Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 97
No Download Link
Rate this Novel
Episode 97
سارا دن ریا نے اُسے گھر سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیا۔۔۔پورا وقت اُسے اپنے ساتھ رکھا پہلے کچن میں کام کرتے وقت ۔۔ ۔پھر اپنے اِنلاز کے سامنے بھی ایک پل کے لیے اُس کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔۔۔ نین نے بچ کر بھاگنے کی جو بھی کوشش کی ناکام ہوئی۔۔
رات کو جب اُن کی پوجا کی رسومات شروع ہوئی تو ریا نے اُسے کمرے میں لا کر چھوڑا۔۔۔۔اور سختی سے وارن کیا کے باہر نہ نکلے۔۔۔
میں اتنی دیر اکیلی یہاں کیا کروں گی ریا۔۔۔
وہ رونی صورت بنا کر بولی۔۔۔
تمہیں اس کمرے کے اندر رہ کر جو کرنا ہے کرو۔۔۔مووی دیکھو۔۔۔گیم کھیلو۔۔۔یا سوجاؤ۔۔۔لیکِن تم باہر نہیں جاوگی۔۔۔۔
ریا نے ہٹلر کی طرح کرخت انداز میں اُسے آرڈر دیا ۔۔
۔۔۔۔میں اُس ڈی ایس سے ملنے نہیں جا رہی یار ۔۔۔بس ایسے ہی تھوڑا مارکیٹ کا چکر لگا کر آتی ہوں نہ۔۔۔۔پرامس بس آدھے گھنٹے میں واپس آجاؤں گی۔۔۔۔تب تک تمہاری پوجا بھی ہوجائے گی۔۔۔
اُس نے بیزاری و جھنجھلاہٹ سے کہا اور تیزی سے دروازے کی اور بڑھنے لگی تو ریا نے ہاتھ اڑا کے اُسے روکا۔۔۔
پوجا کو چار گھنٹے لگے گے۔۔۔۔تب تک تم یہیں رہوگی۔۔۔۔مجھے تم پر بلکل بھروسہ نہیں ہے۔۔۔۔اور ویسے بھی تمہیں پتہ ہے نہ رات کو یہ شہر لڑکیوں کے لیے سیف نہیں ہے۔۔۔تم تو یہاں کے راستے بھی نہیں سمجھتی ابھی۔۔۔خواہ مخواہ کی مصیبت نہیں بڑھانی۔۔۔۔جہاں جانا ہے ہم ساتھ جائیں گے کل۔۔۔۔۔۔ابھی تم اپنے شیطانی دِماغ کو سکون دو اور مجھے میرا کام کرنے دو۔۔۔۔۔
ریا نے اُسے شاک دے کر تیکھے تیوروں سے گھورتے ہوئے کہا تو و منہ بسور کر رہ گئی۔۔۔
کتنی جلاد ہو تم۔۔۔۔۔آئے ہیٹ یو۔۔۔۔
بدلے میں اُسے غصے سے گھور کے کہا
سیم ٹو یو۔۔۔۔۔۔
ریا نے بےنیازی سے کندھے اچکا کر کہا اور باہر نکل کر باہر سے دروازہ بند کرنے لگی۔۔۔نین نے بے یقینی سے منہ کھولے دروازے کی طرف بڑھ کر اُسے کھینچ کر دیکھا تو وہ واقعی بند تھا۔۔
دروازہ کیوں بند کر رہی ہو۔۔۔۔۔ریا۔۔۔
ریا میں نہیں جا رہی ہوں یار دروازہ مت بند کرو۔۔۔۔
وہ آوازیں دیتی رہ گئی اور وہاں سے غائب ہو گئی۔۔۔
اُس نے سوچا تھا ریا کے جاتے ہی وہ چپکے سے باہر نکل جائے گی لیکن اب دروازہ بند ہونے سے یہ بھی ناممکن ہوچکا تھا۔۔۔
♦♦♦♦♦
انجو پلیز ۔۔۔۔میرا موڈ نہیں ہے۔۔۔
اُس نے بنا سکرین سے نظریں ہٹائے بیزاری سے جواب دیا۔۔
انجو پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل اُسے منانے کی کوشش کر رہی تھی کے وہ اُس کے ساتھ ریا کے گھر چلے۔۔۔
ویسے تو اُس نے پہلے کبھی دکش کو کہیں آنے جانے کے معاملے میں اتنا فورس نہیں کیا تھا لیکِن آج اُسے خاص پورب کو دکھانے کے لیے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے حقیقی محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بہُت خوش ہے۔۔۔۔وہ دکش کو ساتھ لے کر جانا چاہتی تھی۔
جب کے دکش راضی ہونے کے بلکل موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔وہ تو نین کے برتھ ڈے کا ذکر سننے کے بعد سے بہت مشکلوں سے اپنی بے چینی ظاہر ہونے سے روک رہا تھا۔۔۔۔۔۔اپنا دماغ کام میں لگانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔
دل مجبور کر رہا تھا کےکسی طرح اُسے ایک بار دیکھ لے۔۔چوری سے یا ۔۔۔بہانے سے۔۔۔۔لیکِن وہ کوئی غلطی کرکے نین کی جان اور اپنی محنت دونوں کے لیے خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا
پلیز دکش میری خوشی کے لیے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر خفا سے شکل بنائے بولی تو دکش نے سنجیدگی سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
تمہاری فرینڈ کا برتھڈے ہے۔۔۔تم جاؤ انجو۔۔۔مجھے کام ہے۔۔۔۔۔
ایک دفعہ پھر اُسی روکھے انداز میں کہہ کر دوبارہ لیپٹاپ کی طرف متوجہ ہوا تو انجو نے اُس کے سامنے سے لیپ ٹاپ ہی اٹھا لیا۔۔۔
آپ کے لیے کام امپورٹنٹ ہے میں نہیں نہ۔۔۔۔۔
دکش کے حیرت سے دیکھنے پر وہ اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
انجو دو ادھر۔۔۔کیا کر رہی ہو۔۔۔
اُس نے بے حد جھنجھلائے لہجے میں کہا۔۔
پہلے آپ میرے ساتھ چلیے۔۔۔۔۔۔
انجو نے لیپٹاپ لوٹانے کی شرط رکھی تو وہ دانت بھینچ کر غصے اُسے دیکھتا وہاں سے اٹھ کر گھر کے اندر جانے لگا۔۔۔۔۔
انجو نے ہڑبڑا کر لیپٹاپ واپس ٹیبل پر رکھا اور تیزی سے اُس کی طرف بڑھ کر اُس کا راستہ روکا۔۔۔
ٹھیک ہے آپ کو نہیں چلنا تو نا صحیح۔۔۔غصّہ مت کیجئے اب
اُسے غصے میں دیکھ وہ منہ بسور کر بولی۔ ۔۔
غصّہ نہیں ہوں میں۔۔۔
اُس نے گہری سانس لی اور سنجیدگی سے دیکھ کر نرمی سے کہا ۔۔۔
آپ کبھی میرے ساتھ کِسی پارٹی میں نہیں آتے۔۔ میری سب فرینڈز اپنے اپنے بائے فرینڈز کے ساتھ ہوتی ہے بس میں ہی اکیلی ہوتی ہوں۔۔۔۔۔اگر آپ نہیں چلے گے تو اب سے میں بھی کہیں نہیں جاؤں گی۔۔
ریا کو برا لگتا ہے تو لگ جائے۔۔۔
وہ اُس کی نرمی کا فائدہ اٹھا کر اُداسی اور دکھ سے بولی تو دکش نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔۔
Ok fine۔۔۔۔۔۔۔۔
انجو کی مسلسل ضد سے عاجز آکر اُس نے بیزاری سے حامی بھری
I love you۔۔۔۔۔۔۔
انجو اُس کے راضی ہوتے ہی خوشی سے کہتی اُس کے گلے لگ گئی ۔۔۔
I’ll just change۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے پیچھے کرکے بنا مسکرائے بولا اور اندر کی طرف بڑھا جب کے انجو اب پورب کے بارے میں سوچ رہی تھے کے اُسے کیسے جواب دے۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
اس نے ٹی وی بند کرکے ریموٹ بیڈ پر پٹخ دیا اور غصے سے بند دروازے کو گھورا۔۔۔۔
وہ پچھلے تین گھنٹوں سے اندر بند تھی ۔۔۔ٹی وی اور موبائل سے بیزار ہو چکی تھی ۔۔۔۔
نا ریا آنے کانام لے رہی تھی نا آوازیں دینے کا کوئی اثر ہو رہا تھا۔۔۔
وہ بس گھر سے باہر نکلنے کا ایک موقع ڈھونڈھ رہی تھی کے باہر نکلنے کے بعد ساحل تک پہنچنے کا راستہ تو وہ خود بنا ہی لیتی لیکن ریا کی پابندی اور پہریداری اُسے حیران پر حیران کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ منہ پھلائے بیڈ پر بیٹھی دل ہی دل میں ریا کو گالیوں سے نواز رہی تھی جب اچانک سے کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔
وہ گھبرا کر سیدھی ہوئی اور اپنے چاروں اور دیکھا تو سیاہی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیا۔۔۔۔
ٹیرس ڈور کھلا تھا لیکن پردے کی وجہ سے ذرا بھی روشنی اندر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
اُس نے ہاتھوں سے بیڈ پر موبائل ٹٹولا لیکِن نا بیڈ پر موبائل تھا نا سائیڈ ٹیبل پر ۔۔۔۔
حقیقی معنی میں اُس کا دل خوفزدہ ہو رہا تھا ۔۔۔کیوں کہ وہ جگہ نئی تھی اور وہ بند کمرے میں اکیلی تھی۔۔۔۔۔
وہ گھبرائی سی پریشان سی بیڈ سے اُتر کر اپنا موبائل ڈھونڈنے کے لیے اندھیرے میں اندازے سے آگے بڑھنے لگی۔۔۔۔
دو تین ہی اسٹیپ لیے تھے جب اُسے اپنے پیچھے کِسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اُس کے قدم رک گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔۔۔۔
کوئی اُس کے بے حد قریب کھڑا تھا۔۔۔یا اُسے ایسا الہام ہو رہا تھا۔۔۔۔خود پر ایک تپش سی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
اُس نے پلٹ کر دیکھنا چاہا لیکِن اُس کے پہلے ہی وہ اُسے دونوں بازوؤں کے حصار میں لے کر اُس کے پلٹنے کی کوشش ناکام کر گیا تو نین کی سانسیں رکیں۔۔
اُس نے گھبرا کر چینخنے کی کوشش کی لیکن اُس جانی پہچانی خوشبُو کے احساس نے اُسے ایسا کرنے نہیں دیا۔۔۔۔۔۔اُس لمس کے اثر نے خوف بھلا کر خود میں جکڑنے کی کوشش کی ۔۔
دل دھڑک کر اُس کے اپنے قریب ہونے کا یقین دلانے لگا تو آنکھوں میں جمع آنسو چھلک کر گرے اور۔اُس نے آنکھیں موند لی۔۔۔۔۔
Happy Birthday ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے جب دہکتی سانسوں نے اُس کی گردن کو چھوا تو دل روم روم میں دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے گرد بندھے مضبوط ہاتھوں کے حصار کو توڑنے کی ناکام کوشش کی تو وہ اُسے اُس کے ہاتھوں سمیت قید کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
نرم لبوں کا سلگتا ہوا لمس اپنی گردن پر محسوس کرکے وہ اُس کے ہاتھوں کو سختی سے تھام کر سانس روک گئی۔۔۔آنکھیں مزید میچ لی۔۔۔۔
آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے گئے۔, دل درد اور بے بسی سے بھرتا گیا۔۔۔
وہ اُسے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔اُس کے چہرے کو چھو کر اُس کے ہونے کا یقین کرنا چاہتی تھی۔۔۔الجھنوں کے بھنور سے نکل کر آزاد ہونا چاہتی تھی
وہ اپنی بے رحم گرفت میں لیے اُسے ایسا کرنے سے روک رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن آج وہ کسی حال میں اُسے اپنی منمانی نہیں کرنے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔اس لیے آنکھیں کھولیں اور پوری طاقت لگا کے اُس کے بازو جھٹک کر دور کیے اور غصے سے اُس کی طرف پلٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندھیرے میں اُس کے چہرے کو دیکھنا ممکن نہیں تھا اس لیے نین نے ہاتھ بڑھا کر چھونے کی کوشش کی۔۔۔۔۔لیکن ہاتھ چہرے تک پہنچے اُس کے پہلے ہی نین کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں الجھائے دُوسرے ہاتھ سے اُس کا چہرہ تھام کر وہ اُس کے لبوں پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سانس روک کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔
دل کی دھڑکنیں ساکت ہو گئی۔۔۔۔۔
ہمت ٹوٹ کر آنسوؤں میں گھلنے لگی۔۔۔
ہاتھ آزاد کرنے کی کوشش ناکام ہوئی۔۔بلکہ گرفت میں شدّت آتی گئی۔۔۔۔۔
دوسرا ہاتھ گردن سے سفر کرکے دھیرے دھیرے بالوں میں حرکت کر نے لگا۔۔۔۔۔۔۔
سکون بے بسی تڑپ سب ایک وقت تھے۔۔۔۔لیکِن اُن سب پر حاوی تھا بس ایک لمس مسلسل۔۔۔
جو اپنے زور سے نین کے ذہن کو بدحواسی کی اور لے جا رہا تھا۔۔۔
گزرتے لمحوں کے ساتھ اُس کے زہن نے کام کرنا چھوڑ دیا۔۔۔۔نا کوئی کوششں نا کوئی حرکت کچھ اُس کے بس میں نہیں رہا۔۔۔۔۔اُس لمس سے آزاد ہونے کے بعد بھی وہ آنکھیں بند کئے کھڑی رہی۔۔۔
اچانک ہی لائٹ آن ہوئی تو اُس کے دماغ میں کلک ہوا اُس نے بھیگی آنکھیں آہستہ سے کھولیں تو وہ اکیلی تھی۔۔۔۔کمرہ خالی تھا۔۔۔۔۔۔دروازہ بند تھا۔۔۔
لیکِن اُس کے ہونے کا یقین دلانے کے لیے اپنے آپ میں مہکتی اُس کی خوشبو ہی کافی تھی۔۔۔ لبوں پر تازہ سا اُس کا لمس ہی گواہ تھا۔۔۔۔۔بالوں میں اُنگلیوں کا سکون بخش احساس ہی بہُت تھا۔۔۔۔
دروازے پر اُسے کِسی کی آہٹ محسوس ہوئی تو اُس نے سرعت سے آنسو صاف کیے اور مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔۔
اپنے برتھ ڈے کا جان کر اتنا تو اُسے سمجھ آگیا تھا کے ریا بھی اسے سرپرائز دینے کے لیے ہی اُسے کمرے میں بند کرکے کوئی پلاننگ کرنے میں لگی ہے۔۔۔
سوری سوری سوری ۔۔۔۔تمہیں اتنا ویٹ کروایا اُس کے لیے سو سوری۔۔۔
اندر آتے ہی ریا نے اُسے گلے لگایا لیکن پیچھے ہو ئی تو اُس کی سرخ بھیگی آنکھیں اور اُداس چہرہ دیکھ پریشان ہوگئی۔۔
تم ٹھیک ہو نا نین۔۔۔کیا میرے نا آنے سے ناراض ہوگئی۔۔۔۔سوری یار وہ ٹائم پر پتہ نہیں کیسے لائٹ چلی گئی۔۔۔۔
وہ ٹینشن میں آکر شرمندگی سے بولی تو نین نے سر نفی میں ہلایا
نہیں ایسا کچھ نہیں وہ میں مووی دیکھ کے ايموشنل ہو گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے بہانا بنا کے مسکرانے کی کوشش کی تو ریا نے شکر کا سانس لیا
تُم بھی نہ نین۔۔۔۔۔۔۔اچھا چلو اب جلدی سے یہ پہن کر آؤ۔۔۔۔فاسٹ۔۔
مسکرا کے اُس کے ہاتھ میں کپڑوں کا باکس تھماتے ہوئے بولی تو نین بنا کوئی سوال جواب کیے کپڑے لے کے چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
گرے کلر کے سمپل سے گاؤن میں دوپٹے کی بجائے شرگ ڈالے۔۔۔۔کھلے بالوں میں ایک سائیڈ ڈائمنڈ ہیئر کلپ لگائے ہلکے سے میک اپ اور کانوں میں چھوٹے چھوٹے ایرنگ کے ساتھ تیار ہو کے وہ خود کو نارمل کرکے مسکراتی روم سے باہر نکلی تھی لیکِن سیڑھیوں سے اترتے ہوئے جب نظر ہال کے سب سے آخر میں کھڑے شخص پر پڑی تو وہ مسکراہٹ بھی چہرے پر اُداس لگنے لگی۔۔۔
آنسو حلق میں پھنسے لگے۔۔۔۔۔
ریا کے کچھ دوست کزنز کے علاوہ وہاں بس انجو اور دکش ہی تھے۔۔۔۔محض دس بارہ لوگ جنہیں ریا نے انوائیٹ کرکے رات بارہ بجے کے سرپرائز میں شامل کیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے نیچے آتے ہی سب نے ایک ساتھ مل کر نین کو وش کیا سوائے اُس کے جو خود کو سگریٹ اور کال میں مصروف ظاہر کرکے ہر چند لمحوں بعد ایک سیکنڈ کو اُس کی جانب دیکھ کر پھر نظریں پھیر لیتا۔۔۔۔
لیکن وہ ایک سیکنڈ بھی نین سے مخفی نہیں تھا۔۔۔۔وہ محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
انجو کے پکارنے کے باوجود وہ کال کا بہانا بنا کر دور کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔اور انجو کو لگ رہا تھا جیسے پورب کے آگے اُس کا مذاق بن رہا ہو۔۔۔وہ تو خاص اُسے یہ دکھانا چاہتی تھی کے دونوں کتنے قریب کتنے اٹیچ ہے۔۔۔لیکن سب اُلٹا ہو رہا تھا اسلئے وہ بری طرح جھنجھلائ ہوئی تھی اور پورب کو اُس کی جھنجھلاہٹ بے حد محظوظ کر رہی تھی۔۔۔
