Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 71

یہ لے لوں۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کے سخت بیزار چہرے کو دیکھ کر ریک سے بنا دیکھے ہی کچھ اٹھا کر اُس سے پوچھنے لگی محض اُس سے بات کرنے کی غرض سے۔۔۔کیوں کے ایسے زبردستی ساتھ آنے کی وجہ سے وہ اُس پر سخت غصّہ تھا۔۔۔۔
اُس کے جلے ہوئے ہاتھ سے ہمدردی اُسے مہنگی پڑی تھی
شانی۔۔۔۔۔۔یہ تیری پرسنل شاپنگ ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ میں بچوں کے کھیلنے کے برتن دیکھ دانت پیس کر بولا۔۔تو نین نے اُس پیکٹ کو دیکھا اور ذبردستی مسکرائی
نہیں یہ تو میں خوشی کے لیے لے رہی ہوں اپنی شاپنگ لاسٹ میں کروں گی۔۔۔
وہ سر ہلاتی ہوئے بولی تو اُس نے ضبط سے آنکھیں بند کرکے کھولتے ہوئے منہ پھیرا۔۔۔
وہ غیر محسوس انداز میں بار بار اوپر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اُس مال کے فرسٹ فلور پر بنے اوپن کیفے میں شیشے کے اُس پار ریڈ شارٹ ڈریس میں بیٹھی ایک خوبصورت عورت کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کافی پیتے ہوئے موبائل میں تصویریں لے رہی تھی۔۔۔۔شاید سیلفی۔۔۔
شکل پر بیزاری لیے ریک کی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا وہ بار بار اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اور نین اب پوری شاپنگ کی طرف متوجہ تھی ۔۔۔
وہ عورت کافی ختم کرکے اپنی جگہ سے اٹھی تو وہ ہاتھ میں لیا باکس رکھ کے پیچھے ہوا
تو سامان لے میں آتا ہوں ابھی۔۔۔
نین سے بولتا آگے بڑھنے لگا تو نین نے ایکدم سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکا
ایک منٹ کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگی کیوں کے اُس کے دماغ میں یہ بات گھسی ہوئی تھی کے وہ یہاں کسی لڑکی سے ملنے آیا ہے۔
ارجنٹ کال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک پل کو سوچ کر بیزاری سے بولا
لیکِن مجھے تو کوئی آواز نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ابرو اٹھا کر مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ساحل نے دانت سختی سے بھینچ کر اُسے چھوٹی اُنگلی دکھا کر اشارہ کیا۔
جاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سخت جلے ہوئے انداز میں پوچھا
تو جاؤ نا کھڑے کیا ہو۔
وہ لاپرواہی سے بولی ساحل تاسف سے اُسے گھور کر آگے بڑھا۔۔۔۔
وہ لڑکی سیڑھیاں اُتر کر نیچے آرہی تھی نظریں اُس کی اب بھی اپنے موبائل پر تھی ۔۔۔کلائی میں قیمتی کلچ جھول رہا تھا
وہ اُس کے پیروں میں موجود ریڈ کلر کی فلیٹ ہیل والی سینڈل کو دیکھتا سیڑھیوں پر چڑھنے لگا ۔۔۔۔
اپنا ہاتھ لبوں تک لے جا کے تیسری اُنگلی میں موجود رنگ کو منہ میں لے کر اُس میں لگا پتھر دانت سے الگ کیا۔۔۔
جب اُس کے اور لڑکی کے درمیان چار سیڑھیوں کا فاسلہ تھا تو منہ میں سے وہ پتھر عین اُس جگہ پھینکا جہاں اُس کا اگلا قدم پڑنے والا تھا۔۔
اور وہ پتھر پیر کے نیچے آتے ہی وہ بری طرح لڑکھڑا گئی۔۔۔ موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر آخری سیڑھی سے ٹکرا کر زمین پر گرا ۔۔۔۔ خوف سے سانس رک گئی تھی دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا لیے تھے منہ کے بل گرنے ہی والی تھی کے ساحل نے ایکدم اُسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچتے ہوئے گرنے سے بچایا۔۔۔۔اورخود پیچھے سے سیڑھیوں کی گرل کا سہارا لیا۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔ایک پل کو یقین ہی نہیں ہوا کے وہ گرنے سے بچ گئی ہے۔۔۔۔
نظریں پھیر کے نیچے کھل پڑے اپنے ٹوٹے فون کو دیکھا اور پھر دوبارہ سے ساحل کو دیکھتے ہوئے سانس لی۔۔۔۔
Oh my god۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک ہاتھ سے ساحل کا بازو پکڑتے ہوئے دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر شکر کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔مانو نئی زندگی مل گئی ہو۔۔۔۔
Oh my god۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے بھی اس کے الفاظ دہرائے لیکِن الگ انداز میں۔۔۔۔اُسے شوخ ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔بنا مسکرائے بھی گالوں میں ہلکا سا ڈمپل واضح ہو رہا تھا
تھینک یو مجھے بچانے کے لیے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے اپنے حسن پر فدا ہونے والے تاثرات دیکھ کے مغرور سا مسکرائی۔۔۔
تھینک یو ۔۔۔۔۔ اس بیوٹی کو اتنے قریب سے دیکھنے کا موقع دینے کے لیے۔۔۔۔۔۔
وہ بیباک نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے ہاتھ کی گرفت ہلکی سی سخت کرتے ہوئے مسکرا بولا۔۔۔۔
اُس لڑکی نے ابرو اٹھا کر اُسے گھورتے ہوئے اُس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹایا اور ایک ادا سے اپنے بال جھٹکتی پیچھے ہوئی۔۔۔۔
بائے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھما کر کہتی سیڑھیوں سے نیچے اتر کر اپنا فون اٹھانے لگی لیکن اُس کے پہلے ہی ساحل نے نیچے اتر کر اُس کا ٹوٹا فون اٹھا کے اُس کی طرف بڑھایا۔۔لبوں پر شریر سی مسکان اُسے بہت سوٹ کر رہی تھی۔۔
عین اسی وقت نین کی بھی پریشان کھوجتی نظریں اُس اور اٹھیں اور پریشانی حیرت اور حیرت غصے میں بدلتے لمحہ لگا۔۔۔۔
ساحل کو اُس لڑکی کے سامنے اتنا خوش مسکراتے دیکھ جیسا خود کے ساتھ کبھی نہیں پایا تھا۔۔۔اُس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔دل میں درد بھی ہوا۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اُس کے چہرے کو دیکھتی ہاتھ سے موبائل کھینچ کے آگے بڑھی۔۔۔۔
Hey listen۔۔ ۔۔۔۔
ساحل نے متبسم لہجے میں اُسے پکارا۔۔۔وہ رک گئی لیکن پلٹنے کی بجائے ویسے ہی کھڑی رہی۔۔۔۔
نین آنکھیں چھوٹی کیے ماجرا سمجھنے کی کوشش کرنے لگی سنائی تو کچھ دے نہیں رہا تھا
اگلی بار کب موقع ملے گا آپکو سنبھالنے کا۔۔۔۔
وہ وہی کھڑا میٹھے شہد سے لہجے میں بولا تو وہ مسکراتی آگے بڑھ گئی۔۔۔
نین کی نظر ساحل کے کھلتے چہرے پر تھی وہ دانت پیس کر مٹھیاں بھینچ کر اُس کی طرف بڑھی اور اُس کے پیچھے جا کر رک گئی
وہ وہیں کھڑا اُس لڑکی کو جاتے دیکھ رہا تھا اُس لڑکی نے باہری دروازے تک پہنچ کر پلٹ کے مسکراتے ہوئے اُسے دیکھا تو اُس کی بانچھیں کھل گئی
وہ دلکشی سے مُسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا شوخ نظروں سے اُسے دیکھنے کہا
نین نے لب بھینچے اُس کے ایک ایک ایکسپریشن کو نوٹ کیا اور پھر ایک زرو دار لات اُس کے پیچھے مار کر اُسے خواب سے جگایا۔,۔وہ منہ کے بل گرتا اگر سیڑھیوں کی گرل کو نا تھامتا
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔گدھی کی طرح لات کیوں مارتی رہتی سدا
پلٹ کر۔اُسے دیکھ ایک پل کو گڑبڑا یا پھر سنبھل کر حیرت اور غصے سے گھورا۔۔۔۔
شرم بیچ کر کھا چکے ہو جو يوں سرے عام لڑکیاں تاڑ رہے
کم سے کم اس بات کا تو لحاظ کر لو کے تمہارے ساتھ کوئی کھڑا ہے۔۔۔ٹھرکی کہیں کے
وہ دانت پیستے ہوئے بولی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہیں تھیں
تیرے کو کیا تکلیف ہے تیرے کو نہیں لائن مار رہا نا
وہ بے زاری سے آنکھیں پھیر کر بولا
تمہاری اتنی ہمت بھی نہیں ہے کے تم۔مجھے لائن مار سکو۔۔
نین نے غصے سے بول کر چہرے پر آتی بالوں کی لٹیں پیچھے جھٹکی
صحیح بولی۔۔۔۔۔۔میرے کو لڑکیوں میں انٹریسٹ ہے ناگنوں میں نہیں
وہ اُسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے بولا نین نے آنکھیں پھیلا کر قدم اُس کی طرف بڑھائے
تم نے مجھے ناگن کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھتے غصے سے پوچھنے لگی
دھیرے بول کِسی نے سن لیا تو ادھر کدھر سے نکل کر ڈس لیگی میرے کو۔۔۔اُن کو بھی اتنی انسلٹ برداشت نہیں ہوتی
وہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولا نین کی آنکھوں میں ہمیشہ والا اشتعال اُترا
اگر میں ناگن ہوں نہ تو۔۔۔۔ تو تم انیکانڈا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں چینخ کر بولی ساحل نے منہ کھولا ہی کے سامنے ایک بزرگ عورت کو قریب رکتے دیکھ ٹہر گیا
ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس عورت نے دونوں کو مخاطب کیا دونوں نے اُسے دیکھا
آپ دونوں ہسبنڈ وائف ہو نہ۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔۔دونوں نے سر ہلا دیا
آپ کی لڑائی سن کر اندازا ہو گیا۔۔۔۔۔۔
وہ عورت ہنستی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو۔کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور مخالف سمت پلٹ گئے
لیکن اگلے ہی لمحے نین نے اُس کا کالر پکڑ کر اُس کا رخ بھی اپنی جانب کیا اور اُسے بازو سے پکڑے کھینچتی اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔۔وہ بس اُسے گھور کے رہ گیا
\∆∆∆∆∆∆
واپس گھر آنے کے بعد بھی وہ پورا وقت فون میں بزی تھا پتہ نہیں كس سے اور کیوں اتنی لمبی لمبی باتیں ہو رہیں تھی لیکِن وہ سخت پریشان تھی
یوں تو اُسے ٹھرکی اور چھچھورا بولتی رہتی تھی لیکن وہ سچ میں کِسی لڑکی کو دیکھ کر خوش نظر آیا تو اندر لاوا اُبلنے لگا۔۔۔۔
وہ بستر پر دیوار کی طرف منہ کیے پڑی تھی اور ساحل دور چارپائی بچھا کر بیٹھا موبائل میں بزی تھا
کون تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے پلٹ کے غصے سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
کون۔۔۔۔۔
ساحل۔نے موبائل سے نظر ہٹا کے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
وہی جِسے مال میں دیکھ کر تمہارے چہرے پر بہار آگئی تھی۔۔۔۔مجھ سے بات کرتے ہوئے تو بڑے منہ بنتے ہیں اور اُسے کیسے اپنے ڈمپلز دکھا رہے تھے
کون تھی و لڑکی۔۔۔۔
وہ ناگواری میں بھی خفگی لیے پوچھنے لگی
مجھے کیا پتہ کون تھی۔۔۔۔ٹکرا گئی تھی غلطی سے بس۔۔۔۔
وہ لاپروائی سے بولا۔۔
میرے ساتھ بہانے مت کرو راؤڈی۔۔۔مجھے پتہ ہے ضرور اُس کے ساتھ کوئی چکر چل رہا ہے تمہارا۔۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر غصے سے بولنے لگی
ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا
چل بھی رہا ہے تو کیا۔۔۔۔۔ تیرے کو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کا بے نیازی سے کہنا نین کو ایک پل کو لاجواب کے گیا
ہاں بس یہ بول۔کر بات ختم کردو۔۔۔مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔۔میں کون ہوتی ہوں پوچھنے والی۔۔۔
وہ بھڑک کر بولی اور خاموش ہو کر لیٹ گئی اُسے لگا کے شاید وہ صفائی دیگا بات کرےگا لیکن جب کچھ دیر خاموشی رہی تو ہلکا سا سر اٹھا کر دیکھا وہ دوبارہ سے موبائل میں مصروف تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆\
وہ کچن میں کام کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔۔داؤد کی ناراضگی ختم ہونے کے بعد اُس کا دل کافی ہلکا ہو گیا تھا
اور آج کل رابعہ بیگم کا رویہ بھی اُس کے ساتھ تھوڑا بہتر تھا شاید وہ داؤد کو گھر چھوڑنے کی کوشش کرتے دیکھ گھبرا گیئں تھیں یا اُنہوں نے اُس کی خوشی کی خاطر فلک کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔
وجہ جو بھی ہو لیکن فلک کو اب اُن کی نفرت بھری نظریں نہیں سہنی پڑتی تھی۔۔۔۔اِسلئے وہ بہت خوش تھی
فلک بھابھی۔۔۔۔۔۔باہر آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔۔۔۔۔
وہ داؤد کی پسند کا کھانا بنا رہی تھی جب چندا نے آکر اُسے خبر دی
مجھ سے ملنے۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔۔۔۔کیوں کے اُس سے ملنے آنے والا تو کوئی بھی نہیں تھا جس کا وہ اندازہ لگاتی۔۔۔
اُس کی اپنے گھر بھی روز بات ہوتی تھی اُسے پتہ تھا جب تک اس کی زندگی میں سب ٹھیک نہ ہوجائے اُس کے ماں باپ وہاں نہیں آئیں گے تو پھر کون ۔۔۔۔۔
ایک لڑکی ہے کہہ رہی ہے آپ کی امّاں کا بھیجا کچھ سامان لائی ہے آپ کے لیے۔۔۔۔۔
چندا نے اُس کے اُلجھنے پر بتایا
لیکِن اماں سے تو میں نے رات کو ہی بات کی تھی۔۔۔اُنہوں نے بتایا نہیں۔۔۔۔
وہ پریشانی سے بڑبڑا ئی
اُس کو کیا بولوں بھابھی۔۔۔۔۔۔
اُسے خاموش دیکھ کر چندا نے پھر سے پوچھا
آپ رہنے دیں میں جا کر دیکھ لیتی ہوں کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ سوچ کر بولی اُسے کوئی اندازہ نہیں ہو رہا تھا
جی۔۔۔۔۔۔
چندا سر ہلا کر کام میں لگ گئی
وہ ہاتھ صاف کرکے باہر آئی مین گیٹ کے باہر ایک سفید کار کھڑی ہوئی تھی اور گیٹ کے پاس ایک لڑکی کھڑی تھی جو اُسے دیکھتے ہی مسکرا اٹھی
میں ہوں فلک پہچانا مجھے۔۔۔۔۔
تمہاری امّاں نے تحفے بھیجے ہے تمہارے اور تمہارے سسرال والو کے لیے وہی لے کر آئی ہوں۔۔۔
وہ اُسے دیکھ بے حد خوش دلی سے آگے بڑھ کر اُس کے گلے لگی لیکن لاکھ زور دے کر بھی فلک کا زہن اُسے پہچان نہیں پایا
آو نا گاڑی سے سامان نکالنے میں میری مدد کرو۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اُس کی حیرت کو نظر انداز کرکے مسکراتی ہوئی بولی۔۔۔۔
فلک نے سوچا شاید واقعی اُس کی امّاں نے کسی کو بھیجا ہو زیادہ زور دیئے بنا وہ گیٹ سے باہر آگئی۔۔
لڑکی نے پچھلی طرف کا دروازہ کھولا اور اُسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا جیسے ہی وہ آگے ہوئی اُسے اندر دھکّا دے کر خود بھی اندر گھس گئی۔۔۔
فلک نے گھبرا کر زور دار چینخ ماری
واچ مین وہیں کھڑا تھا۔۔۔
وہ بھی مدد کرنے کی غرض سے اُن کی طرف بڑھا تھا لیکِن پل کے پل اُس کی نظروں کے سامنے وہ فلک کو گاڑی کے اندر دھکیل کر وہاں سے فرار ہو چکے تھے
اے رکو۔۔۔۔۔۔۔۔
واچ مین چلّاتا ہوا کچھ دور گاڑی کے پیچھے بھاگا لیکِن جب کوئی فائدہ نہ ہوا اور گاڑی دور نکل گئی تو رک کے داؤد کو فون کرنے لگا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆۔۔۔
کیا ہوا منہ کیوں سوجا ہوا ہے
وہ انگڑائی لیتے ہوئے باہر نکلی تو ساحل کو خود کو گھور کر منہ پھیرتے دیکھ حیرت سے پوچھنے لگی
وہ باہر جانے کے لیے تیار ہو کر اپنے لیے چائے بنا رہا تھا
تیری ٹانگیں اگر کنٹرول میں نہیں رہیں نا تو کسی دن سچ میں میرے سے کُچھ ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا۔۔۔۔نین ایک پل۔کو حیران ہوئی اور پھر ذہن میں آیا کے شاید وہ کل مال۔میں کک مارنے کی وجہ سے غصّہ ہے
اچھا وہ کل۔۔۔۔تو تم کیوں ایسی حرکتیں کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے تم ٹھرکی ہو۔۔۔۔لیکِن میرے سامنے چھچھوری حرکتیں کروگے تو مجھے تو غصّہ آئیگا ہی نہ۔۔۔۔۔
وہ بےنیاز ہو کر بولی
صبح کی بات کر ۔۔۔
ساحل نے دانت پیس کر کہا۔۔۔
کیوں کے آج صبح پھر اُس کی نیند ایک زوردار لات کھا کر کھلی تھی بس فرق اتنا تھا کے اس دفعہ نین نیند میں تھی۔۔۔
اور وہ بدلے میں اُس پر غصّہ بھی نہیں کر پایا تھا نہ جگانے کی ہمت کر پایا تھا اُس کے پیٹ سے شرٹ اوپر دیکھ اُس کا دماغ غصے سے بھٹک کر کہیں اور جا رہا تھا۔۔اسلئے وہ خاموشی سے باہر آگیا تھا
صبح۔۔۔۔لیکن صبح کک نہیں ماری میں نے۔۔۔اچھا ماری کیا۔۔۔۔
وہ اُس کے پاس بیٹھتی حیرت سے پوچھنے لگی ساحل نے اُسے گھورا جس کا مطلب تھا اُس کا اندازہ صحیح تھا۔۔۔۔
سوری شاید نیند میں۔۔۔۔۔سچی جان بوجھ کر نہیں ماری ۔۔۔۔۔
وہ زبان تلے دبا کے بولی
پتہ ہے۔۔۔۔تو تو سب انجانے میں ہی کرتی ہے۔۔۔۔میری زندگی میں بھی انجانے میں ہی گھس آئی۔۔۔۔
وہ چائے کو زمین لکھے مگوں میں ڈالتے ہوئے بولا
بولا نا غلطی سے ہوا ۔۔۔۔اتنا کیا بھڑک رہے ہو۔۔۔۔۔۔
نین نے منہ بنا کے کہا۔۔۔اُس نے سر جھٹکا۔۔وہ اُسے دیکھتی شرارت سے مسکرائی
اچھا ویسے جب میں نے کک ماری تو تم دوسری طرح منہ کرکے سوئے تھے یا میری طرف۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ یاد کرکے شرارت سے ہنسی روک کر بولی تو ساحل نے دانت بھینچے اُسے خطرناک نظروں سے گھورا۔۔
كمتی ہوجائے گی کوئی دن میرے ہاتھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے بولا تو وہ ہنسی روکنے کی کوشش میں ناکام ہو کے منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگی۔۔۔
ساحل کے گھورنے سے لا پرواہ۔۔۔۔
فون بجا تو اُس کی ہنسی کو بریک لگے اُس نے فون اوکے کرکے ساحل کے ہاتھ سے مگ لے کر اُس کے ہاتھ میں فون تھمایا
ماما کے بیٹے یہ پکڑو جلدی۔۔۔۔۔
بولتی ہوئی بنا کچھ کہے اُس کے ہاتھ میں فون دیا وہ نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگا
ممی سے بات کرو۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی تو اُس کے چہرے کے تاثرات بدلے
میرے کو نہیں کرنی۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں کہتا فون اُسے دینے لگا لیکن وہ غصے سے اُسے گھور کر اُس کا ہاتھ کان کے قریب لے گئی
منہ بند کرکے بات کرو ۔۔۔۔۔۔
اُس کے گھورنے پر آنکھیں دکھا کر بولی
وہ کیسے کرتے ۔۔۔۔۔۔
اُس نے دانت پیس کر پوچھا
ہیلو بیٹا میں زینب بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
اُس کی آواز پر زینب نے مسکراتے لہجے میں کہا تو مجبوراً اسے فون کان سے لگا کر زبردستی اُسے سلام کرنا پڑا۔۔۔۔۔
لیکِن و نین کو گھورنا نہیں بولا جو اب آرام سے چائے کا مگ لے کر جھولے کی طرف بڑھ گئی تھی
خوش رہو بیٹا کیسے ہو۔۔۔۔۔۔
اُس کے سلام کے جواب میں انہوں نے خوشدلی سے کہا
میری چھوڑیئے آپ کے گھر میں تو سکون ہے نہ اب
میرا مطلب سب اچھا ہے نہ۔۔۔۔۔۔
وہ جل کر کہتا بات سنبھال گیا۔۔۔۔نین نے اُس کی بات پر آنکھیں پھیلائی۔۔۔
ہاں بیٹا یہاں سب خیریت ہے۔۔۔۔آپ کا کام کیسا چل رہا ہے
زینب نے اپنائیت سے پوچھا پہلے جو ناگواری اور نا پسندیدگی تھی وہ اب کہیں نظر نہیں آرہی تھی
کون سا کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔چپراسی کا۔۔۔۔یا گنڈا گردی کا
اچھا چل رہا ہے کل ہی ایک کو اتنا دھویا کے ابھی تک ڈینجر زون میں جُھل رہا ہے آج بھی ایک سے تگڑی فائٹ ہے
وہ اُنہیں جتا رہا تھا یا اپنی امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
لیکِن زینب نے مکمل طور پر نظر انداز کیا کیوں کے اپنی بیٹی سے جو کچھ وہ سن چکیں تھیں اُن کی رائے بدل گئی تھی۔۔۔
جب کے نین کو اچانک ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اُس نے شاید ساحل سے بات کروا کر غلط کیا اُس کی باتیں زینب کو پریشان کر دیں گی۔۔۔
وہ اٹھ کر اُس کی طرف بڑھی اور فون لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا
کیا تم اور نین کچھ دن کے لیے یہاں نہیں آسکتے ۔۔۔۔۔۔
نین سے مِلنے کا بہت دل کر رہا ہے اگر تم نہیں کہوگے تو و کبھی نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کی بات اگنور کیے پوچھا تو وہ اُس کے آگے بڑھے ہاتھ کو دیکھ کر ہنسا
میرے سے تو جیسے وہ پوچھ پوچھ کر سانس لیتی ہے۔۔۔
آپ کیا اپنی بیٹی کو اتنی فرما بردار سمجھتی ہے۔۔۔۔۔
اگر میری اتنی مانتی ہوتی نا تو کب کی چلی جاتی یہاں سے لیکِن وہ تو چمگادڑ کی طرح چپک گئی ہے اِدھر۔۔۔
وہ طنز کرتا زینب کو شرمندہ کرنے کی کوشش میں تھا تاکہ وہ خود ہی نین کو اُس کے پاس سے لے جائیں۔۔۔۔جب کے نین کے دل اب اُس کی بات سے بری طرح مایوس ہوا تھا۔۔۔
اُس نے فون لینے کی کوشش میں ہاتھ آگے بڑھایا تو ساحل نے سرد نظروں سے اُسے گھور کر اُس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا اور اٹھ کر آنگن سے باہر گھر سے دور آگیا۔۔۔۔وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی کے پتہ نہیں زینب اُس کی باتوں کو کس طرح لیں گی ۔۔۔
اگر تم اس طرح بات کرکے اپنی امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو مت کرو۔۔۔۔۔۔ہاں میں تمہیں پہلے اپنی بیٹی کے قابل نہیں سمجھتی تھی ۔۔
میں اللّٰہ سے ناراض تھی کے میری بیٹی کے ساتھ اُس نے نا انصافی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جو ڈیزرو کرتی تھی اُسے نہیں ملا
لیکِن جس طرح تم نے میری بیٹی کا ہر قدم پر ساتھ دیا ہے۔۔اُس کا خیال رکھا ہے مجھے نہیں لگتا کے تم سے بہتر کوئی کر سکتا تھا
زینب نے اُس کی ساری کوشش پر پانی پھیر کر اُسے خاموش کر دیا۔۔۔۔۔۔اُس کی خوشفہمی پل میں مٹ گئی
شاید تم نین کے لئے ایک بہترین انتخاب ہو۔۔۔۔۔
داؤد سے بھی بہتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے رک کر کہا تو اُس نے گہری سانس لی
قابلیت کو علم اور دولت کے ترازو میں تولنے کی عادت ہو گئی ہے ہمیں لیکن مجھے میری بیٹی کے لیے ہمیشہ سے وہ انسان چاہیے تھا جو اُسے سمجھے ۔۔۔اُس سے بے حد محبت کرے۔۔۔۔۔اُسے ہمیشہ خوش رکھے اُس کا ہر قدم پر ساتھ دے۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے سنجیدگی سے کہا تو اُس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں
میں نے آپ سے جو سب بولا اس کے۔لیے سوری لیکِن آپ نہیں سمجھتی میرے کو۔۔۔۔۔
نہ میں آپ کی بیٹی کے قابل ہے نہ بہتر
وہ میرے ساتھ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی کیوں کے میرے پاس اُس کو دینے کے لیے کوئی پیار ویار نہیں ہے
اُس نے بھی سنجیدہ ہو کر اب سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
وہ جتنا خوش خود کو دکھا رہی ہے نہ ۔۔۔۔۔۔ہے نہیں
اِدھر آ کر دیکھو تو پتہ چلے کے کیسے پس رہی ہے اس رشتے میں ۔۔۔۔۔۔ دن رات میرے جیسے جاہل کو جھیل رہی ہے
اُس نے زینب کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہیں تب بھی اپنی بیٹی کی باتوں کے آگے یہ دلیل بے معنی لگی
یہ عقل سے پیدل لڈکیوں کا سالہ یہ ہی پرابلم ہے اندر ہی اندر روتی ہے اور جو رلاتے ہے اُن کو ہنس ہنس کے دانت دکھاتی ہے
وہ باپ ہے اس لیے سمجھ نہیں سکا آپ تو اپنی بیٹی کو سمجھو
اُس کو یہاں سے لے کر جاؤ
کچھ نہیں ملے گا اُس کو زندگی بھر یہاں
ایسے ہی گھٹ گھٹ کر جیتی رہیگی اپنے باپ کی عزت سنبھالنے کے لیے
اگر کچھ نہیں تو ترس کھاؤ اس کی جان پر اور لے کے جاؤ اُس کو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا رکے سنجیدگی سے کہہ کر فون بند کر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
چند پل وہیں کھڑا رہا بھلے اُس کے الفاظ سخت تھے لیکن وہ نین کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر اُسے خطروں کی نظر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
اس طرح کیوں بات کی تم نے میری ممی سے۔۔۔۔
وہ اُسے اپنی طرف آتا دیکھ خفگی سے بولی ساحل نے بنا کوئی جواب دیے اُسے خاموشی سے دیکھا اور اُس فون اُس کی گود میں اچھال کر خود باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ بائیک کودور جانے تک دیکھتی رہی
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ چینخی چلائی جھٹپٹائی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا پچھلی سیٹ پر بیٹھی دونوں لڑکیوں نے اُسے مضبوطی سے جکڑے رکھا۔۔۔۔۔
اُس کے منہ پر پٹی باندھ دی گئی۔۔۔
اُس نے ہاتھ چلائے تو۔ایک لڑکی نے اُسے زوردار تھپڑ رسید کرکے اُس کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ دیے۔۔۔۔
وہ روتی تڑپتی اللہ سے مدد مانگتے ہوئے دل ہی دل میں داؤد کو پکار رہی تھی۔۔۔۔۔
پتہ نہیں اچانک سے پھر کیسے نئی مصیبت آگئی تھی جس نے ٹھہرے پانی میں ہلچل مچا دی تھی۔۔۔
ایک ڈیڑھ گھنٹے تک چلنے کے۔ بعد گاڑی ایک فارم ہاؤس پر رکی۔۔۔۔
اور دو لوگ اُسے کھینچ کر باہر نکالے اندر لیجانے لگے۔۔۔۔۔
وہ اپنے پیروں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اُن طاقتور آدمیوں کے آگے اُس کا زور نہیں چل رہا تھا۔۔۔اُس کے پیر مٹی پر گھسیٹے جا رہے تھے۔۔۔۔
منہ پر بندھی پٹّی آنسوؤں سے تر ہو گئی تھی۔۔۔۔
اُسے اندر لا کر اُن لوگوں نے بازو چھوڑے تو وہ سامنے شان سے بیٹھے شخص کو دیکھ کر سانس روک گئی۔۔۔۔
وہ سفید شرٹ اور بلیو جینس میں ہمیشہ کی طرح اپنے مغرور انداز میں مسکراتا ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا۔۔۔
اندازا تو اُسے ہو گیا تھا کیوں کے اُس کے نصیب میں صرف سکندر نام کی ہی تکلیف لکھی ہوئی تھی۔۔۔۔لیکِن پورے راستے دعا کرتے ہوئے سوچتی رہی تھی کے شاید یہ اندازہ غلط ہو۔۔۔۔
سکندر نے باقی سب کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور خود صوفے سے اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
اُس کے لرزتے قدم پیچھے ہونے لگے۔۔
آنکھوں نے آنسوؤں کے ساتھ خوف بھی تھے۔۔۔
وہ دھیمے دھیمے قدم بڑھاتا اُس کے پاس آکر رکا ۔۔۔
عجیب سوز زدہ انداز تھا اُس کی نظروں کا کے فلک کے بدن میں سرد لہر دوڑنے لگی۔۔۔
اُس کی تشنہ نگاہیں بھیگی پلکوں سے نیچے آئی تو اُس نے ہاتھ بڑھا کر پیچھے سے اُس کے منہ پر بندھی پٹّی کھول دی۔۔۔
فلک نے ایکدم سے سانس لی۔۔۔۔۔۔
کتنا یاد کیا کتنا اِنتظار کیا اپنے سرکار کے دیدار کی خاطر ہم نے۔۔۔۔۔۔
وہ بنا اُسے ہاتھ لگائے اُس کی طرف جھکتا دھیمے سلگتے سے انداز میں بولا فلک کے اتنے قریب تھا کے فلک گھبرا کر آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔اُس کی سانسوں کی تپش پیشانی جلانے لگی۔۔۔۔۔
دل شدت سے مچلنے لگا۔۔۔
تمہیں کیا لگا ۔۔۔سکندر بھول گیا۔۔۔۔سکندر نے ہار مان لی۔۔۔۔
وہ ٹھہرے ٹھہرے لہجے بولتا اُس کے لرزتے لبوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
فلک نے ہچکی لے کر آنکھیں کھولتے ہوئے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔
اُس کے دلکش چہرے میں آج بھی فلک کو وہی شیطانیت نظر آئی جو پہلے تھی۔۔۔۔۔۔۔اُس کی سنجیدہ آنکھوں میں اپنا سیاہ مقدر نظر آیا۔۔۔
اُس نے پوری طاقت جمع کرکے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھے اُسے زور کا دھکّا دیا۔۔۔۔
وہ ہلکا سا ہلا ضرور لیکِن اُس سے دور نہیں ہوا۔۔۔۔بلکہ اُس کی اس کوشش سے محظوظ ہو کے مسکرایا۔۔۔
اپنے سینے پر رکھے اُس کے ہاتھوں کو دیکھ کر وہ مسکراہٹ اور گہری ہوئی
وہ اپنی بے بسی پر تڑپ کے رہ گئی ہاتھ پیچھے کرکے بے بسی سے رونے لگی
میں جس چیز کو اپنا بنانے کی ٹھان لوں اُسے حاصل کرنے تک سکون سے نہیں بیٹھتا۔۔۔۔ہار ماننا تو نا ممکن بات ہے
میری خاموشی کو شاید تم نے میرا ڈر سمجھ لیا تھا لیکن ایک بات بتاؤں۔۔۔۔
وہ اب بھی اطمنان سے اُس کی گھبراہٹ اور نے بسی کو انجوئے کرتا بولے جا رہا تھا۔۔۔
دنیا کا بہادر سے بہادر انسان بھی موت سے ضرور ڈرتا ہے لیکن سکندر کو موت سے بھی ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔اب اندازہ لگا لو کے کیا سکندر کا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنا ممکن تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ باور کرانے والے انداز میں بولا تو فلک نے بھیگی آنکھوں میں نفرت لیے اُسے دیکھا
خدا سے بھی ڈر نہیں لگتا تمہیں۔۔۔۔
وہ نہایت نفرت سے پوچھنے لگی ۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔
اُس نے ایک لفظ میں جواب دیا تاثرات نہایت سرد تھے۔۔۔۔
تم شیطان سے بھی بڑھ کر شیطان ہو سکندر۔۔۔۔اللہ تمہارا بہُت بھیانک حشر کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دکھ و افسوس سے بولی حیرت بھی ہوئی کے وہ کس قدر گمراہی میں مبتلا ہے
میری نہیں ۔۔۔فلهال اپنی سوچو ۔۔۔۔۔جو میں کروں گا اُس کے بارے میں۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر مسکرا کر بولا ۔۔۔
مجھے یقین ہے خدا پر۔۔۔۔وہ پھر داؤد کو بھیجیں گے مجھے بچانے۔۔
وہ رندھی آواز میں بولی۔۔
اس لیے کہہ رہی ہو نا کیوں کے اب تک وہ تمہیں بچاتا رہا ہے۔۔ ۔۔۔
وہ شولڈر دیوار سے لگانے اب بھی اُس کے اتنے ہی قریب کھڑا تھا
کیوں کے میں نے اُسے بچانے دیا۔۔۔۔۔
لیکِن اب وہ اگر میرے راستے میں آیا۔۔۔۔۔تو زندہ واپس نہیں جائیگا۔۔۔
تمہارے بھائی کی طرح۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں نہایت پرسکون انداز میں بولا۔۔۔
فلک کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوما تو اُس کی دھڑکنیں دھیمی پڑنے لگی۔۔۔۔
ایک بار تمہیں چھونے کا گناہ کیا کیا جانم۔۔۔۔
تم نے تو سیریل کلر بنا دیا۔۔۔اب اور۔مت کرواؤ اتنے گناہ ۔۔۔۔میری ہو جاؤ۔۔۔۔
وہ اُس کی بھیگی پلکوں کو اُنگلیوں سے چھوتے ہوئے بہکے بہکے انداز میں بولا ۔۔۔۔
فلک سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
دنیا کو بتا دو کے سکندر تب بھی شہنشاہ تھا اب بھی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ تب بھی جیتتا تھا۔۔۔۔۔اور آج بھی جیت پر صرف اُس کا حق ہے۔۔۔۔
وہ اپنے انداز میں کہتا ہلکا سا مسکرایا اسی وقت باہر سے گولی چلنے کی آواز آئی تو فلک کو لگا اُس کا رکتا دل دوبارہ دھڑکنے لگا ہے۔۔۔۔
لو آگیا تمہارے خدا بھیجا ہوا فرشتہ۔۔۔۔سکندر کے ہاتھوں مرنے۔۔۔
سکندر کے اطمینان میں ذرا کمی نہیں آئی جیسے وہ پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔۔۔۔
فلک کا بازو پکڑکر اُسے اپنے ساتھ لیے صوفے کی طرف بڑھا