Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56

وہ دیر رات کو بنا کوئی ہلچل کیے آہستہ سے کمرے میں آیا دروازہ بھی بہت دھیرے سے بند کیا تاکہ کسی بھی آواز سے نین کی نیند میں خلل نا ہو۔۔۔۔
کیوں کہ اس وقت وہ بلکل بھی اُس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
اندھیرے کے باعث اُس کا پیر ٹیبل سے ٹکرایا اور وہاں پڑا خالی گلاس زمین پر گر پڑا جس کی آواز سے نین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا انتظار کرتی کچھ منٹ پہلے ہی سوئی تھی۔۔۔اس لیے گلاس کی آواز پر کچی نیند فوراً ٹوٹ گئی
وہ لائٹ آن کرکے نیند بھری آنکھوں سے ساحل کو دیکھنے لگی جو اُسے جاگتے دیکھ اب زمین سے گلاس اٹھا رہا تھا
ماما کے بیٹے۔۔۔۔ یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھڑی میں دو بجے سے اوپر کا وقت دیکھ کر ماتھے پر بل ڈالے بولی وہ اُسے نظر انداز کیے خاموشی سے صوفے پر بیٹھ کر پیروں سے جوتے نکالنے لگا
اتنی رات کو کونسے محلے کی لڑکیاں تاڑنے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی خاموشی پر اُسے مشکوک نظروں سے گھورتی ہوئی بولی لیکِن وہ اب بھی نظریں جھکائے۔بیٹھا تھا نین بیڈ سے اُتر کر اُس کی طرف بڑھی۔
جواب دو۔۔۔ایسے منہ سجھا کے کیوں بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ صوفے پر اُس کے پاس بیٹھتی بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولی
دیکھ ابھی اپن کا بات کرنے کا موڈ نہیں ہے تو جا یہا سے۔۔۔۔۔
وہ بنا اُس کی طرف دیکھے ضبط سے بولا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے سیریس کیوں لگ رہے ہو۔۔۔۔ کسی لڑکی کے بھائی نے پکڑ کر پیٹ دیا کیا تمھیں۔۔۔۔۔
وہ اُسے غور سے دیکھتی ہنسی روکتے ہوئے بولی۔۔۔
اُسے ہنستے دیکھ ساحل کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔وہ کانٹوں پر چل رہا تھا اور نین کو ہنسی سوجھ رہی تھی اُسے جی بھر کر غصّہ آیا۔۔۔۔۔۔ اُس نے غضب بھری نظروں سے نین کو گھورا
تیرے کو ایک بار میں سمجھ نہیں آتی کے میرے کو بات نہیں کرنے کی تیرے سے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے دانت بھینچ کر بولا اور اُس کے پاس سے اٹھ کر جانے لگا
نین نے فورًا اٹھ کر آگے بڑھتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے روک لیا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
اُس کے ہاتھ کی چھوٹی اُنگلی نین نے سختی سے تھامی ہوئی تھی۔۔۔وہ بس اُسے دیکھتا رہ گیا
کیا پرابلم ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر حیرت و خفگی سے بولی ۔۔۔ساحل نے چند پل اُسے دیکھتے ہوئے بمشکل اپنے دل کو مضبوط کرکے اتنی زور سے اُس کا ہاتھ جھٹکا کہ وہ ایکدم سے گھبرا گئی۔۔۔۔
تُو۔۔۔۔تو ہے میری پرابلم۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے لہجے کو بھی اتنا ہی سخت کیے غصے سے برس پڑا وہ سہمی سی کھڑی تھی دل کی دھڑکنیں بری طرح بکھر گئی تھی
اپنے ایک سوال کے بدلے اتنے سخت ری ایکشن کی وہ ہرگز اُمید نہیں رکھتی تھی۔۔
پنوتي ہے تو۔۔۔۔ میری لائف کی سب بڑی پنوتی۔۔۔۔۔۔
جب سے آئی ہے سب کچھ ایسی تیسی کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اچھی خاصی مست زندگی تھی کوئی ٹینشن نہیں تھی۔۔۔۔۔تیرے آنے کے بعد سے جینا حرام ہو گیا ہے میرا۔۔۔
وہ اپنے لہجے میں نفرت سموئے بول رہا تھا نین حیرت سے سانس روکے اُسے سن رہی تھی۔۔
ماما کے بیٹے اس طرح کیوں بات کر رہے ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صدمے کی کیفیت میں بڑبڑاتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔حلق میں آنسوؤں کی نمی کا گولا جمع ہونے لگا
کیوں کے تیرے کو برداشت کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے اب۔۔۔۔۔۔۔
میں بیزار ہو گیا ہوں تیری دن رات کی چک چک سے۔۔۔۔۔۔۔
باہر سے تھک کر انسان گھر آتا ہے یہ سوچ کر کے سکون ملے گا
لیکِن تیرے آنے کے بعد سے ایک پل کا سکون نہیں رہا لائف میں۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتے ہوئے اُس سے آنکھیں نہیں ملا پایا ورنہ شاید ایک لفظ بھی کہہ پانا مشکل ہوتا
۔۔نین نے دونوں ہاتھ سختی سے لبوں پر رکھے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
زبردستی کی مصیبت بن کر میرے گلے پڑ گئی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے کو اندازا بھی ہے کے میں کتنی مشكلو ں سے جھیل رہا ہوں تیرے کو۔۔۔۔
ایک ایک پل یہ سوچ کر کنٹرول کر رہا ہوں کے ایک نا ایک دن چلی جائے گی لیکِن تو تو جان ہی نہیں چھوڑ رہی۔۔۔۔۔۔
اُس نے بالوں میں۔اُنگلیاں پھنسائے ضبط سے کہا ۔۔
اُس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے وہ آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے قریب ہوئی اور شکائت بھری نظروں سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس کی شرٹ کو ہلکے سے پکڑ کر کھینچا
پلیز ساحل۔۔۔۔۔اس طرح غصّہ مت کرو۔۔۔۔۔
آۓ ایم سوری۔۔۔۔۔۔آئے پرامس میں اب تمہیں پریشان نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔راؤڈی وائلڈ مین کمینہ ٹھرکی کچھ نہیں بولوں گی۔۔۔۔کک بھی نہیں ماروں گی۔۔ بلکل بھی تنگ نہیں کروں گی بس اس طرح غصّہ مت کرو مجھ پر۔۔۔۔۔
وہ اُس کی شرٹ تھامے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے لفظوں سے اُسے حیران کر گئی۔۔۔۔
وہ سرخ ہوتی بے تاثر نظروں سے اُسے دیکھتا رہا ۔۔
اُسے لگا تھا وہ غصّہ کریگی اُس سے جھگڑے گی لیکن نین نے اُسے بے یقین کر دیا تھا ۔۔۔
اُس کی ناراضگی کے بدلے اپنی بے جا غلطیاں بھی سدھارنے کو راضی ہو گئی تھی
اور کیوں ۔۔۔۔
اس کا جواب تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
ساحل نے بمشکل اُس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں ورنہ شاید وہ لڑنا چھوڑ کر اُسے گلے لگا بیٹھتا
تو کچھ کرنا چاہتی ہے تو ایک کام کر۔۔۔۔۔
اپنا سامان اٹھا اور نکل جا یہاں سے۔۔۔۔۔۔
اس گھر سے۔۔۔۔۔۔روم سے۔۔۔۔۔۔اپن کی لائف سے۔۔۔چلی جا تو پلیز چلی جا۔۔۔۔۔
چھوڑ میرا پیچھا۔۔۔۔۔شانتی دے میرے کو۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ خود سے دور کرتے ہوئے بے رکھی سے بولا
ابھی میں نے کیا کیا جو تم اچانک سے اس طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اُسے جانچتے انداز میں دیکھنے لگی۔۔۔
اچانک نہیں۔۔۔۔۔۔پہلے دن سے ہی میرے کو تیرے ساتھ نہیں رہنے کا تھا۔۔۔۔۔بس مجبوراً سہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔یہ سوچ کر کے تیرا دل ٹوٹا ہے۔۔۔تو دکھ میں ہے ۔۔۔لیکِن تیرے دکھ کے ختم ہونے کے اِنتظار میں اپن کی زندگی کو روگ لگ گیا ہے
اُس نے نین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے بسی سے کہا اُس کے لفظوں میں بھی سچائی تھی لیکن وہ نہیں جو وہ دکھانے کی کوشش کر رہا تھا
اب تو میرے کو بخش دے۔۔۔۔۔جا نا۔۔۔۔۔تیرے باپ کے گھر جا کر رہ۔۔۔۔وہی جھیل سکتا ہے تیرے کو۔۔۔۔۔۔میں نہیں جھیل سکتا۔۔۔۔
وہ اُس کے آگے دونوں ہاتھ سختی جوڑ کر بولا اور ایک نظر اُسے دیکھتا روم سے باہر جانے لگا لیکن نین نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے رکنے پر مجبور کر دیا
ساحل ۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھٹی گھٹی آواز میں پوچھتی ہوئی بھیگی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔اُسے نہیں یاد تھا کے وہ کب اتنا سخت ہوا تھا جو اپنے رویے سے اُسے تکلیف پہنچا کر بھی بے خبر بنا ہوا ہو
کب اتنا بے رحم ہوا تھا کے اُس کے آنسوؤں سے بھی لاپرواہ کھڑا ہو
اُس نے نین کی ناراض نگاہوں سے نظریں پھیرتے ہوئے اُس کی نازک اُنگلیاں بازو سے ہٹائی
اگر میری بات کا جواب دیے بنا تم گئے تو پھر کبھی کوئی سوال نہیں کروں گی۔۔
وہ اُس کے بازو چھڑا کر پلٹتے ہی بے تاثر سے انداز میں بولی لیکن وہ بنا پرواہ کیے وہاں سے چلا گیا۔۔۔اسے روتا ہوا چھوڑ کر۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
آج کی فائٹ میں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔
نین کو بے چینی دے کر اُسے بھی کہاں سکون ملنے والا تھا۔۔۔۔۔اور اپنی بھڑاس نکالنے کا اُس کے پاس یہی طریقہ تھا۔۔۔
کے کے کے خاص خفیہ مقام پر جہاں رات کو فائٹ ہوتی تھی۔۔۔ اس وقت وہ وہیں موجود تھا
کے کے بھی اپنے خاص آدمیوں اور مایا کے ساتھ اپنی سیٹ پر بیٹھا سامنے ہوتے کھیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا
لیکِن بردر آج تو معمولی مقابلہ ہے۔۔۔۔
کے کے کے خاص آدمی نے اُس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔
وہ اتنا معمولی نہیں تھا کے کسی بھی فائٹ میں شامل ہو جاۓ۔۔۔اُس کا نام وہاں کبھی نہ ہارنے والوں میں درج تھا
جو بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اپن کو فائٹ کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھکائے کہا تو کے کے کے اشارے پر وہ آدمی سر ہلاتا ہوا وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔
بےتحاشا شور میں بھی دل میں گونجتی نین کی سسکیاں چھپنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔۔۔۔
عجیب سی بے چینی تھی۔۔۔بے بسی تھی
نہ حقیقت قبول کرتے بن رہی تھی
نہ جھٹلانے کی کوششوں میں کوئی دم تھا۔۔۔
وہ خالی ذہن سے زمین کو تکے جا رہا تھا
اُس لیے احساس نہیں ہوا کے کب مایا آکر اُس کے پاس بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس نے چونک کر مایا کی جانب دیکھا تو اُسے اندازہ ہوا کہ کے کے وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔۔
اور اُس کے وہاں سے جانے کا فائدہ اٹھا کر اتنے لوگوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مایا اُس کے ساتھ بے تکلفی سے بیٹھی ہوئی تھی
ویسے بھی وہاں کسی کو اتنی فرصت نہیں تھی کے اُن پر دھیان دیتا۔۔۔
کیا بات ہے تمہارا موڈ کچھ خراب ہے آج۔۔۔۔۔
مایا شوخ نظروں سے اُسے دیکھتی ہوئی مسکرا کر بولی اُس نے بیزاری سے نظریں پھیریں اور سامنے دیکھنے لگا
اگر تم مجھے موقع دو تو میں تمہارا موڈ بہُت اچھے طریقے سے بحال کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھتے ہوئے گردن تک لیجاتی معنی خیز لہجے میں بولی
ساحل نے جھٹک کے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے غصے سے اُسے دیکھا
میرا موڈ بحال کرنے کی کوشش میں تیری شکل بھی بگڑ سکتی ہے۔۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کے اُسے وارن کرتے ہوئے غصے سے بولا
منظور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے شرمی سے ہنس کر اُنگلی سے اُس کے چہرے کو چھونے کی کوشش کرنے لگی
لیکِن ساحل نے اُسے سرد نظروں سے گھورا اور اُس کی کلائی پکڑ کر مروڑتے ہوئے اُس کی پشت سے لگائی
وہ کراہ کر اُسے دیکھتی مسکرانے لگی۔۔۔
جیسے اُس کی یہ حرکت بھی اُسے پسند آئی ہو
ساحل نے اُس کی بےشرمی پر نفرت و ناگواری سے گھورتے ہوئے اُس کا ہاتھ جھٹک کر آزاد کیا
اسی وقت اُس کا فون بجنے لگا اُس نے نین کا نمبر دیکھ کر فون کو بند کرکے واپس جیب میں رکھ دیا۔۔۔۔پچھلی دو بار کی طرح وہ اُس کی تیسری کال بھی اگنور کر چکا تھا۔۔اُس کی نظر میں خود کی گرانے کی کوشش میں اندر ہی اندر خود بھی تڑپ رہا تھا
لگتا ہے بیوی سے جھگڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔
بڑی بیوقوف ہے جو تمہاری قدر نہیں کرتی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی ناگواری محسوس کرکے بھی ڈھٹائی سے اُس کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔۔۔اپنے مطابق اندازہ لگا کر افسوس زدہ لہجے میں بولی۔۔۔۔
ساحل نے کوئی جواب نہیں دیا وہ بس نین کو سوچنے میں مگن تھا۔۔۔۔
اور جو قدر کرتے ہے تم اُن سے نظریں پھیرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے باکی سے اُس کے تھائی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ساحل نے اپنے پیر سے اُس کا ہاتھ جھٹک کر اُسے وارن کرنے والے انداز میں دیکھا اور وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔۔
وہ بنا برا منائے مسکراتی ہوئی اُسے جاتے دیکھنے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆