Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
Episode 27
مرنے والے کی واپسی کی اُمید کسی کو نہیں ہوتی لیکِن کھوئے ہوئے کے لوٹنے کا انتظار سب کو ہوتا ہے۔
مگر وہ جانتی تھی کے اُس کے لوٹنے کا کسی کو نہ اِنتظار تھا نہ چاہ۔۔۔۔۔۔
اُس کے قدم منوں بھاری ہو گئے تھے۔۔۔۔
اپنے گھر کے دروازے کو تکتے ہوئے اُس کی آنکھیں بیتے زخموں کے درد یاد کرکے بھیگنے لگی تھی۔۔۔۔
دل کشمکش میں تھا کے اندر جائے یا نہیں کیوں کے اُس کے ہونے سے اُس گھر میں صرف بربادیاں ہی ہوئی تھی۔۔
۔پتہ نہیں اُس کی اماں اُسے دیکھ کر کیسا برتاؤ کرےگی
اگر اُنہیں اُس کے آنے کا افسوس ہوا تو وہ کس طرح اُن کی بے رخی برداشت کریگی
اُس نے دل تھامے ایک نظر پیچھے گاڑی کے ساتھ لگ کے کھڑے داؤد کو دیکھا اور ۔۔۔آہستہ سے لکڑی کے مضبوط دروازے پر دستک دی۔
شمع نے دروازہ کھولا اور اُسے دیکھا تو دیکھتی رہ گئی۔
اپنی آنکھیں بے یقینی سے جھپکی اور تڑپ کر فلک کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔۔
فلک اسے گلے لگائے زوروں سے رونے لگی۔۔۔۔
اماں بھی آواز پر باہر آئیں۔ اور دونوں پر نظر پڑتے ہی پتھر بن گئی۔۔۔
فلک ایکدم سے سانس روکے اُنھیں دیکھنے لگی۔۔۔
دل خوفزدہ ہوا
شمع سے الگ ہو کر وہ قدم بڑھاتی اپنی اماں کے قریب پہنچی اور اُن کے سینے سے لگ گئی
اُن کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا نہ خوشی نا غصّہ نا حیرت۔۔۔۔
پورے گاؤں میں اُس کی موت کی خبر پھیل چکی تھی اس لیے اچانک اُس کے واپس آنے پر سب حیرت کا شکار تھے۔۔۔
گھر کے باہر لوگ جمع ہونے لگے تھے داؤد باہر اپنی گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔۔۔ایکدم سے اُسے فلک کے ساتھ دیکھ اُس کے گھر والے جانے کیا سوچے۔۔۔اس خیال سے وہ اندر نہیں گیا
اماں اُسے دیکھ کر خوش نہیں ہو پائیں کیوں کے ارحم کی موت کا غم پھر تازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن اُس کے آنے سے اُن کے دل کو اتنی تسلی تھی کے وہ زندہ سلامت ہے
بس اُن کی نظر میں اُس کا لوٹ کر آنا غلط تھا۔۔۔
کیوں کے سب جانتے تھے سکندر اب بھی اُسے ڈھونڈ رہا ہے
وہ اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے دوبارہ فلک کی زِندگی عذاب بنائے گا اور پھر سے اُن کا گھر جل اٹھے گا
رحمت تک جب فلک کے آنے کی خبر پہنچی تو وہ بھی بھاگا بھاگا گھر پہنچا اور فلک کو سینے سے لگائے رونے لگا۔۔
اکثر کچھ چیزوں کا احساس کِسی نقصان کے بعد ہوتا ہے۔۔۔۔
ماں باپ سے بڑھ کر سگا کوئی نہیں ہوتا لیکِن لڑکیوں کے وجود پر جو عزت کا بھار ڈالا گیا ہے اس پر بات آئے تو سب ماند پڑ جاتا ہے
وہ اپنے باپ کے سینے سے لگی سسک سسک کر رو رہی تھی کے اچانک ہی کِسی نے اُس کا بازو سختی سے دبوچ کر اُسے کھینچ کر رحمت سے الگ کیا۔۔۔
وہ سانس روکے سامنے کھڑے اپنی زندگی کے کال کو۔دیکھنے لگی جو اُس کا بازو تھام کر آنکھوں میں انگارے لیے اُسے گھور رہا تھا
اُس کی آنکھیں خوف سے پھٹی رہ گئی۔۔۔۔۔جِسم میں چنٹیاں رینگنے لگی۔۔۔۔۔۔دل لرزنے لگا۔۔۔۔
میں نے تم سے کہا تھا نا کے سکندر کی جیت کے راستے میں کوئی نہیں آسکتا۔۔۔تمہاری موت بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سرخ سرد نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔
اماں کو جس بات کا ڈر تھا وہ چند منٹوں میں ہی صحیح ثابت ہو گیا تھا۔۔۔۔۔باقی سب بھی پریشان کھڑے تھے۔شمع بھی گھبرا گئی کے جانے اب کیا ہو۔۔۔۔رحمت آگے بڑھنے لگا لیکن امّاں نے روک دیا کیوں کر سکندر کچھ بھی کر سکتا تھا
اور اب سکندر کے جنون کی گواہ یہ دنيا بنے گی۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا فلک خوف سے بے ترتیب سانسیں لینے لگی۔۔۔۔
سکندر نے بازو اور اُنگلیوں کی گرفت سخت کرتے ہوئے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی کے اچانک سکندر کا ہاتھ کِسی نے مضبوطی سے پکڑ کر فلک کے بازو سے ہٹایا۔۔۔
سکندر نے غصے سے اُسے دیکھا جو فلک کے برابر کھڑا نفرت سے اُسے گھور رہا تھا
فلک ۔۔۔کیا یہ وہی ہے جس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی۔۔۔
داؤد نے فلک کی جانب دیکھا وہ سکندر کے خوف سے اب بھی بدحواس تھی۔۔۔آنکھیں بہہ رہی تھی۔۔۔۔لب کانپ رہے تھے
فلک کیا اسی نے تمہیں مرنے کی راہ پر پہنچایا۔۔۔
داؤد نے سکندر کی جانب دیکھا اور اُس کی کلائی پر انگلیاں سخت کی۔۔۔سکندر کے تاثرات بھی اُس سے مختلف نہیں تھے سارے لوگ یہ نظارہ دیکھ کر حیرت میں تھے
جواب دو فلک۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس نے جان لی ارحم کی ۔۔۔۔۔۔
وہ بے حد غصے سے چلایا۔۔۔۔۔۔سکندر کے لبوں پر زہر خند مسکراہٹ آئی۔۔فلک نے داؤد کی طرف دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے سکندر کی کلائی کو موڑتے ہوئے اتنی سختی سے جھٹکا دیا کے وہ پورا ہل گیا۔۔۔۔۔۔
اج کے بعد اس لڑکی کو ہاتھ لگانا تو دور اگر نظر اُٹھا کر بھی دیکھا تو یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔تیرے شیطانی جنون کے انجام کی گواہ یہ کائنات ہوگی۔۔
داؤد نے اُسے اسی کے لفظوں میں جواب دیا وہ اپنے ہاتھ کو جھٹکتے ہوتا ہنسا
بیچ میں آکر ہیرو بننے سے پہلے سکندر شاہ کو جان لو تو اچھا ہوگا۔۔۔۔زیادہ نہیں تو میری جان سے اُس کے بھائی کی موت کا قصہ ہی سن لو۔۔۔۔۔تمہارے لیے بہتر ہوگا۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولا
زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تک وہ نہیں چاہتا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔
اگر تو کسی کی جان لے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لڑکی پر اپنی طاقت دکھا کے خود کو بہت بڑا توپ سمجھتا ہو تو یہ تیری غلطی ہے۔۔۔۔۔
کیوں کے میری نظر میں یہ مردانگی نہیں بزدلی ہے۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا اور یہی چیز سکندر سے برداشت نہیں ہوتی تھی وہ ایک دم سے داؤد پر جھپٹا۔۔۔۔۔اُس کا گریبان پکڑ کر اُسے مکا مارنے کی کوشش کی لیکن داؤد نے اُس کے پیٹ میں لات مار کر اُس کی کوشش ناکام بنا دی۔۔۔۔۔سکندر کراہ کے رہ گیا
الجھنے سے پہلے جان لے داؤد شیرازی دوستوں کے لئے جان اور دشمنوں کے لیے وبال جان ہے۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں نفرت لیے اُسے وارن کرتا ہوا بولا
قانون نے قسم دلائی ہے ورنہ آج تیرا قصہ یہیں ختم کر دیتا۔۔۔
لیکِن یاد رکھ تُجھے تیرے کیے ہر گناہ پر پچھتانے کو مجبور کر دوں گا ایک دن۔۔۔۔
اس دنیا کے لیے ایک مثال نہ بنا دیا تجھے تو میرا نام بھی داؤد شیرازی نہیں
داؤد کے لب و لہجے پر سب ہی حیرانی سے اُسے دیکھنے لگے ۔۔۔حیرت تھی کے وہ اجنبی ہو کر کیوں فلک کے لیے اپنی جان مشکل میں ڈال رہا تھا
کمال۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے مسکرا کر تالی بجائی اور فلک کے قریب آیا
تو تم نے اسے ڈھونڈا ہے مجھ سے بچنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے تمہارا محافظ۔۔۔باڈی گارڈ۔۔۔رکشک۔۔۔۔
وہ فلک کی طرف دیکھتا ہوا ہنستا گیا۔۔۔وہ سر جھکائے کھڑی تھی کے کہیں اب ارحم کے بعد داؤد اُس کی وجہ سے نہ مارا جائے
کیوں اتنے قتل کا گناہ چڑھا رہی ہو مجھ پر ۔۔
آنا تو ایک دن تمہیں میری ہی پناہ میں ہے۔۔۔
وہ مسکرا کر چیلنجنگ انداز میں اُسے دیکھنے لگا داؤد نے مٹھیاں بھینچیں
کیوں کے میں ایک بار جو ٹھان لیتا ہوں اُس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا ۔۔۔۔۔
وہ فلک کی جھکی آنکھوں کو دیکھ کر سرد لہجے میں بولا
تمہاری خاطر اسے ایک چانس دیتا ہوں۔۔
فیصلہ تم کروگی کے مجھ سے شادی کرکے اسے جینے کا موقع دینا ہے
یا ایک اور جنازہ دیکھنے کی منتظر ہو تم۔۔۔۔
وہ آہستہ آواز میں اُسے باور کروا رہا تھا فلک نے خوف زدہ ہو کر اُسے دیکھا
کل تک سوچ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور داؤد کو ایک نظر گھورتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے جاتے ہی ایکدم سے خاموشی چھا گئی۔۔
اماں نے جلدی سے جا کر دروازہ بند کر دیا لوگ جو باہر کان لگائے کھڑے تھے دیکھتے رہ گئے
کیا ضرورت تھی تجھے یہاں واپس آنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تھا تو سب کے لیے مری ہی رہتی۔۔۔
کم سے کم سے پھر یہ سب نا دیکھنا پڑتا
تجھے بھی اور ہمیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں اُس کے پاس آکر غصّے سے بولیں رحمت نے تاسف سے سر ہلا یا
اماں۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے نہایت افسوس سے اپنی ماں کو دیکھا جب کے فلک کے پاس ہمیشہ سے رونے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا
فلک نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے جو اسے چھپنے کے ضرورت پڑے ۔۔۔۔۔۔۔غلط سکندر ہے اور اُسے اُس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔۔۔۔
جواب داؤد نے دیا۔۔۔۔۔۔۔بہُت مشکل سے اپنے لہجے کو نرم رکھے ۔۔۔۔۔دل میں دکھ بھی تھا کے جس کے اپنے اُس کا حوصلا توڑ دے وہ کس کے سہارے کھڑی رہتی
فلک تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فلک کی طرف دیکھ کر بولا جو اب بھی سر جھکائے کھڑی تھی۔ اُس کے کہنے پر نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا
وہ مار دیگا آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نم لہجے میں بولی۔ کوئی تاثر نہیں کوئی احساس نہیں لیکن اتنی سی فکر بھی داؤد کے لیے بہت خوش کن تھی
اس ڈر سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا فلک۔۔۔۔۔
اور نہ ہی تمہیں اپنے قدم پیچھے لینے ہے۔۔۔۔
یادرکھنا اگر تم نے ہار مان لی تو وہ تمہارے بھائی کی ہار ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔انصاف کی ہار ہوگی۔۔۔
کل کو پھر کسی اور فلک کے ساتھ وہی سب ہوگا۔
وہ بھی کسی سکندر کے ہاتھوں برباد ہو کر رہ جائے گی
اسے بھی زندگی سے زیادہ موت آسان لگے گی۔۔۔۔۔
وہ بھی تمہیں ہارتے دیکھ لڑنے کی ہمت نہیں کریگی۔۔
وہ سنجیدگی اور تحمل سے اُسے سمجھانے لگا۔۔اور اُس کی باتیں فلک کے خوف کو جذب کرنے میں کامیاب ہو رہی تھی
تمہیں اُن سب کے لیے مثال بننا ہے فلک۔۔۔۔
بتانا ہے سکندر جیسے لوگو کو کے تم کوئی مٹی کی بے جان شے نہیں جسے استعمال کرکے توڑ دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔
تم آگ ہو۔۔ ۔۔۔جو اوروں کے لیے جلنا بھی جانتی ہے۔
اور خود کو چھیڑنے والے کو جلانا بھی جانتی ہے۔۔۔۔۔
داؤد اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا۔۔۔ شمع نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سر ہلایا۔۔۔۔۔جیسے اُس کی بات سے اتفاق ہو
اماں اُسے دیکھ کر ارحم کی باتیں یاد کرنے لگیں جو کبھی ایسے ہی فلک کے ساتھ کھڑا تھا۔
مجھے اپنا ہاتھ دو فلک۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کرو مجھ سے کے سکندر سے اپنے ہر دکھ کا حساب لو گی۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اپنی ہتھیلی اُس کے آگے بڑھائی۔۔۔۔۔رحمت نے آگے بڑھ کر فلک کو تھامے ہمت دلائی اور سر ہلا کر اشارہ کیا
اُس وقت فلک نے خود میں انجانی سی طاقت محسوس کی مانو پھر سے ارحم اُس کے ساتھ ہے
اُس نے داؤد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا۔۔۔آنکھیں برس رہی تھی۔لیکِن دل اب مضبوط بن کر لڑنے پر راضی تھا۔۔
باپ ہو کر بھی اپنی بیٹی کو یتیموں کی طرح چھوڑ دیا تھا میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب ایسا نہیں کروں گا۔۔۔۔۔اب میں بھی اپنی بیٹی کے ساتھ ہوں۔۔۔۔۔۔۔
رحمت نے اُس کا چہرہ تھامے شمرمندگی سے کہا وہ اُن کے سینے سے لگ کر سسک سسک کے رونے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
بس یہی چیز رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس لڑکے نے کیس پھر سے اوپن کر دیا ہے ۔اور اس بار اُس لڑکی کے بھائی کے قتل کا الزام بھی لگایا ہے
سمجھ نہیں آرہا کے کیا کریں۔۔۔۔
بڑی مشکل سے تو یہ مصیبت ٹلی تھی۔۔۔
شام تک کورٹ کا نوٹس حویلی پہنچ چکا تھا اور اب بہادر شاہ گہرے صدمے میں تھا۔۔۔۔۔۔کیوں کے پہلے سکندر کیس ہارنے والا تھا اور اب تو ارحم کی موت کا الزام بھی تھا جو اُسے پھانسی تک پہنچا سکتا تھا
آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔بس برات لیجانے کی تیاری کریں۔ ۔۔۔۔
سکندر سکون سے بولا بہادر شاہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگا
دماغ خراب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا سب ہونے کے بعد بھی تمہیں اُس لڑکی سے شادی کرنی ہے
میں یہاں سوچ سوچ کر پریشان ہوں کے کیسے اس نئی مصیبت سے چھٹکارا ملے اور تمہیں کوئی فرق تک نہیں پڑ رہا ۔۔۔۔۔۔۔
مت بھولو وہ کوئی عام آدمی نہیں سی بی آفیسر ہے۔۔۔۔
اُسے ارحم کی طرح ختم کر دینا آسان مت سمجھو تم۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ اس کی بے فکری پرغصے بھڑکا
میرے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔۔ میرے فلک کو پانے کے راہ میں جو بھی آئیگا جان سے ہی جائے گا۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔گھمنڈ ہی تو انسان کا سب سےبڑا دشمن ہے
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
باندرا برج کے نیچے ایک سردار نیلی پگڑی اور کالے سوٹ بوٹ میں کھڑا راگا کے آدمی کا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریباً دس منٹ بعد ایک آدمی اُس کے قریب آیا اور اُس سے کھلے پیسوں کا پوچھا جس پر سردار نے بیس کا نوٹ اُس کی طرف بڑھایا۔۔اُس نوٹ پر لکھے نمبر کو اپنے ہاتھ کے لکھے نمبر سے ملایا اور سر ہلا کر سردار کو اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔
راگا کے آدمی نےاُس کی طرف سلور بریف کیس بڑھایا
سردار نے وہ بریف کیس کھولا تو دو ہزار کی نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔ سردار نے بریف کیس بند کرکے اُسے اوکے کا اشارہ کیا اور دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں مخالف سمت پلٹ کر آگے بڑھ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن سردار تھوڑی ہی دوری پر پہنچ کر واپس اُس سمت پلٹا اور راگا کے آدمی کے پیچھے چلنے لگا۔۔۔۔۔یہ مارکیٹ ایریا تھا سڑک پر کافی بھیڑ تھی اور بھیڑ کو چیرتے ہوئے راگا کا آدمی آگے بڑھ رہا تھا اُس کے پیچھے پیچھے سردار تھا۔۔جو اُس کی نظروں میں آئے بغیر اُس کا پیچھا کررہا تھا۔۔۔
اچانک ہی راگا کا آدمی چلتے چلتے رک گیا اور پلٹ کردیکھا۔۔۔۔
سردار جھت سے ایک گاڑی کی آڑ میں ہوگیا لیکِن راگا کا آدمی اُسے دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔اور یقیناً کوئی آس پاس سے نظر رکھے ہوئے تھا کیوں کے اتنی بھیڑ میں کِسی کا پیچھا کرنا اتنی آسانی سے نوٹ نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔
کِسی نے اُسے بتایا تھا کے سردار اُس کے پیچھے ہے۔۔۔۔۔وہ گاڑی کی اونٹ سے باہر نکلا تو راگا کا آدمی بھیڑ میں گم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس نے باز جیسی نظروں سے چاروں طرف جائزہ لیا اور بھیڑ کے بہت آگے وہی آدمی تیزی سے آگے جا رہا تھا۔۔۔
وہ بھی اُسی طرف بڑھا۔۔۔۔جس موڑ پر وہ پلٹا وہاں سے بھیڑ ختم ہو چکی تھی اب صرف تیز رفتار گاڑیوں سے بھری سڑک تھی جِسے کراس کیے وہ دوسری سمت پہنچا تھا۔۔۔۔
سردار نے بھی اُس کے تعاقب میں سڑک کراس کی راگا کے آدمی نے اپنے قدموں کی رفتار اور تیز کردی تھی یقیناً و یہ جان کر کے کوئی اُس کے پیچھے ہے اب اپنا راستہ تبدیل کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز چلتا ایک طرف گلی میں پلٹ گیا اور سردار بھی اُس کے پیچھے اُس گلی میں مڑ گیا لیکِن گلی مکمل ویران تھی۔۔۔۔۔
وہاں کوئی نہیں تھی۔۔۔راگا کا آدمی کہیں چھپ گیا تھا وہ ابھی کچھ سمجھتا کے ایکدم ہی اُس آدمی نے پیچھے سے نکل کر اُس پر حملا کر دیا۔۔۔
وہ منہ کے بل زمین پر گرا۔۔۔۔اُس کی پگڑی نکل کر دور جا گری ۔۔ فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا ۔اور ۔ وہ جو اُس کی طرف دوبارہ بڑھ رہا تھا اُس کے ہاتھ جھٹک کر ایک زور دار لات گھما کر اُس کے منہ پر ماری۔۔۔۔۔
وہ گرتے گرتے بچا اور ساحل نے فوراً اُس کی گردن کو بازو کر درمیان دبوچ کر اُس کی سانس روک دی۔۔۔۔۔
بتا راگا کہاں ملے گا۔۔۔۔۔۔
اُس نے پوری قوت سے اُس کی گردن دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔وہ سانس رکنے کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔۔۔۔۔اُس کا بازو ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔لیکِن ساحل اپنی گرفت سخت کرتا جا رہا تھا
اُس نے خود کی جان بچانے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کے ایکدم سے کسی نے اُس کے سینے پر گولی چلا دی۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے جھٹکے سے آگے دیکھا جہاں ایک بائیک سوار
گلی کے آخر میں روڈ کی طرف کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی گرفت میں موجود آدمی کے ہاتھ پیر بے جان ہو کر ڈھیلے پڑ گئے تھے۔۔۔ساحل نے اُسے دھکّا دیا اور بائیک سوار کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔۔
وہ بائیک کی سپیڈ تیز کیے آگے بڑھ چکا تھا لیکن ساحل بھی اتنی ہی تیزی سے دوڑ کر اُس کی بائیک کے پیچھے بھاگتا رہا۔۔۔۔۔۔
بائک سوار نے بار بارپلت کر دیکھا تو ساحل کو اپنے پیچھے ہی پایا ۔۔۔۔۔وہ اسپیڈ بڑھاتا گیا۔۔۔۔۔اور موڑ کاٹتا گیا تاکہ ساحل تھک کر رک جائے۔۔۔۔۔۔
ساحل رک کر سڑک کنارے کھڑی ایک بائیک پر سوار ہوا اور فل سپیڈ میں اُس بائک کا پیچھا کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کے درمیان کافی فاصلھ تھا لیکِن بڑھتی ہوئی سپیڈ سے اندازہ ہو رہا تھا کے وہ جلد ہی اُس تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بائیک سوار بار بار پیچھے دیکھتا آنے والے ہر ٹرن پر گاڑی پلٹا رہا تھا
۔وہ لوگ مین سڑک سے ایک کچے راستے پر آچکے تھے جہاں نا لوگوں کی چہل پہل تھی نا روشنی۔۔
ساحل کو پورے جوش میں اپنے پیچھے لگا دیکھ اُس بائیک سوار نے اُس پرگولی چلائی۔۔۔اُس نے بروقت سائیڈ میں ہو کر خود کو بچایا اور سپیڈ پھر بڑھا دی۔۔۔۔
بائیک سوار گھبرا گیا تھا اُس نے ایک ہاتھ سے بائک سنبھالے ایک کےبعد ایک گولی چلانا شروع کر دیا۔۔۔۔ساحل کبھی جھک کر اور کبھی سائیڈ میں ہو کر خود کو بچاتا رہا لیکِن ایک گولی سامنے کے ٹائر میں لگی تو گاڑی کنٹرول سے باہر ہو کر سلیپ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فل اسپیڈ میں ہونے کی وجہ سے گرنے کے باوجود گاڑی رکی نہیں اور سلیپ ہوتی کافی دور تک جاتی گئی جس میں اُس کا نیچے دبا ہوا پیر سڑک پررگڑنے سے اچھا خاصا زخمی ہو گیا۔۔۔۔
بائک سوار پر سکون ہو کر وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔
بائک کے رکنے پر ساحل نے اپنا درد برداشت کیے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اُس کا پیٹ گاڑی میں پھنسا ہوا تھا جوکافی جھٹکے دینے کے باوجود نہیں نکلا
اُس نے سامنے دیکھا تو بائیک سوار نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا وہ غصے سے زمین پر ہاتھ مار کر رہ گیا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆\\
اپنے کہے کے مطابق وہ اگلي صبح فلک کے گھر پہنچا۔ ۔۔۔۔
ساتھ میں اور بھی کئی لوگ تھے۔۔۔۔نکاح کا پورا انتظام تھا اور داؤد کو مارنے کا بھی لیکِن وہاں پہنچتے ہی حیرت کا جھٹکا لگا کیوں کے وہاں پولس کی پوری فوج موجود تھی ۔۔
اُس کے ساتھ آئے آدمی تو اتنی فوج دیکھ گھبرا گئے تھے لیکن سکندر کو کِسی کا ڈر نہیں تھا وہ ڈھٹائی دے آگے بڑھا
آپ اندر نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔دروازے پر ہی ایک افسر نے اُسے روک لیا۔۔۔
اگر گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سرد نگاہوں سے گھور کر بولا
تو ہمیں گرفتار کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
افسر نے سخت لہجے میں جواب دیا
یہ کہاں کا قانونِ ہے۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولا۔داؤد اُسی وقت دروازے سے باہر نکلا
یہ ہمارا قانون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم جیسے گھٹیا لوگوں کے لیے بنایا ہے۔۔۔۔۔جب تمہیں قانون کے راستے ہی راستے لگانا ہے تو یہ سب تو کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔
داؤد اُسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا سکندر نے غصے سے اُسے دیکھا پیچھے فلک اور رحمتِ کے ساتھ شمع بھی کھڑی تھی۔۔۔
جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔۔۔۔۔۔اگر فلک یا اُس کی فیملی پر زرا بھی کوئی آنچ آئی تو اُس کا ذمےدار تمہیں مانا جاۓ گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ رہے کورٹ کے آرڈرز
داؤد وہاں کھڑے سپاہی سے کاغذات لے کر اُس کے اوپر پھینکتے ہوئے بولا۔۔
سکندر کو نا بندشیں پسند ہے نہ بندشوں کے پرواہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے وہ کاغذات اُس کی آنکھوں کے سامنے پھاڑ دیے فلک کو غصّے سے دیکھتا ہوا اندر کی طرف بڑھنے لگا لیکِن داؤد نے بھی اُسے روکنے میں دیر نہیں کی۔۔ایکدم سے اُس کے سامنے آگیا
سکندر نے فوراً بندوق نکال کر اُس کے سر پر تان دی۔۔۔
فلک کا دل خوف سے حلق میں آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ ارحم کی طرح اُسے بھی مار دیتا تو ایک اور جان کا قرض فلک پر آجاتا۔۔۔۔۔
شمع اور رحمت بھی گھبرا گئے۔۔۔۔
داؤد مسکرا یا کیوں کے یہی تو وہ چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
سکندر کے بندوق نکالتے ہی وہاں کھڑے سارے سپاہیوں نے اُسے اپنی بندوق کا نشانہ بنا لیا۔۔۔۔ایک ساتھ سارے ہتھیاروں کے انلوک ہونے کی آواز پر سکندر اک لمحے کو گھبرا گیا۔۔۔۔
حیرت سے اپنے اطراف نظر ڈالی
پوری سینا اُسے ایسے گھیرے کھڑی تھی جیسے وہ کوئی دہشت گرد ہو۔۔
اُس کا دھیان بنٹے دیکھ داؤد نے فوراً بندوق چھین لی ۔۔۔۔۔۔فلک کی جان میں جان آئی
گرفتار کرو اسے۔۔۔۔۔۔۔چارج لگاؤ کے سب کی موجودگی میں اس نے مجھ پر حملا کرکے مارنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔
داؤد گن وہاں کھڑے افسر کے حوالے کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اور داؤد کے حکم پر عمل کرتے ہوئے وہ فوراً ہتکڑی لیے سکندر کی طرف بڑھا
مجھے گرفتار کروگے تم۔۔۔۔۔۔۔
سکندر غصے سے دھاڑا۔۔۔۔۔۔کسي کی اُنگلی اٹھانے کی ہمت اُس سے برد اشت نہیں ہوتی تھی کہاں کے گرفتار ہونا
سامنے والے نے اُسے غصے سے گھورتے ہوئے اُس کے ہاتھ پکڑ کر ہتکڑی لگائی
یہاں سب بکاؤ نہیں ہوتے سکندر شاہ۔۔۔۔۔۔۔
اور وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔۔۔۔۔
وقت برا ہو تو کتے کو بھی شیر بنانا پڑتا ہے۔۔۔۔
لیکِن میرے ہوتے ہوئے اب تیرا وہ وقت کبھی نہیں آئیگا
داؤد جتاتے ہوئے بولا۔۔۔۔رحمتِ نے تشکر بھری نظروں سے اُسے دیکھا
تم نہیں بچوگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج تم نے سکندر سے دشمنی مول لے کر اپنی جان کا سودا کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
سکندر غصے میں بھرا جاتے جاتے اُسے دھمکی دینے لگا۔۔۔۔۔داؤد نے سر جھٹکا۔۔۔۔۔۔
وہ وہاں کھڑے کچھ گارڈز کو ہدایت دے کر اندر آیا تو اب بھی سب پریشان۔ تھے کے سکندر جیل جانے کا بدلہ لینے کے لیے پتہ نہیں کیا کرے
وہ چپ نہیں بیٹھے گا۔۔۔۔۔
فلک نیوز کے آتے ہی آہستہ آواز اور فکر مند لہجے میں کہا
کیس کو۔فاسٹ ٹریک پر ڈال دیا ہے میں نے۔۔۔۔۔۔۔دو دن بعد سنوائی ہے۔۔۔۔۔تب تک سکندر جیل سے باہر نہیں آسکتا۔۔۔۔۔
اور سنوائی کے بعد اُسے سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔
داؤد نے اُس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ بھی گھبرائی ہوئی تھی
تم فکر مت کرو۔۔۔۔
وہ اُسے گہری نظروں سے دیکھتا آہستہ سے بولا
آجاؤ بیٹا کھانا کھا لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمتِ کی آواز پر وہ فوراً سنبھلا اور نظریں اُس کے چہرے سے ہٹائی
نہیں انکل۔مجھے نکلنا ہے۔۔۔۔۔ہوٹل میں کھا لوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے انکار کیا وہ اُس گاؤں سے کچھ فاصلے پر ہی ایک جگہ لاج میں ٹھہرا ہوا تھا۔۔۔
بھائی آئیں نا۔۔۔ ۔۔۔ہمیں اچھا لگے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے بھی اسرار کیا تو وہ منع نہیں کر پایا اور مسکرا دیا۔۔
شمع نے وہاں دری بچھائی ہوئی تھی۔۔۔۔ایک طرف چولہے پر اماں روٹیاں سینک رہی تھیں ۔۔۔شمع اُنہیں کھانا پروس رہی تھی اور رحمت اور داؤد کھانا کھا رہے تھے۔۔
فلک ایک طرف بیٹھی اُس جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں روز رات ارحم اماں سے بالوں میں تیل لگواتے ہوئے ڈھیروں باتیں کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جہاں بچپن میں وہ تینوں لائن لگا کر بیٹھتے تھے۔۔۔۔
اُس آنگن میں اب بھی ارحم کی موجودگی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔
جیسے وہ ابھی باہر گیا ہواور پھر لوٹ آئیگا۔۔۔
اماں اُس کے پیچھے بڑبڑا رہی ہو اور فلک اُنہیں سمجھا رہی ہو کے آجائے گا۔۔۔
اب تو یہ کہنا بھی نہ ممکن تھا اور یہ تسلی بھی فضول تھی۔۔۔وہ اپنی اماں کے دکھ کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی تھی۔نا اُن کے دکھ کے لیے کوئی اُمید دلا سکتی تھی
کیسا بنا ہے۔۔۔۔
شمع اُس کے آگے پانی کا گلاس رکھتے ہوئی پوچھنے لگی۔۔
داؤد نے فلک سے نظر ہٹا کر اُسے دیکھا
بہُت اچھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔۔
بیٹا سکندر کے جیل۔میں جانے پر اُس کا باپ چُپ نہیں بیٹھے گا۔۔۔اچھا ہے کے تم ابھی ذرا چوکنا رہو۔۔۔۔
رحمتِ نے اُسے سمجھانا چاہا
ڈونٹ وری انکل۔۔۔۔۔میں نے سارا انتظام کر رکھا ہے۔۔۔۔۔وہ مجھے کچھ نہیں کرےگا۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُنہیں تسلی دلائی اور اپنی جگہ سے اٹھ گیا
فلک ہاتھ دھلوا دو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمتِ نے فلک کو پکارتے ہوئے کہا وہ سر ہلاتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔اورانگن کے ایک حصّے میں بنے واش ایریا کی طرف داؤد کے ہاتھ دھلوائے۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے گیلے ہاتھ اُس کے دیے تولیے سے صاف کرتے ہوئے کہا۔
کوئی پریشانی ہے۔۔۔۔۔کچھ کہنا ہے۔
اُس کی آنکھوں میں اُلجھن دیکھ کر داؤد فکرمند ہوا
آپ کا۔۔۔۔۔۔۔ نام کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت جھجھکتے ہوئے پوچھ بیٹھی جو سوال اُس کے دِماغ میں کل سے چل رہا تھا۔۔۔د کیوں کے اتنے دن میں وہ اُس کا نام تک نہیں جان پائی تھی۔۔۔۔۔۔
داؤد اُس کے یوں پوچھنے پر مسکرا دیا تو وہ خواہ مخواہ شرمندہ ہو گئی۔۔۔۔۔
میرا نام نہیں جانتی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھیمے لہجے میں شرارت سے پوچھا
فلک نے سر جھکا یے اہستہ سے نفی کی۔۔۔۔۔۔
تمہیں جو اچھا لگے وہ پکار لینا ۔۔۔۔۔۔میرے لیے کافی ہے
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور وہاں رکھے اپنے جوتے پہننے لگا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
