Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 93

پورب کے ساتھ ریا کے گھر پہنچ کے پہلے وہ اُس کے پاپا سے ملی اور پھر سیدھے ریا کے کمرے میں پہنچی تاکے ایکدم سے اُس کے سامنے آکر اُسے حیران کردے۔۔۔۔۔۔
ریا اپنے کمرے میں کِسی سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھی و دھیرے سے آگے بڑھ کر اُس کے نزدیک آئی اور اُس کے کان کے قریب اتنی زور سے چینخی کے ریا کے ساتھ فون پر دوسری جانب موجود انسان بھی یقیناً ہل گیا ہوگا۔۔۔
آگئی تم۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے ریا سنبھل کر لاپرواہی سے بولی تو اُس کا اتنا ٹھنڈا ری ایکشن دیکھ نین کا منہ کھل گیا
یہ کیا ۔۔۔۔۔میں سوچ رہی تھی کے تم مجھے اچانک اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے کود۔ پڑو گی۔۔۔۔۔۔اور تمہارا اتنا نارمل ریکشن۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی پلاننگ ضایع ہونے پر حیرت و غصے سے اُسے گھورتے ہوئے بولی
کیوں کے مجھے پتہ تھا تم ضرور آوگی بلکہ تم میری سوچ سے تھوڑی لیٹ ہو گئی۔۔۔۔
ریا نے بے نیازی سے آنکھیں گھما کر کہا تو نین نے دانت پیسے
۔۔۔۔اور رہی بات خوشی کی تو اُس کا تو تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی۔۔۔اگر تم نہیں آتی نا تو میں زندگی بھر بات نہیں کرتی تم سے۔۔۔۔۔۔
ریا نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی ہنس کر اُس کے گلے لگ گئی۔۔۔
لیکِن اب تو میں آگئی ہوں نہ ۔۔۔۔۔دیکھنا تمہاری شادی دوگنی مزیدار ہونے والی ہے۔۔۔۔۔بہُت مستی کریں گے ہم۔۔۔۔۔۔
میرے لیے تو تمہارا ساتھ ہونا ہی بہُت بڑی بات ہے۔۔۔لیکن تم ٹھیک ہو نا نین۔۔۔۔میرے لیے خوش نظر آکر اپنے ساتھ زبردستی تو نہیں کر رہی نا۔۔۔۔
ریا نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تو نین نے اُسے آنکھیں دکھائی۔۔
میں خوش ہوں ریا۔۔۔۔۔ہاں وہ میرے لیے معنی رکھتا ہے لیکن اُس کے آگے تم بے معنی نہیں ہوجاتی۔۔۔۔ہماری دوستی کی کیا اہمیت ہے یہ مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔
اور ہاں اب تم بلکل نہیں سوچو گی کے میں پریشان ہوں یا دکھی ہوں ۔۔۔
اُس نے وارن کرنے والے لہجے میں کہا تو ریا مسکرائی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے نہیں سوچتی ۔۔۔چلو تم تھک گئی ہوں گی روم میں چل کر آرام کرلو۔۔میں نے خود روم سیٹ کیا ہے تمہارے لیے۔۔۔
اُس کے وارن کرنے پر ریا نے بات ختم کرتے ہوئے کہا
نہیں یار ۔۔ پہلے مجھے موبائل لینا ہے۔۔۔میں اپنا فون گھر بھول آئی ہوں۔۔اس لیے اب تک گھر پر کال بھی نہیں کی نانو پریشان ہو رہی ہوں گی۔۔
وہ یاد آتے ہی منہ بنا کر بولی
نانو کو میرے فون پر بتادو۔۔۔تمہارے لیے ہم کل فون خرید لیں گے۔ ۔۔۔۔ابھی تم تھک گئی ہو ریسٹ کرو۔۔۔۔۔
ریا نے اپنا فون اُس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا تو نین نے بھی کندھے اچکا کر اُس کی بات مان لی۔
♦ ♦♦♦♦
یہ کام پورا ہوجانا چاہیے وقت پر۔۔۔۔۔میں اگلے کچھ دن شادی میں بزی رہوں گا۔۔۔تم سب ہینڈل کرلینا۔۔۔
وہ اپنے اسسٹنٹ سے کسی اہم کام کے متعلق بات کر رہا تھا جب دروازہ کھلا۔۔
بنا ناک کیے کِسی کو آنے کے اجازت تو نہیں تھی لیکن وہ انجو تھی جو پورب کے معاملے میں اس طرح کی فرمیلیٹی کو اہمیت نہیں دیتی تھی۔۔
اُسے دیکھ کر وہ بولتے بولتے رکا اور اپنے اسسٹنٹ کو جانے کا اشارہ کرکے خود بھی اپنی کرسی پر بیٹھنے لگا لیکن انجو نے اُس کا بازو پکڑ کے اُسے روکا۔۔۔
تم نے میرا فون کیوں نہیں اٹھایا رات کو۔۔۔۔۔
وہ اُسے روک کر غصے سے گھورتی ہوئی پوچھنی لگی۔۔۔
مجھے معلوم نہیں ہوا۔۔۔شاید فون سائلینٹ پر ہوگا۔۔۔۔۔
اُس نے لاپرواہی سے جواب دے کر اُس کا ہاتھ بازو سے ہٹایا اور ٹیبل پر رکھے پیپرز اٹھا کر ایک جگہ جمع کرنے لگا۔۔۔۔ اُس کی اس قدر بے نیازی انجو کو بری طرح چبھی۔۔۔۔
حد ہے پورب۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔تم ایسے تو نہیں تھے۔۔۔۔
ایسی کونسی مصروفیت ہے جس کے چلتے نا تمہارے پاس مجھ سے ملنے کا وقت ہے نہ میرا فون اٹینڈ کرنے کا۔۔۔۔
پہلے تو مجھے لگا کے شاید تم ریا کی شادی کے اریجمنٹس میں بزی ہو۔۔۔اپنی بہن کے ساتھ تھوڑا ٹائم اسپنڈ کرنا چاہتے ہو۔۔لیکن نہیں۔۔۔۔۔۔وہاں تو تم ہو ہی نہیں کیوں کے ریا تو خود پورا ٹائم میرے ساتھ ہوتی ہے۔۔۔۔۔اُسے خود تم سے شکائت ہے کے تم کام کے چکروں میں آدھی آدھی رات تک باہر ہوتے ہو۔۔۔
آخر چل کیا رہا ہے تمہاری لائف ہے۔۔
وہ اُس کے بدلے رویے کو بار بار محسوس کرکے بھی نظر انداز کرتی رہی تھی لیکن آج ساری بھڑاس نکال دی کیوں کے اُس سے پورب کی یہ بے رخی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔
سالوں سے وہ جس رویے کی عادی تھی وہ اب پورب میں ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملتا تھا
ڈیڈ کو آفس آنے سے منع کردیا اسلئے بزنس اب مجھے اکیلے سنبھالنا ہے۔۔۔
پورب نے اُس کے غصے بھرے انداز پر سنجیدگی سے کہا۔۔۔
بزنس تو تم پہلے بھی اکیلے سنبھالتےتھے پہلے بھی بزی ہوتے تھے لیکن تب بھی تم نے مجھے یا اپنی فیملی کو کبھی اگنور نہیں کیا۔۔۔۔۔۔
پہلے کبھی اتنے روڈ نہیں ہوتے تھے تم۔۔۔۔اب کیا ہو گیا پورب۔۔
وہ اُس کے پرسکون انداز پر دکھ اور اُداسی سے بولی تو پورب نے پر سوز نظروں سے اُسے دیکھا
اب تمہاری لائف میں دکش آگیا ہے نہ۔۔۔۔
وہ بے تاثر لہجے میں بولا لیکن آنکھیں سرد تھی انجو نے چونک کر اُسے دیکھا
تمہیں یہ سارے سوال جا کر اُس سے کرنے چاہیے۔۔۔اُس کا وقت تمہارے لیے میٹر کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔میں کیا کرتا ہوں کیا نہیں اُس سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔
وہ فوراً خود کو سنبھال کر نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے بولا
دکش کا یہاں کیا ذکر۔۔۔۔کِسی کے بھی میری لائف میں آنے سے تمہاری ویلیو کیوں کم ہوجائے گی۔۔۔۔۔چاہے میری لائف کتنی بھی بدل جاۓ لیکن تم میرے لیے کیسے بدل سکتے ہو۔۔۔۔
وہ حیرت سے پوچھنے لگی لیکن پورب نے کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا بس آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔
مجھے تم سے فرق پڑتا ہے اور ہمیشہ پڑتا رہےگا۔۔۔
آئندہ تم نے میرا فون نہیں اٹھایا نا تو دیکھنا میں کیا کرتی ہوں۔۔۔بہُت برداشت کرلیا اب تمہارا اٹیٹیود نکال کر پھینک دو تم ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔تم آئندہ مجھے پہلے جیسے میرے پورب نظر آؤگے سمجھے۔۔۔۔۔
چلو اب ۔۔ میرے ساتھ شاپنگ کے لیے چلو۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ایک بات اُسے جتاتے ہوئے بولی اور اُسے وارن کرکے اُس کا ہاتھ پکڑا تو پورب نے اتنی ہی تیزی سے اپنا ہاتھ جھٹکا
Please anju۔۔۔۔۔
نہایت بیزاری سے کہا لیکن انجو نے پرواہ نہیں کے۔۔۔
کوئی بہانا نہیں میں نے کہا نا تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے مطلب چلنا ہے۔۔۔۔
وہ زبردستی اُس کا بازو پکڑ کے اُسے گھورتے ہوئے بولی تو پورب نے نہایت سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔
اُسے حقدار بنا کر مجھ پر حق جتا رہی ہو۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال چبھتے انداز میں کہا تو انجو کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔۔۔۔۔دل کی رفتار کچھ سست ہوئی۔۔
کیا ہو رہا ہے پورب۔۔۔۔۔تمہیں دکش کو لے کر کیا پرابلم ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں کو پڑھنے کی کوششں کرتے ہوئے حیرت سے پوچھنے لگی ۔
تُم پلیز یہاں سے جاؤ مجھے بہت کام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں پھیر کے اُس سے دور ہوتا سرد مہری سے کہہ کر اُس سے پہلے خود کیبن کے باہر نکل گیا۔۔
انجو کی آنکھوں میں نمی سی بھر گئی۔۔۔۔۔جانے کیا وجہ تھی کے وہ پورب کی یہ لا تعلقی سہہ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
بچپن سے اُسے جانتی تھی اور کئی سالوں سے اُس سے اتنی گہری دوستی تھی کے اب اُس کا روکھا رویہ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔
♦♦♦♦♦♦
ریا کے ساتھ وہ دہلی کے سب سے بڑے شاپنگ سینٹر میں موجود تھی۔۔۔جہاں برانڈڈ کپڑوں اور سامان کی الگ الگ کئیں شاپس تھی۔۔۔
مال نہیں پورا کا پورا شہر تھا۔۔۔۔جس کے لحاظ سے لوگوں کا ہجوم بھی کافی تھا
سب سے پہلے نین نے اپنے لیے ایک فون خریدا اُس کے بعد دونوں شادی کے لحاظ سے اپنے لیے کپڑے اور جولیری پسند کرنے کے لیے ڈھیروں شاپس کے چکر لگاتے رہے۔۔۔۔دو پہر سے شام کب ہو گئی پتہ نہیں چلا۔۔۔
نین تو تب بھی پورے جوش میں شاپنگ کرنے میں لگی رہی لیکن ریا کا تھک کر برا حال تھا اور وہ اُس سے گھر چلنے کی منتیں کر رہی تھی۔۔
جویلری پسند کرنے میں بھی اُس نے گھنٹوں لگائے اور جب ریا کی بھاگ جانے کی دھمکی پر منہ بنا کر شاپ سے باہر نکلی تو اپنی جلدبازی کی وجہ سے سامنے سے آتے کپل سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ۔۔۔۔منہ کھول کر کچھ کہنے لگی تھی کے سامنے والے کے چہرے پر نظر پڑتے ہی دل رک گیا۔۔۔۔
لب کھلے کے کھلے رہ گئے۔۔۔۔
سانسیں ٹہر گئی۔۔۔
پانچ مہینوں سے جس پل کے انتظار میں دل نے ڈھیروں دعائیں کی تھی وہ پل عجیب کیفیت لے کر آیا تھا کے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی یقین کرے یا نہ کرے۔۔۔۔
ریا اندر ہی بل پیمنٹ کرنے کے لیے رکی ہوئی تھی۔۔۔اور وہ انجو اور دکش کے سامنے کھڑی بے یقینی سے دکش کے چہرے کو دیکھ رہی تھی
پہلے کے مقابلے بال کافی چھوٹے تھے کلر کیے ہوۓ تھے ۔۔سلیقے سے سنوارے ہوئے تھے۔۔۔
آنکھیں براؤن نہیں ڈارک بلیو تھی۔۔
چہرے پر بئیرڈ نہیں تھی۔۔۔۔
گلے پر ٹیٹو تھا لیکن پہلے کی طرح چین یا لاکٹس نہیں تھے۔۔۔
شرٹ کے تین بٹن کھلے ہوئے نہیں تھے۔۔۔شرٹ پر ایک بھی سلوٹ نہیں تھی۔۔۔۔
غرض وہ سر سے پیر تک ایک نئے روپ میں تھا۔۔۔اور وہ بس ایک نظر میں اُس کے ہر ایک بدلاؤ کو نوٹ کر گئی ۔۔اُس کے روپ کی حقیقت کو جان گئی۔۔۔ساحل کو پہچان گئی۔۔
جب کے انجوں کے ساتھ دکش بھی اُسے راستہ روک کر خود کو یوں تکتے دیکھ حیران ہوا۔۔۔۔
تم۔۔۔۔یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کے لب آہستہ سے ہلے تھے۔۔دل کی حالت عجیب تھی جِسے سمجھنا مشکل تھا ۔۔۔۔۔۔اُس نے سانس لے کر پلکیں جھپکیں جب دھیان دکش کے بازو کو تھامے انجو کے ہاتھ کی طرف گیا تو وہ چونکی
تم یہاں اس لڑکی کے ساتھ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنبھل کر فوراً ہی اپنے آپ میں لوٹی اور اُسے تیکھے تیوروں سے گھورتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔
Excuse me۔۔۔۔۔۔
دکش نے حیرت سے اُسے دیکھا ۔۔آنکھوں میں غیر شناسائی صاف نظر آرہی تھی۔۔۔انجو بھی اُس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
۔۔۔۔۔میں پچھلے پانچ مہینے سے ایک ایک پل گن کر تمہارا اِنتظار کر رہی ہوں ۔۔۔۔نا تمہارا فون لگ رہا ہے نہ تم نے کوئی رابطہ کیا ہے ۔۔۔۔تمہیں اندازہ بھی ہے کے میں کتنی پریشان ہوں۔۔۔۔۔۔اور تم یہاں اس عجیب سے حلیے میں عجیب سی لڑکی کے ساتھ تفریح کرنے میں مصروف ہو۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے ایک ایک لفظ کو چبا کر بولے جا رہی تھی۔لہجے میں بھلے غصّہ و ناگواری تھی لیکن دل میں ہوک سی اٹھی تھی۔۔۔کے وہ اُس کے انتظار میں اتنی تڑپتی رہی اور یہاں وہ کِسی لڑکی کے ساتھ ایک نئے روپ میں نظر آرہا تھا
کچھ غلط ہونے کا اندیشہ سر سے پر تک بے چین کر رہا تھا۔۔۔
Hold hold hold۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دکش نے فوراً ہاتھ اٹھا کر روکا ساتھ کھڑی انجُو اپنی جگہ حیران کھڑی تھی۔۔۔
Who are you and what are you saying۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لب و لہجہ انگریزی تھا حیران کن تھا لیکِن تب بھی اُسے یقین تھا کے وہ ساحل ہی ہے۔۔۔وہ اُسے پہچاننے میں کبھی غلطی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔سوائے اُسے سوچنے اور یاد کرنے کے پچھلے پانچ مہینے میں کچھ کیا بھی نہیں تھا۔۔۔
میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پوچھنے پر وہ بھڑک اٹھی۔۔دل کیا کے اُس کا سر پھوڑ دے ۔۔
بیوی ہوں میں تمہاری سمجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میرے ساتھ زیادہ ڈرامے مت کرو تم ۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
اُسے اُنگلی اٹھا کر سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دانت چبا کر بولی کیوں کے اُس کے حساب سے ساحل شرافت کی زبان کم ہی سمجھتا تھا
اُس کے ترش لہجے اور باتوں سے دکش کی پیشانی پر بے شمار بل پڑے
دیکھیے آپ کو کوئی مس انڈر سٹینڈنگ ہوئی ہے ۔۔۔۔آپ انہیں کوئی اور سمجھ رہی ہے ۔۔۔۔یہ میرے ہسبنڈ ہے دکش سنگھانیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا بیوی لفظ انجو کو نہایت ناگوار گزرا تو اُس نے بیچ میں بولنا ضروری سمجھا۔۔۔دکش کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے اپنا شوہر بتا کر نین کے جھوٹ کو مات دینے کی کوشش کی تو اُس کے سائیڈ لینے پر دکش نے غیر محسوس سا مسکرا کر اُسے دیکھا
جب کے نین کا تو دِماغ ہی آؤٹ ہو گیا۔ اُس نے منہ کھولے انجو کو دیکھا اور پھر دکش کو دیکھتی ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگ کو زمین پر پٹخ کر ایک قدم اُس کے نزدیک ہوئی
اب یہ لعنتی دکش سنگھانیہ کون ہے ۔۔۔۔۔۔نہیں بتا دو مجھے کِس لیول کی بے غیرتی کر رہے ہو اب تم اس لڑکی کے ساتھ مل کر ۔۔۔۔۔۔۔
وہ چبا جانے والے انداز میں دانت پیستے ہوئے اس پر چینخ پڑی۔۔۔۔
۔کتنی خوبصورت تھی وہ لیکِن زبان ۔۔۔۔۔افف توبہ۔۔۔۔۔
انجو نے اُسے دیکھ کر تاسف سے سوچا
۔اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توپوں کا رخ انجو کی طرف ہوا اُس کا ہاتھ اپنے دکش کے شانے سے جھٹک کر اُسے سخت نظروں سے گھورا
تم اس منہوس ٹھرکی آدمی کو جانتی نہیں تبھی اسے اپنا شوہر کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے پوچھو کے اس کی بیوی بننے کے لیے کونسا جگر چاہیے۔۔۔۔۔۔
اس نے انجو کو غصے سے کہتے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ایک بار پھر دکش کو گھورا
بے بی آۓ تھنک یہ لڑکی پاگل ہے تبھی اس کا ہسبنڈ اسے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔۔۔۔۔اسے اگنور کرو۔۔۔۔۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے نہ ۔۔۔۔
دکش اُسے سرد نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تو نین منہ کھولے آنکھیں چھوٹی کیے اُسے دیکھنے لگی وہ دونوں آگے بڑھتے اُس کے پہلے اُس نے دکش کا گریبان پکڑ کر کھینچا
وائلڈ مین، لوفر،۔ٹھرکی۔۔۔ ۔۔۔تم نے مجھے پاگل کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھتے کیا ہو تم اپنے آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصّے سے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتی بولی تو آخر میں اس کا لہجہ اور آنکھیں ایکدم سے نم ہو گئے۔۔۔۔وہ اس سے ہر بات کی امید رکھتی تھی لیکن اس سفاکی کی نہیں کے وہ اُسے پہچاننے سے ہی انکار کر دے۔۔۔۔اُس نے ایک ایک دن اس کے انتظار میں گزرا۔۔اُسے دیکھنے کو ترستی رہی اور جب وہ سامنے آیا بھی تو یوں اجنبی بن کر کے اُسے پہچاننے سے بھی انکار کر دیا۔
دکش نے محض ایک لمحے کو سنجیدگی سے اُس کی نم آنکھوں کی خوبصورتی کو دیکھا اور پھر زرو سے اُس کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکے
اپنی حد میں رہیں آپ ۔۔۔۔۔۔شاید آپ کی انہیں حرکتوں کی وجہ سے آپ کے ہسبنڈ نے آپ کو چھوڑا ہے۔۔۔۔۔راستے چلتے کِسی کو بھی اپنا شوہر بنانے سے بہتر ہے آپ اپنی زبان کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی دفعہ اس کے لہجے میں شدید غصّہ ضبط اور بیزاری تھی ۔۔۔۔
Come baby۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے ناگواری سے گھور کے ساتھ کھڑی انجو کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے لیے آگے بڑھ گیا اور وہ حیرت سے گنگ دونوں کی پشت دیکھتی رہ گئی۔۔آنسُو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔۔۔سکتا ختم ہونے کو تیار نہیں تھا۔۔سب ایک خیال سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔لیکن وہ چاہ کے بھی اُسے ذہن سے جھٹک نہیں پا رہی تھی۔۔۔
وہ انجو کی کہی بات کو اپنے دماغ میں بلکل جگہ نہیں دینا چاہتی تھی لیکن یہ سوچ کر کے کہیں اُس کی بات میں سچائی نا ہو اُس کی جان نکل رہی تھی۔۔۔۔