Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 45
No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
جیا نہیں آئی اب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ بیگم نے کھانا لگنے کی اطلاع دی تو دادی نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا جو رات کے دس بجا رہی تھی
نین بلکل اُن کےساتھ بیٹھی تھی نظریں دور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے داؤد اور اُس کے پاس کھڑی فلک پر تھی۔۔۔
فلک ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی اور داؤد مسلسل اُسے دیکھتا نظروں سے اُسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی مسکراتی نظروں میں فلک کے لیے چاہت ہی چاہت تھی
بہت ہی خوش کن منظر تھا لیکِن نین کے لیے نہایت تکلیف دہ۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں بری طرح جل رہی تھی۔۔۔۔
دل دھواں دھواں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
پورے جسم میں شعلے بھڑک رہے تھے۔۔۔۔۔لیکِن باہر سے بدن سرد تھا
اپنے ریجیکٹ کرنے والے کو کِسی اور کے ساتھ اتنا خوش اتنا پرسکون دیکھ وہ کتنی مشکل سے سانس لے رہی تھی کسی کے لیے اندازہ لگانا بھی مشکل تھا۔۔۔
دادی میری ابھی بات ہوئی ہے۔ ۔۔ وہ کہہ رہی تھی لیٹ نائٹ تک پارٹی چلے گی اس لیے اُسے گیارہ بج جائے گے۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین نے دادی کی بات کا جواب دیا
اتنی رات تک رہنا ضروری ہے کیا۔۔۔۔۔۔
دادی نے فکر مندی سے پوچھا
دادی سب دوست ہے اسکی وہاں اور آپ ٹینشن مت لو انجوئے کر رہی ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین نے اُنہیں سمجھاتے ہوئے کہا
کھانے کے وقت سب بچے ساتھ نا ہو تو اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔
دادی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
ساحل بھی اسی وقت گھر میں داخل ہوا سب سے پہلی نظر نین پر ہی پڑی۔۔۔۔۔
اُس کی نظروں کے زاویے میں داؤد کو دیکھتے قدم دھیمے ہو کر آگے بڑھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔
وہ واقف تھا اُس کے احساس اُس کی تڑپ سے اس لیے بے تاثر نظروں میں بھی اُسے حسرت نظر آئی۔۔۔۔۔
داؤد کو۔کھو دینے کا دکھ نظر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل اور دماغ تو شاید اس حقیقت کو برداشت کربھی لے لیکِن مردانا انا کو یہ گوارہ نہیں گزرا کے اُس کی بیوی کسی غیر کی حسرت کرے۔۔۔۔۔۔۔
کِسی کا سوگ منائے۔۔۔۔۔۔۔۔
اندر ناگواری کی آگ بھڑک اٹھی۔۔
نین کی طرح وہ بھی اندر ہی اندر سلگنے لگا جبڑے سختی سے بھینچے
چلو ساحل بھی آج وقت پر گھر آگیا ہے اب جلدی سے کھانا لگاؤ سب ساتھ مل کر کھائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے آتے دیکھ مسکرا کر کہا اور نین کے کندھے کو چھو کر اُسے متوجہ کیا
اُس نے چونک کر پلکیں جھپکیں۔۔۔
نظریں اُس آگ دیتے منظر سے ہٹائی اور خود پر قابو پاتی وہاں سے اٹھ گئی
نانو میں اپنے روم میں جا رہی ہوں۔۔۔۔۔
دھیرے سے کہتے ہوئے اُنہیں دیکھا
کھانا تو کھا لو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے بھی اٹھتے ہوئے کہا
نہیں مجھے بھوک نہیں لگ رہی نانو۔۔۔۔۔ ریسٹ کرتی ہوں۔۔۔۔
وہ سر جھکائے کہتی وہاں سے جانے کے لیے پلٹی۔۔۔۔۔۔
ساحل کے قریب سے ہو کر گزرنے لگی تو اُس نے اُسے روکنے کے لیے آگے بڑھ کر بازو کی بجائے اُس کی کمر کو تھاما ۔۔
آگے سے ہاتھ اُس کے پیٹ پر رکھے اُسے کھینچ کر جانے سے روکا۔۔۔۔اور یہ اُس کی بہت بڑی غلطی تھی کیوں کے اس نے جلتی آگ کو چھو لیا تھا
نین کو اُس کے سخت ہاتھ کی گرفت اپنے پیٹ پر محسوس ہوئی تو خطرناک جھٹکا لگا۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُس کی جانب پلٹی۔۔۔۔
کائیکو دادی سے بھاؤ کھا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا سا کھا لے گی تو مر تھوڑی جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
لاکھ کوشش کے باوجود اُس کے ذہن کی ناگواری لہجے میں سما گئی۔۔۔۔
نین نے پوری آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا ۔۔
اگلے ہی پل اُس کا ہاتھ اٹھا اور ساحل کے گال پر پڑنے والے تھپڑ کی آواز نے وہاں موجود ہر فرد کو سنا ٹے میں ڈال دیا۔۔۔۔۔
دادی نے گھبرا کر دل تھام لیا۔۔۔۔عشرت اورشیریں نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔داؤد بھی اُس طرف متوجہ ہو کر حیرت سے سن رہ گیا۔۔۔۔۔
فلک بھی سانس روک گئی تھی
مرد بھی سب شاک کھڑے تھے۔۔۔۔۔بس رابعہ بیگم کے دل کو ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
نازک اُنگلیوں کے تھپڑ کے زور سے اُس کے چہرے کا رنگ بہت تیزی سے بدلا تھا۔۔۔۔۔
بال بکھر کے پیشانی پر آگئے تھے
نظریں شاک سے جہاں کی تحاں ٹھہری ہوئیں تھی۔۔۔۔۔۔
احساسِ ذلت سے آنکھیں سرخ ہو گئیں تھی
اُس نے دانت سختی سے بھینچ کر سرد سرخ نظروں سے اُسے دیکھا
آئندہ مجھے ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین بے خوف سی اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نہایت سخت لہجے میں بولی۔۔۔۔۔اُس پر ساحل کی قہر برساتی نظروں کا اثر بھی نہیں ہوا۔۔۔۔
اندر سلگتے دل کی ساری بھڑاس اُس نے ساحل پر نکال دی
ایک بار تمہیں پھر سے سمجھا رہی ہُوں۔۔۔۔۔۔اس شادی کو بلکل بھی سیریس مت لینا ساحل
مجھ پر حق جتانے کی کوشش بھی مت کرنا کیوں کے میں نے رشتا جوڑا ضرور ہے لیکن اس رشتے کی میرے نزدیک کوئی حیثیت نہ ہے نہ کبھی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ پرزوردے کر اُسے وارن کرتی سب کو حیران چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد اپنے شاک سے باہر آکر تیزی سے اُس کی طرف بڑھا لیکِن وہ بھی اُس کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی آگے بڑھ کر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔۔۔۔داؤد محض دیکھتا رہ گیا
دادی اس صورتِ حال پر بری طرح پریشان ہو کر گرنے سے بچنے کے لیے داؤد کا ہاتھ تھام گئیں۔۔۔۔۔اُس نے فوراً اُنہیں سنبھالتے ہوئے اپنے ساتھ لگا کر صوفے پر بیٹھایا
عبّاس صاحب کو پہلی دفعہ اپنے فیصلے پر دکھ ہوا کے شاید اُن دونوں کی زندگی کو سمجھوتے کی نظر کرکے اُنہوں نے بہت غلط کیا ہے۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم کی طنز کرتی نظروں نے اُنہیں مزید شرمندہ کیا اور وہ دلبرداشتہ ہوتے ہوئے وہاں سے چلے گئے
وہ وہاں سے سیدھی اپنے اُس کمرے میں آئی تھی جہاں ساحل سے شادی کے پہلے تک رکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اندر آکر اُس نے دروازہ بند کیا۔۔۔
لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ کر بیڈ تک پہنچی اور آہستہ آہستہ ڈهہتی زمین سے لگ گئی۔۔۔۔۔۔
کب سے حلق میں پھنسے آنسُو رواں ہوتے دل میں جلتی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی نا کام کوشش کرنے لگے۔۔۔۔۔
وہ بیڈ کے سہارے زمین پر بیٹھی بالوں میں ہاتھ پھنسائے با آواز رو کے اپنے اندر کا غبار باہر نکالنے لگی۔۔۔۔۔
وہاں اُسے سنبھالنے سمجھانے تسلی دینے بلکہ سننے تک کے لیے کوئی نہیں تھی۔۔۔۔
اور جس نے کبھی سہارا دیا تھا اُسے اُس کا انعام دے کر آئی تھی۔۔۔۔
وہ گھٹی گھٹی آواز میں رو کر اپنے آپ پر ہی افسوس کر رہی تھی کے ذرا سی قسمت کی کروٹ نے اُسے کیا سے کیا بنا دیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں اُسے ماروں گا۔۔۔۔تو تیرا درد کم ہو جائے گا۔۔۔۔۔
اُسے ساحل کے الفاظ یاد آرہے تھے۔۔۔۔جن میں اُس کے لیے بے حد اپنائیت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہتھیلی کو دیکھنے لگی جس سے ساحل پر نا جائز کا غصّہ نکالا تھا
اور زور زور سے اُس ہاتھ کو زمین پر مارنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
خود کو اُس پل کے لیے کوسنے لگی۔۔۔۔۔۔
اپنے درد سے پھٹتے سر کو تھامتے ہوئے سر زمین سے لگائے گٹھری کی طرح پڑی تڑپنے لگی۔۔۔۔۔
وہ اُس سکون کو ترس رہی تھی جو گزری رات ساحل کی اُنگلیوں کے لمس نے اُسے دیا تھا۔۔۔۔
اور بد قسمتی سے آج وہ بھی میسر نہیں تھا کے چند پل اُس سکون کی بدولت ہوش کھو دے سب غموں سے نجات حاصل کر لے۔۔
وہ اپنی بد نصیبی کو رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اپنی بے وقوفی کو رو رہی تھی
بس رویے جا رہی تھی لیکن درد کے بادل نہیں چھٹ رہے تھے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
جیا تھکے تھکے قدموں سے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔۔اُس کے حواس بلکل بھی کام نہیں کر رہے تھے۔۔۔اُس کی ایک دوست اُسے گھر چھوڑنے آئی تھی ورنہ اُسے اتنی بھی سود نہیں تھی کے گھر جانے کا دھیان آئے۔۔۔۔۔۔۔
شیرین اور عشرت اُس کا انتظار کرتے ہوئے وہیں رکی ہوئی تھی۔۔۔
اُس کی بدحواسی دیکھ اُنہیں تشویش ہو رہی تھی لیکن اُس کی دوست نے صفائی دیتے ہوئے اُس کی طبیعت خرابی کا بہانا بنا دیا تھا کے اگر جیا کو بتانا ہوا تو وہ خود سچ بتا دے گی۔۔۔
اس کی دوست کی صفائی سے بھی دونوں کو کوئی خاص تسلی نہیں ہوئی تھی پھر بھی اُنہوں نے یقین کر لیا
جب کے جیا تو بنا رکے سیدھے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
جو گناہ وہ کر آئی تھی ایک بے قصور انسان پر جھوٹا الزام لگانے کا اُس کے دل میں ہزاروں تیر پیوست ہوئے تھے۔۔۔۔
بہت شور تھا اُس کے آس پاس باتیں ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔بحث ہو رہی تھی ہمدردی ہو رہی تھی
لیکن اُس کا ذہن کچھ سمجھنے کی حالت میں نہیں بچا تھا۔۔۔۔
شاد اُس پرغصہ کر رہا تھا۔۔۔۔اُسے جھنجھوڑ کر ہوش دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔اُس سے سوال کر رہا تھا
جیا جیا کی آواز اُس کے کانوں میں گونج رہی تھی لیکن وہ بےجان پتھر کی طرح کھڑی تھی۔۔۔۔
اُسے نہیں پتہ تھا کیا ہوا اور کیا ہو گا وہ بس خود کو بچانے کے لیے کسی اور کو پھنسا چکی تھی۔۔
شاد کو حیرت ہو رہی تھی کے جیا نے اُس پر اتنا بڑا الزام کیوں لگایا۔۔۔۔و لاکھ اُس سے سوال کرتا رہا لیکِن کچھ کارگر ثابت نہیں ہوا۔۔۔
اُس کی بے بسی کچھ لوگوں کو بہت مزہ دے رہی تھی۔۔۔ان کا بدلہ پورا ہو گیا تھا ۔۔۔شاد کی سب کے سامنے بے عزتی ہو گئی تھی۔۔۔۔
جیا کی حالت دیکھتے ہوئے پرنسیپل نے اس معاملے کو کل پر چھوڑتے ہوئے سب کو وہاں سے جانے کا کہہ کر پارٹی ختم کردی تھی۔۔۔
اب جو فیصلہ ہونا تھا کل ہونا تھا
∆∆∆∆∆∆∆
نین کی ایک حرکت کی وجہ سے گھر کا ماحول افسردہ ہو گیا تھا۔۔۔
سب نے بہُت بے دلی سے کھانا کھایا تھا جب کے وہ دونوں تو تب سے اپنے اپنے کمرے میں غائب تھے۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے دونوں سے بات کرکے اُنہیں سمجھانے کا فیصلہ کیا تھا لیکِن دادی نے اُنہیں روک دیا کے فیلحال اُن کے بیچ کوئی کچھ نہ بولے۔۔۔۔
فلک اس سب ماحول کی وجہ خود کو ہی مان کر شرمندہ تھی
اگر وہ داؤد کی زِندگی میں نہیں آتی تو نین کی آج ایسی حالت نہیں ہوتی
سب میری وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ دونوں روم میں آۓ تو وہ نم لہجے میں کہتی بیڈ پر بیٹھ گئی
داؤد نے گہرا سانس لیا کیوں کے اُسے فلک سے یہی اُمید تھی
اماں صحیح کہتی ہے۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔
وہ۔مزید بولنے لگی تو داؤد میں فوراََ اُس کے لبوں پر اُنگلی رکھ دی
شّش۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی حیرت زدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
ایک۔لفظ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فلک کے لبوں کو دھیرے سے سہلایا وہ سانس روک گئی
کچھ بھی تمہاری وجہ سے نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔فلک نے آہستہ سے اُس کا ہاتھ پیچھے کیا اور رخ موڈ گئی
آپ کو تو۔۔۔۔۔ ہمیشہ یہی لگتا ہے۔۔۔۔لیکِن میں جانتی ہوں۔۔۔۔
اُس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا لیکِن ایکدم سے داؤد اُسے ساتھ لیے بیڈ پر گر گیا۔۔۔۔۔
وہ صدمے سے گنگ آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
وہ۔آرام سے اُسے خود پر گرائے بیڈ پر پڑا تھا۔۔۔۔۔
تم بہت بولتی ہو اور بہُت ہی بکواس بولتی ہو۔۔۔۔۔۔کرنی ہی ہے تو پیار بھری باتیں کرو۔۔۔
وہ اُس کی خوفزدہ شکل دیکھ کر شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا
یہ۔۔۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہے۔۔۔۔
فلک نے اٹھ کر دور ہونے کی کوشش کی لیکن داؤد کے دونوں ہاتھ اُس کی کمر کے گرد بندھے اُس کا راستہ روکے ہوئے تھے
تم۔نے جو کھانا کھلایا ہے نہ اُس کا نشا چڑھ رہا ہے مجھ پر۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی مزاحمت پر شوخ لہجے میں کہتا اُسے ساتھ لگائے کروٹ بدل گیا۔۔۔۔۔
فلک کا دل حلق میں آگیا تھا وہ اُس کے اوپر پورا جھکا ہوا ۔۔۔اور فلک بے بس سی بیڈ پر پڑی تھی
خوف سے اُس کی سانسیں چلنے سے انکار کر رہی تھی۔۔۔
دل زور زور سے دھڑکتا اپنی گھبراہٹ کا احساس دلا رہا تھا
جب کے داؤد بے خود سا اُس کے سُرخ لبوں کو دیکھ رہا تھا
فلک۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے لبوں کو چھوتے بالوں کو پیچھے ہٹا کر بھاری گمبھیر لہجے میں اُسے پکارا تو فلک نے خشک گلے کو تر کیا
بتا دوں کیا تمھیں
میرا دل کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔
وہ بہکے بہکے انداز میں کہتا اُس کے لبوں کو اُنگلیوں سے چھونے لگا۔۔۔۔۔
اُس کے حرارت دیتے لمس سے فلک کے لب لرزنے لگے۔۔۔
نن ۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے سر نفی میں ہلایا
بتانے دو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے کان کے قریب جھکتے دھیمے بے حد بھاری لہجے میں سرگوشی کی۔۔۔۔
کان کے بلکل نیچے گردن کو لبوں سے چھوا تو وہ آنکھیں سختی سے میچ گئی
اُس کی شرٹ کو سختی سے تھام لیا۔۔۔۔۔۔۔۔
مم۔۔۔مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے باز رکھنے کی غرض سے جھجھکتے ہوئے پکارا لیکِن اُس کے تخاطب نے داؤد کو مزید بہکنے پر مجبور کیا
یس مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شدت سے چور لہجے میں کہتا اس کے لبوں پر جھکا اور ساری مزاحمت اپنے لبوں پر سمیٹ لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے بہت سختی سے اُسے تھام لیا۔۔۔۔
وہ اپنے صبر کی اچھی خاصی قیمت وصول کرکے پیچھے ہوا اور اس کے بھیگے لبوں کو انگوٹھے سے چھوا۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کئے پڑی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔۔
تیز دھڑکنوں کی آواز داؤد تک سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
بدن لرز رہا تھا۔۔۔۔۔
اور شرٹ پر گرفت جوں کی توں تھی۔۔۔
وہ اُسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور خفگی سے اُسے گھورا وہ مسکرا دیا
میرا کوئی قصور نہیں تم نے ضرور کھانے میں کچھ ملایا تھا ورنہ دیکھا کبھی مجھے یوں بہکتے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی خفا نظروں میں دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
بہت خراب ہیں آپ۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اُسے پیچھے کرتی دھیمی آواز میں بڑبڑا کر وہاں سے اٹھی اور ڈریسنگ روم میں گھس گئی
وہ بستر پر سر گراتے ہوئے کھل کر ہنسا
