Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
بڑی مامی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوشی سے چلاتی رابعہ بیگم کے بازؤں میں سما گئی۔۔۔۔۔اس جوش میں ہاتھ سے چھوڑا گیا بیگ جیا کے پیر پر گرا تو اس کی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے زینب نے گھور کر اپنی بیٹی کو دیکھا اور جیا کے پیر سے بیگ ہٹا کر شرمندہ سی اُسے دیکھنے لگی
کوئی بات نہیں پھُوپھی۔۔۔۔۔۔۔۔
جیا اُسے شرمندہ دیکھ کر جلدی سے بولی اور مسکرائی
چھوٹی مامی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم سے الگ ہو کر وہ آسیہ بیگم کے گلے سے لگی وہ مسکرا کر اس سے ملی
بھابھی۔۔۔۔آپ دونوں تو پہلے سے بھی زیادہ پریٹی لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ شیرین اور عشرت دونوں کو دیکھتی اُن کی تعریفیں کرنے لگی دونوں اپنی تعریف پر مسکرائے شرمائے جا رہی تھی جب کے زینب اب اپنی بھابھیوں سے مل رہی تھی
شام ہوتے ہوتے اس کا انتظار مکمل ہو گیا تھا عبّاس صاحب کے ساتھ اس کی نانو بھی اُسے لینے ایئرپورٹ آئی تھی اور اب گھر پہنچتے ہی وہ پرجوش سی باقی سب سے مل رہی تھی۔۔۔۔
گھر کو اُن لوگوں کے آنے کی خوشی میں بہُت سادے پر خوبصورت طرح اسے سجایا گیا تھا اور سب دروازے پر ہی اُن کے منتظر کھڑے تھے
زینب کچھ پریشان تھی اس کے اتنا چہکنے پر اخر یہ اب اس کا سسرال ہونے والا تھا
جب کے روما سب سے مل کر خاموش زینب کے پاس بیٹھی تھی وہ اس گھر سے گئی تب کافی چھوٹی تھی اس لیے اُن لوگوں سے زیادہ گھلی ملی نہیں تھی۔۔۔
شیرین اور عشرت تو بس اپنی بڑی ساس کو منہ کھولے دیکھ رہیں تھی جو اُن سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی ۔۔ نین کے آتے ہی اس پر۔محبتیں لٹائے جا رہی تھی ۔۔
اس کی نظریں اتاری جا رہی تھی۔۔۔صدقے دیے جا رہے تھے۔۔۔تحفے دیے جا رہے تھے۔۔۔۔۔اُن دونوں کو نین سے پہلے سے ہی جلن ہوتی تھی اور آج اپنی آنکھوں سے یہ ناز اٹھاتے دیکھ دونوں مزید دل جلا رہی تھی
عباس صاحب اس شہرِ کے مشہور و معروف بزنس مین تھے اُنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی حماد کے ساتھ مل کر اس بزنس کو کھڑا کیا تھا اور بلندی تک پہنچایا تھا
حماد صاحب کا ایک بیماری کی وجہ سے انتقال ہو چُکا تھا اور اب اُن کی فیملی بھی عباس صاحب کی ذمےداری تھی۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب کے بیٹے داؤد کو بزنس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی اُنہوں نے اُسے کبھی فورس کیا جب کے حماد صاحب کے دونوں بیٹے ذارب اور راہب بزنس میں اُن کے ساتھ جڑے تھے
زہرہ بیگم گھر کی بڑی تھیں اور اپنی ساری ذمےداریاں بہوؤں کے سپرد کر کے خود اللہ اللہ کرتی رہتی تھیں
گھر میں رابعہ بیگم کا حکم چلتا تھا گھر کے فیصلے کرنے کے سارے حقوق اُن کے پاس تھے آسیہ بیگم اُن کے مقابلے میں نرم مزاج تھی اور ہمیشہ اُن کا ساتھ دیتی تھی۔۔۔۔۔دونوں میں بہنوں جیسی محبت تھی۔۔۔
راہب اور ذارب نے اپنی اپنی پسند سے شادیاں کی تھی اور گھر میں سب نے خوشی خوشی دونوں کو اپنایا تھا
دونوں دیکھنے میں بھی پیاری اور اچھے گھرانوں کی تھی۔اُن دونوں کے آنے سے گھر میں رونق ہو گئی تھی۔۔دونوں یوں تو بہت پیار سے رہتی تھی لیکِن آپس میں کمپیٹیشن اور نوک جھوک ہمیشہ چلتی رہتی تھی
یہاں تک کہ بچوں کو لے کر بھی
جب شیرین اور راہب کے یہاں پیارے سے بیٹے ارشان کی آمد ہوئی تو عشرت نے بھی ذارب سے اپنے ماں بننے کی خواہش ظاہر کی جس پر وہ بہت ہنسا۔۔۔
اور پھر دو سال بعد عشرت کے پاس چھوٹی معصوم سے خوشی آئی جس نے سارے گھر کو خوشیوں سے بھر دیا
دونوں یونہی ہر کام میں ہرس دعوے کرتی تھیں لیکن جب گھر میں نین کا ذکر ہوتا تو دونوں مل جاتی اور نین کے مخالف ہو جاتی اس کی سب سے بڑی وجہ تھی رابعہ بیگم کا برتاؤ۔۔۔۔جو اُن کی ساس سے زیادہ اُن پر ساس بنی ہوئی تھی
رابعہ بیگم اُن دونو پر حکم چلاتی اُن کی غلطیاں نکال کر بات بات پر دونوں کو ڈانٹتی تھی اور نین کے لیے اُن کی زبان سے پھول جھڑتے تھے۔۔۔۔۔اس کے لیے قیمتی سے قیمتی چیزیں خریدی جاتی تھی ۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک تحفے دیے جاتے تھے۔۔۔دن رات اس کی تعریف کے پل باندھے جاتے تھے۔۔
نین کے گھر آنے کی خبر سن کر تو رابعہ بیگم کر پیر زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔۔کبھی اُس کے ویلکم کی تیاری کبھی منگنی کو لے کر بڑے بڑے پلاننگ ساری بھاگا دوڑی میں دونوں کو ہلکان کیا جا رہا تھا
۔۔اس کے گھر میں آنے سے پہلے ہی یہ حال تھا تو جانے اس کے آنے کے بعد اُسے سر پر ہی بٹھا لیا جاتا یہ سب دیکھ کر دونوں کو نین سے اور جلن ہونے لگتی۔۔۔۔
وہ دونوں بھی دیکھنے میں کسی سے کم نہیں تھی لیکن نین کی بات سب سے الگ تھی۔۔۔۔خاندان اور رشتےداروں میں کوئی لڑکی ایسی نہیں تھی جو نین کی خوبصورتی کو مات دے سکے۔۔یہاں تک کہ رابعہ بیگم کی اپنی بیٹی جیا بھی خوبصورت ہونے کے باوجود نین کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی
اِس لیے رابعہ بیگم بے حد خوش تھی نین کو بہو بنا کر پورے برادری میں اُن کی ناک اونچی ہوجاتی۔۔۔وہ خوبصورت تو تھی ہٹ لیکِن بے حد خوش مزاج تھی اور جلد ہی ڈاکٹر بننے والی تھی۔۔انہیں اپنے بیٹے داؤد کے لیے اس سے بہتر لڑکی مل ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔وہ بار بار اس کی نظر اُتار رہی تھی جو پنک شرٹ اور وہائٹ جینس میں گھنے لمبے بالوں کو فولڈ کرکے پونی ٹیل میں باندھے بنا کِسی میک اپ یا جویلری کے بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
راہب اور زارب بھی جب گھر آئے تو ذینب اور اُن دونوں سے بہت خوش ہو کر ملے زینب دونوں سے شکوے شکائت کرنے لگی اورساتھ اُن سے حال احوال بھی پوچھنے لگی۔۔
جیا نے روما کو بھرپور کمپنی دی تو اس کی نروسنز بھی کافی حد تک ختم ہوگئی
جیا اور نین ہم عمر تھی۔۔۔روما اُن سے تین سال چوٹی دسویں جماعت کی طالب علم تھی۔
نین پھر شانو اور خوشی سے باتیں کرنے میں بزی ہو گئی تو باقی سب کو بھول گئی۔۔وہ لوگ جب یہاں سے گئے تب شانو دو سال کا تھا اور خوشی کے آنے میں کچھ وقت تھا وہ ویڈیو کال کے بعد خوشی سے پہلی بار ملی تھی اور اس کی خوشی دیدنی تھی
وہ اس کے پھولے پھولے گالوں پر بار بار پیار کیے جا رہی تھی اور خوشی بھی بہت جلدی اس کی دوست بن گئی تھی۔۔۔
آپ کے ہوسٹ نے اچھا نہیں کیا نانو گیسٹ آنے سے پہلے ہی فرار ہو گیا۔۔۔۔۔۔
کھانے کے بعد لیڈیز کا باتوں کا دور شروع ہوا تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا وہ اب تیسری دفعہ داؤد کی غیر موجودگی کا شکوہ کر رہی تھی
سب سے ملنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن پچھلے دو دن سے اُسے دیکھنے کا انتظار تھا اس لیے اب اس کی غیر موجودگی خل رہی تھی
وہ فرار نہیں ہوا لاڈو کام آگیا تھا اُسے
اور تم کوئی گیسٹ نہیں ہو یہاں پر ۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے پھر سے اُسے سمجھایا۔۔۔۔۔
عشرت کھیر لے کر آئی تو رابعہ بیگم نے خود جام اس کے ہاتھ میں تھمایا
پھر بھی نانو اُسے یہاں ہونا چاہیے تھا نہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولی زینب اُسے تاسف سے دیکھ رہی تھی کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید تھوڑا بہت شرما لیتی لیکِن اس کی بیٹی کھلے عام اپنے منگ سے ملنے کی خواہش جتا رہی تھی
آجائے گا بیٹا اور آتے ہی اُسے اچھی ڈانٹ لگاؤں گی دیکھنا۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم بھی داؤد پر بھری بیٹھی تھی اُسے پیار سے بولی تو وہ مسکرائی۔۔
وہ سب کے لیے گفٹ لے کر آئی تھی اور اب سب کو گفٹ دینے لگی ۔ ۔ساتھ ہی ہر گفٹ کو لے کر ایک لمبا قصہ ضرور سناتی۔۔۔۔۔زینب کو تو بولنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا ۔۔۔روما اور جیا اب مل کر باتیں کرنے کے ساتھ نین کو بھی سن رہی تھی۔۔۔۔۔عشرت اور شیرین اپنے گفٹ دیکھ کر کافی خوش ہوئی لیکِن جب رابعہ بیگم نے ہیروں کا نازک سا ہار نین کے گلے میں پہنایا تو دونوں کی خوشی کہیں اُڑ گئی۔۔۔۔
تمہارے گھر آنے کا وقت نہیں ہوا اب تک۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو سب کے ساتھ مسکرا کر زینب کی بات سن رہی تھی دھیان عبّاس صاحب کی جانب چلا گیا جو باہر سے آتے کسی کو فون پر ڈانٹ رہے تھے اُسے سمجھ آگیا کے وہ داؤد سے بات کر رہے ہیں تبھی وہ اُن کی طرف توجہ دینے لگی
تھوڑی دیر سے کیا مطلب ہے دو تین گھنٹے یا ساری رات۔۔۔۔۔
وہ ذرا غصّے سے بولے اور مقابل کا جوا ب سننے لگے
فوراً پہنچو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے کہہ کر فون بند کر دیا اور گھڑی کی طرف دیکھا جہاں بارہ سے اوپر وقت ہو رہا تھا
بڑے ماما۔۔۔۔کیا کہا داؤد نے۔۔۔۔
وہ اپنے روم میں جانے لگے لیکِن نین کے پکارنے پر چونک کر اُسے دیکھا رابعہ بیگم بھی اس کی جانب متوجہ ہوئی
نہیں بیٹے میں داؤد سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولے رابعہ بیگم نے ناگواری سے پہلو بدلہ
تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیران ہوئی وہ جس طرح بات کر رہے تھے یقیناً گھر کے کِسی فرد سے کر سکتے تھے اور باقی سب گھر میں تھے سوائے داؤد کے
کچھ نہیں بیٹا تم یہ لو نا۔۔۔میں نے خاص تمہارے لیے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب جواب دیتے اس کے پہلے رابعہ بیگم جلدی سے بات بدل گئی اور کھیر کا ایک اور جام اس کے ہاتھ میں دیا
سو سویٹ آف يو بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی یہ مجھے بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی مسکرا کے اُن کی طرف دیکھنے لگی عبّاس صاحب اپنی بیگم کو تاسف سے دیکھ کر کمرے میں چلے گئے
کتنا کھاتی ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔
اُسے تیسرے کھیر کے پیالے سے انصاف کرتے دیکھ عشرت شیرین کے کان میں منمنائی۔۔۔
اچھا ہے نہ جلدی موٹی ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین ہنسی روکے بولی تو عشرت کو بھی ہنسی آگئی رابعہ بیگم کی گھوری پر دونوں ہڑبڑا گئی
ہم سب کو تحفے تو دے دیے نین لیکِن ہمارے دیور جی کا تحفہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین رابعہ بیگم سے نظر بچاتی نین کو چھیڑنے والے انداز میں بولی
کہیں تحفے کے بہانے چوری چپکے ملنے ملانے کا پروگرام تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
عشرت نے بھی لقمہ دیا۔۔وہ اُن کے اشاروں پرکُھل کر ہنسی
نہیں بھابھی ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے بلکہ میں نے تو داؤد کیلئے کوئی گفٹ ہی نہیں لیا ہے
اس نے ہنستے ہوئے کہا اُن دونو کے منہ حیرت سے کھل گئے زینب نے نین کو غصے سے گھورا اور روما ہنسی روکنے لگی
نین تم سچ میں بھائی کے لیے کوئی گفٹ نہیں لائی۔۔۔۔۔
جیا نے حیرت سے پوچھا بھلا وہ سب سے خاص انسان کے لیے ہی کچھ نہیں لائی تھی
میں کیا کروں یار مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کے میں اس کے لیے کیا لوں۔۔۔ میں نے کتنا سوچا کتنا سوچا لیکِن کوئی چیز نہیں سوجھی
حلانکہ پلین میں مجھے ایک آدمی ملا تھا
تھا تو وہ بہت کھڑوس ٹائپ کا لیکِن اس کے شوز مجھے بہت اچھے لگے میں نے سوچا کیوں نہ میں بھی داؤد کے لیے ویسے ہی شوز لے لوں لیکِن پھر خیال آیا کہ نہیں
وہ معصومیت سے بتانے لگی اور اس کے انداز پر رابعہ بیگم مسکرائی
پہلی بار اپنے ہونے والے شوہر کو گفٹ میں جوتے دینا اچھا تھوڑی لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ بولی تو سب ہنس دیے
اسلئے میں نے طے کیا کے میں داؤد سے مل کر اس کی پسند نا پسند جان کر یہیں سے اس کے لیے کچھ اچھا سا خرید لوں گی ویسے بھی ہمارے انڈیا میں کسی چیز کی کمی ہے کیا۔۔۔۔
اس نے حیران بیٹھی دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
بلکل ٹھیک کیا تم نے۔۔۔
کِسی کو اس کی اھمیت بتانے کے لیے صرف تحفہ دینا ہی ضروری نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے محبت سے کہتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی زینب پر سکون ہو کر مسکرائی۔۔۔۔۔۔
تو آپ کو یہ نیکلس دینے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔
عشرت نین کے گلے میں پڑے باریک سے ہیروں کے ہار کو دیکھ کر بڑبڑا ئی
کچھ کہا تم نے۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اس کی جانب دیکھا تو وہ بوکھلا گئی
نہیں تو بڑی ماں۔۔۔۔
فوراً بولی اور گردن زوروں سے ہلائی
نین کو اس کے روم میں لیجاؤ۔۔۔۔۔ وہ تھک گئی ہو گی
اُنہوں نے آنکھیں دکھاتے ہوئے حکم دیا تو دونوں منہ بنا کر اٹھ گئی۔۔
باقی سب بھی آرام کے غرض سے اٹھ کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے رات کافی ہوگئی تھی۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
صبح ہوتے ہی داؤد اُسے ڈاکٹر کی نگرانی میں ممبئی ایمز میں شفٹ کر چکا تھا وہاں اُس کی دوست پایل بھی ایک جانی مانی ڈاکٹر تھی اور اس نے داؤد کو تسلی دیتے ہوئے فوراً ہی فلک کا ٹریٹمنٹ شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کی حالت بہت نازک تھی۔۔۔۔وہ آکسیجن ماسک میں ۔سانس لیتی بےجان پڑی تھی ۔۔۔۔
داؤد اُس کی اس حالت کے پیچھے کی وجہ جاننے کو بے چین تھا۔۔۔۔۔
پایل مجھے یہ سوسائیڈ کیس نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔
داؤد نے ڈاکٹر کے باہر آتے ہی پرسوچ انداز میں کہا
تم صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔باڈی پر جس طرح کے ٹارچر کے نشان ہے اُس سے اندازہ تو ہو رہا ہے ۔۔۔اور اُس لڑکی کے بال بھی جلائے گئے ہے۔۔۔۔
پایل نے بھی اُس کی ہاں میں ہاں ملائی جب کے داؤد نے اُس کی بات اور حیرت سے اُسے دیکھا
کیا۔۔۔۔۔۔
اُس کے لبوں سے بے ساختہ نکلا وہ پریشانی سے پیشانی مسلنے لگا
ریپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے پایل کی طرف دیکھ اپنے ذہن میں اٹھتا سوال پوچھا
لگتا تو یہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پایل نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔داؤد نے افسوس بھری سانس خارج کی
اُس لڑکی سے ہی ہر سوال کا جواب مل سکتا ہے۔۔۔۔۔۔وہ بچ تو جاۓ گی نہ۔۔۔۔
داود نے اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا
ابھی تو کچھ بھی کہہ نہیں سکتے۔۔۔۔لیکِن کوشش پوری کریں گے ہم۔۔۔۔
تم گھر جاؤ داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔اینڈ ریلیکس۔۔۔یہاں اُس کا پورا خیال رکھا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔
پایل نے اُس کی پریشانی کو محسُوس کرکے فکرمندی سے کہا تو داؤد نے سر ہلا دیا۔۔۔۔
اُسے پہلے ہیڈ کوارٹر جا کر فائل بھی سبمٹ کرنی تھی۔۔۔اُس کے بعد گھر بھی جانا تھا ۔۔۔رابعہ بیگم کل سے اُسے کتنے ہی فون کر چکی تھیں۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆\∆\∆∆∆
کمرے کی کھڑکی کھول کے دونوں باہیں پھیلائیں صبح کی ٹھنڈی ہوا کا سواگت کیا اور مٹی کی بھینی بھینی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار کر اس خوبصورت صبح کی شروعات کی
بس ایک یہ احساس ہمارے وطن کے علاوہ دنیا کے کسی کونے میں نہیں مل سکتا
آنکھیں بند کئے سرشار سا مسکرا کر بولی
ہوا کے جھونکے سے بال چہرے پر بکھرنے لگے انہیں کان کے پیچھے کرتے ہوئے آہستہ سے آنکھیں کھولیں ۔۔
پہلے فلور کے اس روم کی کھڑکی گارڈن کی جانب کھلتی تھی ۔۔۔اور سامنے کا نظارہ بے حد دل فریب تھا ۔۔۔
رنگِ برنگے پھول اور اُن پھولوں کی تازہ مہک دل کو چھونے والی تھی ۔۔۔۔۔۔
ذینب کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ فلمیں دیکھ دیکھ کر وہ ایسی ہو گئی ہے کے ہر جگہ خود کو ہیروئن سمجھ کر سین شروع کر دیتی ہے لیکن حقیقت میں اُسے اپنے ہر لمحے کو جینا اُسے محسوس کرنا پسند تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ اس عمر کا بھی قصور تھا جو خواب بننا سکھا دیتی ہے
گھڑی پر نظر ڈالی تو نو بج رہے تھے ۔۔۔۔ اس نے کھڑکی کے پردے برابر کیے اور اپنے کپڑے لے کے جلدی سے واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔۔۔
اگر اور زیادہ دیر ہوتی تو زینب اسکی کلاس لگا دیتی وہ بھی اس کے سسرال والوں کے سامنے۔۔۔۔
بلیک شارٹ شرٹ اور گرے پینٹ میں بالوں کو فولڈ کرکے کلپ میں قید کیا کانوں میں بلیک چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہن کے بنا کسی میک اپ کے جلدی سے روم سے باہر نکلی۔۔۔۔۔
سیڑھیاں اُتر کر نیچے جانے ہی لگی تھی کے سامنے سے خوشی کو سامنے والے روم سے باہر نکلتا دیکھ رک گئی۔۔۔۔
کہاں سے آرہے ہو آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جھک کر خوشی کے گال پر پیار کرتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔
خوشی چاچو کو جگانے گئی تھی اُن کے لیے یہ کارڈ بنایا ہے۔۔۔۔۔
لیکِن وہ تو اٹھ ہی نہیں رہے۔۔۔
خوشی نے معصومیت سے کہتے ہوئے ڈرائنگ پیج اس کی طرف بڑھایا نین اس کے کارڈ کو دیکھ کر مسکرائی جس پر بڑی سی اسمائیلی میں پیلا رنگ بھرا ہوا تھا اور آس پاس کالے رنگ کے ڈاٹس بنے ہوئے تھے اُسے وہ کارڈ خوشی کی طرح ہی بے حد کیوٹ لگا
جب کے خوشی کی دُوسری بات کے اس کے چاچو یعنی داؤد گھر پر ہے یہ جان کر اُسے حیرت ہوئی
آپ کے چاچو گھر آگئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آہستہ سے پوچھا۔۔۔پتہ نہیں کیوں لیکِن دل کے دھڑکنے کا انداز بدلا۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔۔وہ تو اپنے روم میں ہی سو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
خوشی نے سر ہلاتے ہوئے بتایا۔۔۔
ٹھیک ہے تو آپ کا یہ کارڈ آپ کی طرف سے میں انہیں دے دیتی ہوں اور اُن سے یہ بھی کہوں گی کے وہ آکر آپ کو تھینکس بولے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوکے
اس نے اتنے ہی دھیرے سے کہا
اوکے آنٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی نے ہنستے ہوئے سر ہلایا جب کے آنٹی کہنے پر نین نے اُسے گھورا۔۔۔۔۔۔
آنٹی نہیں بلاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ برا سا منہ بنا کے بولی تو خوشی اس کے انداز پر کھلکھلا اٹھی
تو پھر کیا بلاؤں۔۔مما نے تو کہا تھا آپ خوشی کی آنٹی ہو
خوشی نے اُنگلی ٹھوڑی پر رکھ کر سوچتے ہوئے کہا
وہ آپ کے کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آنکھوں سے دروازے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔۔خوشی نے اس کے اشارے پر گردن موڑی
وہ تو خوشی کے چاچو ہے نا۔۔۔۔۔۔
خوشی نے دوبارہ اُسے دیکھتے ہوئے جواب دیا
تو میں آپ کی چاچی۔۔۔ ۔۔۔۔
اس نے خوشی کے کان کے قریب ہو کر کہا چہرے پر آنے والے حیا کے رنگ بے حد پیارے تھے جب کے اپنے کان میں گُدگُدی محسوس کرکے خوشی ایک دفعہ پھر کھلکھلا کر ہنس دی
آپ خوشی کی چاچی ہو۔۔۔۔۔۔۔
خوشی نے چہک کر پوچھا۔۔۔۔نین نے ہنستے ہوئے سر ہلا دیا اپنی اس حرکت پر خود بھی بہت ہنسی آئی
لوو یو چاچی۔۔۔۔۔۔۔
خوشی اس کے گال پر کس کرکے وہاں سے بھاگ گئی
نین اُسے ہنس کر دیکھتی کارڈ سے اپنا چہرہ چھپا گئی
دھیان داؤد کی جانب گیا تو وہ کارڈ ہاتھ میں لیے اس روم کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
دروازے پر دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو دل کی دھک دھک میں اضافہ ہوا۔۔۔۔و اُلجھ کر دروازے کو دیکھنے لگی کے آخر وہ اتنا نروس کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر سر جھٹک کر دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔۔لیکِن کوئی جواب نہیں ملا ۔۔۔۔۔۔
اس نے دوبارہ سے دستک دی اور اب کے زرا زور سے ۔۔۔تب نیند سے بھاری آواز میں صرف ہمم سنائی دیا اور اس ہممم پر بغیر دھیان دیے وہ اندر چلی آئی۔۔۔۔۔۔
سامنے دیکھا تو وہ بیڈ پر اوندھے منہ سویا تھا وہ بھی بغیر شرٹ کے ۔۔اس کی آنکھیں ایکدم سے پھٹی اور اس نے جلدی سے منہ پھیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرمانے والی لڑکی نہیں تھی لیکن اتنی بولڈ بھی نہیں تھی کے اُسے شرٹ لیس دیکھنے کے بعد وہاں رکتی۔۔۔۔۔ تبھی جلدی سے روم سے باہر نکل گئی۔…
دروازے سے باہر نکل کر دروازہ بند کیا اور اپنی سانس بحال کرنے لگی۔۔۔۔
لیکن وہ اُسے دیکھنے کو اتنی بیتاب تھی کے اب اسے ملے بغیر جانا بھی نہیں چاہتی تھی اور اس کے جاگ کر نیچے آکر مِلنے تک کا اِنتظار بھی نہیں کرنا چاہتی تھی
تبھی کچھ پل رک کر پھر سے دستک دی۔۔۔۔لیکن سونے والا بڑا ڈھیٹ بن کر سویا تھا ٹس سے مس نہیں ہوا
نین جھنجھلا گئی وہ اس سے ملنے کے لیے اتنی بے چین تھی اور داؤد کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔اس نے غصے میں بہت زور سے دروازہ بجایا لیکِن اب بھی کوئی اثر نہیں ہوا وہ مایوس ہو گئی اور بجھے دل کے ساتھ ہاتھ نیچے کر لیا۔۔
وہ جانے کے لئے پلٹنے ہی لگی کے ایکدم سے دروازہ کھلا ۔۔اس نے سانسیں روکی۔۔۔۔
وہ اب بھی شرٹ کو یُونہی ڈالے کھلے بٹنوں کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا لیکِن نین کا دھیان اب صرف اس کے چہرے پر تھا۔۔۔
اس کی بیچینی حیرت میں اور حیرت صدمے میں بدلی۔۔۔
داؤد کو آٹھ دس مہینے پہلے سر سری سا دیکھا تھا وہ بھی تصویر میں اور اس وقت سے اس کی کافی اچھی امیج بنی ہوئی تھی لیکن وہ اتنا بدل گیا۔۔آنکھیں ۔۔رنگ ۔چہرہ۔۔۔۔شیو بال۔۔سب اس قدر بدل گئے۔۔حیرت ہی حیرت تھی
او مائے گاڈ۔۔۔۔
اس کی صدمے سے بھرپور چیخ کے اثر میں وہ ایک دم دو قدم پیچھے ہوا اب تک جو نیند باقی تھی وہ آنکھوں سے غائب ہو گئی۔
داؤد۔۔۔یہ تمھیں کیا ہوگیا۔۔۔۔۔
وہ صدمے سے اُسے دیکھتی آگے بڑھی
وہ پھر پیچھے ہوا حیران پریشان سا۔۔۔۔یہ کیا بلا صبح صبح سر پڑی تھی
تم ڈی ڈی ایل جے کے شاہ رخ سے ایکدم میں ہوں نہ کے سنیل شیٹی کیسے ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔
میری امیجینشن اتنی غلط کیسے ہو گئی
میں تو تمہیں ڈریم مین سمجھی تھی مگر تم تو وائلڈ مین نکلے۔۔
میں تو تمہیں پرنس چارمنگ سمجھ رہی تھی تم تو بھلال دیو نکلے
وہ بھرپور حیرت کا مظاہرہ کرتی بنا رکے آگے بڑھ رہی تھی اور وہ بے سود پیچھے ہوتے ہوتے بیڈ سے ٹکڑا کے اس پر گرا تھا ۔۔۔۔
یا اللہ یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔یہ کوئی فریب ہو۔۔۔۔ میرا کوئی برا خواب ہو۔۔۔۔میں جاگ جاؤں اور یہ آدمی غائب ہو جائے۔۔۔ میں بارہ رکعت شکرانہ ادا کروں گی ۔۔۔۔
بس مجھے اس ڈراؤنی شکل سے نجات مل جائے
اب وہ اوپر چہرہ کیے دہائی اور دعائیں کیے جا رہی تھی
جب کے وہ سنبھل کر سیدھا ہوا اور اُسے غصے سے گھورا خود کو اتنا برا بھلا کہا جانے پر۔۔
مانا کے وہ لوفروں والے حلیے میں رہتا تھا لیکِن اس کی اٹریکٹیو پرسنلٹی کے پیچھے گھومنے والی لڑکیوں کی کمی نہیں تھی ۔۔
اے بنا بریک کی سائیکل۔۔۔بنا بھیجے کی کھوپڑی۔۔۔منہ بند کر اور آنکھیں کھول ۔۔۔۔اپن داؤد نہیں ہے۔۔۔
وہ جھٹکے سے کھڑا ہو کر اس کے سامنے آکر غصے سے بولا نین ایک پل کو گھبرا گئی۔۔۔سانس روک لی اور اگلے ہی لمحے خوشی سے چہک اٹھی
تم سچ میں داؤد نہیں ہو۔۔۔یا اللہ تو بڑا عظیم ہے رحیم ہے اتنی جلدی میری دعا قبول کر لی۔۔۔۔
اس کی بات سن کر وہ خوشی سے دوہری ہو گئی جب کے ساحل کو یہ اپنی مزید انسلٹ لگی۔۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔ اگر تم داود نہیں ہو تو پھر کون ہو۔۔۔۔۔
اس نے حیرت سے سوال کیا وہ اس گھر میں رہ چُکی تھی یہاں سب کو جانتی تھی یہاں تک کہ عشرت اور شیرین کے بھائیوں کو بھی بس اس شخص کو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم بتاتے ہے نین۔۔۔۔۔۔
عباس صاحب جو ساحل سے بات کرنے آئے تھے اس کا سوال سنا تو ایک پل رک کے اندر آئے نین بھی اُن کی جانب متوجہ ہوئی جب کے وہ اب وہاں سے ہٹ کر وارڈروب کی طرف بڑھا۔۔۔۔اور اس کا نام سن کر جان چکا تھا کے وہ کون ہے
یہ ساحل ہے ہمارا بیٹا داؤد کا بھائی اور آپ کی اس فیمیلی کا اہم حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے نین سے اس کا تعارف کرایہ جب کے وہ حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی
پر بڑے ماما میں نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت ظاہر کرتے ہوئے بولی۔۔۔وہ۔مسکرا یے۔۔۔۔جب کے ساحل نے دانت بھینچے وارڈروب کا ڈور بند کیا اس کے عزت دینے پر جب کے کچھ دیر پہلے وہ وائلڈ مین ،ڈاکو اور ڈراؤنی شکل والا آدمی تھا
کیوں کے بیٹا یہ ہمارے گھر تب آیا جب آپ یہاں نہیں لنڈن میں تھی۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اب بھی مختصر جواب دیا اس کا کنفوجن جہاں کا وہیں تھا کے
بڑے ماما مامی نے آخر اتنا لیٹ بے بی پلان کیوں کیا اور یہ اچانک اتنا بڑا کیسے ہو گیا۔۔۔
وہ ساحل کو دیکھ کر سوچنے لگی جو عمر میں داؤد کے برابر ہے لگتا تھا ۔۔۔اب عبّاس صاحب کے بیٹا اور داؤد کا بھائی کہنے پر تو وہ معصوم یہی سوچ سکتی تھی اور۔اگر اس کی سوچ عبّاس صاحب تک پہنچ جاتی تو وہ غش کھا کر گر جاتے
اچھا بڑے ماما میں نیچے جاتی ہوں سب راہ دیکھ رہے ہوں گے اور ممی تو سمجھے گی کے میں اب تک سو رہی ہوں
وہ جلدی سے اس سوچ سے جان چھڑا کر بولی۔۔انہوں نے مسکرا کر سر ہلا دیا تو جلدی سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
اور تم کہاں تھے رات بھر۔۔۔۔۔۔
نین کے جاتے ہیں اُن کا لہجہ بدلا وہ واشروم میں جاتے جاتے رک گیا
یہیں تھا بستر میں۔۔۔۔۔
لا پرواہی سے جواب دیا جس پر عبّاس صاحب نے غصّے سے اُسے گھورا
بستر پر تو تم رات تین بجے کے بعد تھے اس کے پہلے کہاں تھے۔۔۔۔۔۔ایسے کونسے ضروری کام ہوتے ہیں تمہیں جو رات رات تک۔ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔۔۔۔۔جتنا یہ آوارہ گردي کرتے ہو اتنی سنجیدگی سے اگر پڑھائی یا بزنس کو لے کر کچھ سوچتے تو اب تک کچھ نہ کچھ بن گیا ہوتا تمہارا۔۔۔۔۔
وہ غصے سے پھٹ پڑے وہ سر جھکائے سنتا رہا۔۔۔
تیار ہو کر نیچے آو جلدی ۔۔۔۔۔۔میں نے کالج میں بات کرلی ہے ایم بی اے میں۔ایڈمشن ہو جاۓ گا تمہارا۔۔۔۔۔۔۔اور کوئی نہ نہیں ہوگی اب
اُسے حکم سنا کے وہ روم سے نکل گئے اور ساحل نے ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کو بیڈ پر پھینکا یہ عجیب مصیبت تھی کے وہ اور داؤد اُسے پچیس سال کی عمر میں پڑھانے کے پیچھے پڑ گئے تھے۔۔
اور پڑھائ کے تو نام سے ہی اُسے مرچی لگتی تھی ۔۔
