Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 43
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
Episode 43
وہ پارٹی کے اختتام پر واپس روم میں آیا تو فلک آرام سے پھولوں سجے بیڈ پر سوئی تھی۔۔۔۔۔
اُس نے کپڑے تبدیل نہیں کیے تھے شاید بہُت بری تھک چکی تھی اس لیے ایسے ہی لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔
اس طرح کی پارٹی اٹینڈ کرنے کا اُس کا پہلا تجربہ تھا اس لیے پورا وقت وہ بہُت نروس رہی تھی ۔۔۔۔۔اوپر سے سب کی حیران نظریں اُس پر تھی کیوں کے داؤد اور اُس کی شادی سب کے لئے ایک بریکنگ نیوز تھی۔۔۔۔
گھر والوں کا انداز بھی اُس کے ساتھ بہُت لیا دیا تھا ۔۔
لیکِن داؤد نے پورا وقت اُسے اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا تھا۔۔۔
ایک پل کے لیے بھی تنہا محسوس نہیں ہونے دیا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے لیے خاص تھی وہ اُسے اس بات کا ہر موڈ پر یقین دلاتا تھا۔۔۔
وہ دروازہ دھیرے سے بند کرکے اندر آیا تاکہ اُس کی نیند میں خلل نہ ہو۔۔۔۔ اُسے ایک نظر مسکرا کر دیکھتے ہوئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا
یہ کمرہ بھی بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔دادی نے ہی عشرت اور شیرین کو یہ کام سونپا تھا کے بھلے بہُت کچھ غلط ہو چکا ہو لیکِن اب سب بھول کر بہت اچھے سے دونوں کی ساری رسمیں ادا کرنی ہے۔۔
اُلجھے ہوئے رشتوں کو سلجھانا ہے۔۔۔۔۔
وہ چینج کرکے اپنی سائیڈ پر لیٹ گیا اور بہُت فرصت سے اُس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
جیسے نظریں کتنی ہی پیاسی ہو اور وہ آج ساری پیاس بجھا کر جی بھر کر سیراب ہونا چاہتا ہو۔۔۔۔۔۔
فلک تو ہوش میں اُس کی نظروں سے خوفزدہ ہوجاتی تھی اسلئے آج وہ اُس کی نیند کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
فلک کی گھنی گالوں پر بچھی پلکیں۔۔۔۔سُرخ نازک لب۔۔۔۔اور پر کشش سراپا اُسے اپیل کر رہے تھے۔۔۔۔
دل بے خود ہو رہا تھا۔۔۔۔نظریں بھٹک کر اُسے بہکانے کا کام کر رہی تھی۔۔۔۔
اوپر سے سانسوں میں گھلتی کمرے میں بکھرے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو آگ میں گھی کا کام انجام دے رہی تھی
اُس کی والہانہ نگاہوں کی تپش کا ہی اثر تھا کے فلک نیند میں بھی اُنہیں محسوس کرکے بے چین ہوتی كسمسا کر سیدھی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا سی حرکت سے اُس کی چوڑیوں اور پایل نے خاموشی میں جو مدھر آواز بکھیری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بہُت بھلی تھی۔۔۔
اُس کا ہاتھ گلے میں پڑے بھاری نیکلیس پر رکھا تھا جس سے یقیناً اُسے بہُت اُلجھن ہو رہی تھی
داؤد اٹھ کر بیٹھا اور بہُت احتیاط سے ہاتھ اُس کی گردن میں ڈالتے ہوئے پیچھے سے نیکلیس کی ڈور ڈھیلی کی اور آہستہ سے اُسے باہر نکال کر سائڈ میں رکھا۔۔۔,۔۔۔۔,۔۔۔
بال ہٹا کر سرخ ہوتی گردن کو بہت دھیرے سے اُنگلیوں کے پوروں سے سہلایا۔۔۔۔۔۔بے خود نگاہیں اس کے سرخ لبوں پر جمی تھی اور دل فلک کی نیند کا فائدہ اٹھانے پر بھرپور اکسا رہا تھا لیکِن پھر بھی وہ اپنی ایمانداری پر قائم تھا
جب کے وہ اُس کے حرارت دیتے لمس کے زیرِ اثر نیند سے جاگ کر بھی آنکھیں بند کیے پڑی تھی۔۔۔
دل بہُت زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
داؤد نے اُس کے دونوں کانوں کے آویزے بھی جدا کرکے سائیڈ پر رکھے اور اُس کی کلائیوں سے چوڑیاں نکالنے لگا۔۔۔۔۔
فلک نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو داؤد کی نظریں اُس کے چہرے پر ہی تھی۔۔۔
نظروں کے تصادم نے ماحول پر بہُت گہرا اثر چھوڑا۔۔۔۔۔۔ وہ اُس کی گہری نظروں سے نروس ہو کر پلکیں جھکاتی آہستہ سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔۔
اُس کی کلائی اب بھی داؤد کے ہاتھ میں تھی۔جن سے وہ دھیرے دھیرے چوڑیاں جُدا کر رہا تھا۔۔۔
لیکن نظریں مسلسل اُس کو چہرے پر ٹکی بےخودی کا پیغام بنی ہوئی تھی جن کے اثر سے فلک کی سانسیں اُتھل پتھل ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
کلائی مکمل خالی ہونے کے بعد اُس نے آہستہ سے اپنی جانب کھینچی جس کے باعث فلک ایکدم سے اُس کی طرف جھک کر اُس کے قریب ہو گئی۔۔
آنکھیں حیرت و خوف سے پھیل گئی۔
داؤد نے ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کے بالوں سے پن کھینچ کر انہیں آزاد کیا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی گردن پر ہاتھ رکھے چہرے پر جھکا اور دائیں گال کو لبوں سے چھوا بے حد نرمی سے وہ سانس روک کر آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔۔دل اتنا تیز دھڑ کنے لگا مانو نکل کر باہر آجائے گا۔۔۔
وہ پیچھے ہوا اور مدھم سا مسکرا کے اُس کی بند آنکھوں کو دیکھا۔۔۔۔
تمھارے اس خوبصورت روپ نے میرے صبر کے سارے باندھ توڑ دیے ہے مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے گمبھیر سرگوشی میں بولا۔۔۔۔فلک نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔وہ اُس کے بے حد قریب تھا سایا بن کے اُس پر چھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔سانسوں سے اُس کے چہرے کو مہکا رہا تھا۔۔۔۔
میرے اندر کے شریف آدمی کو بدمعاش بننے پر اکسا رہی ہو تم آج۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی لرزتی پلکوں کی حرکت پر مسکراتا ہوا بولا۔۔۔۔۔فلک کے چہرے پر بکھرے حیا کے ڈھیروں رنگ بے حد حسین تھے۔۔۔۔۔۔۔
اُس پر داؤد کا یوں تعریف کرنا اُس کے ننھے سے دل کے حسین جذباتوں کو جگا رہا تھا۔۔۔جو دم توڑ چکے تھے۔۔۔
وہ اُس کے دوسرے گال کو چھونے کے ارادے سے آگے بڑھا تو فلک نے ایکدم سے اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کے لیے اُس کا یہ ردِ عمل بے حد حیران کن تھا۔۔۔۔
کیوں کے اس کے لب مسکرا رہے تھے۔۔۔۔
وہ ہمیشہ خوفزدہ ہوجاتی تھی لیکن آج اُس کے چہرے پر کوئی خوف نہیں بلکہ حیا کی لالی تھی۔۔۔
داؤد کو حیرت کے ساتھ بے حد خوشی بھی ہوئی اُس نے فلک کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیے اور بے خود نگاہوں سے اُس کی بند آنکھوں کو دیکھتا اُس کے لبوں پر جھکنے
لیکِن وہ اُس کے لبوں کو چھوتا اُس کے پہلے فلک ایکدم سے چہرہ اُس کے سینے سے لگ کر چھپا گئی۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے اُسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔آج تو داؤد کی قسمت بڑی مہربان نظر آرہی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے آنکھیں سختی سے میچ کر اُس کی شرٹ کو تھاما
خود سے وعدہ کیا تھا کے وہ آج داود کو مایوس نہیں ہونے دیگی ۔۔۔۔۔جس نے اُسے اُس کی سوچ سے زیادہ ساتھ و سہارا دیا اُس کی اُداسی کی وجہ نہیں بنے گی۔۔۔۔۔
اُس کے لیے تھوڑا مشکل ہوگا داؤد کی قربت کو سہنا۔۔۔سکندر کی دی تکلیف کو بھولنا لیکِن یہ یقین بھی تھا کے داؤد یہاں بھی اُس کی تمام مشکلیں آسان کردیگا۔۔,۔۔۔۔۔
اور واقعی اُس نے فلک کا مزید امتحان نہیں لیا۔۔۔۔۔اُس کے لیے یہ پیش قدمی ہی بہُت تھی ۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کے اُسے یقین تھا اس کے لیے بھی فلک کو بہت ہمت جٹا نی پڑی ہوگی۔۔۔۔۔
اپنی باقی خواہشیں کچھ اِنتظار کی گھڑیوں کے حوالے کیے فلک کو سینے سے لگائے سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
©©©©©
صبح کی نماز کا الارم خاموش کمرے میں گونجا تو سب سے پہلے نین کا ذہن بیدار ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاری پلکوں کو بمشکل کھولنے کی کوشش کی تو دھندلے منظر صاف ہونے لگے۔۔۔۔۔
وہ رات والی پوزیشن میں ہی دیوار سے لگ کر بیٹھے بیٹھے سویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اور نین اس کے سینے سے چہرہ ٹکائے دونوں بازو اُس کے گرد باندھے اُس سے لپٹ کر سوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں پیر اُس کے پیر کے نیچے تھے
کمرے کی بکھری حالت دیکھ آہستہ آہستہ گزری رات کا واقعہ ذہن کے پردے پر صاف ہونے لگا تو وہ ایکدم سے سیدھی ہوئی۔۔۔۔۔۔ سر اُٹھا کر اُسے دیکھا جو آنکھیں بند کئے سکون سے پڑا تھا۔۔۔۔۔
اُسے احساسِ ہونے لگا کے کیسے وہ رات کو اُس کے سامنے کھل گئی تھی۔۔۔۔۔اُس کے سامنے سب اُگل دیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ تو یقیناً اُس پر اندر ہی اندر ہنس رہا ہوگا۔۔۔۔
وہ اپنی بے ساختگی پر خود کو جی بھر کر کوستی پیچھے ہونے لگی لیکِن ساحل کے گلے میں پہنی چین اُس کی کرتی کے بٹن میں اُلجھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے آہستہ سے اُس کی چین کو اپنے بٹن سے جدا کیا اور اپنے پیر اُس کی ٹانگ کے نیچے سے کھینچ کر الگ کیے۔۔۔۔۔۔جس کے اثر سے ساحل کی نیند بھی کھل گئی۔۔۔۔۔
اُس نے بوجھل نیند بھری آنکھیں کھول کر نین کو دیکھا۔۔۔
نین اُس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے وہاں سے اٹھی۔۔۔۔ اور ساڑھی کو سنبھالے محتاط قدم بڑھاتی چنجینگ روم میں چلی گئی۔۔۔۔۔
ساحل کو تو اُسے دیکھ کریہی اندازا ہوا کے وہ اب رات کے مقابلے بہتر ہے وہ بھی وہاں سے اٹھ کر بیڈ پر آکے لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لی۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا اللہ میری مدد کر۔۔۔۔۔۔۔
بھلے ساحل کے لیے دل میں کبھی کچھ ہو نا ہو۔۔۔۔۔۔
لیکن اگر داؤد کے لیے کچھ بھی ہے تو اُسے ختم کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جاۓ نماز پر ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے خدا سے فریاد کرنے لگی۔۔۔۔۔
جتنا رونا تھا وہ رو چکی تھی اب دِل بلکل خالی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ داؤد کو لے کر اب کچھ بھی نہیں سوچنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔نا اپنے پاپا کی باتوں کو پھر یاد کرنا چاہتی تھی
نماز سے فارغ ہو کر وہ اپنے ہاتھوں برباد ہوئے کمرے کو سمیٹنے لگی۔۔۔۔۔
اپنا سارا سامان اٹھا کے ایک جگہ رکھا اور باقی کچرا بھی صاف کرکے روم کی حالت کچھ حد تک بہتر کردی
اُس کا کام جاری ہی تھا۔۔۔ بیڈ پر بکھرے پھول سمیٹ ہی رہی تھی کے ساحل کے بڑبڑانے کی آواز پر رک گئی۔۔۔۔۔
اُسے بڑبڑا ہٹ کچھ سمجھ نہیں آئی تو ہلکی سی اُس کی اور جھکی اور غور سے سننے لگی
اپن پر ڈورے ڈال رہی ہے یہ ڈینجر سنریلا۔۔۔۔۔لیکِن ساحل اس کی اداؤں کے جال میں نہیں پھنسنے والا ۔۔۔۔۔۔
وہ نیند سے بھاری آواز میں بڑبڑا رہا تھا یقیناً شروع شروع میں نین کے جو تیور تھے انہیں یاد کرکے ,۔۔۔
نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا
ایک بار۔۔۔۔۔ اپن کی سٹکی نا تو اُس کو یہچ کمرے میں چنوا کرکہیں فرار ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔
نیند کے خمار میں ڈوبی آواز رک رک کر نکل رہی تھی
اچھا۔۔۔۔۔۔۔میرے خوابوں میں مجھ سے ہی میاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکو ذرا
وہ سر ہلا کر اُسے گھورتی اپنی سائیڈ پر لیٹی اور اُسے پیچھے سے ایک زوردار لات مار کر پھر سے سوتی بن گئی۔۔۔۔
اس ایکشن رپلے کی بدولت ساحل کے خوابوں میں بم دھماکے ہوۓ۔۔۔
جب کے حقیقت میں وہ بیڈ کے نیچے پڑا کراہ رہا تھا۔۔۔۔۔
تیری تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے غصے سے گھورتا اُس کی طرف بڑھا
اُس کی سونے کی ایکٹنگ پر دانت پیسے اور اُسے کچھ کہتے کہتے رک گیا۔۔۔۔
کیوں کہ پتہ تھا وہ یوں سیدھے سے تو ڈرامابند کریگی نہیں ۔۔۔
اُس نے بھی اُلٹے طریقے سے کام لیا۔۔۔۔
ٹی شرٹ کی فٹنگ مست ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے بولا نین نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
اٹھ کراُسے گھورتے پیروں کی جانب پڑا کمفرٹر اپنے گلے تک کھینچ لیا
یو ٹھرکی کہیں کے۔۔۔۔۔خبردار جو مجھ پر گندی نظر ڈالی آنکھیں نکال لوں گی تمہاری۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے غصے سے بھڑک کر بولی ساحل نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اُسے سکون سے ملاحظہ کیا تو اُسے دھیان آیا کے وہ کیوں سوتی بنی تھی اور اب اٹھ کر کتنی بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔
اُس نے زبان دانتوں میں دبائی اور مسکرا کر ساحل کو دیکھا
Wow you are looking so good mama ke bete۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ سے اُتر کر اُس کے پاس آتی حیرت سے اُسے سر تا پیر دیکھ شہد میں ڈوبے لہجے میں بولی۔۔۔۔
ساحل نے اُسے خمشگین نظروں سے گھورا۔۔۔اس نے معصومیت سے پلکیں جھپکیں۔۔
ارے بڑے ماما آپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ا یکدم سے سنجیدہ ہو کر اُس کے پیچھے دیکھ کر بولی تو ساحل نے بھی پیچھے دیکھا لیکِن وہاں کوئی نہیں تھا بلکہ دروازہ بند تھا اور وہ اُس کے پلٹنے کا فائدہ اٹھا کر وہاں سے غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے واشروم کے بند دروازے کو گھور کر اپنی قسمت کو کوسا۔۔۔۔۔۔
وہ شاور لے کر واشروم سے باہر نکلی تو ساحل اُس کا سارا سامان نکال کر بیڈ پر پڑے سوٹ کیس میں بھر رہا تھا بلکہ ٹھوس رہا تھا۔۔۔
کل ہی اُس کا سامان نانو نے اُس کے کمرے سے ساحل۔کے کمرے میں سیٹ کروایا تھا۔۔۔۔
وہ گیلے بالوں کو ایسے ہی چھوڑے اُسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
ساحل نے پلٹ کے اُسے دیکھا اور سوٹ کیس بند کرکے بیڈ سے نیچے اتار کر اُس کی طرف بڑھایا
یہ رہا تیرا بوریا بستر۔۔۔۔۔۔۔۔اٹھا اور نکل جا اپنے ماں باپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
دو دن سے تیرے کو جھیل جھیل کر آدھا پاگل ہو چکا ہوں ۔۔۔۔
اب کلٹی ہو اِدھر سے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
میں یہاں رہوں گی یا نہیں یہ ڈیسائڈ کرنے والے تم۔کون ہوتے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ ناگواری سے اُسے دیکھ کر ٹاول پھینک کر اُس کی طرف بڑھی
تم سے شادی کیا کر لی تم۔تو خود کو میرا مالک سمجھنے لگے
کسی خوش فہمی میں مت رہنا ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔
جس سچویشن میں میں تھی نا ۔۔۔۔۔تم سے تو کیا اگر کسی راہ چلتے گدھے سے بھی شادی کرنی پڑتی تو کر لیتی۔۔۔
بہت زیادہ سیریس مت لو اس شادی کو۔۔۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے غصے و ناگواری سے بولی۔۔۔
اچھا اور کل جو تُجھے بیوی کے دورے پڑے تھے ۔۔۔۔۔مجھ پر اتنے لاڈ ڈال رہی تھی وہ کس خوشی میں تھا ۔۔
ساحل نے بھی جواباً غصے سے پوچھا
وہ تو۔میں غصے میں تھی اسلئے تمہیں اتنی عزت دے دی ۔۔اُسے سہانا خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔۔یہی بہتر ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھا کر بولی ساحل نے بیزاری سے اُسے دیکھ کر سر جھٹکا جیسے بہت وہ خوش تھا اُس کے عزت دینے سے
اور نیند میں کیا کہہ رہے تھے تُم۔۔۔۔۔میں تم پر ڈورے ڈال رہی تھی۔۔۔۔
خودکو نیچے سے اوپر تک دیکھا بھی ہے تم نے کبھی۔۔۔۔۔شکل ہے تمہاری ڈورے ڈالنے کے قابل۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں کو مزید بڑی کیے اُسے سر سے پیر تک اشارہ کرنے لگی
بے عزتی سہنے کے عادت ہے اپن کو۔۔۔۔۔۔
ہوش سنبھالنے کے بعد سے ہر دِن ایک نئے انسان سے بے عزت ہوا ہوں تو بھی بھڑاس نکال لے کوئی واندا نہیں۔۔۔۔
ساحل نے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔ نین کو اُسی پل اپنی بات پر شرمندگی ہوئی
لیکِن خود کی سوچ۔۔۔۔۔۔۔یہاں رہےگی تو دِن رات داؤد کو کِسی اور کے ساتھ دیکھ کر دل جلاتی رہےگی۔۔۔۔
اور سن لے۔۔۔۔۔ تیرے رونے دھونے کا نہ اُس کو گھنٹہ بھی فرق نہیں پڑ نے والا سمجھی۔۔۔۔۔
اس لیے بول رہا ہوں اپنے ماں باپ کے ساتھ واپس جا ۔۔۔۔سب بھول جائے گی خود ہی دھیرے دھیرے۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے سمجھاتے ہوئے بولا وہ جو اُس سے تلخ بات کرنے پر شرمندہ تھی اپنی غلطی بھول کر غصّے سے اُسے دیکھا ۔۔۔۔
مجھے داؤد سے اب رتی برابر بھی لینا دینا نہیں۔۔۔۔کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کسی کے ساتھ بھی ہو۔۔۔۔
تمہاری بھاشا میں ۔۔۔۔۔داؤد گیا تیل لینے۔۔۔۔۔
اُس کی وجہ سے میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے جتاتی ہوئی بولی
سب پتہ ہے اپن کو کتنا فرق پڑتا کتنا نہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے طنز کیا جو نین کو بری طرح چبھا۔۔۔۔۔
وہ اُسے عاجزی سے دیکھتا پلٹ گیا لیکِن نین نے اگلے ہی پل اُس کے بازو کو پکڑے اُس کا رخ اپنی جانب کیا
یو راؤڈی۔۔۔۔۔۔مجھے ایموشنل کرکے سہارا دینے کا ڈراما کیا اور اب تانے مار رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں خفگی سے دیکھتی سختی سے اُس کا بازو پکڑ کے بولی ساحل نے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے اُس کا ہاتھ ہٹا کے پیچھے کیا
سمجھا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔سمجھنا ہے تو سمجھ۔۔۔
کیوں کے یہاں تو تجھے میں ویسے بھی رہنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔۔دو دن برداشت کیا لیکِن اب نہیں کروں گا۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
اچھا تم مجھے یہاں سے نکالو گے۔۔۔۔
یہ گھر میرے نا نا جان کا ہے سمجھے نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر اُسے جتاتے ہوئے بولی
تو اس گھر میں کدھر بھی جا کے مر ۔۔۔یہ روم اپن کا ہے سمجھی نا۔۔۔۔
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا
میریج سرفیکٹ کے حساب سے یہ روم اور یہاں کی ہرچیز تمہارے ساتھ میری بھی ہے۔۔۔۔
نین نے پورے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈٹ کے جواب دیا
اُس حساب سے تو پھر۔۔۔ تو بھی میری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے ساختگی میں ایکدم سے کہہ گیا اور نین کے ساتھ خود بھی حیران ہوا
مطلب تُجھے اٹھا کر کدھر بھی پھینک سکتا ہوں میں۔۔۔۔
وہ فوراً ہی بات کو نیا رخ دے کر بولا جس پر نین نے آنکھیں چھوٹی کیں
اگر مجھے امیجینشن میں بھی ہاتھ لگایا نا تو ہاتھ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔۔
نین نے بڑے ہی زبردست دھمکی دی جس پر ساحل نے ابرو اٹھا کر اُس کا سر سے پیر تک جائزہ لیا۔۔۔۔۔
مانو طنز کیا کے یہ نازک جان اُس کا ہاتھ کیسے توڑے گی
ا ا۔۔۔انڈر ایسٹیمیٹ مت کرو مجھے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی
ٹھیک ہے کوششں کرکے دیکھ لے۔۔۔۔۔
اُس نے اطمینان سے کہتے ہوئے شرٹ کے بٹن کھول کر اُسے جسم سے الگ کرکے بیڈ پر پھینکا۔۔۔۔۔
نین نے بلیک بنیان میں جھلکتے اُس کے دونوں پھولے ہوئے بازؤں کو دیکھ کر حلق تر کیا
وہ تو۔۔۔۔۔۔ج ج۔۔ جب تم مجھے ہاتھ لگاؤ گے تب دیکھے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہادری کا مظاہرہ کرتی بہُت محتاط طریقے سے اُس کے قریب سے آگے بڑھ کے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
