Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 111)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 111)
“So۔۔۔still hate me ?”
وہ لبوں کو اُس کے نازک بازو پر رب کرکے اُس کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھنے لگا۔۔
نین نے آنکھیں کھول کر اُسے خفگی سے گھورا ۔۔۔۔
اُس نے اپنا عمل جاری رکھا۔۔۔ اُس کے شولڈر کو لبوں سے بلکل ہلکا ہلکا رب کرتا رہا۔۔۔۔۔آنکھیں شرارت سے مسکراتی رہی۔۔۔۔
“پہلے سے کہیں زیادہ۔۔۔”
نین اس کی شوخ آنکھوں سے نظریں چرا کر غصے اور ناراضگی کے ملے جلے انداز میں بولی ۔۔۔
“غضب۔۔۔۔۔۔۔”
وہ کھل کر ہنسا اور ہاتھ گردن میں ڈال کر چہرہ اوپر کیا۔۔۔۔سنجیدگی سے اُس کی نیند سے بے حال آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔نین کی نظریں اُس کے مٹتے ڈمپل سے ہٹ کے بولتی گہری نگاہوں تک آئیں۔۔۔۔اور دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی۔۔دماغ میں الارم بجنے لگا۔۔۔
“غضب ہو تم۔۔۔۔۔”
گمبھیر آنچ دیتے لہجے میں بولتا وہ اُس کے روکنے سے پہلے لرزتے سرخ لبوں پر جھکا۔۔۔اُس نے آنکھیں میچ لیں
سورج کی روشنی کھڑکی کے دھندلے شیشوں کے پار سے کمرے میں جمع ہوتی جا رہی تھی۔۔دھیرے دھیرے اندھیرا مٹتا جا رہا تھا۔۔لیکن بے خودی قائم تھی۔۔۔۔فضا با سرور تھی۔۔۔۔۔خاموشی با خمار
اور جذبات بے اختیار۔۔۔
کان کے بلکل نیچے سرسراتی اُنگلیوں کے لمس سے نین کی نبض سن ہو رہی تھی۔۔۔۔ سکون ہی سکون تھا۔۔۔دنیا مانو ٹہری ہوئی تھی۔۔۔۔۔لیکِن پر اسراریت بھی تھی جو سہنا مشکل تھی۔۔۔
دھڑکنوں کا شور بے دردی سے کانوں میں گونج رہا تھا۔۔۔۔
سانسیں سینے میں گھٹ رہی تھی۔۔
نرمی کا فائدہ اٹھا کر اُس نے آسانی سے اُسے پیچھے کرکے اُن گھٹتی سانسوں کو آزاد کیا۔۔۔
وہ بنا دور ہوئے دو سیکنڈ کے توقف کے بعد گردن پر جھکا تو بھیگے لبوں کا لمس محسوس ہوتے ہی اُس نے مچل کر آنکھیں کھولیں ۔۔۔شولڈر کو دھکیلتے ہوئے عاجزی سے اُسے روکا۔۔۔۔
ساحل نے سر پیچھے کرکے سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔۔
اگر تم یہ کروگی تو جو میں کروں گا اُس کی شکائت کا حق نہیں ہوگا پھر۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے جتاتے لہجے میں بولا تو اُس کے سرد تاثرات پر نین کا ہاتھ خود بخود نیچے ہوگیا۔۔۔۔ جانے کیوں اُس کی ہمت کمزور پڑ گئی۔۔
ذرا بھی شرم نہیں آتی نا تمہیں مجھ پر ایسے۔۔۔ دھونس جماتے ہوئے۔۔
وہ خفگی اور غصے سے بولی تو وہ مدھم سا مسکرایا۔۔۔۔
اسے دھونس جمانا نہیں حق جتانا کہتے ہیں بائے دا وے ۔۔۔۔
وہ ناک سے ناک رب کرتے ہوئے مسکراتے لہجے میں بولا تو نین نے بیزاری سے گردن موڑی۔۔۔
دُور رہو مجھ سے۔ ۔۔۔۔
عاجزی اور غصے سے بولی تو اُس نے ہاتھ سے چہرہ اپنی جانب کیا۔۔۔
جتنا دور رہنا تھا رہ لیا۔۔اب نہیں۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔انگوٹھے سے نچلے لب کو رگڑا۔۔۔تو نین نے جھرجھری لی۔۔۔ سانس روک کر تیزی سے اُس کا ہاتھ ہٹایا۔۔۔۔
مرضی تو ساری تمہاری ہے نہ کب دور رہنا ہے کب پاس۔۔۔کب اپنا بننا ہے کب اجنبی۔۔۔یہ تو تم ہی ڈیسائڈ کروگے ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بولتی نظروں سے نروس ہو کر پلکیں جھکائے اُس کے گلے کو دیکھتی خفگی اور افسوس سے بولی۔۔۔
میں مجبور تھا۔۔۔۔
وہ بجائے شرمندگی کے جتاتے لہجے میں بولا۔۔۔۔نین نے غصے سے اُسے دیکھا
تمہاری مجبوری کا بہانا مجھے میری انسلٹ نہیں بھلا سکتا۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے شکوہ کیا۔۔وہ مسکرایا تو نین کی نظریں خود بخود گال کی جانب آئیں۔۔۔
تو میں کہاں بول رہا بھلانے کو۔۔۔۔
بلکہ میں تو چاہتا ہوں تم مجھے اُس کی سزا دو۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے لبوں سے۔۔۔ شرارت بھرے انداز میں بولتا اُسے بھڑکا گیا۔۔۔۔
اگر تمہیں سزا دینے سے وہ دِن بدل جاتے ۔۔۔سب ذہن سے مٹ جاتا تو میں یہ بھی کرلیتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر اُسے گھورتے ہوئے بولی تو اُس نے ایکدم سے اُس کی دائیں آنکھ کے نزدیک لب رکھتے ہوئے اُسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کیا۔۔۔۔۔۔
اچانک حرکت پر دل بھی رکا اور کھلتے لب بھی بند ہوگئے۔۔۔۔
چند سیکنڈ اُس نے آنکھیں بند رکھیں اور پھر دھیرے سے کھول کر اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔۔
تم پوری کی پوری آفت ہو۔۔۔
چلتی پھرتی مصیبت ہو۔۔۔۔
خطرناک بامب ہو جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔۔۔۔
لیکن تمہاری یہ آنکھیں۔۔۔۔۔۔
وہ سرشار انداز اور وارفتہ نگاہوں سے اُسے دیکھتا ہوا کہتے کہتے رکا۔۔۔۔ اُس کے رکتے ہی نین کی نظریں لبوں تک آئی۔۔۔۔۔اور پھر واپس آنکھوں تک لوٹی۔۔۔۔۔
بس ان آنکھوں کی خاطر تم سے پیار کرنے کی جرت کرلی۔۔۔۔
وہ اُس کی ناراض نظروں میں دیکھتا چاہت لٹاتے انداز میں بولا تو نین کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔پلکیں نظروں کی جاذبیت سے لرزنے لگی۔۔۔۔۔۔
آۓ ہیٹ یو۔۔۔۔۔۔
وہ بھاری پلکیں جھکا کر دھیرے سے بولی۔۔۔۔۔ساحل نے غور بہُت غور سے اُس کے چہرے کے خفا تاثرات کو حیا کے اونٹ میں ڈھلتے دیکھا۔۔۔۔
پھر سے بولو۔۔۔۔۔۔۔۔
بے شرمی سے ڈیمانڈ کی تو نین اُس کی لاپرواہی اور بےنیازی پر اُسے غصے سے گھورنے لگی۔۔۔
وہ ہلکا سا ہنسا۔۔۔۔
تمہارا ہیٹ یو بھی لو یو سنائی دیتا ہے کیا کروں۔۔۔
ہنسی روک کر معصومیت سے بولا۔۔۔تو نین نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔
تمہارے کانوں میں پرابلم ہے اسلئے ورنہ میرے لفظوں میں اور میرے دل میں تمہارے لیے صرف نفرت ہے آۓ ریلی ہیٹ یو۔۔۔۔
وہ ناگواری اور غصے سے منہ پھیر کر بولی ۔۔۔
No you don’t۔۔۔
وہ ایکدم سے بدلے لہجے کے ساتھ اُس کے کان کو لبوں سے چھو کر سنگین سانسوں کے اثر سے اُس کے ذہن کو بوجھل کرگیا۔۔۔۔۔۔
نین نے سمٹ کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔
You don’t۔۔۔
وہ بہکے بہکے انداز میں اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔لب لبوں کو چھونے لگے۔۔۔۔۔
نین کا دل سمٹ گیا۔۔۔اُس نے پھر منہ پھیرنا چاہا کے وہ ہاتھ سے تھام کر روک گیا۔۔۔
نچلے لب پر فوکس کیے جھکنے کو تھا کے اُس کا فون بجا۔۔۔۔۔
نین نے سانس خارج کی اور آنکھیں پوری کھول کر اُسے دیکھا۔۔۔
وہ اُس کے اطمنان پر مسکرایا۔۔۔اور لبوں کو بے حد شدت سے اپنی گرفت میں لے کر چھوڑا کے نین نے آه بھر کر آنکھیں بند کی۔۔۔۔
اُسے آزاد کرتے ہوئے اٹھ کر فون کان سے لگایا۔۔۔۔تو نین نے اُس کے دور ہوتے ہی سکون کی سانس لی۔۔۔
وہ خاموشی سے فون کان سے لگا کر دوسری جانب کی بات سننے لگا۔۔
ایک سیکنڈ کے لیے بھی تمہارا دھیان بھٹکنا نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔چاہے کوئی نارمل بات ہو یا عجیب۔۔۔ ۔۔ہر مومنٹ پر نظر رکھنا ۔۔۔۔
کوئی فون ایکٹیو نا ہو۔۔۔
سارے کانٹیکٹ کنکشنز انڈر کنٹرول رہیں ۔۔۔
گھر کے اندر کوئی بھی انٹر نا کرے ۔۔۔کِسی بھی ریزن سے۔۔۔۔چاہے کوئی ایمرجنسی کیوں نہ ہو جائے۔۔۔۔
نہ وہ خود باہر نکل پائے۔۔۔۔۔
وہ دوسری طرف کی بات سن کر بے حد سنجیدگی سے انسٹرکشن دینے لگا تو نین جو اُسے مصروف دیکھ وہاں سے غائب ہونے کے ارادے میں تھی اُس کی باتیں سن کر۔۔نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
مجھے یقین ہے وہ بہُت بے چین ہوگا اپنے باپ سے بات کرنے کے لیے۔۔۔اور یہ بے چینی اُسے یہاں آنے پر مجبور کریگی۔۔۔۔۔۔تب تک ہم اپنا اگلا کام شروع کرتے ہیں۔۔۔۔
وہ پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھا پُر سوچ نظریں سامنے رکھے بول رہا تھا۔۔۔نین نے اُلجھے دماغ سے اُس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کی لیکن جب کچھ پلّے نہیں پڑا تو سر جھٹک کر بیڈ سے اُتری۔۔۔۔
پیر زمین پر رکھے اور ایک قدم ہی آگے لیا تھا کے اُسے رکنا پڑا۔۔۔۔حیرت سے آنکھیں بڑی ہوئیں۔۔۔سانس روکے پلٹ کر دیکھا تو وہ اُسی طرح فون پر بات کرنے میں مصروف تھا۔ ۔لیکن چادر کا نچلا سرا اُس کے ہاتھ میں قید تھا۔۔۔
نین نے اُسے غصے سے گھورتے ہوئے احتیاط سے وہ سرا چھڑانا چاہا تو ساحل نے وارن کرنے والے انداز میں اُسے دیکھا۔۔۔۔
وہ اثر نا لے کر غصے سے اُس کا ہاتھ کھولنے لگی تو وہ جھٹکے سے ایک بل اپنی ہتھیلی کے گرد لپیٹ گیا۔۔۔۔وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی اور اوپر سے کھینچے جاتے سرے پر ہتھیلی رکھ کر اُسے جکڑا۔۔۔۔۔
وہ جتاتی نظروں سے اُسے دیکھتا بے نام سا مسکرایا۔۔۔۔فون پر ہوں ہاں میں بات جاری تھی۔۔۔
نین نے زوروں سے دھڑکتے دل کے نزدیک دوسری ہتھیلی رکھ کر چادر کو مضبوط کیا۔۔۔۔۔
اُس نے شوخ بے باک نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے وہی ہاتھ اوپر کرکے اُنگلی کے اشارے سے قریب آنے کو کہا۔۔۔۔نین نے اُس کی ڈھٹائی پر دانت سختی سے بھینچے۔۔۔۔صاف انکار کا تاثر دیا۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ کو زور سے جھٹکا دیا تو وہ سنبھل نہیں پائی اور بوکھلا کر اُس کے اوپر گری۔۔۔۔
گھبراہٹ میں دونوں ہاتھوں کی جکڑ چادر پر اور سخت ہوئی۔۔۔۔سانسیں بے ترتیب ہونے لگی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی گمبھیر آنچ دیتی نگاہوں کے بھٹکتے ارتکاز پر رواں رواں سلگنے لگا۔۔۔۔۔
اُس نے فون پر کچھ کہتے ہوئے تیسری اُنگلی سے چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے کیا نین نے اُس کے حرکت کرتے لبوں کو دیکھا ۔۔۔۔خشک گلا تر کیا۔۔۔۔
پیچھے ہونے کی کوشش کی لیکن وہ اس کے بازو کو سختی سے پکڑکر جھٹکا دیتے ہوئے اس کی کوشش کو ناکام کر گیا۔۔۔۔وہ اس کے مزید نزدیک ہوئی کے اُس کی دھڑکنیں بھی خود میں محسوس ہونے لگی۔۔چہرہ بلکل نزدیک آگیا ۔۔۔سانسیں لبوں پر محسوس ہونے لگی۔۔۔
اس نے کچھ کہنے کو لب کھولے تو وہ دو اُنگلیوں سے اُنہیں چھو کر بولنے سے روک گیا۔۔۔
نین نے سانس روک لی۔۔۔
پلکیں لرز کر جھکیں۔۔۔
ساحل نے وارفتہ نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے اُنگلیوں کو دھیرے سے حرکت دی تو اُس کی جان سمٹ کے لبوں میں آگئی۔۔۔۔دھڑکنیں منتشر ہونے لگی۔۔۔۔۔۔
وہ فون کو اب بھی کان سے لگائے ہوئے تھا۔۔۔لیکِن بس خاموشی سے سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔دھیان بولنے والے کی طرف تھا بھی یا نہیں۔۔۔۔سمجھنا مشکل تھا۔۔۔۔
اُنگلیاں لبوں سے اُتر کر تھوڑی کو چھو کے گزرتی گردن کی اور جانے لگی ۔۔۔وہ اُسے روکتی لیکِن چہرے پر تیز ہوتی سانسوں کی تپش نے دھیان اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔
وہ اُس کے بے حد نزدیک ہو کر سانسوں سے اُس کے چہرے کو جابجا چھونے لگا۔۔۔نین کا دل و دماغ اس عمل سے بری طرح بے چین ہوا۔۔۔۔اُس نے آنکھیں سختی سے بند کی۔۔۔
اُس کی اُنگلیاں کالر بون پر حرکت کرنے لگی لیکِن نین کا سارا دھیان اُس کے جان لیوا انداز سے بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں پر تھا۔۔
اُس کی سانسوں کے ساتھ کبھی گھنے بال چہرے کو چھوتے تو کبھی پیشانی۔۔کبھی ناک ہلکی سی ٹچ ہوتی۔۔۔۔لیکِن لب قریب ہو کر بھی فاصلہ بنائے ہوئے تھے جو اصل مشکل تھی ۔۔۔نا قابل سہن حرارت تھی ۔۔۔کہ دل چاہ رہا تھا یا تو وہ اُس فاصلے کو ختم کرے یا پوری طرح دور ہوجائے۔۔۔۔مگر یہ نہ کرے۔۔۔
لیکِن وہ بھی بضد تھا۔۔۔۔فون پر جواب بھی دیا تو اتنے ہی قریب تھا۔۔۔نین کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔وہ تیزی سے اُس کے سینے سے لگی۔۔۔۔
چہرہ کندھے میں چھپایا۔۔۔۔۔
بے ترتیب سانس لی۔ ۔۔
اُس نے سنجیدگی سے نین کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے فون دور کرکے کال بند کی۔۔۔
ہاتھ سے اُس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔نین نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔۔۔۔اُس کی گہری پر جذب بولتی آنکھوں سے جذبات دل کا اندازہ لگاتے ہوئے سر ہلکا سا نفی میں ہلا کر انکار کیا۔۔۔۔
اُس نے نظریں نظروں سے ملائے۔۔۔پیشانی سے پیشانی لگاتے ہوئے کروٹ بدل کر اُس کا سر تکیے پر رکھا۔۔۔۔
نین نے سانس نگل کر کچھ کہنا چاہا لیکن وہ اُس کے لبوں پر سختی سے لب رکھ کر منہ بند کرگیا۔۔۔۔
لفظ سانسوں سمیت قید ہو گئے۔۔۔
دھڑکنیں اُلجھ گئی ۔۔۔۔
وہ دُور ہوا تو نین نے بے بسی سے اُسے دیکھا۔۔۔ دوبارہ اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن لرزتے لبوں سے کچھ کہہ پاتی اُس سے پہلے اُس نے اپنا عمل دوہرا یا ۔۔۔۔۔۔۔
بے پناہ شدت لیے اُس پر اپنا اور اپنی سانسوں کا بوجھ بڑھایا۔۔۔
اُسے مزاحمت کا موقع دیے بنا ہاتھ کو درمیان سے ہٹا کر بیڈ سے لگایا۔۔۔۔بند اُنگلیوں کو کھول کر اپنی انگلیوں میں الجھایا۔۔۔۔
اور دوسرے ہاتھ سے كمفرٹر پکڑ کر اپنے سر سے اوپر کھینچا۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦
کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح صبح باہر گارڈن میں آکر تازی ہوا اور پرسکون ماحول کو محسوس کرکے اپنے اور دکش کے مطلق سوچ رہی تھی جب پورب کی آواز پر پلٹ کر پیچھے دیکھا۔۔
وہ کافی کا مگ تھامے اُس کے نزدیک کھڑا تھا
لمحے بھر میں انجو کے تاثرات سخت ہو گئے۔۔۔۔
تمہیں کیوں بتاؤں۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتی رخ واپس موڈ گئی
۔۔
پرانا دوست ہی سمجھ لو۔۔۔آخری بار۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔اُس کے بلکل ساتھ آکر کھڑا ہوا۔۔۔انجو نے خاموش نظروں سے اُسے دیکھا۔۔
ویسے بھی کچھ وقت بعد تو میں تمہاری زندگی کا ایک پُرانا قصہ ہی بن جاؤں گا
تم اپنی لائف میں بزی ہو کر مجھے اور ہماری دوستی کو بھول جاؤ گی۔۔۔ہماری یادیں دھندلی ہوجائیں گی۔۔۔۔
پھر تو شاید کبھی تمہیں میرا نام بھی یاد کرنے کے لئے اپنے ذہن پر زور دینا پڑے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹہر ٹہر کر بولا تو انجو کا دل عجیب سا ہونے لگا۔۔۔۔اُسے سمجھ نہیں آیا یہ دکھ ہے یا کوئی ڈر جو اُسے بری طرح بے چین کر گیا۔۔۔۔
پر ٹھیک ہے دوستوں کا رول تو اتنا ہی ہوتا ہے وہ آتے ہے بچھڑ جاتے ہیں پھر بھول جاتے ہے۔۔۔۔۔
وہ شانے اچکا کر سنجیدگی سے کہتا باہر کی جانب دیکھنے لگا۔۔جہاں سبزہ ہی سبزہ تھا جسے دھند اپنی اونٹ میں چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اور اگر میں نا بھولوں تو۔۔۔۔
انجو کا رخ اُس کی جانب ہی تھا ۔۔۔اُس کے چہرے پر نظریں جمائے بھاری دل کے ساتھ پوچھنے لگی وہ کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اُس کی طرف دیکھ کر مسکرایا
تُم بھول جاؤ گی انجو۔۔۔۔۔۔کیوں کہ تمہاری لائف میں تمہارا پیار ہوگا۔۔۔اور پیار کے آگے تو سب چھوٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔
تمہیں اپنی خوشیوں کو جینے سے فرصت نہیں ملے گی۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بے حد پرسکون انداز میں بولا لیکن انجو کو بے حد گھبراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔سارے خوبصورت نظارے بے معنی ہوگئے تھے۔۔۔۔
اور اگر مجھے کبھی تمہاری ضرورت پڑی تو۔۔۔۔۔۔
اُس کے گلے میں سانسیں چبھنے لگی۔۔۔۔آنکھیں جلنے لگی۔۔۔مگر دل اُس سے نظریں ہٹانے کو راضی نہیں ہوا۔۔۔۔یہ خیال کے اُس کے بنا بھی زندگی ہوگی اُسے پریشان کرتا گیا۔۔
نہیں پڑےگی۔۔۔دکش ہوگا نا تمہارے پاس۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تو اُس نے لب بھینچے وہ بولی نہیں لیکن اس بات سے واقف تھی کے وہ دکش سے سب کچھ شیئر نہیں کر سکتی جو پورب سے کرتی رہی ہے۔۔۔
اور اگر کچھ ایسا جو میں اُس سے شیئر نا کر سکوں تو۔۔۔۔۔۔
اُس نے کسی اُمید کے تحت اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے دھڑکتے دل سے پوچھا تو پورب نے سنجیدگی سے اُس کی جواب جاننے کو بے چین آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
تُم اُس سے پیار کرتی ہو انجو اُس سے بڑھ کر تمہیں کِسی کی ضرورت نہیں پڑےگی۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے جتاتے انداز میں بولا انجو کا دل بجھ گیا یہ سوچ کر کے کیا وہ کبھی اُسے دیکھ بھی نہیں پائےگی۔۔۔۔
تو کیا ہم ۔۔کبھی نہیں ملے گے۔۔۔۔
اُس کی آواز بدلی۔۔۔پورب نے محسوس کیا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے پردرد سا مسکرایا۔۔۔انجو کی آنکھوں میں نمی بھرنے لگی۔۔۔دل کسی نے مانو مُٹھی میں بھینچ لیا
ہاں شاید کبھی ہم اتفاق سے ایک دوسرے کے سامنے آجائیں۔۔۔
تم مجھے پہچان لو۔۔۔۔۔ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیں۔۔۔۔حال چال پوچھ لیں۔۔۔
کچھ پرانی باتیں یاد کرلیں۔۔۔
اور پھر اپنے اپنے راستے چل دیں۔۔۔
شاید۔۔۔۔۔ایسا ممکن ہو۔۔۔۔۔
وہ اُس سے نظریں ہٹائے پرسوچ انداز میں مسکراتا ہوا بولا انجو نے تیزی سے چہرے پر پھسلتے آنسُو کو رگڑا۔۔۔
پر میں چاہتا ہوں تم بس ہمیشہ خوش رہو۔۔۔اور میں جانتا ہوں تم اُسے پا کر خوش رہو گی۔۔۔
پورب کے اپنی جانب دیکھنے تک و آنسو مٹا چکی تھی۔۔۔لیکن اپنے تاثرات نہیں مٹا سکی جو چینخ چینخ کر دل کی حالت بیان کر رہے تھے۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر اُسے غور سے دیکھتی پوچھنے لگی تو پورب نے چند سیکنڈ جاذب نظر وں سے اُسے دیکھا
پتہ نہیں۔۔۔۔۔
پھیکا سا مسکرا کر کندھے اُچکاتے ہوئے بولا اور انجو کو مشکل میں ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد آنسو کھل کر آزاد ہوئے اور اب چھپانے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
