Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 113)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 113)
شکر ہے تم ٹھیک ہو۔۔۔۔میں ساری رات یہ سوچ کر پریشان تھا کہ کہیں تم کسی خطرے میں تو نہیں۔۔۔۔کیوں کے حالات کافی بگڑ چکے ہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔
وہ جب وہائٹ شرٹ بلیو جنیس جیکٹ میں فریش اور پرسکون سا اندر آیا تو اُسے دیکھتے ہی سنگھ صاحب نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا۔۔۔کیوں کے اُنہیں خبر ملی تھی اُن کے خلاف کچھ لوگوں نے ایک ساتھ مل کر پوری ٹیم بنا لی ہے اور وہ کسی بھی طرح سنگھ صاحب اور دکش کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔۔۔اچانک حالات اس قدر خلاف ہوگئے تھے کے اُنہیں کچھ نہیں سوجھ رہا تھا وہ بری طرح پریشان تھے۔۔۔
میں نے تمہیں کانٹیکٹ کرنے کی بھی کوشش کی لیکن ۔۔۔۔۔
ہمارے سارے کانٹیکٹ کنكشنز رسٹراِکٹ کیے ہوئے ہے۔۔۔۔
اُس نے اُن کی بات کاٹتے ہوئے اطلاع دی تو اُن کی پریشانی مزید بڑھی۔۔۔۔وہ خود صبح سےحیرت میں تھے کہ اُن کے گھر کے تمام فون اور موبائل کنیکشن بیکار ہوگئے تھے وہ کسی کو بھی فون یہ میسیج نہیں کر سکتے تھے نا کوئی اور اُن سے رابطہ کر سکتا تھا۔۔
لیکن کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے ماتھے پر شکنیں ڈالے پوچھا۔۔
شاید وہ لوگ کچھ بڑا پلان کر رہے ہو۔۔۔۔
اُس نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔حالانکہ وہ ہمیشہ ہر معاملے میں ایسے ہی پُر اطمینان رہتا تھا ۔۔ لیکن اس وقت اُس کی بے نیازی سنگھ صاحب کو اچھی نہیں لگی کیوں کے اُنہیں سب کچھ اپنے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
ویر سے بات کرنا بہت ضروری ہے اس سے پہلے کے بات ہاتھ سے نکل جائے مجھے اس سے کانٹیکٹ کرنا پڑے گا۔۔۔
آخر اُنہوں نے اپنے بچاؤ کا حل نکالا ۔۔۔کیوں کے اُنہیں یہ دکش کے بس کی بات نہیں لگ رہی تھی
لیکِن اس سچویشن میں یہ بہُت خطرناک ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے وارن کیا تو وہ سوچ کر رہ گئے کیوں کے واقعی ویرانش بھی ساتھ پھنستا اور وہ بھی قانون کی نظر میں آجاتے۔۔۔
تُو کیا ہم تب تک ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔۔۔۔
وہ سخت جھنجھلا کر اپنی جگہ سے اٹھ گئے۔۔۔ساحل نے نفرت سے اُس آدمی کی بےچینی دیکھی اور پیچھے ٹیک لگا کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی۔۔۔۔
میرے پاس ایک حل ہے لیکن تھوڑا سیریس ہے۔۔۔۔۔
وہ چند سیکنڈ رک کر پیر جھلاتے ہوئے بولا تو سنگھ صاحب نے اُس کی طرف دیکھا اور اُس نے پیر کی حرکت روک دی۔۔۔۔
اس سچویشن سے زیادہ تو سیریس نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔
اُنہوں نے بیزاری سے کہتے ہوئے حل جاننا چاہا۔۔۔
میجوریٹی چیک۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھا ہوکر سنجیدگی سے اُنہیں دیکھتے ہوئے بولا تو وہ سوچ میں پڑ گئے۔۔۔۔
اتنی جلدبازی میں بہت رسکی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے پُرسوچ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا کیوں کے اس کے لیے اُنہیں انٹرنیشل لیویل پر اپنے گروپ سے جڑے تمام بڑے بڑے مافیا لیڈرز کو جمع کرکے میٹنگ کرنی پڑتی۔۔۔
حالانکہ وہ جانتے تھے جتنا اُن کے بیٹے نے اپنا اثر چھوڑا تھا اور جس طرح اپنے کام سے اپنی مضبوط جگہ بنائی ہے۔۔ زیادہ تر لوگ اُن کی حمایت میں اترتے اور اکثریت اُن کے حصے ہی آتی لیکن اچانک اور ایسے حالات میں یہ قدم اٹھانا اُنہیں خطرے سے خالی نہیں لگا
کیوں کے اس طرح کی میٹنگ بہُت پلاننگ اور سیکورٹی کے ساتھ ہی کی جاتی ہے تاکہ اُن کے کالے کاروبار پر قانون کی نظر نہ پڑے۔۔۔۔
زیادہ تر غیر ملکوں میں اور ایسے علاقوں میں جہاں مافیا کا خاصا دبدبہ ہو۔۔۔۔۔جہاں قانون سے زیادہ کرپشن کا زور ہو۔۔
سو تو ہے لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔۔اور یہ سب سے سٹرانگ ڈیفنڈ ہوگا ۔۔۔۔
اُس نے اُن کی اُلجھن دیکھ افسوس سے کہا۔۔۔۔
شاید تم صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔۔ہمیں یہ رسک لینا پڑیگا۔۔لیکِن پوری سیفٹی کے ساتھ۔۔۔۔
اُنہوں نے بلآخر اپنی ہی سوچ سے ہار کر کہا۔۔۔۔۔اور وہ یہی چاہتا تھا۔۔۔۔ساری کار کردگی کامیاب ہوتی نظر آئی۔۔۔۔
اس کی فکر مت کیجئے۔۔۔۔سیکورٹی کی ذمےداری میری لیکِن۔۔۔۔۔
اُس نے فوراً کہا ۔۔۔اُس کی ادھُوری بات پر وہ اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ گیا
مجھے لگتا ہے اُس سے پہلے میری اور انجو کی شادی ہوجائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔بلاوجہ کا ریزن نہیں رہ جائیگا کچھ لوگوں کے پاس۔۔۔۔
اُس نے سر جھکائے رک کر کہا تو وہ کچھ حیران ہوئے۔۔۔۔۔کیوں کے اُس نے خود ہی منع کیا تھا اور ایسا قدم اُٹھانے پر۔اُکسایا تھا جو اُن کے لیے کافی خطرناک ثابت ہوا۔۔۔لیکِن اب وہ خود ہی شادی کی بات کرکے اُنہیں حیران کر گیا۔۔۔۔
جانتا ہوں میں نے ہی آپکو منع کیا تھا۔۔۔اور اب بھی میں انجو کو لے کر کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتا لیکن حالات ایسے ہے کے مجھے لگتا ہے کل کے کل ہی ہمیں شادی کرلینی چاہیے۔۔۔
وہ اُن کی سوچ کا اندازہ لگاتے ہوئے بولا تو سنگھ صاحب نے پرسوچ انداز میں سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
آپ اُسے اگر سمجھائے گے تو شاید وہ سمجھ جائے گی۔۔۔بات صرف شادی کی ہے۔۔۔۔ پھر میں تو اُس کی خوشی کے لیے آگے جب تک وہ چاہے تب تک اسپیس دے سکتا ہوں اُسے۔۔۔۔
وہ اُن کی اُلجھن دیکھ سنجیدگی سے بولا تو وہ زبردستی کا مسکرائے۔۔۔
ٹھیک ہے میں اُسے ابھی واپس گھر بلا لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔کل شام پہلے تم دونوں کی شادی اور اُس کےبعد میٹنگ ہوگی۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تو جواب میں وہ بھی ہلکا سا مسکرایا
♦♦♦♦♦♦♦
اس کی مہندی میں ہارٹ بنا کر ساحل ضرور لکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اسے اپنے شوہر کو مُٹھی میں رکھنا بہُت پسند ہے۔۔۔۔۔۔
ریا نے اُس کے ہاتھ کو مہندی سے سجاتی لڑکی کو انسٹركشن دیا تو نین نے اُسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
پورا ہال مہندی اور پھولوں کی ملی جلی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔۔۔ایک طرف زوروں شوروں سے گیت گائے جا رہے تھے جب کے ہال کے وسط میں خوبصورتی سے سجے راؤنڈ شیپ میٹریس پر ریا کو مہندی لگائی جا رہی تھی اور سب دوست اور کزنز اُسے گھیرے بیٹھے تھے۔۔۔۔
ماحول بہُت خوشگوار تھا اور ریا کو نین کا موڈ بھی کافی بہتر محسوس ہو رہا تھا اسلئے وہ اُسے تنگ کرکے مزید اکسا رہی تھی۔۔جب کے انجو جیسے ہو کر بھی وہاں نہیں تھی۔۔۔
خود تو جیسے سر پر بٹھا کر گھومنے والی ہے اپنے پتی دیو کو۔۔۔۔دیکھنا اگلے ہی دن بیچارہ میڈم کی نیل پالش کرتا نظر آئیگا۔۔۔۔
نین نے بھی جواب میں اُس سے بدلا لیا تو ریا سمیت سب ہنسنے لگے۔۔۔۔۔۔
پورب۔۔۔یہاں آو نا۔۔۔۔۔
کِسی کزن نے دور کھڑے پورب کو پکارا تو انجو نے بھی اپنی ہتھیلی سے نظریں ہٹا کر اُس جانب دیکھا۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا چل کر اُن سب کے نزدیک آیا اور تھکے تھکے انداز میں گر کر آرام سے وہاں بیٹھ گیا۔۔۔
کاش وہ دِن بھی کبھی آئے ۔۔۔
جب ہمارا نام بھی کوئی اپنی مہندی میں سجائے۔۔۔۔۔
وہ سب لڑکیوں کو مہندی لگاتے دیکھ آہ بھرتے ہوئے بولتا انجو کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔۔
لیکن وہ نظریں ملتے ہی منہ پھیر گئی۔۔۔جب کے باقی سب اوو کرتے اُسے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔
ریا ۔۔۔۔تمہارا بھائی اشاروں اشاروں میں اپنے دل کی حسرتیں بیان کر رہا ہے۔۔۔۔سن بھی لو بیچارے کی۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی ہمدردی جتاتے ہوئے کہا تو پورب نے اُس کی جانب دیکھا
تُم کس کام کی ہو ۔۔۔خود بھی تھوڑی زحمت کرکے میرے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈھ لو۔۔۔۔بلکل اپنے جیسی
وہ اُسے گھور کر بولتے ہوۓ آخر میں پورے دانت دکھا کر ہنسا تو نین نے حیرت سے دیکھا جب کے انجو نے ناگواری سے۔۔۔۔۔۔
ارینج میریج کروگے۔۔۔وہ بھی میری جیسی لڑکی سے۔۔۔۔لگتا ہے اپنے آپ سے پیار نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔
نین نے حیرت اور افسوس سے کہا تو اُس کے انداز پر سب سے زیادہ ریا ہنسی۔۔۔۔
چلتا ہے یار۔۔۔کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے نا۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر ونک دیتے ہوئے بولا ۔۔۔انجو کو نین کا اُس سے فری ہونا بلکل نہیں بھایا۔۔۔۔
لگتا ہے اس کو اپنی ڈکّی کی شامت بلوانی ہے۔۔۔
نین نے ریا کے نزدیک ہو کر بہُت دھیرے سے لیکِن سیریس انداز میں کہا ریا نے اُسے گھور کر کہنی ماری لیکن ہنسی نہیں روک پائی۔۔۔۔
صبح سے محنت کیے جا رہے ہو کبھی یہ کام کبھی وہ کام سچ سچ بتاؤ کس لڑکی کو امپریس کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔
وہ اُسے تفتیشی نظروں سے دیکھتی آہستہ آواز میں پوچھنے لگی جو صرف آس پاس کے تین لوگ سن سکے جن میں ریا دوسری طرف متوجہ تھی۔۔۔پورب ہنسا
وہ جو میری بہن کے پاس میں بیٹھی مجھے دیکھ رہی ہے۔۔۔۔
پورب نے اُس سے بھی کم آواز میں بہُت رازدارانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تو نین نے ماتھے پر بل ڈال کر نظریں ریا کی جانب اٹھائی جہاں اُس کی دوسری طرف انجو بیٹھی مہندی لگوا رہی تھی۔۔۔نظریں پورب کو ہی دیکھ رہی۔۔۔۔۔
نین نے صدمے سے پورب کو دیکھا اور
کیا۔۔۔سریسلی۔۔۔۔
اتنی زور کی آواز میں پوچھا کے ہال میں پل کو سب ساکت ہوکر اُس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔ریا اور انجوسمیت سب نے حیرت سے اور پورب نے ہنس کر دیکھا تو اُس نے زبان دانتوں میں دبائی۔۔۔۔۔
انجو خاموشی سے سب کو ہنسی مذاق کرتے دیکھتی مہندی لگاتی رہی اور جب ہاتھ مکمل ہوگئے تو وہاں سے اٹھ کر اندر روم میں آگئی۔۔۔
اُس کا دل بے حد اُداس تھا
کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
وہ کمرے کی کھڑکی کےنزدیک کھڑی خالی خالی نظروں سے دونوں ہتھیلیوں پر سجی مہندی کو دیکھنے لگی۔۔۔
تُم نے اپنی مہندی میں دکش کا نام نہیں لکھوایا۔۔۔۔
پورب اُس کے نزدیک کھڑا دھیرے سے پوچھنے لگا تو وہ چونکی۔۔۔۔اُسے پتہ نہیں چلا کے وہ کب کمرے میں آیا اور کب اُس کے اتنے پاس۔۔۔۔
نہیں وہ۔۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ نیچے کرلیے کوئی بات نہیں سوجھی تو چپ ہوگئی۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔ہاتھ دو اِدھر۔۔۔۔
پورب نے مسکرا کر اُس کے اُلجھے اُلجھے تاثرات دیکھے اور ہاتھ آگے کرکے اشارہ کیا۔۔۔
وہ نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی تو پورب نے خود اُس کا ہاتھ تھام کے اوپر کیا اور مہندی لے کر ہتھیلی پر نام لکھنے لگا۔۔
پورب۔۔۔۔رہنے دو۔۔۔۔
انجو چند سیکنڈ خاموش دیکھتی رہی لیکِن ڈی اور اے کے بعد جب وہ کے لفظ لکھنے لگا تو ایکدم سے ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔
کیا ہوا اتنی پریشان کیوں ہو۔۔۔۔
پورب نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔
چہرے پر بےچینی تھی۔۔۔
وہ کچھ نہیں بولی بس سر جھکا کے نفی میں ہلا دیا۔۔۔
دِل کی بات زباں پر لے آؤ۔۔۔۔
آنکھیں پڑھ تو لوں مگر اقرار زبان سے ہی سکون دیتا ہے۔۔۔
وہ ہاتھ سے اُس کا چہرہ تھام کے دھیمے پرسوز لہجے میں بولا تو اُس کا دل زوروں سے دھک دھک کرنے لگا
کیسی عجیب باتیں کرنے لگ گئے ہو تم۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اجنبی انداز میں بولی ۔۔۔
بس بھی کردو۔۔۔۔مجھ سے اور خود سے لڑتے لڑتے تھکی نہیں تم۔۔۔۔اب مان بھی لو جو دل کہہ رہا ہے۔۔۔۔
پورب نے آسودگی سے کہہ کر اُس کے گال کو انگوٹھے سے رب کیا۔۔۔۔انجو اُس کی گہری چاہت بھری آنکھوں میں چند پل دیکھتی رہی۔۔۔ ڈھیروں خیال کتنی ہی سوچیں ذہن میں گھومتی گئی
بہت دیر ہوگئی پورب۔۔۔۔۔۔
اور آخر میں اُس نے آنکھوں میں جمع ہوتے آنسو پلکیں جھپک کر آزاد کرتے ہوئے تھکے بوجھل لہجے میں کہا۔۔۔
تم ایک بار کہہ کے دیکھو۔۔۔۔۔۔
وقت کو موڈ دوں تمہارے لیے۔۔۔۔۔
پورب مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں بولا وہ خاموشی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔۔۔۔
پورب نے اُس کے لبوں پر جھک کر نرمی سے اُنہیں قید کیا تو وہ آنکھیں بند کرکے مہندی بھرے ہاتھ سے اُس کے ایک کندھے کو تھام گئی اور پھر چند لمحوں کی تاخیر کے بعد دوسرے کو۔۔۔۔
خاموشی طویل ہونے لگی اور فسوں بڑھنے لگا تو اُس نے خود کو چھڑایا۔۔۔ اور سر اُس کے سینے پر رکھ لیا۔۔۔۔آنسو تیزی سے رواں ہونے لگے اور دل نے اقرار کیا کے وہ کتنی غلط راہ پر آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے اپنے ہاتھوں اپنا کتنا نقصان کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔
اب احساس ہوا بھی تو خیال بیڑیاں بن کے جکڑے جا رہے تھے۔۔۔۔۔دکش سے اس بات کا اقرار اور ماں باپ کا اس حقیقت کے ساتھ سامنا اُس کے لیے ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
پلیز جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔
وہ اُس سے الگ ہو کر سر جھکائے بولی اور اس کی جانب دیکھا پہلے مہندی سے خراب ہُوئی شرٹ کو اور پھر سنجیدگی سے خود کو دیکھتی آنکھوں میں۔۔۔
اب میں کوئی غلطی کرکے پچھتانا نہیں چاہتی پورب۔۔۔۔۔پلیز گو۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے بسی سے کہا اور دل مزید بھرنے لگا تو خود ہی تیزی سے بھاگ کر واشروم میں بند ہوگئی۔۔۔۔۔۔
پورب نے بند دروازے کو دیکھ کر لب بھینچے اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ وہیں کھڑی رو رو کر بوجھ ہلکا کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔بار بار ہتھیلیوں کو دیکھتی گئی جن کی مہندی بگڑ چکی تھی اور دکش کا ادھورا نام بھی کہیں غائب ہوچکا تھا۔۔۔
لیکِن یہ حقیقت نہیں مٹ سکتی تھی کے اُس کے ہاتھ میں دکش کی انگیجمنٹ رنگ ہے۔۔۔۔۔
اور یہ فیصلہ اُس کی خواہش تھا۔۔ بھلے بھول تھی لیکن وہ خود ذمےدار تھی ۔ ۔۔۔
۔
اُسے باہر سے ریا کے پکارنے کی آواز آئی تو وہ چہرے پر پانی کے چھپکے مار کر اپنے رونے کے تاثرات مٹاتی باہر آئی۔۔۔
جہاں ریا نے اُسے بتایا کے اُس کے ڈیڈ نے ڈرائیور کو لینے بھیجا ہے۔۔۔وہ بے حد حیران ہوئی۔۔۔۔۔کے اُس نے تو ریا کی شادی کے بعد واپس گھر جانا تھا تو اُسے ابھی کیوں بلایا گیا۔۔۔
پھر وہ گھر پر فون کرنے لگی تو فون بھی نہیں لگا۔۔۔یہاں تک نا اُس کے ڈیڈ کا نا مام کا فون لگ سکا۔۔ جس سے اُس کا دل عجیب عجیب خیال کرکے گھبرایا۔۔۔
وہ ریا سے معافی مانگ کر اُسی وقت گھر کے لئے نکل گئی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
گھر پہنچی تو سامنے ہی اُس کے ماں باپ فکرمند سے بیٹھے تھے۔۔۔
کیا ہوا ڈیڈ۔۔۔۔آپ نے مجھے اچانک کیوں بلا لیا۔۔۔۔سب ٹھیک ہے نہ مام۔۔
وہ اندر آتے ہی پریشان سی دونوں کو دیکھتی بیتابی سے سوال کرنے لگی۔۔۔
سنگھ صاحب نے مسکراتے ہوئے اُسے اپنے ساتھ لگا لیا
بہت ضروری بات کرنی ہے بیٹا آپ سے۔۔۔
وہ اُسے اپنے ساتھ صوفے پر بٹھا کر سنجیدگی سے بولے تو انجو منتظر سی اُنہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔دل انجانے خوف سے دھڑکا۔۔۔
میں نے آپ کی اور دکش کی کل ہی شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولے تو انجو کا تیز تیز دھڑکتا دل ایکدم رکا۔۔۔۔۔۔
اُس نے بے یقینی سی کیفیت میں اپنی ماں کو دیکھا جو خود پریشان تھی لیکِن اُس کے دیکھتے ہی مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
یہی بات کرنے کے لیے میں نے آپکو یہاں بلوایا ہے۔۔۔۔جانتا ہوں آپ یہی سوچ رہی ہوگی کے یہ سب اچانک کیوں لیکِن حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کے مجھے یہ فیصلہ لینا پڑا۔۔۔اور میں جانتا ہوں میری بیٹی میرے فیصلے میں ساتھ ہے۔۔۔۔
اُن کا ہاتھ انجو کے سر پر تھا اور وہ اُسے بہت پیار سے سمجھا رہے تھے لیکن انجو کا ذہن سن ہوگیا تھا۔۔۔۔
دکش سے شادی وہ بھی اگلے ہی دن ۔۔یہ سوچ بری طرح بے چین کر رہی تھی۔۔۔۔
مگر پاپا۔۔۔۔ایسا کیا ہوا۔۔۔۔۔جو۔۔۔
کچھ دیر بعد اُس نے بمشکل خود کو سنبھالے بوجھل لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔۔
کچھ کاروبار کا مسلہ ہے بیٹا۔۔۔آپکو اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ویسے بھی شادی کچھ دِن بعد ہونی ہی تھی۔۔۔۔۔تو کل صحیح۔۔۔۔
سنگھ صاحب نے اُس کی بات کاٹ کر جواب دیا ۔۔۔اُسے وجہ بتا بھی نہیں سکتے تھے کیوں کے وہ تو اُن کے اصل سے انجان تھی جب کے اُن کی بیوی سب جانتی تھی اور پہلی دفعہ پریشان تھی کے اُن کے بیٹی کا استعمال ہو رہا ہے
دکش آپکے لیے بلکل پرفیکٹ ہے اور میں آپکو اُس کے ساتھ ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔بھلے شادی جلد بازی میں کیوں نہ ہو رہی ہو لیکن اُسی شان سے ہوگی جیسے ہونی چاہیے ۔۔۔۔اور آپ بھی بنا کچھ سوچے یا پریشان ہوئے خوشی خوشی انجوئے کریں گی۔۔
اُنہوں نے اُس کی خاموشی محسوس کر پرجوش انداز میں کہا لیکِن و تب بھی مسکرا تک نا سکی زبردستی سر ہلا کر وہاں سے اٹھی اور اندر چلی گئی۔۔۔۔
♦♦♦♦
وہ مہندی کے فنکشن ختم ہونے کے بعد بری طرح تھک کر روم میں آئی اور چینج کیے بنا ہی بستر پر لیٹ گئی۔۔۔۔آنکھیں بند کرتے ہی خیال ساحل کی اور جانے لگا اور اُسے یاد آیا کے وہ رات ملنے كا کہہ کر گیا تھا۔۔۔۔۔ اُسے سو فی صد یقین تھا کہ وہ اپنے کہے پر عمل کریگا۔۔۔۔۔
اور اُس کی سوچ آتے ہی فون بجا۔۔
وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
نمبر انجان تھا لیکن دل کی بدلتی دھن نے احساس دلایا کے وہی ہے۔۔۔
اُس نے چند سیکنڈ رک کر کال اوکے کی۔۔۔۔
باہر آؤ۔۔۔۔۔
وہ فون اٹھاتے ہی بنا کوئی ہائے ہیلو کیے سنجیدگی سے بولا ۔۔۔نین نے اُسے سامنے تصور کرکے دیوار کو گھورا۔۔۔۔
کون بول رہا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے انجان بن کر شانِ بے نیازی سے پوچھا۔۔۔۔
اپنی بیوی کے ماما کا بیٹا۔۔۔۔
اُس کی مسکراتی آواز آئی تو نین کے لب بھی خودبخود مسکرائے۔۔۔۔
کون بیوی۔۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں گھما کر بیزار لہجے میں سوال کیا۔۔۔۔اُسے زچ کرنےکی کوشش کی۔۔۔۔۔
وہی بیوی جس کی کمر پر تین تل ہے۔۔۔۔۔۔جنہوں نے رات۔۔۔۔۔
ساحل۔۔۔۔
وہ جواب میں بے باکی سے بولا تو وہ ایکدم سے سانس روک کر اُسے پکارتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
اُس کے زوردار ہنسنے کی آواز فون میں گونجی۔۔۔۔تو نین نے غصے سے دانت بھینچے۔۔۔۔
کتنے بڑے بےشرم ہو تم۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر ضبط سے بولی۔۔ ۔۔
یہ تو تم ہی بتا سکتی کے کتنا بڑا بے شرم ہوں۔۔۔ لیکن ابھی نہیں۔۔۔ابھی تو شروعات ہے۔۔۔پہلے اچھے سے ایکسپیرینس کرلو۔۔۔۔۔۔
وہ جواب میں سکون سے بولتا اُسے مزید تنگ کرنے لگا۔۔
سچ میں چھچھورے ہو تم۔۔۔۔۔
نین نے تاسف سے سر ہلا کر کہا۔۔۔۔۔
اور اس چھچھورے کی جان ہو تم۔۔۔۔
اُس نے بلکل نین کے انداز میں جواب دیا لیکن مسکراتے لہجے میں۔۔۔نین نے اُس مسکراہٹ کو سامنے نا ہوتے ہوئے بھی محسوس کیا۔۔۔
چیپ باتیں بند کرو۔۔۔بولو کیا کام ہے۔۔۔۔کیوں فون کر رہے ہو۔۔۔۔
وہ غصے اور بیزاری سے بولتی کانوں سے ایرننگز نکالنے لگی ۔۔۔۔
یہاں آکر پتہ چل جائے گا کیا کام ہے۔۔۔۔۔تم باہر نکلو۔۔۔۔
اُس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔۔۔پھر باہر آنے کو کہا۔۔
جی نہیں۔۔۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔
نین نے صاف انکار کرکے جمائی لی۔۔۔۔
تمہاری نیند کا تو میں اچھے سے انتظام کرتا ہوں بس دو دن اور صبر کرو۔۔۔۔۔فلھال باہر آؤ فوراً۔۔۔۔۔۔۔دماغ مت خراب کرو میرا۔۔۔
وہ اُس کے مسلسل نخروں پر غصے اور سنجیدگی سے بولا تو نین کا منہ حیرت اور غصے سے کھلا۔۔۔۔
تُم نا اپنا ایٹیٹیوڈ سنبھال کر بات کرنا میرے ساتھ۔۔۔جاؤ نہیں آتی جو کرنا ہے کرلو۔۔۔۔
وہ بھی بھڑک کر اُسی کے انداز میں بولی۔۔۔اور کچھ بھی سننے سے پہلے فون بند کرکے بیڈ پر اچھال دیا۔۔۔۔
بڑا آیا مجھے دھمکیاں دینے والا۔۔۔۔
بلیک سلک کا نائٹ سوٹ لیے واشروم کے اندر آئی۔اور منہ ہی منہ میں اُس کے خلاف بڑبڑاتے ہوئے کپڑے چینج کرنے لگی تب ایکدم سے خیال آیا کہ اگر وہ اُس کے انکار کرنے پر خود وہاں آگیا تو ۔۔۔۔۔۔
اور پھر سے وہ اُس کے وہاں آنے کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
نہ کسی کے دیکھ لینے کا خوف چاہتی تھی۔۔
۔۔۔نا اُس کی مسلسل بے باکیاں سہنے کے ہمت تھی۔۔۔
تبھی ہڑبڑا کر جلدی جلدی چینج کیا اور روم سے باہر نکلی۔۔۔ریا کے روم میں جانے کے لیے کیوں کے وہاں تو وہ نہیں آسکتا تھا۔۔۔,
سب اپنے اپنے کمروں میں تھے بلکل خاموشی تھی۔۔۔ ساری لائٹس بند تھی بس تھوڑی بہت ہی روشنی کوریڈور کو روشن کیے ہوۓ تھے۔۔۔
وہ روم سے نکل کر چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کے کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچا ۔۔۔۔اور اُسے دیوار کی طرف دھکّا دیا۔۔۔۔۔
وہ خوف سے چینخ کر پورے علاقے کو جگا دیتی اُس کے پہلے ہی ساحل نے اُس کی آواز کو اپنے ہاتھ کے زور سے بند کیا ۔۔۔
نین نے آنکھیں پوری کھولے پہلے خوف۔۔۔پھر حیرت۔۔۔۔ پھر غصے سے اُسے گھورا اور اُس کا ہاتھ منہ سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
کیا بول رہی تھی شانی۔۔۔۔۔۔جو کرنا ہے کرلو۔۔۔۔کرلوں اب۔۔۔
وہ اُسے اور اُس کی آواز کو قید کرکے اُس کے بے حد نزدیک کھڑا مزے سے لیکن خونخوار انداز میں گھورتا ہواپوچھنے لگا نین نے کسمسما کر ہاتھ ہٹا نا چاہا ۔۔۔۔۔دھڑکنیں اُلجھنے لگی۔۔۔۔۔سانس گھٹنے لگی۔۔۔۔۔
وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی تو تڑپ کر آنکھیں بند کرلیں اور تھم گئی ساحل نے سختی کم کردی مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔ ۔
جب کے نین نے اُس کا ہاتھ نرم پڑتے ہی ایکدم سے آنکھیں کھولیں دونوں ہاتھوں سے ہاتھ پکڑ کر ہتھیلی کو دانتوں میں دبایا۔۔۔۔۔۔بےحد زور سے۔۔
وہ اس اچانک حملے پر گڑبڑایا ۔۔۔جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا حالانکہ اتنی دیر میں بھی اُس کے ہتھیلی پر آدھے اور پچھلی طرف آدھے دانت بری طرح گڑھ کر نشان چھوڑ چکے تھے۔۔۔۔
حیرت سے نین کو دیکھا جو اُس کے دیکھتے ہیں ابرو اٹھا کر مسکرائی۔۔۔
اُس نے غصے سے دانت بھینچ کر اُس کا چہرہ جکڑے لبوں پر جھک کر وہ مسکراہٹ چھین لی۔۔۔۔۔۔۔۔
پُر شدت گرفت نے نین کے حواس جھنجھنا دیے وہ اُس کے انتقامی عمل سے گھبرا کر بری طرح لرز گئی لیکِن چند سیکنڈ میں ہی کسی کی موجودگی محسوس کرکے اُسے مجبوراً رکنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے الگ ہوکر پلٹنے پر نین سانس بحال کرتی لیکن سامنے سے آتے پورب کو دیکھ وہ بھی نہیں کر پائی۔۔۔۔
ایک کے بعد ایک شاک کے مارے اُس کا دل اب کانپنے لگا۔۔۔۔
کیا کر رہے ہو تم یہاں۔۔۔
کیا بے شرمی ہے یہ۔۔۔۔
وہ دونوں کو دیکھ کر رکا۔۔۔۔ اور ساحل کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولا تو نین نے بھی گھبرا کر ساحل کی اور دیکھا جو بدلے میں اُسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جب کے نین کے لیے کھڑا ہونا مشکل تھا کے پتہ نہیں پورب کیا کیا سوچ چکا ہوگا اُس کے بارے میں۔۔۔۔
نہیں مطلب یہاں بھی کیوں باہر سڑک پر جا کر رومینس کرلو نا اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔۔۔
پورب نے اُس کے ڈھٹائی سے گھورنے پر غصے کے ساتھ افسوس سے کہا جب کے نین نے اُس کی بات پر حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔ جھکتی نظریں ایکدم اٹھی۔۔۔
اسے کیسے پتہ۔۔۔۔
نین نے اُس کی طرف دیکھ کر صدمے سے پوچھا تو ساحل نے بھی اُس کی جانب دیکھا اور ایکدم سے حیرت ظاہر کی۔۔۔
ارے ہاں اسے کیسے پتہ۔۔۔۔۔
وہ بلکل اسی کے انداز میں صدمے سے بڑبڑایا۔۔۔نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے غور سے دیکھا۔۔۔کیوں کے اُس کے تاثرات اوریجنل نہیں تھے۔۔۔
پوچھ کر بتا تا ہوں۔۔۔۔
وہ معصومیت بھرے انداز میں بولا اور پورب کی جانب غصے سے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔۔۔
کیوں بے سالے۔۔۔تیرے کو کیسے معالم ۔۔۔۔جاسوسی کر رہا ہے اپن کی۔۔۔۔۔
وہ جیکٹ کی آستین اوپر چھڑاتے ہوئے سر ہلا ہلا کر پوچھنے لگا لیکن شکل سیریس نہیں تھی۔۔گالوں میں ہلکے ہلکے ڈمپل نمایاں ہو رہے تھے۔۔۔۔نین مسلسل اُسے دیکھتی اُس کا ایک ایک تاثر نوٹ کرکے دانت بھینچے لگی۔۔۔۔
کیا دیکھ رہی ہے پوچھا نا تیرے سامنے۔۔۔۔۔
وہ اُس کے خطرناک ہوتے تیور دیکھ کر صفائی دینے لگا۔۔۔
ایکسپریشن میچ نہیں کر رہے ۔۔۔
نین نے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے کھا جانے والے انداز میں اُسے گھورا پورب کا قہقہہ نکلا۔۔۔جسے اُس نے تیزی سے روکا۔۔۔حالانکہ وہ لوگ کچن کے نزدیک کھڑے تھے اور آس پاس کوئی بھی نہیں تھی۔۔۔
پھر سے کوشش کروں۔۔۔
اُس نے ابرو اوپر اٹھا کر شرافت سے پوچھتے ہوئے نچلا لب دانتوں میں دبایا۔۔۔ڈمپل اور گہرے ہونے لگے تھے۔۔
آ ں ہاں۔۔۔۔۔
نین نے داد دینے والے انداز میں سر اثبات میں ہلایا وہ تیزی سے پورب کی طرف بڑھا۔۔۔۔
سالے کباب میں ہڈی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا گریبان پکڑ کر کھینچتے ہوئے غصے سے دبی آواز میں غرایا جب کے پورب کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔۔۔
۔
نین نے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر۔۔۔ اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں اور تھوڑے فاصلے پر اُسے دیوار پر لٹکتی میان نظر آئی۔۔۔۔وہ شو پیس کے طور پر لگی مصنوعی فائبر کی تلوار تھی۔۔۔
اُس نے آگے بڑھ کر احتیاط سے وہ تلوار دیوار سے اُتاری اور میان سے کھینچ کر وہ کسی یودھا کی طرح اُسے سنبھالتی اُس کی طرف بڑھی۔۔۔
وہ جو پورب جو دھمکانے میں مصروف تھا پیچھے سے ہی اُس کے بازو پر ایک وار کیا کے وہ بوکھلا کر پلٹا ۔۔۔اور حیرت سے بازو سہلایا۔۔
ایک نمبر کے دھوکے باز۔۔۔۔۔۔لعنتی۔۔ ذلیل کمینے آدمی ہو تم۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں چینخ کر اُسے تلوار دکھاتی ہوئی بولی۔۔پورب نے اپنے ابلتے قہقوں کا بمشکل گلا دبایا۔۔۔
تیری تو کیا کر رہی ہے ویڑی۔۔۔
شوہر کو کوئی ایسے مارتا ہے۔۔۔
ابے ودھوا ہوجائے گی تو۔۔۔
وہ اُس کے دوسرے وار کو اپنے شولڈر پر پڑنے سے روکتا تلوار کو مُٹھی میں پکڑے غصے سے بولا۔۔۔۔۔۔پورب کم آواز میں لیکِن زوروں سے ہنستا گیا۔۔
شوہر تم جیسا ایل ایل ہو نہ تو اُسے ایسے ہی مارنا پڑتا ہے۔۔۔۔
نین نے غصے سے بولتے ہوئے جھٹکے سے تلوار کھینچی اور اُس کے سر پر مارنا چاہا کے وہ ایکدم سائیڈ پر ہوا۔۔۔
یار سن ناپلیز۔۔۔۔
بیچارگی سے بولا ۔۔۔۔لیکن نین نے دانت پیسے۔۔۔۔۔
نین چھوڑ دو۔۔۔۔۔بخش دوں بیچارے کو۔۔۔۔۔
پورب نے مزے لیتے ہوئے افسوس سے کہا تو توپوں کا رخ اُس کی طرف ہوا
ٹھیک ہے بخش دیتی ہوں اسے۔۔۔ تم آکر اس کی جگہ کھڑے ہوجاؤ۔۔۔
وہ تلوار کا رخ اُس کی جانب کرکے خونخوار انداز میں بولی تو پورب گڑبڑا گیا۔۔۔۔
م۔میں۔۔۔۔لیکِن میں کیوں یار۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ہنستے ہوئے سر ہلا کر انجوئے کیا جب کے پورب کے چھکے چھوٹ گئے۔۔
پھر منہ بند کرکے کھڑے رہو وہاں ۔۔۔۔۔ہمدردی نا جتاؤ زیادہ۔۔۔۔
وہ بھڑک کر اُسے گھورتے ہوئے بولی تو اُس نے فوراً منہ پر اُنگلی رکھ لی۔۔۔
غصے کا رخ پھر سے ساحل کی جانب ہوا تو وہ معصوم بن گیا۔۔۔
جان لے لوں گی میں تمہاری۔۔۔۔
نین نے غصے سے گھورتے ہوئے اُس کے شولڈر پر پھر وار کیا لیکن اس دفعہ اُس نے روکا نہیں بلکہ درد ہونے پر مسکراتے ہوئے لب بھینچے۔۔۔۔۔نین کی آنکھیں اُداس ہو گئی۔۔۔
I hate you۔۔۔۔
وہ ایکدم سے تلوار پھینک کر رونے لگی۔۔۔۔
اسے اپنے بارے میں بتایا لیکن مجھ سے چھپاتے رہے۔۔۔۔۔مجھے نہیں بتایا لیکِن اسے بتایا۔۔۔۔۔۔بیوی میں ہوں یا یہ ہے ۔۔۔۔۔
خفگی سے بولتے بولتے آنکھوں میں آنسُو بھی آ گئے۔۔۔وہ نزدیک ہوا چہرہ تھامنا چاہا لیکن وہ زوردار طریقے سے ہاتھ جھٹک کر روک گئی۔۔۔
یار اسے بتانا پڑا۔۔مجبوری تھی۔۔یہ مجنوں کی اولاد میرے راستے میں دیوار بن گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ غصے اور بےبسی اس سے بولا پورب کو گھورا۔۔۔جو اب بھی مسکرا رہا تھا
جھوٹ سب جھوٹ۔۔۔۔۔سب بہانے۔۔۔
میں اتنی پریشان تھی اتنی ٹوٹ گئی تھی لیکِن تم پر۔ کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔
یہ ہے تمہارا پیار جسے میں نظر آتی۔۔۔۔
وہ رونا بھول کر غصے سے اُس کے سینے پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی
پیار تو اندھا ہوتا ہے نا بیوی۔۔۔۔۔۔
وہ بیچارگی اور مصومیت کی انتہا لیے بولا کہ پورب نے قہقہہ لگایا
جب کے نین نے اُسے دانت بھینچ کر گھورا تو وہ ہنستے ہنستے اُسے باہوں میں بھنیچ گیا نین نے غصے سے خود کو جھٹک کر چھڑایا۔۔۔
افف میرا سر۔۔۔۔۔پورب یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔تم سے یہ امید نہیں تھی مجھے۔۔۔۔۔
وہ ضبط سے کہتی پورب پر بھی غصّہ کرگئی۔۔۔
ریلیکس۔۔۔ یہ تمہیں سب بتا دیگا ۔۔۔۔بس تم یقین کرلینا پلیز۔۔۔۔
شکل سے بھلے جیسا ہو لیکن آدمی کام کا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا جب کے ساحل نے اُسے ائبرو اُٹھا کر دیکھا۔۔۔
ہاں اور اس شکل کے ساتھ کل اپنی انجو بے بی سے شادی بھی ہے میری۔۔۔
بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے مزے سے بول کر اُس سے بدلہ لیا۔۔۔
پورب نے ایکدم سے سیریس ہو کر مٹھیاں بھنچي جب کے نین نے منہ کھولے صدمے سے اُسے دیکھا ۔۔۔
پورب اُسے مارنے کو اُس کی طرف بڑھتا اُس سے پہلے وہ ہنس کر نین کا ہاتھ تھامے اُسے لے کر باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
♦♦♦♦♦
