Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 110)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 110)
جتنی دیر میں وہ کچن میں جا کر بڑی محنت سے کھانا نکال کر گرم کرکے واپس روم میں آئی تب تک وہ فریش ہو کر باہر بھی آچکا تھا۔۔۔
ڈارک بلیو کلر کی اپنی سائز سے کچھ تنگ شرٹ کے اوپر کے تین بٹن کھلے چھوڑے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا۔۔۔
دروازہ کھلنے پر محض آنکھیں کھولیں۔۔۔
نین نے ٹیبل کو بیڈ کے نزدیک کرکے اُس پر کھانا رکھا اور اُس کی طرف دیکھا کے کب وہ سیدھا ہو اور کھانا شروع کرے۔۔۔
جب کے وہ بنا اثر لیے پوری توجہ سے اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔بنا پلکیں جھپکے۔۔۔۔ایسے کے نین کا دل اُلجھنے لگا۔۔۔
اُس نے آنکھیں گھما کر بنا کچھ کہے پانی جگ سے گلاس میں خالی کرکے رکھا خود تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئی مانو بس منتظر ہو کہ کب وہ اُسے گھورنے سے فارغ ہو کر کھانا شروع کرے لیکِن پھر بھی و اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکون سے اُسے دیکھتا رہا تو وہ جھنجھلا گئی۔۔۔
ایسے گھورنا بند کرو مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ چڑ کر ماتھے پر بل اور لہجے میں ناگواری لیے بولی۔۔۔
کیسے گھور رہا ہوں میں۔۔۔۔۔
اُس کے سکون میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔۔۔ڈھٹائی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
جیسے کھانا یہاں نہیں یہاں ہے۔۔۔۔۔
نین نے جل کر دانت پیسے میز اور پھر اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اُس کے لب مسکرائے ۔۔صرف ایک گال میں گہرائی اُبھری ۔
کیا پتہ شاید میں اُس کھانے کا نہیں اس کھانے کا بھوکا ہو۔۔۔۔
وہ اُس کی جھنجھلاہٹ کو انجوئے کرکے اُسے شوخ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔نین نے آنکھیں بڑی کرکے اُسے گھورا۔۔۔
میرے ساتھ زیادہ چیپ باتیں کرکے یہ پرو کرنے کی ضرورت نہیں کے تمہارے ٹھرکی پن کا لیول اور بڑھ گیا ہے۔۔۔۔۔۔منہ بند کرکے کھانا کھاؤ ورنہ گیٹ آؤٹ۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے گھورتے ہوئے بھینچے لہجے میں اپنے پرانے ڈیرنگ بھرے انداز میں دھمکاتے ہوئے بولی تو وہ ایکدم سے دل پر ہاتھ رکھ کر کھل کر مسکراتا ہوا سیدھا ہوا۔۔۔
گجبب۔۔۔اب لگی نا تو۔۔۔۔اپن کی سونیو۔۔
وہ فدا ہونے والی ایکٹنگ کرکے آہ بھرتا ہوا بولا تو نین نے بیزاری سے آنکھیں گھمائی۔۔۔۔وہ ہنس کر پیر نیچے کیے میز کے سامنے بیٹھ کر کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
ویسے یہ تونے تو نہیں بنایا نا۔۔۔۔۔۔
اسپون ہاتھ میں لیتے ہی و اُسے دیکھتا ہوا معصومیت سے پوچھنے لگا تو نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے دیکھا۔۔۔۔وہ مسکراہٹ روک کر بائٹ لینے لگا۔۔۔۔
باقی سب تو بھول گیا لیکِن اُسے کھانا کھاتے دیکھ نین کو بھی ایکدم سے بھوک محسوس ہونے لگی۔۔۔۔
وہ رخ سامنے کر گئی لیکن وقفے وقفے سے اُس کی جانب دیکھتی بھی گئی اور ہر بار جیسے ہی اسپون اُس کے منہ میں جاتا نین کا منہ بھی کھل کر بند ہوجاتا۔۔۔۔زبان ذائقے کے لیے مچل اٹھتی۔۔۔۔اور پیٹ میں چوہے زوروں سے کود کود کر شور مچاتے
وہ چاہ رہی تھی ساحل فورملی اُسے کھانے کا پوچھ لے تو وہ اُن چوہوں کو سکون پہنچا لے گی لیکِن وہ تو اتنا مگن ہو کر کھانے میں مصروف تھا جیسے دنیا کی آخری تھالی سامنے ہو اور اُس کے لیے اس سے زیادہ کچھ ضروری نہیں۔۔۔
نین نے ایک دو بار اُسے گھور کر بھی احساس دلایا کے وہ اُس کے پاس بیٹھی ہے لیکن وہ جیسے کھانے کے آگے اپنی شوخی شرارت اور محبت سب بھول گیا تھا۔۔۔۔
ساتھ بیٹھے انسان کو بھی جھوٹے منہ پوچھ لیتے ہیں کھانے کا۔۔۔
وہ اُس کے نزدیک ہوتے اسپون کو دیکھ کر بے قابو ہو کر بھڑکتی بھوک سے تلملا کر اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔
کون ساتھ بیٹھے۔۔۔
اُس نے مصروف سے انداز میں بائٹ لیتے اُسے دیکھ انجان بن کر پوچھا
تمہیں میرے علاوہ بھی کوئی اور نظر آرہا ہے یہاں۔۔۔۔
نین نے اُس کی معصومیت پر دانت پیسے۔۔۔
میرے کو تو چوبیس گھنٹے نظر آتا ہے
وہ مسکراتی آنکھوں سے اُسے دیکھتا ہوا بولا۔
۔۔اپنے چاروں اور حسین دلرباؤں کا میلہ۔۔۔۔۔ایک سے بڑھ ایک خوبصورت لڑکیاں آس پاس منڈراتی رہتی ہے ۔۔۔۔كسی کی کالی زلفیں۔ کسی کی قاتل آنکھیں
۔۔کئیں دلکش ادائیں تو گورا بدن ۔۔۔
وہ فضا میں ان دیکھی حسیناؤں کو اڑتا دیکھ کھوئے کھوئے انداز میں بولا تو اُس کی بےشرمی پر نین کا منہ اور آنکھیں حیرت سے کھل گئے
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔مجھے تمہارے ڈرٹی مائنڈ کی ٹھرسٹی سوچیں جا ننے میں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔میں صرف اپنی بات کر رہی تھی
وہ ایکدم سے بھڑک اٹھی۔۔۔اُسے کھا جانے والے انداز میں گھور کر بولی۔
کیوں ۔۔۔۔میرا رومینٹک مومنٹ نگل کر تیرا پیٹ نہیں بھرا جو اب کھانا بھی چاہیے۔۔۔
وہ ابرو اٹھا کر بیزاری و بے رخی سے بولا تو نین نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
تم ایسے طنز نہیں کرسکتے مجھ پر سمجھے نا۔۔۔۔ورنہ مجھے بھی جواب دینا آتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر اُسے وارن کرنے والے انداز میں بولی۔۔
وہ بھی نمبو مرچ لگا کے۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھما گیا۔۔۔۔۔
جیسی بے غیرتی ویسا جواب۔۔۔
نین نے تڑک کر کہا۔۔اور اُس کی بے حسی دیکھ اپنے پیٹ کی آہوں کو نظر انداز کرکے وہاں سے اٹھنے لگی لیکِن ساحل نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے روک دیا۔۔
اُسے مزید تنگ نا کرتے ہوئے اسپون اُس کی طرف بڑھایا۔۔۔
منہ کھول۔۔۔۔۔۔
وہ احسان کرنے والے انداز میں بولا تو نین نے آنکھیں گھمائیں اور چہرہ موڈ لیا۔۔۔۔
ساحل نے ہاتھ سے اُس کے دونوں گالوں کو دبا کر چہرہ اپنی جانب کیا وہ آہ کر کے رہ گئی۔۔۔
ساحل نے اُس کے کھلے منہ میں نوالہ دے کر چہرہ چھوڑا۔۔۔
۔۔جنگلی کہیں کے۔۔۔۔۔
نین نے اپنے دکھتے گال کو سہلاتے ہوئے اُسے گھورا۔۔۔
جنگلی کی جان ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بلکل اسی کے انداز میں بول کر ہنسا تو وہ اُسے گھورتے گھورتے اُس کی خوبصورت ہنسی کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔
ڈمپل پہلے بھی پڑتے تھے لیکِن اتنے واضح نظر نہیں آتے تھے۔ اب شیو بلکل نا کے برابر تھی اس لیے بہت کھل کر اپنی خوبصورتی دکھا رہے تھے۔۔۔۔
اُس کے چہرے کو بے حد پُر کشش بنا رہے تھے۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی طرف دوسرا بائٹ دیا تو وہ اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر منہ کھول گئی۔۔۔۔
#
کھانے کے بعد وہ نیند سے بے حال ہو کر جمائی لیتی بیڈ کی طرف بڑھی لیکِن اُسے دونوں تکیے نزدیک کرکے بیڈ کے بلکل بیچ میں لیٹے دیکھا تو فوراً رک گئی۔۔۔
اُس کی کچھ دیر پہلے کی گئی جان لیوا حرکتوں اور بے باک سرگوشیوں کو سوچ کر دل کی دھڑکنیں بڑھی۔۔
اس وقت اُس کے نزدیک سونا اُسے خطرے سے خالی نہیں لگا اسلئے جتنی تیزی سے آگے آئی تھی اتنی ہی تیزی سے پیچھے ہوئی۔۔
میں ریا کے روم میں سونے جا رہی ہوں۔۔تمہیں کچھ چاہیے ہو تو فون کردینا۔۔۔
وہ دور سے ہی ایک تکیا اٹھا کر دونوں بازوؤں میں لیے اُس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر بولی اور بنا رکے دروازے کی طرف بڑھی
اے ہیروئن ۔۔۔۔ڈیلی سوپ والے ڈرامے کرنے کی سوچنا بھی مت۔۔۔
اُس کے دو تین قدم آگے بڑھتے ہی وہ سخت وارن کرتے لہجے میں بولا تو نین نے رک کر۔۔ پلٹ کر باوجود گھبراہٹ کے اُسے گھورا۔۔۔
یاد ہے نا کیسے میرے کو دھمکیاں دے دے کر اپنے ساتھ سونے پر مجبور کرتی تھی۔۔۔۔
اب خاموشی سے ادھر آ۔۔۔ورنہ جیسے میں لے کر آؤں گا تے کو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔
وہ بنا اپنی جگہ سے اٹھے اُسے جتاتی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا نین نے غصے سے اُسے دیکھا۔۔
میرے ساتھ ذیادہ دھمکی بازی مت کرو۔۔۔۔ جو دل میں آئیگا وہ کروں گی میں۔۔۔۔تم اپنا کام کرو سمجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے غصے سے گھورتی ہوئی بولی اور ڈھٹائی سے جانے کو پلٹی تو وہ بیزاری سے آنکھیں گھما کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اُس کا ہینڈل کی طرف بڑھتا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا۔۔
تکیہ کھینچ کر دور بیڈ کی طرف اچھالا اور وہ کچھ بولے اس سے پہلے جھک کر اُسے ایکدم سے اٹھا کر کاندھے پر ڈالتے ہوئے بوکھلانے پر مجبور کرگیا۔۔۔
وہ ہڑبڑا کے سانس روکے اُس کی شرٹ جکڑ گئی۔۔
ساحل نے اُسے بیڈ پر کِسی سامان کی طرح پٹخ کر ۔۔۔ہاتھ اُس کے سر کے نزدیک اور گھٹنا بیڈ پر رکھے اُس کے چہرے کے قریب جھک کر اُس کی ساکت حیرت سے پھٹی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
میں اپنا کام کرنے لگا تو تم صبح تک اپنی ضد پر پچھتاؤ گی۔۔۔۔سمجھی۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں جھانک کر معنی خیز لہجے میں اُسے دھمکا کر بولا تو نین نے سانس نگل کر گلے سے نیچے اتاری۔۔۔۔اور ماتھے پر بل ڈالے غصے اُسے گُھور کر دونوں شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اُسے پیچھے کیا ۔۔۔۔وہ دور ہو کر واپس پہلے والی جگہ لیٹ گیا اور ہاتھ بڑھا کر روم لائٹ آف کردی۔۔۔صرف زیرو لائٹ کی مدھم روشنی ہی باقی رہ گئی۔۔۔
اپنے ہاتھوں کلہاڑی مارنا اسے کہتے ہیں۔۔۔۔مت ماری گئی تھی میری… کاش کے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتی۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر پیروں کے قریب پڑا تکیا اٹھا کے سرہانے کی طرف بلکل بیڈ کے کنارے سے جوڑ کر رکھتے ہوئے دھیرے سے بڑبڑای تو وہ اُس کی گھبراہٹ اور جھنجھلاہٹ پر مدھم سا مسکرایا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا
یہ مت سوچنا کے میں تمہاری دھمکیوں سے ڈرتی ہو۔۔۔وہ تو اتنی رات کو تم سے بحث کرکے میں اوروں کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی اسلئے۔۔۔۔
وہ اُس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ ناک چڑھاتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں بولی اور رخ موڈ کر لیٹ گئی ۔۔۔۔
اِدھر فیس کرو۔۔۔
ساحل نے اُس کے پلٹتے ہی سکون سے اُسے آرڈر دیا لیکِن اُس نے جیسے سنا ہی نہیں آنکھیں گھما کر اُس کی بات کو یوں جھٹکا جیسے کہہ رہی ہو بڑے آئے مجھے آرڈر دینے والے۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر اُس کے نزدیک ہوا۔۔۔۔
بازو اُس کے تکیے پر پھیلائے اُس کے کان کے قریب جھکا۔۔۔۔۔وہ جو اُسے اگنور کرکے جمائی روکتے ہوئے آنکھیں بند کرچکی تھی سانسیں کان پر محسوس کرکے دوگنی تیزی سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔جمائی روکنے کو لبوں تک آئی اُنگلیاں اپنی جگہ ہی رہ گئیں۔۔۔۔۔
دیکھ یار تو ایسے اپنا ہاٹ فگر دکھا کے بہکا مت میرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ آگے کی ذمےداری اپن کی نہیں، ہاں۔۔۔
وہ اُس کے کان میں دھیرے سے بولا شرارت بھرے لہجے اور مسکراتی آنکھوں سے اُس کے چہرے کے بدلے رنگوں کو دیکھتے ہوئے۔۔۔
اُس کی سانسوں اور آواز کے سنسناتے احساس کے اثر سے نین کے کان کے قریب کی رگیں زوروں سے پھڑ پھڑ کرنے لگی۔۔۔منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔
اُس نے سنبھل کر احتیاط سے چہرے کا رخ اُس کی جانب کیا تو اُس نے فوراً مسکراہٹ چھپا کر سنجیدگی طاری کرلی۔۔۔۔
تم۔۔۔
وہ غیب و غضب سے دانت بھینچے اٹھ بیٹھی۔۔۔دونوں ہاتھ اوپر کرکے زوروں سے مٹھیاں بھینچ کر اپنے ضبط کا مظاہرہ کیا۔۔۔وہ اُسی پوزیشن میں لیٹا مسکراہٹ روکے اُسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔
تو تم مسٹر شریف العالم اپنی بے داغ۔۔۔ پاکباز نگاہوں کا رخ کیوں نہیں بدل لیتے ۔۔۔مت دیکھو نا میری طرف۔۔۔اپنی نظریں اُس طرف کرلو۔۔۔۔
وہ اُس کے سکون کو دیکھ جلے ہوئے انداز میں نہایت چبا چبا کر بولی
میں تو کرنا چاہتا لیکِن تمہاری کمر میگنیٹ کی طرح میری نظروں کو کھینچ رہی ہے۔۔۔۔کیا کروں۔
وہ آنکھوں کو جنبش دے کر معصومیت و بیچارگی سے بولا تو نین کا منہ کھل گیا۔۔۔
اُس نے پھرتی سے اپنی ٹی شرٹ مزید نیچے کھینچی۔۔۔۔
تم اور تمہاری نظریں دونوں ہی ڈھیٹ قسم کے ٹھرکی ہے۔۔۔۔۔ہٹو میری جگہ سے۔۔۔۔
وہ بھڑک کر اُسے ناگواری سے گھورتے ہوئے بولی اور بڑی بڑی آنکھوں سے ڈرا کر اپنے سائیڈ سے ہٹنے کا اشارہ کیا وہ مسکراتا ہوا واپس اپنی جگہ پر ہوا۔۔۔۔۔
وہ اُسے وہاں روکنے کے لیے اندر ہی اندر خود کو ملامت کرتی اپنی جگہ لیٹ گئی اور آنکھیں بند کرلی لیکن اس بار اپنا رخ اُس کی جانب ہی رکھا کے کم سے کم وہ اُسے مزید زچ نا کر سکے
لیکِن یہ اُس کی بھول تھی کیوں کہ وہ اُسے نیند کے مارے بےحال ہوتے دیکھ کر بھی بعض آنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔مسلسل اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔یوں کے نین آنکھیں بند کرکے بھی اُس کی نظروں کی تپش سے بے چین ہو رہی تھی۔۔۔
دل بے سکون ہو رہا تھا اور بند پلکیں لرز کر اُس بے سکونی کا اشتہار کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ کوشش کرتی رہی کے آنکھیں نہ کھولیں اور اُسے اگنور کرکے سونے پر فوکس کریں لیکن جب دھڑکنوں کی روش مزید بھڑکنے لگی تو اُس نے جھنجھلا کر آنکھیں کھول دی۔۔۔
اور عین اُس کی اُمید کے مطابق وہ اُس کی طرف رخ کیے پورے دھیان اور جذب سے اُس کے چہرے کو پڑھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
نظروں کے پرزور لمس سے نین کا حلق خشک ہونے لگا۔۔۔دھڑکنیں نارمل ہونے کی بجائے مزید بے ترتیب ہونے لگی۔۔۔وہ زیادہ دیر اُس کی آنکھوں میں نہیں پائی نظریں نیچے اُس کے بازو کی طرف کرلیں۔۔۔
ایسے مت دیکھو مجھے۔۔۔۔
بجائے سختی یا غصے کے نظریں نیچے رکھے جھجھکتے ہوئے دھیرے سے کہا تو اُس نے حرکت کرتے وقت لبوں کو دیکھا اور اُن کے تھمتے ہی پھر جھکی پلکوں کو۔۔۔۔
کیسے دیکھ رہا ہوں میں۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کے بدلے رنگ اور جھجھک پر شرارت بھلا کر سنجیدگی سے اُسے دیکھتا دھیمے سے پوچھنے لگا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ۔۔۔بس دیکھ رہے ہو۔۔۔۔
نین نے ماتھے پر بل ڈالے۔۔نظریں کچھ اور نیچے کرکے کھلی شرٹ سے جھلتے سینے پر جمائے جھنجھلائے انداز میں کہا۔۔۔
تو۔۔۔۔۔
وہ بےنیازی سے بولا
تو مت دیکھو۔۔۔۔
نین نے ایکدم سے نظریں اٹھا کر غصے سے اُسے دیکھا
کیا مت دیکھو۔۔۔۔
وہ انجان بن کر ۔۔۔ گہری نظروں سے اُس کے لبوں کو دیکھتا اُسے مزید نروس کرتے ہوئے بولا
اِدھر مت دیکھو کہا نا۔۔۔
وہ چڑ کر اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
کدھر۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جھنجھلاہٹ سے محظوظ ہو کر بے نام سا مسکرایا تو نین نے غصے سے دانت پیسے۔۔
اُس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔
پریکٹیکلی کروں گا تو پھر تمہیں پرابلم ہوگی۔۔۔سو بس امیجن کرکے اپنے دل کو سمجھا رہا ہوں۔۔۔تمہیں اس میں بھی تکلیف ہے۔۔۔۔
وہ مظلوم بن کر شکائت کرتے لہجے میں بولا لیکِن آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔۔۔جب کے اُس کی بات پر نین کو دھڑکنیں کانوں میں سنائی دینے لگی۔۔۔
۔۔ہاں ہے تکلیف۔۔۔اپنی فضول امیجنیشن پر کنٹرول رکھو بس۔۔۔
وہ بیزاری سے جان چھڑانے والے انداز میں بولی ۔۔۔نظریں اُس کے چہرے کی بجائے گلے پر رکھی تاکے وہ اُس کی گھبراہٹ نا دیکھ سکے۔۔۔
تم اس وقت میری امیجنیشن لیول کی پاور کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی بیوی۔۔۔۔کے یہ کہاں جا رہی ہے۔۔
وہ بہُت دھیمی آواز میں بے باکی سے بولا تو نین نے سانس روک کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔
اُس کی گہری گمبھیر نظریں اپنے اندر اُترتی محسوس کر اُس کے بدن میں سرد لہر دوڑ گئی۔۔۔
مجھے تمہارے منہ ہی نہیں لگنا۔۔۔۔
وہ دھک دھک کرتے دل سے نظریں جھکائے۔۔۔گلا تر کرتی کروٹ بدلنے لگی لیکن ساحل نے اُسے روکا۔۔۔۔
اُس کے بازو پر آہستہ سے ہاتھ رکھ کر اُسے نفی کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
نین نے اُسے گھور کر دیکھا تو وہ دونوں آئبرو ذرا اونچی کرکے معصوم شکل بنائے اپنے لبوں پر اُنگلی رکھ گیا مانو اب کچھ نہیں کہنا ۔۔۔۔اب کوئی شرارت نہیں کرنی۔۔۔۔۔
اور نین کا دل تھم گیا۔۔۔۔
ماتھے پر بکھرے براؤن شائنی بال ۔۔۔براؤن چمکتی چاہت لٹاتی آنکھیں اور دلفریب انداز۔۔۔اتنا اپنا اتنا پُر جذب تھا کے نین کو لگا پچھلے کئی عرصے کی بے سکونی کا علاج بس اُس میں ہے۔۔۔۔اُس کے دلکش چہرے میں ہے ۔۔۔اُس کی آنکھوں میں ہے۔۔۔۔اُس کے اس خوبصورت انداز میں ہے۔۔۔۔اُس کے اپنے ساتھ اپنے نزدیک ہونے میں ہے۔۔۔۔نظر کے سامنے ہونے میں ہے۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتا رہا۔۔۔۔لبوں پر اُنگلی یونہی رکھے اُس کی آنکھوں سے اُس کی سوچ کو پڑھتا رہا۔۔۔۔
نین کا دل اُسے دیکھ کر عجیب انداز سے دھڑکنے لگا مانو اب بس پگھلنے کو ہے۔۔۔۔
اس لمحے اُس نے شدت سے چاہا کے شرارت میں ہی سہی زبردستی ہی صحیح بہانے سے ہی صحیح وہ اُسے اپنے سینے سے لگا لے۔۔۔پچھلے ایک عرصے کی ساری بے سکونی مٹا دے ۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا دل بھاری ہونے لگا آنسُو آنکھوں تک آنے کو بے چین ہونے لگے تو اُس نے نظریں اُس کے چہرے سے ہٹا کر گہری سانس لی۔۔۔۔
وہ اُس کی ایک ایک حرکت دیکھتا رہا۔۔۔ محسوس کرتا رہا ۔۔۔لیکن سمجھا صرف اُس کی اداسی کو۔۔۔۔۔دل نے چاہا کے اُسے قریب کرلے لیکن وہ خود کو روکتا رہا تاکے اُس کی چاہت کو وہ خود غرضی نا سمجھے۔۔۔۔
چوٹ کیسے لگی تمہیں۔۔۔۔۔
وہ اُسے مسلسل خود کو تکتا دیکھ دھیرے سے بولی۔۔۔کب سے من میں آتا سوال پوچھا۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔
وہ اُسے اپنے متعلق سب بتانے کی شروعات کرتے کرتے رک گیا۔۔۔نین نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔
کوئی مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے۔۔۔اُسی نے حملا کروایا۔۔
اُس نے سچ بات لیکن ادھُوری شروعات کی۔۔سکون سے بتایا لیکِن نین کو شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔وہ جانتی تھی اُسے رنگ فائٹ کرنے کی عادت ہے۔۔۔۔۔مارپیٹ بھی وہ کرتا رہتا ہے لیکن جان لینا چاہتا ہے سن کر اُس کا دل بری طرح خوفزدہ ہوا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
کون ۔۔اور کیوں وہ تمہیں مارنا چاہتا ہے۔۔۔۔کیا پرابلم ہے اُسے تم سے۔۔۔۔
وہ تیز تیز دھڑکتے دل کے زیرِ اثر بیڈشیٹ کو مٹھی میں جکڑے ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگی۔۔
پتہ نہیں۔۔۔۔لیکِن جس طرح وہ میرے پیچھے پڑا ہے۔۔۔ایسا لگتا ہے جلد ہی میں۔۔۔۔
وہ سکون سے اپنی جگہ لیٹا افسوس سے بولنے لگا کے نین نے اُس کی بات کاٹی۔۔۔۔
بکواس نہیں کرنی ورنہ سر توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔
وہ اُس کی بات فوراً کاٹ کر غصے سے اُنگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔دل پریشان بھی ہوا اور خوفزدہ بھی۔۔۔۔
اچھا ہے نہ اُس کا بدلہ اور تیرا بدلا ساتھ پورا ہوجائے گا۔۔۔۔تیرے بھی تو بہُت حساب نکلتے ہے میرے پر۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔جتاتی نظروں نے نین کو سمجھا دیا کے وہ اُس سے نفرت جتا کر اُس کی فکر نہیں کرسکتی۔۔۔
تو وہ کیا میرا منشی لگتا ہے جو حساب برابر کرےگا۔۔۔۔۔اپنے بدلے میں خود لے سکتی ہوں۔۔۔۔اور کیسے لینے ہے وہ بھی میں ہی ڈسائڈ کروں گی۔۔۔کوئی لعنتی تمہیں ہاتھ تو لگائے اُس کے پورے خاندان کو گنجا نا کر دیا تو میرا نام بھی نین تارا نہیں ۔۔۔۔
وہ ناگواری سے بولی اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر خفا خفا اور غصے بھرا لہجہ تھا۔۔بے حد خوبصورت انداز تھا۔۔۔۔
پھر اسی انداز میں اُس کے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔
اور تم بھی اپنے کان کھول کر سن لو۔۔۔۔خبردار جو کسی کو خود کو نقصان پہنچانے دیا یا اب ایک بھی تھپڑ کھا کر آئے۔۔۔۔۔۔میں تمہاری ہڈیاں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر اُسے وارن کرتے کرتے اچانک رک گئی۔۔۔حالانکہ وہ سنجیدہ تھا۔۔۔لبوں پر مسکراہٹ تھی نا آنکھوں میں کوئی شوخی لیکِن نین کو محسوس ہوا تھا کے وہ اپنی ایک بات سے اُسے اکسا کر اُس کے غصے اور نفرت کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا چکا تھا۔۔۔اُس کے درد اور ناراضگی کو بے مول کرگیا تھا۔۔
میرے اِموشنز کا مزاق بنا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹوٹے لہجے میں بولی اور جملہ ختم ہونے کے ساتھ ہی آنکھ سے آنسُو گر کے چہرے پر پھسلا۔۔۔
وہ گلا تر کرتے ہوئے تیزی سے اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔اور اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر سر نفی میں ہلایا۔۔۔
بس تمہیں اپنے قریب لانے کے بہانے ڈھونڈھ رہا ہو یار۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ پر جذب ۔۔۔شدتِ ضبط سے بھاری لہجے میں بولا۔۔۔نین نے بھیگی ناراض نظروں سے اُسے دیکھا۔۔
اور اس وقت جتنی شدت سے میرا دل تمہارے لیے تڑپ رہا نا۔۔۔میں کچھ بھی کروں گا تو غلط نہیں ہے میرے لیے ۔۔۔۔۔
وہ بے بس بکھرے لہجے میں بولتا اُس کے سر سے پیشانی ٹکا گیا۔۔۔۔
I hate you۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے ہاتھ چہرے سے ہٹائے اُسے خود سے دور کیا۔۔
کتنا مطلبی پن ہے تمہارے اندر۔۔۔۔۔
آج تمہیں اپنے دل کے آگے غلط صحیح سے مطلب نہیں لیکِن میرا دل دکھاتے ہوئے تمہیں کوئی خیال نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ چہرے سے آنسُو رگڑ کے غصے کی بجائے خفگی سے بولی۔۔۔۔
تُم میرے دل اور دماغ تک پہنچ کر اگر جان سکو تو جان لو کہ میں نے ایک سیکنڈ کے سب سے چھوٹے حصے میں بھی تمہیں ان سے الگ نہیں کیا۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر گال پر پھیلی نمی کو انگھوٹے میں جذب کرتے ہوئے بولا
نہیں ماننی مجھے تمہاری کوئی بات۔۔۔۔۔۔۔اب اور دھوکا نہیں کھانا ۔۔۔۔
وہ بے ربط روتے ہوئے سر زوروں سے نفی میں ہلاتی ہوئی بولی۔۔
ساحل نے آنکھیں بند کرکے کھولیں اور اُس کا چہرہ اوپر کرکے خود کی آنکھوں میں دیکھنے پر مجبور کیا۔
میں تم کو جب ریزن بتاؤں گا تو صرف دو سکنڈ لگے گے ۔۔۔تم مان بھی جاؤگی اور سمجھ بھی جاؤ گی۔۔۔
لیکن تم نے ہی کہا تھا کہ تم اپنی اہمیت جاننا چاہتی۔۔۔۔۔تو دیکھو نا۔۔۔۔۔میری آنکھوں میں دیکھو خود کو اور اندازہ لگاؤ اپنی اہمیت کا۔۔۔۔۔
کیا نظر نہیں آتا کے میں خود سے زیادہ تمہارا ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بھیگی آنکھوں اور لرزتے لبوں کو دیکھتا ہوا لہجے میں بے حد تڑپ اور آنکھوں میں بے پناہ چاہت لیے بولا۔۔۔اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر عین دِن کی جگہ رکھا۔۔۔
خود کو یہاں محسوس نہیں کر سکتی تم۔۔۔۔۔۔
وہ جذبِ دروں سے بھیگے لہجے میں بولا
چہرہ اُس کے مزید نزدیک کیا کے نین کو اُس کی سانسوں کی تپش کے ساتھ مدھم سرگوشی بھی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔اور محسوس ہوئی اُس کی آنکھوں میں بڑھتی ہوئی بے بسی۔۔
محسوس ہوا اُس کی دھڑکنوں کی حرکت پر تمام رگوں میں خون کا ہتھیلی کی اور سفر کرنا۔۔۔
وہ سسکیاں لیتی اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
میرا دل کر رہا ہے میرے اندر تمہارے لیے جو بھی فیلنگس ہے اُنہیں کسی بھی طرح اپنے اندر سے نکال کر تمہاری ہتھیلی میں رکھ دوں تاکہ تم دیکھ سکو ۔۔۔ جان سکو ۔۔۔اور محسوس کر سکو ۔۔۔۔کیوں کے لفظوں میں کبھی بتا نہیں سکتا میں تمہیں۔۔۔لفظ ہے ہی نہیں کسی زبان میں۔۔۔۔ جو کافی ہو اظہار کے لیے۔۔۔۔
وہ چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد اُس کا ہاتھ اپنے دل پر مضبوط کرتے ہوئے اپنے لفظوں اور نگاہوں کی شدت سے اُس کا دل دھڑکاتے ہوئے بولا۔۔۔نین نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام کرکے اپنا ہاتھ اور سخت کرگیا۔۔۔
نین کے آنسو نہیں تھمے ۔۔۔۔۔۔
دل نے کہا کہ بس اب سب ختم کردے اور تھکے بکھرے وجود کو اُس کی پناہ میں دے دے۔۔۔
لیکن دماغ روکتا رہا۔۔۔
دماغ روکتا رہا اور ساحل کی آنکھیں اپنی اور کھینچتی رہی۔۔۔
ایسے مت دیکھو مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں خفگی سے دیکھتے ہوئے راب سے غصے سے بولی۔۔۔
کیسے دیکھ رہا ہُوں میں۔۔۔۔۔۔
وہ اس سے ذرا بھی دور نہیں ہوا
اُس کے چہرے میں نظریں الجھائے رکھی۔۔۔لہجہ گمبھیر ہوا۔۔۔۔نظریں پرسوز ہوئیں۔۔۔آواز مدھم بھاری ہوئی۔۔۔سانسیں آگ سی تپش دینے لگی۔۔۔۔
جیسے کسی چاہنے والے کی نظریں دیکھتی ہے۔۔۔۔
نین نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا بھیگے بکھرے لہجےمیں
ساحل کے خشک گلے میں سانس رکی۔۔۔۔
Because I mean it damm it۔۔۔۔I bloody Love you
وہ اُس کے ہاتھ سے ہاتھ ہٹا کر اُس کے بالوں میں الجھائے ضبط سے بھری آواز میں بولا۔۔نین کا ہاتھ اُس کی گرفت چھوٹتے ہی اُس کے پیر پر آگرا۔۔۔نظریں اُس کی نظروں سے اُلجھی رہی۔۔۔
اور میں کہوں یہ جھوٹ ہے تو۔۔۔۔
وہ اُس کی اُنگلیوں کی گرفت بالوں میں سخت ہوتے محسوس کرتی اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔
تو میں مرتے دم تک اس جھوٹ پر قائم رہوں گا۔۔۔۔
وہ اُس کی نظروں کو خود میں جکڑے لفظوں کو شدت سے ادا کرتے ہوئے سرگوشی میں بولا اُس کے لہجے کی تپش نین کے اندر سے نمی کھینچنے لگی۔۔۔۔
اُس کے لیے مزید اُسکی آنکھوں میں دیکھنا مشکل ہوا۔۔۔نگاہوں کی تیز تپش جلتی کرنوں کی صورت بدن میں دھنسنے لگی۔۔۔
آئے لوو یو یار۔۔۔
وہ اُس کی پیشانی کے نزدیک لب لیجاتے ہوئے آنچ سی سرگوشی میں بولا اور لبوں نے پیشانی کو اپنے لمس سے مہکایا۔۔۔۔۔بوجھل سانسیں اپنے زور سے نین کو آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔
وہ اُس کے پیر کو سختی سے تھام گئی
پھر سے بولو۔۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں کھولیں بنا دور ہوئے اُسے ناراض نظروں سے گھورتے ہوئے آرڈر دیا تو وہ دلسوز سا مسکرایا۔۔۔۔
آئے ایم ان عشق وتھ یو ۔۔۔۔۔
مسکراتی گہری نگاہوں میں اُسے قید کیے بھاری گمبھیر لہجے میں بولا تو نین کی بے ترتیب دھڑکنیں سکون محسوس کرنے لگی لیکِن آنسُو مزید بے ضبط ہوئے۔۔۔
اُس نے ساحل کو گھورنا جاری رکھا۔۔۔۔ہاتھ اُس کے پیر سے اوپر ہوتا اُس کی شرٹ کی کالر تک آیا ۔۔۔۔ اُنگلیوں سے شرٹ کے گریبان کو مُٹھی میں سمیٹ کر اپنے نزدیک کھینچتے ہوئے اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔
بدن کا سارا بوجھ اُس پر ڈال دیا دل میں بھری شکایتوں کو آنسوؤں کی صورت اُس تک پہنچا تی گئی
بس لمحہ بھر کو اُس کا پورا وجود اپنی جان سمیت تھم گیا تھا۔۔۔۔اور پھر دل نے بہُت تیزی سے دھڑکنا شروع کیا۔۔۔۔اُس نے لبوں سے سانس لی۔۔۔ آنکھیں بند کی اور دونوں بازوؤں کی سخت گرفت میں نین کو بے حد شدت سے بھینچا۔۔۔لب آپس میں سختی سے جڑے رہے اور کنپٹی کی رگیں اُبھر کر واضح ہُوئی۔۔۔
وہ بے اختیار بے آواز بے شمار روتی گئی ایک ہاتھ سے اُس کے بھاری بازو کو پوری قوت سے جکڑے رکھا کے اُنگلیاں شرٹ سمیت اندر دھنسنے لگی۔۔۔۔۔۔
آنسوؤں کے ساتھ ڈھیروں سسکیاں ۔۔۔آہیں۔۔۔اور بے ترتیب سانسیں بھی وہ اپنے سینے پر محسوس کرتا رہا لیکِن اُسے نہیں روکا۔۔۔
اگر یہ تھوڑی دیر کی تکلیف نین کے دل کو پرسکون کرسکتی تھی تو اُسے کچھ دیر اور سہنا منظور تھا۔۔
وہ اُس کے گھنے بالوں میں چہرہ چھپائے اُن کی خوشبو میں سانسیں لیتا خود کو کسی گمنام فضا میں گُم ہوتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔
لمحہ بہ لمحہ ذہن سب بھول کر بے خود ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔اور بدلتی جا رہی تھی بازؤں کی گرفت۔۔۔۔دھڑکنوں کی دھن۔۔۔جذبات کی رو۔۔۔۔۔۔اور سانسوں کی جلن۔ ۔
لب بے تابی سے جا بجا بالوں کو چھوتے جا رہے تھے۔۔۔
بازو بس اُسے بھینچ کر خود میں جکڑ لینے کو بے چین تھے ۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی سرگوشی کرتی سانسیں اپنے کان پر سنسناتی محسوس کی تو رونا بھول کر آنکھیں کھولیں۔۔۔اُس کی گرفت کی شدت میں بے پناہ حدت اور غیر معمولی دہک محسوس کرکے دل سمٹ گیا۔۔۔۔۔۔
اُس نے بازو سے ہاتھ ہٹایا تو آستین پر اُنگلیوں کے نشان بنے رہ گئے۔۔۔۔
اُس نے پیچھے ہو کر سانس روکے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
ساحل نے اُس الگ ہوتے ہی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔اُس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی نظروں کو خود میں اترتا محسوس کرکے پلکیں جھکائے کچھ کہنے کو لب کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ فوراً اُنگلی رکھ کر اُسے روک گیا۔۔۔
نین نے دوبارہ اُس کی طرف دیکھا۔۔
تمہارے سب شکوے بعد میں۔۔۔
میری صفائیاں پھر کبھی۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مدھم سی سرگوشی میں بولا۔۔۔
نین کی زبان تالو سے لگی اور بدن میں بجلی سے دوڑنے لگی۔۔۔
ابھی مجھے پاس رہنے دو۔۔۔۔
تمہیں جی بھر کر دیکھنے دو۔۔۔
وہ اُس کے اتنے قریب ہو کر بولا کے حرکت کرتے ہوۓ لب گال کو چھونے لگے۔۔۔نین نے نظریں نیچے کرکے اُس کے شولڈر پر جما دی۔۔۔۔
آنکھوں کو پیاس بجھانے دو ۔۔۔۔
دل کو تسکین پانے دو۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ تھام کر اُنگلیوں کو آپس میں الجھائے کلائی کو لبوں سے چھو کر بولا نین کی نبض تیز تر ہوئی۔۔۔
مجھے خود میں اُلجھنے دو۔۔۔
اپنے دل میں اترنے دو۔۔۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ اپنی گردن پر رکھ کر اُس نے پیشانی سے پیشانی لگائی۔۔۔نین کا دل اُس کی تیز سانسوں اور جانلیو ا قربت کے اثر سے لرزنے لگا۔۔اُس نے آنکھیں بند کی۔۔۔
وہ سب محسوس کرنے دو ۔۔
جو تم کو درد دیتا ہے۔۔۔۔۔
وہ ڈر ڈھونڈھ لینے دو۔۔۔۔
جو تم کو ستاتا ہے۔۔۔
وہ پیشانی کو دھیرے سے رب کر دور کیے لبوں سے بند آنکھ کو چھوتا ۔۔ سوزِ دروں سے بوجھل لہجے میں بولا۔۔۔
نین نے پھر امڈتے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا۔۔۔
جو تم کو رلاتی ہے۔۔۔۔
وہ بے چینی مجھے دے دو۔۔۔۔
مجھ سے لے لو میرا سب کچھ۔۔۔۔
اپنے سب غم مجھے دے دو۔۔۔۔
اُس نے لبوں سے گال کو کان کے بے حد نزدیک چھو کر دھیمی سرگوشی کرتے ہوئے سر اُس کے شولڈر پر رکھا ۔۔۔نین کا دل زوروں سے باہر آنے کو بے چین ہوا۔۔۔
گلے میں سانس رکی۔۔۔
میں تم کو دل بنا لوں گا۔۔۔
تم مجھے آنسو بنا لینا۔۔۔
میں تمہیں یہاں رکھ لوں گا
تم آنکھوں میں بسا لینا۔۔۔۔
اُس نے نین کا ہاتھ تھام کی اپنے دل پر رکھتے ہوئے ساتھ اُس کے گلے میں پڑتی گہرائی کو لبوں سے چھوا۔۔۔نین کی گرفت گردن پر سخت ہوئی۔۔۔سانسیں بکھریں۔۔۔
مجھے بس اپنی خوشبو سے
کبھی محروم نا کرنا۔۔۔۔۔
وقت کتنا بھی آزمائے ۔۔۔۔
بس یہ ظلم نا کرنا۔۔۔۔۔
وہ بہت بے نام سی آواز میں سرگوشی کرتا کان کو لبوں سے چھونے لگا ذہن اب لفظوں سے بھی بھٹک گیا۔۔۔۔مدہوشی میں ڈوبتا گیا۔۔۔۔گرفت میں شدت آتی گئی۔۔
نین اُس کے وجود میں سمٹنے لگی۔۔۔۔
وہ اُس کے بالوں میں اُنگلیاں الجھائے گردن کو اپنی سانسوں اور لبوں کے سلگتے لمس سے مہکاتا اپنی جگہ سے اٹھا اوراسے ساتھ لگائے بیڈ پر لٹا کر اُس پر جھکا۔۔لبوں کو نرمی سے قید کرکے درمیان میں دیوار بنے ہاتھ کو تھام کر سر کے نزدیک رکھا اور اُنگلیاں سختی سے جکڑی۔۔۔۔
بیتابی بےخودی اور تپش زدہ لمس سے نین کی سانسیں ابتر ہونے لگی۔۔دماغ سانسوں کی دلسوز سرگوشیوں میں ڈوب کر ماوف ہونے لگا۔۔۔۔شکوے گلے انتقام نفرت سب بھول گیا۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
