Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 108)

کیا میرے اس فیصلے سے کسی کو اعتراض ہے۔۔۔۔
اپنا فیصلہ سنانے کے بعد عالیشان ہال میں چھائی گمبھیر خاموشی کو سنگھ صاحب کی ہی کرخت آواز نے توڑا۔۔۔۔۔
لمبی سی چوکور میز کے گرد سب اپنی اپنی جگہ ساکت بیٹھے تھے۔۔۔ایک دوسرے کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔کیوں کے ایمرجینسی میٹنگ بلا کر دکش کو اچانک چیئر مین بنا دینے والی بات ابھی تک کِسی کو ہضم نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔
سب سے سامنے والی چیئر پر مسٹر سنگھ تھے اور اُن کے پاس والی چیئر پر دکش خاموش لاتعلق بیٹھا ٹیبل پر رکھے پیپرو ویٹ کو گھما کر اُس کی رفتار آزمانے میں مگن تھا۔۔۔۔
۔
سوری مسٹر سنگھ۔۔۔۔لیکِن یہ تو نییم کے وردھ ہے۔۔۔۔ہم اپنے بلڈ ریلیٹیوز کے علاوہ کسی کو اپنی آرگنائزیشن کا میمبر تک نہیں بنا سکتے اور آپ کسی باہر والے کو سیدھے چیئرمین بنانے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔
کچھ دیر بعد ایک بھاری جسامت والا شخص اختلاف کرنے کو اٹھا۔۔۔ناگواری سے بولا۔۔۔
نیم مجھ سے زیادہ آپکو یاد کرنے کی ضرورت ہے مسٹر نارائن ۔۔کیوں کے شاید آپ بھول رہے ہے۔۔ چیرمین کے فیصلے کے خلاف جانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔۔۔۔
مسٹر سنگھ نے تحمل سے جواب دیا تو ایک دوسرے شخص نے آواز اٹھائی۔۔۔۔
بات آپکے فیصلے کے خلاف جانے کی نہیں ہے سنگھ صاحب بات ہم سب کی سیفٹی اور سکیورٹی کی ہے۔۔۔۔۔ایک انجان نئے آدمی کو ایکدم سے چیئر مین بنا کے اُس کے ہاتھوں میں اتنی بڑی پاؤر تو آپ دے دیں گے لیکن اگر یہ ہمارے لیے کل کو خطرناک ثابت ہوا ۔۔۔۔۔ہماری سوشل امیج پر ذرا بھی آنچ آئی تو۔۔۔
اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑ جائیگی آپ کو۔۔۔۔
وہ کچھ نرمی سے سمجھانے اور دھمکانے والے انداز میں بولا۔۔
ایسی کوئی نوبت نہیں آئےگی ۔۔۔۔۔
مجھے اچھی طرح معلوم ہے میں کیا کر رہا ہوں۔۔۔۔ آپ لوگ بھول رہے ہیں کے اس آرگنائزیشن کی بنیاد پر آج آپ سب یہاں تک پہنچے ہے۔
اس گروپ کو بنانے سے لے کر اب تک راستے میں آنے والی ہرمشکل اور ہر دشمن کا سامنا کرنے میں صرف اور صرف میرے بیٹے ویرانش کی محنت ہے۔۔۔۔
اب تک اُس نے سب کچھ سنبھالا ہے اور آگے بھی وہی سربراہ ہوگا۔۔۔۔
سنگھ صاحب اپنی جگہ کھڑے ہو کر سنجیدگی سے واضح انداز میں بولے ۔۔سب غور سے اُن کی طرف متوجہ تھے۔۔۔کِسی کے چہرے پر حیرت۔۔۔۔کہیں غصّہ تو کہیں ناگواری۔۔۔۔
جب کے وہ اُس تیزی سے گھومتے پیپر ویٹ کے گھلتے رنگوں کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔۔
لیکِن کچھ غدار جو ورانش کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔اُن سے نپٹنے کی ذمےداری میں دکش کو دے رہا ہوں۔۔۔
ورانش کی واپسی تک ساری باگ ڈور دکش کے ہاتھ میں ہوگی۔۔۔۔۔میں اسے ابھی اور اسی وقت سارے اختیار سونپ رہا ہُوں۔۔۔۔
اُنہوں نے حتمی انداز میں فیصلہ سنایا ۔۔۔۔حالانکہ جانتے تھے اُن کا یہ فیصلہ کچھ کو آگ لگا دے گا لیکن اُنہیں یہ خطرہ مول لینا تھا۔۔۔اور دکش کے ہونے سے اُنہیں اتنا یقیں تھا کہ وہ مقابلے میں کمزور نہیں پڑے گے
آپ منماني کر رہے ہیں سنگھ صاحب۔۔۔۔
وہی پہلے والا آدمی اپنی جگہ پھر سے اٹھ کر غصے سے چلایا۔۔۔۔
ساحل نے ایکدم سے دانت بھینچے۔۔۔۔ گھومتے ہوئے پیپر ویٹ پر ہاتھ رکھ کر اُسے روکا اور گن نکال کر اُس آدمی کے ماتھے پر نشانہ لگایا۔۔۔۔۔
اتنی تیزی ۔۔
اتنا اچانک عمل کے سب سن رہ گئے۔۔۔۔وحشت انگیز خاموشی چھا گئی۔۔۔۔۔
وہ آدمی اپنی بات مکمل ہونے اس پہلے ہی بے جان ہو کر گر پڑا۔۔۔۔
سنگھ صاحب کے تاثرات پل کو بدل کر پھر نارمل ہو گئے۔۔۔۔
Any other objections۔۔۔۔۔
اُس نے گن میز پر ٹھیک سامنے رکھتے ہوئی اونچی لیکِن سرد پرسکون آواز میں پوچھا۔۔۔۔وہاں بیٹھے لوگوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا لیکن کسی نے بولنے یا سوال کرنے کی ہمت نہیں کی۔۔۔سب چپ رہے۔۔
♦♦♦♦♦
پتہ ہے میں نے اور دکش نے ڈیسائد کیا ہے کہ شادی کے بعد ہم ہنی مون کے لیے سوئٹزر لینڈ جائیں گے۔۔۔۔
سب دوست ساتھ بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔۔انجو نے پورب کو وہاں آتے دیکھ سنانے کی غرض سے کہا ۔۔۔
وہ تو اُس کی ایکٹنگ پر اپنی ہنسی روکتا ہوا اپنے ایک کزن کے قریب بیٹھ گیا لیکن نین کے بدن میں زہر دوڑ گیا۔۔۔۔حلق کڑوا ہوگیا۔۔۔۔درد سے سر بھاری ہونے لگا۔۔۔اور ریا نے بخوبی اُس کی بے چینی محسوس کی۔۔۔۔
نین تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے تم جا کر آرام کرو۔۔۔۔۔
وہ انجو کو نہیں روک سکتی تھی اسلئے اُسے وہاں سے جانے کا کہہ کر اُس کی مشکل آسان کردی۔۔۔
اور وہ شکرمنا کر اُس کی طرف دیکھتی وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔
سچی دوستی میں دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔۔۔کہے بغیر ہی باتیں سمجھ آجاتی ہے۔۔۔
ریا کی شادی تک سب ساتھ وہیں فارم ہاؤس پر رہنے والے تھے ۔۔۔لیکن نین کے۔لیے انجو اور اُس کی باتوں کو برداشت کرنا کافی مشکل لگ رہا تھا۔۔۔اور وہ پریشان تھی کے اگلے کچھ دن کیسے گُزرے گے۔۔۔کہہ دینا آسان تھا کہ دل سے ہر احساس ختم ہوگیا۔۔۔
لیکن دل کو روکنا اپنے بس میں کہاں تھا۔۔۔وہ تو اُس کے ذکر پر بھی الرٹ ہوجاتا تھا۔۔۔۔
اور کیا کیا پلانگز کی ہے تم دونوں نے اپنے فیوچر کو لے کر۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد پورب مزے سے پوچھنے لگا وہ اُس کی بے نیازی پر کڑھ کر آنکھیں گھما کر وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔۔۔۔
باقی سب اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے تھے پورب بھی اٹھ کر اُس کے پیچھے آگیا۔۔۔۔اور اُس کا راستہ روکا
بتاو نا ۔۔۔۔مجھے جاننا ہے۔۔۔۔تمہاری فیوچر پلانگ۔۔۔۔
وہ اُس کا راستہ روک کے چڑانے والے انداز میں بولا۔۔۔۔
مجھے تمہیں بتانے میں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔۔۔
انجو اُسے غصے سے گھور کر سائیڈ سے آگے بڑھی۔۔۔۔
اچھا۔۔۔حالانکہ مجھے لگا یہ پلانز خاص مجھے سنانے کے لیے ہی ایجاد کیے گئے ہے۔۔۔۔
وہ اُس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ۔۔۔ شرارت سے مسکرا کر بولا
پورب اس سے پہلے کے میں تمہارا منہ نوچ لوں تم میری نظروں سے دور ہوجاؤ۔۔۔۔
وہ رک کر اُس کی طرف پلٹی اور اُسے غصے سے گھور کے بولی۔۔۔۔پورب نے گہری سانس لی
کم آن یار۔۔۔بہُت لڑ لیا ۔۔۔۔۔انف ناؤ۔۔۔۔۔۔
چلو واپس پہلے جیسے بن جائے۔۔۔
بیسٹ فرینڈ ز۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اُسے دیکھتا بولا۔۔
اب تو یہ پاسيبل نہیں۔۔۔کیوں کے تم دوستی تو کیا بات کرنے کے قابل نہیں رہے۔۔۔۔۔۔
انجو نے سیریس ہو کر دکھ اور افسوس سے کہا اور وہاں سے جانے لگی تو پورب نے ہاتھ پکڑ کر اسے روکا
انجو۔۔۔۔مجھے اپنی کِسی بات کا گلٹ یا افسوس نہیں ہے۔۔۔۔لیکن مجھے تمہارے ناراض ہونے سے بہت فرق پڑتا ہے۔۔۔ یہ تم جانتی ہو۔۔۔اسلئے آئے ایم ساری۔۔۔۔پلیز۔۔۔
وہ اُسے روک کر بنا اُس کی طرف دیکھے سنجیدگی سے بولا
I will never forgive you۔۔۔
انجو نے اپنا ہاتھ چھڑا کر جتاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
وہ محض دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
رات کے بارہ بجے جب پوری بلڈنگ ویران ہو گئی تھی سب ورکر کام ختم کرکے جا چکے تھے اور اس پاس کا علاقہ بھی تقریبا خالی ہوچکا تھا مشرا ہاتھ میں فائل۔لیے کمپنی آفس میں موجود مسٹر سنگھ کے خاص کیبن میں داخل ہوا۔۔۔
جہاں روشنی بہُت معمولی تھی ۔۔اور مسٹر سنگھ اکیلے اُس کے منتظر بیٹھے تھے۔۔۔۔
اُس نے خاص اس وقت اُنہیں وہاں بلایا تھا ۔۔۔۔تاکے اُنہیں دکش کی حقیقت بتا سکے۔۔۔
کچھ دیر پہلے ہی اُس کے ہاتھ پوری معلومات ثبوت کے ساتھ حاصل ہُوئی تھی اور اب وہ صبح تک اِنتظار نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔اسی وقت اُنہیں سب بتا کر دکش کا کھیل ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
حالانکہ یہ کام وہ دکش کے چیئر مین بننے سے پہلے کرنا چاہتا تھا لیکن جو ثبوت اور معلومات اُسے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے چاہئے تھے ۔۔وہ حاصل کرنے میں تھوڑا وقت لگ گیا تھا اور اُس کی غیر موجودگی میں دکش چیئر مین بن چکا تھا۔۔۔۔
اُسے شروع سے ہی دکش پر شک تھا کہ وہ حد سے زیادہ اچھا بن کر سنگھ صاحب سے کوئی مطلب پورا کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔اور وہ موقعے کی تلاش میں تھا کے کہیں کوئی سرا ہاتھ لگے اور وہ اُسے اپنے راستے سے ہٹا سکے۔۔۔۔اس۔لیے اُس نے اپنے جاسوسوں کو بھی کام پر لگایا ہوا تھا۔۔
اور آخر اُسے وہ موقع مل گیا جب اُس نے دکش کو نین کے ساتھ دیکھا۔۔۔۔
نین کے ذریعے وہ اُس کے بارے میں سب معلوم کرگیا ۔۔۔۔حالانکہ یہ بات اب بھی اُس کے علم میں نہیں تھی کے اُس کا اصل مقصد کیا ہے۔۔۔لیکن وہ یہ جان چکا تھا کے وہ سنگھانيہ نہیں بلکہ ساحل شیرازی ہے۔۔۔
وہ جانتا تھا اگر وہ صرف اپنی بات سنگھ صاحب کے سامنے رکھے گا تو وہ یقین نہیں کریں گے اور دکش کِسی نا کسی طرح اُسے غلط ثابت کردیگا اسلئے اُس نے پہلے تمام ثبوت جمع کیے اس کے بعد اُن کے پاس پہنچا ۔۔۔۔تاکے اب دکش کو بچنے کا کوئی موقع نہ ملے
کیبن میں مدھم روشنی تھی۔۔۔چیئر کا رخ دیوار کی جانب تھا۔۔۔۔اور سیگریٹ کا دھواں چیئر کی اطراف میں بکھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔
نمستے سر۔۔۔۔۔۔بہُت ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔۔
مشرا نے اندر آکر سرشار اور فتح یاب لہجے میں اُنہیں مخاطب کیا
ہممم۔۔۔۔
جواب میں محض بس ہلکا سا مثبت اشارہ ملا۔۔۔
میرے پاس اُس لڑکے کے خلاف سارے ثبوت ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ کوئی سنگهانیا نہیں ہے سر۔۔۔۔
وہ ممبئ کا ایک معمولی گنڈا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
دکش بن کر آپ کو اور انجو میڈم کو دھوکا دے رہا ہے۔۔۔۔وہ تو پہلے سے شادی شدہ ہے۔۔۔۔
دولت اور پاؤر ہتھیانا چاہتا ہے آپ سے۔۔۔۔
اُس کے بارے میں سب پتہ کرلیا ہے میں نے۔۔۔۔یہ دیکھیے ۔۔۔۔۔۔
وہ پُر جوش سا اُس کی حقیقت بتا کر اپنی قابلیت ثابت کرنے لگا ایک ہی سانس میں کئیں باتیں گنوا کر ثبوت والی فائل آگے بڑھائی تو بنا رخ موڑے ہی ہاتھ بڑھا کر تھام لی گئی۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اپنی جگہ کھڑا مسٹر سنگھ کے ری ایکشن کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
نام کے سپیلنگ غلط ہے۔۔۔۔۔ای کی بڑی نہیں چھوٹی ماترا ہونی چاہئے۔۔۔۔۔۔
کرسی کو اپنی جگہ ہی ہلاتے ہوئے دوسری جانب سے پرسکون جواب ملا تو وہ آواز سن کے پل بھر کو ساکت رہ گیا۔۔۔۔
چند سیکنڈ میں سمجھ آگیا کے وہ آواز کس کی ہے۔۔۔پیشانی پر شکنیں پڑی۔۔۔آنکھیں میں حیرت اُبھری اور خوف سے چہرہ سفید پڑا۔۔۔۔
کرسی کے پہیے تیزی سے گھومے اور رخ اُس کی جانب ہوا۔۔۔وہ صدمے میں اپنی جگہ سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔
وہ بلیک شرٹ بلیک پینٹ میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا۔۔۔ایک ہاتھ میں فائل تھی اور دوسرے میں سگریٹ۔۔نیم اندھیرے میں نظر آتے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔
حالانکہ ہمیشہ سے اُس کی شخصیت مشرا کو پرسرار لگتی تھی لیکن اس وقت وہ بے حد خطرناک بھی لگ رہا تھا۔۔۔
مہاراشٹرا جیل سے گریجویشن کیئلا ہے باس۔۔۔۔۔اتنی تو ماسٹر لوگ کی عزت رکھنے کو مانگتا نا۔۔۔۔۔۔
وہ فائل سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھتا ہوا بے نیاز بے پرواہ انداز میں بولا۔۔۔
جب کے مشرا کے اُسے سامنے دیکھ کر اوسان خطا ہوگئے تھے۔۔۔۔صدمے اور خوف کے ملے جلے تاثرات چہرے پر چھائے ہوئے تھے۔۔۔۔
اُسے چاروں اور سے خطرے کی صدائیں سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔اُس نے ہاتھ آہستہ سے اپنے کورٹ کے اندر گھسا کر گن تھام لی تھی
میں نے کہا تھا نا ۔۔۔میں اتنا بھی بے خبر نہیں۔۔۔۔۔۔جتنا آپ سمجھتے ہیں
وہ فائل ٹیبل پر رکھ کر سگریٹ ہوا میں اچھالتے ہوئے اُس کی طرف دیکھ کر بے تاثر لہجے میں بولا۔۔۔مشرا نے گن پر گرفت مضبوط کی
But I’m impressed۔۔۔۔۔۔
غضب کا کام کیا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔
بس تھوڑی دیر کردی۔۔۔۔
جس کرسی کے لیے اتنی محنت کی وہ تو میری ہو گئی ۔۔۔۔
خیر آپکی اتنی محنت کا کچھ تو معاوضہ ملنا چاہیے آپکو۔۔۔تو بتائیے کیسے لیں گے اپنی قیمت۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے ہوئے اُس کی طرف آیا۔۔۔اُس کے بلکل مقابل آکر رکا۔۔
مشرا نے غصے سے اُسے دیکھ کر تیزی سے گن نکال کر اُس کے چہرے کے آگے کیے ٹرگر پر اُنگلی رکھی لیکِن ٹریگر دبنے سے پہلے ہی پیچھے سے اُس کے سر پر گن رکھ دی گئی تو اُس کی حرکت سن ہو گئی۔۔۔۔
وہ خوفزدہ سا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
فلہال آپ سے حساب کتاب کرنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اسلئے یہ کام کُچھ دن بعد پر ٹال دیتے ہیں۔۔۔ تب تک آپ ہماری مہمان نوازی کا مزا لیجئے۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اُس کے ہاتھ سے گن کھینچ کر پیچھے کھڑے اپنے گارڈ کی جانب اچھالی اور اُسے مشرا کو لیجانے کا اشارہ کیا تو وہ اُس کے سر پر گن یونہی ٹکائے سر ہلا کر عمل کرنے لگا
♦♦♦♦♦
مشرا سے نپٹنے کے بعد اُس کا ارادہ نین سے ملنے کا تھا اسلئے کوئی گارڈ وغیرہ ساتھ نہیں تھا ۔۔۔۔۔ بلڈنگ کے گیٹ سے باہر نکل کر وہ اپنی گاڑی کے نزدیک ہی پہنچا تھا جب اُس کا فون بجا۔۔۔۔اُس نے دروازہ کھولنے کے لیے بڑھتے ہاتھ کو روک کر فون نکالا۔۔۔
دکش ۔۔۔۔ کہاں ہو تم اس وقت۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب کی گمبھیر۔۔۔پریشان آواز سن کر اُس کا دماغ الرٹ ہوا
کیا ہوا۔۔۔۔کوئی پرابلم۔۔۔۔۔
اُن کی آواز سے کِسی خطرے کا اندازہ لگا کر جواب دینے کی بجائے اُس نے سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔
وہ ڈرائیونگ سائیڈ کے پاس کھڑا تھا اور نظریں بلیک گاڑی کے شفاف شیشے پر تھی۔۔۔جہاں اُسے اپنے پیچھے موجود دردخت کے پتوں کا عکس نظر آرہا تھا۔۔۔۔
مجھے ابھی خبر ملی ہے کہ نارائن کا بھائی تم سے بدلا لینے کے لیے تم پر حملا کرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔تم جہاں بھی ہو ابھی اور اسی وقت وہاں سے نکلو اور ۔۔۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب اُسے اطلاع دیتے ہوئے ساتھ ہی سنجیدگی سے سمجھا رہے تھے لیکن اُس کا دھیان اب دوسری اور تھا۔۔۔۔
سنسناں وحشت انگیز فضا میں سنائی دینے والی وہ معمولی سی آواز جو کسی بھاری پیر کے نیچے رگڑے جانے والے سوکھے پتوں کی تھی۔۔۔۔
اُسے کسی کا اپنے نزدیک آنا محسوس ہو رہا تھا لیکن وہ اُسی طرح بے حرکت فون کان سے لگائے کھڑا تھا۔۔۔۔
سنگھ صاحب بات کر ہی رہے تھے جب اُسے گاڑی کے شیشے کے ساکن رنگ میں بدلاؤ محسوس ہوا۔۔۔۔۔
اُس کے کان کے نزدیک ہوا کی سرسراہٹ تیز ہوئی۔۔۔
اور جیسے ہی شیشے پر کسی کا سایہ دکھا جو اُس پر چاقو سے وار کرنے کو تھا۔۔۔۔وہ پھرتی سے نیچے جھک کر سائیڈ میں ہوا ۔۔۔۔
چاقو کا جو وار اُس پر ہونے والا تھا وہ گاڑی کے شیشے پر ہوا۔۔۔
اتنا زوردار وار کے سارا شیشہ ٹوٹ کر معمولی ٹکڑوں میں بدل گیا ۔۔۔
آواز سننسان جگہ میں دور تک گونج اٹھی۔۔۔
ساحل سیدھا ہو کر اُس شخص کی جانب پلٹا۔۔۔۔اور وہ اُس کے پلٹتے ہی اب اُس کے سینے پر وار کرنے کو تھا کے ایک انچ کی دوری پر وہ اُس کی کلائی اور دوسرے ہاتھ کی گرفت میں اُس کی گردن جکڑ گیا۔۔۔۔
حالانکہ تب بھی سامنے کھڑے نقاب پوش نے اُس ایک انچ کے فاصلے کو ختم کرکے چاقو اُس کے سینے میں گھسانے کے لیے پورا زور لگایا لیکن وہ اُس کی کلائی کو بے حد سختی سے جکڑے اُسے روکے ہوئے تھا۔۔۔۔
چاقو کی نوک اپنے سے دور رکھنے کی کوشش میں پورا زور لگائے ہوئے تھا جس سے پیشانی اور کلائی کے ساتھ گردن کی رگیں بھی سخت ہو کر ابھر گئی تھی۔۔۔دانت سختی سے بھنچے ہوئے تھے۔۔۔
اور بلآخر ایک جھٹکے کے ساتھ اُس آدمی کا ہاتھ دور دھکیلا تو وہ چاقو بازو کو لگ کر آستین چیر کر اُسے زخم دینے کے بعد اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے درد محسوس کرکے بھی نظر انداز کیا اور اُس آدمی کے پیٹ میں ایک زوردار لات ماری وہ لڑکھڑا کر تھوڑا دور ہوا۔۔۔۔لیکِن اگلے دو سیکند بعد ہی سنبھل کے واپس سیدھا ہوا۔۔۔
وہ ابھی اُس کا حشر بگاڑنے کو آگے بڑھنے کا سوچ رہی رہا تھا کہ اُس آدمی کے پیچھے کھڑی گاڑی سے نکل کر ایک کے بعد ایک چار اور نقاب پوش نکل کر باہر آئے ۔۔۔
اس نے انگوٹھا اندر کرکے سختی سے مُٹھی بھنچی اور خود کو مقابلے کے لیے تیار کیا۔۔۔
کیوں کے وہ سب پروفیشنل فائٹر تھے اور انہیں مات دینا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔لیکِن اُس کے لیے زیادہ مُشکل بھی نہیں تھا۔۔۔
♦♦♦♦÷♦♦♦