Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
Episode 29
مجھے معاف کر دینا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔اپنی ماں کو معاف کردینا۔۔۔۔۔۔
اُس کے کانوں میں گونجتے الفاظ اُس کے زہن کو بے چین کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔دھندلا دھندلا سا منظر جہاں اُس کی ماں اُس کا چہرہ تھامے اُسے پیار کر رہی تھی۔۔۔
ریل گاڑی کی آواز۔۔۔۔۔
تیری سے دور ہوئے منظر۔۔۔۔۔
مسافروں کی چہل پہل۔۔۔۔۔۔۔
ٹرین کا ہارن۔۔۔۔۔۔
بند آنکھوں کے پردے پر دھندلی دھندلی یادیں سفر کرنے لگی۔۔۔۔۔
نم پیشانی پر بے شمار سلوٹیں پڑی۔۔۔۔۔۔۔سانسیں تیزی سے لیتے ہوئے وہ ایکدم سے آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔
سانس بے ترتیب چلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
سرخ آنکھوں میں بے سکونی اور اُلجھن ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔۔
چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پر سکون ہونے کی کوشش کی
اور بیڈ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کر لیں
درد میں خدا کے بعد ماں یاد آتی ہے ۔۔چاہے وہ دور ہو یا قریب۔۔۔۔پاس ہو یا جدا۔۔۔۔۔اچھی ہو یا بری۔۔۔۔۔۔
اُسے آج تک اس سوال کا جواب نہیں ملا تھا کے اُس کی ماں نے اُسے خود سے الگ کرکے دنیا کی بھیڑ میں تنہا کیوں چھوڑا۔۔۔۔۔۔
ایک ماں اتنی بے رحم کیسے ہو سکتی ہے جو ایک پانچ سال کے بچے کو کِسی کچرے کی طرح پھینک دے ۔۔۔۔۔تاکہ وہ لوگوں کے پیروں تلے کچلا جائے ۔۔۔اُس سے اُس کا بچپن چھین لیا جائے ۔۔۔
ٹرین کے اس سفر نے اسے دوسری دنیا تک پہنچایا تھا۔۔۔جہاں وہ ایک مشہور چور گینگ کا حصہ بن کر ساحل سے ٹونی بن گیا تھا۔۔۔۔۔۔
جس کا کام چوری اور چار سو بیسي تھا۔۔۔۔
ایک دن باہر گزرتا اور چھ دن جیل میں۔۔۔۔۔۔۔
اُسے کِسی چیز سے مطلب نہیں تھا سوائے اپنے کام اور اُس کام کے بدلے معاوضہ ۔۔۔۔ ۔۔۔
ہر روز وہی منظر وہی الفاظ وہی خواب اُسے سونے نہیں دیتے تھے۔۔۔۔۔
کبھی ماں کی باتیں۔۔۔۔کبھی دادی کی کہانیاں۔۔۔۔کبھی بچوں کے ساتھ مستی کرتے پل۔۔۔۔
اپنے بچپن کی دھندلی یادوں میں بھی اس نے اپنی ماں اور دادی کا چہرہ دیکھا تھا۔۔۔۔نا اُسے اپنے باپ کا نام پتہ تھا نا اُس کا چہره یاد کرنے پر اُسے کچھ یاد آتا تھا۔۔۔۔
شاید اُس نے کبھی اپنے باپ کو دیکھا ہی نہیں تھا
شروع شروع میں تو اُس نے جانی کو بہُت زچ کیا تھا کے اُسے اُس کی ماں سے ملائے۔۔۔جانی ٹالتا رہتا تھا اُسے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل سے چوری کرواتا تھا اور بدلے میں اُسے دو وقت کا کھانا دیتا تھا۔۔۔۔
وہ ہر دن اس آس میں گزارتا کے شاید کبھی اُس کی ماں مل جائے۔۔۔۔۔۔۔کبھی وہ راستے میں اُس سے ٹکرا جائے۔۔۔۔
کہیں سے ڈھونڈھتی ہوئی آجائے۔۔۔لیکِن یہ محض آس ہی تھی حقیقت نہیں۔۔۔۔
دھیرے دھیرے جانی نے اُس کی وہ آس بھی ختم کردی تھی۔۔۔۔۔اُس کی ایک ہی ضد سے عاجز آکر اُسے ایسے جواب دینے لگا تھا کے وہ کوئی سوال ہی نہ کر پائے۔۔۔۔۔
شروع میں تو اُسے نا جائز اور گندے خون کا مطلب سمجھ نہیں آیا ۔۔۔لیکِن سمجھنے میں بہُت زیادہ وقت بھی نہیں لگا۔۔۔۔۔
اور جب اپنے آپ سے سوال کیا تو جانی کی باتیں بے معنی نہیں لگی
اُس کی ماں نے اُسے الگ کیا تو ضرور وہ اُسے ساتھ رکھنا ہی نہیں چاہتی ہوگی وہ واپس گیا تو بھی اُسے دھتکار دے گی۔۔۔۔۔
ضرور وہ ایک نا جائز عمل کا نتیجہ ہے۔۔۔ اُس کی ان چاہی اولاد ہے جس کو اُس نے پھینک دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
معاشرے کے ڈر سے۔۔۔۔۔بد نامی کے ڈر سے۔۔۔یا اور کسی وجہ سے
اور اُس کی باتیں جھوٹ ہو یا سچ لیکن ساحل کے پاس اُنہیں جھٹلانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔۔۔۔۔۔جانی سے نا خود سے۔۔۔
کچھ حادثات کی بدولت حالات اور زندگی بدل گئے تھے۔۔۔ ایک دفعہ پھر قسمت کے سکے نے رخ بدلا تھا۔۔
وہ ساحل سے ساحل شیرازی بن گیا تھا۔۔۔۔
چور سے این ۔آۓ ۔اے (N.I.A) کا قابل افسر بن گیا تھا۔
اُس نے کھل کر جینا سیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔
لیکِن اُس کے وجود پر اب تک سوالیہ نشان جوں کا توں تھا
وہ چاہتا تو اُس نشان کو ہٹا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔وجہ معلوم کر سکتا تھا لیکن اُس نے کبھی یہ کوشش نہیں کی۔۔۔۔
اس ڈر سے کے جانی کی باتیں اور اس کے اندازِ اگر سچ ہوئے تو زندگی بھر وہ سکون سے جی نہیں پائے گا۔۔۔
اُسے اپنے وجود پر سوالیہ نشان گوارہ تھا لیکِن نا جائز ہونے کا سچ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کی آواز پر اُس نے سیدھے ہو کر سرخ آنکھیں کھولیں اور تھکی تھکی سی سانس خارج کرتے ہوئے فون کان سے لگایا۔۔
Sahil here۔۔۔۔۔۔۔
سر جیکی نے سوسائیڈ کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔۔۔اسے فوراً ہاسپٹل لے جانا ہوگا۔۔
اُس کے فون اٹھاتے ہی گارڈ نے ہڑبڑی میں بتایا۔۔۔
کیا بکواس کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے سیدھا ہوا۔۔۔گارڈ نے اُسے بتایا کے جیکی کے ہاتھ کہیں سے بلیڈ لگ گیا تھا جس سے اُس نے اپنی کلائی کی نسیں کاٹ لی تھی۔۔۔۔
شاید اُسے اندازہ ہو گیا تھا کے وہ اب یہاں سے نہیں بچنے والا نا وہ بھاگ سکتا تھا نہ کوئی اُسے بچانے آسکتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور یہاں مافیا کے مطلق جاننے کے لیے اُسے بری طرح ٹارچر کیا جائیگا۔۔۔۔اس لیے اُس نے مرنا بہتر سمجھا
اور تم لوگ کیا سالے جھک مارنے کو بھیٹیلے اُدھر۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا اپنے پیر کی تکلیف کو برداشت کرتا بیڈ سے اٹھا اور فون کان اور کندھے سے جوڑے شرٹ پہننے لگا
سوری سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گارڈ نے شرمندگی سے کہا
تیرے سوری کی ماں کی آنکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر وہ مرا نا تو تو بھی مرا سمجھ لے۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کو بلا اُدھر ہی۔۔۔۔۔۔۔۔اور دھیان رکھنا سالہ ہوشیاری نا کرے کوئی۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا فون جیب میں ڈالا
جلدی جلدی جوتے پہن کر ہاتھ میں اپنے بینڈز ڈالے اور بالوں کو ہاتھ سے ترتیب دیتا ہوا باہر نکلا۔۔۔۔
اُس نے اب تک جیکی سے صرف راگا کے بارے میں ہی جانا تھا
جب کے اُسے اندازہ تھا کے الیگل فائٹ میں شامل ہونے والے تمام غیر ملکی مافیا سے لنک کے بارے میں جیکی بہت کچھ جانتا ہوگا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
سب پکنک پر محابلیشور گئے ہوئے تھے رابعہ بیگم کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے وہ اُس کے ساتھ گھر ہی رکی ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کا بھی بہُت دل تھا ساتھ جانے کو لیکِن کالج جانا زیادہ ضروری تھا ۔۔۔۔
کلاس میں بیٹھنے کے باوجود سارا دھیان موبائل پر تھا جہاں نین اور روما اپنی تصویریں بھیج کے اُس کا مزید دل جلا رہیں تھیں
اُس نے غصے سے فون رکھا اور لیکچر اور دھیان دینے لگی
چند سکنڈ بعد پھر میسیج ٹوں بجی اس دفعہ اُس کی دوستوں کا میسج تھا جنہوں نے اُسے کالج کے سیکنڈ فلور پر بنے لاسٹ کلاس روم میں بلایا تھا جو ہمیشہ بند رہتا تھا۔۔۔
جیا وجہ پوچھنے لگی تو آگے سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔۔
لیکچر ختم ہوتے ہی وہ باہر نکلی اور سیکنڈ فلور پر بنے اُس روم تک پہنچی ۔۔۔۔
دروازہ اندر سے بند تھا جیا نے ناک کیا تو اُس کی دوست نے تھوڑا سا دروازہ کھولا
یہاں کیا کر رہے ہو تم لوگ۔۔۔۔۔
اور مجھے یہاں کیوں بلایا۔۔۔۔۔۔
کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے نا۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر حیرت سے بولی
اندر تو آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی دوست نے اُسے اندر کھینچا اور آس پاس کا جائزہ لے کے کسی کو نہ پاتے ہوئے دروازہ بند کر دیا
وہ اندر آئی تو حیرت سے آنکھیں کھلی رہ گئی۔۔۔جہاں اُس کی تینوں سہیلیاں سگریٹ ہاتھ میں لیے ایک کے بعد ایک کش لگا رہی تھی دروازہ بند کرنے کے بعد وہ لڑکی بھی آکر بیٹھی اور سیگریٹ لیے اُس کا دھواں اندر اُتارنے لگی
یہ یہ۔۔۔۔۔یہ کیا ہے دشا۔۔۔۔۔۔
کیا کر رہے ہو تم لوگ۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت اور صدمے سے اُن چاروں کو دیکھنے لگی دشا نے سیگریٹ اُس کی طرف بڑھائی جیسے وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگی
دیکھ کیا رہی ہے لے نا۔۔۔۔
دیشا نے مسکراتے ہوئے کہا
یہ غلط ہے ۔۔۔۔تم لوگ پلیز چلو یہاں سے کوئی دیکھ لے گا
وہ گھبرا کے سر نفی میں ہلاتی ہُوئی بولی
کِسی نے اُس کی بات کو خاطر میں نہیں لیا اور اپنا کام جاری رکھا۔۔۔۔وہ دھویں سے بھرے کمرے میں بمشکل سانسیں لیتی تاسف سے اُن لوگوں کی دیکھنے لگی
یا اللہ۔۔۔۔۔مجھے یہاں سے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کے جانے کو پلٹی لیکِن ہادیہ نے اُسے روک لیا
یار رک تو۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار ٹرائے تو۔کر۔۔۔
بہت مزا آئیگا۔۔۔۔۔
وہ اُسے راضی کرنے کی کوشش کرنے لگی جیا نے غصے سے اُسے پیچھے کیا
بلکل نہیں ۔۔۔۔اگر کسی نے دیکھ لیا نا تو سیاپا ہو جائے گا۔۔۔۔
اور اگر ڈیڈ یا بھائی کو معلوم پڑا تو میری بینڈ بج جائے گی
میں جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر بولی ۔۔۔۔۔ جلدی سے بھاگ کے دروازہ کھولا ۔اور باہر نکلتے ہی کسی سخت چیز سے ٹکرائی۔۔۔۔
دھک دھک کرتے دل سے پیچھے ہو کر دیکھا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر آنکھیں دوگنی ہو گئی اور سانسیں رک گئی
شش۔۔۔شاد سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پتھریلے تاثرات سے خود کو گھورتے پرفیسر شاد ابراہیم کو دیکھ کر اٹکتی سانسوں سے کہا۔۔۔
ساری لڑکیاں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی
کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاد نے اُن کا کارنامہ دیکھنے کے بعد سرد لہجے میں پوچھا۔۔۔
سب کی سب ایک دوسرےکو دیکھنے لگی۔۔جب کے جیا تو جیسے پتھر کی ہو گئی تھی۔۔۔
وہ اُسے سائیڈ پر کرتا آگے بڑھا اور وہاں موجود سگریٹ اٹھا کر ایک نظر اُن سب ڈالی۔۔۔۔۔سب کا دل کیا کے غائب ہو جائے
You all۔۔۔۔۔in the class room now
اُس نے سنجیدگی سے کہا اور خود باہر نکلا
سر سر۔۔۔پلیز سر۔۔۔۔۔۔
جیا نے اُسے روکنا چاہا لیکن وہ اُس کی کوئی دلیل سننے کے موڈ میں نہیں تھا اُس کا بازو پکڑے اُسے اپنے ساتھ کھینچتا نیچے لے گیا پیچھے کھڑی ساری لڑکیاں بھی گھبرا کر اُس کے پیچھے چلنے لگیں
سر پلیز ۔۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔۔۔۔
I was just going to the class ۔۔۔
I m sorry sir۔۔۔۔۔۔ please sir
وہ روتی ہوئی اُسے صفائی دینے لگی۔۔۔۔
یہ بات اُس کے گھر تک پہنچ گئی تو کیا ہوگا یہ سوچ کر ہی اُس کا دل گھبرانے لگا حلانکہ اُس کی کوئی غلطی بھی نہیں تھی لیکن وہ جانتی تھی اب آسانی سے چھوٹ نہیں ملے گی
کیوں کہ پروفیسر شاد ابراہیم نے اُنہیں رنگے ہاتھوں پکڑا تھا
Attention everyone۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے کلاس روم میں آکر اُسے چھوڑا اور پانچوں کو ایک طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے سب کو متوجہ کیا۔۔
وہ پانچوں سر جھکائے ایک لائن میں کھڑی ہو گئی
آج ہمارے درمیان کچھ بہُت ہی ذہین اور اکسٹرا ٹیلنٹڈ ہستیاں موجود ہے۔۔۔۔۔
جو تعلیم کے ساتھ دوسرے بھی کئیں ہنر جانتی ہے۔۔۔۔
میں آج ان سب سے آپ کو ملوانا چاہتا ہوں تاکہ آپ بھی اُن کچھ سیکھیں۔۔۔۔
اُس کے طرز مخاطب سے ہی سب سمجھ گئے کے پھر کسی کی شامت آئی ہے
ان کے ماں باپ نے تو یہاں صرف پڑھنے بھیجا ہے لیکن ان ذہین لڑکیوں نے صرف کتابی علم نہیں بلکہ سیگریٹ نوشی کی بھی کلاسز لینی شروع کی ہے۔۔۔
تاکہ اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کر سکے۔۔
اُس نے اُن پانچوں کی تعریف کرتے ہوئے اُنہیں مزید سر جھکانے پر مجبور کیا۔۔۔۔۔
پوری کلاس مزے لے کر ہنسنے لگی
اب اتنا بہترین ہنر اگر یہ ہم سب کے ساتھ بھی بانٹیں تو کتنا اچھا ہوگا۔۔۔۔۔۔ہے نہ
شاد نے پوری کلاس سے پوچھا جس پر سب نے جوش سے یس سر کہا
چلیئے ۔۔۔۔۔۔آپ سب اپنا مشغلہ یہاں دوہرائیں۔۔۔۔
اپنے دوستوں کے ساتھ اپنا ٹیلنٹ شیئر کرے۔۔۔۔
شاد نے سگریٹ جلا کر ایک ایک کر کے اُن سب کے ہاتھ میں تھمائی جیا کے ہاتھ کانپنے لگے
Come on friends lets give them a big round of applause۔۔۔۔۔۔
شاد نے تالی بجائے ہوئے کہا سب ہنسنے لگے اپنی اتنی بے عزتی پر اُن سب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا
I said now۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی زور سے بولا کے سب نے ہڑبڑا کر سگریٹ منہ سے لگائی سوائے جیا کے۔۔۔۔۔۔
پوری کلاس ہنس کے مزے لے رہی تھی
مس جیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔
اگر آپ کے مُطابق یہ غلط کام ہے تو آپ کو کرنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔
اور اگر غلط نہیں ہے تو سب کے سامنے کیسی شرم۔۔۔۔۔شروع ہو جائیں
اُس نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا جیا نے سر اٹھا کر روتی آنکھوں سے اُسے دیکھا
سر میں نہیں کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔آۓ سویر۔۔۔۔۔۔
میں نے ان لوگوں کو بھی منع کیا تھا۔۔۔۔
پلیز سر۔۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیجئے۔۔۔
وہ روتے ہوئے صفائی دینے لگی
مس جیا۔۔۔۔۔سزا سب کی برابر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔اسموک۔۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کہا اور اُسے سخت نظروں سے دیکھتے سگریٹ کی طرف اشارہ دکھایا۔۔۔
وہ مجبوراً لرزتے ہاتھوں سے سگرٹ لبوں تک لے گئی۔۔۔۔
ہلکی سی سانس اندر لیتے ہی اُس کا دم بری طرح گھٹا اور وہ زوروں سے کھانسنے لگی جس پر سب کی ہنسی تیز ہوئی
یہ آپ لوگوں کی پہلی اور آخری غلطی تھی۔۔۔
آئندہ اگر اس کالج میں کِسی نے بھی ایسی کوئی حرکت کی تو یہی چیز آپ کے پرنٹس کے سامنے ہوگی۔۔۔۔۔۔۔
Get out۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے ایک ایک کو دیکھتا جتا کر بولا سب سے پہلے جیا سگریٹ پھینک کر بھاگتی ہوئی کلاس روم سے باہر نکلی۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ روتی ہوئی گھر پہنچی اور اندر داخل ہونے سے پہلے ہی اپنے آنسو مٹا کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
لیکِن اپنی اتنی انسلٹ ہونے پر جہاں دکھ تھا وہیں شاد پر بے حد غصّہ بھی تھا
وہ تیزی سے اندر جاتے جاتے راہداری میں ساحل سے ٹکرائی۔۔۔۔۔وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوا۔۔۔۔جیا کو دیکھا تو اُس کا چہرہ آنکھیں بدلے ہوئے تھے۔۔۔
کیا کر کے آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے تجھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے غور سے دیکھتا پوچھنے لگا جس پر جیا پھٹ پڑی
یو ایڈیٹ۔۔۔۔جنگلی۔۔۔۔۔۔تم سے کتنی بار کہا ہے کے میرے راستے میں مت آیا کرو۔۔۔۔۔مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کیا کرو۔۔۔۔۔تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔۔۔۔بلڈی ہیل
وہ غصے سے چینخ پڑی لیکِن ساحل کو اندازہ ہوا کے وہ رو رہی ہے تو غصّہ ہونے کی بجائے پریشان ہوا
کِسی نے کچھ کہا تجھ سے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نرمی سے پوچھا لیکِن جیا کے دِماغ پر تو پہلے ہی غصّہ سوار تھا
۔کتنے ڈھیٹ اور بے شرم ہوتم۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی بے عزتی کرنے پر بھی باز نہیں آتے۔۔۔۔
آوارہ کتے بھی تم سے بہتر ہوتے ہے۔۔۔
اُنہیں بھی ایک بار جھڑک دو تو دوبارہ راستے میں نہیں آتے۔۔۔
تم تو اُن سے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شاد کا سارا غصہ ساحل پر نکال گئی
جیا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکدم سے اُس کا ہاتھ اٹھا لیکِن جیا کے چہرے تک پہنچنے سے پہلے ہی روک کر اُسے غصے سے گھورتا باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔
دل کیا اپنے آس پاس سب کچھ ختم کردے
∆∆\∆∆∆∆∆
فلک تمہیں سکندر کے سامنے بلکل بھی گھبرانا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔پوری ہمت اور بنا ڈرے کورٹ کے سامنے بیان دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے فلک کو سمجھایا اُس کی جانب دیکھا تو وہ کسی اور ہی دنیا میں گم تھی وہ فوراً سمجھ گیا کے ابھی سے وہ ڈر رہی ہے ۔۔۔۔شاید اس ڈر سے کے عدالت۔ میں پھر کوئی اُلٹے سیدھے سوال نا پوچھے جایئں
فلک۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اونچی آواز میں پکارا تو وہ چونکتی ہڑبڑا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
کیا پریشانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے پیشانی پر بل ڈالے اُسے دیکھا وہ بغیر جواب دیے چہرہ پھیر گئی
تمہاری اماں سے تمہاری شکایت کروں گا کے تم اپنے شوہر کی عزت نہیں کرتی۔۔۔۔۔کِسی بات کو اہمیت نہیں دیتی۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے خطرناک دھمکی دے ڈالی جس پر وہ حیرت اور پریشانی سے اُسے دیکھنے لگی
میں نے کہا تھا نا گھبرانے کی اجازت نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔داؤد نے ابرو اٹھاکر اُسے گھورا۔۔۔۔وہ محض سر جھکا گئی
اچھا آج تم نے وہ نہیں کہا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتی آنکھوں سے سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرنے لگا
فلک نے اُس کی جانب دیکھا
وہی جو تمہیں مجھے بلانا ہے۔۔۔۔۔۔
داؤد نے ایک نظر اُس کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا فلک اب بھی خاموش دوبارہ سامنے دیکھنے لگی۔۔اُسے پڑھنا نہیں آتا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں اُسے لگ رہا تھا داؤد اُسے جو بلانے کو کہہ رہا ہے اُس کا مطلب اُس کے بتائے گئے مطلب سے کچھ الگ ہے۔۔۔۔۔۔اُس کی معنی نگاہوں سے تو یہی لگتا تھا کے وہ اُس کے ان پڑھ ہونے کا فائدہ اٹھا کر اُس سے کچھ اور بلوا رہا ہے
اب تو پکّا میں تمہاری امی سے تمہاری شکایت کروں گا۔۔۔
وہ اُس کے خاموش رہنے پر مصنوعی خفگی سے بولا وہ گھبرا گئی
مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔
ہڑبڑا کر ایک ہی جسٹ میں اُس کی فرمائش پوری کردی وہ دلکشی سے مسکرایا
Yes my love۔۔۔۔۔۔۔
جان لٹاتی نظروں سے اُسے دیکھا وہ سٹپٹا کر منہ پھیر گئی۔۔داؤد مسکرا کر گاڑی چلانے لگا
کورٹ پہنچتے ہی اُسے بے شمار باتیں یاد آنے لگی۔۔۔۔ایسے سوال جنہیں سوچ کر اُس کا دل لرز اُٹھا۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے اُس عمارت کو دیکھنے لگی داؤد نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا
باہر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے پکار کر اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اُس کا ہاتھ پکڑے باہر نکلی۔۔۔۔۔
سر ہیئرنگ کا وقت ہو گیا ہے لیکن نیہا میم ابھی تک نہیں آئی
وہاں کھڑے نیہا کے اسسٹنٹ نے پریشانی سے اُسے بتایا تو وہ فون نکال کر نیہا کو کال ملانے لگا
کئی بار کال کرنے کے بعد بھی اُس نے فون نہیں اٹھایا تو دوڑی کو پریشانی نے آن گھیرا
کیا حال ہے میرے سرکار کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے ایک جگہ کھڑی تھی جب سکندر کی آواز پر اُس کے بدن میں بجلی کوند گئی۔۔۔اُس نے سر اٹھا کر اُسے دیکھا جو پولیس کی وین سے نکل کر اُس کی طرف آرہا تھا۔فلک نے گلا تر کرتے ہوئے اپنے ڈوپٹے کے کونے کو مُٹھی میں جکڑا۔۔۔
داؤد اُس سے فاصلے پر کھڑا فون میں لگا ہوا تھا۔۔
افف یہ آنکھیں اور ان میں اپنا خوف کتنا سکون دیتا ہے سکندر کو۔۔۔۔۔تمہیں اندازہ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ آگے بڑھا اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جہاں اب بھی وہی خوف وہی لرزش تھی
فلک کی اُس کے یوں دیکھنے سے سانس رکنے لگی۔۔۔
کب تک یہ کھیل چلتا رہیگا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں بور ہو چکا ہوں یار ۔۔۔۔آخر میں تو تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔۔۔۔۔۔کیوں اِنتظار کی گھڑیاں بڑھا کر اپنی معصوم جان پر ستم کروانا چاہتی ہو۔۔۔۔
وہ اُس کے ڈوپٹے کے حالے میں دمکتے چہرے کو آنکھوں میں اتارتے ہوا بولا۔فلک کو اپنا کھڑے ہونا مشکل لگنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔تمہارے خواب اور ارادے ضایع نہیں جائیں گے سکندر۔۔۔۔ان دونوں کے ساتھ آرام سے زندگی گزارنا جیل کی چار دیواری میں۔۔۔۔۔موت کا وقت آنے تک۔۔۔۔۔۔
داؤد وہاں آکر فلک کے ساتھ کھڑا ہوا تو فلک کی جان میں جان آئی اُس نے بلکل غیر محسوس انداز میں داؤد کا بازو تھاما
مر گئے مجھے مارنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری جان گواہ ہے اس بات کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر ہنسا اُس کی ہنسی میں کتنی وحشت تھی صرف فلک جانتی تھی۔۔۔۔بھیگی آنکھوں سے زمین کو تکتی وہ بے ترتیب سانسیں لینے لگی۔۔۔اُس کی سخت ہوتی گرفت سے ناخن داؤد کے بازو میں چبھنے لگے جس پر وہ فلک کی طرف متوجہ ہوا
فلک۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کا چہره تھام کر اوپر کیا۔۔۔۔سکندر کو اُس کی یہ گھبراہٹ مزا دینے لگی
تمہیں اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میری طرف دیکھو فلک۔ ۔۔۔۔۔فلک
۔داؤد نے اُس کے چہرے کو جھٹکے سے اوپر کیے اُسے نظریں اٹھانے اور مجبور کیا
تم جتنا ڈرو گی اتنا وہ ڈرائے گا تمہیں۔۔۔
تمہیں اُس کی یہ کوشش نا کام کرنی ہے۔۔
اس کے آگے تمہاری نظر جھکی تو داؤد کا سر نیچا ہو جائے گا۔۔۔
داؤد اُس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
دیکھو اس کی طرف اور کہو کے تم اُس سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔
داؤد نے سکندر کو نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔لیکِن اُس کے چہرہ سکندر کی طرف کرنے کے بعد فلک صرف گھبرا کر سکندر کو دیکھ رہی تھی
فلک میں کیا کہہ رہا ہوں سنا تم نے۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کے بازو پکڑے اُسے جنجھوڑ ا۔۔۔سکندر ہنس رہا تھا
دیکھو اُس کی آنکھوں میں اور بولو کے تم اُس سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔بولو
وہ غصے سے بولا فلک اُس کے اس انداز پر گھبرا گئی
م میں۔۔۔۔میں تم سے نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔۔
اُس نے داؤد کے کہنے پر عمل کیا لیکِن سکندر کو اُس کے لرزتے لبوں کی ہمت اور آنکھوں کے خوف کا امتزاج مزا دینے لگا
بتاؤ اُسے کے تم اپنے ساتھ ہوئے ہر ظلم کا حساب لو گی۔۔۔۔
تم اُسے اُس کے کیے کی سز دوگی۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔وہ سکندر کے مسکرانے پر اندر ہی اندر کانپ رہی تھی کیوں کے جب بھی وہ مسکراتا تھا فلک برباد ہوتی تھی
فلک اگر تم نے آج ہمت نہیں دکھائی تو میں کبھی تمہارا ساتھ نہیں دوں گا۔۔۔
داؤد نے اُس کی نظروں کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے خفگی سے کہا۔۔۔۔۔لیکِن وہ اب بھی خوفزدہ سی زمین کو دیکھ رہی تھی
داؤد نے اُس کے چہرے سے ہاتھ ہٹایا تو فلک نے ایکدم سے اُسے دیکھا۔۔۔وہ خفا نظروں سے اُسے دیکھا دو قدم پیچھے ہوا اور پلٹ کر وہاں سے جانے لگا
مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے سانس رکے گھبرا کر اُسے پکارا۔۔۔۔۔
داؤد کا دل اُس لمحے رک گیا۔۔۔۔۔جب کے سکندر تو فلک کے یوں پکارنے پر حیرت سے بے ہوش ہوتے ہوتے بچا
Yes my love۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داود نے پلٹ کر محبت بھی لہجے نے اُسے جواب دیا۔۔۔سکندر کی مسکراہٹ اب پریشانی میں بدل گئی
مجھے چھوڑ کر مت جائیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی داؤد مسکرا کر اُسے دیکھتا اُس کے قریب آیا
تمہیں چھوڑنے کے لیے تھوڑی اپنا بنایا ہے۔۔۔۔۔لیکِن اگر تمہیں اتنا بھروسہ نہیں کے میرے ہوتے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تو میرے ساتھ ہونے کا کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں اپنے دشمن کے آگے مضبوط ہونا ہوگا فلک
اب تم فلک نہیں۔۔۔۔۔فلک داؤد ہو۔۔۔۔
اُس نے فلک کا چہره تھامے اُسے سمجھایا جب کے اُس کے آخری الفاظ سکندر کی سماعتوں پر بم کی طرح گرے اور اُس کا دِماغ سن ہو گیا۔۔۔
دواد نے فلک کے آنسو صاف کیے اور اُسے اپنے ساتھ لگائے وہاں سے جانے لگا لیکن ایکدم ہی دھیان سکندر کی طرف گیا جو حیرت سے سن کھڑا تھا
ارے ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے ہمیں ہماری شادی کی مبارک باد نہیں دی۔۔۔۔۔۔۔دشمنی الگ بات ہے لیکن اتنی فرمیلٹی تو کرنی چاہیے نہ۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے کہتا سکندر کا خون جلانے لگا۔۔۔۔۔جب کے فلک بس وہاں سے غائب ہوجانا چاہتی تھی
یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم سوچتی ہو کے یہ جان کر میں پیچھے ہٹ جاؤں گا تو تم غلط ہو۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کے تمہارا اس سے کیا رشتا ہے۔
تم ہمیشہ سے ہمیشہ تک صرف سکندر کی ملکیت ہو۔۔۔۔۔
بس اس آدمی کی موت تم نے میرے ہاتھ میں لکھ دی ہے۔۔۔
سکندر غصے سے فلک کو دیکھتا ہوا بولا اور اندر چلا گیا داؤد نے اُس کے غصّے پر سر جھٹکا جب کے فلک اب داؤد کے لیے پریشان ہو چکی تھی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
