینک کر فورًا اٹھا اور روم میں دوڑا
اُس کے روم میں پہنچنے کی دیر تھی کے ایک بوٹل ہوا میں گھومتی ہُوئی۔ اُسکی طرف آئی اور پیچھے کی دیوار پر بجی
۔۔۔۔۔ اگر وہ بر وقت جھکتا نہیں تو یقیناً اُس کے سر پر پڑتی۔۔۔۔
یو کمینے۔۔۔۔۔ٹھرکی۔۔۔۔ وائلڈ مین۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ایسا میسیج بھیجنے کی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے غصے سے دیکھ کر چیخ اٹھی اور دوسری بوتل اٹھا کر اُس کے سر کا نشانہ لیا
کیا کر رہی ہے لگ جائے گی۔۔۔۔۔۔بیوہ کریگی کیا خود کو۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بوتل پھینکنے سے پہلے ہی چیخ کر بولا نین نے دانت پیستے اُسے گھور کر بوتل اُس پر پھینکی وہ فوراً سائیڈ پر ہوا۔۔۔
باٹل پھر دیوار پر۔لگ کر ٹوٹی اور شیرین نے آنکھیں میچ کر ایک کھولتے ہوئے دادی کو دیکھا جو ابھی بھی صدمے میں تھیں
آج تو میں تمہارا منہ توڑ کر ہی رہوں گی
وہ اپنے نشانہ چوکنے پر بدمزہ ہوتی آستین چڑھاتے ہوئے اُس کی طرف بڑھی
اُس کے خطرناک تیور دیکھ وہ حیران ہوتا سائیڈ سے ہو کر دور ہونے کہا
ابے ۔۔بنا بریک کی کھٹارا پہلے بکے گی کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے اپنے پیچھے لگے دیکھ وہ بھاگ کر حیران ہوتا بیڈ کے دوسری سائیڈ ہو گیا
تم نے مجھے موٹی کیوں کہا۔۔۔۔۔تمہارے باپ کا کهاتی ہوں کیا۔۔۔۔۔
اور تمہیں کس اینگل سے میں موٹی لگتی ہوں جو تم مجھے موٹی بول رہے ہو۔۔۔
وہ بیڈ کی مخالف سائیڈ کھڑی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
اپن کا دماغ تیرے جیسا کھسکیلا نہیں ہے۔۔۔۔تیرے کو تو مچھر بھی اپنی برادری کا سمجھتے ہوگے حالت دیکھ کر ۔۔۔۔۔
میں کیوں موٹی سمجھوں گا۔۔۔
وہ حیرت اور عاجزی سے بولا
تو میسیج کیوں کیا۔۔۔۔۔۔
وہ چیخ اٹھی
کونسا مسیج۔۔۔۔۔۔۔
ساحل کی حیرت اپنی جگہ تھی
نین نے دانت پیستے اُسے دیکھا اور موبائل کھول کر اُس کے سامنے کر دیا
یہ والا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے بولی
یہ میں نے نہیں کیا۔۔۔۔
وہ حیرت سے سر کھجانے لگا
اچھا مطلب تمہارے موبائل میں کوئی نیا فیچر ہے جس سے خود بخود ہی مسیج ٹائپ ہو کر سینڈ بھی ہو جاتا ہے
دیکھو ماما کے بیٹے مجھے بے وقوف مت سمجھو میں جانتی ہوں یہ تم نے ہی کیا ہے
وہ موبائل بیڈ پر پٹخ کر آگے ہوئی وہ بے ساختہ پیچھے کھسکا حلانکہ درمیان میں بیڈ بھی تھا
سوری دادی پتہ نہیں یہ کیسے ہو گیا۔۔۔۔
دادی کو گھورتے دیکھ شرین صدمے سے بولی۔۔۔
دادی واپس نیچے جانے لگیں اور شیرین وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ارے جو بولنا ہے منہ پر بولو نا ۔۔۔۔ویسے بھی مسیج پر لڑائی میں مزا نہیں آتا مجھے۔۔۔۔میں تو جو کرتی ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتی ہوں۔۔۔تمہاری طرح چھپ چھپ کر وار نہیں کرتی۔۔۔
اگر لڑنا ہے تو سیدھے میدان میں آؤ۔۔۔۔۔۔
ڈر کیا رہے ہو۔۔۔
اُس کی ڈیر نگ جاری تھی۔۔۔۔
ساحل جو اب تک حیران پریشان تھا اُس کے بات پر سیدھا ہو کر اُسے سنجیدگی سے گھور کے دیکھا
نین غصے سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ناک منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔۔۔۔
دانت ایسے بھینچے تھے جیسے ساحل کو چبا جائے گی
چل آ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سامنے آیا اور ٹی شرٹ اتار کر پھینک دی۔۔۔۔و بری طرح سٹپٹا گئی۔۔۔
ساری بہادری ا ڈ ن چھو ہو گئی۔۔۔
اُسے شرٹ لیس دیکھ کر شرم سے زیادہ گھبراہٹ ہوئی کیوں کے اُس کے پھولے بازوؤں کی ایک ایک رگ واضح نظر آرہی تھی۔۔۔اُس کے بازو سے نظر ہٹا کے نین نے اُس کے چہرے کو دیکھا اور ایسے مسکرائی جیسے کسی نے سر پر گن رکھ کر ہنسنے کا آرڈر دیا ہو
ارے۔۔۔۔تت۔۔تم نے تو سیریس لے لیا۔۔۔۔۔۔
میں تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس نے سیز فائر کیا ساحل نے ابرو اچکا کے گردن ہلائی ۔۔۔
اُس کے خطرناک تیور دیکھ کر وہ بیڈ پر چڑھ گئی
رکو ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
ایک گھر میں رہتے ہوئے ایسے لڑنا اچھا لگتا ہے کیا بھلا۔۔۔۔۔,دنیا کیا کہے گی۔۔۔۔۔سماج کیا کہے گا۔۔۔۔
وہ روتی مسکراتی کیفیت میں بولی
بہت شوق ہے نہ تیرے کو میرے سے لڑنے کا آج تو تیرا شوق پورا کرکے چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے آگے بڑھ کر اُس کا پیر زور سے کھینچا وہ آہ کرتی دھڑام سے بستر پر گری۔۔۔
ساحل اُس کے سنبھلنے سے پہلے ہی گھٹنہ بیڈ پر ٹکائے اُس پر جھکا دونوں ہاتھ اُس کے دائیں بائیں بیڈ پر رکھے درمیان میں تھوڑا فاصلھ رکھتے ہوئے
اب بول۔۔۔۔سامنے ہوں۔۔۔۔۔دکھا کیا کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بے حد قریب جھکا۔ اُس کی خوف زدہ نگاہوں میں دیکھتے ہوئے بولا
وہ سن ہو کر سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
زبان تالو سے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔
آنکھیں خوف و حیرت سے پھیل گئی۔۔۔
دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا کے اُس کے اثر سے پورے بدن میں لرزش ہونے لگی
ساحل نے ایک نظر اُس کے گلابی لرزتے لبوں کو دیکھا اور اُس سے دور ہوتے ہوئے بیڈ سے اُترا
وہ موقع پاتے ہی جلدی سے اٹھ کر ٹیرس کی طرف بھاگی۔۔۔۔اس ڈر سے کے وہ اُس کے پیچھے آکر اُسے نیچے ہی نا پھینک دے دروازہ بھی بند کر دیا۔۔۔
جب کے ساحل وہیں کھڑا گہری سانس لے کر بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
شیرین صدمے۔میں اُس جگہ بیٹھی تھی اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا اُس کے محبت بھرے میسیج جھگڑے کا باعث کیسے بن گئے
عشرت بھی مسکرا کے اسے دیکھتی آکر اُس کے ساتھ ہی سیڑھیوں پر بیٹھ کر مزے سے ایپل کھانے لگی
یہ سب تم نے کیا نا۔۔۔۔۔۔
شیرین۔نے منہ بنا کے اسے گھورتے ہوئے پوچھا
کیا۔۔۔کس بارے میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔
عشرت نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا اور پھر زور زور سے ہنسنے لگی
∆∆∆∆∆∆
آپ کا یہ بولنا ہے کے اُس کو جو کرنا ہے کرنے دیتا میں۔۔۔۔
منہ پر اُنگلی رکھ کر دیکھتا رہتا۔۔۔۔۔۔
وہ پرتاب کے سمجھا نے پر غصے سے بولا۔۔۔پرتاب نے تاسف سے سر ہلا دیا
کیوں کے اُسے اُس کی غلطی سمجھانا دنیا کا مشکل ترین کام تھا
ٹھیک ہے جیا نے غلط کیا۔۔۔۔۔۔
اپن سب کو پتہ تھا کے وہ جھوٹ بول ریلی
لیکِن بدلے میں وہ پروفیسر کیا اُس کے ساتھ زبردستی کرےگا
اور میں کیا اُس سالے کو کرنے دوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا سگریٹ جلانے لگا
وہ غلط بھی تھا تو تم اُسے یوں مار نہیں سکتے۔۔۔۔۔قانون نہیں توڑ سکتے تم۔۔۔۔۔
پرتاب نے پہلی دفعہ لہجے میں سختی لا کر اُسے جتایا
یہ سہی ہے ۔۔۔۔۔۔وہ کمینے پن پر اُتر کر کسی کے بہن کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے پر میں سالہ قانون کا غلام اُسے روکنے کو قانون نہیں توڑ سکتا ۔۔۔۔۔۔گجب
وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے تالی بجا کر بولا پرتاب نے غصے سے اُسے دیکھا
ٹھنڈے دماغ سے سوچا کرو ساحل۔۔۔۔۔۔۔تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے تمہاری آئیڈنٹٹی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔ایسے موقعے پر پرسکون رہنا بھی تمہاری جاب کا ایک حصہ ہی ہے۔۔۔
دشمن کے سامنے طاقت سے زیادہ دماغ استعمال کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے تمہیں
اور تم بھی جانتے ہو کے شاد کے ارادے غلط نہیں ہو سکتے۔۔۔وہ جیا کے ساتھ کوئی غلط حرکت نہیں کر سکتا
بھلے غصے میں کچھ بھی کہہ لے
وہ کوئی مجرم نہیں۔۔۔۔ ہم میں تم میں سے ہی ایک ہے۔۔۔۔۔
پرتاب نے بھی اس بار اُس کے غصے کا جواب غصے سے دیا
جو بھی ہو لیکن میں نظر کے سامنے غلط ہوتا برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔
ویسے بھی میں اُسے اتنا نہیں مارنا چاہتا تھا۔۔۔وہ تو اُس نے میرے پر ہاتھ اٹھایا اور میری سٹک گئی۔۔۔۔۔
اُس نے غصے میں ہی سہی اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو پرتاب نے ٹھنڈی سانس لی اور اٹھ کے اُس کے پاس آئے
اس لیے کہتا ہوں اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھو۔۔۔۔۔
خیر جو ہوا سو ہوا۔۔۔۔آئندہ دھیان رکھنا
اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہے سمجھانے والے انداز نے تھپکی دی
مجھے ضروری کہیں جانا ہے۔۔۔۔تم سے اکیڈمی میں ملاقات ہوگی
اُنہوں نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا
میں نے لیو لی ہے کچھ دن کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے بیزار سے لہجے میں کہا
بہتر ہے شاد اور تمہارا سامنا نا ہی ہو تو اچھا ہے۔۔۔۔۔کے کے کا کیا مسلہ ہے
اُنہوں نے میز سے اپنا فون اور فائل اٹھاتے ہوئے پوچھا
ٹائم پاس ہے اپن کے لیے۔۔۔۔ویسے بھی جب تک اُس لڑکی کا پتہ نہیں لگتا سنگھانیہ کا کیس پینٹنگ میں ہے۔۔۔۔
تب تک کے کے کے ساتھ انٹرٹینمنٹ ہو جائے گا۔۔۔
ویسے بھی وہ سالہ اپن کا بگ فین ہے۔۔۔۔۔۔
وہ پہلی دفعہ مسکرا کر بولا
نین کے ساتھ کیسی جا رہی ہے۔۔۔۔۔کچھ بنا
پرتاب نے مسکرا کر اُسے دیکھتے ہوئے زو معنی لہجے میں پوچھا تو اُس نے برا سا منہ بنایا
سرِ اُس کا تو نام مت لو۔۔۔۔۔میری مست لائف کی ایسی تیسی کر رکھی اُس نے
وہ بدمزہ ہو کے بولا پرتاب ہنستے ہوئے باہر نکل گیا
@@@@@
کھانا بہُت اچھا بنا ہے آج۔۔۔۔۔
دادی نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہیں خوشدلی سے اُس کی تعریف کی فلک خوش ہو کر مسکرائی جب کے نین اُداس ہو کر اُنہیں دیکھنے کہیں ۔اُس کی نانو فلک کی تعریف کرے یہ بات اُسے پسند نہیں آرہی تھی
جب سے فلک بنا رہی ہے کھانا ایسا ہی بنتا ہے کے انسان تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا
آسیہ بیگم نے بھی مسکرا کر اُسے دیکھا
واقعی بیٹا تمہارے ہاتھ میں بہُت ذائقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے محبت بھرے لہجے میں دعا دی تو نین نے خفگی سے اُنہیں دیکھتے ہوئے سر جھکا لیا
آج سب غائب ہے ناشتے سے۔۔۔۔۔۔
دادی نے سونی سونے ٹیبل کو دیکھتے ہوئے کہا
ہاں دادی راہب ۔ضارب اور پاپا جی جلدی آفس چلے گئے۔۔۔اور داؤد تو کل سے ہی باہر گیا ہوا ہے۔۔۔جیا کی طبیعت خراب نہیں اسلئے وہ سو رہی ہے ابھی
شیرین نے اُن کے سامنے پانی رکھتے ہوئے تفصیل سے بتایا
اور ساحل۔۔۔۔۔۔
دادی نے ساحل۔کے مطلق پوچھا
وہ کونسا وقت کے حساب سے چلتا ہے۔۔۔۔۔۔یا تو سو رہا ہوگا یا نکل گیا ہوگا مٹر گشتتی کرنے۔۔۔۔۔۔
عشرت نے ہنس کے جواب دیا جس پر نین نے سر اٹھا کر اُسے گھورا
مٹر گشتی کیوں اپنی جاب پر گیا ہوگا نا۔۔۔۔چپراسی والی۔۔۔۔۔
شیرین نے بھی ساتھ دیا اور دونوں ہنسنے لگی ۔دادی دونوں کو آنکھیں دکھانے لگیں لیکن اُنہوں میں دھیان نہیں دیا
لیکِن یہ چپراسی والی جاب اچھی ہی ہے۔۔۔پہلے کی طرح مار پیٹ کرکے تو گھر نہیں آتا اب۔۔۔۔۔۔۔ورنہ پہلے تو بس گنڈا گرد ی کرتا رہتا تھا
عشرت نے کان کو ہاتھ لگایا وہ آپ خاموشی سے سر جھکائے اُن کی باتیں سن رہی تھی
غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔۔۔آج شکل نہیں دیکھی اُس کی کل پھر سے کِسی سے لڑائی کرکے آیا تھا پکّے میں۔۔۔۔۔۔وہ کبھی شریف نہیں بن سکتا زیادہ دن۔۔۔۔۔
شیرین نے منہ بناتے ہوئے کہا
جن کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔۔۔۔اُن کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سڑکوں پر پلنے والے محلوں کے خواب دیکھ کر زبردستی لوگوں کی زندگی میں گھس ضرور آتے ہے لیکن اُس سے اُن کی اوقات نہیں بدلتی۔۔
رابعہ بیگم نے اُن دونوں کی بات پر ناگواری سے کہا ۔۔۔
وہ جو کچرے میں ملتے ہیں نا۔۔۔۔ اُس کیٹگری میں۔۔۔۔۔
اُسے ساحل کے الفاظ یاد آئے۔۔۔اُسے بار بار اُس کی کمتری کا احساس دلایا جاتا تھا۔۔۔وہ تب بھی خاموش رہتا تھا لیکِن نین اتنی صابر نہیں تھی اُس کی حد یہیں ختم ہو چکی تھی
بس کیجئے۔۔۔۔۔۔۔
ابھی رابعہ بیگم مزید بولنے ہی والی تھیں کے وہ ایکدم سے چمچ پلیٹ میں پٹخ کر اٹھ کھڑی ہوئی سب ششرد سے اُسے دیکھتے رہ گئے
نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے حیرت سے اُسے پکارا
۔۔۔آپ اس طرح ساحل کی انسلٹ نہیں کر سکتیں بڑی مامی۔۔۔۔
وہ اُن کی طرف دیکھ کر ناگواری سے بولی۔۔۔انداز وارن کرنے جیسا تھا جتانے جیسا تھا۔۔۔۔عشرت اور شیرین تو اُس کی ہمت پر صدمے میں تھیں۔۔
سب کے سامنے اُس کے سخت لہجے میں بات کرنے پر رابعہ بیگم اندر ہی اندر کلس کے رہ گئیں
یہ تم کہہ رہی ہو نین۔۔۔۔جو موقع ڈھونڈتی ہے اُس کی بے عز تی کرنے کا
رابعہ بیگم نے پیشانی پر بل ڈالے کہا
میں کر سکتی ہو بڑی مامی۔۔۔۔۔۔آپ نہیں کر سکتیں۔۔۔۔۔
اُس نے اُن کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گردن ہلا کے کہا۔۔۔بڑی ڈھٹائی سے۔۔۔
رابعہ بیگم دیکھتی رہ گئیں
کیوں کے میں اسے تنگ کرنے کے لئے کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔اور آپ اُسے نیچا دکھانے کے لیے کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہُت سکون بھرے لہجے میں کہا دادی نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔حیرت کے ساتھ خوشی بھی تھی کے وہ ساحل کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتی۔۔۔
بلکہ اُس کے لئے رابعہ بیگم کے سامنے کھڑی ہو گئی
اُس لڑکے کے لئے تم ہم سے لڑ رہی ہو نین۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے صدمے سے بھرپور لہجے میں پوچھا نین نے فورا اُن کی بات کاٹی
اِک منٹ بڑی مامی۔۔۔۔آپ کا سینٹنس ایسے ساؤنڈ کر رہا ہے لائیک۔۔۔۔۔۔
تم اُس راہ چلتے اجنبی کے لئے ہم سے لڑ رہی ہو نین
وہ کوئی ان نون نہیں ہے بڑی مامی۔۔۔۔۔ہسبنڈ ہے میرا۔۔۔۔میرے نام میں میرے سرنیم سے پہلے آتا ہے وہ۔۔۔
کچھ تو ویلیو ہوگی نا اُس کی ۔۔۔۔۔۔
آپ اُسے بلا وجہ بار بار بے عزت کریں گی تو مجھے برا نہیں لگے گا کیا
وہ خفگی و غصے سے بولی۔۔۔۔رابعہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اُنہیں ساحل کی یہ طرفداری اور نین کا رویہ سخت برا لگا لیکن وہ نین سے تلخ کلامی کرکے اُس کے دل خراب نہیں کر سکتیں تھیں
نین بیٹا تم اُس لڑکے کے ساتھ ہمدردی کر رہی ہو جو اُس کے لائق نہیں ہے۔۔۔۔۔اُس کی کسی بات میں مت آجانا وہ بہُت چالاک ہے۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے
انہوں نے نرمی سے اُسے سمجھاتے ہوئے ساحل کے خلاف کرنا چاہا۔۔۔
ریلی بڑی مامی۔۔۔۔۔وہ مجھے پھنسنانا چاہتا ہے
اُس نے حیرت سے اُنہیں دیکھتے ہوئے اُن کا ہاتھ شانے سے ہٹایا
ایک دِن نہیں گزرا شادی کے بعد سے جب اُس نے مجھے اس گھر سے اپنی زندگی سے جانے کو نہ کہا ہو۔۔۔۔۔
کبھی غصے سے۔۔۔کبھی سمجھا کر۔۔۔۔کبھی بیزاری سے ہر بار یہ جتایا ہے اُس نے کے میرے ہونے سے وہ سخت عاجز ہے۔۔۔۔۔مجھے بلکل برداشت نہیں کر سکتا
اب یا تو وہ آپکی سوچ سے بھی زیادہ چالاک ہے جو اس طرح اپنی امیج خراب کرکے مجھے پھنسا رہا ہے
یا آپ کی نظر شاید کمزور ہو گئی ہے جو اُسے کچھ اور ہی سمجھ رہی ہیں۔۔۔۔
اُس نے افسوس بھرے لہجے میں کہا
نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمیز میں رہو۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے غصے سے اُسے دیکھا
میں بدتمیزی نہیں کروں گی بڑی مامی لیکِن آپ بھی پلیز اُسے الٹا سیدھا مت بولنا مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔
اُس نے ریکویسٹ بھی دھمکی بھرے لہجے میں کی
میرے گھر میں۔مجھے جو غلط لگے گا میں اُسے بولوں گی۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے سخت لہجے میں جتایا
آپ کے گھر میں داؤد بھی ہے بڑی مامی۔۔۔۔۔اگر دیکھا جائے تو وہ بھی غلط ہے اُسے تو کچھ نہیں کہا آپ نے آج تک۔۔۔
ارے وہ کیا آپ نے خود جان کر بھی اپنے شادی شدہ بیٹے سے میری شادی کرانی چاہی ۔۔۔غلط تو آپ بھی ہوئی نا۔۔۔۔۔خود کو کچھ نہیں کہا آپ نے کبھی۔۔۔۔۔
یا خود کو اور اپنے بیٹے کو سب کے سامنے غلط کہنا آپکو اچھا نہیں لگتا اس لیے الگ کِسی کمرے میں یہ کام انجام دیتیں ہے آپ۔۔۔۔۔۔
اگر ایسا ہے تو ساحل کو بھی پلیز ایسے ہی ٹریٹ کیا کریں۔۔۔۔۔آفٹر آل رول سب کے لیے ایک ہونے چاہیے نہ
وہ لگاتار بولتی ان کی ہر بات کا کرارا جواب دے کر اُنہیں ہے یقین کرتی گئی۔۔
بنا کوئی لحاظ کیے۔۔۔
سب ششرد اُسے دیکھتے رہ گئے
رابعہ بیگم اُسے غصے اور حیرت سے گھور رہیں تھیں
نین بیٹا۔۔۔۔۔۔اس طرح بات نہیں کرتے
نانو نے بات مزید بڑھ جانے کے ڈر سے اُسے تنبیہ پکار کے روکا
میں غلط کہہ رہی ہوں کیا نانو۔۔۔۔۔وہ پاگل آدمی میرے سامنے اتنی زبان چلاتا ہے اور یہاں اُسے کوئی کچھ بھی بول کر چلا جائے ایک لفظ نہیں کہتا آگے سے۔۔
وہ نانو کو دیکھ کر جواب دیتی سب کو خفگی سے دیکھ کر وہاں سے چلی گئی
رابعہ بیگم نے اُس کے رویے کو سوچ کر خود کو یقین دلانا چاہا کے یہی اُن کی پسند ہے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
