Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 91
No Download Link
Rate this Novel
Episode 91
باس۔۔۔۔بہُت اچھا موقع ہے۔۔۔آج اپنے دل کی بات بول دو۔۔۔
چار لڑکے اُسے گھیرے کھڑے تھے۔اور اس کا جوش بڑھا رہے تھے تاکہ وہ ہمت کرکے دل کی بات زبان پر لے آئے۔
نہیں یار۔۔۔۔۔۔ایسے سب کے سامنے۔۔۔برا مان گئی تو۔۔۔
اُس نے دور سے ایک نظر انجو کے مسکراتے چہرے کو دیکھتے ہوۓ سر نفی میں ہلا کر کہا۔۔
یہی سوچ سوچ کر تو اِنتظار کرتا رہ جائے گا اور کوئی اور دل والا تیری دلہنیا لیجائے گا
ایک نے اُسے وارن کرنا چاہا تو وہ اُسے گھور کے رہ گیا
ہاں برو۔۔۔یہ چانس جانے مت دے۔۔۔۔ورنہ بہُت پچھتائے گا۔۔دیکھ انجلی کا موڈ بھی ابھی بہت اچھا ہے۔۔۔جا کر پرپوز کردے اُسے۔۔۔
سب کے پر زور اسرار اور اپنے دل کی مانتے ہوۓ اُس نے خود کو اظہارِ عشق کے لیے تیار کر لیا ۔۔۔
لیکن اب بھی ایک اُلجھن تھی کے کہیں وہ انکار کردے تو سالوں کی دوستی نہ ٹوٹ جائے۔۔۔
اُسے دیکھنے سے محروم نہ ہوجائے۔۔۔
چلو نا ہم ڈانس کرتے ہیں۔۔۔
وہ ابھی حامی بھرتا یا اُن کے دیے مشوروں پر عمل کرتا اس کے پہلے انجو اُس کے پاس آئی تو وہ دھڑکتے دل سے اُس کے خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا
کیا دیکھ رہے ہو چلو۔۔۔۔
انجو اُس کی غائب دماغی پر اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی ڈانس فلور پر لے گئی تو پیچھے سے سب نے اُسے بیسٹ آف لک کا اشارہ کیا۔۔۔
مدھم روشنی اور خوبصورت میوزک سے سجے ماحول میں کپل ایک دوسرے کی باہوں میں گم تھے۔۔
کوئی مدھوش تھا تو کوئی حواسوں میں ہو کر حسن و عشق کے آگے بہک رہا تھا۔۔۔۔۔نا شرم و حیاء نا جائز نہ جائز کا خیال تھا ۔۔
سب اُس سوسائٹی کا حصہ تھے جہاں بے تکلفی کا رواج تھا جہاں بے حیائی ایک فیشن تھی۔۔۔
انجو بھی اس طرح کی پارٹیز اور ماحول کی عادی تھی۔۔۔اُس کے نزدیک کچھ غلط صحیح نہیں تھا بس اُسے دلچسپی نہیں تھی۔۔اور انجو کی یہی کچھ باتیں اُس کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔۔۔۔
قیمتی بلیک سلیولز شورٹ ڈریس میں وہ اُسے ہمیشہ کی طرح وہاں موجود ہر لڑکی سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
انجو۔۔۔۔مجھے تم سے ایک بات کہنی تھی۔۔۔۔
دھیرے دھیرے موو کرتے ہوئے وہ مسلسل اُس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا
مجھے بھی تمہیں کچھ بتانا ہے۔۔۔۔
انجو نے بھی مسکرا کر کہا ۔۔
بتاؤ۔۔۔۔
اُس نے انجو کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تو وہ پیچھے ہو کر واپس اُس کے قریب آئی اور اُس کے شولڈر پر۔ہاتھ رکھ کر پیروں کو حرکت دینے لگی
میں ایک اجنبی سے ملی۔۔۔۔۔بہُت الگ تھا وہ۔۔۔پوری دنیا میں سب سے الگ۔۔۔۔
اُس کے چہرے کی انوکھی مسکان اور آنکھوں کی چمک نے چند سیکنڈ کے لئے اُس کے دل کو ساکت کر دیا۔۔۔۔۔
خون کی گردش دھیمی پڑ گئی۔۔۔
۔۔۔میں اپنے دل کی ہر بات بس تم سے شیئر کرتی ہوں ۔۔۔۔۔اور تم جانتے ہو نا میں نے آج تک کبھی کسی کے لئے کچھ فیل نہیں کیا۔پر اب ایسا لگ رہا ہے جیسے چند ہی منٹ میں اُس انسان نے مجھ پر کوئی سحر پھونک دیا ہے۔۔
پتہ نہیں کیسا جادو ہے جو میں اُس کے بارے میں سوچنے سے خود کو روک ہی نہیں پا رہی۔۔۔۔
انجو کے الفاظ دھیرے دھیرے کِسی تاریکی میں گم ہوتے جا رہے تھے یا اُس کی قوتِ سماعت ہی سلب ہوگئی تھی کی وہ اُس کے آگے کچھ سن نہیں پا رہا تھا۔۔
اُنگلیوں کی گرفت کمر پر بے حد نرم پڑ گئی تھی دل کسی گہرائی میں ڈوبے جا رہا تھا ۔۔
اور اس میں گھٹ رہی تھی سالوں سے پنپتی خواہشیں اور جذبات۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♥
دکش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی کلائی میں بندھی اس قیمتی واچ کو دیکھتے ہوئے اس نے لبوں سے اس کا نام دوہرایا
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔۔
اس شخص کا چہره اس کا انداز اس کی مسکراہٹ نظروں سے ہٹنے کو ہی راضی نہیں تھے
لاکھ چاہنے کے بعد بھی وہ خود کو اس کے بارے میں سوچنے سے روک نہیں پا رہی تھی
اُسے حیرت ہو رہی تھی کے چند منٹ کے اُن تھوڑے سے لمہوں میں وہ کس قدر اس کی سوچ پر حاوی ہو گیا تھا۔۔۔
اس نے اُن غنڈوں سے اُسے بچایا تھا لیکن اب خود اُسے تنگ کر رہا تھا
وہ اپنی واچ لینا بھول گیا تھا اور انجلی گھر آئی تب سے اس واچ کو ہاتھ میں لیے دیکھے جا رہی تھی
دکش نے اُسے اتنا بتایا تھا کے وہ آج ہی نیویارک سے انڈیا آیا ہے اور ایئرپورٹ سے ہوٹل جا رہا تھا جب اُسے دیکھا اور گاڑی روک کر اس۔ کےپاس آیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد وہ چلا گیا تھا حالانکہ انجلی کا دل چاہ رہا تھا وہ اُسے جانے ہی نا دے۔۔۔اس کے بات کرنے کا انداز اتنا خوبصورت تھا کے وہ بس اُسے سنتی رہنا چاہتی تھی
وہ اس کے بارے میں اتنا کچھ سوچ رہی تھی لیکن یہ بھی نہیں جانتی تھی کے اس سے اگلی ملاقات ہوگی بھی یا نہیں
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ہم ٹھیک ہے ڈیڈ ۔۔۔۔ بلکل سیف ہے ۔۔۔آپ ہماری فکر مت کیجئے۔۔۔مام اور انجو کا خیال رکھیے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے ڈیڈ سے بات کرتے ہوئے گلاس ڈور سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا جہاں سمندر کے پانی میں سارا آسمان ستاروں سمیت اُترا ہوا تھا۔۔
اگلے کچھ دن ہم آپ لوگوں سے کانٹیکٹ نہیں کریں گے۔۔۔انٹر پول کی ہم پر نظر ہے اور ہم فلحال اُنہیں آپ تک پہنچنے کا کوئی لنک نہیں دینا چاہتے۔۔۔۔
ہم جانتے ہیں کے وہ لوگ ہمیں ڈھونڈھ رہے ہیں لیکن ہم ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی کا سپ لے کر وہ اپنے مخصوص لب و لہجے میں بولا جب کے دوسری جانب اُس کے باپ وشال سنگھ اب بھی اُس کے لیے فکر مند تھے۔۔۔
وہ سب ٹھیک ہے ویر لیکِن الیکشنز نزدیک ہے ۔۔ایسے موقع پر اگر یہ خبر پھیل گئی یا اُنہوں نے مجھ پر کوئی کارروائی شروع کردی تو ہمارا جیتنا نا ممکن ہوجائے گا۔۔۔۔۔
اُنہیں اُس کی طرف سے اطمینان ہوا تو اپنی جیت کی فکر ستانے لگی۔۔۔
ایسا نہیں ہوگا ڈیڈ۔۔۔۔۔ہم تک پہنچنے سے پہلے وہ لوگ آپکو اس معاملے سے جوڑنے کی غلطی ہرگز نہیں کرے گے۔۔۔۔کیونکہ اُن کے پاس صرف ہمارے خلاف ثبوت ہے اور وہ جانتے ہیں اپ پر کارروائی کرکے نا اُنہیں کچھ حاصل ہوگا نا وہ کچھ ثابت کر پائے گے۔۔۔
الٹا ہماری آرگنائزیشن سے جڑے جن میمبرز تک وہ پہنچنا چاہتے ہے وہ الرٹ ہوجائے گے اور یہ وہ۔لوگ کبھی نہیں چاہے گے
وہ اپنے ساتھ جڑے کچھ لوگوں کی دگابازی کی وجہ سے پکڑا گیا تھا اور اب اُسے چھپ کر رہنا پڑ رہا تھا۔۔۔ورنہ اُس کی سوچ اور صلاحیت سے جس طرح کام ہوتا رہا تھا آج تک کسی کو اُس کے اللیگل کاموں کی خبر تک نہیں ہوئی تھی۔۔۔
اور اگر وہ تم تک پہنچ گئے تو۔۔۔۔
اُس کے ڈیڈ نے اُس کے سمجھانے پر پوچھا
۔۔۔۔۔آپ جانتے ہیں جب تک ہم نا چاہے ہم تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔۔وہ آپ لوگوں کے ذریعے ہماری لوکیشن جاننے کی کوشش کریں گے اس لیے اگلے کچھ دِن ہمارا آپ سے انجو سے مام سے یا انڈیا میں کسی سے بھی کانٹیکٹ نہیں رہےگا۔۔
آرڈرز کی ایکسپورٹنگ جاری رہےگی اور اُسے مینیج کرنے میں دکش آپکی ہیلپ کرےگا۔۔۔۔
اُس نے اپنے خاص شانت لہجے میں اُنہیں تفصیل سے سمجھاتے ہوئے کافی مگ ٹیبل پر رکھا اور صوفے پر بیٹھ گیا جہاں سے باہر کا منظر صاف دکھائی دیتا
وہ لڑکا بھروسے مند تو ہے نہ۔۔۔۔
اور سنگھانیہ کو مارنے کے بعد آئی بی کے شک کے دائرے میں ہوگا وہ
وہ لوگ اُس پر نظر رکھ رہے ہو گے۔۔۔ کہیں ہم اُس کے ساتھ نہ پھنس جائے۔۔۔
اُنہوں نے ذہن پر زور دیتے ہوئے پر سوچ انداز میں پوچھا
وہ سٹوڈنٹ ہے ڈیڈ اور ہمیشہ سے نیویارک میں رہا ہے بھلے وہ سنگھانیا کے ہر کام کی جانکاری رکھتا ہے لیکن کبھی ان کاموں میں انوالو نہیں ہوا اس لیے آئی بی سے اُسے کلین چٹ مل چکی ہے۔۔۔
اور ہمارے سورسز کے حساب سے بھی اُس پر کِسی ڈیپارٹمنٹ کا فوکس نہیں ہے۔۔۔
اس لیے آپ بے فکر رہیں اُس سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔۔۔۔
وہ انڈیا آچکا ہے اور ہم نے اُسے سب سمجھا دیا ہے۔۔۔وہ ہینڈل کرلیگا۔۔۔۔
الیکشن آنے سی پہلے معاملہ نا بگڑے اس کا ہمیں دھیان رکھنا ہوگا۔۔
ہم بھلے آپ سے کانٹیکٹ نا کریں لیکن آپ ہمیں خطرے کا سگنل بھیج دیجئے گا۔ ۔۔
ہم شہر میں ایک بلاسٹ کروا دیں گے ۔۔آپ اُسے دشمن دیش کا حملے بتا کر وہاں کی نفرت میں چند بھاشن دے کر لوگوں کی ہمدردی سمیٹ لیجئے گا۔۔۔جیت پکّی ہوجاۓ گی۔۔۔۔
وہ بنا رکے سنجیدگی سے اُنہیں ایک ایک بات سمجھاتا چلا گیا تو اُس کے ٹہرے انداز اور تیز ذہنیت پر سنگھ صاحب مسکرائے
ویرانش سنگھ جیسے بیٹے کے ہوتے ہوئے کوئی کام مشکل ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔دو ملکوں کی دشمنی کا اپنے لیے استعمال کرکے فائدہ حاصل کرنا میں نے تم سے ہی تو سیکھا ہے۔۔۔۔
میں یہاں سب سنبھال لوں گا۔۔
تم اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کی ذہنیت پر فخر جتاتے ہوئے مسکرا کر کہا
اوکے ڈیڈ ہم آپ سے کانٹیکٹ کرنے کے لیے صحیح موقعے کا انتظار کریں گے۔۔۔آپ خیال رکھیے گا کے کہیں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔۔۔۔
اُس نے اُن کی بات پر مسکرا کر گھڑی پر نظر ڈالی اور چند ایک باتوں کے بعد فون بند کردیا۔۔۔
♦♦♦♦♦
نین تم کہیں جا رہی ہو۔۔۔۔
عشرت اور شیرین اُس کے کمرے میں آئی تب وہ اپنے بیگ میں کپڑے اور ضروری سامان رکھنے میں مگن تھی عشرت نے حیرت سے پوچھا کیوں کے اُنہیں اُمید نہیں تھی وہ اپنی دوست کی شادی پر جائے گی۔۔۔۔
ہاں بھابھی دہلی جا رہی ہوں۔۔۔
ریا کی شادی ہے ۔۔اور وہ بہت فورس کر رہی ہے مجھے جانا ہوگا۔۔۔
اُس نے بیگ کی زپ کھینچ کر اُسے بند کرتے ہوئے سائیڈ پر رکھا دونوں حیرت سے اُسے دیکھنے لگی کے وہ ساحل کے غائب ہونے پر دکھ و پریشانی میں ہونے کی بجائے بلکل نارمل دکھ رہی تھی ۔۔۔اور اب اپنی دوست کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے دہلی جانے کی بات کر رہی تھی
اور کالج۔۔۔۔۔۔۔
۔ویکیشن ہے بھابھی اور اگر نا بھی ہوتے تو میں لیو لے لیتی۔۔اپنی فرینڈ کو ناراض تو نہیں رکھ سکتی نا۔۔۔۔
اُس کی لائف کا اتنا اسپیشل موومینٹ ہے۔۔۔۔۔
وہ تو چاہتی ہی کے آپ سب بھی میرے ساتھ وہاں آئے لیکن آپ لوگوں نے منع کردیا۔۔۔اور جیا بھی اپنے فرینڈز کے ساتھ گئی ہے ۔۔۔اب مجھے اکیلے جانا پڑےگا۔۔۔۔
وہ بلکل خوش مزاج انداز میں جواب دینے لگی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
نین تمہیں دیور جی کی یاد نہیں آرہی۔۔۔۔
شیرین نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُداسی و ہمدردی سے پوچھا تو وہ مسکرائی
یاد تو آرہی ہے بھابھی لیکِن کیا کروں کمینہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا پتہ نہیں کہاں جا کر مر گیا ہے۔۔۔۔
قسم سے بھابھی ایک بار واپس آجائے نا تو ایسا سبق سکھاؤں گی اُسے کے زندگی بھر نہیں بھولے گا
شہر سے کیا روم سے باہر نکلنا حرام کردوں گی اُس کا۔۔۔۔۔
لیکن وہ پہلے آئے تو صحیح۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر ہمیشہ کی طرح ضبط و غصے سے بھر کر بولی تو دونوں نے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھا۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے تمہاری انہی باتوں اور دھمکیوں سے ڈر کر بھاگ گیا بیچارہ۔۔۔۔۔۔
عشرت نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلا کر کہا تو اُس کا مطلب سمجھ کر نین کا حیرت سے منہ کھل گیا
ہا ۔۔۔۔۔۔آپ کو لگتا ہے مجھ سے جان چھڑا کر بھاگا ہے وہ۔۔۔۔بھابھی دیکھیے میری صورت۔۔۔ایسی جلاد لگتی ہوں میں آپکو۔۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے پلکیں جھپکتی بیچارگی و حیرت سے بولی تو عشرت میں زبردستی مسکرا کر گلا تر کیا کیوں کے جتنی بھولی معصوم شکل تھی اُس سے کئیں خطرناک کارنامے تھے۔۔۔۔
صورت تو تمہاری بہت بھولی ہے نین لیکِن۔۔۔۔۔
اُس نے نین کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے بات ادھُوری چھوڑی
لیکِن۔۔۔۔۔
اُس نے ماتھے پر بل ڈالے عشرت کو گھورا
لیکِن مردوں کو نا ۔۔۔۔۔۔ناخن سے نہیں۔۔اپنے حسن سے گھائل کردینے والی بیوی اچھی لگتی ہے۔۔۔۔
شیرین نے جلدی سے اُس کا دھیان اپنی طرف کرتے ہوئے بات بنائی
ہاں بلکل اور اُنہیں بیوی کے طعنے نہیں اُس کی پیار بھری باتیں پسند ہوتی ہے۔۔۔۔۔
عشرت نے بھی جلدی سے سر ہلایا تو وہ باری باری دونوں کو دیکھنے لگی
دھمکی بھی بیوی کی تب اثر کرتی ہے جب وہ کہے دیکھو جی اگر مجھے پریشان کیا تو قریب نہیں آنے دوں گی۔۔۔
شیرین نے با قاعدہ ایکٹنگ کرکے اُسے سمجھایا وہ غور سے دونوں کی باتیں سننے لگی۔۔۔
غصّہ بھی تب اثر کرتا ہے جب وہ رومینس کے موڈ میں ہو اور تمہاری ہر بات پر اوکے جانو کہنے کو مجبور ہوجائے۔۔۔۔۔
عشرت نے بھی شرمائے سے انداز میں کہا تو وہ دونوں کو اتنی سیانی باتیں کرتے دیکھ حیران رہ گئی
بھابھی ۔۔۔۔یہ آپ دونوں کیسی باتیں کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔
اُسے اچانک سے دونوں کی فکر ہونے لگی تو دونوں کی طبیعت خرابی کا سوچ کر اُن کے ماتھے پر اُنگلیاں رکھ کر جانچنے لگی
تمہیں سمجھا رہے ہیں نین کے اب تمہیں پیار سے اپنے شوہر کو اپنے قابو میں رکھنا سیکھنا ہوگا تاکہ وہ تم سے ایسے دور جانے کی کوشش نہ کرے۔۔۔۔۔
عشرت نے اُس کا ہاتھ ماتھے سے ہٹا کر اُسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔۔
اور تمہیں ایسی بیوی بننا پڑےگا کے وہ ایک پل بھی تمہارے بغیر رہے تو اُسے افسوس ہو۔۔۔۔
شیرین نے بھی مسکرا کے اُسے گن سکھاتے ہوئے ابرو اُچکائی۔۔
اور اُس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا۔۔
تمہیں اُس کے لیے اچھے اچھے کھانے بنانے ہوگے۔۔۔اُس کی ضرورتوں کا اُس کی پسند نہ پسند کا خیال رکھنا ہوگا ۔۔پوری لگن سے اُس کی خدمت کرنی ہوگی۔۔۔
عشرت نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا
خدمت۔۔۔۔۔
خدمت تو میں اُس کی کروں گی بھابھی۔۔۔۔وہ ایک بار واپس آئے بس۔۔۔۔اتنی لگن اور شدت سے اُس کی خدمت کروں گی نہ کے اُس کی روح جھنجھنا جائے گی۔۔۔۔۔
وہ اپنے غضبناک ارادوں سے دونوں کو بھی خوفزدہ ہونے پر مجبور کر گئی ساتھ ہی دونوں نے ساحل کے لیے افسوس جتایا کے جانے بیچارے پر کیا مصیبت آنے والی ہے کیوں کہ اُس کا دانت بھینچ کر مسکرانا اُس کے خطرناک منصوبوں کا پتہ دے رہا تھا۔۔۔
بس نین یہ سن کر تو میرا دل بھی جھنجھنا رہا ہے۔۔۔چلو ہم تمہاری پیکنگ میں ہیلپ کردیں۔۔۔۔۔۔۔
شیرین نے جلدی سے بات ختم کی کے کہیں اُن کے گیان کے موتیوں سے نین کو ٹارچر کے نئے طریقے نا مل جائے اور ساحل پر زیادہ ظلم نہ ہوجائے۔۔۔
