Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 44
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
وه کالج گیٹ کے باہر ہی بائیک پارک کرکے اندر کی طرف بڑھا۔۔۔اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی کی نظر میں ہے۔۔۔۔۔۔
لیکِن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔۔۔
نارمل انداز میں آگے بڑھتا رہا حلانکہ دماغ پوری طرح چوکنا تھا۔۔۔۔۔
آس پاس چند ایک لوگ تھے۔۔۔۔۔آج شام کالج میں ایک فنکشن تھا جس کی تیاری چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔سارا اہتمام گراؤنڈ میں ہی کیا جا رہا تھا
وہ آگے بڑھتے بڑھتے رک گیا اور نیچے جھک کر اپنے جوتے کی پہلے سے بندھی لیس کو کھول کر دوبارہ باندھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر محسوس طریقے سے کُچھ فاصلے پر کھڑی بائیک کے سائلنسر پر نظر ڈالی جس میں پیچھے کی پرچھائی نظر آرہی تھی۔۔جہاں ایک آدمی کالج کے گیٹ کے باہر سے ہی اُس پر پوری واچ رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فون کان سے لگائے یقیناً اُسی کی ہی خبر کہیں پہنچا رہا تھا
وہ سیدھا ہوا اور بجائے پلٹ کر اُسے دیکھنے کے مسکرا کر اپنے راستے پر آگے بڑھتا کالج کے اسٹاف روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔
اُس کے نظر سے غائب ہوتے ہی وہ آدمی بھی وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆\\
Good morning my love۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں تھی جب داؤد نے آکر دھیرے سے اُس کے کان میں کہا وہ بری طرح بوکھلا گئی۔۔۔۔۔ہاتھ سے چمچ گرتے گرتے بچا۔۔۔۔
وہ صبح اٹھتے ہی کچن میں آگئی تھی تاکہ سب کے لیے ناشتہ بنا سکے۔۔۔۔۔۔
اور وہاں موجود ملازم کام میں اُس کی پوری مدد کر رہے تھے۔۔۔۔۔
اُس نے ہڑبڑا کر آس پاس دیکھا لیکِن اُن میں سے کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔صرف داؤد ہی اُس کے نزدیک کھڑا تھا
آج ہمیں کورٹ جانا ہے۔۔۔۔۔۔یاد ہے نا
داؤد پیچھے ہو کر اُسے یاد دلاتا کچن سلیپ پر رکھے سامان کا جائزہ لینے لگا۔۔۔
اُنہیں صرف کچھ کاغذی کاروائی مکمل کرنی تھی کیوں کے ہیئرنگ میں ابھی وقت تھا۔۔۔۔۔
وہ سکندر کی طرف سے بہت محتاط تھا لیکن اُس کے لیے حیرانی کی بات تھی کے سکندر بلکل خاموش بیٹھا تھا۔۔۔۔اُس پر نظر رکھ رہے لوگوں کو بھی کوئی مشکوک بات نظر نہیں آرہی تھی
میں نے سب کے لیے چائے اور ناشتہ بنایا ہے۔۔۔۔لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔اگر سب ناراض ہو گئے تو۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر پریشان سی اُنگلیاں چٹخاتے ہوۓ بولی داؤد پر سوچ انداز میں مسکرایا
اب تک تم ایک جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔۔اب تمہیں ایک اور جنگ لڑنی ہے۔۔۔۔۔۔
اب تک اپنے لیے لڑ رہی تھی۔۔۔
اب ہمارے لیے بھی لڑنا ہے۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔فلک پریشان سی اُسے دیکھنے لگی
میں جانتا ہوں فلک کے ایک نا ایک دن اس گھر کے لوگ تمہیں اپنا ہی لے گے۔۔۔۔کیوں کے مجھے یقین ہے کہ تم اُنہیں منانے کی بہترین کوشش کرتی رہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں تو پھر تمہارے ساتھ ہوں ہی۔۔۔۔ لیکِن یاد رکھنا۔۔۔۔۔
داؤد اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہتے کہتے رکا اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
خود کو بے مول مت سمجھنا۔۔۔۔۔۔۔۔
نا بے مول ہونے دینا۔۔۔۔۔۔۔
یہ کوششں بھلے تمہارا امتحان ہو سکتی ہے لیکِن سزا نہیں۔۔۔۔۔۔
کِسی کو بھی اپنے مان سمان کو چوٹ مت پہنچانے دینا۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال بے حد نرمی سے اُسے سمجھایا۔۔۔۔فلک خاموش ہی رہی
ویسے اس کوشش کی شروعات تم دادی سے کروگی تو زیادہ اچھا ہوگا کیوں کے وہ مان جائے تو تمہیں ایک بہت بڑا سپورٹ مل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کے میری دادی اس فیمیلی کی بیک بون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہتا مسکرایا۔۔۔۔اور اُسے جانے کا اشارہ کیا جس پر فلک نے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔
چولہے سے چائے اُتار کر ایک کپ میں انڈیلی اُسے ٹرے میں ترتیب سے رکھ کر وہ اُس کے کہے مطابق دادی کے کمرے کی طرف بڑھی
داؤد بھی اُس کے ساتھ ہی تھا لیکن خود دروازے سے دوری پر رک کر ہی اُسے اندر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔وہ جھجھکتی گھبراتی وہاں پہنچی
دروازہ کھلا ہی تھا دادی بیڈ کے سرہانے بیٹھی تسبیح پڑھ رہیں تھیں
اُس نے ہلکا سا دروازہ بجایا
آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے دیکھ کر بنا کوئی تاثر دیے اجازت دی
اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہُت پیارے انداز انداز میں اُنہیں سلام کیا جس کا جواب اُنہوں نے آہستہ سے دے کر تسبیح پر اپنا ذِکر جاری رکھا
دادی ماں۔۔۔۔۔۔۔ چائے۔۔۔۔۔۔
اُس نے چائے کا کپ اُن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
میں صرف عشرت کے ہاتھ کی بنی چائے ہی پیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے سہولت سے انکار کر دیا جو سچ بھی تھا۔۔۔۔وہ اُداس ہوتی ہاتھ پیچھے کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
لیکِن داؤد نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اُسے ایسا کرنے سے روکا۔۔۔۔فلک نے حیرت سے اُسے دیکھا کے کب وہ وہاں آگیا تھا
فلک کے ہاتھ کی چائے پی کر تو دیکھئے دادی۔۔۔۔۔۔۔بہُت اچھی بناتی ہے۔۔۔
اُس نے کپ آگے کرتے اسرار کیا دادی نے ہار مانتے ہوۓ تسبیح رکھ کر کپ تھام لیا۔۔۔۔
داود نے مسکرا کر فلک کی جانب دیکھا۔۔۔۔
وہ بھی دھیما سا مسکرائی کے جہاں وہ نا اُمید ھوتی تھی وہ وقت پر پہنچ کر کام بنا دیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے چائے کا ایک سپ لیتے ہوئے فارمل سی تعریف کی کیوں کے ناراضگی اپنی جگہ تھی لیکن اُنہیں اپنے سب بچے بے حد عزیز تھے۔۔۔وہ اُن کا دِل نہیں دکھا سکتیں تھیں
اور فلک کے لیے تو یہی بہت تھا۔۔۔۔۔۔کے اُنہوں نے چائے پھینک نہیں دی۔۔۔۔وہ اتنے میں ہی بہُت خوش ہوئی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کھیر پوری۔۔۔۔
آلو کے پراٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹھی بھات۔۔۔۔۔۔
آج کوئی تہوار ہے ۔۔۔۔۔۔۔
زارب نے حیرت سے عشرت کو دیکھ کر کہا
ڈائننگ ٹیبل پر کارن فلکس۔۔۔سینویچ اور جوسز کے علاوہ آج دیسی انداز کا ناشتہ دیکھ سب ہی حیران ہوئے۔۔۔۔
انگریزی ناشتے کی چٹھی ہے شاید۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سنبھالی
پاپا آج کا ناشتا فلک نے بنایا ہے۔۔۔۔
شیرین نے بیزار سی شکل بنائے اُنہیں اطلاع دی۔۔۔۔۔۔فلک بھی وہیں کھڑی پلیٹیں لگا رہی تھی۔۔۔اندر ہی اندر گھبرائی ہوئی۔۔لیکِن عباس صاحب کو شیرین کی بات پر مسکراتے دیکھ اُس کے دِل کو کچھ تسلی ہوئی۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم وہاں سے اٹھ کر جانے لگی لیکِن عباس صاحب میں اُنہیں روک دیا اور تنبیہہ نظروں سے دیکھ کر گویا حکم دیا کے وہ اب اُن کی کوئی حرکت برداشت نہیں کرے گے
داؤد بھی مسکراتے ہوۓ اپنی بیوی کے ہاتھ کے بنے ناشتے سے انصاف کر رہا تھا۔۔۔۔۔
زینب اور کمال صاحب وہاں موجود نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔جیا بھی اپنے کمرے میں بند تھی۔۔۔۔
ساحل گھر سے باہر جا چکا تھا اور نین اپنے کمرے میں تھی۔۔۔۔۔۔
باقی سب بھلے ہی منہ بنائے تھی لیکِن ناشتے کی برائی کرنا اُن کے اختیار میں نہیں تھا
ایسا ذائقہ برسوں بعد آیا ہے کھانے کا۔۔۔۔۔خوش رہو۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے چند نوالے لے کر خوش دلی سے کہتے ہوئے فلک کو دیکھا۔۔۔۔وہ سر جھکائے مسکرائی
داؤد کو جہاں باپ کی بات پر خوشی ہوئی وہیں اُس نے دکھ سے اپنی ماں کو دیکھا جو اُن کے اس رویے پر پیچ تاب کھاتی ذبردستی وہاں بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس صاحب جیسے ہی وہاں سے اٹھے وہ بھی لمحہ ضایع کیے بنا وہاں سے چلیں گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
نین آجا و بیٹا۔۔۔۔۔۔ناشتہ کرلو۔۔۔۔۔۔
نانو نے اُسے نیچے آتے دیکھ پکارا تو وہ مسکراتی اُن کی طرف بڑھی۔۔۔۔
داؤد اور فلک کو وہاں دیکھ اُس نے اپنے دِماغ کو اُن سے بھرپور دور رکھنے کی سعی کی۔۔۔۔
کیوں کے اب اُسے اُن دونو سے کوئی مطلب نہیں رکھنا تھا۔۔۔۔۔
نا کوئی شکائت نا غصّہ نا ناراضگی کچھ بھی ضایع نہیں کرنا تھا۔۔۔۔
وہ آکر اپنی نانو اور روما کے درمیان والی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ داؤد کے بلکل سامنے۔۔۔۔داؤد نے ایک نظر اُسے دیکھا اور سر جھکائے ناشتا کرنے لگا
سب کو وہ خاموش سی لگی لیکِن اُس کی یہ خاموشی اُس کی بھڑاس سے بہتر تھی۔۔۔۔۔
عشرت اور شیرین نے تو اُسے پینٹ شرٹ میں دیکھ کر ہی سکون کا سانس لیا کے چلو یہ نارمل ہوئی ورنہ ایک دن میں دو بار اُسے ساڑھی پہنانے کی محنت کرنی پڑی تھی دونوں کو۔۔۔۔
اوپر سے نین کی ہنگامے خیز ایکٹنگ پر سب کو شاک پر شاک لگ رہے تھے اُن سے بھی نجات ملی
اب وہ چُپ چپ سی سر جھکائے بیٹھی تھی
نین یہ پراٹھا لو نا۔۔۔۔۔فلک نے بنایا ہے۔۔۔۔
عشرت نے جان بوجھ کر فلک کا نام لیتے ہوئے پلیٹ اُس کے آگے رکھی کے کوئی تو فلک کے کھانے کی کھل کر برائی کرےگا۔۔۔۔
نین نے نظریں اٹھا کر سامنے رکھی اُس پلیٹ کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔اور سرعت سے اُسے اٹھا کر اپنے پیچھے پھینک دیا۔۔۔۔
اتنی زور سے کے پلیٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پورے گھر کے کونوں تک پھیل گئے۔۔۔۔۔۔
وہاں ایکدم سے سناٹا چھا گیا کیوں کہ اس کی اُمید تو کسی کو نہیں تھی
فلک کا دل دھڑکنا بھولا۔۔۔۔۔
وہ سانس روکے اُسے دیکھنے لگی
زہر کھا لوں گی مگر یہ نہیں کھاؤ گی۔
وہ عشرت کو خونخوار نظروں سے دیکھتی بولی اور سامنے پڑے بریڈ پر بٹر لگانے لگی۔۔۔۔
داؤد نے تاسف سے اُسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ وہاں سے اٹھ کر فلک کے پاس آیا اور اُسے وہاں سے لے گیا
صرف فلک کا نہیں نین کا بھی خیال کرتے ہوئے۔۔۔۔۔کیوں کے وہ اُن کی موجودگی کو فلہال برداشت نہیں کر سکتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین بیٹا ہمارے ساتھ گھر چلو نا۔۔۔۔تمہیں یہاں چھوڑ کے جانے کا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔۔۔
وہ زینب کے گلے لگی بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھی۔۔۔۔کیوں کے آج وہ لوگ واپس جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔اُس کا دل بہُت اُداس تھا۔۔۔۔لیکِن وہ کچھ کہہ نہیں رہی تھی نا اُنہیں روک رہی تھی
بس ذینب۔۔۔۔۔
کمال صاحب نے زینب کی بات کاٹی ۔۔۔۔نین نے تب بھی اُن کی جانب نہیں دیکھا اپنی ماں کے سینے سے لگی کھڑی رہی
۔اس کی منتیں کرنا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔یہ نہیں آئےگی ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔
کیوں کے یہ تو ہمیں اپنا دشمن سمجھتی ہے۔۔۔۔تو کیوں مانے گی اپنے دشمنوں کی۔۔۔۔۔
اب بڑی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔اپنے فیصلے کر سکتی ہے ۔۔۔اسے ضرورت نہیں ہماری۔۔۔۔۔۔
چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ناراضگی کو غصے میں ظاہر کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔۔
نین تب بھی چُپ ہی رہی۔۔۔۔۔۔وہ کوئی بات نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
زینب نے اُسے خود سے الگ کرتے ہوئے اُس کا چہره تھام کر اُس کی پیشانی چومی۔۔۔۔۔
کب سے رکا ہوا آنسُو لڑھک کر نین کے گال پر بہنے لگا۔,۔۔
روما بھی آکر اُس سے لپٹ کر رونے لگی۔۔
زینب اپنے بھائی ماں اور باقی سب سے وداع لیتی رابعہ بیگم سے بھی ملیں۔۔۔۔
نین کی بلکل فکر مت کرنا زینب۔۔۔۔۔ میں اُسے یہاں کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے زینب کو تسلی دی جو بلکل بھی اثر نہیں رکھتی تھی کیوں کے ذینب کو اب کسی پر یقین نہیں تھا
بھلے حالات بدل گئے ہو لیکِن نین کے لیے میری محبت نہیں بدلے گی۔۔۔
وہ۔کل بھی مجھے عزیز تھی اور اب ہے۔۔۔۔۔
میں اُس کا بہت خیال رکھوں گی۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اپنی جانب سے پورا یقین دلایا وہ سر ہلاتی آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔
ایک دفعہ پھر نین سے مل کر۔۔۔۔اُسے ڈھیروں دعائیں دے کر۔۔۔۔۔بہُت ساری نصیحتیں۔کرکے خدا کے بھروسہ چھوڑتی اُس سے بہت دور جانے کے لیے نکل گئی۔۔۔۔
جب کے کمال صاحب نے لاکھ چاہنے کے باوجود جاتے ہوۓ بھی اُس کی جانب دیکھا تک نہیں۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
اُس کے لیے کالج فنکشن کوئی معنی نہیں رکھتا تھا نہ اُس کی وہاں ضرورت تھی اس لیے شام ہوتے ہی وہ وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
اپنی بائک تک پہنچ کر چابی ہی لگائی تھی کے پیچھے سے چار تگڑے آدمی اپنی گاڑی سے اتر کر اُس کی طرف بڑھے
ایک نے اُس کا کالر پکڑ کر جھٹکے سے اُس کا رخ اپنی جانب کِیا۔۔۔۔۔۔۔اور بندوق اُس کی آنکھوں کے سامنے تان دی۔۔۔۔۔
ساحل کی سنجیدہ سرد نگاہیں اپنے کالر سے اُس کے چہرے تک آئی۔۔۔۔
خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ جا۔۔۔۔۔۔
وہ آدمی دھمکی آمیز انداز میں بولا دُوسرے نے اُسے ہلکا سا دھکا دیا اور آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا وہ جھٹکے سے اپنا کالر چھڑا کر اُن کے کہے کے مطابق گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھتی ہوئی اگلے دس منٹ بعد ایک بڑے سے سفید بنگلے کے آگے رکی۔۔۔۔۔
ساحل نے زوردار لات مار کر دروازہ دھکیلا اور اُتر کر باہر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اُس کے پیچھے وہ چار مستنڈ ے بھی کراہتے ہوئے باہر نکلے جو اُسے لینے آئے تھے۔۔۔۔کِسی کی آنکھ نیلی تھی کسی کا منہ لال تھا کسی کا چہره سوجا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں آستینوں کو فولڈ کرکے کہني سے اوپر تک کرتا شان سے اندر داخل ہوا
دروازے کے سامنے ہی بڑے سے شاندار صوفے پر بیٹھا تھا کے کے اور اُس سے بلکل لگ کر اُس کے گلے میں ہاتھ ڈالے بیٹھی تھی اُس کی گرل فرینڈ مایا۔۔۔۔۔۔
ساحل اور اُس کے پیچھے آتے اپنے آدمیوں کی حالت دیکھ کر کے کے داد دینے والے انداز میں اُسے دیکھتا مسکرایا۔۔۔۔۔
ساتھ بیٹھی مایا نے بالوں کو اپنے گلے سے ہٹاتے ہوئے مسکراتی نظروں سے سر سے پیر تک اُس کا جائزہ لیا۔۔۔
وہ پاس پڑی ایک کرسی کھینچ کر ٹھیک کے کے کے سامنے آیا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویلکم ٹو کے کے ولڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کے کے سگریٹ کو ٹرے میں رگڑتے ہوئے مسکرا کر بولا
کیوں بلایا اپن کو ادھر۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی و بیزاری سے پوچھا
طوفان ۔۔۔۔۔۔۔طوفان کی طرح تیور ہے تمہارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آتے ہی ہلا دیا سب کچھ۔۔۔
کے کے اُس کے تیور ملاحظہ کرتے ہوئے ہنسا
کام کی بات کر۔۔۔۔۔۔۔۔فوکٹ کا ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹانگ جھلاتا ہوا مایا پر ایک نظر ڈال کر بولا جو اُس پرٹرسی نظریں گڑائے بیٹھی تھی
میرے لیے کام کرو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کے کے اُس کی بیزاری پر ابرو اُچکاتا ہوا بولا
میں صرف پیسے کے لیے کام کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فوراً جواب دیا
پیسہ تمہیں تمہاری سوچ سے زیادہ ملے گا۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن۔۔۔۔,۔۔
ففٹی پرسنٹ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے کے کے کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی جس پر وہ خاصا بدمزہ ہوا
غداروں سے مجھے سخت نفرت ہے۔۔۔۔۔
وہ سرد لہجے میں بولا ساحل مسکرایا جس پر۔ اسکے نمایاں ہوتے ڈمپل نے مایا کا دل لوٹ لیا وہ کے کے سے دور ہوتی ہاتھ میں جام لے کر ساحل کو فرصت سے دیکھنے لگی
تب تو تجھے خود سے بھی نفرت ہوگی کیوں کے ایماندار تو تو بھی نہیں لگتا۔۔۔۔
وہ مسکراتا اُس کی بات کا جواب دے کے بولا اُس کے جواب پر مایا بھی مسکرائی۔۔۔
آجکل چپراسی کی نوکری کر رہے ہو سننے میں آیا ہے۔۔۔۔۔
کے کے نے گویا اُس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے اُس کی اوقات دکھانی چاہی۔۔۔
میرے منہ بولے باپ کو میری ایمانداری کی کمائی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن تو ٹینشن مت تو۔۔۔۔جب کام ہوگا ۔۔۔پہنچ جاؤں گا
وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
اور ہاں آئندہ اپن کو اٹھانے کے لیے اپنے ان چائنیز کتوں کو مت بھیجنا۔۔۔۔سالے دو منٹ نہیں ٹکے۔۔۔۔۔۔
اُس نے جاتے جاتے رک کر اُن چاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو اُس سے پٹ کر منہ سجائے کھڑے تھے
اُس نے ایک کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اُسے غصے سے گھور رہا تھا
لُک کیا دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ ملا نا۔۔۔۔۔
ساحل نے سرد نظروں سے اُسے دیکھا۔ اُس نے جبڑے بھنچتے ہوئے اُس سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے ہاتھ کو اتنی سختی سے جکڑ ا کے دھیرے دھیرے ہڈیاں کڑکڑانے کی آواز سب کو سنائ دی جب کے وہ بلبلا اٹھا۔۔۔۔
اُسے سمجھ آگئی کے یہ اُس کا کالر پکڑنے کی سزا تھی
چھوڑ مزا نہیں آیا۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ایکدم سے اُس کا ہاتھ چھوڑا اور باہر نکل گیا۔۔,۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کالج فنکشن اپنے عروج پر تھا۔۔۔۔
اوپن گراؤنڈ کو بلکل تھوڑا بہت سا سجایا گیا تھا
ایک سٹیج لگا تھا جہاں پرفامنس پیش کی جا رہی تھی
سارے سٹوڈنٹ بہُت انجوائے کر رہے تھے۔۔۔۔
کالج پارٹی بھی بلکل کلب پارٹی جیسی ماردرن تھی۔۔۔
نا کوئی رول تھے نا ریگولیشن۔۔۔۔۔
سب کھل کر ہنگامہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔
ایک لڑکی کے پکارنے پر اُس نے کسی سے بات کرتے کرتے پلٹ کر پیچھے دیکھا ۔۔۔۔۔
کوئی لڑکی سیکنڈ فلور کے لیبورٹی روم میں پھنس گئی ہےشاید ۔۔۔۔۔۔اور دروازہ باہر سے لاک ہے۔۔۔۔
وہ۔لڑکی پریشانی سے اُسے اطلاع دینے لگی شاد بھی اُس کی بات پر حیران ہوا کے وہاں اندر کوئی کیسے جا سکتا تھا جب کے وہ جگہ ہمیشہ لاک رہتی ہے
اچھا میں دیکھتا ہوں پیون سے کہو کیئز لے کر پہنچے وہاں۔۔۔۔۔۔
اُس نے پرسوچ انداز میں سر ہلاتے ہوئے اُسے تاکید کی اور وہاں سے نکلا۔۔۔
اُس لڑکی نے شاد کے جاتے ہی دور کھڑی دشا کی طرف دیکھتے ہوئے اُسے تھمب دکھایا تو وہ مسکرائی۔۔۔۔
سب گراؤنڈ میں تھے اس لیے رومز اور کوریڈور سنسان پڑا تھا۔۔۔۔
وہ تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے سیکنڈ فلور پر پہنچا اُس لڑکی کے بتائے مطابق سیدھا لبورٹی کی جانب
وہاں پہنچ کر دروازے کو ہلکا سا پش کیا تو وہ آسانی سے کھل گیا۔۔۔۔
وہ حیران ہوتا اندر آیا۔۔۔۔۔کے وہاں تو کسی کے ہونے کے آثار نہیں تھے۔۔
اندر اندھیرا تھا اُس نے لائٹ کے بٹن بھی دبائے لیکِن وہ آن نہیں ہوئی۔۔۔۔
اُس نے اندھیرے میں ہی ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی اور کوئی نظر نہیں آتا تو اسے مذاق سمجھ کر واپس جانے لگا لیکن جانے کے لئے قدم بڑھاتے ہی اُسے کسی کی سسکی سنائ دی
وہ چونک کر رکا۔۔۔۔۔۔۔
کون ہے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اطراف میں نظر دوڑائیں
Is there any one۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب نہ ملنے پر جھنجھلا کے پوچھا۔۔۔۔۔
اُس کی سخت آواز پر سہم کر جیا رک کی اونٹ سے نکل کر آگے آئی
جیا تم یہاں۔۔۔۔۔یہ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد اُسے دیکھ کر حیران ہوا ۔۔۔۔نظر اُس کے بکھرے بال بکھرے میک اپ کے بعد کندھے سے پھٹی آستین پر پڑی تو شدید جھٹکا بھی لگا۔۔۔جلدی سے اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جیا تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جیا کا بازو ہلاتے ہوئے اُسے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا وہ سر اٹھا کر بھیگی بے تاثر نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
جیا کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔۔بتاؤ کیا ہوا۔۔۔۔۔تم یہاں کیسے آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے فکر مندی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔اور حقیقت میں اُسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی کے اُس کے ساتھ کچھ غلط نہ ہوا ہو۔۔۔۔
جیا اپنی بے بسی پر روتی ایکدم سے اُس کے سینے سے سر ٹکا گئی۔۔۔۔
وہ ساکت رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آیا کیا کرے اُسے خود سے الگ کرے ۔۔۔نا کرے۔۔۔۔۔روکے سمجھائے۔۔۔۔کچھ نہیں سوجھا۔۔۔۔
وہ بس رویے جا رہی تھی۔۔۔۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور دشا کے ساتھ کچھ سٹوڈنٹس اور ٹیچرز بھی اندر آئے۔۔۔۔
شاد نے اُسے خود سے دور کیا۔۔۔غلطی نہ ہو کر بھی وہ تھوڑا پریشان ہو گیا
جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کِس نے کیا یہ سب ۔۔۔۔۔
دشا اُس کے پاس آتی ہمدردی سے اُسے اپنے ساتھ لگائے پوچھنے لگی۔۔۔۔
وہ شرمندہ نظروں سے شاد کو دیکھ رہی تھی اور وہ بہت حیران تھا اُس کے اس رویے سے۔۔۔۔۔
جیا گھبراؤ مت بتاؤ کس نے کی تمہاری یہ حالت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشا نے اُسے دوبارہ پوچھا اور اُس کے بازو پر گرفت سخت کرتے اُسے اشارہ کیا
افراتفری دیکھ کر اور بھی لوگ وہاں جمع ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
بولو جیا۔۔۔۔۔۔جواب دو۔۔۔۔۔
وہاں کھڑی اُن کی ہندی پروفیسر نے بھی زور دیا
شش۔۔۔,۔شاد سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہُت مشکل سے دو الفاظ ادا کر پائی جب کے شاد کے لیے یہ سب سے بڑا جھٹکا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس کی بے یقینی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔۔۔ بس جیا کے لبوں سے نکلا اپنا نام اُس کی سماعتوں میں گونج رہا تھا
جیا پوری بات بتاؤ۔ ۔۔۔۔۔کیا ہوا یہاں پر۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور پروفیسر نے سختی سے پوچھا۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کرکے ساری ہمت یکجا کی
شاد سر نے۔۔۔۔۔۔مم۔۔ مجھے یہاں۔۔۔۔ بلایا کے اُنہیں کوئی۔۔۔۔۔۔کوئی۔۔۔۔۔ کام ہے۔۔۔۔۔۔اور میرے ساتھ۔۔۔۔۔ز ز۔۔۔۔ زرو زبردستی کی۔۔۔۔۔۔۔مجھے ہیرس کیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی اُس پر جھوٹا الزام لگا رہی تھی۔۔۔۔گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے۔۔۔۔۔ پورا بدن کانپ رہا تھا۔۔۔۔دِل خوف سے تھر تھر کر رہا تھا
سب حیرت و نا گواری سے شاد کو دیکھ رہے تھے جو اپنی جگہ سن کھڑا جیا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
