Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

Episode 16
سوجاؤ بہت رات ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روما اور نین کے کمرے کے آگے سے گزرتے ہوئے زینب نے رک کر اندر دیکھا تو وہ بیڈ پر جُھکی کچھ لکھنے میں مصروف تھی جب کے روما سو چکی تھی
نین کے دیکھنے پر وہ اُسے تاکید کرتی اپنے کمرے کی جانب چل دی
آپکی چاے۔۔۔۔۔۔۔
وقار صاحب کی جانب اُن کی چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے کہا
تھینک یو۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے کپ سائیڈ میں رکھ کر نظریں دوبارہ لیپٹاپ پر جما دی
میں کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔آپ بھی ہمارے ساتھ چلیے نا ممبئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آکر اپنی جانب بیٹھتی ہوئے بولی
میں کیسے آسکتا ہوں ۔۔۔یہاں اتنے کام ہے۔۔بلکل وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے مصروف سے انداز میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
امی بتا رہی تھی کے بھابھی سب تیاری کرکے بیٹھیں ہے اُن کا ارادہ منگنی کرنے کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر تو ہمیں بھی اس کے حساب سے پہلے سے تیار رہنا ہوگا نا
وہ اُن کی مصروفیت کو نظر انداز کیے پورے اشتیاق سے اُن کی جانب دیکھتے ہوئے بولی وقار صاحب نے زینب کی جانب دیکھتے ہوئے لیپٹاپ بند کیا
دیکھو زینب میں پھر سے کہہ رہا ہوں بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک دفعہ سوچ لو۔۔۔۔۔۔۔نین کے لیے بہت اچھے اچھے خاندان سے رشتے آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
میں تو کہتا ہوں یہ داؤد کا قصہ ختم کرو ۔۔۔۔
اُنہوں نے بیزاری سے کہا زینب حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگی
یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب داؤد اور نین کا رشتا طے ہوا تھا تب تو آپکو کوئی پریشانی نہیں تھی۔۔۔بلکہ آپ تو مجھ سے زیادہ خوش تھے ۔۔۔۔اور اب ایسا کیا ہو گیا ہے جو آپ بار بار اس رشتے پر اعتراض کر رہے ہیں
وہ اب بار بار اُسی بات سے حقیقی معنی میں پریشان ہو چکی تھی۔۔۔
وہ چھ سال پہلے کی بات ہے زینب ۔۔۔۔۔اور ان چھ سالوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت مجھے نین کے لیے وہ رشتا صحیح لگا کیوں کے ہماری پوزیشن تب اچھی نہیں تھی اور شیرازی خاندان کا نام سب سے اوپر تھا۔۔۔۔۔۔لیکن اب جب سوسائٹی میں ہمارا بھی اتنا رتبہ ہے نام ہے اور اس کے لیے بڑے بڑے گھر کے رشتے آرہے ہیں تو ہم اُس پرانی بات کو لے کر کیوں بیٹھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے بھی مجھے لگا تھا داؤد آگے جا کر اپنے باپ کا بزنس سنبھالے گا ۔۔۔۔۔۔لیکن اس نے تو اپنے لیے ایک سرکاری ملازمت کو چنا۔۔۔۔۔ ۔۔جس میں نا نام ہے نا پیسہ ہے تو صرف جان کا خطرہ
,اور اب تم اس کی وجہ سے اپنی بیٹی کا فیوچر خراب کرنا چاہتی ہو۔۔۔
اُن کے لہجے میں داؤد کے لیے ناپسندیدگی اور اپنے دولت اور رتبے کا غرور صاف جھلک رہا تھا
زینب حیران بھی تھی اور مایوس بھی کچھ سال پہلے جب لندن میں ایک اچھی جاب کا آفر ملنے پر اُن کی یہاں آنے کی تیاری چل رہی تھی تب اُن کے بھائی عبّاس شیرازی نے داؤد اور نین کے رشتے کی بات چھیڑی تھی
اس وقت وقار صاحب خوشی کے مارے سو نہیں پائے تھے اور جواب دینے میں ایک پل نہیں لگایا تھا لیکن اب جب لندن میں اُنہوں نے اپنا بزنس جما لیا تھا اچھا خاصا نام کما لیا تھا تو وہی لوگ وہی رشتا اُنہیں معمولی اور فضول لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کے داؤد نے اپنے خاندانی بزنس کو سنبھالنے کے بجائے سی بی آئی جوائن کیا تھا۔۔۔۔۔
حلانکہ اپنی محنت اور قابلیت سے وہ ایک بہت اچھے عہدے پر فائز ہو چکا تھا لیکن وقار صاحب کے نظریے سے وہ تھا تو ایک سرکاری ملازم ہی۔۔۔۔۔
میری مانو تو اب بھی وقت ہے توڑ دیتے ہیں یہ رشتا۔۔۔۔۔۔
زینب کو پرسوچ نظروں سے خود کو تکتا ہوا دیکھ وہ اپنی بات پر زور دے کے بولے ذینب نے سر جھکا لیا
صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ توڑ دیتے ہیں یہ رشتہ۔۔۔۔۔۔
اور پچھلے چھ سالوں سے اپنی بیٹی کی آنکھوں کو جو خواب دکھائے ہے وہ بھی توڑ دیتے ہیں۔۔۔۔
اس کی امیدیں اس کے سپنے اس کا دل سب توڑ دیتے ہیں
کیوں کے دنیا میں دولت ہی تو سب سے بڑھ کر ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے اوپر تو کچھ ہے ہی نہیں۔۔۔۔
زینب نے سر اٹھا کر اُن کے چہرے کی جانب دیکھا
تمہیں کیا لگتا ہے میں اپنی بیٹی سے پیار نہیں کرتا مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔۔۔میں اس کا دشمن ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولے
یہ جو تم جذباتی باتیں کر رہی ہو نا یہ سب صرف نام کی چیزیں ہے زینب۔۔۔۔۔پریکٹیکل لائف میں یہ سب کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹی کو تو تم تب سمجھاؤ گی جب تم خود سمجھو گی۔۔۔۔۔۔۔جو مرضی آئے کرو۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے لیپٹاپ کھول کر زینب سے نظریں ہٹا گئے۔۔۔۔
وہ پہلے خود اس رشتے کی ہامی بھر چکے تھے اسلئے اُسے زبردستی نہیں توڑ سکتے تھے ۔۔۔۔حالانکہ انہیں اپنی جلد بازی پر بہت افسوس تھا۔۔۔۔
رشتوں سے زیادہ اب اُن کے پاس سوسائیٹی میں اپنے نام اور رتبے کی اہمیت تھی۔۔۔۔
جو داؤد کو اپنا داماد بنا کے وہ کم نہیں ہونے دینا چاہتے تھے جو کے ایک سرکاری ملازم تھا۔۔۔۔۔
آپ کو اگر اپنا نام اونچا کرنے سے فرصت ملے تو شاید ان جذباتی باتوں کی اہمیت پتہ چلے۔۔۔۔۔
خیر مجھے بھی کوئی بحث نہیں کرنی ۔۔
ہم کل انڈیا جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور لیٹ کر کروٹ دوسری جانب کرلی
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ہم کل انڈیا جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے گھر اپنے وطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر لیٹی روز کی طرح ڈائری لکھ رہی تھی لیکن آج چہرے پر روز سے کچھ الگ مسکان تھی۔
آنکھوں میں انجانی سی خوشی تھی۔۔۔۔۔
اس کا اور روما کا ایک ہی روم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن بیڈ الگ الگ تھے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سائیڈ والی دیوار پر فلموں اور اداکاروں کے بڑے بڑے پوسٹر تو کہیں فیملی فوٹوز لگی تھی
بیڈ پر سرہانے کی جانب سلور تاروں کی شیپ والے ہنگینگز لٹک رہے تھے
ڈارک بلیو سلک کے نائٹ ڈریس میں وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹی ڈائری پر پین چلا رہی تھی
چھ سال سے لندن میں رہتے رہتے اس جگہ سے کافی لگاؤ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔یہاں کی لائف سٹائل یہاں کی وقت کے ساتھ دوڑتی زندگی جیسے عادت بن گئی ہے
لیکن اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو میں جو بات ہے وہ دنیا کے کسی کونے میں نہیں
لکھتے ہوئے تاثرات ایسے تھے جیسے سامنے کسی سے بات کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کر رہی ہو۔۔
مجھ سے تو بلکل صبر نہیں ہو رہا
جانے کب یہ بچے ہوئے چند گھنٹے ختم ہونگے
کب میں وہاں پہنچ پاؤں گی
اور کب سب سے ملوں گی۔۔۔
وہ پین ڈائری سے ہٹائے سامنے دیکھتے ہوئے بولی
نانو۔۔۔بڑے ماما۔۔۔۔۔بڑی مامی۔۔۔۔۔۔چھوٹی مامی۔۔۔راہب بھائی۔۔۔۔زارب بھائی۔۔۔۔۔عشرت بھابھی۔۔۔۔۔شیریں بھابھی۔۔۔۔۔۔۔جیا۔۔۔۔۔
میرے دونوں چھوٹے چوزے۔۔۔۔شانو ۔۔۔خوشی۔۔۔
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پرجوش انداز میں سب کے نام لیتی اچانک رکی
داؤد۔۔۔۔۔۔۔
بہت آہستہ سے اس کا نام دوہرایا
حالانکہ وہ شرمانے والی لڑکیوں میں سے بلکل نہیں تھی ۔۔۔بلکہ بڑی بے باکی سے سب کے سامنے داؤد اور اپنی آنے والی زندگی کو لے کر باتیں کرتی تھی۔۔۔
لیکن اس وقت اس کے چہرے پر بکھرے حیا کے رنگ بے حد دلفریب تھے۔۔۔۔۔۔
اُن لوگوں کے لندن آنے سے پہلے گھر والوں نے داؤد اور اس کا رشتا طے کر دیا تھا۔۔۔۔اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی۔۔۔کچی عمر میں ہی اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئ تھی کے اس کا مستقبل داؤد کے ساتھ ہے
اور اس دن سے ہی داؤد اس کی زندگی کا حصہ بن گیا تھا
وقت گزرنے کے ساتھ نا اس نے سمجھنا بلکہ اس بات کو اہمیت دینا بھی سیکھ لیا۔۔۔۔۔
لندن کے آزاد خیال ماحول اور گھر سے ملی مکمل چھوٹ نے بھی کبھی اُسے بھٹکنے نہیں دیا۔۔۔۔۔۔
کالج لائف میں کئی لڑکوں نے اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اس کی جانب قدم بڑھانے کی کوشش کی لیکن اس نے خود کو انگیج بتا کے ہمیشہ ہی اُن کا پتہ کاٹ دیا۔۔۔۔۔۔
اتنے عرصے میں اس کا داؤد سے کوئی خاص کانٹیکٹ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس گھر کے باقی لوگوں سے بات کرتی تو کبھی کبھی اُس سے بھی سلام دعا اور چند بے تکی باتیں کر لیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا اس نے کبھی داؤد سے منگیتر کی حیثیت سے کوئی بات کی نا کبھی داؤد نے اپنی جانب سے ایسی کوئی پہل کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اب جب وہ لوگ اتنے وقت بعد واپس وہاں جا رہے تھے تو وہ بہت غور سے اُن سب کے اور خاص کے داؤد کے متعلق سوچ رہی تھی
پتہ نہیں وہ اب بھی ویسا ہی ہوگا یا بدل گیا ہوگا۔۔
پہلے کیسے میرے بات کرنے پر مجھے غصے سے گھورتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر وقت چہرے پر تیرہ بج رہے ہوتے تھے
اور کھانے میں کیا پسند تھا۔۔۔بینگن۔۔۔۔
ای ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پین ٹھوڑی پر رکھے سوچنے لگی۔۔۔۔۔
اور پھر برا سہ منہ بنایا
وہ دونوں بلکل مخالف مذاج کے تھے۔۔۔۔
داؤد جتنا سنجیدہ اور کم گو تھا نین اتنی ہی باتونی اور شرارتی۔۔۔۔۔۔
اور زینب کو اس کی حرکتیں دیکھ کر اور زیادہ ٹینشن ہوتی تھی کے جانے وہ داؤد کے مزاج میں کبھی ڈھل بھی پائیگی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ربن میں بندھے بالوں کی چند لٹیں چہرے پر آکر اُسے تنگ کرنے لگی تو انہیں کانوں کے پیچھے کرتی وہ دوبارہ ڈائری پر کچھ لکھنے لگی اور پھر لبوں پر پیاری سی مسکان سجائے ڈائری بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور سر تکیے پر رکھا
میری زندگی کا اگلا چیپٹر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
داؤد۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ کے سرہانے لٹکتے سلور ستاروں کو دیکھتے ہوئے ہلکی سے سرگوشی کی اور آنکھیں موند لیں
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
اپنا کام مکمل کرتے کرتے اُسے کافی رات ہو گئی تھی لیکن وہ صبح کا اِنتظار کرنے کی بجائے رات کو ہی گھر کے لیے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔پہلے ہی وہ اپنی مام کو ناراض کر چکا تھا اب اور زیادہ نہیں کرنا چاہتا تھا,۔۔۔۔۔۔
گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے ایکدم ہی اس کا خیال ہاسپٹل کی طرف گیا تو اس نے گاڑی کا رخ موڑ دیا۔۔۔۔۔
اس لڑکی کے بارے میں تفتیش کا حکمِ دینے کے باوجود وہاں کے افسروں نے لاپرواہی دکھائی تھی اس وجہ سے اس نے خود ہی چند پہچان کے لوگوں کو اس کام پر لگا دیا تھا لیکِن اس کے باوجود بھی اس لڑکی سے ملتا کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا
اس نے ہاسپٹل میں قدم رکھا تو وہ سنسان پڑا تھا اس کے قدموں کی آواز صاف طور پر سنائی دے رہی تھی
وہ بند دروازے کے دھند لے شیشے سے اندر پڑے اس کے نیم مردہ وجود کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔جس میں اتنے گھنٹوں بعد بھی کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی ۔۔
ہاتھ میں ڈرپ اور چہرے پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا
پاس ہی ایک نرس بیٹھی ہوئی تھی جو وقفے وقفے سے جھپکی لیتی نیند روکنے کی کوشش کر رہی تھی
اس لڑکی کے بدن پر اب ہاسپٹل کے آسمانی کپڑے تھے اور اس کا سُرخ جوڑا ایک طرف ٹیبل پر پڑا تھا۔۔۔۔,
کیا وہ اپنی شادی سے بھاگ کر آئی تھی ۔۔۔۔یا کِسی نے خود اُسے پانی میں مرنے کے لئے پھینک دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
داود کے زہن میں سیکڑوں خیال گردش کر رہے تھے
وہ سر جھٹک کر آگے بڑھا ڈاکٹر کے کیبن کی طرف۔۔۔۔۔۔جو کے خالی تھا۔۔۔۔
ظاہر سی بات تھی کے اس وقت ڈاکٹر کا ملنا نا ممکن تھا۔۔۔۔۔۔
آپ کہیں تو ڈاکٹر صاحب کو بلوا لوں۔۔
وہاں موجود کمپاونڈر نے پوچھا
۔اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔فون پر بات کرواؤ میری اُن سے
وہ آہستہ سے نفی کرتے ہوئے بولا
جی ۔۔۔۔۔۔۔۔
کمپاونڈر نے ٹیلیفون سے ڈاکٹر کا نمبر ملایا اور اُسے داؤد کے بارے میں بتا کر فون اُسے تھمایا
دیکھیے سر میں انسپیکٹر صاحب کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کے اس لڑکی کا ٹریٹمنٹ یہاں نہیں کیا جا سکتا۔۔
اُس کی کنڈشن بہت نازک ہے ہارٹ ٹھیک سے رسپانس نہیں کر رہا ہے۔۔۔۔
اُسے ایک ہارٹ اسپیشلسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔جدید ایکویپمنٹ کی ضرورت ہے جو ہمارے ہاسپٹل میں موجود نہیں ہے
ڈاکٹر نے اس کے پوچھنے پر عاجزی سے جواب دیا داؤد کی پیشانی پر بل پڑے اس بات کی اُسے کوئی خبر نہیں دی گئی تھی
آپ اچھے سے جانتے ہیں کے اس شہرِ کے اسپتالوں میں فسلیٹیز کی بہت کمی ہے اس لیے میں نے کہا تھا کہ اُسے کِسی بڑے ہاسپٹل میں شفٹ کرنا بہت ضروری ہے
لیکِن انسپکٹر نے صاف منع کردیا یہ کہہ کر کے جب تک اس کے گھر والوں کے بارے میں پتہ نہیں لگ جاتا وہ لوگ کوئی ایکشن نہیں لے سکتے ۔۔۔اور ٹریٹمنٹ جس طرح چل رہا ہے چلنے دیا جائے
میں اپنی طرف سے جو کر سکتا ہوں کر رہا ہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کے کوئی فائدہ ہوگا
ڈاکٹر کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ پولیس کی لاپرواہی پر وہ بہت غصّہ میں ہے جب کے اس کے الفاظ سن کر داؤد بھی بمشکل ضبط کر رہا تھا۔۔۔
حلانکہ وہ بہت نرم مزاج تھا۔۔۔غصّے کو قابو میں رکھنا جانتا تھا لیکِن اس وقت اُن لاپرواہ آفیسروں کو جان سے مار دینے کا سوچ رہا تھا
ڈاکٹر کی بات سے وہ سو فی صد متفق تھا یہ ایک بہت چھوٹے سے شہر کا معمولی سا اسپتال تھا یہاں نا زیادہ تجربے کار ڈاکٹر تھے نا جدید علاج کے لیے فسیلیٹیز۔۔۔۔
آپ اس لڑکی کو کل صبح ممبئی ایمز میں شفٹ کرنے کا انتظام کیجئے۔۔۔۔۔۔فورمیلیٹیز میں پوری کر لوں گا
اب اس کا ٹریٹمنٹ وہیں ہوگا۔۔
وہ ضبط سے بولا اور فون کریڈل پر چھوڑ دیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ لوگ اس وقت ہوائی جہاز میں بیٹھے تھے
واپس انڈیا جانے کی اور سب سے ملنے کی خوشی ہی بے حد نرالی تھی۔۔۔۔۔لیکِن اس وقت وہ بہت غصے میں تھی
اس کی سیٹ بدل گئی تھی
روما اور زینب ایک ساتھ جب کے وہ اُن سے چار سیٹ پیچھے اکیلی تھی۔۔۔۔بکنگ روما نے کی تھی اس لیے اس گڑبڑ کا الزام اس کے سر پر آیا تھا اور وہ کافی سنا چُکی تھی اُسے لیکِن پھر بھی بھری بیٹھی تھی
اوپر سے ساتھ جو آدمی آکر بیٹھا تھا وہ جیسے اپنا منہ ساتھ لانا بھول گیا تھا کے اس کی ہائے ہیلو کا جواب تک نہیں دے رہا تھا
اور نین کا چپ رہنا ناممکن سے بھی زیادہ تھا
ویسے تو یوں ہی بہت بولتی تھی لیکن جب بھوک لگی ہو تو بات حد سے نکل جاتی تھی
او بھائی صاحب آپ سے بات کر رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔
نین نے اپنی بے عزتی پر اس کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلایا اس نے چونک کر اُسے دیکھا اور کان سے بلوٹوتھ نکال کر لیپٹاپ بند کر دیا
یس ۔۔۔۔آپ نے ہم سے کچھ کہا
اس نے سنجیدگی سے پوچھا اس کے ہم کہنے پر نین نے اس کے آس پاس نظر ڈالی
آپ کو کیا لگتا ہے میں خود سے باتیں کر رہی ہوں
یا آپ کے اس لیپٹاپ سے میری کوئی پرانی جان پہچان نکل آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔آپ ساتھ بیٹھے ہیں تو آپ سے ہی بات کروں گی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے اندر کا غصّہ نکلنے کو بیتاب تھا
دونوں کے درمیان میں ایک سیٹ خالی تھی نین کھِڑکی کی جانب اور وہ دوسری طرف بیٹھا تھا
ہمارا دھیان نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔کیا کہہ رہی تھی آپ
وہ بہت نرمی سے بات کررہا تھا۔۔۔
ہمارا ۔۔۔۔مطلب آپ کے ساتھ اور کس کس کا دھیان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے بلا وجہ ہی اُسے شرمندہ کیا
I m talking about my self۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ضبط سے بول رہا تھا اول تو کسی سے فضول باتیں کرنا پسند نہیں تھا اوپر سے لڑکی کو صفائی دینی پڑ رہی تھی
تو ایسا کہیے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے سر جھٹکا وہ دوبارہ لیپٹاپ کھول رہا تھا لیکن نین کے بات کرنے پر رک گیا
بات دراصل یہ ہے کہ ویسے تو میں زیادہ باتیں نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن سفر کے دوران مجھے خاموش رہنا بلکل پسند نہیں۔۔۔۔۔۔
اب قسمت کہہ لیں یا چند لوگوں کی کامچوری جنہوں نے میری سیٹ میری فیملی سے الگ کر دی۔۔۔۔۔۔
اب میں یہاں اکیلی اپنے آپ سے باتیں کروں گی تو کچھ خاص مزا نہیں آئیگا
اس لیے میں نے سوچا کیوں نہ آپ سے باتیں کرلوں
اس طرح سے آپ کو بھی کمپنی مل جائے گی
ویسے آپکا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نان اسٹاپ بولتی گئی اور بات ختم ہوتے ہی سوال بھی کر دیا ويرانش اس کے زیادہ باتیں نہیں کرتی والے جملے پر اُلجھ سا گیا
ویرانش سنگھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر اب بیزاری تھی پیشانی پر بل پڑ رہے تھے لیپٹاپ کھولے اس میں دھیان لگانا چاہا لیکن نا ممکن
اور میرا نام ہے۔۔۔۔۔۔نین۔۔۔۔۔
یوں تو میرا نام نین تارا زینب وقار خان ہے لیکِن اتنا لمبا نام بتا کر کیوں بے چارے سامنے والے کے دماغ کو تکلیف دینا۔۔۔۔۔اس لیے میں تو شورٹ میں ہی نپٹا لیٹی ہوں۔۔۔۔
وہ با قاعدہ ہاتھ سے اشارہ کر رہی تھی
خود کو شاباشی بھی دے رہی تھی
اچھا آپکو پتا ہے آپ کے نام سے اگر آخری کا ایس اور ایچ ہٹا دیا جائے تو کیا ہو جائے گا
وہ آنکھوں میں چمک لیے اس کی جانب دیکھنے لگی ویرانش نے ماتھے پر بل ڈالے اُسے دیکھا
ویر ا اان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنسی روکے بولی
برا مت مانیے گا لیکِن یہ آپ پر تھوڑا بہت سوٹ بھی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نا اس کی بیزاری نوٹس کر پائی نا اس كا ضبط
بہت دلچسپ انداز میں اُسے اطلاع دی
ویسے آپ جا کہاں رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اُسے اشتیاق سے دیکھنے لگی اس نے لیپٹاپ کو ذرا زور سے بند کیا
انڈیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنا دیکھے جواب دیا اب حقیقت میں غصّہ آرہا تھا
اوہ مائے گاڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو کمال ہو گیا ۔۔۔۔۔آپ بھی انڈیا جا رہے ہیں۔۔۔میں بھی انڈیا جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔اس بات پر تالی ہو جائے
وہ تو جیسے اچھل پڑی ہاتھ اس سے تالی لینے کے لئے اٹھایا لیکِن وہ بس اس کے ہاتھ کو دیکھ کر رہ گیا
بھلا اس میں کمال کی کیا بات تھی ایئر انڈیا کی لائن میں وہ اکیلا نہیں بلکہ بہت سارے انڈیا ہی جا رہے تھے
ہمیں کچھ ضروری کام کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایکسکوز می
کوفت زدہ لہجے میں بولا اور لیپٹاپ کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔
اب کی دفعہ نین نے آنکھیں سکیڑے اُسے دیکھا اور منہ بناتی رخ کھِڑکی کی جانب کر گئی
ویرانش کو تسلی ہوئی کے کم سے کم خاموشی نصیب ہوئی لیکِن بس ایک منٹ تک
نین کی نظر اس کے جوتوں پر پڑی
آپ نے یہ جوتے کہاں سے خریدے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پر سوچ انداز میں اس کے جوتوں کو دیکھنے لگی
ویرانش نے آنکھیں ضبط سے بند کرکے کھولیں
وہ کیا ہے نا میں کب سے سوچ رہی ہوں کے اپنے کزن کو کیا گفٹ دوں پر مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا ۔۔
لیکِن اب آپکے جوتے دیکھ کر سوچ رہی ہوں کیوں نہ میں بھی اُسے ایسے ہی جوتے گفٹ کر دوں
آپ کا کیا خیال ہے پسند آئے گے اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھتی پوری پلاننگ اُسے سنا گئی۔جب کے وہ اُسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا
ہم نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔آپ ہمیں ہمارا کام کرنے دیں گی پلیز
وہ جھنجھلا کر بولا نین کی آنکھیں حیرت سے پھٹی
تو میں نے کونسا آپ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے پلّو سے باندھ دیے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے تو بس ایک سیدھا سادہ سا سوال کیا تھا آپ جواب دیتے بات ختم
آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کے بحث مباحثے مجھے بھی پسند نہیں۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی میں اجنبیوں سے زیادہ فری نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے جتاتی ہوئی آخری لائن دھیرے سے بولی جب کے وہ سن چکا تھا اور کافی صدمے میں تھا
دانت پر دانت جمائے بہت تیزی سے کی بورڈ پر اُنگلیاں چلا رہا تھا
گن کر تین منٹ خاموشی رہی پھر نین کو گانے کا شوق چڑھا
آج میں اوپر آسمان نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میں آگے زمانہ ہے پیچھے ۔۔۔۔۔۔۔
کھڑکی کے باہر دیکھتی گنگنانے لگی اور اس کی آواز بہت بے سری تھی یہ وہ خود بھی جانتی تھی
جب چہرہ موڑا تو وہ اُسے گھور رہا تھا وہ کیا اگلے اور پچھلی سیٹ کے دو چار لوگ بھی اٹھ کر اُسے گھور رہے تھے
کیا ہے آپ لوگوں کو ۔۔۔۔۔۔۔لائیو کونسرٹ چل رہا ہے کیا یہاں۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں طرف دیکھتی غصے سے بولی توسب اپنی جگہ واپس ہوئے جب کے ورانش اب بھی اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔شائد ایسی لڑکی آج پہلی دفعہ دیکھی تھی۔
کوئی سٹار دیکھا نہیں کے لوگ پاگلوں کی طرح جھپٹ جاتے ہیں
وہ خود سے بڑبڑاتی اُن سب کے دیکھنے کی وجہ اپنی مرضی سے اخذ کر چکی تھی۔۔۔
ایسے کیا گھور رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوبارہ گانے کی تیاری کی لیکِن دھیان جب ویرنش کی طرف گیا تو ماتھے پہ بل ڈالے بولی
۔۔۔۔ہم ڈسٹرب ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے بولا سیدھے کہہ نہیں پایا کے میرے کانوں پر رحم کرو
تو اس میں میں آپکی کیا مدد کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے حد اطمینان سے بولی ویرانش نے نظر یں پھیریں
آپ اپنی باتیں بند کریں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے دیکھتا غصے سے بولا
ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں بند کروں۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا اپنا منہ ہے ۔۔۔اگر آپکے کانوں کو تکلیف ہے تو آپ اپنے کان بند کر لیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اپنا منہ بند نہیں کرنے والی۔۔۔۔۔بولنا میرا پیدائشی حق ہے
وہ تو گویا بھڑک اٹھی
سارے حقوق اس طرح لوگوں کو زچ کرکے ہی وصول کریگی آپ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بگڑ کے بولا نین کو اندازہ نہیں تھا کے وہ کون ہے۔۔
لوگ اُس سے دشمنی تو کیا دوستی سے بھی ڈرتے تھے
اس کے سامنے کچھ کہنا تو دور کھڑے ہونے کی ہمت نہیں تھی کسی میں اور یہ لڑکی اس کے کان کھا رہی تھی
۔۔میں نے اور وہ بھی آپکو زچ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شدید حیرت میں بولی
۔۔یہ تو میرے لیے بلکل نئی اطلاع ہے۔۔۔۔الٹا آپ مجھے زچ کیے جا رہے ہیں کب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو میری شرافت ہے جو آپ کو برداشت کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔وہ بھی صرف اسلئے کیوں کے آپ میرے وطن کے ہے۔۔۔۔
اگر کسی گورے نے بدتمیزی کی ہوتی نا تو اتنا سناتی اتنا سناتی اُسے کے کانوں سے خون نکل آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی دوبدو پورے لڑاکا انداز میں بولی
اس سے پہلے کے اس کے کانوں سے بھی خون نکل آئے اس نے نین سے جان چھڑانی چاہی
بیل بجا کر ایئر ہوسٹس کو طلب کیا اور اپنی سیٹ چینج کرنے کی اطلاع دی
نین تو منہ کھولے اُسے دیکھ کر رہ گئی
چند منٹ میں ہی اُسے دوسری سیٹ مل چکی تھی وہاں بیٹھتے ہی اس نے سکون کی سانس لی
جب کے نین اب بھی وہی بیٹھی تھی
دیکھا دی آپ یونہی پریشان ہو رہی تھی میں نے کہا تھا نا سیٹ مل جائے گی ساتھ ہمیں
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ آکر زینب اور روما کے ساتھ بیٹھ پائی تب روما مسکرا کر بولی جب کے زینب آنکھیں بند کئے بیٹھی تھیں
اور یہ ایک گھنٹہ جو ویسٹ ہوا اس کا کیا ۔۔۔۔۔
تمہیں اندازا ہے کتنا قیمتی ہوتا ہے ایک گھنٹہ
ایک گھنٹے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نینو دی۔۔۔۔۔۔۔
وہ شروع ہونے والی تھی لیکِن روما نے اُسے بریک لگایا
پلیز مجھے اس گھنٹے کی ویلیو نہیں جاننی۔۔۔۔۔
آپ بس انجوئے كرو
وہ جانتی تھی اس کا لیکچر بہت بڑا ہوتا ہے جبھی جلدی سے بولی نین اُسے گھور کر رہ گئی
کیا خاک انجوئے کروں۔۔۔۔۔
ایک تو وہاں کڑوے کریلے جیسی شکل دیکھ کر آئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر اس آدمی کی باتیں ۔۔۔۔
خود کو نواب سراج الدولہ سمجھ رہا تھا۔۔۔۔ہم ڈسٹرب ہو رہے ہیں
وہ۔ اسکی نقل اُتارنے لگی روما ہنس دی
جب کے اتفاق سے وہ بلکل اس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا اس کی باتوں پر غصّہ ضبط کر رہا تھا
ایک تو سمجھ نہیں آتا یہ لوگ سیدھے سیدھے بات کرنے کی بجائے نوابی شان کیوں جھاڑنے لگتے ہیں
مطلب انسان صاف بول سکتا ہے کے میں جا رہا ہوں
لیکِن نہیں جی انہیں تو ہم لگا کے دوسروں کے معصوم دماغوں پر ستم ڈھانے ہیں بس۔۔۔۔۔۔
سامنے والا بیچارہ تو یہیں سوچے گا نہ کے ہم کہہ رہا ہے تو ضرور اس کے کنبے کو ساتھ لے رہا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے حد جنجھلائی ہوئی تھی
نینو دی یہ لو۔۔۔۔۔۔ تمہیں سخت بھوک لگی ہے یہ کھا لو اور آرام کرو۔۔۔۔۔۔مٹی ڈالو اس آدمی پر۔۔۔۔۔۔۔
پیپر میں ریپ کیا ہوا رول اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے ہنس کے بولی
میں تو مٹی ڈالنے کے لئے بھی شکل نا دیکھوں اس کی
نین نے نوالہ اس طرح توڑا جیسے اس کی گردن ہو
ہم تو مرے جا رہے ہیں جیسے انہیں دیکھنے۔۔۔
وہ بھی آہستہ سے بڑبڑایا اور کانوں میں ہینڈ فری لگا کر میوزک آن کر لیا
نین بھی اس اجنبی کو بھولے روما کے ساتھ باتوں میں لگ گئی
لیکِن اکثر کبھی کبھی اجنبی ہماری کہانی کا کبھی نہ بھول پانے والا حصہ بن جاتے ہیں
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆